Skip to playerSkip to main content
Bazm e Ulama | Naimat e Iftar - Topic: Hazrat Yusuf AS

Watch Shan e Ramzan 2026 ➡️ https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XidxOPy82ppRmJ5GRaSujfOw

Host: Syed Salman Gul Noorani

Guest: Peer Malik Naeem Akram Qutab Shahi, Mufti Muhammad Sohail Raza Amjadi, Mufti Ahsan Naveed Niazi, Mulana Imran Bashir

#ShaneRamzan #ramzan2026 #aryqtv

Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Transcript
00:00شانِ رمضان
00:30غریبوں کا سہارا شان
00:32اشام دید ناظرین خیر مقدم آپ کا ایک مرتبہ
00:35پھر قصص القرآن کے بعد وقت ہوا بزم علماء کا
00:37آج یوسف علیہ السلام سے متعلق انشاءاللہ بات کریں گے
00:41حضرات علماء سے ایک ناعت کا شیر یاد آگیا ہے
00:44کہ اس شہر میں بک جاتے ہیں خدا کے خریدار
00:48اس شہر میں بک جاتے ہیں خدا کے خریدار
00:52یہ مصر کا بازار نہیں شہر نبی ہے
00:55یہ مصر کا بازار نہیں شہر نبی ہے
00:59اور نظروں کو جھکائے ہوئے چپ چاپ گزر جاؤ
01:02نظروں کو جھکائے ہوئے چپ چاپ گزر جاؤ
01:06بے تاب نگاہی بھی یہاں بے عدبی ہے
01:09بے تاب نگاہی بھی یہاں بے عدبی ہے
01:12پرگرام کا آغاز ہوتا ہے اور حضرات علماء
01:15ملک پاکستان بلکہ عالم اسلام کے مستند علماء
01:18کیونکہ اس پلیٹ فارم پہ جس نے کبھی کچھ وقت بھی دیا
01:22وہ گلوبلی ریکگنائز ہوا
01:23اور ما شاءاللہ وہ شخصیات بھی ہیں
01:25جنہوں نے عمر ماشاءاللہ اسی پلیٹ فارم کے ساتھ گزاری ہے
01:29جن میں الحاج الحافظ القاری مفتی محمد صلی اللہ علیہ وسلم جدی صاحب
01:33ایک بڑا پرومننٹ نمبر ہے
01:34السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
01:36حضرت خیر مقدم ہے آپ کا
01:39اور آپ کے ساتھ تشریف فرما ہے
01:40عرصہ دراز سے گزشنہ ایک دائی سے زیادہ ہو گیا
01:43حضرت کی خدمات کو بھی جناب مفتی
01:45آسر نوید نیازی صاحب
01:46السلام علیکم ورحمت اللہ
01:49حضرت کیسے مزاج ہیں
01:51اور تشریف فرمائیں
01:54ماشاءاللہ بہت خوبصورت کلام بھی کرتے ہیں
01:56شخصیت بھی بڑی خوبصورت ہے
01:57بہت کمال کے ہمارے بہت
01:59بے تکلف دوست بھی ہیں
02:01بھائی بھی ہیں حضرت علامہ مولانا
02:03عمران بشیر صاحب
02:05ماشاءاللہ پورے عالم اسلام میں چمک رہے ہیں
02:07مختلف ذرائع سے نظر آ رہے ہیں
02:09دیکھے جا رہے ہیں اللہ خوش رکھے
02:10اور آج انشاءاللہ یوسف علیہ السلام پر بات کریں گے
02:13حضور آپ کی خدمت میں
02:14السلام علیکم
02:16مدینہ منبرہ سے
02:17ایک ہمارے مہمان تشریف لائے
02:18سرکار دوالم صلی اللہ علیہ وسلم کا شہر
02:22ایک بنجر زمین کو
02:24وہ گلو گلزار
02:26بنا دینے والا شہر
02:28وہاں سے جو ایک بار گزر بھی جائے
02:29تو بیماریوں سے اسے شفاہ ملتی ہے
02:31جو وہاں مقین ہے
02:33اس کا عالم کیا ہوگا
02:34وہ کیسا خوشبودار ہوگا
02:36پیر نعیم اکرم خطب شاہی صاحب تشریف فرمائے
02:41حضرت یوسف علیہ السلام کی شان و عظمت سے
02:43متعلق سب سے پہلے
02:45مفتی محمد صلی اللہ علیہ وسلم جری صاحب
02:46آپ کو ذہمت دوں گا
02:47میرا ارشاد فرمائیں
02:49کیا کہتا ہے قرآن
02:50بسم اللہ الرحمن الرحیم
02:54اللہم صلی علیہ سیدنا و مولانا محمد
02:57و علیہ و اصحابہ و بارک و سلیم
03:01دیکھیں سلمان بھائی
03:04یہ یوسف علیہ السلام کا مقام
03:08مرتبہ آپ کی شان
03:10اس سے اندازہ لگائے
03:12کہ قرآن کریم نے جتنی ڈیٹیل میں
03:16آپ کے واقعے کو ذکر فرمایا
03:18اتنی ڈیٹیل میں
03:21کسی اور کے واقعے کو ذکر نہیں فرمایا
03:24اور اسی طرح قرآن نے
03:27آپ کا واقعہ بھی اتنا عظیم ہے
03:30اتنا زبدس واقعہ ہے
03:31کہ قرآن نے جتنا
03:34اس واقعے کو
03:36یعنی یوں سمجھ لیں کہ
03:39احسن القصص فرمایا
03:41قصوں میں سب سے بہترین قصہ فرمایا
03:44اس طرح کسی اور کے واقعے کو نہیں فرمایا
03:47اس سے آپ کی شان اور رفعت کا اندازہ ہوتا ہے
03:51اور اگر آپ کی حیات تیبہ دیکھی جائے
03:55تو بظاہر ایک زندگی ہے
03:57جو نشیب و افراس کے ساتھ ہے
04:00کہ کبھی آپ پر پریشانی آ رہی ہے
04:04کبھی پریشانی سے باہر تشریف لا رہے ہیں
04:08اچھا پھر آپ یہ دیکھیں
04:09کہ کہاں پر بھائیوں نے ظلم کیا
04:13اور بظاہر ایک کونے میں آپ کو پھینک دیا گیا
04:17انہوں نے اپنی طرف سے مار دیا
04:19لیکن اللہ تبارک و تعالی نے صرف کونے میں آپ کو محفوظ نہیں فرمایا
04:25یعنی یہاں پر کونے میں اتارا جا رہا ہے
04:27اتر رہے ہیں
04:28وہاں جبرائیل کو حکم ہو رہا ہے
04:30کہ جاؤ میرا بندہ زمین پر نہ آئے
04:32اس سے پہلے پہلے اس کو سپل لو
04:35پروں کو بچھا دو
04:36اچھا پھر اس کے بعد آپ یہ دیکھیں
04:38کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو کونے سے نکالا تو گیا
04:43اچھا پھر وہاں سے ان کے ستیلے بھائی دوبارہ آ گئے
04:47اور کہا کہ بھئی یہ تو ہمارا غلام تھا
04:50تم کہاں لے جا رہے ہو
04:51تو بالآخر یوں سمجھنے
04:53کہ کچھ دراہم میں انہوں نے سودا کیا
04:56وہاں سے ہی پیسے بکڑے
04:57اور کہا ٹھیک اب اس کو اسی جگہ لے جاؤں
04:59واپس نہیں لانا
05:00اس کی بو کسی کو نہ آئے
05:02اس کی خوشبو کسی کو نہ آئے
05:03بس اسی جگہ یہ کئی نظر نہ آئے
05:06یعنی باپ کی نظروں سے دور کرنا چاہنا
05:09اچھا کہاں پر وہاں کونے سے نکلے
05:12مصر کے بازار میں بیچے گئے
05:15عزیز مصر نے خریدا
05:17گھر پر آئے
05:18پھر وہاں پر آزمائش آئی
05:20پھر جیل میں تشریف لے گئے
05:22اچھا جیل میں آپ یہ دیکھیں
05:24کہ کئی عرصے رہے
05:26اور بالآخر وہاں سے نکال کر
05:29جب وہاں سے نکالا گیا
05:30تو بالآخر اللہ تبارک و تعالیٰ
05:33نے آپ کو بادشاہ تتا فرمائی
05:34اللہ حقی
05:35اچھا اب یہ دیکھیں
05:36کہ یعقوب علیہ السلام
05:38جو آپ کے والد محترم ہے
05:40کہ وہ کتنا عرصہ
05:43آپ کی جدائی میں رہے
05:44اور بالآخر جب اپنے بیٹے کو دیکھا
05:46تو اتنی شان کے ساتھ دیکھا
05:48کہ کہاں وہ بچہ
05:50کہاں وہ لڑکا
05:52کہاں اس کے بھائی
05:53اس کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں
05:55اور کہاں پر یہ خبر آ رہی ہے
05:57کہ ان کو بھیڑیا کھا گیا
05:59اور کہاں اللہ تبارک و تعالیٰ
06:00نے یہ مقام عطا فرمایا
06:02کہنے کا مقصد یہ ہے
06:03کہ یوسف علیہ السلام کا ایک واقعہ
06:07یہ طویل واقعہ
06:08جس میں زندگی کے نشیب و افراز ہیں
06:10اللہ تبارک و تعالیٰ
06:12نے صرف یہ واقعہ بیان نہیں فرمایا
06:14بلکہ گویا کہ
06:16آپ کی زندگی کو
06:17ہمیں ریٹ کرنے کا حکم دیا ہے
06:19تم ان کی زندگی کو پڑھو
06:21ان کی حیاتِ طیبہ کو پڑھو
06:24اس میں کئی سبق ملتے ہیں
06:25نمبر ایک سبق یہ ملتا ہے
06:27کہ اپنے بھی اگر ظلم کریں
06:30اپنے بھی اگر ظلم کریں
06:32اور آپ اس ظلم کا جواب نہ دو
06:35اور سبر اختیار کرو
06:37تو اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ نہیں ہوگا
06:39اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ہوگا
06:41اللہ تعالیٰ ان اللہ معصابرین
06:43کہ بے شک اللہ
06:44سبر کرنے والوں کے ساتھ ہے
06:46اور دوسرا سبق ہمیں یہ ملتا ہے
06:48کہ جو لوگ آپ کے مخالف ہوتے ہیں
06:51کچھ بھی کر لیں آپ کے ساتھ
06:53آپ کی جان کو
06:55مال کو کسی حوالے سے نقصان دینے کی کوشش کریں
06:58اگر آپ میں
06:59قوتِ برداشت ہے
07:00سبر ہے
07:01اور آپ اللہ تعالیٰ کی برگاہ میں سبر کرتے ہیں
07:04تو ایک وقت ایسا آتا ہے
07:05کہ وہ آپ کے خلاف چاہنے والے
07:08نیچے ہوتے ہیں
07:10اللہ تعالیٰ آپ کو رفعتِ عطا فرما رہا ہوتا ہے
07:12سبال
07:13اور پھر
07:14سب کچھ ہونے کے باوجود بھی
07:16اتنا ظلم ہونے کے باوجود بھی
07:18کہ آخیر میں آپ نے کیا فرمایا
07:20کہ میں نے آپ سب کو معاف کیا
07:22میں کوئی آپ سے
07:24اس کا بدلہ نہیں لوں گا
07:26اور ایک سبق ہمیں یہ ملتا ہے
07:28کہ پریشانیت طویل ہو سکتی ہیں
07:30لیکن
07:31مشکلات بڑی ہو سکتی ہیں
07:33مسائب و اعلام
07:34کئی ماہ تک
07:36کئی سال تک رہ سکتے ہیں
07:37لیکن یعقوب علیہ السلام کا
07:39یہاں پر سبر ہمیں بتاتا ہے
07:41کہ سبر اگر ہو
07:42تو پھر کئی عرصے بعد بھی خوشیاں لوٹ کر آتی ہیں
07:45بہت خوب
07:45زبردست
07:46ماشاءاللہ
07:47میں مفتی حصر نبی نیازی صاحب
07:49ایک بات ذہن میں آتی ہے
07:50بس بھائی
07:51بھائی بھائی کو اٹھائیں
07:53کوئے میں ڈال دیں
07:55روخت کر دیں
07:56اور اس سے اتنا حسد کریں
07:59بھائی اب بھائی تو
08:00مثال گیارہ ہیں
08:01بارویں یوسف ہے
08:02اب بارہ کے بارہ تو
08:04اس طرح سے عزیز نہیں ہو سکتے
08:06نا باپ کو
08:06کسی کی صلاحیت ہوتی ہے
08:08خاصیت ہوتی ہے
08:09کیا سگے بھائی نہیں تھے
08:11کیا تھا
08:11کتنا ظالمانہ سلوک
08:12بسم اللہ الرحمن الرحیم
08:13صلی اللہ علیہ و حبیبی
08:14محمد و علیہ و صحابی
08:16بارک و سلام
08:17بلکل یہ سیدنا
08:17یوسف علیہ و علیہ و سلام کے
08:20سگے بھائی نہیں تھے
08:21آپ کے ستیلے بھائی تھے
08:22یعنی اللہ تی بھائی تھے
08:23اللہ تی بھائی کہتے ہیں
08:24جن کا باپ ایک ہو
08:25ماں الگ الگ ہو
08:26صحیح
08:26بنیادی طور پر سیدنا
08:27یعقوب علیہ و علیہ و علیہ و سلام کی
08:30شادیوں کا جب ہم دیکھتے ہیں
08:31تاریخ کے اندر
08:32تو ہمیں آپ کی چار شادیوں
08:33کا تذکرہ ملتا ہے
08:34چار ازواج کا تذکرہ ملتا ہے
08:36آپ کی چار ازواج تھیں
08:37ایک آپ کی زوجہ تھی
08:38جن کا نام تھا
08:39لیا بنت لیان
08:40اچھا جو اس کا زبط ہے
08:42اس کے زبط
08:42دو طرح سے کتابوں میں لکھے ہیں
08:44ایک زبط ہے لیا
08:45لام کے نیچے زیر
08:47اور یا مخفف ہے
08:48آخر میں لام یا علف لیا
08:50دوسرا زبط ہے لیا
08:52ہے وہی لام یا علف
08:53بس زبط میں یہ ہے
08:54کہ لام پہ زبر
08:55اور یا مشدد
08:56تو لیا بنت لیان
08:58یا لیا بنت لیان
09:00ایک زوجہ آپ کی
09:01یہ تھی
09:01یہ آپ کے مامو کی بیٹی تھی
09:02ان سے آپ کا نکاح ہوا تھا
09:04تو ان سے آپ کے
09:05چھے بیٹے پیدا ہوئے ہیں
09:07چھے بیٹے آپ کی ہوئے
09:08روبیل شمعون
09:09لاوی
09:09یہودہ
09:10زبولون
09:11یسجر
09:12یہ چھے بیٹے آپ کی ان سے تھے
09:13پھر آپ کی دو شادیاں اور تھیں
09:15ایک زلفہ
09:16زوجہ تھیں
09:17اور ایک بلہا تھیں
09:18ان سے چار بیٹے تھے
09:19دان
09:20نفدالی
09:20جاد
09:21آشر
09:22یہ ہو گئے دس
09:23پھر جب لیا بنت لیان کا انتقال ہوا
09:26تو ان کی بہن
09:27راہیل
09:28ان سے نکاح ہوا
09:29سیدھونا یاکوب
09:30علیہ السلام کا
09:31تو ان سے آپ کے
09:32دو بیٹے پیدا ہوئے
09:33حضرت یوسف علیہ
09:35علیہ السلام
09:35اور حضرت بن یامین
09:37یہ حضرت بن یامین
09:39سگے بھائی تھے
09:40باقی دس
09:41وہ آپ کے
09:41سوتیلے بھائی تھے
09:42اللہ تھی تھے
09:43باپ تو ایک ہی ہیں
09:44لیکن والدہ
09:45الگ الگ تھی
09:45اب رہا کی بات یہ
09:47کہ وہ ظالمانہ
09:47سلوک انہوں نے کیا
09:48کیوں اس کی بنیادی وجہ
09:50تو حسد تھی
09:50اور وہ حسد کیا تھا
09:51حسد اس بات پر تھا
09:53کہ
09:53سیدنا یعقوب
09:54علیہ السلام
09:56سب سے زیادہ
09:57محبت سیدنا
09:57یوسف علیہ السلام
09:58سے کرتے تھے
09:59اور اس کے بعد
09:59حضرت بن یامین
10:00سے کرتے تھے
10:01اس وجہ سے
10:02انہیں حسد ہوا
10:03غیرت کی وجہ سے
10:03حسد لاحق ہوا
10:04اور اس کا ذکر بھی
10:05قرآن نے فرمایا ہی ہے
10:06کہ جب انہوں نے کہا
10:07کہ یوسف اور ان کے بھائی
10:09ہم سے زیادہ محبوب ہیں
10:10ہمارے والد کو
10:11حالانکہ ہم عصبہ ہیں
10:12ہم جماعت ہیں
10:13ہم زیادہ ان کے
10:14کام آ سکتے ہیں
10:15مددگار
10:15زیادہ ان کے
10:16بن سکتے ہیں
10:17آگے کہا
10:20بے شک ہمارے والد
10:22سراحتا محبت میں
10:23ڈوبے ہوئے ہیں
10:25تو یہ محبت کی وجہ سے
10:26تو چونکہ ان کو
10:27محبت زیادہ تھی
10:28اس وجہ سے ان کو
10:29حسد لاحق ہوا
10:30اچھا سیدنا یعقوب
10:31علیہ السلام کو
10:31محبت کیوں زیادہ تھی
10:32سیدنا یوسف علیہ السلام سے
10:34ویسے تو
10:34اولاد کے مابین
10:35وہ امتیاز نہیں کرنا چاہیے
10:37اس کی اجازت
10:38اللہ کی طرف سے نہیں ہے
10:39اولاد کے ساتھ
10:40برابر حسن سلوک کرنا ہوتا ہے
10:42تو سیدنا یعقوب علیہ السلام
10:43کو زیادہ محبت کیوں تھی
10:44اس کا جواب یہ ہے
10:45کہ حسن سلوک تو آپ
10:46ان سب سے برابر کا ہی
10:48فرماتے تھے
10:49کوئی اعتراض کی بات ہی نہیں
10:50قلبی جو محبت ہوتی ہے
10:52وہ اختیار میں نہیں ہے
10:54اور اس پہ شریعت کا
10:55قلم بھی نہیں ہے
10:55اس کی اللہ نے اجاد بھی
10:57دے رکھئی ہے
10:57قلب اختیار میں نہیں ہے
10:58کسی سے قلبی محبت زیادہ ہوتی ہے
11:01تو جو ظاہری حسن سلوک تھا
11:02وہ آپ کا سب سے برابر تھا
11:04لیکن چونکہ قلبی محبت
11:05حسن سلوک سے زیادہ تھی
11:07اس وجہ سے ان کو یہ حسد لاحق ہوا
11:09قلبی محبت زیادہ تھی
11:10چونکہ وہ اللہ کے نبی ہیں
11:12بے وجہ
11:12قلبی محبت بھی ان کی بے وجہ نہیں تھی
11:14قلبی محبت دانائی
11:16بالکل قلبی محبت بھی اس وجہ سے تھا
11:18ایک تو ظاہری وجہ یہ تھی
11:19کہ حضرت راہیل کا انتقال ہوا
11:22تو سیدنا یوسف علیہ السلام
11:23حد بن یامین بہت چھوٹے تھے
11:25تو ان کی والدہ کا انتقال ہوا
11:27ان کی کم عمری میں
11:28تو اس وجہ سے آپ ان پر شفقت زیادہ فرماتے تھے
11:31یہ زیادہ مستحق تھے
11:32شفقت کے اور محبت کے
11:33جبکہ باقیوں کی عمر زیادہ تھی
11:35عمر زیادہ
11:36یہ بچے تھے
11:36دوسری بات یہ تھی
11:37کہ آپ کو اللہ کی عطا سے یہ معلوم تھا
11:40کہ سیدنا یوسف یہ نبی بنیں گے
11:42ان کی نبوت کا بھی آپ کو علم تھا
11:44اور ان کے اندر جو ہدایت
11:46اور بصیرت اور حکمت کے جو آثار ہیں
11:48وہ بھی آپ ملاحدہ فرما رہے تھے
11:49تو آپ کا ان کی طرف قلبی میلان
11:51اس وجہ سے زیادہ تھا
11:52تو وہ بھی اپنی جگہ بلکل درست ہے
11:54اب ایک تیسری بات
11:55یہ بھی وعدہ کر دوں
11:56کہ جو سیدنا یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے
11:59یہ ان کے ساتھ سلوک کیا
12:00سلوک تو ہی انہوں نے غلط کیا
12:02یہ سلوک انہوں نے برا کیا
12:03اور اس پر وہ تائب بھی ہوئے
12:05انہوں نے خود سیدنا یعقوب علیہ السلام سے کہا
12:07کہ ہم نے خطا کی تھی
12:08ہمارے لئے اپنے رب سے استغفار کیجئے
12:10خود قرآن میں اس بات کا بیان موجود ہے
12:12اور سیدنا یعقوب علیہ السلام نے جواب میں فرمایا
12:15سوفا استغفر لکم ربی
12:16کہ میں اپنے رب سے تمہارے لئے انقریب استغفار کروں گا
12:19انہو هوالغفور الرحیم
12:21بے شک وہ بہت بخشنے والا ہے
12:23اور وہ رحم فرمانے والا ہے
12:24اور پھر انہوں نے استغفار فرمایا بھی
12:26اور سیدنا یوسف علیہ السلام نے بھی ان سے یہ فرمایا تھا
12:29لا تصریب علیکم اليوم
12:31آج کے دن تم پر کوئی ملامت نہیں
12:33یغفر اللہ لکم
12:34اللہ تمہیں معاف فرمائے
12:36وہوہ رحم الرحمین
12:37اور وہ سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے
12:39تو اس کے بعد وہ تائب ہو گئے
12:42اور وہ بھی اللہ کے اولیاء ہیں
12:44ایک قول ان کی نبوت کا بھی ہے
12:46اس لئے میں نے یہ بیان کیا
12:47کہ آلہ حرط امام علیہ السنت نے فتا وردیہ میں فرمایا
12:50کہ بہت سے لوگ
12:51سیدنا یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کو
12:53برے انداز سے ذکر کرتے ہیں
12:55اور غلط موقع پر ان کی مثالیں کوٹ کرتے ہیں
12:57تو کہتے ہیں
12:57ناشائستہ کلمات ان کے لئے نہیں بولنے چاہیے
13:00انہوں نے جو کیا
13:01اس وقت کیا
13:02اس سے وہ تائب ہو گئے
13:03تائب منظمبی کم اللہ
13:05جس نے گناہ سے توبہ کر لی
13:07وہ ایسا جیسے گناہ کیا ہی نہیں
13:08اس کے بعد ان کا تذکرہ برے انداز میں کرنا
13:10یہ جائز نہیں ہے
13:12صرف قرآنی واقعہ بیان کرنا
13:14کوئی بات سمجھانا
13:15اس کے لئے تذکرہ کر سکتے ہیں
13:16جائز حدود و قیود کے اندر
13:18اس کے علاوہ ویسے ان کو متہم کرنا
13:20اس کی اجازت نہیں ہے
13:21بالکل ٹھیک
13:22ماشاءاللہ
13:22مولانا صاحب قبلہ
13:24دیکھیں آپ
13:26یہاں یوسف کو لیا
13:27گیارہ بھائیوں نے
13:28لے جا کے کونے میں دھکیل دیا
13:30اور
13:31ظاہر تو یہ نظر آتا ہے
13:32کہ
13:33یوسف کو جو ہے
13:34کونے میں پھینک دیا گیا
13:35گیارہ بھائیوں کی جانب سے
13:36دس
13:37بینی امین تو نہیں تھے
13:40دس بھائیوں کی طرف سے
13:41جزاک اللہ حضرت اصلاح کے لئے
13:43تو
13:44دس کے دس بھائیوں نے اٹھا کے
13:46چھوٹے ننے شہدہ
13:47اب اس کے حسن
13:48میں کہتا ہوں کہ
13:49انسان بے حس کتنا ہو جاتا ہے حسد میں
13:51کہ اتنا حسین
13:53بچہ
13:54کسی کا پرائے کا بھی
13:55عوض انسان کو پیار آتا ہے
13:56اپنے بھائی کو انہوں نے پھینک دیا
13:58اور اللہ نے
13:59پھر احتمام کیا کیا
14:01عزیز مصر کے دربار تک
14:03میں چاہتا ہوں
14:04اس سفر پہ ذرا روشنی ڈالیں
14:05کہ عزیز مصر کے دربار تک
14:07کیسے پہنچے
14:07وہ کیا معاملات رہے
14:09بسم اللہ الرحمن الرحمن الرحمن
14:10احمد و حنصل علیہ رسول کریم
14:13آقا کریم علیہ السلام کے ساتھ
14:16سینا یوسف علیہ السلام کی
14:18بڑی نسبتیں ملتی ہیں
14:20تو ہمیں اس واقعے سے
14:22اس چیز کو اخص کرنے کی ضرورت ہے
14:24لینے کی ضرورت ہے
14:25کہ اللہ کی عطا
14:28بقدر مصیبت
14:29بقدر مشکت
14:30جتنی عزمیشیں آتی ہیں
14:32اللہ اتنے اس کو نواز نہ جاتے ہیں
14:33اللہ اکبر
14:34اور بقدر القدی
14:36تکتسب المعالی
14:38فرمائے مشکتوں کے
14:39بقدر ہی درجات بلند ہوتے ہیں
14:41اور آپ نے خود فرمایا
14:43لقد اوزیتو فی اللہ
14:44وما لم یوزا بھی احد
14:45جتنا مجھے ستایا گیا
14:47اتنا کسی کو نہیں ستایا گیا
14:48اللہ اکبر
14:49اللہ اکبر
14:49امام الانبیاء فرما رہے ہیں
14:50یہاں بھی
14:51یوسف علیہ السلام
14:52خواب دیکھ رہے ہیں
14:53اور امام الانبیاء
14:55نے بھی خواب دیکھا
14:55لقد صدق اللہ رسولہ
14:57رؤیہ بالحق
14:58اور یہاں کیا دیکھ رہے ہیں
15:00انی رأیتو احد عشر
15:01قوکبا
15:02والشمس والقمر
15:03رأیتوہم
15:04بیساجدین
15:05اللہ اکبر
15:06دونوں اگر خواب
15:07کے اعتبار سے
15:08پھر یہاں
15:09مماسلت
15:10یہاں بھائی کہ
15:11کہہ رہے ہیں
15:12اقتلو یوسف
15:13اویترحوہ ارضا
15:15کہ یہاں تو ان کو
15:16قتل کر دی جائے
15:17نوز بللہ
15:17یا ان کو
15:17کہیں پھینک دیا جائے
15:18وہاں بھی
15:19امام الانبیاء کے ساتھ
15:20قوم کیا کر رہی ہے
15:21وَإِذْ يَمْكُرُوا بِكَلَّذِينَ كَفَرُوا لِيُسْبِتُوكَ
15:24اَوْ يَقْتُلُوكَ
15:25اَوْ يُخْرِجُوكَ
15:26اللہ اکبر
15:27تو یہ مماسلتیں
15:28ہمیں بتایا یہ جا رہا ہے
15:30کہ جتنے بڑے لوگ ہوتے ہیں
15:32ان کے اوپر اتنی حالات آتے ہیں
15:33بلکہ ایک حدیث یاد آگی
15:35پھر میں جو آپ سوال فرمارے
15:37اس طرف آتا ہوں
15:37اَشَدُّ النَّاسِ بَلَاءً الْأَنْبِيَا
15:39سُمَّ الْأَقْرَبْ فَلْأْقْرَبْ فَلْأْقْرَبْ
15:42کہ سب سے زیادہ امتحان
15:44آزمیشیں انبیاء
15:45علیہم السلام پہ
15:46پھر جو جتنا ان کے قریب ہوگا
15:48اتنی ہی اس کے اوپر آزمیشیں ہیں
15:50تو ہم گبرائے نہ پریشان نہ ہوں
15:53بلکہ اللہ کے حضور درخواست کریں
15:55تو یوسف علیہ السلام کے جو دس بھائی تھے
15:58انہوں نے
16:00سینا یوسف علیہ السلام کو
16:02کوئے میں پھینک دیا
16:03اور جا کے باپ کو کیا کہہ رہے ہیں
16:05یہ ایک جملہ بولا جاتا ہے
16:07کہ ایک جھوٹ کو چھپانے کے لیے
16:10سو جھوٹ بولنے پڑتے ہیں
16:11تو ہمیں قرآن پاک سے یہ واقعہ ملتا ہے
16:14وَجَعُوا أَبَاهُمْ عِشَاءً يَبُكُون
16:17پہلا جھوٹ
16:18روتے ہوئے آ رہے ہیں
16:21اور جھوٹا رو رہے ہیں
16:22مگر
16:23مارکر کر رہے ہیں
16:23اور قالوا
16:26نَا زَهَبْنَا نَسْتَبِقُوا وَتَرَقْنَا يُوسفَ عِنْدَ مَتَاعِنَا فَأَقْلَهُ زِبُ
16:31دوسرا جھوٹ یہ بول دیا
16:33ایک جھوٹ کو چھپانے کے لیے
16:34کہ ہم نے ان کو پھینکا ہے
16:35اس کو چھپانے کے لیے
16:37ایک تو عشاء کے وقت
16:39وقت بدل کے آئے
16:40پھر روتے ہوئے آئے
16:41اور تیسرا کے کہا
16:43کہ ہم نے سمان کے پاس چھوڑا تھا
16:45تاکہ ہم تھوڑا سا کھیل کود لیں
16:47فَأَقْلَهُ زِبْ
16:48بیڑی آکھ ان کو کھا گیا
16:49اور خود ہی کیا کہہ رہے ہیں
16:51وَمَا أَنسَ بِمُؤْمِنِن لَنَا وَلَوْكُنَّا صَادِقِينَ
16:54ہم سچے ہوں گے بھی
16:55تب بھی آپ ہماری بات کو نہیں مانیں گے
16:57تو یہ قرآن پاک ساری باتیں بتلا رہا ہے
16:59کہ انہوں نے یہ یہ یہ کیا
17:01لیکن یہ سبق یہاں سے یہ ملتا ہے
17:04کہ اگر غلطی ہو جائے
17:05تو اپنی غلطی کا اعتراف کرنا ہے
17:06یہ نہ کہ جوڑ پہ جوڑ
17:09اور پھر کیا ہوا
17:10کہ سیدہ یوسف علیہ السلام کو اللہ نے کہاں پوچھایا
17:13اور اللہ نے ان کی توبہ کا ذریعہ
17:16حضرت یوسف علیہ السلام کو بنایا
17:18جیسے قبلہ
17:20مفتی صاحب فرماری
17:21جیسے محروم کیا
17:22اسی نے عطا کیا
17:24جیسے فرماری جنہاں
17:25کہ ان کے یہ غلطیاں
17:26توبہ کرنے سے پہلے کی ہیں
17:28جب غلطیاں
17:29توبہ اپنی غلطیوں کا اعتراف ہو گیا
17:32پھر اللہ پاک نے ان کو اپنے ولایت کا
17:33اور اپنے قرب کا تعلق نصیب فرمایا
17:36پھر یہاں سے ایک کافلہ آتا ہے
17:38جو ان کو پانی سمجھ کر نکالنے کی کوشش کرتا ہے
17:41اور پانی تو تھا نہیں
17:42وہ خوشکوہ تھا
17:43جس کا آپ ذکر فرمارے تھے
17:44کہ نیچے گرنے سے پہلے ہی
17:46حضرت جبریل علیہ السلام کو
17:47اللہ تعالیٰ بیج رہے ہیں
17:49اللہ اکبر
17:50کیا بات ہے
17:51مولانا کیا بات ہے
17:52حضرت قبلہ
17:53ایک وقفے کے بعد
17:55انشاءاللہ آپ سے
17:55یوسف علیہ السلام سے متعلق
17:57انشاءاللہ بات کرتے ہیں
17:58بریک کے بات
18:03مولانا کی محبت کا نظارہ شان رمضان
18:15دنیا کے غریبوں کا سہارہ شان رمضان
18:21پھر سارا جہاں دیکھے
18:24اے سارے مہینوں سے
18:28شان رمضان
18:29اے سارے مہینوں سے
18:32نیرالہ شان رمضان
18:35اے مومینوں کے بلکا
18:37یہ خوش آمدی ناظرین خیر مقدم ہے
18:39آپ کا ایک مرتبہ پھر
18:40حضرت یوسف علیہ السلام سے متعلق
18:42آگاہی حاصل کر رہے ہیں
18:43یہ ایمان کی تازگی کے لیے
18:46پیغمبروں کا ذکر ہے
18:47کہ آپ کو معلوم چلے
18:49کہ صبر کیسے کرنا ہوتا ہے
18:51کنسسٹنسی کسے کہتے ہیں
18:52استقامت سے ڈٹے رہنے کے بعد
18:55منزل جب بھی ملتی ہے
18:57تو کتنی بڑی ملتی ہے
18:59اور آپ کی منزل آپ کو حیران کر دیتی ہے
19:02کہ اللہ نے آپ کے لیے کیا انام تیار کیا ہوا تھا
19:05آپ تو بس اپنے مسائب سے
19:06اور اپنی آزمائشوں سے پریشان ہو گئے
19:08آپ کو نہیں بتا
19:09کہ اللہ نے آپ کے لیے کیا انامات مقرر کیے ہوئے
19:11اور ان آزمائشوں پر ثابت قدم ہونے کے بعد
19:14اللہ آپ کو کیا کچھ اتا فرمائے گا
19:16اور آج ہم نے پھر جانا
19:17یوسف علیہ السلام کے واقعے سے
19:19ہم میں قبلہ پیر صاحب کی طرف
19:21چلتا ہوں
19:22پیر صاحب عزیز مصر جانتا تھا
19:24کہ یوسف بے گناہ ہے
19:26اس نے دیکھ بھی لیا
19:27اس کے باوجود آپ کو زندان میں ڈال دیا
19:31آپ کو جیل میں ڈال دیا
19:32قید میں ڈال دیا
19:33اس حوالے سے کچھ آگاہی ارشاد فرمائے
19:36اعوذ باللہ من شہیطان الرجیم
19:38بسم اللہ الرحمن الرحیم
19:40اللہ من صلی اللہ سیدنا محمد
19:42والا علیہ السلام
19:46بلکل آپ نے بجا فرمایا
19:49کہ عزیز مصر جو ہے
19:51اس بات کو جانتا تھا
19:53اور اس کے باوجود جو ہے
19:55اس نے حضر یوسف علیہ السلام
19:57کو زندان میں ڈال دیا
20:00دراصل
20:02سلسلہ یہ ہے
20:03کہ جہاں تک جس طرح
20:05قبلہ مفتی صاحب نے فرمایا
20:07کہ یہ جو انبیاء کرام کی
20:10جو زندگی ہے یہ ہمارے لیے
20:12ایک چپٹر ہے
20:13ہمارے لیے ایک سبق ہے
20:14اگر ہم اس کو
20:15دیفت میں جا کے دیکھیں چیزوں کو
20:18تو ہماری ایمان کی پختگی ہوتی ہے
20:20اور اللہ کی فضل کرم سے
20:22ہم کامیابی کی طرف گامزن ہوتے ہیں
20:24تو اپنی ان ساری چیزوں میں
20:28آپ نے دیکھا ہوگا
20:29کہ انہ کو ماتنا ہوتا ہے
20:31بلکل صحیح بات
20:32ٹھیک ہے کہ نہیں
20:33جو شخص دنیا کی نظروں میں
20:36کسرووار ہو گیا
20:39دنیا جس کو برا بھلا کہنے لگ گئی
20:41اسے میرا رب چن لیتا ہے
20:43اسے اللہ سبحانہ تعالی
20:45وہ عزت عطا کرتے ہیں
20:48وہ مرتبہ عطا کرتے ہیں
20:49کہ یہی واقعہ
20:51حضر شمس عبریز
20:53اور حضر مولانا جلال الدین رومی
20:55کا بھی ہے
20:55پھر کسی وقت آپ کو میں سناوں گا
20:57اس میں
20:57تو اصل مسئلہ سارا یہی تھا
21:00کہ اللہ نے
21:01سبحانہ تعالی نے
21:02انہیں بادشاہت عطا کرنی تھی
21:05مصر کی
21:05اور ان کو
21:07اس وجہ سے جو ہے
21:08کہ اس
21:09تکلیف اور اس آزمائش میں
21:11ڈالا گیا
21:11اور انہوں نے
21:12وہ آزمائش جو ہے
21:13وہ
21:14اللہ کے فضول کریم سے
21:16بہترین
21:17صبر کے ساتھ
21:18اللہ سے
21:19شکرانے کے ساتھ
21:20انہوں نے
21:20اس آزمائش کو جو ہے
21:22کہ پورا کیا
21:23کتنا بڑا جملہ تھا
21:24اللہ میں تیری معاصیت پر
21:25ترجیح دیتا ہوں قید کو
21:27سبحان اللہ
21:27یہ دیکھیں
21:28کتنی بڑی بات ہے
21:29کہ آپ نے
21:31اللہ کا شکر ادا کیا
21:33اللہ کا شکر ادا کیا
21:34اللہ کے اس فیصلے پر
21:35اللہ کا شکر ادا کیا
21:36اور پھر
21:37ان کی ایمان
21:39کے اس مقام
21:40کو آپ دیکھیں
21:41کہ جب انہوں نے
21:42وہ جو دو قیدی جو تھے
21:43جن کو انہوں نے
21:44خواب کی تعبیر بتائی
21:46اور پھر جب وہ
21:47رہاں انہیں لگے
21:48تو ایک سے کہا
21:49کہ عزیز مصر
21:51کو جا کے
21:51میری بے گناہی
21:52کا بتانا
21:53تو اچانک
21:54تھوڑی دیر بعد
21:55انہوں نے پھر
21:55رب سے معافی مانگی
21:56انہوں نے کہا
21:57کہ میں نے ان سے کیوں کہا
21:58مجھے تو میرے رب
21:59سے کہنا ہے
22:00نا یہ
22:01تو میرے رب نے
22:02جو کرنا ہے
22:02میرے لئے میرے رب
22:03نے کرنا ہے
22:04ایمان کا
22:05مقام آپ دیکھیں
22:06کہ ان کے
22:07اللہ پر
22:08کس قدر بلیو
22:09اور کس قدر ایمان
22:10تھا انہوں نے
22:11اللہ سے انہوں نے
22:12معافی مانگی
22:13اللہ ہوا
22:13یوسف علیہ السلام
22:14جو ہے
22:14کہ آپ کا
22:16اس میں مبارک
22:18جو ہے
22:18تقریباً
22:18ستائیس دفعہ
22:19قرآن پاک میں
22:20جو ہے
22:20آیا ہے
22:21اور آپ
22:23جو ہے
22:28سال کے بعد
22:29جو ہے
22:30کہ
22:30تشریف لائے آپ
22:31جو ہے
22:32اور ہمارے
22:33پیارے آقا
22:34تو جہاں سید
22:35رسول اکرم
22:35صلی اللہ علیہ وسلم
22:37بھی بہت پسند کرتے تھے
22:39اور آپ
22:40فرماتے تھے
22:40ان کے ایک مقاہ
22:41ایک
22:42وقت
22:43آپ نے کہا
22:44حضرت
22:45یوسف علیہ السلام
22:46کے لئے
22:46الکریم
22:47ابن الکریم
22:49ابن الکریم
22:50ابن الکریم
22:51ابن الیاکوب
22:53ابن الیساق
22:54ابن الیبراہیم
22:55آپ نے کہا
22:56کہ شراف
22:57انتہائی شرافت
22:59اور
23:00آپ جو ہے
23:01کہ بزرگی
23:02کے بہت ہی
23:04سب بزرگی
23:05اللہ سبحانہ تعالیٰ
23:06نے آپ کو
23:06عطا کی ہوئی تھی
23:07اصل
23:08بات اگر آپ دیکھیں
23:10انبیاء قرآن کے
23:11آپ
23:12ماشاءاللہ
23:12بہت اچھا
23:13یہ سلسلہ
23:14اللہ پاک
23:14اس میں مزید
23:15جو ہے
23:15ہمارے رہو بھائی
23:17کو آپ کو
23:17سب کو
23:18اللہ پاک
23:18اس میں خیر و برکت دے
23:20آپ نے یہ دیکھا ہوگا
23:21کہ
23:21اللہ سبحانہ تعالیٰ
23:23نے تمام
23:23انبیاء کرام کے
23:24قسن
23:25ایک چیز
23:26بہت واضح طور پر
23:27تکھائی ہے
23:27کہ اللہ نے
23:28اپنے بندے
23:29کو نہیں چھوڑا
23:30اس نبی کو
23:32ذمہ داری
23:32کے لئے چنا
23:33حضرت
23:34لوت علیہ السلام
23:35کی زوجہ
23:36مبارک
23:36ان کو چھوڑ گئیں
23:38یہی ہے
23:39حضرت
23:39ابراہیم علیہ السلام
23:40کے
23:41والد ماجد
23:43حضرت
23:44نوح علیہ السلام
23:45کے
23:46سابزادے
23:46حضرت
23:48یوسف علیہ السلام
23:49کے بھائی
23:49لیکن
23:50رب نے
23:51اپنے بندے
23:52کو نہیں چھوڑا
23:53اور اللہ نے
23:53دکھایا ہے
23:54اپنی وہ مدد
23:55اللہ سبحانہ تعالی
23:57جو عطا کرتے ہیں
23:58اپنے پیاروں کو
23:58اس مدد کا
24:00بتایا کہ
24:00میں ہر وقت
24:01تمہارے ساتھ ہوں
24:02صرف تم نے
24:03جو ہے
24:03کہ وہ
24:04استقامت کے ساتھ
24:05رہنا ہے
24:05ایمان کی
24:06پختگی کے ساتھ
24:07آپ نے رہنا ہے
24:08یہ ہے
24:09رب کا عشق
24:10اور بندے کا
24:11رب کے ساتھ
24:12اور رب کا
24:12بندے کے ساتھ
24:13کیا بات
24:14کیا بات
24:15میں
24:15وادی حرم
24:17تک
24:17اسے ڈھونڈنے گیا
24:18میں وادی حرم
24:20تک
24:20اسے ڈھونڈنے گیا
24:21آواز دی
24:22تو اپنے ہی
24:23اندر ملا مجھے
24:24سبحانہ
24:25آواز دی
24:25تو اپنے ہی
24:26اندر ملا مجھے
24:27حفظی صاحب قبلہ
24:28انسان
24:29معرفتِ الہی میں
24:30جب سفر کرتا ہے
24:32تو
24:33آزمائشیں
24:34تو
24:35یقینی ہیں
24:36مدد
24:37تقریباً
24:38جتنا کچھ پڑھا
24:39پیغمبروں کو پڑھا
24:40علیاء کو پڑھا
24:41اللہ کے پیاروں کو پڑھا
24:43تو آزمائشیں
24:44اور
24:45مشکلات
24:46لیکن
24:47ان کو
24:47اتنی محبت
24:48اور اتنے اتمنان
24:49اور تبسم کے ساتھ
24:51ایکسیپٹ کر لینا
24:51کیونکہ آزمائش کے آنے سے
24:53پہلے ماتوے پہ بل پڑ جاتا ہے
24:54انسان کے
24:55انسان تو اتنا
24:56بے یقینی کی
24:57قیفیت میں جیتا ہے
24:57اس یقین کے بارے میں
24:59کیا کہیں گے
24:59اس اعتماد
25:01ان کو
25:01اعتماد دلائیں
25:02اس امت کو
25:02دیکھیں سلمان بھائی
25:05جہاں پر
25:06یہ واقعہ
25:08یوسف علیہ السلام
25:09کی شان
25:10آپ کی رفعت
25:12آپ کا مقام
25:13مرتبہ بیان کر رہا ہے
25:14وہاں پر
25:16حضور نبی کریم
25:17صلی اللہ علیہ وسلم
25:19کو تسلی بھی دی جا رہی ہے
25:21کہ
25:22اے میرے پیارے محبوب
25:23یہ جو آپ کے ساتھ
25:24کیونکہ مکی صورت ہے
25:26یہ
25:27صورة یوسف
25:28مکی صورت ہے
25:29کی صورت
25:29اور ظاہر ہے کہ
25:30ابھی معاملات ہونے
25:31اور حضور نبی کریم
25:33علیہ السلام پر
25:34پے درپے تکلیفیں
25:35آ رہی ہیں
25:35پریشانی آ رہی ہیں
25:37اور اللہ دیکھیں
25:37وقتی صورتوں میں
25:38آستے میں رکاوٹیں ہیں
25:39اچھا آپ
25:40سجدے میں جا رہے ہیں
25:41تو
25:41ماذا اللہ
25:43ماذا اللہ
25:43ناپاکیاں
25:44اوجنیاں پھیکی جا رہی ہیں
25:46اللہ اکبر
25:47پتھر برسائے جا رہے ہیں
25:49اور
25:50یعنی
25:50پے درپے تکالیف
25:52پریشانیاں
25:53اور پھر
25:54وہ قریبی لوگ
25:55جسے ابو لہب ہے
25:57وہ آپ کو ماننے
25:58کو تیار نہیں ہے
25:59ابو جہل
25:59امت کا فیرون
26:01اس طرح کتنے لوگ
26:02ایسے ہیں
26:02کہ جو
26:03مطلب آپ کے لئے
26:04کانٹے بچھانے
26:05کو تیار تھے
26:06آپ کو تکلیف
26:07پہنچانے
26:08کو تیار تھے
26:09کہ مطلب
26:10موت کی گھاٹ
26:11اتار دیں
26:12تکلیف پہنچائیں
26:13زخمی کر دیں
26:14لیکن
26:15کوئی پیار
26:15پیار سے آنے
26:17کو تیار نہیں تھا
26:18یعنی
26:19یہاں پر آپ دیکھیں
26:20کہ یوسف علیہ السلام
26:21کی مثال
26:22بیان کی گئی
26:23جو احسن قصص
26:24سورہ یوسف میں
26:25کہ یوسف علیہ السلام
26:28کو ہر طرف سے
26:29تکلیفیں پہنچیں
26:30بچپن سے ہی
26:32لڑکپن سے ہی
26:32تکلیفیں پہنچنا
26:33شروع ہوئیں
26:34اور اپنوں کی
26:35بظاہر بے وفائی
26:36ملی
26:36ٹھیک ہے
26:37اچھا اس کے بات
26:39کرتے کرتے
26:39تکلیفیں ہوتے ہوتے ہوتے
26:41برداشت کرتے کرتے
26:42آخر میں کیا ہوا
26:43آخر میں
26:44یکا یک
26:45اللہ تبارک وطالعہ
26:46نے سارے حالات
26:47کو چینج فرمایا
26:48اور آپ کو
26:49بادشاہ تتا فرمائی
26:50سیم یہاں پر
26:51آپ دیکھیں
26:52کہ حضور نبی کریم
26:53صلی اللہ علیہ وسلم
26:54ایک سن نبی سے
26:56جو آپ کی
26:58تکلیفیں
26:58پریشانیاں
26:59شروع ہوتی ہیں
27:00یہاں تک کہ
27:01پانچ
27:01پھر چھے
27:03چھے میں
27:04جوہ وہ
27:05حجرت حبشہ ہوتی
27:05دو مرتب حجرت حبشہ
27:07جوہے صحابہ نے کیے
27:08پھر اس کے بعد
27:09ہوتے ہوتے ہوتے ہوتے
27:10آپ دیکھیں کہ
27:11طائف کا مقام ہے
27:12یہ ہے پھر
27:13شعب ابی طالب کی
27:15گھاٹی میں جوہے وہ
27:16تین سال تک
27:17جوہے وہ
27:18آپ پر عرصہ حیات
27:20تنگ کیا گیا
27:21بالآخر
27:22حضور نبی کریم
27:23علیہ السلام
27:23کو
27:24حجرت کرنی پڑی
27:25ان سے پریشان ہو کر
27:26کہ اب یہاں
27:27رہا نہیں جا سکتا
27:29حجرت کی
27:30اور ٹھیک
27:31آٹھ سال کے بعد
27:32مکہ مکرمہ
27:34فتح ہوا
27:34حکمران بن کے
27:36تشریف لائے
27:36اسی طریقے سے
27:38یوسف علیہ السلام
27:39کو بھائیوں نے
27:40مفقود کر دیا تھا
27:41ختم کر دیا تھا
27:42لیکن کئی سالوں
27:44کے بعد
27:44حال یہ تھا
27:46کہ منگتے
27:47یعنی سائلین
27:49یوسف علیہ السلام
27:50کے بھائی تھے
27:51اور جس سے
27:52سوال کیا جا رہا تھا
27:53وہ یوسف علیہ السلام
27:54خود تھے
27:55وہ بادشاہ مصر تھا
27:56تو بات یہ
27:57کہ اللہ تبارکہ
27:58وطالہ نے
27:59اپنے محبوب علیہ السلام
28:00کو
28:00یہاں تسلیم بھی دی
28:01وہ
28:02علامہ اقبال کا شہر ہے نا
28:03کہ تنگ دیئے
28:04باد مخالف سے
28:05نہ گھبرا اعقاب
28:06یہ تو چلتی ہے
28:07تجھے انچا اڑانے کے لیے
28:09تو یوسف علیہ السلام
28:10کی حیات طیبہ
28:12ہمیں اس کی
28:12عالی مثال ملتی ہے
28:14اور جس طرح
28:15علامہ اقبال
28:15ایک مقام پر
28:16اور بھی کہا
28:17کہ اگر کھو گیا
28:18ایک نشیمن
28:19اگر کھو گیا
28:21ایک نشیمن
28:22تو کیا غم
28:23مقامات آہو فغان
28:24اور بھی ہیں
28:25اور پھر فرماتے ہیں
28:27کہ کناعت نہ کر
28:28عالم رنگ و بو پر
28:30چمن اور بھی
28:31آشیاں اور بھی ہیں
28:32جس طرح علیہ السلام
28:33کی زندگی میں
28:34یہ نظر آتا ہے
28:35کہ کوئی اگر
28:35استقامت کا پہاڑ بن جائے
28:37سبر کرے
28:38ہر پریشانی سے جائے
28:40تو اللہ تعالیٰ
28:41پھر اسے عطا فرماتا ہے
28:42اور وہ عطا فرماتا ہے
28:44جو اوروں کو عطا نہیں فرماتا ہے
28:45کیا بات ہے
28:46آپ نے اقبال کا ذکر کیا
28:48اور مجھے اقبال کا اشیر یاد آیا
28:49شوکتِ سنجر و سلیم
28:52تیرے جلال کی نمود
28:53شوکرِ سنجر و سلیم
28:56تیرے جلال کی نمود
28:57فقرِ جنید و بایزید
28:59تیرا جمالِ بین اقاب
29:01فقرِ جنید و بایزید
29:03مفتی حسن نبید نیازی صاحب قبلہ
29:05یہ بادشاہِ مصر کا دور
29:07اب شروع ہو گیا ہے
29:08اور پھر بادشاہ بنا ہے
29:09یوسف پیغمبرِ خدا
29:11تو پھر عدل و انصاف کا عالم کیا ہوگا
29:14صلح رحمی کا عالم کیا ہوگا
29:16مخلوق کی بادشاہ سے محبت کا عالم کیا ہوگا
29:19کچھ اس کا بھی ذکر فرمائے نہ
29:20آپ دیکھئے سیدنا یوسف علیہ نبی عناو
29:22علیہ السلام جب مصر تشریف
29:25لائے تھے تو ظاہری طور پر
29:26آپ کو غلام بن کر آئے تھے
29:28اس کے بعد اللہ تعالیٰ تعالیٰ نے
29:30آپ کو یہاں پر بادشاہ بنایا
29:32تو اس کے بعد آپ کو شان کیا عطا فرمائی ہے
29:35وہ جو واقعہ ہے جو خواب والا
29:36اور جس کا ذکر خود قرآن میں مجید فرقان امید
29:39کے اندر ہے بھی صحیح کہ کہت آیا گا
29:40جس کی آپ نے تعبیر بیان کی تھی
29:42جو بادشاہ کو خواب آیا تھا اس کی تعبیر آپ نے بیان کی تھی
29:45کہ سات سال خوشحالی کی اور اگلے
29:46سات سال کہت کیوں گے
29:48اس دوران جب بادشاہ نے آپ کو انان سلطنت
29:51آپ کے سپرد کی
29:52آپ کو وزیر آدم بنایا خدانائیں کی کنجیاں
29:55ساری آپ کو دیں خود آپ نے فرمایا تھا
29:56اجعلنی اللہ خدان الارد انی حفیظن عالیم
29:59کہ مجھے زمین کے خدانوں پر مقرر کر دو
30:02میں حفاظ کرنے والا علم والا ہوں
30:04اور پھر آپ نے سٹریٹیجی بنائی
30:05اور آپ کی سٹریٹیجی کے نتیجے میں بڑا فائدہ بھی ہوا
30:07اب جب کہت آیا
30:09تو کہت کے بعد کیا ہوا
30:10لوگ جب غلہ خریدنے کے لئے آئے
30:12تو پہلے سال انہوں نے غلہ خریدا ہے
30:14اپنے درہم اور دینار دے کر
30:16جو مال تھا وہ دیا سارا غلہ خریدا سب نے
30:18اس کے بعد اگلی مرتبہ پھر جو کہت تو کہتی ہے
30:21غلہ ختم ہو گیا
30:22ایک سال کا راشن تھا
30:23اگلے سال دوبارہ وہ آئے
30:24اب انہوں نے اپنے زیور جواہر دیگر چیزیں دے کر غلہ خریدا
30:28پھر اس کے بعد اگلے سال آئے
30:30تو انہوں نے اپنے جانور چوپائے
30:31وہ دے کر غلہ خریدا
30:32اس سے اگلے سال انہوں نے اپنے غلام بانیاں کنیزیں
30:36وہ دے کر اس کے عوض میں غلہ خریدا
30:37پھر اس کے بعد انہوں نے اپنی اولاد دے کر
30:41اس کے عوض میں غلہ خریدا
30:42اور آخری دفعہ یہ ہوا
30:43کہ انہوں نے اپنے آپ کو بیچا
30:45اور اس کے عوض میں جگلہ خریدا
30:47اور ایک سال جا ہے وہ عراضی ساری
30:49جو ان کی پروپرٹی تھی وہ ساری کی ساری دی
30:51جگلہ خریدا ہے
30:52وہ سات سال اس طرح گزرے ہیں
30:54کہ اللہ تعالیٰ نے
30:56اپنی رحمت بھی ظاہر فرمائی
30:58یوسف علیہ السلام پر ان کی عظمت بھی ظاہر فرمائی
31:00اور اپنی عظیم قدرت بھی ظاہر فرمائی
31:02کہ اللہ تعالیٰ نے
31:05سارے مصر کو ان کا غلام بنا دیا
31:07وہ سیدنا یوسف علیہ السلام
31:08جب مصر تشریف لائے تھے
31:10تو ظاہری طور پر غلام کے روپ میں تھے
31:13اب وہی مصر ہے
31:15سیدنا یوسف علیہ السلام
31:16تخت پر جلوہ فروض ہیں
31:17اور سارا مصر
31:19سارے کا سارا آپ کا غلام ہے
31:21یعنی کیا مرد کیا عورتیں
31:23کیا بچے وہ سب آپ کے غلام
31:25اور ظاہری طور پر بھی آپ سب کے مالک ہیں
31:27سب کچھ آپ کے پاس آ گیا
31:29یعنی اب کوئی یہ نہیں کہہ سکتا تھا
31:31کہ یوسف علیہ السلام تو غلام تھے
31:33یا یہ فلان کے غلام تھے
31:35فلان کے غلام تھے
31:35اب سارا مصر خود ان کا غلام ہے
31:37اب ان کے ہاتھ میں سارا نظام آ گیا
31:39اب سیدنا یوسف علیہ السلام کی شان دیکھئے
31:43ان کی وہ صلح رحمی کی جو آپ نے بات کی
31:45اور ان کے حسن سلوک کی بات کی
31:47اور ان کے عدو لگنصاف کی بات کی
31:48اب آپ یہ دیکھئے
31:49کہ سیدنا یوسف علیہ السلام نے کیا کیا
31:51ان سب کو آداد فرما دیا
31:53سارے غلام بن گئے
31:54لیکن آپ نے سب کو آداد فرما دیا
31:56اور جو ان کا مال و منال تھا
31:58mainalまたata that
32:00on eisraqe ka sara
32:01on eisraqaqa baapos
32:02for mapa daya
32:02I Agnes
32:03ouo shan
32:04za huma
32:04Allah ke nostalgia
32:05iisraqa salaam
32:06le ahiu
32:07Naqolera
32:13bin Iura grahim
32:16waag
32:16it's about
32:17ano
32:18waag
32:19you
32:23Euan
32:24why
32:24ma Matthew
32:28It was your heart. It was your fault. It was your fault.
32:32There were so many circumstances, so many circumstances, so many circumstances.
32:36After that, you also have to forgive them.
32:39And you also have to forgive them in the end of that, which Allah has given you.
32:43What a matter of this.
32:45Prof. Tz. has such a desire for human beings.
32:47It's a matter of human being.
32:50I'm in front of my old man.
32:52I'm in front of my old man, I'm in front of my head.
32:54I'm going to go.
32:55I'm in my head of my head.
32:56this is the enemy, come on, forgive us, some people don't do it, but I'm so scared
33:01I am going to die, I am going to kill, kill, attack, murder, it's a great sign of God.
33:09He is the wisdom of my wisdom, I am the two-year-old.
33:14This is a caller that we have used, Salamu Alikum.
33:19The line dropped a line, there is another caller, Salamu Alikum.
33:23Hello?
33:24Hello?
33:26Is your voice not here?
33:29Hello?
33:30Hello?
33:30Yes.
33:33Tell us to close the TV.
33:35No.
33:37Please close the TV.
33:40Do not close the TV.
33:41He has closed the line.
33:43Mr. Moulana has come in the face.
33:46What are you doing?
33:47The people of God are our own.
33:50We will get out of trouble.
33:51Yes, welcome.
33:54Hello?
33:56Yes.
33:57What are you doing?
33:58Yes, God.
33:59What is your question?
34:03Yes, right.
34:04What is your question?
34:05My question is,
34:07I would like to ask you what you're doing
34:10at your channel or other channels.
34:12When he is a program for Ramadan,
34:17so these women who are not here...
34:19Thank you very much.
34:49What are you doing?
34:51If you don't want to do it, it will be prepared for you.
34:56Okay, okay.
34:58There is a caller on our side.
35:00Assalamualaikum.
35:03Hello?
35:04Assalamualaikum.
35:06Yes, what is your question?
35:08My question is,
35:10I have 4 people,
35:12I have 4 people,
35:14I have 4 people.
35:15You have 2 people,
35:19Do you have to read more,
35:21or do you have to read more?
35:22No, that is 4 people and the body?
35:25I have 4 people, I have to read more,
35:27I have to read more,
35:28Do you have to read more?
35:32Yes.
35:34Okay.
35:35The day of the day,
35:36the people who are saying that you have a shortcut.
35:39Yes, Assalamualaikum.
35:41Waalaikum.
35:42Yes, what is your question?
35:43Yes, my question is that I have a 12.00.
35:47Okay.
35:49I have nothing to do with that.
35:51Please give me a question,
35:52because I am a shopkeeper.
35:55Okay.
35:56My question is that I have another question.
35:59Yes, tell me, tell me.
36:00I saw that I have seen my little brother
36:03very much. Please, please,
36:06I know that this is from the segment.
36:08We try to tell you,
36:10but if you tell me,
36:13the calls of calls are so many.
36:14Then we are living in our dreams
36:15and we are living in reality.
36:19One caller, tell me.
36:21Yes, as-salamu alaykum.
36:22Yes, as-salamu alaykum.
36:23Yes, my husband has two questions.
36:27One, my son is doing a job.
36:30During the job,
36:31during the duty,
36:33he is only reading a prayer.
36:36He leaves a prayer.
36:38The job is like a prayer.
36:39Okay.
36:40Yes.
36:42Do you have a question?
36:44Yes.
36:44Do you have a question?
36:45Yes.
36:46that my children have
36:47to read it.
36:48They have to read it.
36:51They don't read it.
36:52So,
36:53they have to be a doubt.
36:53They have to read it.
36:54Yes.
36:59Yes.
37:02Yes.
37:04Yes.
37:09Yes.
37:25Good times.
37:28It is,
38:07Welcome back.
38:08Welcome back.
38:39حضرت یوسف علیہ السلام کا حسن
38:41اس کے چرچے
38:42اور پھر
38:43مطلب اتنی بڑی بڑی آزمائشیں ہیں
38:46یہ یقین کب آتا ہے انسان میں
38:48کہ وہ
38:49مطلب بحیثیت انسان
38:52بشر
38:53بشر کو
38:54تو بڑے بڑی
38:55میں نے کتب میں دیکھا
38:56خطا کا پتلا کہا گیا ہے
38:59پھر خطا ہوتی ہے تو بشر ہوتا ہے
39:02سمجھ لیں
39:03یہ بھی بشر تھے
39:05کیا بات ہے جو انسان کو
39:07آدمی کو اللہ کے
39:08اتنا قریب کرتی ہے
39:10وہ شناس کرتی ہے
39:11کہ سب کچھ اس کے سامنے ہوتا ہے
39:13وہ کہتا ہے
39:14نہیں نہیں نہیں
39:15اللہ
39:16کیسے
39:17کیسے ہو سکتا ہے
39:18یہ آج کیسے ممکن ہے
39:19اس دور میں
39:21بسم اللہ الرحمن الرحیم
39:24حدیث پاک باتا ہے
39:25الحیاء والایمان قرآن
39:28حیاء اور ایمان
39:30یہ دونوں چیزیں
39:30اپس میں یوں ملی ہوئی ہیں
39:31اذا رفعہ احدہما
39:33رفعہ الاخر
39:34جب دونوں میں سے
39:35کوئی ایک چیز اٹھ جائے
39:36تو سمجھیں کہ دوسری بھی اٹھ گئی ہے
39:38اس لیے
39:39الحیاء الشعبت من الایمان
39:42خاص طور پر فرمایا
39:43کہ حیاء ایمان کا وہ حصہ ہے
39:45جو بڑا بنیادی اور بیسک ہے
39:47اگر حیاء نہیں
39:50فما اگر حیاء نہیں
39:52تو پھر جو کچھ چاہے مرضی کرو
39:53تمہارا اسلام سے ایمان سے
39:55کوئی تعلق نہیں ہے
39:56اس لیے آقا کریم علیہ السلام
39:58نے ایک موقع پر فرمایا
39:59استحیو من اللہ حق الحیاء
40:02اللہ سے حیاء کا جو حق ہے
40:04ویسے حیاء کرو
40:06تو صحابہ نے ارز کی
40:07یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
40:09انہا نستحیو الحمدللہ
40:10ہم اللہ سے حیاء کر رہے ہیں
40:12اللہ کا شکر آپ نے فرما نہیں
40:14حیاء کا طریقہ یہ ہے
40:22حیاء کے تین چیزیں بیان فرمائیں
40:24کہ سر کو اور سر کے متلکہ
40:27جتنی چیزیں جڑی ہوئی ہیں
40:29آنکھیں کان زبان
40:31ان کی حفاظت کرنا
40:32سوچ کی حفاظت
40:33اور اپنی تنہائیوں کو پاک کرنا
40:39پیٹ کے اندر جو جا رہا ہے
40:40وہ حلال جا رہا ہے
40:41کہ نہیں جا رہا ہے
40:42پاکیزگی والا جا رہا ہے
40:44اور اس کے ساتھ جو اللہ نے شرم گا
40:45اور یہ سارا معاملہ جوڑا ہے
40:46اس کی حفاظت
40:47اور
40:50موت اور موت آکے
40:51سب چیزوں کو بوسیدہ کر دے گی
40:53اس کا تذکرہ کرنا
40:54یہ تین چیزیں اگر ہیں تو حیاء ہے
40:56تو حضرت یوسف علیہ السلام کو
40:58اللہ نے آلہ درجہ کی حیاء
41:00اتا فرمائی پاک دامنی
41:01چونکہ یہ اللہ کی طرف سے
41:03معصوم لوگ ہیں
41:04عصمت پاک دامنی
41:06اللہ کی طرف سے تیع ہے
41:07کہ زلیخہ گناہ پر مجبور کر رہی ہیں
41:10انہوں نے عظم اور ارادہ کیا
41:12یہ حکم دیا گیا
41:13کہ عظم ارادہ تم کرو
41:15پھر دیکھو اللہ کی مدد کیسے آتی ہے
41:17پھر اللہ نے دروازے کیسے کھولے
41:19وہ میرے آپ کے سامنے
41:19وَغَلَّقَتِ الْأَبْوَابَ وَقَالَتْ هَيْتَلَقْ
41:22اور یہ کیا کہہ رہا ہے
41:22قَالَ مَعَاذَ اللَّهُ
41:23میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں
41:25میں اللہ سے ڈرنا چاہتا ہوں
41:26اور دوسری بات
41:27کہ حضرت یوسف علیہ السلام
41:31جس بچے نے ایک گواہی دی تھی
41:33اس موقع پہ
41:41بات میں بچہ جب بڑا ہوا
41:43تو سامنے آیا
41:44تو کہا حضرت یوسف سے
41:46کہ میرا تعارف یہ ہے
41:48کہ میں وہ بچہ ہوں
41:49جس نے آپ کی گواہی دی تھی
41:51تو یوسف علیہ السلام نے
41:51مسکرا کے فرمایا
41:52کہ اس کے لئے خزانوں کے دروازے کھول دی
41:54اللہ اکبر
41:55تو اللہ تعالیٰ کے لئے سے پیغام آیا
41:57کہا یوسف
41:57اس نے آپ کی گواہی دی
41:59تو آپ نے خزانوں کے دروازے کھول دیئے
42:02جو میری تابع داری
42:04اور فرما برداری پہ آئے گا
42:05اور میری وحدانیت کی گواہی دے گا
42:07میں زمین و آسمان کے سارے دروازے کے لئے کھول دی
42:09اللہ اکبر
42:10دوسرا ایک بڑا اہم پیغام
42:12کہ یوسف علیہ السلام
42:14رب السجن احب الی مما یدعوننی الی
42:17کہ قید کی بجائے
42:20وہ ترجیح دے رہے ہیں
42:22سوری
42:22باہر رہنے کی بجائے
42:24قید کو ترجیح دے رہے ہیں
42:26اور ساری شان و شوق
42:27سارے معاملات کو چھوڑ کر
42:29اور ادھر کیوں کہ اللہ کی یہاں نرازگی ہے
42:31اور وہاں اللہ کی رضا ہے
42:33اس کو ترجیح دی جاری ہے
42:34اور یہ بتا دیا قیامتہ کے آنے والے انسانوں کو
42:37کہ کہیں پر معاملہ ایسا ہو جائے
42:40تو اپنے آپ کو مشکت میں ڈال دینا
42:42لیکن رب کی نرازگی میں ڈالنا
42:44اور جیل میں جا کے ایسا محول بنایا
42:46میں آج تمام
42:47چونکہ میرا جیل خانجات میں جانا ہوتا ہے
42:49اللہ کا واسطہ گزارش کروں گا
42:51کہ ان قیدوں کے ساتھ اچھا سلوک کریں
42:53یوسف علیہ السلام نے وہاں جا کے
42:55دعوت کا محول بنایا
42:57جو جرائم کی دنیا کے بادشاہ تھے جو لوگ
43:00اللہ نے ان کو وقت کے صالحین میں شمار فرمایا
43:02کیا بات ہے سبحان اللہ
43:04اور اس کی مثالیں
43:05یوسف علیہ السلام کی تقرید کرنے والوں میں ملتی ہیں
43:08کہ جیل میں ایک بے قصور
43:10اور نیک بخت انسان
43:11جب قید ہوا تو اپنے ساتھ نیکوں کا ٹولہ لے کے نکلا
43:14بھائی اس نے وہاں تبلیغ کی
43:16اس نے وہاں تعلیم کی
43:17تدریس کی اور لوگ ماشاءاللہ
43:19معلم بن کے باہر آئے
43:21ایک اور کالر ہمارے ساتھ ہیں
43:22السلام علیکم
43:25جی کیا سوال ہے آپ کا
43:27میرا سوال یہ ہے
43:28مفتی صاحب میں زیادہ پڑھی لکھیں نہیں
43:30میرا جواب دی گیا
43:31میرا سوال یہ ہے کہ
43:32ہمارے نظیق نا ایک معجب ہے
43:34وہاں کوئی عشاء کے وقت
43:36میرا چھوٹا بھان جائے
43:37وہ نماز پڑھنے جاتا ہے
43:38میں اس کے ساتھ جا کر
43:39میری ٹانک
43:40مسئلہ دیوار پہ بیٹھ کر
43:41نماز پڑھ سکتی ہوں
43:42جیسے کرسی کے
43:43اچھا چھوٹا
43:44چھوٹا بھان جا جاتا
43:45عشاء کی نماز پڑھنے
43:46تو
43:47ہاں کوئی نہیں جاتا
43:49وہاں مرد نماز نہیں پڑھتے
43:51اس لیے مسجد ویران
43:52تو میں وہاں
43:52اس کے ساتھ چلی جاؤں
43:53کوئی مسئلہ نہیں
43:54میرا دوسرا سوال یہ ہے
43:55کہ
43:56کوئی نہیں جاتا
43:57میں چلی جاؤں بچے کے ذات
43:58کوئی مرد نہیں جاتا
43:59نماز پڑھنے
44:00تو کہہ رہی ہیں
44:01اسی کونسی جگہ ہے
44:02کہ جہاں پر
44:03کوئی نماز پڑھنے
44:04کیلئے نہیں جاتا
44:04اسی کونسی جگہ ہے
44:07مجھے آپ کی آواز نہیں آرہی
44:09میرا دوسرا سوال یہ ہے
44:10میری بہن
44:11میری بہن سنے
44:12سنے
44:12ہیلو
44:13ہاں ہاں
44:14مجھے آواز آرہی ہے
44:15آپ کی میری بہن
44:16یہ آپ نے پہلے بھی پوچھا تھا
44:17میں نے آپ کو بتا دیا تھا
44:19کہ
44:19آپ اپنے بھانجے کو
44:21سیلوری دے سکتی ہیں
44:22یا نہیں
44:22اب مجھے یہ بتایا ہے
44:24کہ پورے پاکستان میں
44:25اسی کونسی جگہ ہے
44:26کہ جعبہ
44:27کوئی نماز پڑھنے
44:28کیلئے نہیں جاتا
44:31جی جی
44:32کونسی اسی جگہ ہے
44:32مجھے بتائیں
44:34ہاں وہاں
44:35کوئی مرد
44:35نماز پڑھنے نہیں جاتا
44:37صرف صبح کی نماز پڑھتے ہیں
44:39مرد جو ہیں
44:40جی
44:41فجرہ کی نماز پڑھتے ہیں
44:43صبح کی نماز
44:43صرف پڑھتے ہیں
44:44باقی کی نہیں پڑھتے ہیں
44:45مرد جو ہیں
44:46بڑے مرد جو ہیں
44:48تو آپ کی گھر میں
44:49کوئی اور مرد نہیں ہے
44:50to go with the other people?
44:52No, no, no.
44:56How many years have you been?
45:02Yes, I've been a 15-year-old.
45:10Yes, I've been a 15-year-old.
45:12Okay.
45:13My second question, listen to me.
45:15Yes, tell me.
45:16Don't worry.
45:46this kind of training. Allah Akbar.
45:49Today we have reached here.
45:50We have not yet.
45:52Assalamualaikum.
45:53Assalamualaikum.
45:54Yes, I have two of them.
45:56Yes, I have a question.
45:58Yes, I have a film.
46:02I have a film made it.
46:02Is it a film made it?
46:05What is it?
46:07I have a film made it.
46:10Okay, okay.
46:11Yes, I have a film made it.
46:13Okay, tell us.
46:14Inshallah, we will tell you.
46:15Okay, yes, there are other callers with us.
46:17Assalamualaikum.
46:21Assalamualaikum.
46:24Assalamualaikum.
46:24Assalamualaikum.
46:25Assalamualaikum.
46:25Yes, what is your question?
46:27I live a lot of diseases.
46:31Okay.
46:31My name is Shanaazin.
46:33I live a lot of diseases.
46:35Okay.
46:36Yes.
46:37I have no understanding.
46:39It is a problem.
46:41It is a problem.
46:42I have no understanding.
46:43There are many of us.
46:48I will say that Allah has a good sign.
46:50Allah has a good sign.
46:51Calls me.
46:52I will say that I will send message to you.
46:55What a message is that you want to call me?
46:59Your message is a message.
46:59Your message is a message.
47:01My message is that we have our children.
47:08We have to make a world a year.
47:12We have to make a whole way.
47:14We have to make a child a little.
47:15No, no, no, no, no, no.
48:00No, no, no, no.
48:25No, no, no.
48:46No, no, no, no.
49:23No, no, no.
49:46No, no, no.
50:00No, no, no.
50:38No, no, no.
50:45No, no, no.
51:06No, no, no.
51:37No, no, no.
51:41No, no, no.
52:13No, no, no.
52:40No, no, no.
52:51No, no, no.
53:10No, no, no.
53:22No, no, no.
53:30No, no.
53:38No, no, no, no.
54:10No, no, no, no.
54:10No, no, no, no.
54:19No, no, no, no, no.
54:30No, no, no, no, no.
54:43No, no, no.
55:08No, no, no, no, no, no, no, no.
55:08No, no, no, no, no.
55:09No, no, no, no.
Comments

Recommended