00:00موسیقی
00:20انوان روشنی کی کرن پیغام ایک بچی کو تعلیم دو
00:24ایک قوم کو طاقت دو
00:26گاؤں نورپور کی فضاء سورج کی نرم کرنے جب گاؤں نورپور کی مٹی پر پڑتی تھی
00:32تو ایسا لگتا جیسے وقت تھمسا گیا ہو
00:34مٹی کی خوشبو ہرے بھرے کھیپ کچھے پکے گھر اور بچوں کی کلکاریاں گاؤں کی شناخت تھے
00:41مگر ایک بات یہاں ہمیشہ سے واضح تھی
00:44لڑکوں کی تعلیم ضروری اور لڑکیوں کی شادی ضروری
00:47یہی سوچ نسل در نسل چلی آ رہی تھی
00:50لڑکیاں زیادہ تر گھرے لو کام سیکھتی تھی
00:53اور کم عمری میں بیادی جاتی
00:55فریحہ صرف دس سال کی تھی
00:57مگر آنکھوں میں پوری دنیا سموئے بیٹھی تھی
01:00جب بھی وہ گلی سے گزرتے سکول کے بچوں کو کتابیں ہاتھ میں لیے دیکھتی
01:05تو دل سے ایک آہ نکلتی
01:06کاش
01:07میں بھی سکول جا سکتی
01:09وہ روز دروازے کے پاس بیٹھ کر بچوں کے ہنستے کھیلتے چہرے دیکھتی
01:13اور انگلی سے مٹی پر غروف لکھنے کی کوشش کرتی
01:16ایک دن فریحہ نے حمد کر کے اپنی ماں خدیجہ سے پوچھا
01:20ماکیاں میں بھی سکول جا سکتی ہوں
01:22خدیجہ چونک گئی
01:23مگر فریحہ کی آنکھوں کی چمک دیکھ کر دل بھر آیا
01:26اگلے دن خدیجہ نے فریحہ کیلئے دوپٹہ دھویا
01:30اس کے بال سنوارے اور ہاتھ پکڑ کر گاؤں کے سکول کی طرف روانہ ہوئی
01:34راستے میں کچھ عورتیں چپکے چپکے باتیں کرنے لگیں
01:38دیکھو خدیجہ اپنی لڑکی کو سکول لے جا رہی ہے
01:41یہ تو ہمیں بھی بدنام کرے گی
01:43مگر خدیجہ کے قدموں میں لرزش نہ آئی
01:45سکول کا دروازہ پار کرتے ہوئے اس کی آنکھوں میں آنسو تھے
01:50مگر دل میں سکون
01:51پرنسپل صاحب نے حیرت سے پوچھا
01:53بیٹی کا داخلہ کرانا چاہتی ہے
01:55خدیجہ
01:57جی میری فریحہ پڑھنا چاہتی ہے
01:59فریحہ کو داخلہ مل گیا
02:01وہ دن فریحہ کی زندگی کا نیا آغاز تھا
02:04خدیجہ خود کبھی سکول نہیں گئی تھی
02:07اس نے ساری زندگی چولہ برتن اور گنتی کی روٹیوں میں گزار دی تھی
02:12مگر اس دن پہلی بار دل سے ایک آہ نکلی
02:15میری بیٹی وہ سب سیکھے جو میں نہ سیکھ سکی
02:18رات کو وہ اپنے شوہر سے بات کرنے لگی
02:20خدیجہ
02:21ہم فریحہ کو سکول بھیجیں گے
02:23شوہر
02:24لوگ کیا کہیں گے
02:25لڑکیوں کو سکول تھوڑا بھیجتے ہیں
02:28خدیجہ
02:29وہ رزم لہجے میں
02:30وہ لوگوں کی نہیں بیٹی کے مستقبل کی فکر کرو
02:32فریحہ نے دن رات محنت کی
02:34گاؤں کی لڑکیاں پہلے شرماتی تھی
02:37مگر آہستہ آہستہ وہ بھی متاثر ہونے لگے
02:40فریحہ ہمیشہ اپنی کتابیں ساتھ رکھتی درخت کے نیچے بیٹھ کر پڑتی
02:45اور دوسروں کی بچیوں کو بھی پڑھنے پر آمادہ کرتی
02:48گاؤں والے پہلے تنقید کرتے پھر حیران ہوئے
02:52اور آخرکار خاموش ہو گئے
02:54کیونکہ فریحہ کے نمبر پورے زلہ میں سب سے اونچے آئے تھے
02:58دس سال گزر گئے
02:59فریحہ اب ڈاکٹر بن چکی تھی
03:02جب وہ اپنے گاؤں واپس لوٹی
03:04تو ایک سفید کوٹ پہنے خود اعتماد چال میں چلتی ہوئی گاؤں کے بچوں کو مفت چیک کر رہی تھی
03:10اس بار خدیجہ کی آنکھوں میں آنسو تھے لیکن خوشی کے
03:13گاؤں کی ایک عورت قریب آئی اور بولی خدیجہ ہمیں معاف کرنا
03:17ہم تمہاری حمد کو نہ سمجھ سکے
03:20فریحہ نے آس پاس کھڑی بچیوں کو دیکھا اور کہا
03:24اب میں سے ہر ایک بچی ایک کرن ہے
03:26اگر ہم انہیں تعلیم دیں تو یہ کرن پورے سماج کو روشن کر سکتی ہے
03:31ایک ماں کے حسلے اور ایک بچی کے خواب نے نورپور کا نقشہ بدل دیا
03:35جہاں کبھی تعلیم صرف لڑکوں کا حق سمجھا جاتا تھا
03:39اب وہاں ہر بچی سکول جاتی ہے
03:43ایک بچی کو تعلیم دو ایک نسل کو سنوار دو
03:46تعلیم صرف لڑکوں کی نہیں بیٹیوں کا بھی حق ہے
03:48خواتین کو با اختیار بنانے کے لیے ہمیں ان کی تعلیم ترقی اور خود مختاری کی حمایت کرنی ہوگی
03:55آئیے
03:56آج یہ اہد کریں ہر بچی سکول جائے گی
03:59ہر عورت کو برابر کا موقع ملے گا
04:13موسیقی
04:17موسیقی
04:43موسیقی
04:45موسیقی
04:47موسیقی
04:49موسیقی
Comments