- 13 hours ago
Category
🎥
Short filmTranscript
00:00بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:02اللہ تعالیٰ کے نام سے شروع جو بڑا مہبان اور نہایت رحم کرنے والا ہے
00:07پیارے دوستو قوم عاد اور قوم سمود
00:11دنیا کی تاریخ میں دو ایسی قومیں گزری ہیں
00:14جن کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ طاقت اور بے پناہ قوت سے نوازت تھا
00:19ان کی طاقت کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا تھا
00:23یہ قوم دنیا کی لمبی ترین قوم تھی
00:25ان کے جیسی قوم نہ ان سے پہلے آئی
00:27اور نہ ہی ان کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کے جیسی کسی قوم کو پیدا فرمایا
00:32پیارے دوستو آج کی اس ویڈیو میں ہم قوم سمود کے بارے میں بات کریں گے
00:37جو قوم عاد کے بعد آباد ہوئی
00:39قوم عاد دنیا کی سب سے پہلی طاقتور ترین قوم تھے
00:43اس قوم نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی
00:46اور گناہوں کے اندر مبتلا ہو گئے
00:49تو اللہ تعالیٰ نے اس قوم پر اپنا دردناک عذاب نازل فرمایا
00:53اور اس قوم کو حلق و برباد کر دیا
00:55اس قوم کا نام و نشان صفہ ہستی سے مٹا دیا گیا
01:02اس طرح قوم عاد کے ہلاکت کے بعد ایک دوسری قوم مارز وجود میں آئی
01:07جس کو قوم سمود کہا جاتا ہے
01:10قوم سمود قوم عاد کی نسل سے ہی تھی
01:12اور یہ دنیا کے دوسری طاقتور ترین قوم تھی
01:16قوم عاد کی تباہی اور بربادی کے بعد
01:19عاد کے چھوٹے بائی سمود کی نسل سے
01:21یہ قوم وجود میں آئی
01:23جس کو قوم سمود کہا جانے لگا
01:25یہ قوم حجر کے علاقے میں آباد تھی
01:27اور آہستہ آہستہ یہ لوگ پھیلتے چلے گئے
01:31یہاں تک کہ یہ لوگ مغربی اور شمالی عرب تک پھیل گئے
01:35اس قوم نے اپنا دار الحکومت حجر کو ہی رکھا
01:38جو کہ شہر حجاز سے بالکل قریب واقع ہے
01:41جسے آج ہم مدائن سالے کے نام سے جانتے ہیں
01:44پیارے دوستو اس وقت کی سب سے سپر پاور قوم
01:47قوم عاد سانی
01:49یعنی قوم سمود تھی
01:51اللہ تبارک و تعالیٰ کا ان پر یہ خاص کرم تھا
01:54کہ یہ قوم انتہائی طاقتور تھی
01:56اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے
01:58ان کو بے شمار نعمتوں سے بھی نوازا تھا
02:01پیارے دوستو تاریخ کی کتابوں میں
02:03اس قوم کا قد چالیس ہاتھ بتایا گیا ہے
02:06اور ان کی عوصت عمر نو سو سے ہزار سال تھی
02:09اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے جیسی قوم دوبارہ پیدا ہی نہیں کی
02:14یہ ایسی قوم تھی
02:15جن کو کوئی بیماری نہ لگتی تھی
02:17اور نہ ہی ان کے لوگ بڑے ہوتے
02:19اور نہ ہی ان کے ہاتھ پاؤں کمزور ہوتے
02:22یہ لوگ ہمیشہ جوان اور تندرست رہتے
02:25یہ لوگ اتنے طاقتور تھے
02:27کہ ان کی نظر تک بھی کمزور نہ ہوتی تھی
02:30پیارے دوستو قوم سمود کی ایک نمائع خوبی یہ بھی تھی
02:34کہ اگر قوم سمود کا کوئی مرد
02:36اپنی عورت کے ساتھ ایک مرتبہ ہمبستری کر لیتا
02:39تو وہ عورت ایک ہی بار میں حاملہ ہو جاتی
02:42یہی وہ خوبی تھی جس کی وجہ سے یہ قوم
02:45قوم عاد کی تباہی کے بعد قوم سمود کے نام سے ابریں
02:49اور جلد ہی دنیا کے اندر اپنا اثر و رسوخ پیدا کر لیا
02:53ایسی شاندار قوم جس قوم کو
02:55اللہ تبارک و تعالی نے بے پناہ طاقت
02:57اور بے شمار نعمتوں سے نوازا تھا
03:00لیکن اس کے باوجود بھی اس قوم نے کون سا ایسا گناہ کیا
03:04جس کی وجہ سے اللہ تبارک و تعالی نے
03:06اس قوم پر اپنا دردناک عذاب نازل فرمایا
03:09اور اس قوم کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا
03:11اور اس قوم کو رہتی دنیا کے لیے عبرت کا نشان بنا دیا
03:17پیارے دوستو اس قوم کے گھروں کو
03:20آج بھی اللہ تبارک و تعالی نے
03:22نشان عبرت کے طور پر باقی رکھا ہے
03:24یہ قوم بڑے بڑے پہاڑوں میں رہنے کی شوقین تھی
03:28یہ لوگ بڑے بڑے پہاڑوں کو تراش کر
03:30اس کے اندر اپنے خوبصورت محلات بنایا کرتے تھے
03:33اور اسی کے اندر زندگی بسر کیا کرتے تھے
03:36اللہ تبارک و تعالی نے قوم سمود کو بہت کچھ عطا فرمایا تھا
03:40سر سبز باغات
03:41میٹھے پانی کی نہریں
03:43اور پتھریلی زمین پر ہر قسم کے پھل
03:46اس قوم کے آلی شان محلات اتنے خوبصورت تھے
03:49کہ صرف دور درہ سے لوگ
03:51ان کے آلی شان محلات کو دیکھنے کیلئے آیا کرتے تھے
03:55پیارے دوستو قوم سمود
03:57اپنے آلی شان محلات
03:58اور سر سبز و شاداب باغات
04:01اور خوبصورت مرغزاروں اور نیمتوں کی فراوانی کی وجہ سے
04:04یہ قوم غرور اور تکبر میں آگئی
04:07اور سرکشی کے نشے میں دودھ ہو کر
04:09اللہ تبارک و تعالی کی نافرمانیاں کرنے لگے
04:12اور اللہ تبارک و تعالی کی وحدانیت کو چھوڑ کر
04:15اپنے ہاتھوں سے تراشی ہوئے بتنوں کی پوجہ کرنے لگے
04:19اور یہ بات بھی بلا بیٹھے
04:21کہ کچھ عرصہ پہلے اللہ تبارک و تعالی نے
04:23انہی کی قوم پر انہی گناہوں کی وجہ سے
04:26اپنا دردناک عذاب نازل فرمایا تھا
04:29اور اس قوم کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا تھا
04:32پیارے دوستو اس دنیا کی طاقتور اور بدبخت قوم کی طرف
04:36اللہ تبارک و تعالی نے اپنے پیارے نبی
04:38حضرت صالح علیہ السلام کو مبعوث فرمایا تھا
04:42چنانچہ حضرت صالح علیہ السلام نے
04:43اللہ تبارک و تعالی کی حکم کے مطابق
04:45اس قوم کو بت پرستی سے منع کیا
04:48اور اللہ تبارک و تعالی کی وحدانیت کی طرف بلائیا
04:51اور ایک سچے خدا کی عبادت کرنے کا حکم دیا
04:54لیکن قوم کے سرداروں نے حضرت صالح علیہ السلام کو
04:57جھوٹا ثابت کرنے کے لئے
04:59ان سے موڈزہ طلب کر لیا
05:00اس قوم کے سردار حضرت صالح علیہ السلام سے کہنے لگے
05:04کہ آج تک جو بھی نبی آیا
05:06وہ اپنے ساتھ کوئی نہ کوئی موڈزہ لے کر آیا
05:09اگر تم اللہ تبارک و تعالی کے سچے نبی ہو
05:11تو ہم کو موڈزہ دکھاؤ
05:13چنانچہ حضرت صالح علیہ السلام نے
05:15اس قوم کے سرداروں سے پوچھا
05:17کہ آپ لوگ کون سا موڈزہ چاہتے ہو
05:19تو اس وقت اس قوم کے سردار کہنے لگے
05:22یہ جو سامنے چٹان ہے
05:24اس میں سے ایک ایسی اونٹنی نکل کر آئے
05:26جو گابن ہو
05:27اور آتے ہی بچے کو جنم دے دیں
05:30اور وہ ہم سب کے لئے دودھ دیں
05:32اور وہ دنیا کی خوبصورت ترین اونٹنی ہو
05:34اور اس کے ساتھ ساتھ وہ اونٹنی ایسی ہو
05:37جس کا کوئی ماں باپ نہ ہو
05:39چنانچہ حضرت صالح علیہ السلام
05:41نے ان سرداروں کی یہ بات سن کر
05:43اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یہ دعا کے
05:46تو ان کے دیکھتے ہی دیکھتے
05:48سامنے پہاڑ میں سے ایک خوبصورت
05:50حاملہ اونٹنی نکل کر آئی
05:52اور آتے ہی اس اونٹنی نے
05:54ایک حسین و جمیل بچے کو جنم دیا
05:56اس وقت اس اونٹنی کے تھن
05:58دودھ سے برے ہوئے تھے
05:59اور اس اونٹنی نے اتنا دودھ دیا
06:01کہ سب لوگوں نے پیٹ بھر کر دودھ پی لیا
06:04اس کے باوجود بھی
06:06دودھ وافر مقدار میں موجود تھا
06:08چنانچہ حضرت صالح علیہ السلام
06:10کا یہ عظیم شان موجزہ دے کر
06:12وہ تمام قوم اور اس کے سردار
06:14لا جواب ہو گئے
06:15اور اس بدبخت قوم کے سردار
06:17حضرت صالح علیہ السلام سے کہنے لگے
06:19کہ اے صالح علیہ السلام
06:21یہ تو سرہ سر جادو ہے
06:22اس طرح اس قوم کے بدبخت سرداروں نے
06:25اور اس قوم نے یہ موجزہ دیکھنے کے باوجود بھی
06:28حضرت صالح علیہ السلام پر
06:30ایمان لانے سے انکار کر دیا
06:31اور اسی طرح اپنے کفر و شرک پر اڑے رہیں
06:34چنانچہ اس قوم کے کچھ لوگوں نے حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی
06:39تو حضرت صالح علیہ السلام نے ان لوگوں سے کہا
06:42کہ یہ اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی اونٹنی ہے
06:45جو تمہارے لیے ایک موجزہ ہے
06:48اب تم اس اونٹنی کو اللہ تعالیٰ کی زمین میں چھوڑ دو
06:52اور اسے کسے قسم کی تکلیف نہ پہنچانا
06:54ورنہ اللہ تعالیٰ کا دردناک عذاب تمہیں پکڑ لے گا
06:58معزز ناظرین اس طرح اللہ تعالیٰ کی وہ بھیجی ہوئی اونٹنی
07:02اور اس کا بچہ قوم سمود کے کھیتوں میں پورا دن چرتے
07:06اور ان کے چشموں کا سارا پانی پی جاتے
07:09یہ ماجرہ دے کر قوم سمود نے حضرت صالح علیہ السلام کی بارگاہ میں شکایت کی
07:13کہ اونٹنی اور اس کا بچہ چشمے کا سارا پانی پی جاتے ہیں
07:17اور ہم کو پینے کے لیے پانی نہیں ملتا
07:20تو ان کی یہ شکایت سن کر
07:21حضرت صالح علیہ السلام نے ان کے لیے دن مقرر کر دیئے
07:25اور اس طرح اس چشمے کے پانی کو بانڈ دیا
07:28ایک دن حضرت صالح علیہ السلام نے اس اونٹنی کے لیے مقرر کر دیا
07:32اور دوسرا دن اس چشمے کا پانی قوم سمود کے لیے مقرر ہو گیا
07:37پیارے دوستو جس دن وہ اونٹنی پانی پیتی
07:39اس دن وہ دودھ بھی زیادہ دیتی
07:42اور دودھ اتنا ہوتا کہ دن اور رات میں ختم ہی نہ ہوتا
07:46جس طرح کہ اللہ تبارک وطالعہ قرآن پاک میں اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے
07:51اور حضرت صالح علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا
07:54کہ یہ اونٹنی ہے
07:56ایک دن اس کی پانی کی باری ہے
07:58اور ایک معین دن تمہاری پانی کی باری ہے
08:00اس کو کوئی تکلیف نہ دینا
08:02ورنہ اللہ تبارک وطالعہ کا دردناک عذاب تمہیں پکڑ لے گا
08:06پیارے دوستو اس طرح کچھ ہی دنوں بعد قوم سمود اس اونٹنی سے تانگ آگئی
08:11کیونکہ جس دن وہ اونٹنی پانی پیتی
08:13اس دن ان کو پینے کے لیے پانی نہ ملتا
08:15اور ویسے بھی قوم سمود کے سرداروں نے
08:18حضرت صالح علیہ السلام کی اس اونٹنی کو
08:20ایک جادو قرار دے رکھا تھا
08:23خیر قوم سمود کے ایک طاقتور سردار کی بیوی
08:26جس کا نام صدوق تھا
08:28اس عورت کے دو انتہائی خوبصورت اور حسین و جمیل بیٹیاں تھی
08:32ان کی عمریں بارہ اور چودہ سال تھی
08:34اس عورت نے حضرت صالح علیہ السلام کی بیٹے کو یہ لالش دیا
08:38کہ اگر تم اپنے گھر میں موجود اونٹنی کو
08:40رات کے اندھیرے میں قتل کر دو
08:42تو میں اپنی دونوں بیٹیاں انعام کے طور پر تمہیں دے دوں گی
08:46چنانچہ حضرت صالح علیہ السلام کی اولاد چونکہ نیک تھی
08:49لہٰذا وہ اس عورت کے اس جال میں نہ پھسے
08:52پھر اس کے بعد اس صدوق نامی عورت نے
08:54پوری قوم میں یہ اعلان کر دیا
08:56کہ جو بھی شخص حضرت صالح علیہ السلام کی اس اونٹنی کو قتل کرے گا
09:00میں اپنی دونوں کواری بیٹیوں کا نکاح ان کو دے دوں گی
09:03اس عورت کا یہ اعلان سنتے ہی اس قوم کے دو نوجوان
09:07جن کا نام مسددہ ابن دہر اور قیدار بن صالف تھا
09:12ان دونوں بدبختوں نے مل کر
09:14اسی رات حضرت صالح علیہ السلام کی اس اونٹنی کو زبا کر دیا
09:17اس طرح اللہ تبارک وطالعہ کی اس بیجی ہوئی اونٹنی کو زبا کرنے کے بعد
09:22قوم سمود حضرت صالح علیہ السلام سے کہنے لگیں
09:25کہ اگر تم اللہ تبارک وطالعہ کے سچے رسول ہو
09:28تو ہم پر وہ عذاب نازل کرو
09:30جس عذاب سے تم ہم کو ڈراتے ہو
09:32اس طرح اس اونٹنی کے قتل ہونے کی خبر سن کر
09:35حضرت صالح علیہ السلام بے حد پریشان ہوئے
09:38اور زاروں گتار رونے لگے
09:40چنانچہ اس طرح اس اونٹنی کو قتل کرنے کے بعد
09:43اس بدبخت قوم نے حضرت صالح علیہ السلام کو قتل کرنے کا بھی ارادہ کر لیا
09:48جس طرح کہ اللہ تبارک وطالعہ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے
09:51آخر کار انہوں نے اونٹنی کو قتل کر دیا
09:54اور اپنے پروردگار کے حکم سے سرکشی کی
09:57اور کہنے لگے کہ جس چیز سے تم ہم کو ڈراتے ہو
09:59اگر تم اللہ تبارک وطالعہ کے سچے پیغمبر ہو
10:02تو اس عذاب کو ہم پر لے آؤ
10:04اس طرح جب اس قوم نے اللہ تبارک وطالعہ کی بھیجی ہوئی
10:07اس اونٹنی کو قتل کر دیا
10:09اور اپنی نافرمانی میں حد سے زیادہ بڑھ گئے
10:12اور خود ہی اللہ تبارک وطالعہ کے عذاب کو طلب کر لیا
10:15تو حضرت صالح علیہ السلام قوم سمود سے کہنے لگے
10:19کہ اب اللہ تبارک وطالعہ کے دردناک عذاب سے
10:22تم لوگوں کو کوئی نہیں بچا سکتا
10:24چنانچہ حضرت صالح علیہ السلام کی یہ بات سن کر
10:27اس قوم کے نو بدبخت لوگوں نے یہ ارادہ کیا
10:30کہ اب حضرت صالح علیہ السلام کو یقیناً قتل کر دیا جائے
10:34چنانچہ یہ نو افراد ایک پہاڑ کے پیچھے چھپ کر
10:37حضرت صالح علیہ السلام کا انتظار کرنے لگے
10:40کہ کب حضرت صالح علیہ السلام یہاں سے گزریں
10:43اور معاذ اللہ ہم ان کو قتل کر دیں
10:45لیکن اللہ تبارک وطالعہ کی حکمت ایسی ہوئی
10:48کہ اللہ تبارک وطالعہ نے اسی رات
10:50ان نو افراد پر پتھروں کی بارش برسا دی
10:53جس کی وجہ سے وہ نو کے نو افراد ہلاک ہو گئے
10:57اور صبح پوری قوم کے لوگوں نے
10:59ان نو افراد کی لاشوں کو دیکھا
11:02اس طرح اللہ تبارک وطالعہ کے دردناک عذاب
11:05اور ان نو افراد کی لاشوں کو دیکھنے کے باوجود بھی
11:08قوم سمود اپنی سرکشی سے باز نہ آئی
11:11اور اسی طرح بت پرستی کے اندر مبتلا رہی
11:14اور اللہ تبارک وطالعہ کی نافرمانیوں میں
11:16مزید حد سے بڑھنے لگے
11:18اس طرح جب حضرت صالح علیہ السلام کی قوم قابل ہدایت نہ رہی
11:22تو اس وقت حضرت صالح علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا
11:26کہ تمہارے پاس صرف تین دن باقی بچے ہیں
11:29جتنی چاہے عیش و عشرت کر لو
11:31اور شراب و شباب میں گزار لو
11:33تین دن کے بعد اللہ تبارک وطالعہ کا دردناک عذاب تمہارا منتظر ہے
11:38جس طرح کہ اللہ تبارک وطالعہ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے
11:42کہ جب انہوں نے اس اونٹنی کو قتل کر دیا
11:45تو حضرت صالح علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا
11:48کہ تین دن اپنے گروں میں فائدہ اٹھا لو
11:50اور یہ وعدہ جھوٹا نہیں
11:52اس طرح جب حضرت صالح علیہ السلام نے اپنی قوم کو اللہ تبارک وطالعہ کے دردناک عذاب کی وعد سنائی
11:58تو اس قوم کے بے شرم لوگوں نے حضرت صالح علیہ السلام کا مزاگ اڑانا شروع کر دیا
12:03اور اس قوم کے بے شرم لوگ حضرت صالح علیہ السلام سے یہ کہنے لگے
12:08کہ آپ ہی بتا دیں
12:09کہ ہم یہ تین دن شراب میں گزاریں
12:11یا شباب میں گزاریں
12:13تو حضرت صالح علیہ السلام فرمانے لگیں
12:16کہ پہلے دن تمہارے چیروں کا رنگ زرد ہو جائے گا
12:22اور تیسرے دن تمہارے چیرے سیاہ ہو جائیں گے
12:25اور چوتھے دن اللہ تبارک وطالعہ کا دردناک عذاب تم پر مسلط ہو جائے گا
12:30چنانچہ حضرت صالح علیہ السلام کی قوم پر اس بات کا کوئی اثر نہ ہوا
12:34وہ اسی طرح اپنی نافرمانی میں مبتلا رہے
12:37اور اللہ تبارک وطالعہ کی نافرمانیاں کرتے رہے
12:40اور پھر حضرت صالح علیہ السلام کی حکم کے مطابق
12:43تیسرے دن ایسا ہی ہوا
12:45جب ان کے چیرے کالے ہو گئے
12:47تو اپنے کالے چیرے دے کر وہ قوم ڈرنے لگیں
12:50اور ایک دوسرے سے کہنے لگیں
12:52کہ نہ جانے کون سا دردناک عذاب اب ہم پر نازل ہوگا
12:55اور نہ جانے کس طرح کے عذاب کے اندر ہم کو مبتلا کیا جائے گا
12:59چوتھے دن ایک زوردار اور خوفناک چیخ آسمانوں سے نکلی
13:03جس چیخ کی وجہ سے
13:05تمام قوم سموت کے لوگوں کے کانوں کے پردے پھٹ گئے ہیں
13:08اور ان کے دل جیسے باہر آنے لگے ہیں
13:11اور روحیں جسموں کو چھوڑنے لگیں
13:13اور چاند ہی لمحوں میں
13:15وہ لوگ جہاں جہاں پر موجود تھے
13:17وہیں اپنی اپنی جگہ پر اوندے موں گر گئے
13:20اور تڑپ تڑپ کر سب ہلاک ہو گئے
13:23پھر اس کے بعد اللہ تبارک وطالعہ نے ایک ایسا دردناک زلزلہ بھیجا
13:27جس زلزلے کی وجہ سے
13:29انہی کی گھروں کو انہی پر گرا دیا گیا
13:32جس طرح کہ اللہ تبارک وطالعہ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے
13:36اور جب ہمارا حکم آ گیا
13:38تو ہم نے حضرت صالح علیہ السلام کو
13:40اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے تھے
13:43ان کو اپنی مہربانی سے بچا لیا
13:45اور اس دن کی رسوائی سے محفوظ رکھا
13:47بے شک تمہارا پروردگار بہت طاقتور ہے
13:50اور زبردست ہے
13:52پیارے دوستو اس طرح اللہ تبارک وطالعہ نے
13:54قوم عاد کی تباہی اور بربادی کے بعد
13:57ان کی نسل میں سے قوم سمود کو ہلاک کیا
14:00اور اس نافرمان قوم پر اپنا دردناک عذاب نازل فرمایا
14:04اور اس قوم کے لوگوں کو صفحہ حسنی سے مٹا دیا
14:07اور اللہ تبارک وطالعہ نے اس قوم کے گھروں کے نشانات کو آج بھی باقی رکھا ہے
14:12تاکہ لوگ عبرت حاصل کریں
14:14اور اللہ تبارک وطالعہ کی نافرمانیوں سے باز آ جائیں
14:17اس قوم کے گھر آج بھی لوگوں کے لئے عبرت کا نشان بنے ہوئے ہیں
14:21اللہ تبارک وطالعہ سے دعا ہے
14:23کہ اللہ تبارک وطالعہ
14:25اپنے حضور آجزی اور انکساری کے ساتھ
14:28زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے
14:30اور ان تمام گناہوں سے ہمیں بچائے
14:32جن گناہوں کے اندر مبتلا ہو کر
14:34پہلی قومیں ہلاک ہوئیں
Comments