#bordertalks #iftikharfirdous #BondiBeachAttack #SydneyNews #NavedAkram #CrimeNews #Australia #india #pakafghanborder #terrorism #securityforces #afghanrefugees #terrorisminpakistan #nationalsecurity #religiouscommunity #tribaldistricts #arynews
👇🏼
https://www.youtube.com/playlist?list=PLS19FEYA85Dh4IOqcodsvMYNSrTaQkaRp
Follow the ARY News channel on WhatsApp: https://bit.ly/46e5HzY
Subscribe to our channel and press the bell icon for latest news updates: http://bit.ly/3e0SwKP
ARY News is a leading Pakistani news channel that promises to bring you factual and timely international stories and stories about Pakistan, sports, entertainment, and business, amid others.
👇🏼
https://www.youtube.com/playlist?list=PLS19FEYA85Dh4IOqcodsvMYNSrTaQkaRp
Follow the ARY News channel on WhatsApp: https://bit.ly/46e5HzY
Subscribe to our channel and press the bell icon for latest news updates: http://bit.ly/3e0SwKP
ARY News is a leading Pakistani news channel that promises to bring you factual and timely international stories and stories about Pakistan, sports, entertainment, and business, amid others.
Category
🗞
NewsTranscript
00:00. . . . .
00:30target
00:30and then the fake news
00:33was started
00:34and then the
00:36Pakistan
00:36with the
00:37Pakistan
00:38and the
00:39India
00:40accounts
00:41and the
00:43globally
00:43the
00:44Israeli state
00:46related
00:46accounts
00:47and the
00:48Pakistan
00:49with the
00:49attackers
00:50and the
00:50attackers
00:52but when
00:52the
00:53the
00:54the
00:54the
00:54the
00:54the
00:55the
00:56the
00:56the
00:57the
00:57the
00:57the
00:58the
00:59the
00:59And they were both in their own
01:02They were also in their own
01:05And the Philippines
01:06The government had the way
01:08But in the Philippines
01:10But in the first place
01:11They were visiting
01:13They were visiting
01:13And they were visiting
01:17Which they were
01:18Where they were
01:20These all are
01:22But in the first place
01:24The attacks of Pakistan
01:27Because they were
01:27One decision
01:28ڈو پہلو جو ہے وہ بہت کھلی جو ہے وہ نظر آتے ہیں ایک تو آئیڈیالوجیز
01:33کے کس طرح یہ پرفریٹ ہو رہی ہیں اور آگے جا کر جو ہے پوری دنیا
01:37کے لیے پروبلم جو ہے وہ بند رہی ہیں اور دوسرا جو بڑا پروبلم
01:41ہے وہ ہے پاکستان کے ساتھ منصوب کرنے کا ایک کوشش جو ہے وہ کی
01:44جا رہی ہے اور آبیسٹی وہ نیرٹیو بیلڈنگ ہو رہی ہے اندلاجہ سیناریو
01:48پاکستان کو جو ہے وہ بدنام کرنے کے لیے تو یہ جو دو ٹرینڈز ہیں
01:58سینئر پیلو ہیں عبدالباسد صاحب جو ایک جیو پولیٹیکل آنیلسٹ
02:03بھی ہیں اور ان چیزوں کو کافی غور سے جو ہے وہ دیکھتے ہیں بہت
02:06شکریہ باسد صاحب ٹائم جو ہے وہ دینے کے لیے ہے باسد صاحب سب سے
02:10پہلے تو جو ہے وہ آئیڈیالوجیز کے اوپر جاگر ہم بات جو ہے وہ
02:13کرے وہ کریں تو موٹیویشنز کیا ہیں اور دوسری بات یہ ہے کہ ایک
02:18سنٹیمنٹ جو ہے وہ نظر آتا ہے جس میں ہمیں انٹائی امریکنیزم تو
02:22تھا ہی تھا لیکن اب کوئی زیادہ ریڈیکلائز قسم کی جو سوچ ہے اس
02:26کا جو محور ہے وہ کافی مکس قسم کی آئیڈیالوجیز میں جو ہے وہ
02:30نظر آتا ہے آپ اس سارے انسیڈنٹ کو جو ہے وہ کیسے دیکھتے ہیں
02:33ٹیکیں اس سے ایک بات تو باضح ہو جاتی ہے کہ جس کو ہم آہ گلوبل آہ
02:41ملیٹنسی یا آہ ٹیررزم کہتے تھے آہ وہ ابھی بھی ایک تھریٹ ہے
02:47اور اس کے جو push and pull factors ہیں وہ کہیں نہ کہیں ابھی بھی
02:53لوگوں کو ریڈیکلائز کر رہے ہیں نہ صرف ریڈیکلائز کر رہے ہیں
02:57بلکہ پرتشدد واقعات کی طرف بھی ان کو آہ مائل کر دیتے ہیں آہ جیسے
03:03آپ نے اپنے اقتدائیے میں ذکر کیا کہ پہلے تین ڈیکیڈز آپ انیس سو
03:08نگے کی دہائی سے لے کے اور اس سے جو پچھلی دہائی کی انیس سو اسی کی
03:12اس میں چونکہ رہیہ نے افغانستان کے اندر ایک military intervention کی
03:17ہوئی تھی تو اس کے خلاف ایک استریت پسندی کا ایک پورا محاظ
03:21کھڑا ہوا تھا لیکن انیس سو نوے کی دہائی سے لے کے افغانستان کے
03:25ویڈ میں جو دو ادار اکیس میں ویڈرول ہے اگر ان تین پینتیس سال
03:30یا رفلی تین ڈیکیڈز کو آپ دیکھیں ان تین دہائیوں میں انٹی
03:35امریکہ نظم وہ ایک ریزر تھی جس کے گرد بہت سارے گروپ جو ہے یا
03:41انٹی ویسٹرن جو سنٹیمنٹ سے اس کے گرد کھڑے ہوئے لیکن جیسے ہی
03:45وہ ویڈرول ہوا ہے اور یہ جو واقعات ہوئے ہیں فلسطین اور اسرائیل
03:51تنازع کے جو نئی جنریشن ہے عسکریت پسندوں کی وہ اس کے گرد
03:56ریڈیکلائز ہو رہی ہے اور آپ ان واقعات پر بڑی گہری نظر رکھتے ہیں آپ
04:00کو پتا ہے کہ دائش ہو یا القاعدہ ہو انہوں نے اپنے لیریٹیمز کو اسی
04:05کے گرد ہی آہ اب جو ہے لوگوں کو ریکروٹ کرنے کے لیے لوگوں کو ریڈیکلائز
04:11کرنے کے لیے اور ان کو تشدد پر اوبارنے کے لیے وہ جو مسلم دنیا میں
04:15ایک غم و غصہ پایا جاتا ہے اسرائیل کی بربریت کا اس کے گرد ہی وہ لوگوں
04:20کو اب جو ہے اس غصے کو ایکسپلائٹ کر کے ریڈیکلائز کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور
04:26اس کا جو کنڈوئٹ ہے یا جو اس کا میڈیم ہے وہ سوشل میڈیا ہے یعنی
04:30یہ اون لین ریڈیکلائزیشن ہے تو جو میٹا نیریٹیوز پہلے انٹی
04:35امریکنزم کے تھے وہ میٹا نیریٹیوز اب جو ہے فلسطین اسرائیل تنازہ کی
04:41طرف شفٹ کر گیا ہے اور اس کے اندر جو بھی انڈیویجول گریوانسز ہوتی
04:47ہیں وہ اس کو چینلائز کر کے ایکسپلائٹ کر کے وہ لوگوں کو پھر
04:51ابارتے ہیں اور اب نت نئے طریقے بھی آگے جیسے کہ یہ جو لوگ ہے پہلے
04:55اگر لوگ عراق کا رخ کرتے تھے سیریا کا رخ کرتے تھے یا افغادستان کا
05:00رخ کرتے تھے پیرا میلٹری ٹریلنگ کے لیے تو اب یہ ایک ہم نے دیکھا ہے
05:07کہ ان یہ جو ہے فلپینز کی طرف گئے ہیں اور اگر جو کومیتوں کے بیکٹی
05:12راؤنڈز کی بات ہے ان کو دیکھیں تو پاکستان میں ہمیں ٹی ٹی پی کے جھنڈے کے
05:17نیچے بنگلہ دیشی لڑتے میں نظر آئے ہمیں نظر آیا کہ سنٹرل
05:21ایزیر جو ہے اسپیشلی تاجٹس وہ بہت زیادہ ڈائسپورا ریڈیکلائزیشن
05:26میں ان کی ہمیں بہت بڑی تعدار نظر آتی ہے پھر ہم نے ریسٹلی دیکھا
05:31ایک آفغان جو تھا وہ امریکہ میں اس طرح جی جی باسط یہ تو ایک ہسٹری
05:35جو ہے وہ نظر آتی ہے لیکن آپ نے آن لائن ریڈیکلائزیشن کے حوالے سے
05:39جو ہے وہ ذکر کیا انٹرنیٹ کو جب آیا تھا تو اس کو ایک یونیورسل
05:44ایکویلائزر کے تناظر میں دیکھا گیا کہ سارے لوگ جو ہے اسے یقصطرفہ
05:49جو ہے وہ استفادہ جو ہے وہ حاصل کر چکے ہیں آہ حاصل کر سکتے ہیں
05:53لیکن جو سیچویشن اس ٹائم پر آن لائن ریڈیکلائزیشن کی جو ہے وہ
05:57نظر آتی ہے اور پاکستان کے اندر بھی یہی کنسرنز جو ہے وہ بار بار
06:00آ رہے ہیں اور بلکہ آلیہ دنوں کے اندر پریس کانفرنس بھی کی
06:09جہاں سے یہ ڈسیمنیٹ ہو رہا ہے پروپیگانڈا وہ بند نہیں ہو رہے
06:13تو یہ ہوگا کیا آخر میں کیونکہ اب تو بات جو ہے خطے کو سٹرگمٹائز
06:19کرنے کے لیے یا کوئی ایک جگہ سے انٹیٹی جو ہے کام کر رہی ہے تو وہ
06:24اسی جیوگرافیکل سکوپ تک لیمیٹڈ بھی نہیں ہے اس کی گلوبل آؤٹری جو
06:27ہے وہ ہو گئی ہے ہاں وہ تو بنکل دیکھیں نا اب جیسے ہی ایک ذرا سی
06:32بھی اوپننگ نظر آتی ہے تو یہ انفرمیشن وارفیر اب اتنا ہی
06:37امپورٹنٹ ہے جتنی کائنیٹک وارفیر ہے یا پروپیگنڈا وارفیر اسے
06:41کہہ لیں تو جیسے ہی کوئی ذرا سی بھی اوپننگ نظر آتی ہے یہ جتنے
06:45ٹرولز ٹرول آرمیز ہیں یہ جو پیڈ گروپس ہیں یہ جو سیبوٹیج
06:50مس انفرمیشن ڈس انفرمیشن میں سپیشلائز کرنے والے جو ہے وہ
06:54ملیشیس ایکٹرز ہیں وہ ہندوستان سے ہوں وہ افغانستان میں بیٹھے
07:00ہو وہ ان کا ازرائیل سے تعلق ہو ان کا اپس میں بھی جیٹیوڈ نظر آتا
07:04ہے تو جیسے ہی ایک اوپننگ آتی ہے جیسے یہاں پہ تھوڑا سا ایک
07:08شائبہ لگا کہ اس میں کیسی طریقے سے پاکستان ملوث ہو سکتا ہے تو
07:13ایک پورا کنسنٹریٹڈ ویل پلینڈ میس انفرمیشن ڈس انفرمیشن
07:18کمپین کو لانچ کیا گیا سوشل میڈیا پہ جو پھر ہمیں مین سٹیم میڈیا
07:22پہ بھی نظر آیا تو اس میں سب سے امپورٹنٹ بار تو یہی ہے کہ جو
07:27کریڈیبل نیوز کے سورسز ہیں ان کی طرف بار بار توجہ دینی چاہیے اور
07:32اس طرح کے اب ہوا یہ کہ جب اس کا تعلق اینڈ پہ ہم نے دیکھا کہ وہ
07:36لوگوں بیک گراؤن میں دونوں جو لوگ تھے وہ ہندوستان کا بیک گراؤن
07:40ان کا ایک نکل آیا تو ان لوگوں نے اپنی ہی کریڈیبلیٹی کو انڈرمائن
07:45کر لیا لیکن یہ ایک فکر کا لمحہ ضرور ہے اور اس پہ ایک کوئی نہ
07:49کوئی جو ہے گلومل لیول پہ ریجنل لیول پہ کوئی نہ کوئی بات چیز ہونی
07:53چاہیے کہ اس طرح کے جو میس انفرمیشن اور ڈس انفرمیشن کمپین کے گروپ
07:58ہے یہ ریاستوں کو بہت بڑے تنازوں کے قریب بھی لا سکتے ہیں انٹرنل
08:03ڈی سٹیبلائزیشن بھی کر سکتے ہیں اور ریجنل ڈی سٹیبلائزیشن
08:06تو اس طرح کا جو غیر ذمہ دارانہ رویہ ہو especially ان گروپوں
08:11کا جو ریاستی ایکٹرز کے ساتھ involve ہیں وہ ان کی غیر ذمہ دارانہ
08:16رویہ کسی ایسی unintended consequences کی طرف conflicts کو بھیج سکتا ہے
08:22جس کی قیمت پر شاید سب کو ادا کرنی پڑ جائے ہم نے یہی وطیرہ
08:26دیکھا تھا جب پاکستان ہندوستان کا تنازہ کھڑا ہوا تھا کہ جی
08:30لاہور بھی فتح ہو گیا کراچی پہ بھی چڑ گئے اگر راولپنڈی بھی
08:34تباہ ہو گیا لیکن اینڈ پہ کیا ہوا اپنی credibility خراب کرنی
08:38اس بار بھی more or less وہی ہوا ہے کہ اس طرح سے تو میں لائل نہیں
08:42کر سکتے لیکن نہ صرف یہ کہ اپنی credibility بھی خراب کرنی بلکہ
08:47ان لوگوں کا کئی نہ کئی سے تعلق ہندوستان سے ہی نکل آئے
08:50ایک چھوٹے سی break کا ٹائم ہوا ہے fake news اور mis information اور
08:54dis information کی domain میں اس باشید کو آگے لے جاتے ہیں ہمارے
08:57ساتھ رہیں گے
09:27نہیں بلکہ اس سارے narratives کو اس طرح جو ہے وہ آگے وہ لے
09:30جایا گیا کہ unabashedly اس کو جو ہے وہ own کرنے کے لیے بھی جو
09:35ہے وہ تیار تھے لیکن اب جب چیزیں جو ہے وہ کھل کے جو ہے وہ سامنے
09:38آگئی ہیں تو it seems like a long lasting campaign جو incident to incident جو
09:43ہے social media کے اوپر جو ہے وہ چلائی جاتی ہیں اور پھر وہ
09:46mainstream media بھی اس کے اندر جو ہے وہ آ جاتا ہے میرا سوال آپ سے
09:50یہ ہے کہ یہ جو information اور dis information کی جو campaigns ہیں ایک تو ہمیں
09:56نظر آتا ہے کہ states اس کے اندر جو ہے وہ involved ہیں لیکن یہ پھر
10:00coincide کرتی ہیں non state actors کے ساتھ بھی کیونکہ وہ بھی اس کو جو
10:04ہے آگے بڑھانے میں کافی جو ہے وہ مدد جو ہے وہ کر رہے ہیں
10:07how do you see this you know do you think it's orchestrated it's by design کہ نہیں
10:13یہ جو ہے coincidental ہے
10:14لیکن ریاستیں ہوتی ہیں اور پھر ان کے اپنے ایکٹرز ہیں جو propaganda
10:21warfare information warfare سب میں misinformation disinformation campaign میں
10:26specialize کرتے ہیں اور پھر آگے سے ان کے زیار ریاستی جو ہے وہ proxy
10:30groups بھی موجود ہے جو اس کو پھر آگے amplify کرنے میں اور further expand
10:36کرنے میں وہ اپنا جو ہے ایک negative منفی کردار جو ہے وہ ادا کرتے ہیں
10:41تو یہ تو رہے گا جب تک social media ہے اور اس کی ایک decentralized nature ہے
10:46اور لوگ جب تک اس کے اندر اور خصوصی طرح پہ وہ لوگ جل کے اندر
10:51critical thinking digital literacy کا فقدان ہے اور ایسا کوئی بھی propaganda
10:56especially جب ایک crisis time میں جیسے کوئی زلزل آیا ہے یا کوئی
11:01سلاب آیا ہے یا کوئی conflict چل رہا ہے یا کوئی بہت بڑی tragedy ہوئی
11:04بھی ہے تو ایسے وقت میں جب لوگوں اپنے حواس قابو میں نہیں ہوتے
11:08غصے میں ہوتے ہیں یا بہت زیادہ خوشی کی حالت میں ہوتے ہیں تو ایسے
11:12مواقع کے اوپر جب کوئی misinformation disinformation کی campaign
11:17چلائی جائے افتخار تو ہوتا یہ ہے کہ ہماری tendency ہے
11:20کہ اس information کو ہم critically process کرنے کے بجائے اپنے اگر وہ
11:25ہمارے cognitive biases کے بہت زیادہ قریب ہے یا ہمارے نظریاتی
11:29رجانات سے مطابقت رکھتی ہے تو ہم اس کو absorb کر لیتے ہیں اور
11:34اسی چیز کا فائدہ یہ لوگ اٹھاتے ہیں algorithms کے ثروف
11:38تو یہ تو رہے گا اس میں میرا خال ہے ایک تو جیسے میں نے کہا
11:42dialogue کی serious dialogue کی ضرورت ہے کہ اس کے unintended consequences
11:46خدا نہ خواستہ بہت زیادہ خطرنات بھی ہو سکتے ہیں especially
11:50ایک crisis کی situation میں دوسرا یہ ہے کہ digital literacy اور critical
11:54thinking کو promote کرنے کی ضرورت ہے اور تیسرا جو آپ نے ذکر کر دیا
11:58کہ جتنے malicious factors ہیں ان کے اوپر ریاستوں کو بار بار بات کرنی
12:04چاہیے تاکہ لوگوں کا ایک تو انہیں پتہ ہو جائے اور دوسرا یہ جو
12:07social media companies ہیں ان پہ میرا خال ہے ان کے ساتھ ایک تو working
12:11relationship بنانے کی ضرورت ہے اور کئی نہ کئی ان پہ تھوڑا بوتا
12:14دوست باقی جو ممالک ہے ان کے ثروف pressure بھی ڈالنے کی ضرورت
12:18ہے کہ وہ اس طرح کے جتنے بھی trends ان کے platforms کے ثروف چلتے ہیں ان
12:23کو روکیں اچھا یہ تو آپ نے جو ہے وہ generic جو ہے وہ بات کی اور
12:28recommendations بھی اسی طرح ہی ہیں لیکن اگر ہم specifics میں جا کر جو ہے وہ
12:33دیکھیں کہ جب بھی کوئی trend جو ہے وہ چلتا ہے تو اس کے اندر پہلے جو
12:37ایک ناصر شامل ہوتے ہیں وہ تو obviously وہ ہیں جو اس trend کے setters
12:41ہیں جس میں proxies بھی ہوتی ہیں اس میں non-state actors بھی ہوتے ہیں اس میں
12:45state actors بھی ہوتے ہیں پھر دوسرے اس میں وہ لوگ ہوتے ہیں جو پیسے
12:49کمانے کیلئے جو ہے اسی content کو دوبارہ regurgitate جو ہے وہ کرتے
12:53ہیں اور وہ social media platform سے جو ہے وہ اپنی کمائی کر رہے ہیں اور
12:58تیسرا پھر اس کا وہ you know لوگ فائدہ اٹھا رہے ہیں جن کی شاید
13:01political differences ہوں یا جنہوں نے کوئی opinion جو ہے وہ ویسے ہی
13:05جو ہے وہ دکھانی ہوتی ہے regardless of what they think the outcome of that
13:08is تو یہ تینوں actors جو ہیں پاکستان جیسی society میں جب ہم دیکھ لیتے ہیں
13:14اور اتنی diversification ہے اور political landscape کو بھی جو ہے وہ دیکھ لیتے ہیں
13:18تو regulation جو ہے وہ تو بہت مشکل جو ہے وہ نظر آتی ہے اس کا جو
13:23حل جو ہے وہ پھر نظر آتا ہے جو پھر state institutions کہتے ہیں کہ شاید
13:28ان چیزوں کو بند ہی جو ہے وہ کر دیا جائے تو شاید سکون ہو
13:30دیکھیں بند کرنا بھی حل نہیں ہے کیونکہ اگر آپ بند کریں گے
13:36تو اب اتنے زیادہ vpn بھی block کرتے ہیں تو اب اتنے زیادہ
13:40gateway بن چکے ہیں کہ جتنی بھی آپ tight regulation کریں گے جتنے بھی
13:45آپ blockades کریں گے وہ کوئی نہ کہیں نہ loophole نکال کے کوئی نہ
13:49کوئی gateway بنا لیں گے تو circumvent all of them اور جتنا آپ ایک چیز پہ
13:53ban لگاتے ہیں اتنی زیادہ لوگوں میں curiosity ہو جاتی ہے کہ کیوں لگا
13:57ہے وہ اتنا زیادہ اس کی طرف جاتے ہیں ultimately ہو یہ رہا ہے
14:01اگر آپ دیکھیں استخدار تو جو بہت زیادہ سنجیدہ لوگ تھے جو
14:05ان platforms کو professionally use کرتے تھے یا اس کو ایک information
14:08کا source بناتے تھے وہ آہستہ آہستہ ان platforms کے اوپر جتنی
14:14negativity اور جتنی اس کے اندر toxicity اور polarization اب آگئی ہے وہ
14:19پھر ان platforms سے gradually ہٹنا چلی ہو گئے ہیں تو ultimately ہوگا یہ
14:24کہ اس کے negative consequences کے نتیجے میں ایک saturation ہو جائے گی
14:27تو میرا حال ہے block کرنا یا ban کرنا تو اس کا کوئی حل نہیں ہوگا
14:32لیکن ایک ongoing چیز ہے ایک evolving decentralized environment ہے جس کے
14:37اندر بہت زیادہ volatility ہے اس volatility کے اندر یہ جو conversations
14:42ہماری جیسے آپ کی اور میری ہو رہی ہے ان conversations کا ہوتے
14:47رہنا important ہے platforms کے اوپر اس کو agenda پہ رکھنا policy agenda
14:51پہ رکھنا important ہے وہ pressure بنا کے رکھنا important ہے تو میرا
14:55خالہ یہ ایک whole of state society کی approach کے ثروی ایک environment
14:59بن جاتا ہے جہاں آپ کی ultimately as a riaisat اور as a معاشرہ آپ کی
15:03جو digital resilience ہے وہ ہی میرا خالہ سب سے زیادہ effective ہو
15:09ہے کہ اس طرح کے جو misinformation disinformation campaigns ہیں وہ آپ کے
15:14معاشروں کے اندر اس طرح کے منفی اثرات نہ پھیلائے تو اس کے
15:18اندر میرا خالہ ہے جیافت کو بھی یہ چاہیے کہ وہ اس طرح کے
15:22desks بنائے جو timely پھر جو ہے اس طرح کی misinformation disinformation
15:26campaign کو immediately tag کرے اور mainstream media پہ بتائے کہ یہ
15:31trends جو ہیں یہ حقیقت کے قریب نہیں ہیں اس سے فرق پڑ جائے
15:34لیکن mainstream media کے اندر اور جب ہم دیکھتے ہیں کہ you know
15:38جو social media ہے ان دونوں کا جب ہم معاظنہ کرتے ہیں تو جو
15:43news کا cycle ہے وہ تو آپ مکملی جو ہے وہ subvert ہو چکا ہے پہلے
15:47جو چیز mainstream میں آتی تھی تو وہ social media پہ جاتی تھی اور
15:51اب social media سے اٹھ کر جو ہے وہ mainstream کے اوپر جو ہے وہ آتی
15:54ہے تو اس subversion نے بھی اس سارے جو equilibrium ہے اس کو جو ہے وہ
15:59disturb جو ہے پکی ہے آپ صحیح کہہ رہے ہیں آپ دیکھیں نا ان کا
16:03آپ نے وہ بالکل بڑا clearly articulately بتا دیا کہ ان کا
16:06آپ بس میں ایک symbiotic relationship ہے تو جو کچھ social media پہ اگر
16:10subversion چال رہی ہے تو mainstream media can be the mouthpiece of the state to create
16:17that awareness اور وہ obviously پھر trickle کرے گا into social media as well
16:21تو یہی طریقے ہیں یہ ایک بہت ہی volatil decentralized قسم کا
16:26environment ہے اس کا کوئی quick fix solution بھی نہیں ہے افتخار نہ
16:30اس کا کوئی permanent solution ہے یہ بار بار change ہوگا اور آپ کو
16:34بار بار ہی اس سے tackle کرنا پڑے گا resilience create کرنی پڑے گی
16:38operational awareness رکھنی پڑے گی ان conversations کو alive رکھنا
16:42پڑے گا policy agenda کے اوپر رکھنا پڑے گا pressures بنا کے رکھنے
16:46پڑیں گے کمی ban کرنا پڑے گا اسی طریقے سے یہ چلے گا کیونکہ
16:49یہ malicious actors تو جاتے نہیں ہیں یہ ایک unfortunate اور troubled
16:53reality ہے کہ آج کے social media کے دور میں جو جھوٹ ہے وہ سچ سے
16:58زیادہ پھیلتا ہے اور لوگوں کا جھوٹ میں سچ سے زیادہ interest
17:01ہوتا ہے کیونکہ وہ sensationalist ہوتا ہے اس کے اندر ایک
17:05حیجانی کیفیت ہوتی ہے اس کے اندر لوگوں کو unfortunately
17:08مزہ آتا ہے سچ جو ہوتا ہے وہ bore ہوتا ہے اس کے اندر لوگوں
17:12کا کوئی interest نہیں بنتا اور وہ ایک troubling reality کی طور پیشارہ
17:15کرتا ہے تو یہ تو اسی طریقے سے رہے گا تو ریاستوں کو
17:18resilient ہونا پڑے گا flexible ہونا پڑے گا اور اسی طریقے سے
17:22ان کو tackle کر سکتے ہیں جی بہت شکریہ باسط تھا آپ کی
17:25views کا ناظر آپ نے گفتگو جو ہے وہ سونی ایک چیز تو بہت
17:27clear ہے کہ یہ ایک evolving process ہے evolution ہے کیونکہ
17:31اس قسم کے جو governance کے issues ہیں جو legality کے issues ہیں
17:35کہ ماضی میں کبھی جو ہے وہ آئے نہیں ہے جو سائبر دنیا نے
17:38جو ہے وہ create کیے ہیں اور governance systems کو بھی جو ہے وہ
17:41open ہونا پڑے گا اور اس کیلئے سب سے important part یہ ہے کہ
17:45dialogue اور جو conversation ہے جو مسائل پیدا ہوتے ہیں اس کو
17:48discuss کرنا بھی جو ضروری ہے لیکن جو non state actors کی
17:51involvement ہے اور اس کو جس طرح بعض states جو ہے وہ amplify جو
17:55کر رہے ہیں ایک دوسرے کو acquisition پہ لگانے کے لیے اسے جو
17:58ہے مزید جو ہے علاقائی نہیں بلکہ global امن جو ہے وہ
18:01خطرے میں ہیں آہ امید یہی ہے کہ ایسے systems کے اوپر جو ہے وہ
18:05حکومت پاکستان کی نظر بھی ہوگی اور آہ ایسی conversations
18:09کے لیے جو ہے various sectors کو جو ہے وہ بلایا جائے various
18:12segments of society کو بلایا جائے اس کو کس طرح جو ہے وہ بہتر جو
18:15کیا جائے دیکھتے رہیے گا border talks
18:17موسیقی
Comments