00:00평اللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:04اللہ تعالی کے نام سے شروع جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے
00:10ایک ایسی قوم جس پر اللہ تعالی نے اپنا دردناک عذاب نازل فرمایا
00:15اور اس قوم کے تمام لوگوں کو بندر بنا دیا
00:19اس قوم کے لوگ کون سا ایسا گناہ کرتے تھے
00:25جس کی وجہ سے اللہ تعالی نے ان پر دردناک عذاب نازل فرمایا
00:29اور یہ لوگ بندر بننے کے بعد کتنی دیر زندہ رہے
00:33اور پھر ان کو کس قدر دردناک موت آئی
00:36جب یہ لوگ بندر بن گئے
00:39تو یہ لوگ اپنے عزیزوں اکارب کو دیکھ کر
00:41ان سے کیا کہتے تھے
00:42اور کہ آج کے دور میں پائے جانے والے بندر
00:45اسی قوم کی نسل میں سے ہیں
00:47ان تمام تر سوالات کے جوابات قرآن و حدیث کی روشنی میں
00:51آج کی اس ویڈیو میں ہم آپ کو بتائیں گے
00:53لہذا آپ سے گزارش ہے کہ ہماری اس ویڈیو کو اینڈ تک ضرور دیکھئے گا
00:57انسانوں کے بندر بننے کی ابتداء حضرت دعود علیہ السلام کے دور سے ہوئی
01:03اس واقعے کا پس منظر کچھ یوں ہے
01:06حضرت دعود علیہ السلام اور ان کی قوم
01:09سمندر کے کنارے ایلہ نامی گوم میں رہتے تھے
01:12اور ان کی تعداد ستر ہزار کے قریب تھی
01:15یہ قوم بڑی ہی خوشحال تھی
01:17اور اللہ تبارک و تعالیٰ کی فرما بردار قوم تھی
01:21اس قوم کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے بے شمار نعمتوں سے نوازہ تھا
01:25ہر طرف سرسبز و شاداب باغات
01:27اور ہر طرف ہریالی ہی ہریالی تھی
01:30اور اللہ تبارک و تعالیٰ کی بے پناہ کرم نوازی تھی
01:33یہ لوگ اپنی اس زندگی میں بہت ہی خوش تھے
01:37حضرت دعود علیہ السلام کی قوم چونکہ سمندر کے کنارے رہتی تھی
01:41تو اللہ تبارک و تعالیٰ کا ان پر یہ خاص کرم تھا
01:45کہ سمندر کے اس کنارے پر بے پناہ مچھلیاں آتی تھی
01:48جن کا یہ لوگ کاروبار کرتے تھے
01:51اور بہت ہی خوشحالی والی زندگی گزارتے تھے
01:54جب یہ قوم اللہ تبارک و تعالیٰ کی نعمتوں کی وجہ سے خوشحال ہو گئی
01:58تو اللہ تبارک و تعالیٰ کی نافرمانی پر اتر آئی
02:01اور ترہ ترہ کے گناہوں کے اندر مبتلا ہو گئی
02:04اور پھر ایک دن اللہ تبارک و تعالیٰ نے
02:08اس قوم کا امتحان لینے کا ارادہ کیا
02:11اور حضرت دعود علیہ السلام کو وحی بیجی
02:13کہ اپنی قوم سے کہہ دیں
02:15کہ وہ سنیچر کے دن یعنی ہفتے والے دن مچھلی کا شکار کرنا بند کر دیں
02:20اس طرح اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت دعود علیہ السلام کی قوم پر
02:26ہفتے والے دن مچھلیوں کا شکار حرام فرما دیا
02:29اور پھر یہاں سے اس قوم کی بربادی شروع ہو گئی
02:32حضرت دعود علیہ السلام نے اپنی قوم کو بتایا
02:36کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہفتے والے دن
02:39مچھلیوں کے شکار کو حرام قرار دے دیا ہے
02:42تو وہ لوگ بہت ہی زیادہ پریشان ہو گئے
02:44اور ساری قوم سر جوڑ کر بیٹھ گئی
02:47کیونکہ ہفتے کا دن ہی وہ دن تھا
02:49جس میں مچھلیاں وافر مقدار میں آتی تھی
02:51اور خود با خود کنارے پر آ جاتی تھی
02:54اور باقی دن ایسے تھے کہ بہت کم
02:56اور نہ ہونے کے برابر مچھلیاں پکڑی جاتی تھی
02:59اس قوم کا گزر بسر چونکہ مچھلیوں کے شکار پر تھا
03:04اس وجہ سے
03:05اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ حکم سن کر
03:08یہ قوم پریشان ہو گئی
03:09یہ نہیں جانتے تھے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے
03:13یہ ایک اعزمائش ہے
03:14پھر ایک دن شیطان نے ان کو وصفصہ ڈالا
03:17کہ سمندر سے نالیاں نکال کر
03:19خوشکی میں بڑے بڑے حوز بنا لیے جائیں
03:21جب ہفتے والے دن مچھلیاں آئیں گی
03:23تو وہ نالیوں سے ہو کر
03:25ان بڑے بڑے حوزوں میں آ جائیں گی
03:27اور اس طرح پھر ان نالیوں کا موں بند کر دیا جائیں
03:30اور پھر اگلے دن
03:32یعنی اتوار والے دن ان کو پکڑ لیا جائیں
03:34شیطان نے اس قوم کے لوگوں کو ورگل آیا
03:37کہ اس طرح ہم ہفتے والے دن
03:39شکار سے بھی بچ جائیں گے
03:40اور مچھلیاں بھی ہاتھ آ جائیں گی
03:42اور وہ بھی پکڑی جائیں گی
03:44بہت سے لوگوں کو یہ ہلا بازی اچھی لگی
03:46اور انہوں نے ایسا کرنا شروع کر دیا
03:49اور سمندر سے چھوٹی چھوٹی نالیاں نکال کر
03:52بڑے بڑے حوزوں میں ڈال دیں
03:53جس کے ذریعے وافر مقدار میں
03:55مچھلیاں ان حوزوں میں داخل ہو جاتی
03:57اس قوم کے بدبخت لوگوں کو
03:59شیطان کا یہ ہلا بہت پسند آیا
04:01لیکن اس قوم نے یہ نہ سوچا
04:03کہ جب مچھلیاں سمندر سے
04:05حوز میں آ کر قید ہو گئی
04:07تو پھر مچھلیوں کا شکار ہی ہو گیا
04:09اس لیے یہ شکار بھی ہفتے والے دن ہی
04:11قرار پایا جو اللہ تبارک وطالعہ
04:14نے حرام قرار دیا تھا
04:15اس موقع پر یہودیوں کے
04:19تین گروہ ہو گئے کچھ لوگ
04:21ایسے تھے جو شکار کے اس شیطانی ہلے
04:23سے منع کرتے تھے
04:24اور ناراض و بیزار ہو کر شکار سے باز رہے
04:27اور کچھ لوگ اس قوم کو
04:29دل سے برا جان کر خاموش رہے
04:32لیکن انہوں نے شکار نہ کیا
04:34اور دوسروں کو منع بھی نہ کرتے تھے
04:37بلکہ یہ لوگ منع کرنے والوں سے یہ کہتے تھے
04:40کہ تم لوگ ایسی قوم کو نصیت کرتے ہو
04:42جنہیں اللہ تبارک وطالعہ
04:44ان قریب ہلاک کرنے والا ہے
04:45اور ان پر اپنا دردناک عذاب
04:48نازل فرمانے والا ہے
04:49اور اس قوم کے کچھ لوگ ایسے تھے
04:52جو سرکش اور نافرمان
04:54لوگ تھے جنہوں نے اللہ تبارک وطالعہ
04:56کے حکم کی اعلانی مخالفت کی
04:58اور شیطان کے ہلے بازی
05:00کو مان کر ہفتے والے دن شکار کرنے لگے
05:02یہ لوگ اللہ تبارک وطالعہ
05:04کے حکم کی کھلا مخلہ
05:06مخالفت کرتے اور ہفتے والے دن
05:08مچھلیوں کا شکار کر کے
05:09ان کو کھایا کرتے اور بیچا کرتے
05:12پیارے دوستو حضرت دعود
05:14علیہ السلام کی قوم کے بارہ سو ایسے
05:16نافرمان افراد تھے جو
05:18منع کرنے کے باوجود بھی ہفتے
05:20کو ان نالیوں کے ذریعے شکار کرتے
05:22رہے حضرت دعود علیہ السلام
05:24نے ان بارہ سو نافرمانوں کو
05:26اللہ تبارک وطالعہ کے عذاب سے
05:28ڈرائیا کہ وہ اللہ تبارک وطالعہ
05:30کے اس نافرمانے سے باز آ جائیں
05:31لیکن وہ لوگ باز نہ آئے
05:33اور کھل عام شکار کرنے لگے
05:35چنانچہ وہ لوگ جو اس بات کو
05:38برا جانتے تھے ان لوگوں نے
05:44اس کی ایک طرف وہ بارہ سو نافرمان
05:46رہتے تھے اور دوسری طرف وہ
05:48لوگ تھے جو شکار سے باز رہے
05:50حضرت دعود علیہ السلام
05:52نے اپنی اس قوم کے نافرمانوں کو بارہ
05:54سمجھایا لیکن یہ لوگ
05:56اپنی نافرمانی سے باز نہ آئے
05:57اور اسی طرح اللہ تبارک وطالعہ
06:00کی نافرمانی کرتے رہے اور
06:02شکار کرتے رہے پھر ایک دن
06:04حضرت دعود علیہ السلام نے غزب
06:06ناک ہو کر شکار کرنے والوں
06:08پر لانت فرما دی اس کا
06:10اثر یہ ہوا کہ ایک دن خطا کاروں
06:12میں سے کوئی بھی اپنے گھر سے
06:14باہر نہ نکلا یہ منظر دے کر
06:16کچھ لوگ ان کی دیواروں پر چڑ گئے
06:18تاکہ معلوم ہو سکے کہ وہ
06:20لوگ کس حال میں ہیں جب ان
06:22لوگوں نے ان نافرمانوں کو دیکھا
06:24تو وہ سب کے سب بندر کی صورت
06:26میں مسخ ہو چکے تھے
06:27اللہ تبارک وطالعہ نے ان کی
06:30نافرمانی کی وجہ سے ان پر
06:32اپنا دردناک عذاب نازل فرمایا
06:34اور ان کو انسانوں سے بندر بنا دیا
06:36جب لوگ ان مجرموں کا دروازہ
06:38کھول کر ان کے گھر میں
06:40داخل ہوئے تو وہ بندر اپنے رشتے داروں
06:42کو پہچانتے تھے اور ان کے پاس
06:44آ کر ان کے کپڑوں کو سونگتے تھے
06:46اور زاروں گتار روتے تھے
06:48لیکن وہ کچھ بول نہ سکتے تھے
06:50اللہ تبارک وطالعہ کے ان
06:52نافرمان بندر بن جانے والے لوگوں
06:54کی تعداد بارہ ہزار تھی
06:55ان بارہ ہزار لوگوں نے
06:58اللہ تبارک وطالعہ کی نافرمانی کی
07:00اور اللہ تبارک وطالعہ نے
07:02ان کو بندر بنا دیا
07:03جس طرح کہ اللہ تبارک وطالعہ
07:05سورہ بقرہ میں ارشاد فرماتا ہے
07:07اور بے شک ضرور تمہیں معلوم ہے
07:10تمہیں کہ وہ جنہوں نے
07:12ہفتے میں سرکشی کی
07:13تو ہم نے ان سے فرمایا کہ
07:15ہو جاؤ بندر دودھکارے ہوئے
07:17اس طرح حضرت دعود علیہ السلام
07:20کی قوم کے بارہ ہزار نافرمان
07:22بندر بن گئے
07:22یہ لوگ تین دن تک زندہ رہے
07:26اور اس طوران یہ کچھ نہ کھا سکتے تھے
07:28اور نہ ہی پی سکتے تھے
07:30بلکہ یوں ہی بھوکے پیاسے
07:31سب کے سب ہلاک ہو گئے
07:33اور تین دن کے اندر
07:34سب کے سب مارے گئے
07:36اور وہ لوگ جو ان نافرمانوں کو
07:38اللہ تبارک وطالعہ کی
07:39اس نافرمانی سے منع کرتے تھے
07:41اللہ تبارک وطالعہ نے
07:42ان کو اس عذاب سے سلامت رکھا
07:44اور وہ لوگ جو اس شکار کو
07:46برا جان کر خاموش رہتے تھے
07:48اللہ تبارک وطالعہ نے ان کو بھی
07:50اس عذاب سے سلامت رکھا
07:52پیارے دوستو اب بات کرتے ہیں
07:55کہ آج کے دور کے بندروں میں سے
07:57کیا کوئی بندر ان کی نسل میں سے بھی موجود ہے
08:00یا آج کے دور میں پائے جانے والے بندر
08:03ان ہی بندروں کی نسل میں سے ہیں
08:04اس کے متعلق روایات میں آتا ہے
08:07کہ حضرت عبداللہ بن مسعود
08:08رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے
08:10کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
08:13سے کس نے سوال کیا
08:14کہ آج کے بندر کیا
08:16حضرت دعود علیہ السلام کی قوم سے ہیں
08:18تو حضور نبی کریم روف الرحیم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
08:23نے ارشاد فرمایا
08:24کہ اللہ تعالیٰ جس قوم پر عذاب بیجتا ہے
08:27یا ان کی شکلوں کو مسک کرتا ہے
08:30تو یہ عذاب انہی پر ہوتا ہے
08:32جن پر وہ عذاب نازل ہوا تھا
08:34اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو حلا کر دیتا ہے
08:38اور ان کی آگے نسل نہیں بڑھتی
08:40اس لئے یہ بات غلط ہے
08:42کہ کچھ لوگ یہ سوچتے ہیں
08:44کہ آج کے بندروں میں بھی حضرت دعود علیہ السلام کی قوم کے بندر بننے والوں کی نسل موجود ہے
08:50ایسا کچھ بھی نہیں ہے
08:51وہ لوگ صرف اور صرف تین دن زندہ رہے
08:54اور اس کے بعد سب کے سب حلاک ہو گئے
08:57اور اللہ تعالیٰ نے
08:58اس قوم کے نافرمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا
Comments