00:00I
00:30Assalamualaikum warahmatullahi wabarakatuh
01:00اگر واپس آنے والے اپنے نیک مقصد میں کامیاب ہو سکیں
01:02پھر تارک بن زیاد کو وہ غاب بھی یاد ہے
01:05جس میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یقین دلائے تھا
01:08کہ سپین کی فتح ضرور ہوگی
01:09اس لئے ان کے دل میں کسی قسم کا کوئی بھی خوف نہیں تھا
01:12وہ پور امید تھے
01:13پھر اسلامی لشکر کا ہر سپائی یہ بھی جان چکا تھا
01:16کہ ہم نے سپین کو حرال میں فتح کرنا ہے
01:18اب ہمارا ایک ہی مقصد ہے
01:20یا فتح یا شہادت
01:21ابھی تارک بن زیاد ادگد کے محول اور خوبصورت منظر کو دیکھی رہے تھے
01:26جس سے اسلامی لشکر کے دلوں میں اس خطے کی خوبصورتی بس چکی تھی
01:30اسلامی لشکر پہاڑوں کے دامن میں اترنے لگا
01:32تو ایک آدمی زرد رنگ کا رشت میں لباس پہنے ان کے سامنے آ گیا
01:36اس کا چہرہ بیچانی پریشانی کی وجہ سے مرجھایا ہوا تھا
01:39اس کو دیکھ کر اسلامی لشکر کے سیلار اعظم تارک بن زیاد چلتے چلتے رک گئے
01:44انہوں نے اپنے قریبی ساتھی اور مشیر مغیس الرومی جو عیسائی سے مسلمان ہو چکے تھے
01:50سے کہا یہ آدمی عیسائی لگتا ہے
01:52مغیس الرومی نے آنے والی آدمی کو گھوٹ سے دیکھا اور ہاں کا اشارہ کر دیا
01:56تارک بن زیاد نے اسے کہا کہ وہ آدمی کے پاس جائے اور اس کے آنے کا مقصد پوچھے
02:01مغیس الرومی نے آنے والے شخص کی جانے بڑھے اور اس سے تھوڑی دیر بات چیت کر
02:05کہ اس کو اپنے ساتھ لے کر اپنے صلاح ریاضم کے پاس چلے آئے
02:08تارک نے سوالی نظروں سے اس آدمی کی طرف دیکھا
02:11تو اس نے حاج ہو کر کہا میں ایک درخواست لائے ہوں
02:14اگر آپ میری مدد کریں تو آپ کا مجھ سمیت پول انسانیت پر انسان ہوگا
02:19تارک بن زیاد میں مسکراتے ہوئے اس سے کہا
02:22اپنے ساری بات کھل کر بتاؤ کیونکہ مظلوم کی مدد کے ہی لئے ہم یہاں آئے ہیں
02:27آنے والے آدمی نے اپنے نام امامن بتایا
02:29اور نہایت غمناک آواز میں کہا میں عیسائی ہوں
02:33ہمارے ظالم بادشاہ روڈرک کے ساتھ انہیں میری سالی دولت چھیلی ہے
02:37انہوں نے میری دولت لوٹنے کے بعد میری اکلوتی بیٹی کو بھی اغوا کر لیا ہے
02:42یہ کہہ کر امامن کی آواز بھر گئی اور اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے
02:47تارک بن زیاد اپنی جگہ سے اٹھے اور آگے بڑھ کر امامن کے کندے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا
02:52امامن تم غم مت کرو ہم تمہاری بیٹی کو اس ظالموں سے ضرور ازاد کروائیں گے
02:57مگر اس سے پہلے مجھے اپنے بادشاہ روڈرک کے کردار اور رویے کے متعلق کچھ بتاؤ
03:02امامن نے تارک بن زیاد کی تسلیہ میں اس گفتگو سن کر کہا
03:05اے نیک مسلمان جب سے اس ظالم بڑھے نے اس ملک کی بادشاہ سمالی اعتب سے کسی کی جان و مال اور رجت محفوظ نہیں رہی
03:13اس نے ظلم و ستم کا بزار سجا رکھا ہے وہ جوان لڑکوں کو اغوا کرتا ہے
03:18تارک بن زیاد نے امامن کی بات سنی اور بولا روڈرک کی عمر کتنی ہے
03:22امامن نے کہا اسی سال کے قریب کا ہوگا قبر میں ٹانگیں ہیں مگر ظلم کی انتہا کر رہا ہے
03:27تارک بن زیاد نے امامن کی پوری بات سنی اور کچھ سوچتے ہوئے بولا
03:32کیا تمہاری بیٹی کو روڈرک کے ساتھی وغرا کر لے گئے ہیں یا اس کو زبردسی لے گئے ہیں
03:37امامنی ہاتھ جوڑ کر روتے ہوئے کہا اے نیکل سپاہی میری بیٹی معصوم تھی مجھے پکارتی رہی
03:43مگر وہ غنبے اس کو زبردسی اپنے ساتھ لے گئے ہیں
03:46میں نے اپنی بیٹی کو ان کے چنگل سے چھوڑوانے کی کوشش کی تو انہیں مجھے اس زور سے دھکا دیا
03:51کہ میں دیوار سے جا ٹکرایا اور گر کر بھی اشو گیا
03:54ان ظالموں نے میرے گھر میں سارا مال جو تھا وہ لوٹ لیا اور میری بیٹی کو اپنے ساتھ لے گئے
03:59مجھے اپنی بیٹی کی فکر کھائی جا رہی ہے میں اس غم میں ذہنی توازم کھو رہا ہوں آپ کو اپنے پیاروں کا ورسہ میری ضرور مدد کرے
04:07یہ کہہ کر امامن جو سے رونے لگا تارک بن زیاد نے آگے بڑھ کر اسے گرے لگا لیا اور تسلی دیتے ہوئے کہا
04:13انشاءاللہ بہت جائز تمہاری بیٹی تمہیں مل جائے گی
04:16امامن یہ الفاظ سنے تو چہرے پر مسکراہت لاتے ہوئے بولا
04:20حضور میں اس دن جب بہوش ہو گیا تھا تو مجھے خواہ میں ایک بزرگ نظر آئے تھے جن کی صوفیت داری تھی
04:26انہوں نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور کہا تم غم نہ کرو تمہاری معصوم بیٹی کو ازاد کروانے والے اب تمہارے ملک میں آ چکے ہیں
04:33تم صبر کرو وہ بہت جلد تمہاری مدد کریں گے
04:36میں خوشی سے ان بزرگ کے پاؤں پکڑ لیے میں نے اور درخواست کی کہ مجھے میرے محسن انسان کا حلیہ بتا دی تاکہ میں پہچانوں
04:43انہوں نے کہا ان نیک انسانوں کے سر پر پگڑیاں اور چہرے پرداری ہوگی انہوں نے لمبہ لباس پہنا ہوگا انہیں مسلمان کہتے ہیں
04:51پھر انہوں نے میری فرمائش پر اس مقام کا پتہ بھی سمجھایا جہاں پر آپ لوگ اس وقت کھڑے ہیں
04:58ان مزرگ نے جو حلیہ مجھے بتایا تھا وہ ہو بہو آپ سب کا ہے
05:02یہ کہہ کر امامن نے ہاتھ جوڑ کر تارک بن زیاد کے قدموں میں گر گیا اور کہا
05:07اے مسلمان سپاہی میری مدد کرنے ونہا زالن میری آنکھوں کی ٹھنڈک میری بیٹی کو پتہ نہیں کہاں لے جائیں گے
05:14تارک بن زیاد نے امامن کو بازوں سے پکڑ کر اپنے قدموں سے اٹھایا اور پوچھا
05:19تمہاری بیٹی کا نام کیا ہے امامن نے کہا بلکیس
05:22تارک بن زیاد نے مسکواتے ہوئے کہا یہ تو حیرت سلمان علیہ السلام کی بیوی کا نام تھا
05:27تم لوگ تو ایسے نام نہیں رکھتے
05:29پھر تم نے کس طرح یہ نام اپنی بیٹی کے لئے چنا ہے
05:32امامن نے تارک بن زیاد کا شیری لہجہ دیکھ کر کہا
05:35یہ بات تو سب کو معلوم ہے کہ بلکیس ایک خوبصورت خاتون تھی
05:39میری بیٹی بھی بہت خوبصورت ہے اس لئے میں نے اپنی بیٹی کا نام بلکیس رکھا
05:43تارک بن زیاد نے نرم سے لہجے میں کہا
05:46کیا تم کو علم ہے کہ بلکیس کو کہاں لے جائے گیا ہوگا
05:49امامن نے کہا مجھے ایک عیسائی سوار ملے تھا
05:52تو اتفاق سے ان سپاہیوں میں سے ایک تھا
05:54جو میری بیٹی کو اغوا کر کے لے گئے تھے
05:56اس نے میرے پوچھنے پر بتایا کہ میری بیٹی کو
05:59ظالم بادشاہ رادک کی فوج کے سپاہ سلار
06:01جس کا نام تدمیر تھا اس کے سپرد کر دیا گئے ہیں
06:04تارک بن زیاد نے تلوار پر گریفت مضبوط کرتے ہوئے کہا
06:08تدمیر اس وقت کہا ہوگا
06:09امامن نے مسلمان سپاہ سلار کا عظم اور جذبہ دیکھا
06:12تو کہا وہ یہاں سے پانچ مل کے فاصلے پر
06:15اپنی سپاہیوں کے ساتھ روکا ہوا ہوگا
06:17تارک بن زیاد نے اپنی سپاہیوں کی طرف دیکھا
06:22اور کہا میرے خیال میں آج ہم یہاں رک جاتے ہیں
06:24اور صبح صوری نماز پڑھ کر تدمیر کے لشکر پر حملہ کر کے
06:28اس مظلوم کو انصاف جلاتے ہیں
06:30اور اس کی اغوا شدہ بیٹی کو رہا کروا کر اس کے حوالے کر دیں گے
06:34اپنے سپاہ سلار کے بعد سن کر تمام فوجی افسروں نے بھی اس تجویز کو مان لیا
06:38پھر اسلامی لشکر نے اس ساحل پر رات گزاری
06:41مسلمان لشکر اپنے ساتھ خیمے نہیں لے تھا
06:44اس لئے کھلے اسمان تلے سونے سے پہلے
06:46عسائیوں نے کھانا تیار کیا
06:47جو پوری فوج کو اکٹے پیش کیا گیا
06:49امامن نے بھی ان سپاہیوں نے ویڈ کر کھانا کھاتے ہوئے حیران تھا
06:58کہ یہ کیسی قوم ہے
06:59جس کے بادشاہ اور غلام میں کوئی فرق نہیں ہے
07:02بلکہ سب لوگ ایک دستر خان پر مل کر بیٹھ کر کھانا کھا رہے تھے
07:06تحجر اور فجر کی نماز با جماعت پر دیکھ کر
07:09امامن کو مسلمانوں کو
07:10مسلمانوں کا رات کو جا کر عبادت کرنا
07:13اور مل کر نماز پرنا بہت اچھا لگا تھا
07:15اکٹھے رات گزارنے کے باوجود
07:17اس کو اس بات کی بھی خوشی ہوئی
07:19کہ تمام مسلمان اپنی رات کا زیادہ تر وقت
07:21اللہ تعالیٰ کی عبادت میں گزارتے ہیں
07:23اور فضول بات چیت نہیں کرتے
07:25جو برائیں دوسرے نظائم میں تھی
07:27ان کا نام و نشان تک ان میں کہیں نظر نہیں آتا تھا
07:29نماز سفارہ ہو کر
07:31سب سپاہیوں نے خجوروں کا ناشتہ کیا
07:33اور اپنے سپاہ سرال کا ملتے ہی
07:35اسلامی لشکر تدمیر سے امامن کی بیٹی
07:37کو عزوات کروانے کے لئے چل پڑا
07:39تدمیر واقع پانچ مل کے فاصل پر موجود تھا
07:44اور وہ کسی بھی حملہ سے بے خبر
07:46اپنی مستی میں مگن تھا
07:47تدمیر کا شمار سپین کی فوج کے تجابہ کار
07:50اور مشہور جنرلوں میں ہوتا ہے
07:51جس نے کئی جنرلوں میں اپنی بہادری اور
07:53ذہانت کا مظاہرہ کیا تھا
07:55اس کو اسلامی لشکر قیامت کا علم بھی ہو گیا تھا
07:58اس لئے اس نے جنگی حکمت عملی
08:00اپناتے ہوئے فوراں اسلامی لشکر پر
08:02حملہ کرنے کا ارادہ کیا
08:03اور مسلمان فوجی بھی ابھی ٹھیک طرح سے
08:06منظم نہیں ہو پائے تھے کہ ان پر اچانک
08:08حملہ کر دیا گیا مگر
08:09مسلمانوں نے نہائی دلری اور
08:12جذبہ ایمانی سے تدمیر کی فوج کا مقابلہ کیا
08:14سپینی فوج کے مقابلے میں
08:16اسلامی لشکر کی تداد اگرچہ بہت کم تھی
08:18سپینی فوج کی بھاری تعلات
08:20گھوڑ سواروں کی تھی جبکہ مسلمانوں کے پاس
08:22کوئی بھی گھوڑا نہیں تھا وہ سب پیدل تھی
08:24تدمیر کا ہر سپاہی
08:26لوہے کا جنگی لباس پہنے ہوئے تھا
08:28اور وہ سب جنگی ہتھیاروں سے لیس تھے
08:30ادھر اسلامی لشکر کے پاس
08:32جنگی لباس تو کیا پورے ہتھیار بھی نہیں تھے
08:34مگر ان کے دل میں جذبہ جہاد
08:36بھرا ہوا تھا شہادت کے شوق میں
08:38وہ دشمن کی فوج پر ایسے ٹوٹ پڑے
08:40جب دشمن ان کے سامنے آیا تو
08:42یہ شوق اور مزید بڑھ گیا
08:43ہسپانی فوج کے سپاہ سنار کے حکم پر
08:46تبل جنگ بجائے گیا تو ان میں بھی
08:48ایک جوش آ گیا مگر اس تبل جنگ
08:51کے جواب میں اسلامی لشکر نے
08:52ایک زباہوں کا نعرہ تکویر
08:54اللہ اکبر کے نعرے لگائے
08:55تو سپین کی زمین گونج اٹھی
08:57عیسائی جننیل تدمیر نے بہت حکارت
09:00اور تنزیہ نظروں سے
09:01اسلامی لشکر کو دیکھا جو پیدل
09:04اور کم ہتیانوں کے ساتھ اس کی فوج کے
09:06مقابلے پر کھڑا تھا
09:07تدمیر میں سوچا کہ اس لشکر
09:10کو ختم کرنا تو بہت آسان ہے
09:11کیونکہ میری فوج اس چھوٹی سی فوج کو
09:13اپنے گھوڑوں تلے رون کر رکھ دے گی
09:15ان کی لاشوں سے میدان بھر جائے گا
09:17مگر تدمیر کی تمام تدبیریں
09:19بہت جلد غلط ثابت ہو گئی
09:21جب مسلمان تیر اندازہ
09:23تیر انداز اور نیزہ بات سپائیوں
09:25نے ہسپانی فوج کے گھوڑوں اور سپائیوں
09:27کو نشانہ بنایا وہ پھرتی سے
09:29ان گھوڑ سواروں کو زمین پر گیا تھے
09:32اور ان کے زخمیوں کو
09:34ان کے اپنے زخمی گھوڑے
09:36رونتے چلے گئے
09:37اسلامی لشکر نہائیت بہادری سے لڑ رہا تھا
09:40دشمن کے قدم بری طرح اکھڑ گئے تھے
09:42اسلامی لشکر کے سپہ سلال
09:44تارک بن زیاد
09:45نہائیت دلیری اور بے خوفی سے
09:46دشمن کی فوج میں گھوڑ جاتے
09:48اور راستے میں آنے والے
09:49ہر دشمن کو تلوار کے وارسی حلا کر دیتے
09:51دشمن نے کئی مرتبوں نے گھیرے میں لیا
09:54مگر وہ پھرتی سے ان کے نرگے سے نکل آتے
09:56اور دشمن پر ٹوٹ پڑتے تھے
09:58اس کے بعد کیا ہوا
10:01وہ ہم انشاءاللہ اگلی ویڈیو میں آپ کو بتائیں گے
10:03لیکن اس سے پہلے
10:05اگر آپ لوگوں نے ہمارا چینل کو سبسکرائب نہیں کیا
10:06تو ایک بہر چینل کو ضرور سبسکرائب کیجئے گا
10:08اور بیل آئیکن کو بھی ضرور پیس کیجئے گا
10:10تاکہ آپ کو ہمارے آنے والی ہر ویڈیو کے
10:12لیٹس نوٹیفیکشن جو ہے وہ ملتی ہے
10:15اور آپ ہماری ویڈیو کے بروقت
10:17نوٹیفیکشن کے ذریعے ویڈیو کو دیکھ سکیں
10:19تھانکس فائر وچنگ اللہ حافظ
Comments