00:00حثمانی بادشاہوں کو کھانے میں زہر دے کر کیوں نہیں مارا جا سکتا تھا؟
00:03پرانے وقتوں میں بادشاہوں سے سلطنت ہتھیانے کے لیے انہیں کھانے میں زہر دے کر مار دیا جاتا تھا۔
00:09بعض تاریخ دانوں کے مطابق 1481 میں سلطان محمد فاتح استمبول کو زہر دے کر راستے سے ہٹایا گیا تھا
00:16لیکن پھر اس کے 400 سال بعد تک کسی بھی حثمانی حکمران کو زہر دے کر نہ مارا جا سکا۔
00:21سلطنت عثمانیہ کے حکمرانوں نے ایسی سازشوں سے بچنے کے لیے چینی پرسلین کے خاص برطن بنوائے ہوئے تھے
00:28جو انتہائی مہنگے ہونے کی وجہ سے شہانہ علامت تو تھے ہی ساتھ ساتھ ان کی خاص بات یہ تھی
00:34کہ اگر ان میں زہرالود چیز ڈالی جائے تو وہ برطن رنگ بدل لیتے تھے یا تڑک سے ٹوٹ جاتے تھے۔
00:40ترکیہ اور خلافت عثمانیہ کا حال بھی کچھ ایسا ہی ہوا
00:43اپنوں ہی کی زہرالود سازشوں کے نتیجے میں ترکیہ نے رنگ بدلہ اور خلافت تڑک سے ٹوٹ گئی۔
00:49کیا آپ کبھی مسلمان ایک خلیفہ کے جھنڈے تلے اکٹھے ہوں گے؟
Comments