00:00موسیقی
00:25رات گہری ہو چکی تھی
00:26شاہی محل کے سہن میں خاموشی کا راج تھا
00:30بس دروازے کے باہر کھڑے پہلے داروں کی ہلکی قدموں کی چاپ سنائی دے رہی تھی
00:35آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے جیسے کسی آنے والے طوفان کی پیش گوئی کر رہے ہیں
00:41زین سلطان کریم کا اکلوتا بیٹا اپنے کمرے کی کھڑکی سے باہر اندھیرے میں کچھ تلاش کرتا محسوس ہو رہا تھا
00:48نا جانے اسے نیند کیوں نہیں آ رہی تھی
00:51آج اس کے والد نے ایک عجیب بات کہی تھی
00:54کل تمہیں وہ چیز دی جائے گی جو میرے باپ نے مجھے دی تھی اور اس کے باپ نے اسے
01:00یہ تاج صرف وارث کو ملتا ہے مگر ہر وارث اس کی قیمت چکتا ہے
01:05زین یہ بات سمجھ نہیں پایا
01:07کون سا تاج
01:09کیسی قیمت
01:10وہ تو ابھی خود کو مکمل شہزادہ بھی نہیں سمجھتا تھا
01:15وہ نرم دل سوچنے والا اور کبھی کبھی الجھن میں پڑ جانے والا لڑکا تھا
01:19مگر آج دل جیسے بیچین تھا
01:22کچھ ہونے والا تھا
01:24صبح کا سورج ابھی نکلا ہی تھا کہ وزیر خاص نے دروازہ کھٹ کھٹایا
01:29زین نے دروازہ کھولا تو دیکھا کہ چار سپاہی ایک پرانا سا سندوق اٹھائے کھڑے ہیں
01:34وزیر نے آہستہ کہا
01:36بادشاہ سلامت نے حکم دیا ہے
01:39شہزادے کو تاج پیش کیا جائے
01:41سندوق کھولا گیا
01:43اندر ایک تاج رکھا تھا
01:46سادہ مگر عجب چمک لیے ہوئے
01:47وہ سونے کا نہیں لگتا تھا
01:50نہ چاندی کا نہ جواہرات سے سجا ہوا
01:52مگر اس کی روشنی آنکھوں میں اترتی تھی
01:54جیسے اس میں کچھ اور ہی تھا
01:56کش
01:57زندہ
01:59زین نے سوال کیا
02:01یہ تاج کیسا ہے
02:02اتنا مختلف کیوں
02:04وزیر خاموش رہا بس سر جھکا کر تاج اس کے سامنے رکھ دیا
02:09جیسے ہی زین نے تاج کو چھوا
02:11ایک تھندک اس کے ہاتھوں سے ہوتے ہوئے دل تک اتر گئی
02:14اچانک تاج سے ایک آواز اُبھری
02:17زین
02:18اگر تم مجھے پہنو گے
02:21تو تمہیں ہر فیصلے میں سچائی دکھائی دے گی
02:23مگر ہر سچائی کی قیمت چکانی ہوگی
02:26زین چونک گیا
02:28تاج
02:30بول رہا تھا
02:31وہ پیچھے ہٹا
02:33مگر تاج کی آواز اب بھی سنائی دے رہی تھی
02:35یہ تحفہ نہیں آزمائش ہے
02:38تمہاری تقدیر بدلنے والی ہے شہزادے
02:41زین کے دل میں سوالوں کا طوفان اچھ چکا تھا
02:45مگر اسی لمحے محل کے باہر شور بلند ہوا
02:48دو خاندان محل کے دروازے پر انصاف مانگنے آگئے تھے
02:52ایک معمولی زمین کے جھگڑے نے فساد کی شکل اختیار کر لی تھی
02:58سلطان کریم بستر پر بیمار تھے
03:00اور وزیر خاص نے شہزادے کو ہی فیصلہ سنانے کو کہا
03:03زین پریشان ہوا
03:05وہ جانتا تھا کہ اس کا ایک فیصلہ دونوں خاندانوں کی تقدیر بدل دے گا
03:10اور یہ اس کی پہلی آزمائش تھی
03:13اس نے تاج کو دیکھا
03:15وہ اب بھی خاموش تھا مگر اس کی روشنی دھیرے دھیرے بڑھ رہی تھی
03:20جیسے تاج خود فیصلہ کرنا چاہتا ہو
03:23زین نے ہچکچاتے ہوئے تاج کو سر پر رکھا
03:26اچانک منظر بدل گیا
03:28اسے وہ زمین دکھائی دی
03:31دونوں خاندانوں کی محنت دکھ جھوٹ اور سچ
03:34سب کچھ ایک فلم کی طرح اس کے ذہن میں چلنے لگا
03:37زین کو فیصلہ کرنا آسان لگنے لگا
03:40مگر جب اس نے فیصلہ سنایا دونوں خاندان روپڑے
03:44انصاف ہو چکا تھا
03:46سب نے شہزادے کی ذہانت کی داد دی
03:49مگر جب وہ محل واپس لوٹا
03:50اسے عجیب سا خلا محسوس ہوا
03:52کش
03:53ہو چکا تھا
03:56اس نے کمرے میں اکر اپنی ماں کی تصویر کی طرف دیکھا
03:59مگر
04:00تصویر میں جو چہرہ تھا وہ پہچان میں نہ آ رہا تھا
04:04زین نے آنکھیں بند کی
04:06ایک آواز کہیں دور سے آئی
04:08تم نے سچ کو چانا
04:10اور بدلے میں ایک یاد گنوا دی
04:13زین دیر تک تصویر کو گھورتا رہا
04:17یہ وہی فریم تھا جو برسوں سے
04:19اس کے کمرے کی دیوار پر آویزہ تھا
04:21اس کی والدہ کی آخری مسکراہت
04:23جو کبھی اس کے دل کو سکون دیتی تھی
04:25مگر آج
04:26اس چہرے میں اجنبیت تھی
04:29آنکھیں وہی تھی مگر خالی
04:31جیسے کوئی رنگ میں چکا ہو
04:34جیسے کوئی احساس چین لیا گیا ہو
04:37زین نے آہستہ سے خود سے پوچھا
04:40یہ کون ہے
04:41پھر وہ بیٹھ گیا
04:42اور تھوڑی دیر بعد اس کے کمرے میں
04:44ایک بوڑا خادم آیا
04:46وہی جو بچپن سے اس کی پرورش میں مددگار تھا
04:49زین نے سر اٹھایا اور کہا
04:52بچپن میں امی مجھے ایک خاص گیت سناتی تھی
04:55یاد ہے
04:56گوڑا خادم مسکرائے
04:58ہاں شہزادے جو آپ بار بار سنتے تھے
05:01وہی جس پر آپ سوجایا کرتے تھی
05:03زین نے نظریں جھکا لی
05:05مجھے یاد نہیں آ رہا کہ وہ کیا تھا
05:08خادم کی مسکراہت مدھم ہو گئی
05:11شاید تھکاوت ہے شہزادے
05:14وہ یہ کہہ کر چلا گیا
05:15مگر زین جانتا تھا یہ تھکن نہیں
05:18یہ تاج کی قیمت تھی
05:20شام ہونے تک وہ تنہا بیٹھا رہا
05:22تاج سامنے رکھا تھا خاموش مگر روشنی سے لبریز
05:26اچانک تاج سے پھر آواز آئی
05:29سچ کا راستہ وہی چنتا ہے جو خود کو بھولنے کا حوصلہ رکھے
05:34زین نے سر جھکا لیا
05:36اسے سمجھ آ گیا تھا کہ یہ صرف طاقت کا تاج نہیں
05:40یہ ایک سودا تھا
05:41سچ کے بدلے یادیں
05:43اسی لمحے وزیر خاص دوبارہ آیا
05:46اس کے چہرے پر سنجیدگی تھی
05:49شہزادے اگلا مسئلہ اور بڑا ہے
05:52شہر کے شمالی حصے میں پانی کی قلت ہے
05:56لوگ اب سے فیصلہ چاہتے ہیں
05:58زین نے سر ہلایا
06:00کیا میں تاج کے بغیر فیصلہ نہیں کر سکتا
06:03اس نے دھیرے سے پوچھا
06:05وزیر کچھ لمحے خاموش رہا پھر بولا
06:08آپ کر سکتے ہیں
06:09مگر کیا آپ اپنے آنکھوں پر بھروسہ کرتے ہیں
06:12یا اس روشنی پر جو سچ دکھاتی ہے
06:14یہ سوال زین کے دل میں ترازو بن گیا
06:17وہ جانتا تھا کہ تاج اس کی مدد کرے گا
06:20مگر وہ یہ بھی جان چھپکا تھا
06:22کہ ہر مدد کے بدلے کچھ چھن جائے گا
06:24وہ اٹھا تاج کو ہاتھ میں لیا
06:26اور اسے سر پر رکھ لیا
06:28پھر وہ دربار میں گیا
06:30جہاں سیکڑوں لوگ جمع تھے
06:31زین نے ان کی بات سنی
06:33اور تاج کی روشنی میں اصل مسئلہ کو جانا
06:36کسی نے ندی کا پانی مور دیا تھا
06:38ایک جاگردار نے ذاتی فائدے کیلئے
06:40زین نے انصاف کیا پانی کھولا گیا
06:43اور لوگ خوشی سے جھوم اٹھے
06:45محل نارا شہزادہ زین زندہ باد سے گونج اٹھا
06:49مگر جب زین واپس پلٹا
06:51اسے محسوس ہوا کہ کچھ اور چھن گیا ہے
06:53اسے اپنے بچپن کے دوست کا نام یاد نہیں آ رہا تھا
06:57وہ جو ہمیشہ اس کے ساتھ تلوار بازی کھیلتا تھا
07:01ہنستا تھا دوڑتا تھا
07:02بس ایک دھندلا چہرہ رہ گیا تھا
07:06وہ کمرے میں جا کر خاموش کھڑا رہا
07:08دل میں ایک عجیب سا خلا
07:09پھر تاج نے کہا
07:11اب تم بہتر فیصلے کرتے ہو
07:14مگر اپنی پہچان کھو رہے ہو
07:15زین کیا تم یہ سودا جاری رکھو گے
07:18زین نے کوئی جواب نہ دیا
07:21بس دور خلا میں گھورتا رہا
07:24شہر جشن منا رہا تھا
07:26انصاف ہوا تھا
07:28تاج جیت گیا تھا
07:30مگر زین
07:31وہ ہارنے لگا تھا
07:34ایک انجان لڑکی زین سے ملنے آتی ہے
07:36جو اسے بغیر تاج کے بھی
07:38سچ دکھانے کی بات کرتی ہے
07:40مگر وہ ہے کون
07:41اور اسے زین کی بھولی یادوں کا کیسے علم ہے
07:45جانیں گے اگلی قسط میں
07:47اگر آپ بھی جاننا چاہتے ہیں
07:49کہ زین کی یادیں کیسے چھنتی ہیں
07:51اور وہ کون ہے جو اسے بچانے کیلئے آیا ہے
07:54تو اس سلسلے کو ضرور فالو کریں
07:57کہانی پسند آئی ہو تو لازمی چینل کو سبسکرائب کریں
08:01ویڈیو کو لائک کریں
08:02اور اپنی رائے کمنٹ میں ضرور دیں
08:04اگلی قسط اب تک سب سے پہلے پہنچے
08:07اس کے لیے بیل آئیکن کو بھی دبانا نہ بھول
08:09موسیقی
08:14موسیقی
08:39تک سب سے پہلے پہنچے
08:40موسیقی
08:42موسیقی
08:45موسیقی
Comments