Skip to playerSkip to main content
  • 11 months ago

Category

🎈
Fun
Transcript
00:00:01موسم اس قدر سہانہ ہو رہا تھا کہ خود بخود رکس کرنے کو جی چاہتا تھا
00:00:07آسمان پر گھنے بادلوں کا سایہ دور دور تک پھیل گیا
00:00:11اور ساری فضا سرمئی رنگ کے تلسم کی لپیٹ میں آگئی تھی
00:00:16صبح تک تھوڑی سی دھوپ نکلی اور ہلکے ہلکے بادل کسی وقت آ جاتے تھے
00:00:23اور کسی وقت غیب بھی ہو جائے گرتے تھے
00:00:27دوپہر کے بعد ایک دم دھوپ غیب ہو گئی
00:00:31آسمان تاریخ ہو گیا
00:00:33ماجدہ نے اپنی ماں اور بہن بھائیوں کے ساتھ بیٹھ کر دوپہر کا کھانا کھایا
00:00:40مچھلی اور لوکی کا شوربے دار سالن اور چاول تھے
00:00:45ماجدہ کو مچھلی کے شوربے دار سالن بہت زیادہ پسند تھے
00:00:51جن میں کوئی ترکاری بھی ڈالی گئی ہو
00:00:54مچھلی کے ساتھ کوئی بھی ترکاری ڈال کر سالن پکایا جا سکتا تھا
00:00:59کھانا کھا لینے کے بعد
00:01:01ماجدہ زیادہ دیر تک گھر میں نہیں رکی
00:01:04اور باہر نکل گئی
00:01:06باہر کا منظر
00:01:08گھر کے اندر کے منظر سے کہیں زیادہ
00:01:10دل فریب اور روح پرور تھا
00:01:13کچھ فاصلے پر
00:01:14ندی کا پانی
00:01:16کسی ملگی جی چادر کی طرح ہچکولے لے رہا تھا
00:01:19اور اس میں چلتی ہوئی کشتیاں
00:01:22گدلے رنگ کے کاغذ پر بنے ہوئے
00:01:25دھندلے دھندلے خاکوں کی طرح نظر آ رہی تھی
00:01:27فضاء کی دھندلاہٹ کے باوجود
00:01:30ندی کے دوسرے کنارے تک دیکھا جا سکتا تھا
00:01:33اگرچہ دوسرے کنارے تک پہنچتے پہنچتے
00:01:36دھندلاہٹ میں کچھ اور اضافہ ہو جاتا تھا
00:01:39وہاں جو چیز سب سے زیادہ واضح پر نظر آ رہی تھی
00:01:45وہ سر سبز و شداب اور اونچے اونچے دھرختوں کے گھنے جھنڈ
00:01:50جو آپس میں اس طرح ملے ہوئے تھے
00:01:53کہ انہوں نے دور تک پھیلی ہوئی
00:01:56ایک دیوار کے شکل اختیار کر رکھی تھی
00:01:58اس دیوار کے دوسری طرف جو کچھ تھا
00:02:02اسے دیکھا نہیں جا سکتا تھا
00:02:04اور اس سے پہلے جو کچھ تھا
00:02:07وہ بھی غیر واضح تھا
00:02:09بارش ابھی شروع نہیں ہوئی تھی
00:02:11لیکن اثار بتا رہے تھے
00:02:14کہ بڑے زور و شور کے ساتھ شروع ہونے والی ہیں
00:02:17فیضا نے جیسے دم سادھ لیا تھا
00:02:20ہوا بند ہو گئی تھی
00:02:22اور زمین کی سانسیں جیسے رک گئی تھی
00:02:24آسمان کا رنگ کچھ اور سیاہ ہو گیا تھا
00:02:29ایک عجیب قسم کا پھر سرار سناٹا
00:02:31زمین سے نکل کر آسمان تک پھیل رہا تھا
00:02:35کسی پرندے نے
00:02:37بڑی ہی سریلی آواز میں کوئی نغمہ چھیڑا
00:02:40اور اس کے چند لمحے کے بعد
00:02:43ندھی کے قریب گھنے درختوں میں سے
00:02:45اس نغمے کی سدائیں
00:02:47باز گشت بلند ہوئیں
00:02:49وہاں مجود ایک دوسرے پرندے نے
00:02:52اس نغمے کا جواب دیا تھا
00:02:54فضا میں جیسے رس گھل گیا
00:02:56ماجدہ کے ہوتوں پر خود بخود
00:03:00ایک مذکرہت نمودار ہو گئی
00:03:01اور پھر جیسے ہی حاشم
00:03:04اسے ایک طرف سے آتا ہوا نظر آیا
00:03:06ویسے ہی گویا
00:03:08اس سارے منظر نامے کی تکمیل ہو گئی
00:03:11جو اپنے تمام تر حسن کے باوجود
00:03:13ابھی تک نامکمل معلوم ہو رہا تھا
00:03:16حاشم ابھی بہت دور تھا
00:03:19لیکن ماجدہ نے اسے
00:03:20صاف طور پر پہچان لیا تھا
00:03:23حاشم کو تو
00:03:24وہ سیکڑوں ہزاروں لوگوں میں سے پہچان سکتی تھی
00:03:27حاشم کے چال کی تو
00:03:29ایک ایک جنبیر سے وہ واقف تھی
00:03:31حاشم تو حاشم تھا
00:03:33حاشم جیسا دوسرا کوئی نہیں تھا
00:03:35اس کے قدم خود بخود تیز ہو گئی
00:03:37اور وہ اسی طرف بڑھنے لگی
00:03:39جدھر سے حاشم آ رہا تھا
00:03:42ذرا سی دیر میں وہ دونوں
00:03:43ایک دوسرے کے قریب پہنچ گئے
00:03:45اور ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرانے لگے
00:03:47بڑے زور کی بارش آنے والی ہے
00:03:49ماجدہ نے گفتگو میں پہل کرتے ہوئے
00:03:51حاشم سے مسکرا کر کہا
00:03:52جلدی جلدی چلو
00:03:54ہمیں باق کی کٹیا تک پہنچ جانا چاہیے
00:03:57اور اگر دیر تک ہوتی رہی تو
00:03:59پھر ہم دونوں کٹیا میں ہی پھنس جائیں گے
00:04:02حاشم نے ہستے ہوئے کہا
00:04:04پھر گھر والے ہمیں کہاں کہاں ڈھونیں گے
00:04:07کوئی نہیں ڈھونے گا حاشم
00:04:09ماجدہ نے مسکرا کر کہا
00:04:11جب بارش ہو رہی ہوگی تو
00:04:13کون ڈھونے نکلے گا
00:04:15اور جب بارش ختم ہو جائے گی
00:04:17تو ہم خود ہی گھر پہنچ جائیں گے
00:04:19دونوں تیزی سے باق کے طرف قدم بڑھانے لگے
00:04:22جو یہاں سے زیادہ فاصلے پر نہیں تھا
00:04:25اس باق میں ایک پرانی سی کٹیا تھی
00:04:28جو ایک سائبان پر مشتمل تھی
00:04:31سامنے کا حصہ آدھا کھلا ہوا تھا
00:04:34اور اس میں کوئی دروازہ نہیں تھا
00:04:37آدھے حصے کے سامنے دیوار تھی
00:04:39کوئی بھی شخص اس کٹیا میں آ سکتا تھا
00:04:43اور جتنی دیر چاہے یہاں رکھ سکتا تھا
00:04:46یہاں کوئی چار پا نہیں تھی
00:04:49البتہ ایک بہت پرانا لکڑی کا تخت پڑا ہوا تھا
00:04:53جس کی لکڑی جگہ جگہ سے پھول کر
00:04:56ٹیڑی ہو چکی تھی
00:04:58گاؤں کے لڑکے اور لڑکیاں
00:05:00اکثر کٹیا میں آ کر
00:05:01بیٹھتے تھے باتیں کرتے تھے
00:05:03گانے گاتے تھے اور کھیلتے کھوتے تھے
00:05:05کبھی کبھی ادھر سے گزرنے والے
00:05:08اکہ دکہ مسافر بھی کچھ دیر کے لیے
00:05:10یہاں سستالیا کرتے تھے
00:05:11ماجدہ اور حاشم تقریبا روزانہ ہی
00:05:15دوپہر کے کھانے کے بعد
00:05:16کچھ دیر کے لیے اس کٹیا میں آ کر بیٹھتے تھے
00:05:20ان کے پاس ایک دوسرے سے کہنے سننے کے لیے
00:05:24بہت کچھ ہوتا تھا
00:05:25اس کے کہنے اور سننے کے خاص اور غیر معمولی
00:05:30بات نہیں ہوتی تھی
00:05:31بس عام اور سادہ سی باتیں
00:05:34معصومانہ بے ضروری باتیں
00:05:36گھروں میں کیا ہوتا ہے
00:05:38دوسرے لوگ کیا کرتے تھے
00:05:41کون آیا کون گیا
00:05:42بغیرہ بغیرہ
00:05:43اس قسم کی باتیں کیا کرتے تھے
00:05:45یہ باتیں ان کے لیے
00:05:48ایک دوسرے کے قریب رہنے
00:05:49ایک دوسرے کے قریب بیٹھنے
00:05:52اور کافی تیر تک وقت گزارنے کا وسیلہ بن رہی تھی
00:05:56لیکن وہ دونوں
00:05:57ہمیشہ تنہا نہیں ہوتے تھے
00:05:59اکثر گاؤں کے دوسرے لڑکے اور لڑکیاں بھی
00:06:02ان کے ساتھ وہاں آ جاتے
00:06:04اور پھر باتیں کیا کرتے تھے
00:06:06جس میں جا بجا
00:06:08کہکے بھی شامل ہوتے تھے
00:06:10کوئی لڑکی اچانک کوئی گیت چھیڑ دیتی
00:06:13اور کوئی دوسری لڑکی فوراں ہی
00:06:15اس کی لیہ میں اپنی آواز کو شامل کر دیتی
00:06:18اور پھر کئی لوگ مل کر
00:06:20اس مقبول گیت کو گانے لگتے
00:06:23دیکھتے ہی دیکھتے
00:06:25سما بند جاتا
00:06:26آس پاس کی فضاء گیت کے رش سے بوجل ہونے لگتی
00:06:31وہ دونوں کٹیاں تک مہنچے ہی تھے
00:06:33کہ ایک دم بارش ہو گئی
00:06:34دونوں جلدی سے اندر داخل ہو گئے
00:06:36دونوں اس تخت پر بیٹھ گئے
00:06:38تخت کٹیاں کے سامنے کے کھلے ہوئے حصے میں پڑا ہوا تھا
00:06:43اور یہاں سے وہ سامنے کا منظر بہ خوبی دیکھ سکتے تھے
00:06:47جو بڑی تیزی کے ساتھ دھنڈلہ ہوتا جا رہا تھا
00:06:49بارش میں تیزی آتی جا رہی تھی
00:06:52اور اس کے ساتھ ساتھ ساری فضائیں دھواں دھواں ہو رہی تھی
00:06:57نظروں کے سامنے موجود آبی دھواں زیادہ گہرہ ہوتا جا رہا تھا
00:07:03اسمان سے پانی کی چادنے گرنے لگی تھی
00:07:06اور تھوڑے سے فاصلے کی چیزیں بھی صاف نظر نہیں آ رہی تھی
00:07:10آج کی بارش سے بابا کی پریشانی دور ہو جائے گی
00:07:15ماجدہ نے تخت پر جم کر بیٹھتے ہوئے کہا
00:07:18وہ کئی بار یہ بات کہہ چکے ہیں
00:07:21کہ دھان کی فصل کو اگر زیادہ پانی نہیں ملا تو وہ خراب ہو جائے گی
00:07:27آج کی بارش کے بعد دھان کے کھیتوں میں پانی خوب بھر جائے گا
00:07:32ہاں
00:07:33حاشم نے جواب میں گردن ہلاتے ہوئے کہا
00:07:36بڑے زور کی بارش ہو رہی ہے
00:07:39اور بادلوں کو دیکھ کر تو ایسا معلوم ہوتا ہے
00:07:42کہ بہت بارش ہوگی
00:07:44بہت دیر تک ہوگی
00:07:46موسلا دھار بارش ہو رہی تھی
00:07:47سامنے کچھ فاصلے پر
00:07:49پھیلی ہوئی ندی کی ملگجی
00:07:51چادر ان کے نظروں سے
00:07:53اوجل ہو چکی تھی
00:07:54اور اس کے ساتھ ہی کشتیوں کے
00:07:58دھندلے دھندلے خاکے بھی غیب ہو چکے تھے
00:08:00نظروں کے سامنے بس
00:08:02پانی ملی گہری دھند تھی
00:08:04ایک بہت موٹی سی
00:08:06آبی چادر تھی
00:08:07جو ہوا کے زور کے ساتھ
00:08:09ادھر ادھر ہل رہی تھی
00:08:11تم نے کہا تھا کہ
00:08:12امہ سے پوچھ کر
00:08:13مجھے سینما دکھانے شہر لے چلو گے
00:08:16ماجدہ نے پر اشتیاق لہجے میں
00:08:19ہاشم سے کہا
00:08:20اسکول بھی بند ہوگا
00:08:21اب کب چلو گے
00:08:23جس دن تم کہو
00:08:24ہاشم نے اسے میٹھی میٹھی نظروں سے
00:08:27دیکھتے ہوئے کہا
00:08:28میرے پاس پیسے بھی کافی ہیں
00:08:30ہم اوچھی کلاس میں بیٹھیں گے
00:08:32اچھا تو بس پھر ایک آہ دن میں ہی چلو
00:08:35ماجدہ نے اسرار کیا
00:08:37میں چاچی سے پوچھ لوں
00:08:38پھر چلیں گے
00:08:40ہاشم نے کہا
00:08:41وہ منع تو نہیں کریں گی
00:08:44لیکن ان کو بتانا اور ان سے پوچھنا ضروری ہے
00:08:47رفتہ رفتہ بارش کی شدت میں کمی آتی گئی
00:08:51پانے کی موٹی چادر
00:08:53آہستہ آہستہ شفاہ ہوتی گئی
00:08:55اور اس کے آر پار کے منظر
00:08:57واضح ہونے لگے
00:08:59اور ندی میں
00:09:00مجود کشتیوں کے نقوش بھی واضح ہونے لگے
00:09:03ندی کے دوسرے کنارے پر
00:09:05ہرے بھرے درختوں کی دیوار
00:09:07کچھ زیادہ روشن اور
00:09:09سبز نظر آ رہی تھی
00:09:10اتنی دور سے بھی اس کی تازگی
00:09:13کو محسوس کیا جا سکتا تھا
00:09:15بارش تھمید و ندی کے جانب سے
00:09:17کسی ماجی کی تیز آواز
00:09:19ہوا کے دوش پر تیارنے لگی
00:09:21کوئی کشتی اپنی منزل کے طرف
00:09:23روانہ ہو رہی تھی
00:09:24ہاشم اور ماجدہ اپنی کٹیا سے باہر نکل آئے
00:09:27دور دور تک ہر چیز دھول کر
00:09:29اور بھی زیادہ
00:09:31صاف اور شفاف ہو چکی تھی
00:09:32اور فضا میں گلی مٹی اور
00:09:35بھیگے ہوئے پیڑ پودوں سے نکلنے والی
00:09:37مہگ بسی ہوئی تھی
00:09:38یہ ایک ایسی تھنڈی تھنڈی مہگ تھی
00:09:41جس میں موسم کی ساری نرمی اور
00:09:43مہربانی گھلی ہوئی محسوس ہوتی تھی
00:09:46وہ دونوں چلتے ہوئے
00:09:47ماجدہ کے گھر کی طرف بڑھ رہے تھے
00:09:49جو وہاں سے وہ بہت زیادہ
00:09:51دور نہیں تھا سارے رستے
00:09:53زمین پر گھاس اگی ہوئی تھی
00:09:55اور اس میں خوب پانی بھرا ہوا تھا
00:09:57گھاس کی وجہ سے کیچڑ نہیں تھی
00:09:59اور جہاں جہاں کیچڑ تھی
00:10:01وہاں سے وہ دونوں بچ کر چل رہے تھے
00:10:04پانی میں ڈوبی ہوئی نرم نرم
00:10:06گھاس پر چلنا بہت اچھا لگ رہا تھا
00:10:09کچھ دیر میں وہ دونوں
00:10:10ماجدہ کے گھر تک پہنچ گئے
00:10:11اور گھر کے اندر داخل ہو گئے
00:10:14ارے یہ تم لوگ پانی میں
00:10:16کہاں بھیگتے پھر رہے ہو
00:10:17ماجدہ کی ماں حاجرہ نے
00:10:19ان دونوں کو گھورتی ہوئی نظروں سے کہا
00:10:22اتنی دیز بارش
00:10:23اور کیا ہم لوگ آپ کو بھیگے ہوئے لگ رہے ہیں چاچی
00:10:26حاشم نے ہستے ہوئے کہا
00:10:28ہم تو پانی میں باہر ہی نہیں نکلے تھے
00:10:31باہر کی کٹیا میں بیٹھے ہوئے تھے
00:10:33میں تو آپ کے گھر کی طرف ہی آ رہا تھا
00:10:36کہ راستے میں ماجدہ مل گئی
00:10:38اور پھر ہم لوگ باہر کی طرف چلے گئے
00:10:41وہاں بارش آ گئی
00:10:42ہم کٹیا میں جا کر بیٹھ گئے
00:10:45ہم بالکل نہیں بھیگے چاچی
00:10:47اچھا آؤ بیٹھو
00:10:49حاجرہ نے کہا
00:10:50تمہارے امتحانات تو ختم ہو گئے نا
00:10:54جی چاچی
00:10:55حاشم نے جواب دیا
00:10:56میرے امتحانات تو ختم ہو گئے ہیں
00:10:59اور اسکول بھی بند ہو گیا
00:11:01اور اب تو کافی دنوں کی نی چھٹی ہے
00:11:04چاچی میں نے ماجدہ سے وعدہ کیا تھا
00:11:06کہ اسے فلم دکھانے شہر لے جاؤں گا
00:11:09اب اگر آپ اجازت دے تو
00:11:11میں کسی دن اس کو شہر لے جا کر
00:11:13فلم دکھا لاؤں
00:11:14ہاں ماں
00:11:16ماجدہ نے چیکتے ہوئے کہا
00:11:17کتنے دن ہو گئے ہیں
00:11:20شہر گئے ہوئے مجھے
00:11:22اور فلم تو میں نے
00:11:23اس سے بھی زیادہ دنوں سے نہیں دیکھی
00:11:26بہت شوک ہو گیا تمہیں فلموں کا
00:11:29حاجرہ نے ماجدہ کو گھورتے ہوئے کہا
00:11:32کچھ پڑھنے لکھنے میں بھی دل لگایا کرو
00:11:34اور کچھ گھر کے کام کاج میں بھی حصہ لیا کرو
00:11:38کرتی تو ہوں اممہ
00:11:39گھر کا کام بھی کرتی ہوں
00:11:41اور پڑھتی بھی ہوں
00:11:42اچھا اچھا ٹھیک ہے
00:11:44حاجرہ نے اس کی بات کرتے ہوئے
00:11:46حاشرہ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا
00:11:48کب جانا چاہتے ہو شہر
00:11:50کل ہی
00:11:51حاشرہ نے خوش ہوتے ہوئے جواب دیا
00:11:53آپ اجازہ دے تو کل ہی
00:11:56ٹھیک ہے
00:11:57حاجرہ نے کہا
00:11:58چلے جانا
00:12:00میں ماجدہ کے بابا کو بتاؤں گی
00:12:02لیکن جلدی واپس آنے کی کوشش کرنا
00:12:04ہم لوگ وہاں سے سیدھے گاؤں آئیں گے
00:12:07حاشرہ نے کہا
00:12:08اور کہیں نہیں جائیں گے
00:12:09ماجدہ کے چہرے میں رنگوں کی باریسی ہونے لگی
00:12:13اس کی آنکھوں میں چمک دو بالا ہو گئی
00:12:16بنگلہ دیش کا چھوٹا سا گاؤں مادھو پور
00:12:19بغیر کسی تبدیلی کے صدیوں سے
00:12:21اسی طرح آباد چلا آ رہا تھا
00:12:23گاؤں کے بزرگوں نے
00:12:24اپنے بزرگوں سے
00:12:26اس گاؤں میں کسی بڑی تبدیلی کی بارے میں
00:12:28خبر نہیں سنی تھی
00:12:30سوائے اس کے کہ
00:12:31ہر دو تین سال کے بعد
00:12:34تیز بارشوں کے باعث
00:12:35ندی کا پانی گاؤں کے اندر داقل ہو جاتا تھا
00:12:38مگر اس سلابی ریلی سے
00:12:40گاؤں کو زیادہ نقصان نہیں پہنچتا تھا
00:12:43کیونکہ یہ گاؤں ایک سطح پر
00:12:45مرتفع تھا
00:12:47جہاں تک سلابی پانی کی رسائی
00:12:49بامشکل ہو پاتی تھی
00:12:50عام طور سے سلابی پانی کے گاؤں
00:12:53میں پوری طرح سے داقل ہونے سے پہلے
00:12:56سلاب کا زور ٹوٹ جاتا تھا
00:12:58اور گاؤں محفوظ رہتا تھا
00:13:01سبزے میں ڈوبا ہوا گاؤں
00:13:03اپنے مقینوں کو صدیوں سے
00:13:04اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے
00:13:06بڑی وفاداری کے ساتھ
00:13:08ان کی پرورش کر رہا تھا
00:13:10جب مقینوں کی ایک نسل ختم ہو جاتی
00:13:13تو گاؤں کی زمین
00:13:14پانی اور ہوا سب مل کر
00:13:16مقینوں کی نئی اور تازہ نسل
00:13:18کی پرورش کیا کرتے تھے
00:13:20نسلیں گزرتی رہتی تھی
00:13:22اور زندگی جاری اور ساری رہتی تھی
00:13:24گاؤں کے آس پاس
00:13:26دور دور تک دھان کے
00:13:28کھیت لے لہاتے
00:13:29اور زمین سونا گلتی تھی
00:13:33اور تاہید نظر
00:13:34سوزہ ہی سوزہ نظر آتا تھا
00:13:37برسات کے دنوں میں
00:13:39تو اکثر خالی زمین کا
00:13:41ایک ٹکڑا بھی نظر نہیں آتا تھا
00:13:44ہر جگہ مقملی
00:13:45سوزے کی حکمرانی ہوتی تھی
00:13:47سراج دن اس گاؤں کا
00:13:49ایک غریب کسان تھا
00:13:51اس کے پاس اپنا ایک چھوٹا زمین کا ٹکڑا تھا
00:13:54جس پر وہ دھان کی کاشت کرتا تھا
00:13:57وہ اکیلہ تھا
00:13:58اور زیادہ تر کام وہ اکیلے ہی کرتا تھا
00:14:01جب ضرورت پڑتی تھی
00:14:02تو اپنے ساتھ کسی اور کو بھی کامیں شامل کر لیتا تھا
00:14:05اس کے دونوں بیٹے ابھی چھوٹے تھے
00:14:08اور کامیں اس کی زیادہ مدد نہیں کر سکتے تھے
00:14:11اس کی بیوی حاجرہ
00:14:12البتہ اس کے لیے بڑی
00:14:14مددگار ثابت ہوتی تھی
00:14:16بلکہ فل حقیقت حاجرہ گاؤں کی دوسری عورتوں کی طرح
00:14:19اپنے شہر سے زیادہ ہی کام کرتی تھی
00:14:22بچوں کی پرورش
00:14:24بورچی خانے کے کام
00:14:26اور دیگر تمام گھریلو کاموں کے ساتھ ساتھ
00:14:29وہ کھیتی بڑی کے کام میں بھی
00:14:31اپنے شہر کا ہاتھ بٹاتی تھی
00:14:33دونوں میاں بیوی مل کر
00:14:35جان توڑ محنت کیا کرتے تھے
00:14:37تو گھر کا چولہ روشن ہوتا تھا
00:14:40پانچ جانوں کی پرورش کرتی تھی
00:14:42اور کون جانے
00:14:43ان جانوں میں
00:14:44مزید کسی چھٹی جان کا
00:14:47کب اضافہ ہو جائے
00:14:48امکانات تو بہت روشن تھے
00:14:51ماجدہ کی عمر ابھی نو سال کی تھی
00:14:53اور اس کی چھوٹی بہن سریعہ ساتھ سال کی تھی
00:14:57سب سے چھوٹی بہن شاہدہ کی عمر چار سال تھی
00:15:00درمیان میں دو بھائی تھے
00:15:02جو چھے اور پانچ سال کے تھے
00:15:05ماجدہ سکول نہیں جاتی تھی
00:15:06بلکہ گھر میں ہی کچھ نہ کچھ تھوڑا بھوت پڑھ لیتی تھی
00:15:10اگرچہ گاؤں میں لڑکیوں کے لیے سکول موجود تھا
00:15:14لیکن ماجدہ کو گھر میں رہ کر
00:15:16بہت سے کاموں میں اپنی ماں کا ہاتھ بٹانا ہوتا تھا
00:15:19اسکول کی ایک استانی جن کا نام ستارہ تھا
00:15:22اور جنہیں گاؤں کے سب لوگ ستارہ آپا کہتے تھے
00:15:25گاؤں کے ان بچوں کو بڑی خوشی سے تھوڑی دیر کے لیے مفت میں پڑھا دیتی تھی
00:15:30جو کسی نہ کسی وجہ سے اسکول نہیں جا سکتے تھے
00:15:34اور پڑھنا چاہتے تھے
00:15:36ماجدہ کو پڑھنے کا بہت شوق تھا
00:15:38اسے گانے اور نئے نئے گیت سکھنے کا بھی شوق تھا
00:15:42وہ اس لیے بھی پڑھنا چاہتی تھی
00:15:45تاکہ نئے گیتوں کو پڑھ سکے اور انہیں یاد کر سکے
00:15:50وہ ستارہ آپا کے پاس کئی سال سے پابندی کے ساتھ پڑھنے کے لیے جاتی تھی
00:15:55اور اس نے بنگالہ پڑھنا اور لکھنا بہت اچھی طریقے سے سیکھ لی تھی
00:15:59بنگالہ وہ واحد زبان تھی جو وہ بول لکھ اور پڑھ سکتی تھی
00:16:04ستارہ آپا اسے بنگالہ زبان کے علاوہ دوسری زبانوں کی بھی تعلیم دیتی تھی
00:16:09دو تین سال دل لگا کر پڑھ لو تو پھر پرائیوٹ میٹری کا امتحان دے دینا
00:16:15ستارہ آپا اس سے کہتی
00:16:17تمہیں پڑھنے کا شوق ہے تو مسانے سے میٹری کر لوگی
00:16:21ماجدہ خود بھی چاہتی تھی کہ کچھ پڑھ لے
00:16:24اسے پڑھنا اس لیے بھی اچھا لگتا تھا کیونکہ ہاشیم پڑھ رہا تھا
00:16:29ہاشیم اسکول جاتا تھا اور وہ اگلے سال میٹری کا امتحان دینے والا تھا
00:16:34اس وقت ہاشیم کی عمر چودہ سال تھی
00:16:37ہاشیم ماجدہ کے تایا نواب الدین کا بیٹا تھا
00:16:41اس کی ماں کا نام نادرہ تھا
00:16:44ماجدہ کا باپ سراج الدین اور ہاشیم کا باپ نواب الدین دونوں سگے بھائی تھے
00:16:50سراج الدین اپنے بھائی سے دو سال چھوٹا تھا
00:16:53ان دونوں کے اباؤ اجداد نامعلوم زمانوں سے اسی گاؤں میں رہتے چلے آتے تھے
00:16:58اور کسی دوسری جگہ رہنے کا تو انہوں نے تصور بھی نہیں کیا تھا
00:17:03ان کی جڑے اسی زمین کی مٹی میں پیوست تھی
00:17:06اور وہ انہیں اسی طرح پیوست رکھنا چاہتے تھے
00:17:09ہاشیم کا باپ نواب الدین غربت میں اپنے چھوٹے بھائی سے کچھ تھوڑا سا کم تھا
00:17:16اور اس کی کئی وجوہات تھی
00:17:18اس کے پاس زمین تو تقریباً اتنی ہی تھی جتنی کہ اس کے بڑے بھائی کے پاس تھی
00:17:25لیکن نواب الدین کے گھر میں کھانے والے کم تھے
00:17:30وہ کل تین افراد تھے
00:17:32نواب الدین خود اس کی بیوی نادرہ اور بیٹا ہاشیم الدین
00:17:38نادرہ اور ہاشیم کو قدرت نے ایک بیٹے کے علاوہ اور کوئی اولاد نہیں دی تھی
00:17:45ہاشیم کا باپ نواب الدین اپنے بھائی سراج الدین کی طرح انپڑ تھا
00:17:51لیکن وہ اپنے بیٹے کو اسکول میں داخل کروایا آیا تھا
00:17:55وہ اسے اچھی تعلیم دلوانا چاہتا تھا
00:17:58دونوں بھائیوں کے گھر والوں کے درمیان
00:18:00مثالی تعلقات قائم تھے
00:18:03اور ان تعلقات میں چودہ سالہ ہاشیم اور نو سالہ ماجدہ کی دوستی کو ایک خصوصی حیثیت حاصل تھی
00:18:10ان دونوں نے ہوش سنبھالتے ہی ایک دوسرے کو اپنے سے سب سے زیادہ قریب پایا تھا
00:18:16گاؤں میں اور دوسرے لڑکوں اور لڑکیوں کی کمی نہیں تھی
00:18:20جن میں رشتہ داروں کے لڑکے اور لڑکیاں شامل تھی
00:18:23مگر جو لگاؤ شروع ہی سے ماجدہ کو ہاشیم اور ہاشیم کو ماجدہ سے تھا
00:18:28ہاشیم اور ماجدہ کی گہری دوستی جیسے ان کی شخصیتوں کا حصہ تھی
00:18:35اور حصہ بند چکی تھی
00:18:37دونوں بچوں کا ایک دوسرے کے گھروں میں
00:18:40ازاد آنا اور بلا روک ٹوک آنا جانا تھا
00:18:44اور ہاشیم اکثر ماجدہ کی پڑھائے میں مدد کرتا تھا
00:18:48ماجدہ کو ہاشیم سے پڑھنا بہت اچھا لگتا تھا
00:18:50ان کے گاؤں مادوپور سے قریب ترین شہر کھلنا تھا
00:18:55مادوپور تو ایک چھوٹا سا گاؤں تھا
00:18:59جس میں جدید زندگی کی کوئی بھی قابل ذکر سہولت موجود نہیں تھی
00:19:03پورے گاؤں میں صرف دو ٹی وی تھے
00:19:06اور ریڈیو بھی گینے چنے لوگوں کے پاس تھے
00:19:09گاؤں میں بھی تھیٹر یا سینما گھر نہیں تھا
00:19:12البتہ کبھی کبار کوئی چلتا بھٹا تھیٹر کمپنی
00:19:16یا سرکس کمپنی بھولے بھڑ کے گاؤں کے طرف آ نکلتے تھے
00:19:21سارے علاقے میں گویا زندگی کی ایک تازہ لہر دوڑ جاتی تھی
00:19:25کمپنی والے گاؤں کے باہر وسیع میدان میں اپنے خیمے گارتے
00:19:29اور چند دنوں تک وہاں اپنے کمال و فن کا مظاہرہ کرتے
00:19:34یہ نعمت صرف مادوپور گاؤں والوں کے لیے ہی نہیں
00:19:37بلکہ آس پاس کے بہت سے گاؤں کے لیے ایک انمول تحفہ ہوتی
00:19:43فلم دیکھنے کے نئے لوگوں کو کھلنا جانا پڑتا تھا
00:19:45صرف مادوپور گاؤں کے لوگ فلم دیکھنے کے لیے کھلنا نہیں آتے تھے
00:19:50آس پاس کے دوسرے گاؤں کے لوگ بھی فلم دیکھنے کے لیے کھلنا ہی آتے تھے
00:19:55ماجدہ اپنے والدین کے ساتھ اکثر کھلنا جاتی رہتی تھی
00:19:59گھر میں اور زمین کے لیے جن جن چیزوں کے ضرورت ہوتی تھی
00:20:03وہ سب کے سب مادوپور میں نہیں مل پاتی تھی
00:20:07اس چھوٹے سے گاؤں کی دنیا بہت ہی محدود تھی
00:20:11سراج دین کو اپنے ضرورت کی ایشیا کی خریدداری کے لیے اکثر کھلنا جانا پڑتا
00:20:16وہ اپنے ساتھ حاجرہ اور ماجدہ کو بھی لے جاتا تھا
00:20:19اور کبھی کبھی حاشب ہی ان کے ساتھ ہوتا تھا
00:20:23ویسے تو ماجدہ کو شہر جانا بہت اچھا رکھتا تھا
00:20:27کیونکہ یہاں کی دنیا اس کے چھوٹے سے اور محدود فضاؤں والے گاؤں سے بہت مختلف تھی
00:20:33لیکن اسے اس وقت شہر آنا اور بھی زیادہ اچھا لگتا تھا
00:20:39جب ان لوگوں کے ساتھ حاشب بھی ہوتا تھا
00:20:42حاشب کی مجودگی اسے ایک ایسی سرشاری کا احساس دلاتی تھی
00:20:48جسے وہ پورے طور پر سمجھ پاتی تھی
00:20:52اور نہ کوئی نام دے سکتی تھی
00:20:55یہ ایک ایسی خوشی تھی
00:20:57جو اس کے وجود کی گہرائیوں میں سے خود با خود پھورتی تھی
00:21:02اور پھر اس کی ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی تھی
00:21:07کھلنا میں سینیما گھر تھے
00:21:10گاؤں وہاں سے آنے والے لوگوں کے لیے
00:21:13یہ ایک بڑی نعمت تھی
00:21:15ماجدہ نے اپنے والدین کے ساتھ
00:21:19کئی بار کھلنا میں سینیما گھر میں فلمیں دیکھی تھی
00:21:22اسے فلمیں دیکھنا بہت اچھا لگتا تھا
00:21:25اسے یوں محسوس ہوتا تھا
00:21:27جیسے دنیا یکا یک بہت وسیع ہو گئی ہے
00:21:29فلم دیکھنے کے دوران
00:21:30اس کی نظروں کے سامنے ایک نئی کائنات روشن ہو جاتی ہے
00:21:34وہ خود اس نئی اور عظیم کائنات کے ایک حصے میں تبدیل ہوتے ہوئے خود کو دیکھتی تھی
00:21:41اس کی آنکھوں کے سامنے ایک ایسی دنیا گردش کر رہی تھی
00:21:45جس کے حالات اور واقعات کو وہ خود اپنے انداز میں اپنے طور پر دیکھ سکتی تھی
00:21:52اور ان کی تعبیر بھی کر سکتی تھی
00:21:54ایک حاشم کے ساتھ اکیلی بھی کھلنا آئی تھی
00:21:58فلم دیکھنے کے لیے
00:22:00اور اس کے والدین نے اس کو حاشم کے ساتھ آنے کی اجازت دے دی تھی
00:22:05اس کے والدین اسے حاشم کے ساتھ کھیلنے گودنے
00:22:08اور اس کے ساتھ کہیں بھی آنے جانے اسے کبھی منع نہیں کرتے تھے
00:22:12اور جب ماں نے اجازت دے دی
00:22:14تو ماجدہ آنے والے لمحوں کے مصررت کے پیشیگی احساس سے سرشار ہو گئی
00:22:19مادعپور سے کھلنا جانے کے لیے
00:22:21ویسے تو خوشکی کا راستہ بھی موجود تھا
00:22:23لیکن زیادہ تر لوگ یہ سفر کشتی کے ذریعے تائے کیا کرتے تھے
00:22:27مادعپور کے گھاڑ سے کھلنا تک پہنچنے میں تقریباً ایک گھنٹے کا وقت لگتا تھا
00:22:33اور یہ سفر بڑا دلچسپ ہوتا تھا
00:22:35ندی میں دور دور تک کشتیوں کے متحرک حیولے نظر آتے تھے
00:22:39ان میں ہر طرح کے کشتیاں شامل ہوتی تھی
00:22:42مصافر بردار کی کشتیاں بھی ہوتی تھی
00:22:44مال بردار کی کشتیاں بھی
00:22:46اور ماہی گیری کی کشتیاں بھی
00:22:48ندی میں بڑی گہمہ گہمی کا سماہ ہوتا تھا
00:22:51ماجدہ کو یہ منظر بہت اچھا لگتا تھا
00:22:54لوگ صرف زمین پر ہی نہیں
00:22:56پانی پر بھی موجود ہوتے تھے
00:22:59اور وہ اس طرح آرام سے چل پھر رہے ہوتے تھے
00:23:01گویا زمین پر چل پھر رہے ہوں
00:23:03ہر کشتی گویا پانی کے سینے پر
00:23:06زمین کا ایک ٹکڑا ہوتی تھی
00:23:08جو پانی کے دست ورد سے محفوظ ہوتا تھا
00:23:12اور انسان اس کے ساتھ وہی کچھ کر سکتا تھا
00:23:14جو زمین کے ساتھ کر سکتا تھا
00:23:16کشتی کے سفرگاہ اپنا ایک تلسم تھا
00:23:19دن ہی میں جانا
00:23:20اور رات سے پہلے واپس آ جانا
00:23:23حاجرہ نے حاشم کو ہدایت کی
00:23:25یہ نہیں کہ فلم ختم ہونے کے بعد
00:23:27تم لوگ زیادہ دیر تک شہر میں رکے رہو
00:23:30جتنی جلدی واپس آ جاؤ
00:23:31اتنا ہی اچھا ہے
00:23:33مجھے کچھ چیزیں خریدنی ہیں
00:23:35حاشم نے کہا
00:23:36کچھ کتابیں اور ایک بیک
00:23:39تو ہم لوگ ذرا پہلے ہی نکل جائیں گے
00:23:42اور فلم دیکھنے سے پہلے ہی
00:23:43خریداری کر لیں گے
00:23:45فلم ختم ہونے کے فوری بعد
00:23:46ہم واپس گاؤں کو روانہ ہو جائیں گے
00:23:49ماجدہ کو بولوں کے لیے
00:23:50فیتے کی ضرورت ہے
00:23:52حاجرہ نے کہا
00:23:53وہ فیتے بھی خرید لے گی
00:23:55میرا تو ابھی فلحال شہر جانے کا
00:23:58کوئی ارادہ نہیں ہے
00:23:59یہاں گاؤں کی دکانوں میں میں نے دیکھا تھا
00:24:02فیتے نہیں ملے
00:24:03حاشم کچھ دیر بیٹھ کر
00:24:05ماجدہ کے ساتھ
00:24:06اگلے دن کا پروگرام تیگ کر کر چلا گیا
00:24:09حاجرہ اور سراج الدین کے دل میں
00:24:11جو کچھ تھا
00:24:12کم سن ماجدہ
00:24:13اس سے مکمل طور پر
00:24:15نا واقف نہیں تھی
00:24:17ماجدہ کا تعلق
00:24:18ایک ایسی فضا سے تھا
00:24:20جس میں لڑکیں بڑی تیزی کے ساتھ ملوگت کی طرف قدم بڑھاتی ہے
00:24:23ماجدہ کے دل میں خود بھی
00:24:25حاشم کے لیے پسندیدگی کے گہرے جذبات تھے
00:24:29اور وہ یہ بھی جان سکتی تھی
00:24:31کہ حاشم خود بھی اسے پسند کرتا تھا
00:24:34وہ دونوں ایک دوسرے کو اچھے لگتے تھے
00:24:36اور وہ دونوں ایک دوسرے کے والدین کو بھی اچھے لگتے تھے
00:24:39ماجدہ آنے والے دنوں میں
00:24:41اپنے اور حاشم کے تعلق
00:24:43کے حوالے سے بہت اچھی اچھی باتیں سوچتی رہتی تھی
00:24:46اس کے والدین
00:24:47حاشم پر بہت مہربان تھے
00:24:49اور حاشم کے والدین
00:24:51ماجدہ پر بہت مہربان تھے
00:24:53اور حاشم کے والدین
00:24:55ماجدہ پر بہت مہربان تھے
00:24:57سب کچھ بہت اچھا تھا
00:24:59بہت برمسرد خوشگوار غریبی میں بھی
00:25:02خوشی موجود تھی
00:25:03سپہر ہوتے ہوتے بادل چھٹ گئے تھے
00:25:06اور تھوڑی تھوڑی دھوم بھی نکل آئی تھی
00:25:08ماجدہ کے سہلیاں
00:25:10اختری اور بانوں اس سے ملنے کے لیے آ گئی اور پھر وہ تینوں گھر سے باہر ندی کی طرف روانہ ہو گئے
00:25:17ندی میں پانی خوب چڑھا ہوا تھا
00:25:20کافی دیر کی تیز بارش نے ندی کو جیسے ایک نئے زندگی عطا کر دی تھی
00:25:24اور اس کی شکل بدلی بدلی سے لگ رہی تھی
00:25:27ندی میں ہر طرف کشتیوں کے ریل پیل نظر آ رہی تھی
00:25:30کئی گھنٹوں تک رکی رہنے والی کشتیاں بارش کے تھم جانے کے بعد
00:25:34ایک بار پھر ایک بار پھر حرکت میں آ گئی تھی
00:25:38اور مزید زوروں شور کے ساتھ اپنی سرگرمی میں مصروف ہو گئی تھی
00:25:43اختری اور بانوں دونے سکول میں پڑتی تھی
00:25:45وہ ماجدہ کے تقریبا ہم عمر تھی
00:25:47اور تینوں گہری دوست بھی تھی
00:25:49اختری کا باپ ایک سرکاری دفتر میں کام کرتا تھا
00:25:53اور بانوں کا باپ ماہی گیر تھا
00:25:55وانوں کا سارا خاندان ماہی گیری کے پیشے سے وابستہ تھا
00:25:58فضاء میں ہلکی ہلکی بارش کی مہگ گھلی ہوئی تھی
00:26:02ندی کے کنارے بہت چہل پہل تھی
00:26:04ابھی ابھی ایک کشتی آ کر رکی تھی
00:26:07اور اس میں سے کچھ لوگ اتر رہے تھے
00:26:10اور کچھ لوگ سوار ہو رہے تھے
00:26:12مسافروں میں انسانوں کے علاوہ کچھ بکریہ بھی شامل تھی
00:26:15ندی کے دوسرے کنارے پر
00:26:18ہرے بھرے درختوں کی ٹھوز دیوار کے اندر سے
00:26:20ترہ ترہ کی آوازیں آ رہی تھی
00:26:22شاخوں اور پتوں میں چھپی ہوئی مخلوق
00:26:25اپنے اپنے زبان میں اپنے وجود کا
00:26:28اور اپنے سرمستی اور سرشاری کا اعلان کر رہی تھی
00:26:31خالدہ اپا کا کراچی سے خط آیا
00:26:33بانو ماجدہ کو بدانے لگی
00:26:36انہوں نے لکھا ہے کہ وہ بڑے آرام سے ہیں
00:26:39ان کے دونوں بیٹے کسی کار کھانے میں کام کر رہے ہیں
00:26:42اور انہیں اچھے پیسے مل رہے ہیں
00:26:44خود خالدہ آپا بھی کسی ہسپتال میں نوکری کر رہی ہیں
00:26:48ان کے پوتے پوتیاں کراچی کے کسی سکول میں پڑھ رہے ہیں
00:26:52اور خوب اردو بولتے ہیں
00:26:54میں تو کہتی ہوں اچھا ہوا
00:26:56کہ خالدہ آپا یہاں سے چلی گئی
00:26:58اختری نے آہستہ سے کہا
00:27:00یہاں تو محنت کرنے والوں کے لئے کام ہی نہیں ہے
00:27:03کھائیں کہاں سے
00:27:04ہمارے منور چاچا کا تو پورا خاندان یہاں سے چلا گیا
00:27:07وہ لوگ بھی کراچی میں ہیں
00:27:09اور بہت مزے میں ہیں
00:27:11کوئی بتا رہا تھا کہ
00:27:13منور چاچا اور سلیمہ چاچی
00:27:15کچھ دنوں کے لئے گاؤں آنے والے ہیں
00:27:17ہمارے گاؤں سے تو کئی لوگ کراچی چلے گئے
00:27:19ماجدہ نے کہا
00:27:21لوگ کہتے ہیں کہ کراچی پہنچتے ہی
00:27:23کوئی نہ کوئی کام مل جاتا ہے
00:27:25اور آدمی بھوکا نہیں رہتا
00:27:26مگر کراچی پہنچنا بھی تو شرط ہے
00:27:28بانو نے کہا
00:27:30یہ کوئی آسان بات تھوڑی ہے
00:27:32کتنی دور ہے کراچی یہاں سے
00:27:34اور پھر پیسہ بھی بہت خرچ ہوتا ہے وہاں جانے میں
00:27:37خالدہ آپا نے خط میں لکھا ہے
00:27:39کہ کراچی میں بہت بنگالی آباد ہیں
00:27:42اور برابر آ رہے ہیں
00:27:43بانو نے کہا
00:27:44وہاں بنگالیوں کے اپنے علاقے ہیں
00:27:46جہاں بڑی تعداد میں بنگالی رہتے ہیں
00:27:48سب لوگوں کا کام مل جاتا ہے
00:27:51بہت سی بنگالی عورتیں کوٹھیوں اور بنگلوں میں کام کرتی ہیں
00:27:54اور انہیں اچھے پیسے ملتے ہیں
00:27:56وہ تینوں کچھ دیر تک
00:27:58کراچی اور پاکستان کے بارے میں باتیں کرتی رہی
00:28:01جن کے مطالق ان کی معلومات اگرچہ محدود تھی
00:28:04لیکن پھر بھی
00:28:06وہ اپنے گردوں پیش
00:28:07جس شہر اور جس ملک کا سب سے زیادہ نام سنتی تھی
00:28:10وہ کراچی اور پاکستان ہی تھا
00:28:12گاؤں میں کتنے ہی لوگ
00:28:14ایسے تھے جو پاکستان کے بارے میں
00:28:16بہت کچھ جانتے تھے
00:28:17کئی ایسے تھے جو برسوں تک پاکستان میں رہ چکے تھے
00:28:21اور انیس سو ستر کے بعد
00:28:22پاکستان سے بنگال واپس آ گئے تھے
00:28:24کچھ ایسے بھی تھے
00:28:26جو کراچی سے واپس آنے کے کچھ عرصے بعد
00:28:28واپس چلے گئے تھے
00:28:30اور پھر وہی رہنے اور کام کرنے لگے تھے
00:28:32میں کل ہاشم کے ساتھ کھلنا جا رہی ہوں
00:28:35ماجدہ نے اپنی دونوں سہیلیوں کو اطلاع دی
00:28:37ہاشم کو کچھ چیزیں خریدنی ہیں
00:28:39اور پھر ہم فلم دیکھیں گے
00:28:41اچھا
00:28:42اختری نے گہرے دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے کہا
00:28:45مجھے تو شہر گئے ہوئے کئی مہینے ہو گئے
00:28:48اس کے لہجے میں قدرے اداسی تھی
00:28:50میں اگلے ہفتے جاؤں گی
00:28:51بانو نے کہا
00:28:52میری چھوٹی فپی کے بیٹے کی شادی ہے
00:28:55تو پھر تو تم کئی روز کی نہیں جاؤگی
00:28:57ماجدہ نے پوچھا
00:28:59ہاں ہم لوگ ایک ہفتے تک وہاں رہیں گے
00:29:02بانو نے جواب دیا
00:29:03اب شام قریب آ رہی تھی
00:29:05تینوں لڑکیاں ندی سے
00:29:07واپس اپلے گھروں کی طرف روارہ ہو گئیں
00:29:09ماجدہ کی پیدائش انیس اکتر میں ہوئی تھی
00:29:12جب مشرقی پاکستان پاکستان کا ہی حصہ تھا
00:29:15لیکن الائدگی کے دہانے پر کھڑا ہوا تھا
00:29:18ماجدہ نے ہوش سمالنے کے بعد
00:29:19خود کو پاکستان میں نہیں بنگلہ دیش میں پایا تھا
00:29:23اس کی عمر ایک سال کی تھی
00:29:24جب بنگلہ دیش وجود میں آ گیا تھا
00:29:27ماجدہ نے آنکھ کھول کر
00:29:28اپنے چاروں طرف
00:29:29نفس نفسی اور معاشی افتری کی فضاء پائی تھی
00:29:32کراچی کی دولت اور روزگار کے قصے بہت اہم تھے
00:29:36اور گاؤں کے کتنے ہی لوگ
00:29:38کسی نہ کسی طرح کراچی چلے گئے تھے
00:29:40ماجدہ اپنے بڑوں سے
00:29:42ان دنوں کے بارے میں باتیں
00:29:44اور طرح طرح کے قصے سنا کرتی تھی
00:29:46جب اس کا گاؤں پاکستان میں تھا
00:29:48اور کھلنا شہر بھی پاکستان میں تھا
00:29:51پھر پاکستان یہاں سے غیب ہو گیا
00:29:52اس کا گاؤں اور شہر
00:29:54اپنے جگہ پر رہے
00:29:55لیکن اب وہ بنگلہ دیش کا حصہ تھے
00:29:57نو سالہ ماجدہ کو ستارہ آپا کی زبانی
00:30:00معلوم ہوا تھا
00:30:01کہ گاؤں کے سکول میں کبھی
00:30:03اردو بھی پڑھائی جاتی تھی
00:30:04خود ستارہ آپا کو اردو لکھنا اور پڑھنا آتا تھا
00:30:14اور ماجدہ کی عمر کے دوسرے بچے
00:30:16اس سے ناواقف تھے
00:30:17اگلے دن حاشم مقرر وقت پر آ گیا
00:30:19ماجدہ بلکل تیار تھی
00:30:21اور حاشم کا انتظار کر رہی تھی
00:30:23حاجرہ نے جاتے وقت
00:30:24حاشم کو ایک بار پھر سختی کے ساتھ
00:30:27تاقید کی
00:30:28کہ وہ فلم ختم ہونے کے فوراں بعد
00:30:30گاؤں کے لیے روانہ ہو جائیں
00:30:32اور زیادہ دیر نہ لگائیں
00:30:34حاشم نے انہیں یقین دلایا
00:30:36اور کہا کہ وہ ایسے ہی کرے گا
00:30:37وہ دونوں جب گھاڑ پر پہنچے تو
00:30:39کھلنا جانے والی کشتی تیار کھڑی ہوئی تھی
00:30:41ابھی اس میں کچھ مزید
00:30:43مسافروں کی گنجائش تھی
00:30:45اور ماجدہ لوگ مسافروں کے انتظار میں تھے
00:30:48حاشم اور ماجدہ کی شکل میں
00:30:49وہ مزید مسافر انہیں مل گئے
00:30:52اور پھر کشتی وہاں سے روانہ ہو گئی
00:30:53پرندوں کی ایک لمبی کتار
00:30:56اسمان پر کشتی کے ساتھ ساتھ پرواز کر رہی تھی
00:30:58چمکیلی دھوب میں ندھی کا پانی
00:31:01شیشے کی طرح چمک رہا تھا
00:31:03اور جا بجا کشتیاں بیٹھتی ہوئی نظر آ رہی تھی
00:31:05سارا منظر نامہ
00:31:07ایک تلسماتی حسن سے بھربور تھا
00:31:10ماجدہ کے لیے
00:31:11یہ سارا منظر نامہ
00:31:12ایک اور منویت بھی لیے ہوئے تھا
00:31:15حاشم اس کے ساتھ تھا
00:31:17اور یہ اس منظر نامے کی
00:31:18اہم ترین خصوصیات تھی
00:31:20کشتی روانہ ہو گئی
00:31:22ماجدہوں نے چپو چلانے شروع کر دیئے
00:31:24اور کشتی تیزی سے پانی کے سطا پر بھاگنے لگی
00:31:28ماجدہ کو یہ سب کچھ بہت اچھا لگ رہا تھا
00:31:31پانی میں تیرتا ہوا
00:31:32زمین کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا
00:31:34اور زمین کے اس ٹکڑے پر
00:31:37حاشم اس کے ساتھ
00:31:38اس کے قریب بیٹھا ہوا
00:31:39اتنا قریب
00:31:41کہ وہ اس کی سانسوں کی گرمی کو بھی محسوس کر سکتی تھی
00:31:44ندی کا پارٹ آگے جا کر
00:31:46کچھ اور چوڑا ہو گیا تھا
00:31:48اور دوسرا کنارہ زیادہ دور ہو گیا تھا
00:31:51کھلنا تک پہنچنے کے لیے
00:31:52ندی کو پار کر کے دوسرے کنارے پر جانے کی ضرورت نہیں تھی
00:31:56کھلنا اسی طرف واقعہ تھا
00:31:58جس طرف مادھوپور واقعہ تھا
00:32:01تقریباً ایک گھنٹے کے سفر کے بعد
00:32:03وہ لوگ کھلنا پہنچ گئے
00:32:04کشتی گھاٹ پر لگی
00:32:06اور اترنے والے مسافر اترنے لگے
00:32:08حاشم اور ماجدہ بھی ان میں شامل تھے
00:32:11کشتی سے اترتے وقت
00:32:13حاشم نے ماجدہ کا ہاتھ تھام لیا تھا
00:32:15ماجدہ کے بہت اچھا لگ رہا تھا
00:32:18کھلنا میں دھوم نکلی ہوئی تھی
00:32:20اور مطلعہ بلکل صاف تھا
00:32:22تاہم گزشتہ روز کی
00:32:24تیز اور موسلہ دھار بارش کے اثار
00:32:26یہاں بھی موجود تھے
00:32:27یہاں بھی ویسے ہی بارش ہوتی تھی
00:32:29جیسی کے مادھوپور میں
00:32:31ہم کونسی فلم دیکھیں گے
00:32:33ماجدہ نے حاشم سے پوچھا
00:32:35اسے کچھ فاصلے پر کئی فلموں کے سائن بورڈ
00:32:38اور پوسٹر لگے ہوئے نظر آ رہے تھے
00:32:40ہم دیو داز فلم دیکھیں گے
00:32:43اگر ٹکٹ مل گئے تو
00:32:46ہاشم نے سامنے سائن بورڈ پر نظر ڈالتے ہوئے کہا
00:32:49دیو داز چٹر جی کا ناویل ہے
00:32:51بنگالی میں
00:32:52اور اس ناویل پر ہندی اور بنگالی
00:32:55کئی فلمیں بنی ہیں
00:32:56بڑا اچھا ناویل ہے
00:32:58میں نے مکمل پڑا ہے
00:32:59ماجدہ نے دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے کہا
00:33:03تو پھر دیو داز ہی سہی
00:33:05پہلے ہم جلدی جلدی خریداری کر لیں
00:33:07ہاشم نے کہا
00:33:09فلم کے ٹکٹ ملنے میں ابھی کافی دیر ہے
00:33:11وہ دونوں جلدی جلدی چلتے ہوئے
00:33:13بزار کی طرف نکل گئے
00:33:15جہاں ہاشم نے اپنے ضرورت کی چیزیں خریدی
00:33:17اور ماجدہ نے بھی
00:33:19اپنے بالوں کے لیے فیتے خرید لیے
00:33:21جن کے لیے پیسے اسے ماں نے دے دیئے تھے
00:33:24اس کے بعد وہ دونوں
00:33:26اس سینما ہاؤس کی طرف چل پڑے
00:33:27جہاں بنگالے زبان میں
00:33:29فلم دیو داز کی نمائش ہو رہی تھی
00:33:32اگرچہ یہاں کافی رش تھا
00:33:34پھر بھی وہ دو ٹکٹ حاصل کرنے میں
00:33:36کامیاب ہو گئے
00:33:37کچھ دیر بعد وہ دونوں اندر جا کر
00:33:39کرسیوں پر بیٹھ گئے
00:33:41فلم شروع ہو گئی
00:33:42تو ماجدہ اس کے سہر میں ڈوبتی چلی گئی
00:33:45جیسے جیسے فلم آگے بڑھتی گئی
00:33:47ویسے ویسے یہ سہر اور زیادہ گہرا ہوتا گیا
00:33:50دیو داز اور پاروتی کی بچپن کی دوستی
00:33:53اور محبت کے مناظر میں
00:33:54ماجدہ کو لا شعوری طور پر
00:33:57اپنی اور حاشن کی دوستی کی جھلک نظر آ رہی تھی
00:33:59جو بڑھتے بڑھتے
00:34:01محبت کی شکل اختیار کرتی جا رہی تھی
00:34:03لیکن پھر جیسے جیسے فلم آگے بڑھتی گئی
00:34:07ویسے ویسے ماجدہ کے دل میں
00:34:08خوف پیدا ہوتا گیا
00:34:09کہانی نے ایک بلکل ہی دوسرا رخ اختیار کر لیا تھا
00:34:13دیو داز اور پارو کی محبت
00:34:15تباہ ہوتی جا رہی تھی
00:34:16اور ایسا معلوم ہوتا تھا
00:34:18کہ وہ دونوں ہی اپنے آپ کو تباہ کرنے پر تل گئے ہیں
00:34:21ماجدہ پر رکت تاری ہونے لگی
00:34:23فلم کے آخری سین پر
00:34:26جب دیو داز پارو کی
00:34:27شوہر کے حویلی کے دروازے پر آ کر دم توڑ دیتا ہے
00:34:31اور پارو کی کا شوہر
00:34:32پارو کی کو تمام گزارشوں کے باوجود
00:34:35اسے حویلی سے باہر جانے نہیں دیتا
00:34:37اور پھاٹک بند کروا دیتا ہے
00:34:39ماجدہ اپنے آسو نہ رکھ سکی
00:34:41اس کی آنکھیں بھیگ گئیں
00:34:43اور اس کا چہرہ آسووں سے تر ہو گیا
00:34:45یہ تو اچھا تھا کہ حال میں اندھیرہ تھا
00:34:48اور اس کے قریب بیٹے ہوئے
00:34:49حاشم نے اس کی یہ حالت نہیں دیکھی تھی
00:34:52روشنی ہونے سے پہلے ہی
00:34:54ماجدہ نے دپٹے کے پلو سے
00:34:56اپنے چہرے کو
00:34:57اچھی طرح ساف کر لیا تھا
00:34:59آخری سین دکھائے جانے کے موقع پر
00:35:01حال میں اس قدر گہرہ سناٹا تاری ہو گیا تھا
00:35:04جیسے وہاں کسی بھی
00:35:06انسان کا وجود نہ ہو
00:35:07اور سارا حال خالی ہو چکا ہو
00:35:09فلم ختم ہو گئی
00:35:11حال میں اجالہ ہو گیا
00:35:13اور لوگ اپنی اپنی نشستوں سے اٹھ کرے ہوئے
00:35:17حال کے دروازے کھل چکے تھے
00:35:19حاشم نے ایک بار پھر
00:35:21ماجدہ کا ہاتھ پکڑ لیا تھا
00:35:23اور دونوں آ رہے تھے
00:35:25تو یہ تھا بچپن کی اس محبت کا انجام
00:35:28ماجدہ نے لرس کر دل میں سوچا
00:35:30تو کیا ایسا ہی ہوتا ہے
00:35:32نہیں نہیں
00:35:33ہمیشہ ایسا تو نہیں ہوتا
00:35:35اس کے علاوہ بھی تو کچھ اور ہو سکتا ہے
00:35:38کوئی اچھی اور خوشگوار بات
00:35:40سارے ہی والدین تو
00:35:42دیو کے والدین کی طرح نہیں ہوتے
00:35:44آجدہ خیالات کے تانے بانے
00:35:46بنتے ہوئے اپنے
00:35:48درد کی شدت پر قابو پانے کی کوشش کر رہی تھی
00:35:51نو جوانے کے طرف تیزی سے قدم بڑھاتی ہوئی
00:35:54یہ کمسن لڑکی
00:35:55اپنی محبت کی دفاع کی راہیں تلاش کر رہی تھی
00:35:59جس سے وہ ابھی
00:36:00پوری طرح واقف بھی نہیں تھی
00:36:02دم توڑتے ہوئے دیو داس کی شکل میں
00:36:04اسے اچانک حاشم کے چہرے کے جھلک نظر آنے لگی
00:36:08اور وہ اس تصور کو
00:36:09بڑی سختی کے ساتھ جھٹکنے کی کوشش کر رہی تھی
00:36:12تمہیں یہ فلم کیسی لگی
00:36:14اچانک وہ حاشم کی آواز سون کر چونک پڑی
00:36:16اسے خیال آیا
00:36:18کہ سینیوہ حال سے باہر نکلنے کے بعد
00:36:20اس کے اور حاشم کے درمیان
00:36:23ابھی تک کوئی بات نہیں ہوئی ہے
00:36:25ہاں بہت اچھی فلم تھی
00:36:27ماجدہ نے کہا
00:36:28لیکن بڑی غمناک فلم تھی
00:36:30اگر دیو داس نہ مرتا تو کتنا اچھا ہوتا
00:36:33یہ کتاب میرے پاس موجود ہے
00:36:35حاشم نے اس کے تفسرے کو
00:36:38نظر انداز کرتے ہوئے کہا
00:36:39اگر تم پڑھنا چاہو
00:36:41تو میں تمہیں دے سکتا ہوں
00:36:42فلم تو تم نے دیکھ ہی لی ہے
00:36:44پھر کتاب پڑھنے میں زیادہ مزا آئے گا
00:36:47ضرور دینا
00:36:48ماجدہ نے کہا
00:36:50ستارہ آپا تو مجھے اکثر کتابیں پڑھنے کے لیے دیتی ہیں
00:36:53مگر وہ زیادہ تر بچوں کی کہانیوں کی کتابیں ہوتی ہیں
00:37:00اور شام سر پر کھڑی تھی
00:37:01انہوں نے جلد جلد مہد پور کیلئے روانہ ہونا تھا
00:37:05وہ دونوں کشتی کا انتظار کرنے لگے
00:37:07کشتی کے آنے میں
00:37:08ابھی کچھ دیر باقی تھی
00:37:09اچانک حاشم کو یاد آیا
00:37:12کہ اسے اپنے لیے ایک کلم بھی خریدنا تھی
00:37:15دوسری چیزوں کے ساتھ
00:37:17کلم خریدنا تو بلکل ہی بھول گیا تھا
00:37:19ارے میں نے کلم نہیں لیا ماجدہ
00:37:21اس نے پریشانی کے ساتھ کہا
00:37:23میں بلکل ہی بھول گیا
00:37:25مجھے تو اس کی سخت ضرورت ہے
00:37:27تو لے لو
00:37:28ماجدہ نے غیب دماغی کے ساتھ کہا
00:37:30وہ ابھی تک
00:37:32فلم کے آخری سین کے غم انگیز سہر میں
00:37:34بوری طرح گرفتار تھی
00:37:36مجھے دوبارہ دکان تک جانا پڑے گا
00:37:38حاشم نے کہا
00:37:39مجھے ڈر ہے
00:37:40کہ اس دوران کہیں کشتی نہ نکل جائے
00:37:43پھر دوسری کشتی کا انتظار کرنا پڑے گا
00:37:46تم جاؤ
00:37:47ماجدہ نے کہا
00:37:49میں یہاں گھاٹ پر رکتی ہوں
00:37:50اگر اس دوران کشتی آگئی
00:37:53تو میں مانجیوں سے کہہ کر
00:37:55انہیں ذرا سی دیر کے لیے روک لوں گی
00:37:58اور اگر وہ نہیں مانے
00:38:00تو کوئی بات نہیں
00:38:01ہم دوسری کشتی کا انتظار کر لیں گے
00:38:04ابھی وقت ہے
00:38:05دوسری کشتی بھی مل سکتی ہے
00:38:06ٹھیک ہے
00:38:07میں جاتا ہوں
00:38:09بہت جلدی جلدی جاؤں گا
00:38:11بس یوں سمجھو کہ
00:38:12ادھر گیا اور ادھر آیا
00:38:14حاشم یہ کہہ کر
00:38:15لمبے لمبے ٹک بھڑتا ہوا وہاں سے چلا گیا
00:38:17ماجدہ اسے خالی خالی نظروں سے جاتے ہوئے دیکھتی رہی
00:38:21اس کے دل میں جو ایک علم ناک کیفیت پیدا ہو رہی تھی
00:38:24اسے اس نے جھٹکنے کی کوشش کی
00:38:26دور کونے میں کھڑی ہوئی
00:38:29ایک سن رسیدہ عورت نے
00:38:30ان دونوں بچوں کو اس وقت غور سے دیکھا تھا
00:38:34جب وہ دونوں گھاٹ پر آئے تھے
00:38:36سافظاہر تھا
00:38:37کہ انہیں کشتی کے ذریعے کہیں جانا تھا
00:38:39پھر تقریباً فوراً ہی وہ لڑکا
00:38:41لڑکی کو چھوڑ کر تیز تیز قدم بڑھاتا ہوا
00:38:44وہاں سے چلا گیا
00:38:45لڑکی اکیلی رہ گئی
00:38:46عورت کچھ دیر تک تو لڑکے کو جاتے ہوئے دیکھتی رہی
00:38:50پھر آہستہ آہستہ قدم بڑھاتی ہوئی
00:38:52اس لڑکی کے پاس آ گئی
00:38:54جو اس وقت ایک بینچ پر بیٹھ گئی تھی
00:38:57عورت اس کے قریب آ کر
00:38:58خود بھی اسی بینچ پر آ کے بیٹھ گئی
00:39:00تمہارے بندوں کا ڈیزائن بہت خوبصورت ہے
00:39:02عورت نے مسکراتے ہوئے لڑکی سے کہا
00:39:04اور اس طرح
00:39:06اس کے ساتھ بات چیت کا آغاز کر دیا
00:39:08بہت قیمتی معلوم ہوتے ہیں
00:39:10نہیں تو لڑکی نے مسکراتے ہوئے جواب دیا
00:39:13بلکل معمولی قسم کے ہیں
00:39:15معمولی صحیح لیکن
00:39:16بہت خوبصورت ہے
00:39:17عورت نے کہا
00:39:19کیا یہی شہر کی کسی دکان سے خریدے تھے
00:39:21مجھے معلوم نہیں
00:39:23لڑکی نے سادگی سے جواب دیا
00:39:24میرے بابا نے خریدے تھے
00:39:26تم یہی کھلنا میں رہتی ہو
00:39:28عورت نے گفتگو کو آگے بڑھایا
00:39:30نہیں
00:39:30ماجدہ نے جواب دیا
00:39:32میں مادوپور گاؤں میں رہتی ہوں
00:39:34میں اپنے تایازاد بھائی کے ساتھ کھلنا آئی تھی
00:39:37اب گھر واپس جا رہی ہوں
00:39:38اوہ
00:39:39عورت نے جیسے اتمنان کا سانس لیا
00:39:42تو تم یہاں نہیں رہتی
00:39:44تمہارا گھر مادوپور بھی ہے
00:39:45اس کے بعد وہ عورت
00:39:47بڑی لگاوٹ اور اپنات کے انداز میں
00:39:49ماجدہ سے باتیں کرنے لگی
00:39:51اس نے ماجدہ اور اس کے تایازاد بھائی کے بارے میں
00:39:54بہت سی باتیں معلوم کر لی
00:39:56اور یہ بھی جان لیا
00:39:58کہ وہ کلم خریدنے گیا ہے
00:39:59اور ابھی ذرا دیر میں واپس آ جائے گا
00:40:02جس کے بعد وہ دونوں کشتی سے مادوپور روانہ ہو جائیں گے
00:40:06عورت کے ہاتھ میں
00:40:07کپڑے کا ایک تھیلہ تھا
00:40:09اس نے اس میں سے پانوں کی ایک ڈبیا نکالی
00:40:12اسے کھول کر
00:40:13اس میں سے ایک پان نکال کر
00:40:15اپنے موں میں دبا لیا
00:40:16ایک اور پان نکال کر
00:40:18مسکراتے ہوئے
00:40:19اس نے ماجدہ کے طرف بڑھایا
00:40:21لو پان کھاؤ
00:40:22بہت مزے کے پان ہے یہ
00:40:24ماجدہ نے پان لے کر
00:40:26اپنے موں میں رکھ لیا
00:40:27وہ عورت مسکرا کر
00:40:28ماجدہ کو دیکھ رہی تھی
00:40:30پان کا رس
00:40:31ماجدہ کے حلق سے اتر رہا تھا
00:40:34اس کے ساتھ ہی
00:40:35اسے اپنے رگوں پہے میں
00:40:36ایک ہلکی ہلکی سی
00:40:38بڑی خوشگوار سنسنی کا احساس ہو رہا تھا
00:40:41پھر اس سنسنی نے
00:40:42اس کے دماغ کو
00:40:44اس قدر حلقہ کر دیا
00:40:46کہ وہ خود کو ہواوں میں اڑتا محسوس کرنے لگی
00:40:49دوستو ہمارے چینل ایف ایس اردو سٹوری کو سبسکرائب کریں
00:40:52اور بیل نوٹفیکشن کو اون کریں
00:40:55تاکہ ہماری تازہ اپ ڈیٹ آپ تک پہنچتی رہے
00:40:57اگر آپ کو ہماری ویڈیو پسند آئے
00:41:00تو اسے لائک کریں
00:41:01کمنٹ کریں اور اپنے دوستوں میں شیئر کریں
00:41:04شکریہ
00:41:05ماجدہ کی آنکھوں میں
00:41:07اچانک میٹھی میٹھی اور تھنڈی نیند بھرنے لگی تھی
00:41:10اور دماغ پر چھایا ہوا
00:41:12وہ علمناک بوجھ
00:41:14جس میں دیو داز کی موت کا
00:41:16تازہ تازہ دکھ سب سے زیادہ شامل تھا
00:41:18بڑی تیزی کے ساتھ
00:41:21خود فراموشی کی
00:41:22ایک انوکی کیفیت میں تبدیل ہوتا جا رہا تھا
00:41:25ماجدہ کو
00:41:26اپنے سارے جسم میں
00:41:27ایک عجیب قسم کی نا دونائی کا احساس ہو رہا تھا
00:41:30اور پھر اسے
00:41:32آنکھیں کھولنے میں بھی دشواری ہو رہی تھی
00:41:34عورت بڑے غور سے
00:41:35ماجدہ کا جائزہ لے رہی تھی
00:41:37اور صرف وہ عورت ہی ماجدہ کا جائزہ نہیں لے رہی تھی
00:41:40کچھ فاصلے پر کھڑا ہوا
00:41:42ایک مرد بھی ماجدہ کا جائزہ لے رہا تھا
00:41:46وہ دونوں آنکھوں ہی آنکھوں میں
00:41:47ایک دوسرے سے کچھ باتیں کر رہے تھے
00:41:49جب وہ عورت ماجدہ کے پاس آ کر بیٹھی تھی
00:41:52تو اس وقت وہ تنہا تھی
00:41:54اور ماجدہ کوئی اس بات کا
00:41:56علم نہیں تھا
00:41:56کہ اس کے ساتھ کوئی مرد بھی ہے
00:41:59وہ دونوں اس وقت
00:42:01ایک دوسرے سے الگ لگ تھے
00:42:03ماجدہ کا سر ڈھلک گیا
00:42:04جسے اس عورت نے بڑی اپنائیت اور محبت کے انداز میں
00:42:08اپنے شانے پر ٹکا لیا
00:42:10اس کے ساتھ ہی اس نے مرد کو ہاتھ سے ہلکا سا اشارہ کیا
00:42:15وہ اس اشارے کا منتظر تھا
00:42:18وہ بڑی تیزی کے ساتھ لپک کر ان دونوں کے پاس پہنچ گیا
00:42:21عورت نے جلدی سے ماجدہ کی کمر میں ہاتھ ڈال کر
00:42:24اس سے کھڑا کرنے کی کوشش کی
00:42:26مرد فوراں اس کو سہارہ دے کر آگے کی طرف لے جانے لگا
00:42:30ماجدہ کی ٹانگیں بے جان ہو رہی تھی
00:42:32اور وہ دونوں مرد عورت مل کر
00:42:34اسے گھسیٹتے ہوئے ایک طرف لے جا رہے تھے
00:42:37اس وقت شام کا جھٹ پٹا پھیل رہا تھا
00:42:40لیکن ابھی اندھیرہ نہیں ہوا تھا
00:42:42ہر چیز صاف اور واضح طور پر دکھائی دے رہی تھی
00:42:46وہ دونوں جلدی جلدی ماجدہ کو وہاں سے لے جا رہے تھے
00:42:49کیا ہو گیا
00:42:51ایک بڑے آدمی نے کہا
00:42:53جس کے ساتھ ایک نوجوان عورت بھی تھی
00:42:56ان لوگوں کو دیکھ کر پوچھا
00:42:58بیٹی ہے ہماری
00:43:00مرد نے جلدی سے کہا
00:43:02تبیت غراب ہو گئی ہے
00:43:04اسے اکثر اس قسم کے دورے پڑھتے رہتے ہیں
00:43:07عورت نے لکمہ دیا
00:43:08بس بیٹھے بٹھائے اچانک
00:43:10عورتوں کے ساتھ اکثر ایسا ہوتا ہے
00:43:13بڑے کے ساتھ موجود عورت نے
00:43:15پورا سا مو بناتے ہوئے کہا
00:43:17میں کچھ مدد کروں تم لوگوں کی
00:43:19نہیں نہیں
00:43:21عورت نے جلدی سے کہا
00:43:22ہم اسے لے جائیں گے
00:43:24ہماری کشتی قریب ہی موجود ہے
00:43:26وہ دونوں تیز تیز چلتے ہوئے گھاٹ کے
00:43:28اس صرف بڑھنے لگے
00:43:29جدر کئی چھوٹی چھوٹی کشتیاں کھڑی ہوئی تھی
00:43:31کچھ اور لوگوں نے بھی
00:43:34انہیں ایک چھوٹی لڑکی کو سہارا دیکھ کر لے جاتے ہوئے بھی دیکھا
00:43:37ایک عورت نے آگے بڑھ کر مدد کی پیشکش کی
00:43:40لیکن ان لوگوں نے
00:43:42اس کا شکریہ آدھا کرتے ہوئے معاذت کر لی
00:43:45اس کے ساتھ تو اکثر ایسا ہو جاتا ہے
00:43:47عورت نے پھولی ہوئی سانسوں کے ساتھ کہا
00:43:49ہم اس کا علاج کروا رہے ہیں
00:43:51کسی عامل
00:43:53پیر فقیر یا جوگی کے پاس لے جاؤ
00:43:55عورت نے چلتے چلتے مشورہ دیا
00:43:58ان لوگوں کے پاس ہی اس کا علاج ہوگا
00:44:00ڈاکٹری دوائیوں سے کچھ نہیں ہوگا
00:44:03اس زوران وہ عورت
00:44:04اور آدمی بے ہوش ماجدہ کو سنبھالے ہوئے
00:44:07کافی آگے نکل گئے تھے
00:44:09اور اس عورت کی آواز مدم پڑھتی جا رہی تھی
00:44:12ذرا جلدی
00:44:13عورت نے مر سے سرگوشی میں کہا
00:44:15اس کے ساتھ کا لڑکا کہیں واپس نہ آجائے
00:44:18بس چند قدم اور
00:44:20آدمی نے پھولی ہوئی سانسوں کے ساتھ کہا
00:44:22اور تیزی سے کشتی کی طرف بڑھ گیا
00:44:25چھوٹی سی کشتی میں
00:44:26صرف چند ہی لوگوں کے بیٹھنے کی گنجائش تھی
00:44:29ایک آدمی کشتی میں پہلے سے موجود تھا
00:44:32اب تین افراد
00:44:34اس میں داقل ہو گئے
00:44:35اور ان کے داقل ہونے کے ساتھ ہی
00:44:38کشتی تیزی سے وہاں سے روانہ ہو گئی
00:44:40ان لوگوں نے ماجدہ کو
00:44:41کشتی کے فرش پر لٹا دیا تھا
00:44:44اور اب کشتی کے اندر داقل ہوئے بغیر
00:44:46اسے دیکھا نہیں جا سکتا تھا
00:44:48ماجدہ اس وقت
00:44:49مکمل بے ہوشی کی حالت میں تھی
00:44:51اور اگر بار بار ساحل کی طرف
00:44:53اس سمد میں دیکھ رہی تھی
00:44:55جدھر سے اس لڑکی کے تایہ
00:44:57ذات بھائی کو آنا تھا
00:44:58ابھی کافی اجالہ تھا
00:45:00اور مناظر بلکل صاف طور پر نظر آ رہے تھے
00:45:03اس لڑکے کا ابھی کہیں پتہ نہیں تھا
00:45:06اپنے تایہ ذات بھائی کے ساتھ یہاں آئی تھی
00:45:08عورت نے مسکرا کر
00:45:10اپنے ساتھ موجود دونوں مردوں سے کہا
00:45:12دونوں مہدو پور کے رہنے والے ہیں
00:45:15بھائی کہاں گیا
00:45:16کشتی میں موجود
00:45:18مرد نے پوچھا
00:45:20ذرا دیر کے لیے بزار تک گیا ہے
00:45:23عورت نے کہا
00:45:24کلم خریدنے گیا ہے
00:45:26ابھی آتا ہی ہوگا
00:45:28اب کسی بھی وقت آئے
00:45:30کوئی پروا نہیں ہے
00:45:31عورت کے ساتھ والے مرد نے کہا
00:45:34اندھیرہ ہونا شروع ہو گیا تھا
00:45:37اور کشتی بڑی تیزی کے ساتھ
00:45:38پانی کی سطح پر پھسلتی چلی جا رہی تھی
00:45:41آس پاس اور بھی
00:45:43کشتیاں پانی سے سرسراتی ہوئی
00:45:46چلی رہی تھی
00:45:46اور مانجیوں کے گیت شام کے سرمائی رنگ میں
00:45:50ایک نیا آہنگ گھول رہے تھے
00:45:52لیکن ماجدہ ان سب چیزوں سے بلکل بے خبر تھی
00:45:55کوئی بہت زور زور سے بڑی دردناک آواز میں رو رہا تھا
00:45:59ماجدہ کے کانوں میں رونے کی آوازیں آ رہی تھی
00:46:02لیکن یہ بڑی عجیب سی آواز تھی
00:46:05ان میں جو درد گھلا ہوا تھا
00:46:07وہ جیسے کانوں کو پگلائے دے رہا تھا
00:46:10کیا یہ دیو داس کے رونے کی آوازیں ہیں
00:46:12کیا یہ دیو داس کے رونے کی آوازیں تھی
00:46:14ماجدہ کے منتشر اور شکستہ وجود کے اندر سے
00:46:19کہیں سے ایک سوال ابرا
00:46:21نہیں نہیں
00:46:22دیو تو نہیں رویا تھا
00:46:24دیو تو کسی وقت بھی نہیں رویا تھا
00:46:27روئی تو پارو تھی
00:46:28روئی تھی
00:46:30چلائی تھی
00:46:31بھاگی تھی
00:46:32دھوڑی تھی
00:46:33تو کیا یہ پارو کی رونے کی آوازیں تھی
00:46:37مگر پارو یہاں کہاں سے آگئی تھی
00:46:40وہ تو بس سینیما گھر میں تھی
00:46:42اور فلم میں تھی
00:46:43اور اب تو وہ خدا جانے کہاں ہوگی
00:46:46میں اس کی آوازیں کس طرح سن رہی ہوں
00:46:48ایک گہری گدلی دھون تھی
00:46:51جو ماجدہ کے دل و دماغ پر تاری تھی
00:46:53وہ نہ جانے کون سی دنیا میں تھی
00:46:56اور کیسی آوازیں سن رہی تھی
00:46:58یہ دھون رفتہ رفتہ
00:47:00چھٹتی جا رہی تھی
00:47:01لیکن اس کے چھٹنے کی رفتار بہت سست تھی
00:47:04پھر ماجدہ نے خیر شعوری طور پر
00:47:08اپنے آپ سے لڑنا شروع کر دیا
00:47:09وہ اس گہری دھون سے باہر آنا چاہتی تھی
00:47:12وہ اپنے وجود کو تلاش کر رہی تھی
00:47:15آوازیں اس کا پیچھا نہیں چھوڑ رہی تھی
00:47:17یہ کیفت نہ جانے
00:47:19کتنی دیر جاری رہی
00:47:20اور پھر ماجدہ پورے طور سے
00:47:23ہوش میں آگئی
00:47:24اس کی آنکھیں کھل گئیں
00:47:26اور اس نے اپنے سر کو
00:47:28ادھر ادھر گھومانے کی کوشش کی
00:47:30فوراں ہی اس کو اتنے زور کا چکر آیا
00:47:32کہ وہ ایک دم ساکت ہو گئی
00:47:35اس نے اپنے آپ کو
00:47:36زمین پر ایک بسر پر پڑے ہوئے پایا
00:47:38آواز برابر آ رہی تھی
00:47:41لیکن اب یہ
00:47:42اس سے دیوداز یا پاروتی کی رونی کی آوازیں
00:47:45نہیں لگ رہی تھی
00:47:46اس نے ان آوازوں کو پہچاننا شروع کر دیا
00:47:49یہ گیدروں کے زور زور سے
00:47:51خوفناک انداز میں بولنے کی آوازیں تھی
00:47:53یہ ایک دو گیدر نہیں تھے
00:47:55یہ بہت سارے گیدر تھے
00:47:57جو غول بنا کر
00:47:58ایک جگہے کھٹے ہو گئے تھے
00:48:00اور زور زور سے چلا رہے تھے
00:48:02ماجدہ کے لیے
00:48:04گیدروں کی آواز اجنے بھی نہیں تھی
00:48:06مہدو پور میں شام کان دھیرہ ہونے کے بعد
00:48:09قریبی جنگل کے طرف سے
00:48:10گیدروں کے بولنے کی آوازیں آنی شروع ہو جاتی تھی
00:48:16کے لیے آنے والے جانوروں میں
00:48:17گیدر بھی شامل ہوتے تھے
00:48:20جو اکثر وہاں کھڑے ہو کر
00:48:21آوازیں نکالتے تھے
00:48:23رات گئے تو گیدر گاؤں کے اندر بھی گھوس آتے تھے
00:48:27دور و نزدیک سے
00:48:29ان کی آوازیں سنائی دیتی
00:48:30کبھی کسی آہاتے میں
00:48:33کسی دڑبے کا دروازہ کھلا رہ جاتا
00:48:35یا کوئی
00:48:37گیدر اسے کھولنے میں کامیاب ہو جاتا
00:48:39تو مرگیوں کی شامت آ جاتی تھی
00:48:41لیکن
00:48:42ایک آدھ مرگی سے زیادہ کا نقصان نہیں ہوتا تھا
00:48:46کیونکہ مرگیوں کے شور سے
00:48:47گھر والوں کی آنکھ کھل جاتی تھی
00:48:49اور پھر گیدروں کو بھگا دیا جاتا تھا
00:48:52مگر یہ کیسا شور تھا
00:48:55اتنے سارے گیدر تو گھر کے باہر
00:48:57کبھی جمع نہیں ہوتے تھے
00:48:59ماجدہ نے ایک بار
00:49:00پھر اپنے سر کو
00:49:02ادھر سے ادھر حرکت دی
00:49:04اور ایک بار
00:49:05اس سے سر گھومانے میں کامیابی حاصل ہو گئی
00:49:08سر چکرائیا تو
00:49:09ضرور لیکن
00:49:11بہت زیادہ نہیں
00:49:12اس نے جلدی سے ادھر اردھر دیکھا
00:49:15رات کا نہ جانے کونسا وقت تھا
00:49:18لیکن یہ گھر کو کیا ہو گیا تھا
00:49:20وہ ایک اجنبی کمرے میں تھی
00:49:22جو کبھی اس کے اپنے گھر کا حصہ نہیں تھا
00:49:25کمرہ چھوٹا تھا
00:49:27اور سامنے دیوار میں ایک تاگ بنا ہوا تھا
00:49:30جس میں بہت ہی مدھم لوو والی
00:49:32ایک لالٹین جل رہی تھی
00:49:33جس کی ناتوا
00:49:35روشنی دم توڑتی ہوئی لگ رہی تھی
00:49:37ماجدہ ایک جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھ گئی
00:49:40ایک دم اسے پھر
00:49:42بہت زور کا چکر آیا
00:49:43اور وہ گرنے لگی
00:49:45لیکن اس نے اپنے آپ کو سنبھال لیا
00:49:48اس نے جلدی جلدی اپنے اطراف میں نظر دوڑھائی
00:49:50زمین پر ایک لمبی سی دری بچھی ہوئی تھی
00:49:53جس کا رنگ
00:49:55نیم مردہ روشنی میں
00:49:56صرف کالا کالا سیاہ ہی لگ رہا تھا
00:50:00اس ذریع پر
00:50:01دو لڑکیاں آڑی ترچی پڑی چھو رہی تھی
00:50:04ان کی شکلیں صاف نظر نہیں آ رہی تھی
00:50:07لیکن انداز سے وہ لڑکیاں ہی معلوم ہوتی تھی
00:50:10اچانک ماجدہ کے دماغ میں
00:50:12ایک قیامت برپا ہو گئی
00:50:14اس کے سوئے ہوئے
00:50:15اساب پوری طرح بیدار ہو گئے تھے
00:50:18اور اسے
00:50:19سب کچھ یاد آ گیا
00:50:20وہ تو کھلنا میں تھی
00:50:22ہاشم کے ساتھ
00:50:24فلم دیکھنے گئی تھی
00:50:25ان دونوں نے دیوداز دیکھے تھی
00:50:27اور پھر وہ اپنے گھر جانے کے لیے
00:50:30کشتی میں سوار ہونے کی غرض سے
00:50:31گھاٹ پر آ گئے تھے
00:50:33پھر ہاشم کلم خریدنے چلا گیا تھا
00:50:35وہ اکیلی بیٹی تھی
00:50:37اور پھر وہ عورت
00:50:39اس کے پاس آ کر
00:50:40اس سے میٹھی میٹھی باتیں کرنے لگی تھی
00:50:42پھر اس عورت نے
00:50:44اسے ایک پان کھلایا تھا
00:50:46ہاں پان
00:50:47دبیا میں سے نکال کر پہلے خود کھایا تھا
00:50:50اور پھر اسے کھلایا تھا
00:50:51اور پھر پان کھانے کے بعد
00:50:53اسے کچھ ہوش نہیں رہا تھا
00:50:55یک بارگی شدید خوف کی
00:50:57ایک تیز و تن لہر
00:50:59اس کے دلوں دماغ میں
00:51:00ہشر برپا کرنے لگی
00:51:02کیا ہو گیا تھا
00:51:04وہ کہاں آ گئی تھی
00:51:06گھاٹ کہاں تھا
00:51:08کھلنا کہاں تھا
00:51:10ہاشم کہاں تھا
00:51:12اس کا اپنا گھر کہاں تھا
00:51:15مادوپور کہاں تھا
00:51:17خوف
00:51:17بہشت
00:51:18وحشت
00:51:20اور
00:51:20تشفیش کے مارے
00:51:22اس کی جان نکلنے لگی
00:51:23ہوش میں آنے کے بعد
00:51:25اسے اپنے سارے جسم میں
00:51:27ایک سخت کمزوری
00:51:29کا احساس ہو رہا تھا
00:51:30اور اب
00:51:31کمزوری میں
00:51:32کپکپاہٹ بھی شامل ہو گئی تھی
00:51:33وہ کہاں آ گئی تھی
00:51:35اس نے اٹھ کر
00:51:37کھڑے ہونے کی کوشش کی
00:51:38لیکن وہ
00:51:39فوری طور پر
00:51:40کھڑی نہیں ہو سکی
00:51:41سہارا لینے کینیے
00:51:43چیز نہیں تھی
00:51:44اور وہ فرش پر تھی
00:51:46دو دفعہ کی کوشش کے بعد
00:51:48وہ اس طرح کھڑی ہو سکی
00:51:50کہ اس نے سرہانے کی طرف
00:51:52سرک کر
00:51:53دیوار کا سہارا لیا
00:51:55اور پھر آہستہ آہستہ
00:51:56کھڑی ہو گئی
00:51:57نیم تاریکی میں
00:51:59وہ کمرے کے دروازے
00:52:01کے دھندلے خطوط
00:52:02کو دیکھ سکتی تھی
00:52:03وہ سنبھل سنبھل کر
00:52:05چلتی ہوئی
00:52:06وہاں تک پہنچی
00:52:07اور اس نے
00:52:08اس کو کھولنے کی کوشش کی
00:52:10دروازہ باہر سے بند تھا
00:52:13وہ کافی زور لگانے کے
00:52:14باوجود
00:52:15اس سے نہیں کھول سکی
00:52:16کمرے میں
00:52:18اس کے علاوہ
00:52:18اور کوئی دوسرا دروازہ
00:52:20نہیں تھا
00:52:21ایک کھڑکی تھی
00:52:22جو کھولی ہوئی تھی
00:52:24لیکن اس میں
00:52:25سلاقیں لگی ہوئی تھی
00:52:26گیدروں کی خوفناک
00:52:28آوازیں
00:52:29اسی کھڑکی کے پیچھے سے
00:52:30آ رہی تھی
00:52:31وہ اس کھڑکی کے پاس
00:52:32جا کر کھڑی ہو گئی
00:52:34آوازیں کبھی
00:52:35متم پڑ جاتی تھی
00:52:36کبھی تیز ہو جاتی تھی
00:52:37اور کبھی
00:52:38ان کے جواب میں
00:52:39بہت دور دور سے
00:52:41آنے والی حلکی آوازیں
00:52:43بھی سنائی دینے لگی تھی
00:52:44یہ کیا ہو گیا تھا
00:52:47وہ کہاں آگئی تھی
00:52:48اس کا دماغ پھٹا جا رہا تھا
00:52:51ہاشم
00:52:52ہاشم کہاں ہوگا
00:52:54جب وہ واپس آیا ہوگا
00:52:56اور اس نے مجھے وہاں
00:52:57نہ پایا ہوگا
00:52:59تو پھر
00:52:59اس پر کیا بیتی ہوگی
00:53:01اس نے کیا کیا ہوگا
00:53:04اس نے مجھے
00:53:05نہ جانے کہاں
00:53:06کہاں تلاش کیا ہوگا
00:53:07ہائے ہاشم
00:53:09ہاشم میں تو یہاں ہوں
00:53:11نہ جانے کہاں
00:53:13تم مجھ تک
00:53:13کس طرح پہنچ سکتے ہو
00:53:15وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی
00:53:17اس کا کلیجہ کٹ کٹ کر
00:53:19آسوں کی شکل میں گرنے لگا
00:53:21اس کے رونے کی آواز
00:53:22تیز سر ہوتی گئی
00:53:24اس نے اپنا سر
00:53:25کھڑکی کی آہانی سلاخوں پر رکھ دیا
00:53:28اور زور زور سے رونے لگی
00:53:30رات کے گہرے
00:53:31اور پور اسرار سناٹے میں
00:53:33گدرنوں کے بیانک آوازوں کے علاوہ
00:53:36اب اس کے اپنے رونے کی آواز بھی شامل ہو چکی تھی
00:53:39یوں لگتا تھا
00:53:40جیسے رات کے اس نامعلوم حصے میں
00:53:43دنیا سے زندگی کا وجود ختم ہو گیا ہے
00:53:46اور بھیانک
00:53:47بے نام آوازیں باقی رہ گئی ہیں
00:53:50فرش پر
00:53:51سوئی ہوئی لڑکیوں کو
00:53:53کچھ خبر نہیں تھی
00:53:54کہ ان کے اردگرد کیا ہو رہا ہے
00:53:57وہ گہری نیند میں تھی
00:53:58ماجدہ بڑی دیر تک
00:54:00کھڑکی میں کھڑی روتی رہی
00:54:02اس نے کھڑکی کو ہلا جلا کر دیکھا
00:54:05اس کی مضبوط آہانی سلاخیں
00:54:07اپنے جگہ سے ٹسے مس نہیں ہوئی
00:54:09البتہ اس کے ہاتھوں میں ضرور درد ہو گیا تھا
00:54:13رات کا نہ جانے
00:54:14کون سا وقت ہوگا
00:54:16حاشم کہاں ہوگا
00:54:19اور کیا کر رہا ہوگا
00:54:21امہ اور اببہ کیا کر رہے ہوں گے
00:54:23ان سب لوگوں کے دل کی
00:54:25کیا حالت ہوگی
00:54:27درد انگیز خیالات کا ایک حجوم تھا
00:54:31جو اس کے دل و دماغ میں
00:54:32ہشر برپا کیے ہوئے تھا
00:54:34کچھ دیر کے بعد
00:54:36وہ واپس آ کر
00:54:38فرش پر بسر پر بیٹھ گئی
00:54:40اور اس نے
00:54:42اپنے سر کو دونوں گھٹنوں میں چھپا لیا
00:54:45اس طرح وہ اندھیرے میں ڈوب گئی
00:54:48لیکن وہ تو پہلے ہی بوری طرح اندھیرے میں ڈوبی ہوئی تھی
00:54:52اس کے سارے وجود میں اندھیرہ اگلتا جا رہا تھا
00:54:57بہت دیر ہو گئی
00:54:59نہ جانے گھنٹے بیٹھ گئے
00:55:00یا صدیان کچھ پتہ نہیں
00:55:03وقت کا احساس ہی جیسے
00:55:05اس کے دل سے مٹ گیا تھا
00:55:08گیدڑوں کی خوفنک آوازیں
00:55:11بہت دیر ہوئی ختم ہو چکی تھی
00:55:13سناٹا اور زیادہ گہرہ ہو گیا تھا
00:55:16یک بارگی
00:55:18اس سناٹے کو
00:55:19کچھ ہلکی ہلکی آوازیں
00:55:21کٹنے لگی
00:55:22ماجدہ غور سے ان آوازوں کو سننے لگی
00:55:25اور تب
00:55:26اس پر یہ انکشاب ہوا کہ
00:55:28یہ چڑیوں کی چہچہاتی آوازیں ہیں
00:55:31یہ ابھی بہت ہلکی ہلکی تھی
00:55:34شاید چڑیوں نے ابھی چہچہانا شروع کیا تھا
00:55:38اچھا تو گویا صبح ہو رہی ہے
00:55:41ماجدہ نے اپنے سر گھٹنوں پر سے اٹھایا
00:55:44کمرے کی نیم تاریکی میں
00:55:47ابھی کوئی کمی واقعہ نہیں ہوئی تھی
00:55:49سب کچھ ویسا ہی تھا
00:55:52لڑکیاں فرش پر
00:55:53آڑی ترچی ہی پڑی ہوئی تھی
00:55:55چڑیوں کے چہچہانے کا شور بڑھتا گیا
00:55:58صبح ہو رہی ہے
00:55:59بابا نماز کے لئے اٹھ گئے ہوں گے
00:56:03مسجد میں ازان ہو چکی ہوگی
00:56:06امبا چولہ جلانی کے تیاری کر رہی ہوں گی
00:56:09ہائے
00:56:10ہائے میں کہاں ہوں
00:56:12حاشم
00:56:14حاشم میں کہاں ہوں
00:56:16تم کہاں ہوں حاشم
00:56:18ماجدہ کی سسکیاں صبح کے
00:56:21ملگی جی اجالے میں گھلنے لگیں
00:56:23کھڑکی سے صبح کی روشنی اندر آنے شروع ہو گئی
00:56:28اور کمرے کا منظر روشن ہونے لگا
00:56:31ماجدہ نے ان دونوں لڑکیوں کو گھوٹ سے دیکھا
00:56:34وہ دونوں ابھی دکھ سو رہی تھی
00:56:37دونوں چھوٹی لڑکیاں تھی
00:56:39تقریباً ماجدہ کی حمل عمر
00:56:41ایک کا رنگ گندوی تھا
00:56:44اور دوسری کافی زیادہ گوری تھی
00:56:46ماجدہ کی طرح
00:56:48ان دونوں کے بال بکھرے ہوئے تھے
00:56:51اور ایسا لگتا تھا جیسے
00:56:53ان کو بہت دن ہو گئے بال کارے ہوئے
00:56:55ان کے کپڑے بھی
00:56:57میلے کچیلے اور مسلے ہوئے تھے
00:56:59معلوم ہوتا تھا
00:57:01کافی دنوں سے وہ رات دن
00:57:02یہی کپڑے پہنے ہوئے تھے
00:57:04چڑیوں کے چہ چہارے کا شور
00:57:06اپنے عروج پر تھا
00:57:08اچانک گوری رڑکی
00:57:09قسمہ سائی اور
00:57:10پھر اس نے کروٹ بدلتے ہوئے آگ کھول دی
00:57:13چند لبوں تک
00:57:15وہ حیران حیران نظروں سے
00:57:17ماجدہ کو دیکھتی رہی
00:57:18اور پھر ایک جھٹکے کے ساتھ
00:57:21اٹھ کر بیٹھ گئی
00:57:22تم
00:57:23تم کون ہو
00:57:24اس نے
00:57:26سہمی ہوئی آواز میں پوچھا
00:57:28تم یہاں کب آئی
00:57:30میں
00:57:31میں ماجدہ ہوں
00:57:33ماجدہ نے جواب دیا
00:57:35مجھے نہیں معلوم کہ
00:57:37مجھے یہاں کس وقت لائے گیا
00:57:39اس کی آواز
00:57:41حلق میں پھسنے لگی
00:57:43میں کچھ نہیں جانتی
00:57:44مجھے کون یہاں لائیا
00:57:46کب لائیا
00:57:48اور وہ زور زور سے رونے لگی
00:57:51اسی وقت دوسری لڑکی بھی اٹھ بیٹھی
00:57:54ارے
00:57:55اس نے حیران ہو کر
00:57:57روتی ہوئی ماجدہ کی طرف دیکھ کر کہا
00:57:59تم کون ہو
00:58:01چند منٹ کے اندر اندر
00:58:02تینوں لڑکیاں ایک دوسرے سے واقع ہو گئیں
00:58:05گوری لڑکی کا نام
00:58:07محمونہ تھا
00:58:08گندوں بھی رنگ والی لڑکی کا نام
00:58:10فردوسی تھا
00:58:11ان دونوں کو بھی ماجدہ کی طرح پکڑا گیا تھا
00:58:15وہ دونوں ماجدہ کے بارے میں
00:58:17جلد دس جلد
00:58:19سب کچھ جان لینا چاہتی تھی
00:58:20ماجدہ بھی ان دونوں کے بارے میں
00:58:24جلد دس جلد
00:58:25سب کچھ جان لینا چاہتی تھی
00:58:26لیکن اس وقت
00:58:28اس کے ہوش و حواس
00:58:29بجا نہیں تھے
00:58:31اور وہ ٹھیک سے بات بھی نہیں کر پا رہی تھی
00:58:34تاہم کے
00:58:36ساتھ جو کچھ گزری تھی
00:58:38اس کے بارے میں
00:58:40اس نے
00:58:40فردوسی اور میمونہ کو مقتصیر بتا دیا
00:58:43ابھی وہ آتے ہوں گے
00:58:44فردوسی نے سرگوشی میں کہا
00:58:46جب وہ آ کر چلے جائیں گے
00:58:49تو پھر اس کے بعد
00:58:50ہم کھل کر باتیں کر سکیں گے
00:58:52کون
00:58:52ماجدہ نے چونک کر کہا
00:58:55کون آئیں گے
00:58:56وہ
00:58:57وہ جنہوں نے
00:58:58ہم کو یہاں بند کر کر رکھا ہے
00:59:01میمونہ نے کہا
00:59:03وہ کون لوگ ہیں
00:59:05ماجدہ نے پوچھا
00:59:07وہ تین افراد ہیں
00:59:09میمونہ نے کہا
00:59:11آمنہ ہے
00:59:12اور دو آدمی ہیں
00:59:13شاہ میاں اور فرید
00:59:16بس یہی تینوں
00:59:17یہاں آتے ہیں
00:59:18وہی ہماری دیکھ پھال کرتے ہیں
00:59:21بڑے خراب لوگ ہیں
00:59:23فردوسی نے
00:59:24آنکھوں میں آنسو بھر کر کہا
00:59:26ہمیں ایک پر کے لیے بھی
00:59:29اس مکان سے بار نہیں جانے دیتے
00:59:31اور ہم
00:59:32اور ہم سے گھر کا کام بھی کرواتے ہیں
00:59:36میں اپنے گھر جانا چاہتی ہوں
00:59:38میں اپنے ماں باپ کے پاس جانا چاہتی ہوں
00:59:41معلوم نہیں
00:59:42وہ مجھے کہا کہا
00:59:43تلاش کر رہے ہوں گے
00:59:45فردوسی رونے لگی
00:59:46ان لوگوں نے ہمیں
00:59:48قیدی بنا کر رکھا ہے
00:59:49میمونہ کہنے لگی
00:59:51خدا معلوم
00:59:52یہ ہمارے ساتھ کیا کرنا چاہتے ہیں
00:59:54کچھ بتاتے بھی نہیں
00:59:56اور چھوڑتے بھی نہیں
00:59:58جانے ہماری تقدیر میں کیا لکھا ہے
01:00:01میمونہ کی بات ابھی ختم ہی ہوئی تھی
01:00:03کہ دروازے کے باہر آٹھ سنائے دی
01:00:06اور پھر دروازہ کھل گیا
01:00:08دروازے میں داخل ہونے والی
01:00:11ایک پستا کت کی
01:00:12کالی اور موٹی عورت تھی
01:00:15جو بہت بدصورت تھی
01:00:17وہ دروازہ کھول کر
01:00:19دیر تک دروازے میں ہی کھڑی رہی
01:00:22اندر کا جائزہ لیتی رہی
01:00:25اس کی نظریں
01:00:26ماجدہ کے چہرے پر جمی ہوئی تھی
01:00:28ماجدہ نے اس عورت کو پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا
01:00:32یہ وہ عورت نہیں تھی
01:00:34جس نے ماجدہ کو پان کھلایا تھا
01:00:37اچھا تو تم ماجدہ ہو
01:00:39موٹی کالی بدصورت عورت نے ماجدہ سے مخاطب ہو کر کہا
01:00:43اب جبکہ تم یہاں آگئی ہو تو
01:00:46اچھی طرح سن لو
01:00:48کہ یہاں سے بھانگنے کی کوشش نہ کرنا
01:00:51اور کوئی الٹی سیدھی حرکت نہ کرنا
01:00:54جو کچھ تم سے کہا جائے وہی کرنا
01:00:57میں گھر جانا چاہتی ہوں
01:00:59ماجدہ نے روتے ہوئے کہا
01:01:01خدا کے لیے
01:01:03مجھے میرے گھر جانے دو
01:01:05میرے بابا اور میری اممہ بہت پریشان ہوں گے
01:01:09ضرور جانے دیں گے
01:01:11موٹی عورت نے کہا
01:01:13لیکن ایسی بھی کیا جلدی ہے
01:01:15کچھ دنوں کے انہی ہمارے ساتھ رہ لو
01:01:18ہم تمہیں ماریں
01:01:20تو نہیں
01:01:21کچھ دنوں کے بعد
01:01:23تمہیں تمہارے گھر بھیج دیا جائے گا
01:01:25اور اب اٹھو
01:01:27باہر نکلو
01:01:29اس نے ماجدہ کے جواب کا انتظار کیے بغیر
01:01:32تینوں کو حکم دیا
01:01:34میمونہ اور فردوسی
01:01:36فوراں ہی اٹھ کر کھڑی ہو گئی
01:01:38اور ان کے ساتھ ہی ماجدہ بھی
01:01:41اور وہ تینوں کمرے سے باہر نکلائیں
01:01:43کمرے کے باہر ایک برامدہ تھا
01:01:46اس میں چار پائی پر دو آدمی بیٹھے ہوئے تھے
01:01:50دونوں نے ماجدہ کو غور سے دیکھا
01:01:52اس عورت کی طرح
01:01:54وہ دونوں بھی ماجدہ کے لیے اجنبی تھے
01:01:57لڑکیوں کو ہاتھ مودھ ہونے کا موقع دیا گیا
01:02:01اور اس کے بعد عورت انہیں ساتھ لے کر باورچی خانے میں داخل ہو گئی
01:02:07جو سہن کے ایک کونے میں واقع تھا
01:02:10ماجدہ نے دیکھا
01:02:12کہ دونوں لڑکیوں نے باورچی خانے میں جاتے ہوئی
01:02:16مشینی انداز میں کام کرنا شروع کر دیا
01:02:19انہوں نے چولا جلایا اور ناشتہ تیار کرنے لگی
01:02:23تم یہ برطن دھو ڈالو ماجدہ
01:02:25عورت نے ماجدہ سے
01:02:27تاکم مانا انداز میں کہا
01:02:30آخر تم کھاؤ پیوگی
01:02:31تو کچھ کام بھی تو کرو
01:02:34اور ماجدہ حکم کی تعمل کرنے لگی
01:02:37اس کی آنکھوں سے آسو بہہ رہے تھے
01:02:40لیکن وہ کام کر رہی تھی
01:02:42عورت ان تینوں کی نگرانی کرتی رہی
01:02:45اور وہ کام میں مصروف رہے
01:02:48ناشتہ سب سے پہلے دونوں مردوں اور
01:02:51اس عورت کو دیا گیا ان تینوں نے چار پائی پر بیٹھ کر ناشتہ کیا
01:02:56پھر تینوں لڑکیوں کو بھی ناشتہ کروایا گیا
01:02:59چلو اب سبزی بنا لو
01:03:00عورت نے برامدے کے ایک کونے میں لگے ہوئے سبزی کے ایک
01:03:05دھیر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
01:03:07تم بھی
01:03:08اس نے ماجدہ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا
01:03:11تم بھی ان کے ساتھ لگ جاؤ
01:03:14کھانا جلدی تیار ہو جائے گا
01:03:17سبزی اور چاول
01:03:19تینوں لڑکیوں کی محنت سے کھانا تیار ہو گیا
01:03:22ماجدہ کسی سہر زیادہ
01:03:23معمول کی طرح کام کر رہی تھی
01:03:25وہ جانتی تھی
01:03:27کہ یہ لوگ اسے یہاں سے جانے نہیں دیں گے
01:03:31جس طرح انہوں نے
01:03:32مہمونہ اور فردوسی کو نہیں جانے دیا تھا
01:03:35اور انہیں قیدی بنا کر رکھا ہوا تھا
01:03:39وہ شدید بے بسی اور لاچاری کے عالم میں
01:03:42ان دونوں کی طرح
01:03:43لوگوں کے احکامات کو ماننے پر مجبوط تھی
01:03:47حکم عدولی کی گنجائش نہیں تھی
01:03:50مردوں کی نظروں میں بڑی کروار تھی
01:03:54ماجدہ کو تو ان کی طرف دیکھتے ہوئے بھی ڈر لگ رہا تھا
01:03:58لڑکیوں سے گھر کی صفائیت سترائی اور
01:04:00کچھ کپڑے دھونے کا کام بھی لیا گیا تھا
01:04:04یہاں تک کہ ان کاموں میں دوپیر ہو گئی
01:04:07عورت نے پکے ہوئے کھانے میں سے کچھ کھانا ایک برطن میں بھر کر
01:04:13برطن کو کپڑے میں باندھ لیا
01:04:15ماجدہ کو ایسا لگ رہا تھا
01:04:18جیسے یہ سب کچھ روز کا معمول ہو
01:04:21لڑکیوں کے لیے کھانا چھوڑ دیا گیا
01:04:25اب تم لوگ کھانا کھالو
01:04:27کھانا کھالو عورت نے کہا
01:04:30اور پھر وہ دونوں مردوں کے ساتھ جانے کے لیے تیار ہو گئی
01:04:34ماجدہ دوڑ کر اس کے پیروں سے لپٹ گئی
01:04:37خدا کے لیے مجھے یہاں سے جانے دو
01:04:40میں اپنے گھر جانا چاہتی ہوں
01:04:42میرے بابا اور میری اممہ کس قدر پریشان ہو رہے ہوں گے
01:04:46ارے کیوں شور مچا رکھا ہے
01:04:49ایک آدمی نے اس کو عورت کے پیروں سے الادہ کرتے ہوئے
01:04:54قدر نلم لہجے میں کہا
01:04:56جانے دیں گے
01:04:58سبر سے کام لو
01:05:00تم اپنے ماں باپ سے ضرور ملو گی
01:05:02مگر تم لوگ مجھے یہاں کیوں لائے ہو
01:05:05ماجدہ نے روتے ہوئے کہا
01:05:07وہ عورت کون تھی جس نے مجھے بے ہوشی والا پان کھلایا تھا
01:05:11تم لوگ مجھ سے کیا چاہتے ہو
01:05:14اپنے دماغ پر زیادہ بوجھ مت ڈالو
01:05:17اور کھانا کھا کر آرام سے سو جاؤ
01:05:19دوسرے آدمی نے کہا
01:05:22کیا یہ کافی نہیں ہے
01:05:24کہ تم زندہ سلامت ہو
01:05:26اور تمہارے ہاتھ پر ناک کان سلامت ہے
01:05:30انسان اگر صحیح سالم حالت میں زندہ رہے تو
01:05:33پھر سب کچھ ٹھیک ہے
01:05:35اس میں پریشانی کی کیا بات ہے
01:05:38مگر میں اپنے گھر والوں کے ساتھ زندہ رہنا چاہتی ہوں
01:05:42ماجدہ نے گرگڑا کر کہا
01:05:45فی الحال تو ہمارے ساتھ زندہ رہو آدمی نے کہا
01:05:49پھر گھر والوں کے ساتھ زندہ رہلا
01:05:52عورت نے کھانے سے بھرا ہوا برطن اٹھایا
01:05:54اور وہ تینوں دروازی کی طرف بڑھے
01:05:58ماجدہ سسکیاں لیتی رہ گئی
01:06:00اور وہ تینوں باہر نکل گئے
01:06:02دروازے کو باہر سے بند کر دیا گیا
01:06:04اس چھوٹے سے گھر میں جو ایک کمرے ایک برامدے
01:06:08ذرا سا سہن ایک سائے بان جیسے باورچی خانے اور غسل خانے پر مشتمل تھا
01:06:14اب تینوں کمسی لڑکیوں کے علاوہ
01:06:18اور کوئی نہیں تھا
01:06:20ماجدہ مستقصر روئے جا رہی تھی
01:06:22اور پھر مومنہ اور فردوسی بھی رونے لگے
01:06:24میں اس وقت
01:06:26اور پھر محمونہ اور فردوسی بھی
01:06:30رونے میں اس کے ساتھ شامل ہو گئے
01:06:32آہستہ آہستہ
01:06:34آہستہ گریہ بزاری کا توفان تھما
01:06:36تو پھر آپس میں
01:06:38تفصیلی باتچیت اور معلومات کے تبادلے کا سلسلہ شروع ہوا
01:06:44جو عورت یہاں آئی تھی
01:06:46اس کا نام آمنہ تھا
01:06:48اور وہ لڑکیوں سے کہتی تھی
01:06:50کہ اسے آمنہ چاچی کہا جائے
01:06:52لڑکیاں اس کے مو پر
01:06:55اسے آمنہ چاچی ہی کہتی تھی
01:06:58دو آدمیوں میں سے
01:07:00جس کے چہرے پر ہلکی سی داڑی تھی
01:07:03اس کا نام شاہ میاں تھا
01:07:06اور دوسرے کا نام فرید تھا
01:07:08آمنہ کا یہ بھی اسرار تھا
01:07:10کہ لڑکیاں شاہ میاں اور فرید کے ناموں کے ساتھ بھی
01:07:14چاچا کا دمچھلہ لگا کر انہیں مخاطب کریں
01:07:18وہ تینوں روز صبح کو وہاں آتے تھے
01:07:22اور ان دونوں لڑکیوں سے
01:07:24گھر کا سارا کام کاج کرواتے تھے
01:07:26جس میں ناشتہ تیار کرنا اور کھانا پکانا
01:07:31پھر ناشتہ وہ وہیں کرتے تھے
01:07:33اور کھانا اپنے ساتھ لے کر چلے جاتے تھے
01:07:36لڑکیوں کے لیے کھانا وہیں چھوڑ دیا جاتا تھا
01:07:40جو ان کے دونوں وقت کے لیے کافی ہوتا تھا
01:07:43تھا تھا
Comments

Recommended