00:00ڈالللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللللل
00:30Rishi R.A.R. کے مزار کے نزدیک واقع ہے
00:33جو صدیوں سے مختلف المذاہب کے ماننے والوں کی
00:36عقیدت اور احترام کی علامت رہا ہے
00:39جو بابا دعوت خاکی کی مجید شریف یہاں پہ ہے
00:43یہ ایک لگ بل سولویں صدیق کا جو ایک سٹرکچر یہاں پہ پایا جا رہا ہے
00:49تو اس کو ہم ایک سنکراتک سیمبل بھی مانتے ہیں
00:53کیونکہ اس کے نیچے جو دیویبل ہے
00:54وہاں عقیدے کے ساتھ جو ہمارے پنڈٹ برادری کے لوگ جو سرسوٹی برامنس ہیں
01:01وہ وہاں پہ آتے تھے اور یہاں پہ جو بابا دعوت خاکی کی مجید شریف پہ
01:06وہاں پہ درود آزکار کی محفلی آراستہ ہوتی تھی
01:10یہ ایک بیسکلی سوشل سینٹرز تھے
01:12مسجد میں وہاں ایک نماز بھی پڑھتے تھے
01:15جو پنڈٹ لوگ وہ اپنی طریقی سے اپنی عقیدے کے حساب سے
01:19وہاں پہ عبادت کرتے تھے اپنے مندر میں
01:21اور کچھ جو معاملہ تھے لوگوں کے ان کا ازالہ بھی کیا جاتا ہے
01:26تو ایک آپ کا یہ ہے کہ منی اسمبلیاں منی پارلمنٹ کا بھی رول کیا
01:30جب یہ اٹھارہ پندرہ سو پچاسی شہاسی میں
01:35اکبر کے ساتھ جو ایکارڈ ہوا جس میں
01:38یوسف شاہ چک کو چکدار بنا دیا گیا ہے بسواک میں
01:42تو اس میں بھی بابا دعوت خاکی اور کچھ دو چار پنڈٹس کا اہم رول ہے
01:47تو بابا دعوت خاکی ایک خود ایک سکالر تھے
01:53سوفی سکالر تھے ایک ریشی سکالر تھے
01:56اور اس کے علاوہ وہ جس میں کو ہم کشمی جب کہتے ہیں
02:01جس میں عالمی بائی چارے کی بات ہوتی ہے
02:05جس میں طالرنس نہیں بلکہ ایک دوسرے کی محبت کی بات ہوتی ہے
02:11بابا دعوت خاکی نے اس پر بہت کام کیا
02:14اور ابھی بھی جو مسجد شریف وہاں پہ پائی جا رہی ہے
02:16تو اس مسجد شریف میں جو لوگ ہیں
02:19وہ نماز پرنے کے لئے جاتے ہیں
02:21جو ان کے حاجات ہیں
02:22تو خدا اور اللہ کو مانگتے ہیں
02:24تو ان سے وہ جو بہت پریشانی ہیں وہ دور ہو جاتی ہے
02:27جو یہ
02:29جو سٹرکچرز ہیں
02:32جو ارکیالوجیکل
02:33معنی سے اہمیت کے حامل ہیں
02:37ان کو پریزرو کرنے کی ضرورت ہے
02:39ان کو کنزرو کرنے کی ضرورت ہے
02:41لیکن بادکسمندی کے ساتھ جو اس کے ساتھ محکمہ وابستہ ہے
02:45وہ شاید نین میں سوئے ہوئے ہیں
02:48اس کے طرف کام بھی نہیں
02:49اور اس میں کے ساتھ ساتھ کچھ انجیوز ہیں
02:51جو اس پر کام کرتے ہیں
02:52لیکن ان میں اربن ٹیلٹ پایا جا رہا ہے
02:55تو جس کی وجہ سے جو ایسے سٹرکچرز ہیں
02:58ایسے امارات ہیں
03:00ان کو یہ ناظروں سے اوجل ہو رہے ہیں
03:03ریشی بازار کی تنگلیا
03:05آج بھی شیخ بابا دعود خاکی کی قدیم مسجد
03:09اور دیویبل مندر کی طرف لے جاتی ہے
03:11شیخ بابا دعود خاکی کی مسجد
03:14انانتناگ کی پہلی مسجد ہے
03:16جس کی سنگ بنیاد چودویس صدی میں
03:18محسن کشمیر امیر کبیر میر سید ری حمدانی رحمت اللہ علیہ نے رکھی تھی
03:23اس مسجد کے ساتھ متصل
03:25قدیم دیویبل مندر ہے
03:27جو پندتوں کے لیے پوتر مقام ہے
03:30مسلمان بڑی عقیدت سے مسجد میں نماز ادا کرتے ہیں
03:34جبکہ ہندو عقیدت مند مندر میں پوجا
03:37اور دونوں عبادت گاہیں ایک ہی راستے سے جڑی ہوئی ہیں
03:41چودہ سو سال پہلے اللہ تعالیٰ نے
03:45ولیوں کے بارے میں آیت قرآن میں کوٹ کی
03:49تو ان ولیوں میں
03:52بابا دعود خاکی رحمت اللہ علیہ
03:55کی ایک الگ شان ہے
03:57ایک نرالی شان ہے
03:58جنہوں نے یہ ثابت
04:00کر کے دیا ہے
04:03کہ اسلام میں
04:05متفدق ہونا
04:07نہیں ہے
04:09بلکہ اسلام میں
04:10ہندو ہو مسلم ہو سکھ ہو
04:13ہر ایک کا اتحاد انہوں نے ثابت کر کے لیا ہے
04:16اگر ہم اس وقت بھی جائیں گے ان کی مسجد میں
04:19تو آپ دیکھیں گے وہاں
04:21ان کے آنگن مسجد کے آنگن میں
04:22آپ کو مندر بھی دکھائی دے گا
04:24جو یہ ہمیں ثابت کر کے دیتا ہے
04:26کہ جو ہمارے ہندو کمیٹی کے لوگ ہیں وہ بھی آتے تھے
04:32جوش و خروش سے وہاں آتے تھے اور ان کو بھی عقیدت تھی ان کے ساتھ
04:36اور بھائی چارہ تھا ہندو مسلم آپس میں بھائی چارہ تھا وہ بھی مجید
04:43بابا دعوت خاک رحمت اللہ علی ان کی مسجد سے ہی گزر ہوتا تھا ان کے مندر کی طرف
04:50آج بھی موجود ہے ہمارے آنکھوں کے سامنے
04:53تو مسجد میں اپنے طریقے سے مندر میں وہ اپنے طریقے سے ملپ پوجا پاتھ ہوتی ہے ان کی
04:59کوئی بھی تفرق نہیں ہے کسی کو مطلب کوئی پہلیشانی نہیں ہے
05:04مسجد اور مندر کا یہ ملاب کشمیر کی صدیوں پرانی مسلمانوں اور ہندووں کی مشترکہ تحذیبی روح
05:12اور ایک دوسرے کے مذہبی جذبات کا احترام کرنے کی روشن مثال ہے
05:17ای ٹی وی بھارت کے لیے انم تناک سے میر اشفاق کی رپورٹ
Comments