Skip to playerSkip to main content
Majlis e Hajvair | Urs Muabarak - Hazrat Data Ganj Bakhsh Ali Hajveri RA | ARY Qtv

#MajliseHajvair #UrsMuabarak #HazratDataGanjBakhshAliHajveriRA

Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Transcript
00:00Ayy Data, teiri nguri me ek nore ka alam
00:13Mottrm Dr. Abdul Rauf Raffiqi Sohab
00:16Iqbal, Data Sohab اور Pakistan
00:20Iqbal, Data Sohab اور Pakistan
00:25Jomai Uzadhi Bihai Yanagami X14 Aagashtar Menhanai Jawa are
00:28and the whole of our
00:29and the whole of our
00:46ڈاکستان پر ہے اور پاکستان کا فیضان اقبال ہوں یا قائد عظم
00:52ہوں یا تمام اولیاء ہوں یہ کیسے ریلیٹ کرتے ہیں آپ
00:55شکریہ ٹاکس صاحب یہ جو آپ نے فکری تسلسل کی گڑیاں جوڑی
01:02اس میں بصیرت والوں کے لیے بڑے اسرار و رموز ہے جس طرح حضرت
01:11داتا صاحب نے آج سے ہزار سال قبل کفر الہاد اور شرق کے این
01:20وست میں قلب میں توحید کا پرچم محبتوں کا پرچم بلند کیا تھا ان
01:28دوں کی ذات پات کے حسار توڑ ڈالے بین انسانیت کا عبدی اور حقیقی
01:35پیغام دیا تو بعینی ہی حضرت اللہمہ نے جو تصور پاکستان پیش
01:41کیا تھا اس ایڈیا کا بنیادی کرک یہی تھا کہ رحمت للعالمین حضور
01:49اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے امت کا ایک ایسا اماجگاہ ہونا
01:55چاہیے اس جنوبی ایشیا کے وست میں جس کا مشرق و مغرب کی راہ میں ایک
02:04اہم سنگم پر واقعہ ہے یہاں پہ مسلمانوں کی تشخص جس سے پورے
02:10علم اسلام کو فیوزات ملے یہ تصور علامہ نے پیش کیا قیام پاکستان
02:16ستائیس رمضان کو محرز وجود میں آیا بیعینی ہی یعنی جس طرح خدا
02:25اس خطے میں پاکستان کی صورت میں ایک اہم کام لے رہا ہے پوری
02:31اسلامی امہ میں پروردگار نے ایٹمی صلاحیت پاکستان کو آتا کی ہے
02:37تو ام سال جو چودہ اگست حضرت داتا گنج بخش کے عرض مبارک سے
02:45ریلیٹ ہو رہا ہے یہ پھر فطرت کے وہ خفیہ اسرار و رموز ہے جس کو
02:52کشف کرنے کے لیے کہ ام سال جو مارکہ حق کے سال سے چودہ اگست محسوم ہے
02:59تو ام سال بھی کوئی خاص کام مقصود ہے یہ اسرار و رموز ہے اولیاء اللہ کی
03:07جس طرح پوری اسلامی امہ میں دیکھیں دنیا کے مختلف سٹیٹ کوئی جغرافیائی
03:15کوئی لسانی کوئی ثقافتی بنیاد پہ محرز وجود میں آئے ہیں
03:20یہ نظریاتی بنیاد پہ محرز وجود میں آنے والا مملکت ہے
03:26جس طرح حضرت داتا گنچ بخش نے آج سے ہزار سال قبل تصوف پہ اس خطے میں پہلی کتاب رکم ڈالی
03:36اور اس میں محبتوں کے وہ دیئے جلائے جس کے فیض و برکت سے ہزار سال بعد بھی ہم فیض آسل کر رہے ہیں
03:46گو کہ اس وقت غزنی کے دربار سے حقیم ابو القاسم فردوسی نے شہنامہ ترتیب دیا
03:55اس وقت حضرت مجدد وہ جو تھے حقیم سنائی غزنوی بھی اسی سرزمین سے تھے
04:03مگر جو اچھا البیرونی بھی غزنوی فوج کے ساتھ یہاں آکے کتاب الہند لکھ ڈالی
04:10لیکن وہ ہندوستان کی ہیسٹری تھی وہ ہندومت کی ہیسٹری تھی یہ جو شہنامہ فردوسی تھا یہ فارس کی قدیم ہیسٹری تھی
04:19مگر کشف المحجوب بین الانسانیت کے لیے ایک علمگیر پیغام بنا جس کا جیتا جاگتا ثبوت کشف المحجوب کے دنیا کے مختلف زبانوں میں تراجم ہے
04:33اور ابھی بھی سینوں میں محبتوں کے دیئے روشن رکھتے ہیں
04:39بہت شکریہ ڈاکٹر صاحب نے بڑی خوبصورتی سے اقبال داتا حضور اور پاکستان
04:45میں ایک ارز کرتا چلوں جب حضرت علامہ اقبال مرہوم و مخفور سفر افغانستان پہ گئے تھے
04:53یکم نومبر 1933 کو غزنی میں حضرت داتا صاحب کے والد کے مرقد اتھر پہ حاضری دی
05:05ملاقربان بلکہ ان کا جو پروٹکول افیسر تیسرور خان گویا
05:10انہوں نے یہ پورا قصہ سید سلیمان ندبی نے بھی کلمبت کے ہے سہر افغانستان میں
05:16کہ داتا صاحب کے والد کے حضور
05:19میں یہ واقعہ جو ہے نا آگے چل کے آپ سے دوبارہ سنوں گا
05:24یہ واقعہ اس لیے سننا ضروری ہے کہ پاکستان کی جو direction ہے
05:31پاکستان کی جو فکری اور علمی direction ہے
05:35اس کی بنیاد علامہ اقبال رحمت اللہ علیہ نے رکھی ہے
05:39اور ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ علامہ اقبال رحمت اللہ تعالیٰ علیہ
05:43اپنی فکر کی بنیاد کن سے لے رہے ہیں
05:45کہاں سے لے رہے ہیں
05:47یہ جو دیکھیں اقبال کے اثر میں
05:51اقبال سے زیادہ پرگوش ہو رہا تھے
05:54بی سی ار نویز شورہ تھے
05:57مگر اقبال کو یہ جو فیض ملی
05:59یہ جو فیضان نظر تھی اقبال پر خصوصی
06:04یہ ان اولیاء اللہ کی درگام حاضری
06:08سعادت مندی اور روحانی منازل
06:11وہ جو پاکی زکی تھی من کی
06:15اقبال نے اپنے من میں ڈوب کے سراغ زندگی پانے کے لیے
06:20جو امہ کو نسخے دیئے
06:23اس وقت جس طرح سیرہ متحرہ سے پوری دنیا مستفید ہو رہی ہے
06:29جس طرح اولیاء اللہ کے فیضات و برکات فطری آفاقی ہے
06:34بیعین یہ اقبال کے افکار سے دنیا کے ترتالی زبانوں میں
06:40اقبال کے تراجم اور اقبال کے کام اقبال اکیڈمی میں محفوظ ہے
06:46یہ عام افاقی فیض ہے
06:48یہ اولیاء کے کرامتوں اور سعادت مندی کے بغیر
06:55یہ اعجاز عام آدمی کو نصیب نہیں ہو سکتا
06:58وہ واقعہ میں نے آپ سے ضرور سننا ہے
07:00کہ جب علام اقبال
07:01جاندہ صاحب کے والد میں زہار گئے
07:05ڈاکٹر اسمت اللہ زاہد صاحب
07:06ناؤ سو بیاسی سال گزر گیا
07:08ناؤ سو بیاسی ماہ عرص
07:11حضور فیض عالم کے سارے غلام پوری دنیا میں منا رہے ہیں
07:15بہت لمبا ٹھائن ہے
07:16بہت لمبا وقت ہے
07:19ایک ہزار سال ہونے کو ہے
07:21دنیا آج بھی فیض عالم کہتی ہے
07:23فیض عالم کہتی نہیں
07:25فیض عالم سمجھتی بھی ہے
07:26فیض عالم کہتی اور سمجھتی ہی تو ہے
07:29کہ پوری دنیا سے غلام کشاں کچھے کچھے آتے ہیں
07:32کیا فرماتے ہیں اس فیض عالم
07:33ملصف صاحب اصل بات یہ ہے
07:36کہ روشنی جو ہوتی ہے نا
07:39اس میں اندھیرہ سفر نہیں کر سکتا
07:41روشنی ہمیشہ کے لیے ہوتی ہے
07:44اور دادا صاحب جو ہیں وہ روشنی کا مینار ہیں ہمارے لیے
07:47ان کی تعلیمات کی بنیاد جو ہے
07:50قرآن ہے
07:51حدیث ہے
07:52فقہ ہے
07:53اور تصوف ہے
07:55تو تصوف تو ہمارے ہاں
07:58بہت سے صوفیاء نے اس کی تبلیغ کی ہے
08:00لیکن بہت سے لوگوں نے
08:02اس پر اعتراض بھی اٹھائے
08:03کہ تصوف شید دین کے پیرلل کوئی اور نظام ہے
08:06جبکہ تصوف بنیادی طور پر دین کی روح کا نام ہے
08:10تو دادا صاحب نے دین کی روح کے مطابق
08:13لوگوں کو جو دعوت دی
08:15اس میں پیار تھا
08:16انسانیت کا احترام تھا
08:18ایک دوسرے کی محبت تھی
08:19بڑوں سے چھوٹوں سے
08:21اور برابر وعدوں سے احترام اور پیار سے بات کرنے کا جو عمل تھا وہ سکھایا
08:25چونکہ یہاں ذات پات کا ایک نظام تھا
08:28تو ذات پات کے نظام میں ہمیشہ انسان کو اس کی ذات سے پہچانا جاتا ہے
08:32اس کے سرمایے سے پہچانا جاتا ہے
08:34اس کے رنگ اور نصر سے پہچانا جاتا ہے
08:36جبکہ ہمارے دین کی بنیاد یہ ہے
08:38کہ تقوی کی بنیاد پر سب کو پہچانا جائے گا
08:41کہ تقوی کی بنیاد پر کون بڑا ہے کون چھوٹا ہے
08:44تو دادا صاحب نے جو محبت کا پیغام دیا
08:47اس لیے لوگ اس کو سن کر دادا صاحب کے گرد اکٹھے ہونے لگے
08:51کہ یہ تو پیغام وہ ہے جو ہم سب کے لیے ہیں
08:53کسی ایک ذات کے لیے نہیں ہے
08:55پوری کائنات کے لیے ہے
08:57لہٰذا جب افاقی پیغام ملا ہے
08:59وہ قرآن کا پیغام تھا
09:00حدیث کا پیغام تھا
09:01تصورت کا پیغام تھا
09:03تو دادا صاحب کے گرد لوگ اکٹھے ہونے شروع ہو گئے
09:05تو دادا صاحب نے سب سے پہلے لوگوں کو یہی درست لیا
09:08کہ بھائی یہاں کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے
09:12یہاں کسی کا کوئی خدا نہیں ہے
09:14یہاں کسی کی بدھ کے آگے جھکنے کی ضرورت نہیں ہے
09:17بلکہ ایک خدا ہے پوری کائنات کا
09:19ہندو بھی اسی کے بنائے ہوئے ہیں
09:21مسلمان بھی اسی کے بنائے ہوئے ہیں
09:23تو سچا دین جو ہے
09:25وہ اسلام ہے
09:26اور اس میں کسی انسان کی نہ تو توہین کی جاتی ہے
09:30نہ اس کی حوصلہ شک نہیں کی جاتی ہے
09:32اسلام بنیادی طور پر یہی سکھاتا ہے
09:35کہ اللہ کی ناشکری
09:36اور انسان کی ناقدری سے بچو
09:40جب یہ پیغام آپ نے دیا
09:41یہ افاقی پیغام تھا
09:43تو اس پیغام کو سن کر لوگ نسل در نسل
09:45دادا صاحب کی تعلیم کو اپنانے لگے
09:47ایک ہزار ہونے کو آ رہا ہے
09:49اب بھی دیکھیں کہ دادا صاحب کا پیغام
09:51ابھی تک اسی طرح تازہ ہے
09:53اور انشاءاللہ قیامت تک تازہ رہنا ہے
09:55اس لیے کہ اس میں ایسی تازگی ہے
09:56جس پر خضان کبھی نہیں آسکتی ہے
09:58دیکھیں نا قرآن کے احکامات پر
10:01خضان آسکتی ہے
10:02نہیں آسکتی
10:03اس لیے کہ وہ پیغام خدا کا پیغام ہے
10:06اور خدا کے ہاں کسی کی طاقت نہیں
10:08تو اس کے پیغام کو ادھولہ کر دے
10:10یا اس پر کوئی اپنا جادو چلا دے
10:13یہ جادو کیا چیز ہے
10:14یہ تو عارسی اسی چیزیں ہیں
10:15معمول اسی چیزیں ہیں
10:17خدا تو کائنات کا مالک ہے
10:19اس کا رسول کائنات کا رسول ہے
10:21اور اس کے اولیاء کائنات کی رہنمائی کے لیے ہیں
10:24رحمتیں بانٹنے کے لیے ہیں
10:25دادا صاحب اپنی زندگی میں جس طرح رحمتیں بانٹتے تھے
10:28آج کون کا مزار
10:30اسی طرح رحمتیں لوگ حاصل کر رہے ہیں وہاں سے
10:33اور خاص طور پر کشم ماجوب جو ہے
10:36یہ سمجھے کہ دادا صاحب نے
10:37اپنا انر سیلس جو ہے
10:39وہ سارے کا سارا کشم ماجوب میں
10:41سموک کر رکھ دیا ہے
10:42اس لیے کشم ماجوب بھی آج بھی
10:44اسی طرح فیض تقسیم کر رہی ہے
10:46جس طرح دادا صاحب کی زندگی میں تھا
10:48تو دادا صاحب کی عمر کا تائین
10:50اس طرح نہ کیجئے
10:51کہ دادا صاحب 65 سال کی عمر میں
10:52یا 70 سال کی عمر میں
10:53اللہ کو پیار ہوئے
10:54نہیں نہیں
10:55دادا صاحب کی عمر کا تائین
10:57اس لیے آپ نہیں کر سکتے
10:58کہ ان کی تعلیمات
10:59قیامت تک زندہ رہنی ہے
11:00اس لیے دادا صاحب کی عمر قیامت تک ہے
11:02ان کی تعلیمات
11:03پورے جہان کو نور عطا کر رہی ہیں
11:06which is because of the world you are
11:09I have to
11:13Faisal Nakshbandi Sahib
11:14and I have to do that
11:15and I have to do that
11:17I have to do that
11:18I have to do that
11:20I have to do that
11:22I will do that
11:22I will do that
11:24Salli ala nabiyyena, salli ala muhammadin, salli ala shafiyyena, salli ala muhammadin,
11:47salli ala nabiyena, padiye, salli ala nabiyena, salli ala muhammadin,
12:03Dekha جو ان کو باتتے, میں نے بھی بڑھ کے شوق سے,
12:14دستِ طلب بڑھا دیا,
12:32دستِ طلب بڑھا دیا,
12:38دستِ عطا کے سامنے,
12:44Salli ala nabiyena, padiye, salli ala, salli ala muhammadin,
12:59ہم بھی مدینے جائیں گے,
13:07آج نہیں تو کس ہی,
13:13آج نہیں تو کس ہی,
13:23آقا ہمیں بولائیں گے,
13:29آقا ہمیں بولائیں گے,
13:34آج نہیں تو کس ہی,
13:40Salli ala nabiyena,
13:44Salli ala muhammadin,
13:50ایک نور کا عالم ہے,
13:58میرے تاتا تیری نگری میں,
14:04ایک نور کا عالم ہے,
14:11ایک نور کا عالم ہے,
14:16میرے تاتا تیری نگری میں,
14:20میرے تاتا تیری نگری میں,
14:34جل وہ,
14:36پیچھا مچھا میں ہے,
14:40ہوتا ہے یا بات سر اونچہ غریبوں کا,
14:54اور شاہوں کا سرخم ہے,
15:10میرے تاتا تیری نگری میں,
15:16اور شاہوں کا سرخم ہے,
15:22ہر دکھے کا مدا ہے,
15:28اس شہر میں آ جانا,
15:37ہر دکھے کا مدا ہے,
15:44اس شہر میں آ جانا,
15:50ہر زخم کا مرہم ہے,
15:56میرے تاتا تیری نگری میں,
16:02ہر زخم کا مرہم ہے,
16:08ہر دکھے قام دعوی ہے،
16:10داتا تیری نگری میں،
16:12ہر دکھے گر،
16:14ہر دکھ کا مدا ہے،
16:16داتا تیری نگری میں،
16:17ہر دکھ کا مدا ہے،
16:19داتا تیری نگری میں،
16:20محترم جناب،
16:23ڈاکٹر مفتی،
16:24Dr. Mr. Imran Hanlon Nizami Sahabi
16:27Data
16:28Data
16:29Data
16:30Data
16:31Data
16:32Data
16:32Data
16:33Isi nama se yad kerti hai
16:35Bilkul
16:36Data ka lifaz
16:37Kya lifaz hai
16:39Is ki kiya hakikat hai
16:40Is ka
16:42Kya manha hai
16:43Or
16:43Is ki tfzil kiya hai
16:46Ye
16:46Ek bada
16:47Semjhne waala
16:48Or bada
16:49Quran wa sunnat ki rošnit koiint hai
16:51Iska jawaab benne
16:52Aap se lena hai
16:52Lekan
16:53Vakfhe ke baad
16:53Hemhara sas ryeye
16:54Muziziz nazirin
16:55Welkum back
16:58Muziziz nazirin
16:59Samaein
17:00Huzur fayz alam
17:01Ke
17:01Wolaqhan gulam
17:03Jho A.R.Y.Q. TV
17:04Ke ziriyah
17:05Hemhara sath
17:06Aaj
17:06Is mjlis
17:07Huchwair
17:07Me
17:07Huzur fayz alam
17:09Ki bárgah
17:10Me
17:10Niyazmandhi
17:10Ke sath
17:11Hاضir
17:12Hain
17:12Aapke
17:13982
17:14Ma
17:14Urs
17:14Mubarak
17:15Uski
17:16یہ
17:16Pihlí
17:16Shub
17:16Hay
17:16Or
17:17Us
17:17Munaسبet
17:18Se
17:18Ye
17:18Khususus
17:18Nishriyat
17:23Huzur fayz alam
17:34Ke
17:34Fayzan
17:35Kho
17:35Aap
17:36Tuk
17:36Puri
17:36Dunia
17:37Tuk
17:37Pohun
17:37Muziziz
17:38Mujhe
17:39Anah
17:39Muziziz
17:40Dr.
17:40Imran
17:41Anbar
17:41Nizami
17:42Saab
17:42Data
17:43Ka
17:43Naf
17:43Aam
17:44Se
17:44Loge
17:44Kho
17:45Sunne
17:45Waal
17:45Kho
17:45Peta
17:45Chal
17:46Jaya
17:46Kho
17:47Kho
17:47Kho
17:47Kho
17:48Kho
17:49Kho
17:49Kho
17:49Kho
17:49Kho
17:50Kho
17:50Kho
17:51Kho
17:53Kho
18:20Kho
18:20Kho
18:21Kho
18:22Kho
18:23Kho
18:23Kho
18:23He has got it.
18:53और आपकी रगो पै में सखावत मौजूद थी
18:56चुके घराना का उंसा है
18:58वो अहल बैत इद इतहार के घराने से
19:00जिनका तालुद है
19:01खदरत खाथुन जन्न सेदा फातिमा तुजहरा
19:04रदियالलहु ताला अनहा के लगते जिगर हैं
19:07حضرت علی المرتضی کررم اللہ وجہ الکریم
19:09کا وہ خون ہے
19:10اور قرآن مجید نے جن کی شان و عظمت بیان کی ہے
19:13کہ حسرین کریمین بیمار ہیں
19:15روضہ رکھتے ہیں
19:17تو پہلے دن جب افتاری کا وقت ہوتا ہے
19:19تو دروازے پہ دستک ہوتی ہے
19:21کوئی کہتا ہے میں مسکین ہوں
19:22تو وہ روٹیاں اٹھا کر اس کو دے دی جاتی ہیں
19:24دوسرے دن بھی ایسا ہوتا ہے
19:26تیسرے دن بھی ایسا ہوتا ہے
19:28کہ روضہ خود افتار نہیں کرتے
19:30بلکہ وہ مسکین کو غریب کو
19:32یتیم کو اسیر کو
19:34وہ دے دیتے ہیں
19:35تو قرآن ان کی دواہی دیتا ہے
19:37وَيُتْعِمُونَ تَعَامَ عَلَى حُبِّهِ
19:39مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَفِيرًا
19:42اِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ
19:44لَا نُرِيدُ مِنْكُمْ جَزَاءً وَلَا شَكُورًا
19:47تو وہ کھانا کھلانے کا
19:48وہ سخاوت کی
19:50جو آپ نے صفت پائی ہے
19:51یہ آپ نے اہلِ بیعتِ اطحار سے پائی ہے
19:54تو آپ سخاوت کیا کرتے تھے
19:56اس لئے آپ کو داتا گنج بخش
19:58کہا جاتا
19:59اس کا مطلب یہ ہوا
20:01کہ تو سخی ابن سخی
20:02تو سخی ابن سخی ہے
20:04تو کریم ابن کریم
20:06تو کریم ابن کریم
20:07تو کریم ابن کریم ہے
20:08اور یاد رہے
20:11کہ یہ داتا کہنا
20:12اور اس طرح کے ناموں سے
20:15یاد کرنا
20:16یقیناً یہ اللہ رب العزت کی
20:18عطا کے ساتھ
20:19اللہ رب العزت کے کرم کے ساتھ
20:21اس کی دی حقوبت کے ساتھ ہے
20:23مجازن کہا جاتا ہے
20:24اور مجھے گزارش کرنی ہے
20:27محترم جناب
20:27ڈاکٹر محمد علی کریمی صاحب سے
20:30کشا کشا عقیدت مند آتے ہیں
20:33حاضری دینے کے لئے
20:34مزار پر حاضری دینے کے حوالے سے
20:36یہ
20:37سب کی رہنمائی بہت ضروری ہے
20:40کوئی شخص ماتھا ٹکتا ہے
20:41کوئی شخص سجدے کرتا ہے
20:43جبکہ اسلام میں یہ سب منع ہے
20:45حرام ہے
20:46اور لاعلمی کی وجہ سے لوگ کرتے ہیں
20:48لوگوں کی معلومات میں اضافے کے لئے
20:49قرآن و سنت کی روشنی میں
20:51ذرا ایسے پن پوائنٹ پر لوگوں کو بتا دیئے
20:53کہ حاضری کیسے دینے
20:54جب بھی ہم کسی اللہ والے کی بارگہ میں
20:56حاضری دیں
20:57تو ہمارا یہ عقیدہ اور نیت ہونی چاہیے
21:00کہ ہر چیز میں موثر حقیقی
21:03اللہ تعالیٰ کی ذات ہے
21:04دینے والا تو پروردگار ہے
21:07یہ اللہ تعالیٰ کے محبوب لوگ ہیں
21:09اللہ رب العزت کے پیارے لوگ ہیں
21:11اولیاء اللہ ہیں
21:12ہم جب ان کی بارگہ میں حاضر ہوں
21:14باووزو ہوں
21:15اور سب سے پہلے آگے بڑھ کے
21:17ہم سلام پیش کریں
21:18اور
21:19السلام علیکم یا اہل القبور
21:22یا السلام علیکم یا ولی اللہ
21:24بتخصیص ان کو سلام بھی کیا جا سکتا ہے
21:27اور سلام کے بعد پھر ہم
21:28پیچھے ہٹ کے
21:29یا قدموں کی طرف بیٹھیں
21:31اور فاتحشی پڑھیں
21:32جیسے کہ دروشی
21:33سورہ فاتحہ
21:35اور کلچریف
21:36یا چاروں کل کے ساتھ
21:37فاتحشی پڑھ کے
21:38پھر یہ
21:39اسالے روح کیا جائے
21:40اور اسالے روح کرتے ہوئے
21:43پھر دعا کی جائے
21:44اب دعا کے اندر
21:46ہمارا یہ نظریہ اور عقیدہ ہونا چاہیے
21:48کہ پروردگار ہی ہے
21:50جو حقیقی طور پر
21:51عطا کرنے والا ہے
21:53اللہ تعالیٰ نے
21:54ان لوگوں کو جو مقام اور مرتبہ عطا کیا
21:57ہم ان کا وسیلہ پیش کر کے
21:59رب کی بارگہ سے طلب کرتے ہیں
22:01لہذا سجدے کرنا
22:03یا جھک جانا
22:04سجدے کی کیفیت میں
22:06یا اس طرح
22:07کہ اس کی کیفیت میں سجدے کا اظہار ہو
22:09یہ درست نہیں
22:10حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
22:12جب ایک صحابی نے کہا
22:14کہ درخت بلائی اور درخت جھکا
22:16اور اس نے آپ سے سجدے کی اجازت مانگی
22:18تو ہمارے آقا فرماتے ہیں
22:19اگر اس شریعت میں سجدے کی اجازت ہوتی
22:21تو بیوی کو حکم دیا جاتا
22:23کہ شوہر کو سجدہ کرے
22:25اللہ کے سوا سجدہ نہیں
22:26تو لہذا سجدے کی کیفیت
22:28اور اس طرح کی ہمیں
22:30حالت نہیں بنانی چاہیے
22:31اور پھر صاحب مزار کے پاس بیٹھ کر
22:35اپنے دل سے
22:36ان صاحب مزار کے تعلق کو
22:38جوڑنے کی کوشی کریں
22:40یعنی کچھ دیر کے لیے
22:41مراقبے کی کیفیت میں آئیں
22:42کچھ دیر بعد آپ کے دل میں
22:44تھنڈک کا احساس ہوتا ہے
22:46اس کا مطلب کہ صاحب مزار کی
22:48نظر آپ کی طرف منتقل ہو چکی ہے
22:51تو صاحب مزار سے جب فیض لیا جاتا ہے
22:54رب کی بارگہ میں دعا کی جاتی ہے
22:56تو دعا کرنے کے کئی طریقے ہیں
22:58اللہ تعالیٰ کی بارگہ سے ڈریک طلب کیا جائے
23:01ایک یہ بھی طریقہ ہے
23:02اللہ کی بارگہ میں
23:04اللہ کے پیاروں کے وسیلے سے طلب کیا جائے
23:07پروردگار فرماتا ہے
23:08وَبْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةِ
23:11اور اس کی بارگہ تک پہنچنے کے لیے
23:13وسیلہ تلاش کرو
23:14اور اسی طرح عدرت فاروق عاظم رضی اللہ تعالیٰ
23:17نے توصل پیش کرتے تھے
23:18بارش کے لیے
23:19صحابی سرکار کی بارگہ میں آکے دعا کرتے ہیں
23:28صاحبِ مزار سے تصرف کے لیے جاتے رہے
23:31حضرتِ امام شافی
23:33امامِ عاظم ابو حنیفہ کی قبر پہ دکھائی دیتے ہیں
23:35حضرتِ داتا صاحب
23:37حضرتِ جنیدِ بغدادی علی رحمہ کی قبر پہ دکھائی دیتے ہیں
23:40اور اسی طرح
23:41ہمارے اسلاف اور بزرگ
23:42کبھی حضرتِ علامہ اقبال داتا صاحب کی چوکڑ پہ ہیں
23:45اور کبھی حاضر ہوا
23:47میں شیخِ مجدد کی لاحد پر
23:48حضرتِ مجدد باغ کی چوکڑ پہ نظر آتے ہیں
23:51تو پتہ یہ چلتا ہے
23:53کہ یہ جو طریقہ اللہ والوں کی بارگہ سے فیض کا ہے
23:56یہ روحانیت کا وصال کے بعد بھی
24:00اولیاء کرام کا جاری و ساری رہتا ہے
24:02اور اللہ تعالیٰ ان کو اس جہان سے
24:04برزخ میں منتقل کرتا ہے
24:07ان کا سلسلہ دنیا والوں سے ٹوٹتا نہیں
24:09بلکہ ان کا فیض جاری و ساری ہے
24:12جس کی صورت میں آج آپ دیکھ رہے ہیں
24:15ہزار سال ہونے کو ہیں
24:17اور داتا صاحب کی چوکڑ میں
24:19ظاہری لنگر بھی ہے
24:20اور باطنی لنگر بھی تقزیم ہو رہا ہے
24:22اور یہی اولیاء کرام کی بارگہ سے حاضری ہے
24:25باطنی لنگر بھی ہے
24:27اور بعد از وصال حضور خاجہ
24:30غریب نواز کی آپ کے قدموں میں حاضری
24:33اسے ایک تساب فیض کا تسلسل ہے
24:35میں نے آپ سے گزارش کی تھی
24:36کہ ڈاکٹر عبد الرعوح رفیقی صاحب سے
24:39ہم نے وہ خاص بات ضرور سننی ہے
24:41کہ جب علام اکبار رحمت اللہ تعالیٰ علیہ
24:44تشریف لے کے افغانستان کو تلاش کر کے
24:47آپ کے والد اکرامی کے مزار تک پہنچے
24:49بہت بنیادی سوال ہے
24:53جس کا کنسپٹ کلیر کرنا بہت ضروری ہے
24:56لوگوں کو ہسٹری سے دوبارہ جونڈے
25:00اور یہ جو ایک فکری
25:01جیسے ڈاکٹر صاحب نے مجھ سے پہلے سوال کیا
25:05کہ اقبال بنے کیسے
25:07یہ معرفت کے وہ مراحل تھے
25:10جس کی بنیاد پہ اقبال اقبال بنے
25:13جب قابل گئے تھے
25:161933 میں ندرشاہ نے
25:18ان کو قابل یونیسٹی کی نساب کے سلسلے میں
25:21مشاورت کے لئے حضرت علامہ کو بلایا تھا
25:24اور علامہ نے وہاں
25:28یہ جو جدید سی پیک کا کنسپٹ ہے
25:311933 اکتوبر 1933 میں
25:35قابل میں علامہ نے یہ کنسپٹ پیش کیا
25:38اس پہ میرا مقالہ ہے
25:40اقبال کا ویژن سی پیک اور بلوچستان
25:43اچھا
25:44قابل سے واپسی پہ
25:46نیکسٹ منزل غزنی تا
25:48تو غزنین یہ کم نومبر 1933 کو جب پہنچے
25:52ان کے پاس
25:53لائے خوار فقیر
25:56مجذوب جس کی وجہ سے
25:58حکیم
26:00حکیم سنائی غزنوی غزنوی
26:03وہ پہلے سلطان وسود
26:06غزنوی کے درباری شائر تھے
26:08مگر لائے خوار مجذوب کے
26:11ڈیلاغ سن کے
26:12وہ طریقے معرفت پہ آئے
26:15اور حدیقت الحقیقت کی
26:19مارکت العرہ
26:20تصریف کی اور پھر
26:21دربار کا رخ نہیں کیا
26:23تو علامہ صاحب
26:25سلطان محمود غزنوی کے
26:28مرکت پہ گئے
26:29یہ بڑا تاریخی قبرستان ہے
26:32ناچیز کو بھی وہاں
26:34حضری کی توفیق ہوئی ہے
26:35جہاں حکیم سنائی غزنوی
26:39اسودہ خاک ہے
26:40جہاں
26:41بعض روایات کے مطابق
26:43بحلول دانا
26:44وہاں جو مقامی روایات ہے
26:47وہ ہے
26:47اور
26:48سلطان محمود غزنوی کے ساتھ
26:52جو ہجویر کا
26:53محلہ ہے
26:54جس طرح ڈاکٹر صاحب نے
26:55ارشاد ورمایا
26:56وہاں آکے
26:58علامہ صاحب
27:00حضرت داتا کے
27:01والد کے مرکت پہ
27:03حاضر ہو کے
27:04کچھ عشق بہاتے ہیں
27:06ان کے جو پروٹوکول
27:09افیسر ہے
27:10افغانستان کی جانب سے
27:11سرورخان گویا
27:13ان کو
27:14پینتیس ہزار
27:16اشار
27:17یاد دے
27:18تصوف
27:19معرفت
27:20الہیات
27:21اور تذکیہ
27:22نفس کے
27:23موضوعات پہ
27:24اس بندے نے
27:26یہ تمام رہنمائی کی
27:28وہاں پہ
27:29ملاقربان
27:30ایک شخص تھے
27:31جو ان کو
27:32ان تمام
27:32زیارات پہ
27:34لے گئے
27:34تو داتا صاحب کے
27:35دربار پہ
27:36علامہ صاحب کے
27:37عشق بہانے کی
27:39دو تعبیرات
27:40تھے
27:40ایک
27:41اظہار
27:43تأصفتہ
27:45کہ اب بھی
27:46ہندوستان
27:47کالونیل سسٹم
27:49کے زیر تسلط ہے
27:50ہمیں
27:52نجات
27:53چاہیے
27:53آپ کے
27:54فیض
27:55برکات
27:56کرامات کی
27:57بدولت
27:57پروردگار
27:58سرزمین
27:59ہندوستان
28:00کو
28:00دائمی استقلال
28:02عطا فرمائے
28:03ایک
28:04اور دوسرے
28:05عشق
28:06تشکر
28:07تھے
28:07جو
28:08داتا صاحب کے
28:09والد کے
28:10حضور
28:11علامہ
28:11پیش کر
28:12رہے تھے
28:13کہ آپ نے
28:14سرزمین
28:15ہندوستان
28:17کو
28:17اس زمانے میں
28:18برستخیر
28:19کو
28:19ایک ایسا
28:21گوہر
28:21یکتہ
28:22عطا کیا ہے
28:23جس کی
28:24ہزار
28:25سال سے
28:25فیض
28:26جاری
28:26وساری
28:27ہے
28:27جس کے لئے
28:28ہم آپ کے
28:28مشکول ہیں
28:29واجیوہ
28:30واجیوہ
28:30ڈاکٹر صاحب نے
28:31بڑی خوبصورت
28:32تعبیر
28:33ذکر
28:33فرمائی ہے
28:34حضرت
28:35عثمان
28:36جو حضور
28:37داتا
28:38گنجب
28:38شرم
28:38علیہ
28:39کے
28:39والد
28:40گرامی
28:41ہیں
28:41ان کی
28:42بزار
28:42پر
28:42حاضری
28:43اور
28:44وہاں
28:44پر
28:44جو
28:44آپ نے
28:45آنسو
28:46بہائے
28:47عشق
28:47اس کی
28:48مجوہ
28:49ہاتھ
28:49کی
28:49بڑی
28:49خوبصورت
28:50تعبیر
28:50اور
28:50ظاہر
28:51اقبالیات
28:51پر
28:51آپ کی
28:52سپیشلیٹی
28:52اسی
28:53بات
28:53کی
28:53متقاضی
28:54ہے
28:54میں
28:54فارو خان
28:55مہروی
28:56ماشاءاللہ
28:57ایک خوبصورت
28:58نام
28:58ہے
28:58اور
28:58خوبصورت
28:59کلام
28:59خوبصورت
29:00آواز
29:00کے
29:00ساتھ
29:00پیش
29:01کرتے ہیں
29:01آپ سے
29:01گزارش
29:02کرتا ہوں
29:02کہ
29:02کلام
29:02پیش
29:02کیجی
29:03بسم اللہ
29:05علیکہ
29:06جان
29:07رسول
29:11اللہ
29:15و السلام
29:17علیکہ
29:18جان
29:20حبیب
29:27اللہ
29:29فضل
29:31تیرے
29:33نل
29:34لوہ
29:35تردے
29:37فضل
29:39تیرے
29:41فضل
29:50تیرے
29:52نل
29:52لوہ
29:54تردے
29:58پھٹے آدھے
29:59سنگ
30:00لگ
30:00کے
30:01کت
30:02جل
30:03لط
30:04جان
30:06محمد
30:07اوہ
30:09چنگ
30:09آدھے
30:10سنگ
30:11لگ
30:11کے
30:12کت
30:14جل
30:15لط
30:16جان
30:17محمد
30:20اوہ
30:21چنگ
30:22آدھے
30:23سنگ
30:24لگ
30:24کے
30:25جیلی
30:27یا
30:27گوڑی
30:28آدھے
30:30جیلی
30:40گوڑیاں
30:42آدھے
30:43اوڈیاں
30:45اوہ
30:46کدنا چڑھ
30:47لوں
30:48جایاں
30:50اوہ
30:50ہوئی
30:51گوڑیاں
30:52چنگ
30:53یا
30:53اوڈیاں
30:55جیلی
30:56سایاں
30:57آدھ
30:58اوڈا
30:59یا
31:00مینی
31:02مینی
31:03مینی
31:03مینی
31:05مینی
31:11مینی
31:25مینی
31:25مینی
31:27دادا
31:28اوڈیاں
31:29مینی
31:34مینی
31:37مینی
31:37مینی
31:38مینی
31:39مینی
31:40مینی
31:41مینی
31:42ते मैं उच्चियाँ दे संग लाई सद के जावा इना उच्चियाँ तो जिना नीवे आनाले निभाए पता पुनु हालादा
32:03पता पता हालादा मन दे आनू का ले लड़ा
32:20होंदा का मलज पालाद
32:31असा असा फिनने महद फकीरिय से दर जान सुगानते आए
32:48नहीं ते जया कोई लजपाल मिल्याँ सारी दुनिया छानते आए
33:00सब दर तू सुणिया दादा
33:08सब दर तू सयाँ खालिया ना मोरी असा दा मन दानते आए
33:24अज सब का तू सब पिनन दिचा स्यासी कहीं वस दे भाणते आए
33:33लज पाले परे तूनों तोड़े दे नहीं
33:40लज पाले परे तूनों तोड़े दे नहीं
33:47लज पाले परे तूनों तोड़े दे नहीं
33:54लज पाले परे तूनों तोड़े दे नहीं
34:03लज पाले परे तूनों तोड़े दे नहीं
34:10जे दिवा परे ते फेरे चड़े दे नहीं
34:16खाली दारी आया लों मुरी दे नहीं
34:22खाली दारी आया लों मुरी दे नहीं
34:28कुझ खैरी खाजाने उपादे नहीं
34:34लज पाले परे तूनों तोड़े दे नहीं
34:41रब आशीर से तेरी आजूलवादा
34:53किता मालिक अपने मुलकादा
34:59कुझ खैरी खाजाने उपादे नहीं
35:18मैंनु लोड़े नहीं
35:31कुछ होरी साई
35:34गलपा के पता दे मी तोर साई
35:40इस राह वेच पादे में छोर साई
35:46कुछ खैरी खाजाने उपादे वी
35:53लज पाल पर इतनों तोड़े नहीं
35:58वा जीवाफ फारुखान बेर्वी साथ
36:05लज पाल पर इतनों तोड़े नहीं
36:07जिरी महाँ पड़ दे उखोड़े नहीं
36:10जनाब बहुत शुक्रिया मैं
36:12Thank you very much.
36:42Thank you very much.
37:12Bارگاہ سیدِ حجویر سے
37:14Bارگاہ شاہِ حجویر سے
37:16آپ کی خدمت میں دوبارہ حاضر ہوں گے
37:18اپنے بیزبان مفتی محمد رمضان
37:20سالی بھی دو اجازت دیجئے
37:21اللہ حافظ
37:22ایک نور کا عالم ہے
37:31داتا تیری نگری میں
37:40ایک نور
37:42بیزبان مفتی محمد رمضان
Comments

Recommended