Skip to playerSkip to main content
  • 10 months ago
Episode 2: The Crossing of Gibraltar – Faith Over Fear
Description:
Episode 2 takes you on the legendary journey of Tariq bin Ziyad (RA) and his army as they crossed the sea to Andalusia. Here we narrate the famous story of Tariq’s speech after burning the ships, inspiring his soldiers with words of faith and determination.
👉 A tale of sacrifice, resolve, and belief in Allah’s promise.
Tags:
Tariq bin Ziyad speech
Burning the ships story
Crossing of Gibraltar
Tariq bin Ziyad history
Islamic warriors faith
Andalusia conquest
Muslim generals history
Islamic motivational story
Episode 2 Tariq bin Ziyad

Category

📚
Learning
Transcript
00:00I
00:30Assalamualaikum warahmatullahi wabarakatuh
01:00اگر واپس آنے والے اپنے نیک مقصد میں کامیاب ہو سکیں
01:02پھر تارک بن زیاد کو وہ غاب بھی یاد ہے
01:05جس میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یقین دلائے تھا
01:08کہ سپین کی فتح ضرور ہوگی
01:09اس لئے ان کے دل میں کسی قسم کا کوئی بھی خوف نہیں تھا
01:12وہ پور امید تھے
01:13پھر اسلامی لشکر کا ہر سپائی یہ بھی جان چکا تھا
01:16کہ ہم نے سپین کو حرال میں فتح کرنا ہے
01:18اب ہمارا ایک ہی مقصد ہے
01:20یا فتح یا شہادت
01:21ابھی تارک بن زیاد ادگد کے محول اور خوبصورت منظر کو دیکھی رہے تھے
01:26جس سے اسلامی لشکر کے دلوں میں اس خطے کی خوبصورتی بس چکی تھی
01:30اسلامی لشکر پہاڑوں کے دامن میں اترنے لگا
01:32تو ایک آدمی زرد رنگ کا رشت میں لباس پہنے ان کے سامنے آ گیا
01:36اس کا چہرہ بیچانی پریشانی کی وجہ سے مرجھایا ہوا تھا
01:39اس کو دیکھ کر اسلامی لشکر کے سیلار اعظم تارک بن زیاد چلتے چلتے رک گئے
01:44انہوں نے اپنے قریبی ساتھی اور مشیر مغیس الرومی جو عیسائی سے مسلمان ہو چکے تھے
01:50سے کہا یہ آدمی عیسائی لگتا ہے
01:52مغیس الرومی نے آنے والی آدمی کو گھوٹ سے دیکھا اور ہاں کا اشارہ کر دیا
01:56تارک بن زیاد نے اسے کہا کہ وہ آدمی کے پاس جائے اور اس کے آنے کا مقصد پوچھے
02:01مغیس الرومی نے آنے والے شخص کی جانے بڑھے اور اس سے تھوڑی دیر بات چیت کر
02:05کہ اس کو اپنے ساتھ لے کر اپنے صلاح ریاضم کے پاس چلے آئے
02:08تارک نے سوالی نظروں سے اس آدمی کی طرف دیکھا
02:11تو اس نے حاج ہو کر کہا میں ایک درخواست لائے ہوں
02:14اگر آپ میری مدد کریں تو آپ کا مجھ سمیت پول انسانیت پر انسان ہوگا
02:19تارک بن زیاد میں مسکراتے ہوئے اس سے کہا
02:22اپنے ساری بات کھل کر بتاؤ کیونکہ مظلوم کی مدد کے ہی لئے ہم یہاں آئے ہیں
02:27آنے والے آدمی نے اپنے نام امامن بتایا
02:29اور نہایت غمناک آواز میں کہا میں عیسائی ہوں
02:33ہمارے ظالم بادشاہ روڈرک کے ساتھ انہیں میری سالی دولت چھیلی ہے
02:37انہوں نے میری دولت لوٹنے کے بعد میری اکلوتی بیٹی کو بھی اغوا کر لیا ہے
02:42یہ کہہ کر امامن کی آواز بھر گئی اور اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے
02:47تارک بن زیاد اپنی جگہ سے اٹھے اور آگے بڑھ کر امامن کے کندے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا
02:52امامن تم غم مت کرو ہم تمہاری بیٹی کو اس ظالموں سے ضرور ازاد کروائیں گے
02:57مگر اس سے پہلے مجھے اپنے بادشاہ روڈرک کے کردار اور رویے کے متعلق کچھ بتاؤ
03:02امامن نے تارک بن زیاد کی تسلیہ میں اس گفتگو سن کر کہا
03:05اے نیک مسلمان جب سے اس ظالم بڑھے نے اس ملک کی بادشاہ سمالی اعتب سے کسی کی جان و مال اور رجت محفوظ نہیں رہی
03:13اس نے ظلم و ستم کا بزار سجا رکھا ہے وہ جوان لڑکوں کو اغوا کرتا ہے
03:18تارک بن زیاد نے امامن کی بات سنی اور بولا روڈرک کی عمر کتنی ہے
03:22امامن نے کہا اسی سال کے قریب کا ہوگا قبر میں ٹانگیں ہیں مگر ظلم کی انتہا کر رہا ہے
03:27تارک بن زیاد نے امامن کی پوری بات سنی اور کچھ سوچتے ہوئے بولا
03:32کیا تمہاری بیٹی کو روڈرک کے ساتھی وغرا کر لے گئے ہیں یا اس کو زبردسی لے گئے ہیں
03:37امامنی ہاتھ جوڑ کر روتے ہوئے کہا اے نیکل سپاہی میری بیٹی معصوم تھی مجھے پکارتی رہی
03:43مگر وہ غنبے اس کو زبردسی اپنے ساتھ لے گئے ہیں
03:46میں نے اپنی بیٹی کو ان کے چنگل سے چھوڑوانے کی کوشش کی تو انہیں مجھے اس زور سے دھکا دیا
03:51کہ میں دیوار سے جا ٹکرایا اور گر کر بھی اشو گیا
03:54ان ظالموں نے میرے گھر میں سارا مال جو تھا وہ لوٹ لیا اور میری بیٹی کو اپنے ساتھ لے گئے
03:59مجھے اپنی بیٹی کی فکر کھائی جا رہی ہے میں اس غم میں ذہنی توازم کھو رہا ہوں آپ کو اپنے پیاروں کا ورسہ میری ضرور مدد کرے
04:07یہ کہہ کر امامن جو سے رونے لگا تارک بن زیاد نے آگے بڑھ کر اسے گرے لگا لیا اور تسلی دیتے ہوئے کہا
04:13انشاءاللہ بہت جائز تمہاری بیٹی تمہیں مل جائے گی
04:16امامن یہ الفاظ سنے تو چہرے پر مسکراہت لاتے ہوئے بولا
04:20حضور میں اس دن جب بہوش ہو گیا تھا تو مجھے خواہ میں ایک بزرگ نظر آئے تھے جن کی صوفیت داری تھی
04:26انہوں نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور کہا تم غم نہ کرو تمہاری معصوم بیٹی کو ازاد کروانے والے اب تمہارے ملک میں آ چکے ہیں
04:33تم صبر کرو وہ بہت جلد تمہاری مدد کریں گے
04:36میں خوشی سے ان بزرگ کے پاؤں پکڑ لیے میں نے اور درخواست کی کہ مجھے میرے محسن انسان کا حلیہ بتا دی تاکہ میں پہچانوں
04:43انہوں نے کہا ان نیک انسانوں کے سر پر پگڑیاں اور چہرے پرداری ہوگی انہوں نے لمبہ لباس پہنا ہوگا انہیں مسلمان کہتے ہیں
04:51پھر انہوں نے میری فرمائش پر اس مقام کا پتہ بھی سمجھایا جہاں پر آپ لوگ اس وقت کھڑے ہیں
04:58ان مزرگ نے جو حلیہ مجھے بتایا تھا وہ ہو بہو آپ سب کا ہے
05:02یہ کہہ کر امامن نے ہاتھ جوڑ کر تارک بن زیاد کے قدموں میں گر گیا اور کہا
05:07اے مسلمان سپاہی میری مدد کرنے ونہا زالن میری آنکھوں کی ٹھنڈک میری بیٹی کو پتہ نہیں کہاں لے جائیں گے
05:14تارک بن زیاد نے امامن کو بازوں سے پکڑ کر اپنے قدموں سے اٹھایا اور پوچھا
05:19تمہاری بیٹی کا نام کیا ہے امامن نے کہا بلکیس
05:22تارک بن زیاد نے مسکواتے ہوئے کہا یہ تو حیرت سلمان علیہ السلام کی بیوی کا نام تھا
05:27تم لوگ تو ایسے نام نہیں رکھتے
05:29پھر تم نے کس طرح یہ نام اپنی بیٹی کے لئے چنا ہے
05:32امامن نے تارک بن زیاد کا شیری لہجہ دیکھ کر کہا
05:35یہ بات تو سب کو معلوم ہے کہ بلکیس ایک خوبصورت خاتون تھی
05:39میری بیٹی بھی بہت خوبصورت ہے اس لئے میں نے اپنی بیٹی کا نام بلکیس رکھا
05:43تارک بن زیاد نے نرم سے لہجے میں کہا
05:46کیا تم کو علم ہے کہ بلکیس کو کہاں لے جائے گیا ہوگا
05:49امامن نے کہا مجھے ایک عیسائی سوار ملے تھا
05:52تو اتفاق سے ان سپاہیوں میں سے ایک تھا
05:54جو میری بیٹی کو اغوا کر کے لے گئے تھے
05:56اس نے میرے پوچھنے پر بتایا کہ میری بیٹی کو
05:59ظالم بادشاہ رادک کی فوج کے سپاہ سلار
06:01جس کا نام تدمیر تھا اس کے سپرد کر دیا گئے ہیں
06:04تارک بن زیاد نے تلوار پر گریفت مضبوط کرتے ہوئے کہا
06:08تدمیر اس وقت کہا ہوگا
06:09امامن نے مسلمان سپاہ سلار کا عظم اور جذبہ دیکھا
06:12تو کہا وہ یہاں سے پانچ مل کے فاصلے پر
06:15اپنی سپاہیوں کے ساتھ روکا ہوا ہوگا
06:17تارک بن زیاد نے اپنی سپاہیوں کی طرف دیکھا
06:22اور کہا میرے خیال میں آج ہم یہاں رک جاتے ہیں
06:24اور صبح صوری نماز پڑھ کر تدمیر کے لشکر پر حملہ کر کے
06:28اس مظلوم کو انصاف جلاتے ہیں
06:30اور اس کی اغوا شدہ بیٹی کو رہا کروا کر اس کے حوالے کر دیں گے
06:34اپنے سپاہ سلار کے بعد سن کر تمام فوجی افسروں نے بھی اس تجویز کو مان لیا
06:38پھر اسلامی لشکر نے اس ساحل پر رات گزاری
06:41مسلمان لشکر اپنے ساتھ خیمے نہیں لے تھا
06:44اس لئے کھلے اسمان تلے سونے سے پہلے
06:46عسائیوں نے کھانا تیار کیا
06:47جو پوری فوج کو اکٹے پیش کیا گیا
06:49امامن نے بھی ان سپاہیوں نے ویڈ کر کھانا کھاتے ہوئے حیران تھا
06:58کہ یہ کیسی قوم ہے
06:59جس کے بادشاہ اور غلام میں کوئی فرق نہیں ہے
07:02بلکہ سب لوگ ایک دستر خان پر مل کر بیٹھ کر کھانا کھا رہے تھے
07:06تحجر اور فجر کی نماز با جماعت پر دیکھ کر
07:09امامن کو مسلمانوں کو
07:10مسلمانوں کا رات کو جا کر عبادت کرنا
07:13اور مل کر نماز پرنا بہت اچھا لگا تھا
07:15اکٹھے رات گزارنے کے باوجود
07:17اس کو اس بات کی بھی خوشی ہوئی
07:19کہ تمام مسلمان اپنی رات کا زیادہ تر وقت
07:21اللہ تعالیٰ کی عبادت میں گزارتے ہیں
07:23اور فضول بات چیت نہیں کرتے
07:25جو برائیں دوسرے نظائم میں تھی
07:27ان کا نام و نشان تک ان میں کہیں نظر نہیں آتا تھا
07:29نماز سفارہ ہو کر
07:31سب سپاہیوں نے خجوروں کا ناشتہ کیا
07:33اور اپنے سپاہ سرال کا ملتے ہی
07:35اسلامی لشکر تدمیر سے امامن کی بیٹی
07:37کو عزوات کروانے کے لئے چل پڑا
07:39تدمیر واقع پانچ مل کے فاصل پر موجود تھا
07:44اور وہ کسی بھی حملہ سے بے خبر
07:46اپنی مستی میں مگن تھا
07:47تدمیر کا شمار سپین کی فوج کے تجابہ کار
07:50اور مشہور جنرلوں میں ہوتا ہے
07:51جس نے کئی جنرلوں میں اپنی بہادری اور
07:53ذہانت کا مظاہرہ کیا تھا
07:55اس کو اسلامی لشکر قیامت کا علم بھی ہو گیا تھا
07:58اس لئے اس نے جنگی حکمت عملی
08:00اپناتے ہوئے فوراں اسلامی لشکر پر
08:02حملہ کرنے کا ارادہ کیا
08:03اور مسلمان فوجی بھی ابھی ٹھیک طرح سے
08:06منظم نہیں ہو پائے تھے کہ ان پر اچانک
08:08حملہ کر دیا گیا مگر
08:09مسلمانوں نے نہائی دلری اور
08:12جذبہ ایمانی سے تدمیر کی فوج کا مقابلہ کیا
08:14سپینی فوج کے مقابلے میں
08:16اسلامی لشکر کی تداد اگرچہ بہت کم تھی
08:18سپینی فوج کی بھاری تعلات
08:20گھوڑ سواروں کی تھی جبکہ مسلمانوں کے پاس
08:22کوئی بھی گھوڑا نہیں تھا وہ سب پیدل تھی
08:24تدمیر کا ہر سپاہی
08:26لوہے کا جنگی لباس پہنے ہوئے تھا
08:28اور وہ سب جنگی ہتھیاروں سے لیس تھے
08:30ادھر اسلامی لشکر کے پاس
08:32جنگی لباس تو کیا پورے ہتھیار بھی نہیں تھے
08:34مگر ان کے دل میں جذبہ جہاد
08:36بھرا ہوا تھا شہادت کے شوق میں
08:38وہ دشمن کی فوج پر ایسے ٹوٹ پڑے
08:40جب دشمن ان کے سامنے آیا تو
08:42یہ شوق اور مزید بڑھ گیا
08:43ہسپانی فوج کے سپاہ سنار کے حکم پر
08:46تبل جنگ بجائے گیا تو ان میں بھی
08:48ایک جوش آ گیا مگر اس تبل جنگ
08:51کے جواب میں اسلامی لشکر نے
08:52ایک زباہوں کا نعرہ تکویر
08:54اللہ اکبر کے نعرے لگائے
08:55تو سپین کی زمین گونج اٹھی
08:57عیسائی جننیل تدمیر نے بہت حکارت
09:00اور تنزیہ نظروں سے
09:01اسلامی لشکر کو دیکھا جو پیدل
09:04اور کم ہتیانوں کے ساتھ اس کی فوج کے
09:06مقابلے پر کھڑا تھا
09:07تدمیر میں سوچا کہ اس لشکر
09:10کو ختم کرنا تو بہت آسان ہے
09:11کیونکہ میری فوج اس چھوٹی سی فوج کو
09:13اپنے گھوڑوں تلے رون کر رکھ دے گی
09:15ان کی لاشوں سے میدان بھر جائے گا
09:17مگر تدمیر کی تمام تدبیریں
09:19بہت جلد غلط ثابت ہو گئی
09:21جب مسلمان تیر اندازہ
09:23تیر انداز اور نیزہ بات سپائیوں
09:25نے ہسپانی فوج کے گھوڑوں اور سپائیوں
09:27کو نشانہ بنایا وہ پھرتی سے
09:29ان گھوڑ سواروں کو زمین پر گیا تھے
09:32اور ان کے زخمیوں کو
09:34ان کے اپنے زخمی گھوڑے
09:36رونتے چلے گئے
09:37اسلامی لشکر نہائیت بہادری سے لڑ رہا تھا
09:40دشمن کے قدم بری طرح اکھڑ گئے تھے
09:42اسلامی لشکر کے سپہ سلال
09:44تارک بن زیاد
09:45نہائیت دلیری اور بے خوفی سے
09:46دشمن کی فوج میں گھوڑ جاتے
09:48اور راستے میں آنے والے
09:49ہر دشمن کو تلوار کے وارسی حلا کر دیتے
09:51دشمن نے کئی مرتبوں نے گھیرے میں لیا
09:54مگر وہ پھرتی سے ان کے نرگے سے نکل آتے
09:56اور دشمن پر ٹوٹ پڑتے تھے
09:58اس کے بعد کیا ہوا
10:01وہ ہم انشاءاللہ اگلی ویڈیو میں آپ کو بتائیں گے
10:03لیکن اس سے پہلے
10:05اگر آپ لوگوں نے ہمارا چینل کو سبسکرائب نہیں کیا
10:06تو ایک بہر چینل کو ضرور سبسکرائب کیجئے گا
10:08اور بیل آئیکن کو بھی ضرور پیس کیجئے گا
10:10تاکہ آپ کو ہمارے آنے والی ہر ویڈیو کے
10:12لیٹس نوٹیفیکشن جو ہے وہ ملتی ہے
10:15اور آپ ہماری ویڈیو کے بروقت
10:17نوٹیفیکشن کے ذریعے ویڈیو کو دیکھ سکیں
10:19تھانکس فائر وچنگ اللہ حافظ
Comments

Recommended