Skip to playerSkip to main content
  • 13 hours ago
Transcript
00:00Oh
00:30حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کے بعد
00:32ایک اور قوم پیدا ہوئی
00:33قوم عاد
00:35یہ لوگ
00:38یمن اور رومان کے درمیان
00:40ایک علاقہ حقاف میں رہتے تھے
00:42ان کے شہر کا نام تھا
00:44ارام
00:44جس کو ذات الاماد بھی کہتے ہیں
00:46یعنی بہت بڑے ستونوں والا شہر
00:48جو آسمان سے باتیں کرتا تھا
00:50ان کے بدن پہاڑوں کی طرح
00:54مضبوط تھے
00:54قد اتنا لمبا کے بادلوں کو چھولے
00:57اور ان کا غرور
01:00زمین اور آسمان کو چیر دیتا تھا
01:03وہ کہتے ہم ہی ساری دنیا کے
01:05وارث ہیں اور ہمیشہ رہیں گے
01:07احقاف کے سہرا میں
01:09ان کے شہری علاقے
01:11دور دور تک پھیلے ہوئے تھے
01:14ان کے گھوڑوں کے پاؤں سے
01:17زمین گونج اٹھتی تھی
01:19رات کو ان کے چراغوں کی روشنی
01:23دور تک چمکتی
01:24ایسا لگتا تھا جیسے ان کا شہر
01:26زمین پر کوئی روشن ستارہ ہو
01:28وہ اپنی محفلوں اور بیٹھکوں میں
01:32اکثر ایک ہی بات کہتے تھے
01:34ان کے بچے بھی چھوٹی عمر میں ہی
01:42بڑے بڑے پتھر اٹھا کر
01:44اپنی شکتی دکھاتے تھے
01:45اور ان کے والدین یہ بات
01:47بڑے فخر سے کہتے ہیں
01:48ان کے نوجوان وادی کے درمیان
02:05کھڑے ہو کر
02:06اپنے دونوں بازووں کو پھیلاتے
02:08اور خود سے کہتے
02:10دیکھو
02:12ہوا ہمارے جسم کی اداعت کرتی ہے
02:16بزرگ لوگ
02:18اپنی محفل میں
02:19فخر سے کہتے تھے
02:22ہمارے باپ دادا
02:24ہوا کا روخ بدل دیتے تھے
02:27تو ہمیں کون روک سکتا ہے
02:30وہ لوگ
02:30جب توفان کو دور سے آتا دیکھتے
02:33تو ہس کر کہتے
02:35ہوا ہمارے ساتھ ہے
02:37یہ ہم پر نہیں
02:41ہمارے دشمنوں پر پڑے گی
02:43لیکن انہیں کیا معلوم تھا
02:46کہ آنے والی ہوا
02:47ان کی سب سے بڑی دشمن بن کر آ رہی ہے
02:50قومِ آدھ کے لوگ
02:53صرف لمبے ہی نہیں تھے
02:55بلکہ ان کی جسمانی بناوٹ
02:57عام آدمی سے کئی گناہ بڑی تھی
02:59دریا کے کنارے
03:01ان کے قدموں کے نشان
03:03آج بھی پہاڑوں کے درمیان
03:05موجود ہیں
03:05جنہیں دیکھ کر
03:07لوگ حیران رہ جاتے ہیں
03:09ان کے گھروں کے دروازے
03:11اتنے اونچے ہوا کرتے تھے
03:12کہ ایک دراز قد اونٹ
03:14اور اس پر سوار آدمی
03:15آسانی سے سیدھا اندر جا سکتے تھے
03:17اور ان کے برطن پٹھروں کے بنے
03:21اتنے بڑے
03:22کہ ایک پلیٹ میں پورا خاندان
03:25کھانا کھالے
03:25وقت گزرتا گیا
03:28اور ان کا غرور و تکبر
03:30اور بڑھتا گیا
03:32پھر اللہ تعالیٰ نے
03:35اپنا نبی بھیجا
03:36حضرت حود علیہ السلام
03:40جو کہنے لگے
03:41صرف اللہ کی عبادت کرو
03:43جس کے سوا
03:45اور کوئی معبود نہیں
03:47کیا تم یہ چاہتے ہو
03:50کہ ہم اپنے باپ دادا کا دین چھوڑ دیں
03:52ہم طاقتور ہیں
03:54اور ہمیں کوئی چھو بھی نہیں سکتا
03:56میں تمہیں اس عذاب سے ڈرا رہا ہوں
03:58جو اتنا بیانک ہوگا
04:01کہ تم سوچ بھی نہیں سکتے
04:03حضرت حود علیہ السلام
04:09روز جا کر بازاروں میں
04:11ان کی محفلوں میں
04:13ان کے گھروں میں جا کر
04:14آخری دعوت دیتے ہیں
04:16ان کے سردار
04:18تنز اور مزاق میں
04:20ہس کر کہتے ہیں
04:22حود
04:23اگر تیری بات میں سچائی ہوتی
04:26تو ہمارے عظیم محل
04:28کبکہ گر چکے ہوتے
04:29کبھی بچے ان کو تنز و مزاہ کرتے
04:32تو کبھی لوگ ان کو دیکھ کر راستہ بدل لیتے
04:34کہ کہیں حضرت حود کو دیکھ کر
04:36اللہ کا خوف پیدا نہ ہو جائے
04:38ایک دن حضرت حود علیہ السلام
04:40ان کی اسمبلی میں گئے
04:41جہاں ان کے بڑے سردار
04:43سونے کے تختوں پر بیٹھے تھے
04:44حود علیہ السلام نے فرمایا
04:46اللہ کے احکامات کی اتاعت کرو
04:48تمہاری یہ طاقت اس کے سامنے کچھ بھی نہیں
04:51اے لوگو اللہ کے خوف سے ڈر جاؤ
04:54حود یہ جھوٹے دعاوے کرنا بند کر
04:56اگر عذاب آتا بھی ہے
04:58تو ہم اس کو اپنی طاقت سے روک لیں گے
05:00عذاب آنے سے کچھ دن پہلے
05:05آد کی وادی میں
05:07عجیب منظر ہوا
05:09رات کو آسمان میں بھیانک گونج سنائی دی
05:13نہ بادل گرجہ
05:14نہ بجلی چمکی
05:15لیکن وادی میں ایسا محسوس ہوا
05:18جیسے دور سے کوئی پکار رہا
05:20یہ تو پہاڑوں کی آواز ہے
05:23لیکن پہلے کبھی
05:25اتنی خوفناک آواز نہیں سنی
05:27حضرت حود علیہ السلام
05:31پریشان ہوئے
05:33اور کہنے لگے
05:35یہ رحمت کی پوکار نہیں
05:38بلکہ عذاب آنے سے پہلے کی
05:41تنبیہ ہے
05:42دوسری رات زمین
05:44ہلکی سی تھر تھر آئی
05:45لیکن اتنی کم کہ صرف جانور
05:47بے چین ہوئے
05:48انسان ہس پڑے
05:50اور کہنے لگے
05:51دیکھو
05:54زمین بھی ہمارے
05:56ڈر سے کانپ رہی ہے
05:58لیکن انہیں نہیں معلوم تھا
06:01کہ یہ زمین کی
06:03آخری تنبیہ تھی
06:05پھر آیا
06:07اللہ تعالیٰ کا فیصلہ
06:09سب سے پہلے ان پر قہت آیا
06:12تین سال تک بارش کا
06:14ایک قطرہ بھی زمین پر نہ گرا
06:16نبیاں سوک گئیں
06:18باغ خوشک ہو گئے
06:20زمین تانبے جیسی سخ اور گرم ہو گئی
06:23لوگ آسمان کی طرف
06:26حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے رہے
06:28کہ کب بارش آئے گی
06:30لیکن آسمان سے
06:32ایک ہی جواب آتا
06:33صرف خاموشی
06:35پہلے سال انہوں نے کہا
06:38یہ تو معمولی سا مسئلہ ہے
06:40ہم
06:41طاقتور لوگ ہیں
06:43دوسرے سال بھی جب بارش نہ ہوئی
06:49تو پیاس نے ان کی زبانیں سکھا دی
06:51جانور بھی پیاس کی وجہ سے گرنے لگ
06:56تیسرے سال آدھ کی وادی سے وہ آواز
07:00وہ فخر کا
07:01وہ خود کی طاقت کا غرور
07:03سب ختم ہو چکا تھا
07:05یہ وہ لمحہ ہے
07:06جب طاقت سر جھکا دیتی ہے
07:09مگر توبہ
07:11ابھی بھی ممکن ہے
07:13اب عذاب کا وقت قریب ہے
07:16اور وہ
07:18ٹلنے والا نہیں
07:19پھر ایک دن آسمان میں
07:23تین بادل نظر آئے
07:25ایک لال
07:26ایک سفید
07:27اور ایک سیاہ
07:29آسمان سے ایک فرشتہ پکارا
07:31اے قوم عاد
07:33ان میں سے ایک بادل چنو
07:37کالا بادل
07:38اس میں پانی ہے
07:42رحمت ہے
07:44مگر ان کو کیا معلوم کہ
07:47اس کالے بادل میں رحمت نہیں
07:49اللہ کا قہر تھا
07:51آسمان سیاہ ہو گیا
07:53رحمت ہے
07:54پارش آئے گی
07:55تھنڈی ہوا چلنے لگی
07:57اور لوگ خوشی سے جھوم اٹھے
07:59اور ناچنے لگے
08:00اور کہنے لگے
08:01دیکھو بارش آ گئی
08:03لیکن وہ بارش کا پانی نہیں تھا
08:06عذاب کا توفان تھا
08:08پہلا جھونکہ آیا
08:10دھول اور پتھر ہوا میں اڑنے لگے
08:13آندھی کے ہر جھونکے میں
08:15ان کو لگتا
08:17کہ ہوایں ان کو تباہ کر رہی ہیں
08:20دوسرا جھونکہ آیا
08:22تو زمین سے درخت گر گئے
08:24ان کی ساری مورتیاں
08:29ان کا سارا غرور
08:30ان کے باغ
08:31اور ان کا سارا شہر
08:33سب کچھ ہوا میں بکھر رہا تھا
08:35رات کو مائیں
08:37اپنے بچوں کو آگوش میں چھپا لیتی
08:39مگر آندھی کا شور
08:41ان کی چیخوں سے زیادہ تیز ہوتا
08:43تیسرا جھونکہ آیا
08:45تو خود کو طاقتور کہنے والے لوگ
08:48دھول مٹی کی طرح ہوا میں اڑنے لگے
08:51ان کے بڑے بڑے محل جو آسمان سے باتیں کرتے تھے
08:54زمین بوس ہو گئے
08:55سات رات تک مسلسل یہ توفان اور تیز ہوایں چلتی رہیں
08:59ان کی شان و شوکت
09:00ان کا گمنڈ
09:02ان کے بڑے بڑے محل
09:03اور ان کی تمام زمین
09:05مٹی میں مل چکا تھا
09:07آٹھ دن بعد جب ہوا رکی تو ہر طرف سناٹا تھا
09:12اور مٹی میں ملیا میٹ ہوا ایک عظیم و شان شہر
09:16جو کبھی دنیا پر راج کرتا تھا
09:18سب لوگ مارے گئے
09:21سوائے ان چند لوگوں کے
09:22جنہوں نے حضرت حود علیہ السلام کی پیروی کی
09:25اور اللہ کی وہدانیت کا اقرار کیا
09:28تکبر کا انجام ہمیشہ تباہی ہوتا ہے
09:32اور یہ اللہ تعالی کی ناراضگی کا سبب بنتا ہے
09:37آج بھی ان کا شہر عرم احقاف کی ریتنے نیچے
09:41اپنی داستان چھپائے موجود ہے
09:43جو اس بات کا گواہ ہے
09:45کہ طاقت اور تکبر سے نہیں
09:48بلکہ اللہ کی اطاعت میں ہی انسان کی کامیابی ہے
09:52اگر آپ کو یہ اسلامی سٹوری پسند آئی ہو
09:55تو چینل کو سبسکرائب کر لو
09:56ویڈیو کو لائک کرو
09:57اور کمنٹ میں بتاؤ اگلی سٹوری
09:59آپ کس نبی یا امت پر دیکھنا چاہتا ہے
10:01یہ صرف ایک کہانی نہیں تھی
10:02ایک حقیقت تھی جو ہمیشہ یہ یاد دلاتی ہے
10:06کہ سب سے بڑی طاقت صرف اللہ کی ہی ہے
Comments

Recommended