Skip to playerSkip to main content
  • 2 days ago
پرانے شہر کی ایک تنگ گلی میں ایک چھوٹی سی کتابوں کی دکان تھی۔ دکان کے مالک، بابا حامد، سفید داڑھی اور نرم مسکراہٹ والے انسان تھے۔ لوگ کہتے تھے کہ وہ صرف کتابیں نہیں بیچتے، بلکہ کہانیاں بانٹتے ہیں۔ ہر آنے والا گاہک کسی نہ کسی مسئلے کے ساتھ آتا اور بابا حامد اسے ایک ایسی کتاب دیتے جو اس کے دل کا حال بیان کرتی۔

ایک دن علی نام کا ایک نوجوان دکان میں داخل ہوا۔ اس کی آنکھوں میں تھکن اور مایوسی صاف جھلک رہی تھی۔ اس نے کہا، “بابا جی، مجھے سمجھ نہیں آتا میں زندگی میں کیا کروں۔” بابا حامد نے کچھ نہیں کہا، بس ایک پرانی سی کتاب اس کے ہاتھ میں تھما دی۔ کتاب کا عنوان تھا: “سفر خود سے ملاقات کا۔”

علی نے وہ کتاب ایک ہی رات میں پڑھ لی۔ اس میں کسی کامیاب انسان کی کہانی نہیں تھی، بلکہ ایک عام انسان کی جدوجہد، ناکامیوں اور چھوٹی چھوٹی جیتوں کا ذکر تھا۔ علی کو پہلی بار احساس ہوا کہ زندگی میں راستہ خود بنانا پڑتا ہے۔

کچھ دن بعد علی دوبارہ دکان پر آیا، اس بار اس کے چہرے پر اطمینان تھا۔ بابا حامد مسکرائے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ایک اور کہانی نے اپنا کام کر دیا ہے
Transcript
00:00You

Recommended