Skip to playerSkip to main content
  • 2 days ago
Prophet Muhammad (SAW) ki wiladat-e-basaadat ka waqia
Thanks for
Molana Tariq Jameel
Molana Tariq Jamil
And All
Transcript
00:29ڈیٹیم کی آمد پر
00:30All the women have asked me, every woman has asked me,
00:35I am not, I am not a child, I am the next child.
00:39The other woman has asked me, I am not a child, I am the next child.
00:44I am the next child, I am the next child.
00:46I am the next child.
00:47There are 10 children.
00:50And one thing that is, which day God gave the Lord,
00:53پیدا ہوئے اس پورے سال میں پوری دنیا میں چاہے وہ ہن تھا یا سن
01:00تھا اللہ نے ہر عورت کو بیٹا دیا اس پورے سال میں ہر عورت کو
01:07اللہ تعالیٰ نے بیٹا عطا فرمایا تو جب سادیا آئیں حلیمہ تو
01:14بچے تو سارے جا چکے تھے تو انہوں نے بھی انکار کر دیا نہیں
01:19میتنے لڑوں میں انہوں پیسے کون دے گا تو جب وہ سارا مکہ پھر
01:24گئیں تو بچے ہی کوئی نہیں تو ان کے خامن تھے ابو کپشا کہنے
01:29رہے گا حلیمہ خالی گوت کیا جانا یتیم کو لے لے چلو ہمیں
01:34اللہ عجری دے گا تو یہ دوبارہ آئیں اور کہا کہ اچھا بی بی آپ
01:40مجھے اپنا بیٹا دے دو تو حضرت آمنہ علیہ السلام نے فرمایا یہ
01:46بڑے بختوں والا بچہ ہے تم دیکھو گی اس کے اثرات دیکھو گی
01:51تو قہد کا زمانہ تھا چھاتیوں میں دودھ کا ایک قطرہ نہیں تھا اور
01:58ایک بیٹا ان کا اور بھی دودھ پیتا تھا جو ہی حضرت حلیمہ نے
02:04گودھ میں لیا تو دونوں چھاتیاں دودھ سے پھر گئیں تو بڑی حیران ہو یہ
02:11کیا ہوا تو انہوں نے آپ کو دودھ پلایا ایک طرف سے جب دوسری
02:18طرف سے پلانے لگیں تو آپ نے موں بند کر لیا کہ یہ میرے دوسرے
02:22بھائی کا حصہ ہے میں نہیں پیوں گا اس طرح اللہ کی ہدایت چل رہی
02:28تھی اس معصوم بچے کے ساتھ اب رات ہو گئی تھی تو حضرت حلیمہ نے
02:39کہا اونٹنی سے کوئی دودھ ہی نکال کے لا بھوک سے برو حال وہ
02:44کہلنے گے بیمار اونٹنی ہڈیاں تے چمڑا تو دکت ہو آوے گا
02:53کہ چلو شاید کوئی کترہ دو کترہ ہی نکل آئے جاتو سہی تو وہ برطن
02:58لے کر گئے تھوڑا اندھیرہ تھا تو انہوں نے جب وہ تھنوں کو ہاتھ
03:04لگایا تو دوسرے بھر کے نیچے آ چکے تھے ایسے تو انہوں نے دوسرے
03:10نکالتے گئے نکالتے گئے وہ سارا برطن بھر گیا اونٹنی کا تو
03:14تھوڑا سا دودھ ہوتا ہے وہ سارا برطن بھر گیا جب وہ لے کر آئے تو
03:18حضرت حلیمہ کہنے لگی اے یہ کہاں سے آ گیا کہ اسی اونٹنی سے آگا
03:23کہ پھر یہ اس بچے کی برکت جب صبح ہوئی اور
03:28حضرت حلیمہ نے آپ کو گود میں لیا اور اپنی گدی پر بیٹھیں
03:35گدے بھی میرے نبی کو جانتے تھے اور آج ہم نہیں جانتے امت
03:39ہوگی تو اس نے ایک دم سے جھٹکا لیا اور اپنا مو قبلے کی طرف
03:46کر کے اور ایسے سجدہ کیا اللہ کی باری پھر سر اٹھایا پھر ایسے اس
03:54نے سجدہ کی پھر سر اٹھایا پھر ایسے سجدہ کی تین دفعہ
04:00اس نے سجدہ کیا شکرانے میں کہ آج میری کمر پر دو جہان کے سردار
04:07تشریف فرما ہے اور جب سفر شروع کیا تو ان کی قبیلے کی عورتیں چوبیس
04:16گھنٹے پہلے جا چکی تھی لیکن اونٹنی اور گدھی میں ایسی رفتار
04:23رہائی کہ وہ چوبیس گھنٹے کا سفر تیہ کر کے ان سے آگے نکلنے لگیں تو
04:33وہ حیران ہو کر کہنے لگیں حلیمہ تیری سواری بدل گئی ہے کیا ہوا ہے تو انہوں
04:40نے فرمایا نہیں میرا سوار بدل گیا ہے انہ لہذا سبیع لشعنا یہ میرا
04:49سوار بدل گیا ہے یہ پیدائج سے اور جب آپ وہاں تھوڑے سے بڑے ہوئے اور
05:01بکریوں کے ساتھ جانا شروع کیا تو جبریل آئے اور انہوں نے آ کر آپ
05:07کو چٹان پہ لٹایا آپ کا سینہ چاک کیا اور دل نکالا اور اس کو
05:13صاف کیا اور پھر وہاں فٹ کر کے وہ چلے گئے تو ان کے جو بھائی تھے
05:18وہ دوڑے دوڑے گئے کہ میرے قریشی بھائی کو کسی نے قتل کر دیا جب وہ
05:24واپس آئے تو دیکھا آپ تو ٹھیک ٹھاک بیٹھے تھے لیکن گھورائے ہوئے تھے
05:29اتنے بچپن سے آپ کی طہارت کا اللہ نے نزاؤں چلایا ایک مرتبہ آپ
05:36پکریاں چرا رہے تھے یہودی گزرے تو وہ کہنے گے یہ بچہ کون ہے
05:42تو حلیمہ کے خامے ابو کپشا نے کہا میرا بیٹا ہے کہ لے اگر تم
05:50کہتے ہیں نا کہ اس کا باپ مر چکا ہے تو ہم اسے یہیں قتل کر دیتے
05:55یہ آنے والے وقت کا نبی ہے بارہ سال کے عور میں حضرت ابو طالب آپ
06:00کو لے کر تجارت کے لیے گئے تو ذرقہ ایک جگہ ہے میں وہاں گیا
06:06ہوں وہاں ایک راہب تھا بحیرہ جب وہ اس نے کافلے کو دیکھا تو
06:15کہنے لگا تمہارا سردار کون ہے ان کا یہ کہا آپ کی کل دعوت ہے انہوں
06:22نے کہا پہلے تو تم نے کبھی ہمیں پانی بھی نہیں پوچھا تو آج دعوت
06:27کیوں ہے کہ یہ کل بتاؤں گا اگلے دن اس نے کھانے کا انتظام
06:32کیا اور سارے مکہ کا کافلہ ایک درخت کی شاؤں میں بیٹھ گیا جب وہ
06:39بحیرہ اس کا نام تھا آیا اس نے ایسے ایسے دیکھا تو کہنے لگا
06:44سارے پورے ہو کہاں پورے ہیں کہ نہیں کوئی کم ہے کہاں ایک بچہ
06:49ہے اونٹ شرائنے گیا تو بحیرہ کہنے لگا اسی بچے کی وجہ سے تو
06:54تو انہوں روٹی کھوا رہے ہیں تو انہوں کا امپل شنائی اس بچے کو
06:57بلاؤ تو پھر ایک آدمی گیا آپ کو لینے جب آپ تشریف لائے تو
07:03چھاؤں ساری کور ہو چکی تھی سارے لوگ چھاؤں میں بیٹھ چکے
07:08تھے آپ کے لیے چھاؤں میں جگہ نہیں تھی دھوپ میں آپ دھوپ میں جو
07:14ہی بیٹھے تو درخت کی شاخوں نے آگے پڑھ کر آپ کے اوپر سایا کر دیا
07:19تو وہ بحیرہ یہ دیکھ رہا تھا تو پھر وہ آیا اور آپ کو کھڑا
07:24کیا کہنے لگا یہ کس کا بیٹا ہے تو حضرت ابو طالب نے فرمایا
07:30میرا بیٹا ہے کہ جھوٹ بولتے ہو میرا علم کہتا ہے اس کا باپ
07:35مر چکا ہے تو فرمانے لگے ٹھیک کہتے ہو یہ میرے بھائی کا بیٹا
07:41ہے لیکن مجھے اپنے بیٹوں سے عزیز ہے پھر اس نے آپ کی کمر سے
07:45کپڑا ہٹایا تو مہر نبوت تھی تو وہ کہنے لگا اس کو یہیں
07:52سے واپس لے جاؤ یہ آنے والے وقت کا نبی ہے اگر یہودیوں نے
07:57دیکھ لیا تو اسے قتل کر دیں گے تو ابو طالب نے وہیں اپنا
08:02سامان بیچا شام بھی نہیں گئے اور وہاں سے واپس چلے گئے
08:07جسا لگے اس کی کنسا جا آنے والے اونہوں نے
08:07منگ سر گزاڈ رہی بھی نہیں گئے اور وہاں پھر
08:07بھی نہیں گئے اور انجاز ihre آپ کی کنسا جاوٹ بہت بھی نہیں ڈالوہ
08:07تواصل کرنے والے وقت کی مجھے اپنے والے اپنے والے اپنے والے اوانی
08:07چھوٹ بمچوں سے ڈالوکاردرانسان
Comments

Recommended