00:00When the
00:27کا عجیب منظر تھا
00:29حضرت عقیل کی سابزادی
00:30بہت اچھی شاعرہ بھی تھی
00:32انہوں نے کچھ اشار کہے
00:33اور ایک شعر کا مفہوم آپ کے سامنے
00:36رکھتا ہوں
00:37وہ چیخ چیخ کے کہہ رہی تھی
00:40کافلے والوں
00:42تم تو آگئے ہو
00:43مدینہ المنورہ کی خجوروں کی شاخیں
00:46پوچھ رہی ہیں حسین کدھر ہے
00:47اس شعر کی ریت کے
00:51ذرے پوچھ رہے ہیں حسین کدھر ہے
00:54جب گئے تھے تو حسین اس کافلے کے ساتھ تھا
00:56آج حسین نہیں تھے
00:58حسین کا کٹا ہوا سر تھا
01:01کیا آنسو بس سے ہوں گے
01:03اور کیا کیفیت ہوئی ہوگی
01:04اس وقت جب یہ کافلہ مدینہ المنورہ پہنچا
01:07اور پھر سیدھا حضور کے روزے پہ
01:09اپنے نانا کے حضور
01:10اپنا دکھلا جب ہی جو نے پیش کی ہے
01:14لفظوں میں
01:14وہ زندگی اور جان نہیں ہے
01:17کہ اس کیفیت کو بیان کیا جا سکے
01:18جب یہ خانمہ برباد
01:21یہ لٹے ہوئے تاراج لوگ
01:23جو اپنا سب کچھ کربلا کی
01:26ریت کے سپرد کر آئے تھے
01:28زینب جب گئی تھی
01:31تو اس کی گود بھری ہوئی تھی
01:33اب خالی گود سے مدینہ میں داخل ہو رہی
01:36اونو محمد قربان ہو چکے ہیں
01:37قاسم شہید ہو چکے ہیں
01:40ہیلی اکبر شہید ہو چکے
01:42زہرہ پاک کے گل پارے شہید ہو چکے ہیں
01:48ان کا خون کربلا کی ریت میں جذب ہو چکا ہے
01:51جب حضور کے روزے پہ
01:52انہوں نے اپنے نانا کو دکھلے سنائے ہوں گے
01:55تو درد و علم کی کیفیت کیا ہوگی
01:59سیدہ زینب کا
02:01وہ دکھڑا جو کربلا میں مدینہ کی طرف
02:04مو کر کے
02:04انہوں نے کہا تھا
02:06کرد بن قیس کہتا ہے کہ جب یہ شیر کہہ رہی تھی
02:19اور جب یہ جملے بول رہی تھی
02:21سیدہ زینب سلام اللہ علیہ وآلہ
02:24اس وقت اپنے تو اپنے دشمن بھی رو رہے تھے لیکن جو اس تغاثہ حضور کے روزے پہ کھڑے ہوکے زینب نے کیا ہوگا
02:31تاریخ نے وہ بیان نہیں کیا وہ زینب جانتی ہے یا زینب کا نانا جانتا ہے
02:36پھر وہاں سے یہ مقدس لوگ سیدہ زہرہ صلی اللہ علیہ کی قبر پہ آتے ہیں امام حسن کی قبر پہ آتے ہیں جنت البقی میں
02:48اور جو وہاں ہوا ہوگا کوئی کلم ہے جو اس درد کی کیفیت کو لکھ سکے
02:56کوئی خطیب ہے جو اس درد کو بیان کر سکے
03:00اس کا کوئی نقشہ کھینچ سکے کہ کیا کیفیت ہوگی
03:04آلِ پیمبر نے وہ دکھ سہے
03:06تاریخ کے اوراق سے آج بھی آنسو نہیں خون ٹپکتا ہے
03:14ایسی صفاقیت بھی ہو سکتی ہے
03:19تم نے راستے سے ہٹانا تھا ہٹا لیا
03:22لاشوں پہ گھوڑے بھی دوڑاؤگے
03:25ہڈیاں بھی توڑوگے
03:27کیا قصور کیا تھا ان گل رخوں نے
03:29میرے تو حضور نے کہا تھا
03:31اُزَكِّرُكُمُ اللَّهَ فِي أَهْلِ بَیْتِ
03:33میں تمہیں اپنے اہلِ بیت کے بارے میں اللہ سے ڈراتا ہوں
03:36میرے اہلِ بیت کے بارے میں
03:39کوتاہی کا ارتقاب نہ کرنا
03:41میرے اہلِ بیت کے بارے میں
03:44معاملے کی حساسیت کو سمجھنا
03:48اُزَكِّرُكُمُ اللَّهَ فِي أَهْلِ بَیْتِ
03:50تین مرتبہ
03:51حج کے موقع پر میرے حضور نے کہا تھا
03:55کہ میں اپنے اہلِ بیت کے بارے تمہیں اللہ سے ڈراتا ہوں
03:58اپنے اہلِ بیت کے بارے تمہیں اللہ سے ڈراتا ہوں
04:01لیکن بے مروتی صفاقی ظلم جبر زیادتی جور شقاوت اس انتہا کو پہنچ گئے
04:13دعا کرو کہ موت اہلِ بیت کی محبت میں آئے
04:16قیامت کے دن
04:19ہماری ماںوں بہنوں اور بیٹیوں کو سیدہ زہرہ پاک کی سنگت نصیب ہو
04:26چودہ سال کی عمر ہے
04:28بیمار ہیں
04:30تاریخ بتاتی اس کے بعد ساری زندگی
04:32حضرت زین العابدین نے ٹھنڈا پانی نہیں پیا
04:35جب پانی پینے لگتے تڑپنے لگتے
04:38کہتے مجھے سکینہ کی پھیاؤز یاد آتی ہے
04:41مجھے علیہ السکر کے تاپنے یاد آتا ہے
04:44ساری زندگی پھر ٹھنڈا پانی نہیں پیا
04:46حضرت امام زین العابدین نے
04:48یہ سرہ منظر کھلی آپوں کے ساتھ دیکھا تھا
04:52اور پھر آپ نے دمشقے بازاروں میں بھی
04:55اور کوفہ کی گلیوں کے اندر بھی
04:57سروں کا یہ کافلہ
04:58اپنی قیادت کے اندر جو ہے وہ گزارا تھا
05:01جب یزید کے دربار کے اندر
05:03حضرت امام زین العابدین پہنچے
05:06تو یزید نے پہلے تو
05:07جو ہے وہ دکھ کا اظہار کیا
05:10بعض لوگ یہاں سے یزید کی بریت کا اعلان کرتے ہیں
05:13یہاں کسی نے بڑی خوبصورت بات کہی
05:16کہ قاتل کی پشمانی
05:18مقتول کی اہمیت کو تو بڑھا سکتی ہے
05:21لیکن اس کے دامن سے قتل کے دا کو نہیں دو سکتی
05:24تو اس نے یہ سب کچھ کیا
05:26یہ بس اس کے ٹسوے تھے جو آنے لگا
05:30لیکن بعد میں
05:31اس نے حضرت امام عسین رضی اللہ تعالیٰ
05:33انہوں کے داتوں کے اوپر
05:35جو ہے وہ چھڑی معافمہ شروع کر دی
05:37تو حضرت ابو برزا اسرمی
05:39سے آبی رسول واہاں موجود تھے
05:40وہ کھڑے ہو گئے بطن کامتا ہے
05:43ان کا کہنے لگے ظالم
05:45عرفہ قدیبہ کا
05:47یہاں اپنی چھڑی ہٹانے
05:49میں نے اپنی ان آنکھوں سے دیکھا ہے
05:52کہ کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
05:54یل سے مہو
05:55حضور نے ان ہوتوں کو ہد چوما ہے
05:57تو یہ کہہ کہ آپ دربار سے نکل گئے
06:01اور روتے تھے آپ کے بدن پر کپ کی پیتاری تھی
06:04بعد میں یزید نے کہا
06:05حضرت غلطی ہو گئی
06:07اور یہ میں نہیں چاہتا تھا
06:09بتائیں آپ کی کوئی شرط ہو
06:10تو آپ نے فرمایا
06:12میری چار باتیں مان لو
06:13ان چار باتوں میں ایک بات یہ تھی
06:15کہ سرِ حسین اور سرِ شہیدہ
06:18ہمارے سپرد کر دو
06:19تاکہ ہم کربلا جا کے ان کی تدفین کر سکے
06:21دوسری یہ تھا
06:22کہ ہمیں مدینہ حفاظت سے پہنچا دو
06:24تیسری شرط یہ تھی
06:26مجھے جمعہ کا خطبہ دینے کی اجازت دو
06:30آج تمہیں جامعہ مسجد کے اندر
06:31چوتھی بات آپ نے یہ فرمائی
06:33کہ قاتلانی حسین جو ہے
06:35وہ میرے سپرد کرو
06:37اس نے کہا کون ہے قاتل حسین کا
06:40لوگوں نے کہا خولی ہے
06:41خولی نے کہا میں نے قتل نہیں کیا
06:44یہ سنان بن انس دخی نے کیا ہے
06:47سنان بن انس نخی کو کہا
06:49ہاں تو بتا
06:50کہنے لگا میں قتل کیوں کرنا تھا
06:52یہ تو شمرزل جوشن نے کیا ہے
06:55شمرزل جوشن کو کہا
06:56تو بتا کہنے لگا میں نے قتل نہیں کیا
06:59میرا کونسا
07:00حسین نے کچھ بگاڑا تھا
07:02قتل اس نے کیا ہے جس کی حکومت کو قطرہ تھا
07:05to go to the angelah
07:07the angel
07:09when you say this
07:11this I'm not able to cook
07:13then fish
07:14now
07:15you
07:17can get
07:18these
07:20when I speak
07:23how to 풀
07:2514
07:26year
07:27heillä
07:28he
07:29had
07:30he
07:31he
07:35شروع کیا لوگ زاروں کے تارونے لگے
07:36اور اپنے اہلِ بیعت کے منعقب
07:38جب لوگوں کے سامنے رکھے
07:40تو یزید قبر آ گیا
07:41کہ کہیں لوگ میرے قریبان تک نہ پہنچے
07:44اس نے معظم کو اشارہ کیا جلدی جلدی اذان پڑھو
07:46تو جب اس نے کہا اللہ اکبر اللہ اکبر
07:49تو حضرت شہزادہ
07:50زین العابدین نے کہا
07:52کہ اس کے اندر کوئی شک نہیں کہ اللہ سب سے بڑا ہے
07:54جب شہادتین کا کہا
07:56اشہدو اللہ الہ الا اللہ
07:57حضرت امام زین العابدین نے اس کے جواب کے اندر کہا
08:00ہاں ہاں اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے
08:03اس کی گواہی ہم نے خون سے دی ہے
08:05ہم نے اپنے لوم سے دی ہے اس کی گواہی
08:08اور پھر اس کے بعد
08:10جب اشہدو انہ محمد رفول اللہ پہ لفظ آئے
08:13تو حضرت امام زین العابدین نے کہا
08:15یہ یزید دیکھ
08:17اب اظان کے اندر تیرے نانے کا نام ہے
08:19یا میرے نانے کا نام ہے
08:21آج بھی ممبر پر میرے نانے کا نام ہے
08:23تو یزید مر گیا
08:25It's the name of your penis
08:28Hussain kerr was still
08:29Then he also was still
08:31Hussain criberala
08:32Ev별ha
08:34Terment of our
08:35Entourage
08:36Dedential
08:37Am i
08:39Jination
08:40Mekles
08:41Kabel
08:42Kindaar
08:44Kilachengi
08:45Tortora
08:46Boris
08:47Mosul
08:47Bogd ус
08:49Comme
08:49RZA
08:50Ki patti
08:50Me
08:51B
08:51Sin
08:52A
08:53Gud
08:53A
08:53Jsight
08:54اور حسین کا باکبن
08:56دنیا کو بتا رہا ہے
08:58بش کو بتا رہا ہے
08:59تیرے موہ پہ تماچہ حسین πάرے گا
09:01زمانہ بتائے گا
09:03کہ حسین کل بھی زندہ تھا
09:05حسین آج بھی زندہ ہے
09:06حسین کی فکر لے کے اٹھو
09:08اور پوری دنیا پر چھا جاؤ
09:11اور زمانے کو بتاؤ
09:12کہ ہم حسین ابن علی کے سپائی ہیں
09:14صرف مہرم کے دن
09:16اصبح آ لینے سے کچھ نہیں ہوگا
09:18کیا صرف مہرم حسین کا مہینہ ہے
09:20نہیں
09:21خدا سال حسین کا ہے
09:22پوری زندگی حسین کی ہے
09:24پورے زمانے حسین کے ہیں
09:26یہ صرف آشور کا دن
09:27یا آشور کی شب ہی حسین کی نہیں
09:29سارے زمانے حسین کے ہیں
09:31کل بھی حسین کا تھا
09:33آج بھی حسین کا ہے
09:34کل بھی حسین کا ہوگا
09:36آؤ اٹھیں
09:37قرآن کو لے کر
09:38کہ حسین بن علی
09:39نیزے کی نوک پر بھی چڑھ کے قرآن سنایا
09:42اور آج ہم اسی قرآن کی دعوت کو لے کر
09:44کہ اٹھیں
09:45اور حسین بن علی کے پیغام کو
09:47گرگر پوئیں
09:48ان کا جب وسال ہوتا ہے
09:52تو حضرت عزید بن عبداللہ
09:54اپنے باگ کو پانی دے رہے ہیں
09:56تو کسی نے جا کے ان کو کہا
09:58کہ حضور کا انتقال ہو گیا ہے
10:00تو انہوں نے یوں ہاتھ اٹھا کے کہا
10:02اللہم اعظہ بسری
10:04حتی لا عرابادہ
10:06حبیبی محمد آہدہ
10:08اے اللہ میری آنکھوں کی بنای اچک لے
10:10مجھے نہیں چاہیے یہ آنکھیں
10:13حضور کے بغیر میں کسی اور کو
10:15نہیں دیکھنا چاہتا
10:17اللہ تعالیٰ نے ان کی آنکھوں کی بنای
10:19ان کی دعا پر جو ہے وہ واپس لے لی
10:22کچھ لوگ ان کا حال پوچھنے گئے
10:24جب پتا چلا ان کی بنای چلی گئی ہے
10:26تو انہوں نے کہا
10:27کہ بڑا افسوس ہوا ہے
10:28کہ تمہاری آنکھوں کی بنای جاتی رہی
10:30تو فرمانے لگے
10:31تمہیں افسوس ہوگا
10:32مجھے تو کوئی افسوس نہیں
10:33میں حضور کے چہرے کے بغیر
10:35کچھ دیکھنا ہی نہیں چاہتا
10:37یہ پیار کی وہ انوکھی داستان ہے
10:39کہ جو آپ کو کائنات میں
10:41کہیں بھی نہیں ملے گی
10:43حضرت حسان بن ثابت
10:45رضی اللہ تعالیٰ نوکہ
10:46اشار پڑے جو حضور کے
10:47وصال پر انہوں نے کہے ہیں
10:48اس میں وہ فرماتے ہیں
10:50حضرت حسان بن ثابت
10:51کاش کہ مجھے کالا سامپ لڑ جاتا
10:53اور میری زندگی کا خاتمہ کر دیتا
10:56سیدہ فاطمہ کہتی ہے
10:57سبت علیہ مسائبن
10:59لو انہا سبت علیہ
11:01میں سرنا لیا لیا
11:03کہ میرے اوپر وہ
11:05مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے ہیں
11:07اگر وہ مصیبتیں
11:08جو ہے وہ
11:09روز روشن پر پڑتی
11:11تو وہ بھی سیاراتیں بن کے رہ جاتی
11:13تو یہ محبتوں کی قیفیت
11:15انسان تو انسان رہے
11:17وہ غدبہ نامی اٹھنی
11:19جس پہ حضور سواری کیا کرتے تھے
11:21تو وہ حضرت سیدہ فاطمہ کی
11:23دہلیس پہ سر رکھ کے
11:24بقاعدہ آسوب آیا کرتی تھی
11:26وہ یافر نامی حضور کا دراز گوش
11:29قبیلہ بن سلیم کے
11:31کوئے میں چھلانگ لگا کے
11:32اپنا خاتمہ کر لیتا ہے
11:34جب حضور چلے گئے ہیں
11:36تو ہم نے جی کے کیا لینا ہے
11:37حضرت امام احمد بن حمبل
11:40نے اپنی مستط کے اندر لکھا ہے
11:41کہ حضور کے گھر میں
11:43ایک چھوٹا سا ممولہ تھا
11:45جب حضور گھر آتے
11:46تو وہ کسی گوشے میں بیٹھ
11:48کی حضور کو دیکھتا رہتا
11:49اور آقا کریم علیہ السلام
11:51جب گھر سے چلے ذاتے
11:52اس ترابہ
11:53تو وہ مسترب ہو جاتا
11:54کبھی چارپائی پہ آ جاتا
11:56کبھی چھت پہ
11:57کبھی نیچے
11:58کبھی دائیں
11:58کبھی اوپر
11:59جب آقا کریم علیہ السلام
12:01دوبارہ گھر آتے
12:01فساکھا نہ
12:02تو اس کے دکھی دل کو
12:03قرار آ جاتا
12:04اور اگر محبتوں کی کہانیاں
12:07اور الفتوں کی دل
12:08آویز داستان کو
12:09چھڑنے لگوں
12:10تو میں تمہیں ایک ایسی
12:11الویلی اور انوکھی
12:13کہانی سناؤں گا
12:14جس کو حضرت امام بخاری
12:15نے اپنی صحیح صدد کے ذات
12:17روایت کیا ہے
12:18کہ مسجد نبوی کا
12:20ماحول ہے
12:20آقا کریم علیہ السلام
12:22ممبر پہ جلوہ فراز ہوئے
12:24ابھی خطبے کا آغاز ہی ہوا ہے
12:26کہ ایک جانب سے
12:28سسکیوں کی آواز آنے لگی
12:30کوئی پھوٹ پھوٹ کے رو رہا ہے
12:32صحابہ دائے بھائیں دیکھتے ہیں
12:34رونے والا نظر نہیں آتا
12:36اور رونے والا
12:37اس درد سے روتا ہے
12:38کہ سینوں کے اندر
12:40کلیجے پھٹتے دکھائی دیتے ہیں
12:42اس کے لہجے میں گداز اتنا ہے
12:45اور درد اتنا ہے
12:46کہ صحابہ دائے بھائیں دیکھتے ہیں
12:48رونے والا نظر بھی نہیں آتا
12:50لیکن اس کے رونے کی
12:52ہچکیاں اور سسکیاں
12:54ذورہ گداز ہیں
12:55کلیجہ پگھلا دینے والی ہیں
12:57اللہ اکبر
12:58فنازلن نبی صلی اللہ علیہ وسلم
13:01ان الممبر
13:01حضور ممبر سے نیچے اترے
13:04آج پہلا دن تھا
13:06کہ حضور کے لئے ممبر بنا تھا
13:07حضور ممبر پہ بیٹھے تھے
13:09پہلے خجور کے ایک تنے کے ساتھ ٹیک لگا کے
13:12حضور واس کیا کرتے تھے
13:14آج ممبر بنا
13:15تو اس کو ایک سمت رکھ دیا گیا
13:17رونے والا یہ وہ خوشک تنہ تھا
13:19جو حضور علیہ السلام کی
13:21جدائی کے اندر تڑپ رہا تھا
13:23اس تنے ہننانہ درہجر رسول
13:25زارمین آلد چو عربہ پہ اقول
13:28رومی کہتے ہیں
13:29کہ اس تنے ہننانہ آقے لوگوں کی طرح
13:32سسکیاں لے کے رو رہا ہے
13:34آقا کریم علیہ السلام آئے
13:35اور اس تنے کو حضور نے اپنی باہوں میں لے لیا
13:39جس طرح کوئی بچہ پچھرا ہوا
13:41ماں کی گود میں آ جائے
13:43تو اس کے گھگی بن جاتی ہے
13:45اس طرح اس کی گھگی بن گئی
13:47اور آقا کریم اس کے اوپر اپنا ہاتھ پھیرتے رہے
13:49اور بتدریج
13:51اس کی سسکیاں اور اس کا رونا کم ہوتا رہا
13:53پھر تھوڑی دیر کے بعد
13:55آقا کریم دوبارہ ممبر پہ آئے
13:57صحابہ سے ارشاد فرمایا
13:59کہ اے میرے صحابہ
14:01لولم افل حاکازہ
14:03لہنہ الہ یوم القیامہ
14:05اگر میں ممبر سے اتر کر کے
14:07اپنے آشک زار کو یوں تسلی نہ دیتا
14:10یہ قیامت تک روتا رہتا
14:12حضرت امام محمد بن سیرین ایک بزرگ ہوئے ہیں
14:16آپ فرمایا کرتے تھے
14:17کہ جب حضور کی محبت کا عالم یہ ہے
14:20کہ خشک لکڑیوں کو بھی جدائی برداشت نہیں ہے
14:24تو حضور علیہ السلام کے جو حلام ہے
14:26پھر ان کی محبت کا عالم کیا ہوگا
14:28کربلا کے میدان میں
14:29حضرت امام حسین کے پاس
14:31ایک شکی آیا
14:32اور بڑی
14:34دیدہ دہانی سے کہنے لگا
14:38کہ دیکھو فراد کی نہر
14:41اس کی لہریں اور اس کی موجیں
14:44اپنی پوری روانی کے ساتھ بے رہی ہیں
14:47اور تمہیں ایک گھونٹ بھی نہیں ملے گا
14:49تو حضرت امام حسین
14:51رضی اللہ تعالیٰ عنہ
14:52وہ جو پیاس کاٹ رہے تھے
14:53آپ کا خاندان پیاس سے بیٹھا تھا
14:56اور اللہ پر سابر دے
14:58آپ غصے اور جلال میں آئے
14:59اور ایسے ہاتھ اٹھائے
15:01اور کہا مالک
15:02آلِ محمد کو تانے دے رہا ہے
15:05حوزِ کوسر کے وارثوں پر بات کر رہا ہے
15:08اللہمہ امیت ہو اتشانا
15:12اے اللہ اس کو پیاسا مار
15:14بس یہ لفظ زبان سے نکلنے تھے
15:17کہ اس کا گھوڑا بدکا
15:19اور رکاب میں اس کا پاؤں پھنسا
15:21اور وہ چیختہ روتا رہا
15:23اور پانی پانی پکارتا رہا
15:25اور اس حالت کے اندر مر گیا
15:26اگر ان کے ہاتھ اٹھ جاتے
15:28تو وہاں اس امتحان گاہ میں
15:31کوئی راستہ نکل سکتا تھا
15:34لیکن حضرت امام حسین
15:36رضی اللہ تعالیٰ عنہ
15:38انہوں نے
15:38کوئی راستہ نہیں لیا
15:39وہ ایک کمپرومائز نہیں کیا
15:42آپ نے فرمایا
15:44کہ ایک ہی بات ہے
15:45کہ میں یزید کے ہاتھوں میں
15:46ہاتھ نہیں دوں گا
15:48یزید کا اسرار یہ تھا
15:49کہ تم میری بیعت کر لو
15:52میں تمہیں سب کچھ دوں گا
15:54بہت سارے لوگ ہم نے دیکھے ہیں
15:57کہ جب وہ باطل کے خلاف
16:00کھڑا ہونے کی بات کرتے ہیں
16:02تو ان کے گفتگو میں
16:04بڑا تن تنہ ہوتا ہے
16:05ہم یہ کر دیں گے
16:07ہم وہ کر دیں گے
16:09لیکن جب حکومت وقت
16:11ان کا میٹر کاٹ دے
16:12تو پھر وہ یوٹرن لے لیتے ہیں
16:15وہ اتنی تکلیف بھی گوارہ نہیں کرتے
16:18جو چمک چمک کے بات کر رہے ہوتے ہیں
16:20میں سلام نہ کر لو
16:22بیٹوں کی گردنیں کاٹ دی گئیں
16:24حسین نے پھر بھی
16:25یوٹرن نہیں لیا ہے
16:26حسین نے پھر بھی
16:27راستہ تبدیل نہیں کیا ہے
16:29استقامت کا کوہ گرہ بنے رہے
16:31اور اس امتحان گاہ میں
16:33حضرت امام حسین
16:34رضی اللہ تعالیٰ نہوں نے
16:36جس پامردی کے ساتھ
16:38جس جرت کے ساتھ
16:40قیام کیا
16:41وہ تاریخ کا ایک انوکھا باب ہے
16:43میں ایک بات کہا کرتا ہوں
16:45کہ لو
16:46سر بچانے کے لئے
16:48ہاتھ دے دیتے ہیں
16:50لیکن امام حسین نے
16:52ہاتھ بچانے کے لئے
16:53سر دے دیا
16:54اور یزید کے ہاتھ میں
16:57ہاتھ نہیں دیا
16:58یہ سر خوری تھی
17:00جو انہوں نے کہا
17:02کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے
17:03آپ کے لفظیں
17:05وَمِسْنِدْا يُبَعِيَو
17:07کہ میرے جیسے لوگ
17:09یزید جیسے لوگوں کے ہاتھ پر
17:11بیعت کیسے کر سکتے ہیں
17:13یہ بات ذہن رکھئے
17:15کہ یہ جو مسلح کی امامت ہے
17:17یہ امامت سوغرہ ہے
17:19چھوٹی امامت ہے
17:20اس میں تو اگر امام کی داڑی کا سائز چھوٹا ہو
17:24حد شریعت سے کم ہو
17:26تو اس کے پیچھے نماز نہیں پڑی جاتی
17:29اگر وہ اچھی طرح سے پاؤں ہی لگاتا ہے
17:32تو اس کے پیچھے نماز نہیں پڑی جاتی
17:35اگر وہ فاس کے مولن ہے
17:38تو اس کے پیچھے نماز نہیں پڑی جاتی
17:40اور جو مسلح کبرہ امامت کبرہ کا امام ہے
17:44تو وہ جیسا بھی ہو اس کے ہاتھ پہ بیعت کر لیں گے
17:47یہ آج کے دور کا مفاد پرست تو کر سکتا ہے
17:52جو کیمے والے نانگ پہ ووٹ دے دیتا ہے
17:55جس کی رگوں میں محمد عربی کا خون ہے
17:58پھر نہ اس سے یہ کیسے گوارہ ہو سکتا ہے
18:00آپ نے اعلان کرتے ہوئے کہا
18:02وَيَزِيدُ عَبْدِ الْمُعَابِيَا
18:04فَاسِقُنْ فَاجِرُنْ
18:06قَاتِلُ النَّفْسِ مُولِدُنْ بِالْفِسْءِ
18:09شَارِبُ الْخَمْرِ
18:10یزید فاسق ہے
18:12فاجر ہے
18:12اعلانیاں فس کرتا ہے
18:14مسلمانوں کا قاتل ہے
18:16شراب پیتا ہے
18:17حسین ابن علی اس کی کیسے بیعت کر سکتا ہے
18:20میں ٹٹ کے دنکے کی چوٹ پہ
18:22یزید کی بیعت کا انکار کرتا ہوں
18:24شکریہ