00:00Samvidhan ki hathya ki gai is din
00:02Loktaundra ko pairon-talhe kuchal diya gaya
00:07Ay juh Samvidhan leke ghumte hain
00:12Voh yad karein
00:14Yehi kongres thi
00:17Jiske DNA mein tana saahi hai
00:21Er aepni kurse vachanen ke liye
00:23Satta mein bener rhenne ke liye
00:27To be the whole country,
00:57ڈال دیے گئے جس کو چاہو پکڑو جیل میں ڈال دو ابھی وقتی کی
01:02سوطندرتہ کچل دی گئی چھین لی گئی پریس پہ تالے ڈال گئے
01:08تھے کیول نیتاؤں کو جیل میں نہیں ڈالا اس سمیں پریس کے ساتھ بھی جو
01:17سلوک ہوا لوگ پندر کے آدھار استمب کو بھی کچلنے کا کام کیا
01:22کیول اس لیے کہ میں ہی سطح میں رہوں گی نہ نیائے پالکا کی
01:29سنوں گی نہ سمویدھان کی سنوں گی اور جو آواز اٹھائے گا وہ جیل
01:37میں جائے گا کچل دیا جائے گا کئی پریوار تباہ اور برواد ہو گئے
01:41سادھارن کارکرتاؤں کو جیل میں ڈال دیا گیا ان کے گھر اور پریوار
01:48برواد ہو گئے مجھے یاد ہے حسمت وارسی ہمارے جنسن کے نیتا تھے
01:53میں تو چھوٹا تھا بھوپال سنٹر جیل میں میں بھی بند تھا وہ بیمار ہوئے
01:59ہم لوگ گڑ گڑاتے رہے پیٹ میں ان کے بھیانک درد تھا تین چار دن وہ
02:07تڑفتے رہے ان کو علاج کی سویدھا نہیں ملی اور بعد میں جب ایک دم ان کی
02:17بیماری ایسی بڑھی کہ اب لگا کے بچیں گے نہیں تب لے جایا گیا تو جاتے
02:21جاتے ہسپتال منوں نے دم توڑ دیا یہ وہ نیتا تھے کرنٹ لگائے گئے لوگوں
02:27کو ورف کی سلی پر لٹایا گیا ہاتھ پیر توڑے گئے ہم میرے جیسے لوگ
02:36ہم تو اپنے اسکول کے پریزیڈنٹ تھے لگا کے مہنگائی بیرودگاری
02:40بھرشتہ چار اور گلس سکھا پدھتی اس کے خلاف آندولن کی ضرورت ہے تو
02:45جی پی مومنٹ پر سامل ہو گئے لیکن ڈیفینس آف انڈیا رول میں ہم بند تھے
02:51ہتھ کڑی لگا کے مارتے ہوئے لے جایا گیا اور تھانے میں گھٹنوں
02:57پہ ڈنڈے اور کوہنیوں پہ ڈنڈے برسائے گئے بتاؤ یہ پیمپلیٹ جو
03:03سائیکل اسٹیل بانٹے تھے کہاں سے آئے کہ یہ دن بھولنے لائک ہے
03:08ڈیس کبھی نہ بھولیں کہ وہ دن سوطنتر بھارت کے لوگتنت کے اتحاس
03:18کا سب سے کالا دن ہے سمویدھان حتیہ دیوس اور یہ سنکل پلے دیس
03:26کہ ایسا پھر کبھی دوبارہ نہیں ہوگا
03:30جن لوگوں نے لوگتنتر کی حتیہ کے خلاف آباز اٹھائی
03:43جنہوں نے لوگتنتر بحلی کے لئے آندولن چلایا جو سمویدھان کی
03:50رکھا کے لئے جیلوں میں گئے میں مانتا ہوں کہ یہ آجادی کی تیسری
03:58لڑائی تھی پھر تھم سوطنتر سنگرام پھر دوسرا سوطنتر سنگرام اور یہ
04:03تیسرا ہی تھا جب پورے دیس میں آپاد کا لگا کے دمن چکر چلائے گیا تو انہیں
04:13بہت قروانی تھی میں بتایا کہ چھوٹے موٹے کارووار کرتے تھے بی آپاد
04:18ٹھپ ہو گیا بیمار ہو گئے اب میری دادی ماں میں جیل میں تھا تو جیل میں گیا
04:24تو بیمار ہو گئی لڑکا جیل چلا گیا اور بعد میں ان کی مرتی ہو گئی
04:29کئی ایسے نیتہ تھے جن کے پریوار میں مرتی ہو گئی ان کو انتم درسن کے
04:34لئے نہیں جانے دیا تو جن نے لوگتنتر کی رکھا کے لئے آباز اٹھائی ان کو
04:42لوگتنتر سینانی کہنا ہی چاہیے ان کا سممان کرنا چاہیے اس لئے مکہ منتری
04:46ہی رہتے ہوں مدھ پردیس پر ہم نے کیا تھا سر پینشن دینے کا کام
04:49بھی پردیس سرکار نے ہی کیا تھا کیا بولنا چاہیے یہ ضروری تھا کیونکہ
04:55کئی چیز پریواروں کے پاس آئے کا کوئی ذریعہ ہی نہیں بچا تھا چھوٹے
05:00موٹے بیاپار بیجنس دکان تھی تو چوپٹ ہو گئی انیس مہینے جیلوں میں
05:03رہے تو اور کئی بار ایسا تھا کہ آجیبکہ کا سنکٹ کھڑا ہو گیا تھا
05:10ایک سممان ندھی کے ناتے کہ آجیبکہ کے لئے نہیں ان کے سممان کے لئے یہ
05:15ندھی پرارم بگی تھی
05:16میں تو گیار بی میں پڑھتا تھا یہ بات سہیے کہ میں نے آپ آتکال کے خلاف
05:35آباز اٹھائی تھی
05:37جے پی کے آندولن میں اس سمیں میں سامل ہو گیا تھا پھر اسٹینٹ کے ناتے
05:42اور ویدار جبرشت کا تب تک کاری کرتا بھی بن گیا تھا
05:45میں بیگمگن جیل بھی جاتا تھا جہاں ہمارے کئی لوگ بند تھے بھوپال کے پاس
05:51جیلر بہت دیالو تھے وہ اندر بھیج دیتے تھے بیرک میں ہی
05:55تو سب سے مل کے آتا تھا اور ان کے گھر کے سماچار دیتا تھا
06:00اور باہر بھی ہم سائیکل اسٹالی پرچہ گھروں میں پہنچانے کا کام کرتے تھے
06:04سائیکل اسٹالی پرچہ ہو پاتے تھے کہ ان چھپ تو سکتے نہیں تھے
06:07ایک دن پولیس نے میرے گھر کا بھی گھر کا تھا
06:12کرائے کے کمرے پر رہتے تھے پڑھنے آئے تھے گاؤں سے
06:15دروازہ کھٹ کھٹ آیا
06:17اور جب دروازہ کھلا تو سامنے پولیس کھڑی تھی
06:21نیچے بھی پولیس گھیرے ہوئے کھڑی تھی
06:23گیسے کسی آتنگ وادی کو دبوچ نے پہنچے ہو
06:26نام پوچھا تو میں نے بتایا اور پھر انہوں نے جو بیوہار کیا
06:30یہ تو گندی گالی تھی جو میں دھوہرہ نہیں سکتا
06:33تھپڑ مارنا شروع کیا کہ تو اندرہ گاندھی کے خلاف
06:37آندولن چل آئے گا ہمارے علاقے میں
06:40کچل دیں گے اور جن سبدوں کا اپیوک کیا وہ سب بھی بھاسا نہیں ہے
06:45تلاسی لی تو میرے ہاں سائیکل سٹائل پرچے سے لے کے
06:49چھٹھیاں تک
06:51سب برامد ہوئے
06:53تو مارتے ہوئے وہاں سے مجھے حبیو گنچ تھانے لے گئے
06:56حبیو گنچ تھانے لے جا کے ہتھکڑیاں ڈال دی اور پھر پوچھا کہ بتا یہ
07:01پرچے کہاں سے ملتے تھے جب میں نے نہیں بتایا کیونکہ ناثورام
07:06سونی تھے جن کی چھوٹی سی لکڑی کے پھٹے والی ہوتل تھی لیکن وہ
07:10جن سنگ کے بہت سمرپت کاری کرتا تھے وہاں سے ملتے تھے میں نے
07:15نشچے کیا کہ بتانا نہیں تو ان کو بھی پکڑیں گے ان کا پریوار
07:18برباد ہو جائے گا پھر کرنٹ لگانے کی دھمکی دی کرنٹ لگایا نہیں
07:24لیکن باہر باہر لگا کے کرنٹ لگاؤ اس کو برف کسی لی لاؤ اس پر
07:30سلاو لیکن اس سمیں میں اڈک رہا کہ میں نہیں بتا پاؤں گا کہ کہاں
07:36سے پرچے ملتے تھے پھر گھٹنوں میں اور کونیوں میں ڈنڈے مارے اور بعد میں
07:40دوسر دن صویرے پھر ہتکڑی لگا کہ ایک مجسٹریٹ پٹیل کے گھر جیپ میں
07:46حالکہ بٹھا کے لے گئے وہاں پتا نہیں ریمانڈ اور کیا ہوتا تھا
07:49مجھے اتنا یاد نہیں لیکن مجسٹریٹ نے سگنیچر کیے اور پھر مجھے دو
07:54سپائیوں کو دے دیا کہ لے جاؤ اس کو جیل تو دو سپائی مجسٹریٹ کے
07:59گھر سے پیدل لے کے مجھے چلے سائد ان کو بس میں بٹھانا ہوگا کہ
08:03وہاں سے جیل لے جائیں گے بھوپال میں تو ایک بچے تانگے میں آ رہے
08:07تھے اسکول کے بچے دب تھے ان نے دیکھا میں نے پجاما اور سٹ پہنی
08:12تھی اور حالت بھی رات بھر سویا نہیں تھا تو خراب ہو رہی تھی چہرہ بھی
08:17اور کپڑے بھی گڑے مڑے گندے ہوں گے تو ان کو لگائی کوئی چور ہے
08:22بچوں نے کہنا ہے کہ دیکھو دیکھو پلس پکڑ کے لے جاری چور ہے
08:27تو مجھے لگے یہ تو گھر بھڑ ہو رہی ہے تب ہی اچانک جو ہم نعرہ
08:32لگاتے تھے میرے من میں آئے کہ اپنا اکیلی نعرے لگائیں جلم کے
08:35آگے نہیں جھکیں گے جلم کیا تو اور نہ لیں گے پہلے ان نے ڈانٹا
08:40ڈپٹی کی کی چھپ رہے ہیں ان کا اب تو چھپ رہوں گا نہیں جیلی لے
08:42جا رہے اور کیا کرو گے مار پیٹ بھی لیا تم نے پھر بس میں بٹھائے
08:46تو بس میں بھی نعرے لگے تو لوگ کانہ فونسی کرنے لگے
08:49درتے تو تھے لیکن یہ بھی کہنے لگے کہ بڑا نیا ہے دیکھو چھوٹے
08:53سے لڑکے کو ایسے جیل لے جا رہے ہیں بعد میں انہوں نے اتار
08:57کے مجھے آٹوں میں بٹھایا تو آٹھوں میں بھی میں سر نکال نکال کے
08:59نعرے لگاتا رہا جلم کے آگے نہیں جھکیں گے جلم کیا تو اور لڑیں
09:02گے اور ایسے سینٹرل جیل بھوپال پہنچ گئے تو باہر ہم پہنچے
09:06تو اندر بیرک تھی چھے نمبر گئے میں باہر نعرے لگا رہا تھا
09:10تو اندر سے نعرے لگنے لگے جو میسہ بندی پہلے سے تھے اور پھر
09:13ہم اندر لے جائے گئے اندر سرٹ اتروائی گئی تل دیکھے گئے
09:16سریر میں کہاں کہاں جو کچھ ان کو کرنا تھا وہ سب کیا اور پھر
09:20ہم بیرک میں لے جائے گئے
09:22ایک دور دیکھا امرجنسی کا اور ایک آج کا ٹائم ہے کہاں سرکار
09:30جو ہے اگر بات کریں انٹرنیشنل لیول کی انٹرنیشنل پولٹکس
09:34تھی تو وہاں پہ بھی بہت سمرت ہے گلوبل لیڈر کی طرح گلوبل لیڈر کی
09:39طرح جو ہے ہمارا دیش آگے بن رہا ہے کیا بولنا چاہیے کتنا
09:41ڈیفرنس دے مجھے گرب یہ کہتے ہوئے کہ پردھان منتری شریمان
09:46نریندر موڈی جی کے نیتراتوں میں ایک بیباف سالی گورف سالی
09:50سمپن سمرد اور سکتی سالی راست کا ادھے ہوا ہے آج کا بھارت
09:58اور تب کے بھارت میں بھارت تو ماں ہے ہماری دیش لیکن تب اور
10:05آج بہت انتر ہے ایک سمیں جب دنیا کے کسی دیش میں جاتے تھے تو
10:11ایمان نہیں تھا سمان نہیں تھا اجت نہیں تھی گم بھرتا سنی لیتا
10:14تھا کوئی اور کانگریز کی رجب میں تو بے ایمانی اور برشتہ چار کا
10:18گھر مانا جاتا تھا لیکن آج جہاں جائیں دنیا کے کسی کونے میں بھارتی
10:25سنتے ہی ایک الگ سمان کا بھاؤ ہمارے ناغرکوں کے پرتی پیدا ہوتا
10:29ہے ہم دنیا کی چوتھی سب سے بڑی ارث ویوسطہ بن چکے ہیں ان کو
10:33پیچھے چھوڑ دیا جنہوں نے کبھی ہم پہ راج کیا تھا ہر دسا میں بھارت
10:39آج پرگتی کر رہا ہے وکاس کر رہا ہے گرو سے ہم بھرے ہوئے ہیں اور
10:44کسی نے اگر آنکھ اٹھا کے بھارت ماتا کی طرف دیکھا تو پھر ان کو
10:47انجام بھگتنا پڑا ہے چاروں طرف پرگتی ہو رہی ہے اور سب سے بڑی
10:52بات یہ ہے کہ لوگ تنتر بی جے پی کی جڑوں میں ہیں ماتی میں ہیں
10:57ڈی این اے میں ہیں تانہ ساہی کانگریس کے اور لوگ تنتر بی جے پی
11:01مجھے گروے کہتے ہوئے منطری کے روپ میں جب کیونیٹ کے اندر ہم
11:06بیٹھتے ہیں تو پردھان منطری جی پوچھتے ہیں کہ بتا اور کوئی
11:09ویسے ہے کیا ہر ایک منطری سے بولو تمہیں کچھ کہنا ہے کیا
11:13جب اندرہ جی تھی تب کوئی بول سکتا تھا کہ اس کی ہمت تھی کیا
11:17لوگ تنتر پرکریاؤں کے مادھم سے ساری چیزیں تیہ ہوتی ہیں
11:21دیس بڑھ رہا ہے کھلی ہوا میں سانس لے رہا ہے نوجوان آتم وصوات سے
11:27بھرے ہوئے ہیں ہماری آرثی وکاس در ہو ہمارے اناج فل سبجیوں کا
11:32اتھپادن ہو میکن انڈیا سے لے کے ڈیجیٹل انڈیا تک اسٹارٹ اپ انڈیا
11:40سے لے کے اسٹینڈ اپ انڈیا تک محلہ سوسکتی کرن سے لے کے گرامین اور
11:46سہری وکاس تک ادھوگی کرن سے لے کے چاروں طرف ہائیوے دیکھو آپ
11:52دیکھ کے گروہ سسینہ پھول جاتا ہے ہائیوے جھو ریلوے کے نیٹورک ہو
11:59بندے بھارے ٹرین سے لے کے الگ الگ انویشن ہو رہے ہو ایئر کنیکٹویٹی
12:04کا معاملہ ہو پورٹ ہو ایئر پورٹ ہو چاروں طرف پرگتی ہو رہی ہے بیس آگے
12:10بڑھ رہا ہے جی سر ایک آخری سوال کیونکہ کچھ آوازیں جو ہیں ان سے معافی
12:16مانگنے کے لیے بھی کہہ رہی ہیں آپ کیا بھونا چاہیں گے کانگریس کو تو معافی
12:21مانگنا ہی چاہیے اس پاپ کے لیے اس اتی اچار کے لیے انعائی کے لیے جس میں
12:28کئی لوگ مارے گئے اور انعائی بھی کیسے کیسے ہوئے تو رکمان گیٹ کون
12:33بھولے گا ہیں لوگ گولیوں سے بھون دیے گئے تھے ایک وقتی کی سنک نے تیہ
12:41کر دیا کہ نسبندی کرو پورے دیس میں اور نسبندی کے ٹارگیٹ فکس کر دیے گئے
12:47ہر ایک افسر کو ضروری ہے کہ اتنی اتنی تو نسبندی کر کے ہی آو گئے
12:52اور نہیں تو بیتن نہیں پرموسن نہیں پتہ نہیں کیا کیا لگا دی
12:58تو باقی سب کام چھوڑ کے افسر پھل گئے کہ چلو پکڑو نسبندی کرو
13:02مجھے یاد ہے کیونکہ میں تو نو اپریل چھتر کو آٹھ نو اپریل چھتر کو
13:09کیونکہ رات میں ارشت ہوا تھا میں
13:11تب ارشت ہوا تھا لیکن اس کے پہلے جب امرجنسی لگ چکی تھی پچھتر جون میں
13:16میں نے دیکھا تھا کوئی گاڑی اگر گاؤں کی طرف آئے تو پورا گاؤں
13:20دوڑ پڑتا تھا بھاگو آپریسن والے آگئے مطلب نسبندی والے آگئے
13:25کوئی کھیتوں میں پڑھائے کوئی نالوں میں گھسائے
13:28کیونکہ اس سمیں پکڑ پکڑ کے بجرگوں کی بڑھوں کی نسبندی کر دی گئی
13:34بچوں کی نسبندی کر دی گئی جس کو پکڑ میں آگیا اس کی نسبندی کر دو
13:41اس سمیں نعرہ لگتا تھا کھیت گئے چک بندی میں مکان گیا حد بندی میں اور
13:50محلہ کھڑی کھڑی چلائے پٹی گیا نسبندی میں ایسا آتنک تھا یہ کوئی
13:57راج تھا کیا ایسے امانسک اتیاجار کے لیے کانگریس کو ناک رگڑ کے
14:02معافی مانگنی چاہیے کہ یہ گلتی ہوئی تھی
Comments