00:00علشپہ نور کو اور اسامہ کو الگ کرنا چاہتی تھی
00:03اور اس کے لئے عرم کو استعمال کر رہی تھی
00:05جیسے تم حیر فواد کی محبت کے گواہ تھے نا
00:08اسی طرح میں تم دونے کی دوستی کے گواہ ہوں
00:10تو اسامہ کو مجرم قرار دے دیا نا
00:13کیسے میں نے علشپہ کے کہنے پر اندھا یقین کر کے
00:18اسامہ کو مجرم سمجھ لیا
00:19دنیا چاہے کچھ بھی ہے
00:29ناظرین ڈراما اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے
00:35جہاں پر اسامہ بلکل ٹھیک ہو کر گھر واپس آ گیا ہے
00:37اور وہ نور سے معافی بھی مانگ لے گا
00:39کہ اس نے نور کے ساتھ بہت زیادتے کی ہے
00:41نور بھی اسامہ کو معاف کر دے گی
00:43اور اسامہ کو بتائے گی کہ وہ فواد کی موت کا ذہمہ دار بھی خود کو نہ سمجھا کرے
00:47کیونکہ وہ اسامہ اور فواد کی دوستی کی گواہ ہے
00:49وہ دونوں بلکل بھائیوں جیسے تھے
00:51جبکہ دوسری جانب علشپا کی بھی اب شازل سشادی ہو چکی ہے
00:54ساتھ ہی آپ یہ بھی دیکھیں گے
00:56کرم کو بھی بہت زیادہ افسوس ہے
00:57کہ اس نے علشپا کی کہنے پر اسامہ جیسے انسان پر شک کیا
01:00جلدی اسامہ ارم کے لیے بھی کوئی اچھا رشتہ ڈھونڈے گا
Comments