Skip to playerSkip to main content
#kathputli #farhanahmedmalhi #minsamalik #fajjerkhan

Kathputli Episode 81 [Eng Sub] Minsa Malik - Farhan Ahmed Malhi - Fajjer Khan - 24th June 2025 - Har Pal Entertainment

Kathputli is a tale of how greed and deceit can lead to one’s downfall, while honesty and patience pave the way to success. At the heart of this narrative are Tabeen and Areeba, two sisters whose vastly different natures set them on contrasting paths. Tabeen embodies sincerity, intelligence, and patience, while Areeba thrives on manipulation, ambition, and greed.
Caught between them is Ayan, whose affection becomes a pivotal element in their lives.

Unaware of the hidden truths and concealed feelings around him, Ayan’s heart becomes a battleground for honesty and deceit. Will Tabeen find the strength to speak her heart, or will silence be her fate? Ultimately, will Areeba’s cunning ambitions secure her desires, or will honesty and virtue triumph in the end?


7th Sky Entertainment Presentation
Producers: Abdullah Kadwani & Asad Qureshi
Director: Sami Sani
Writer: Irfan Aslam


Cast:
Minsa Malik as Tabeen
Farhan Ahmed Malhi as Ayan
Fajjer Khan as Areeba
Hammad Farooqui as Shehryar
Mahmood Akhtar as Adnan Malik
Rashid Farooqi as Ashfaq
Shamyl Khan as Haseeb
Beena Chaudhry as Zubaida
Humaira Bano as Zulaikha
Diya Rahman as Farah
Misbah Mumtaz as Naureen
Sabiha Jafri as Ruqaiyya
Farah Nadeem as Shireen
Zain Afzal as Zaroon
Taqi Ahmed as Murad

#Kathputli
#MinsaMalik
#FarhanAhmedMalhi

Category

😹
Fun
Transcript
00:00I wish to tell you, oh, yeah.
00:14I'm sorry.
00:27I'm sorry.
00:29And yesterday we talked about this.
00:31What?
00:32Did I say that I was a girl?
00:33Do you remember?
00:34What did you say?
00:37How did you say that you were in a meeting?
00:40I was saying that you were in a meeting.
00:41You were in a meeting?
00:42I was talking to you while I was talking to you.
00:43Because you were saying that you were a girl in the meeting.
00:44You were saying that you were a girl?
00:45Because you were a girl.
00:47I wasn't asked if I had a girl in any way.
00:49Because you were asking me now.
00:50Because I was telling you.
00:51I said that you were a girl in a meeting.
00:52I am telling you that you were a girl in a meeting.
00:56Where did you go?
00:58How did you get a girl?
00:59I asked for your company.
01:01I asked for you.
01:02Why did I ask you?
01:03Where did you go?
01:04But...
01:05That was a job.
01:07The person talked about it?
01:09I'm busy and got the actor.
01:10He was busy and then we gave him a job to someone else.
01:13This is that if Taabeen didn't have an interview there,
01:16but the question is that he got a job,
01:19then where did he get an interview?
01:22Six digits?
01:24That's so good with salary.
01:26I think that he has saved his job.
01:28So, if he doesn't know his job,
01:32which job?
01:34Which job?
01:37Taabeen, you?
01:40Do you like to tell me which job you have done?
01:43For whom you have made me a lawyer?
01:46I don't know if you have such a figure?
01:48Where there was no job interview due to me?
01:51You told me to take me to this office?
01:54Can you tell me why you have done this?
01:56You have used your relationships
01:59and made me a job here?
02:04No, no.
02:05But no one thing.
02:07No one thing.
02:10I will go very quickly from this place.
02:15If you want to live,
02:16you will be able to live in this house.
02:20You are the only one in this world.
02:22The rest of the rest.
02:30You have seen it.
02:32You have seen it.
02:33You have seen it.
02:55please
03:02just stop
03:04when she goes to the house and hears her
03:08she hears the voice of the camera and gets more
03:11high and low and low
03:13when she comes to the house and says
03:17she says that she is taking attention
03:20she takes her hand and says
03:23is that if you put your hand on your hand, then you can take your hand on your hand. So, it has a lot of
03:29anger that Ariba is coming to my hand, but Aiyan is coming to his hand on his hand, that you
03:36tension not low, when you can't get your hand on your hand. Ariba's plan is coming from here,
03:44and when Aiyan is coming from there, Ariba says that thank you, you have made my hand on your hand.
03:51Aiyan is coming from here, Ariba is coming from here, and it's a very happy plan that
03:58he has been working on his plan. He has been talking about it, that he knew that his
04:03maa would come from here, and he had to answer that he could do it, and he had to answer his
04:09hand on his hand. In other words, Ariba's plan is going to do it, and she has to be a
04:15. . . . . .
04:45was going on.
04:47I was going on.
04:51That was not a great deal.
04:53I was going on.
04:55I was going on.
04:57He said,
04:59yes,
05:02it was a good deal.
05:04He said,
05:05yes,
05:07it was not a good deal.
05:09He said,
05:11کہتی ہے کہ
05:15اب میں اس آفیس میں کام نہیں کروں گی
05:16میں یہاں سے جا رہی ہوں
05:18اور تبین
05:19وہاں سے جانے لگتی ہے لیکن شہریار
05:22اسے روک لیتا ہے اور کہتا ہے
05:23کہ تم ابھی نہیں اس جوب کو
05:26چھوڑ کر جا سکتی تم نے بڑی محنت سے
05:28تم نے یہ جوب حاصل کی ہے
05:29اور
05:30عریبہ کی ماں جب جاتی ہے
05:34عریبہ کو باتیں سنا کے تو عریبہ
05:35جان بوجھ کر آ جاتی ہے
05:37کمرے میں اور بہت زیادہ انچا انچا
05:39رونے لگ جاتی ہے
05:41عیان جب عریبہ کو منانے کیلئے آتا ہے
05:43اور آ کر اسے کہتا ہے
05:45کہ تم ٹینشن کیوں لے رہی ہو
05:47تو عریبہ اس کا ہاتھ پکڑ لیتی ہے
05:49اور کہتی ہے کہ تم
05:51میرا ساتھ دو گے
05:53تو وہ ہاتھ پیچھے کر لیتا ہے
05:55تو اسے بہت ہی غصہ آتا ہے عریبہ کو
05:57کہ شاید وہ میرا ہاتھ چھوڑ رہا ہے
05:59لیکن عیان ہی ساتھ
06:01ہی کہہ دیتا ہے
06:03کہ تم ٹینشن نہ لو تم اسی گھر میں
06:05رہ سکتی ہو جب تمہارا دل کرے
06:07تم یہاں سے جا بھی سکتی ہو
06:08عریبہ کا پہلا پلان تو کامیاب ہو جاتا ہے
06:11روڈ ہو کے اور وہ
06:13جب عیان وہاں سے جانے لگتا ہے
06:15تو عریبہ کہتی ہے کہ تھینکیو
06:17آپ نے میرا ساتھ دیا
06:18عیان وہاں سے چلا جاتا ہے
06:21عریبہ اپنے پلان کے لیے
06:23بہت زیادہ خوش ہوتی ہے
06:25کہ اس کا پلان کامیاب ہو گیا
06:26وہ اپنے آپ سے بات کرتی ہے
06:29کہ اسے معلوم تھا کہ اس کی ماں آئے گی
06:31اور اس نے پہلے ہی پلان بنا کر رکھا تھا
06:33کہ ان کو کیا جواب دینا ہے
06:34اور اس نے ایسا ہی کیا
06:36دوسری طرف آپ دیکھیں گے
06:38کہ عریبہ کے ماں بہت زیادہ پریشان ہے
06:40کہ عریبہ نے ان کے ساتھ بہت برا کیا ہے
06:43اور اب اس کی ماں کے ساتھ بھی بہت برا کیا
06:45نہ ہی ان کے ساتھ گئی
06:47اور نہ ہی تبین کی شادی
06:49یعان سے ہونے دے رہی ہے
06:51ان دونوں کے درمیان میں بہت بڑی درار
06:54ڈالی ہوئی ہے عریبہ کی وجہ سے
06:56اور پھر آپ دیکھیں گے
06:58کہ تبین کو معلوم ہو جاتا ہے
07:00کہ شہریار نے اپنی ہی کمپنی میں
07:02اسے جوب دلائی ہے
07:03اور اس کی کمپنی میں جوب تو تھے ہی نہیں
07:07اور وہ سن لیتی ہے
07:09شہریار کے موں سے
07:10اور کہتی ہے کہ آپ کی کمپنی میں
07:12تو جوب تھی نہیں اور آپ نے مجھے جوب کیوں
07:14دلائی آپ کیا چاہتے ہیں
07:16مجھ سے تو
07:17اس شہریار بہت زیادہ شرمیدہ ہو جاتا ہے
07:20تبین کے سامنے اور اسے سمجھ نہیں آرہی
07:23وہ تبین کو کیا جواب دے
07:24اور وہ بس یہی کہتا ہے
07:26کہ بس آپ کو جوب چاہیے
07:29تھی اسی وجہ سے میں نے دلا دی
07:30اور کچھ بھی نہیں ہے
07:32تبین غلط سوٹی ہے
07:33کہ شاید وہ اسے پسند کرتا ہے
07:35شادی کرنا چاہتا ہے
07:36اور تبین کہتی ہے
07:39کہ اب میں اس آفیس میں کام نہیں کروں گی
07:44میں یہاں سے جا رہی ہوں
07:45اور تبین
07:46وہاں سے جانے لگتی ہے
07:48لیکن شہریار اسے روک لیتا ہے
07:50اور کہتا ہے کہ تم ابھی نہیں
07:52اس جوب کو چھوڑ کر جا سکتی
07:54تم نے بڑی محنت سے
07:55تم نے یہ جوب حاصل کی ہے
07:57اور
07:57عریبہ کی ماں جب جاتی ہے
08:01عریبہ کو باتیں سنا
08:02کہ تو عریبہ جان بوجھ کر
08:03آ جاتی ہے کمرے میں
08:05اور بہت زیادہ انچا انچا
08:07رونے لگ جاتی ہے
08:08یا جب عریبہ کو منانے کیلئے آتا ہے
08:11اور آ کر اسے کہتا ہے
08:13کہ تم ٹینشن کیوں لے رہی ہو
08:14تو عریبہ اس کا ہاتھ پکڑ لیتی ہے
08:17اور کہتی ہے
08:17کہ تم میرا ساتھ دو گے
08:20تو وہ ہاتھ پیچھے کر لیتا ہے
08:22تو اسے بہت ہی غصہ آتا ہے
08:24عریبہ کو
08:25کہ شاید وہ میرا ہاتھ چھوڑ رہا ہے
08:26لیکن عیان ہی ساتھ
08:28اس ساتھ ہی کہہ دیتا ہے
08:30کہ تم ٹینشن نہ لو
08:32تم اسی گھر میں رہ سکتی ہو
08:33جب تمہارا دل کرے
08:34تم یہاں سے جا بھی سکتی ہو
08:36عریبہ کا پہلا پلان
08:37تو کامیاب ہو جاتا ہے
08:39روڈ ہو کے
08:39اور وہ جب عیان وہاں سے جانے لگتا ہے
08:42تو عریبہ کہتی ہے
08:43کہ تھینکیو
08:44آپ نے میرا ساتھ دیا
08:46عیان مہا سے چلا جاتا ہے
08:48عریبہ اپنے پلان کے لئے
08:50بہت زیادہ خوش ہوتی ہے
08:52کہ اس کا پلان کامیاب ہو گیا
08:54وہ اپنے آپ سے بات کرتی ہے
08:56کہ اسے معلوم تھا
08:57کہ اس کی ماں آئے گی
08:58اور اس نے پہلے ہی پلان بنا کر رکھا تھا
09:00کہ ان کو کیا جواب دینا ہے
09:02اور اس نے ایسا ہی کیا
09:04دوسری طرف آپ دیکھیں گے
09:05کہ عریبہ کے ماں بہت زیادہ پریشان ہے
09:07کہ عریبہ نے ان کے ساتھ بہت برا کیا ہے
09:10اور اب اس کی ماں کے ساتھ بھی بہت برا کیا
09:13نہ ہی ان کے ساتھ گئی
09:14اور نہ ہی تبین کی شادی یعین سے ہونے دے رہی ہے
09:18ان دونوں کے درمیان میں بہت بڑی دھرار ڈالی ہوئی ہے
09:21عریبہ کی وجہ سے
09:23اور پھر آپ دیکھیں گے
09:26کہ تبین کو معلوم ہو جاتا ہے
09:28کہ شریعہ نے اپنی ہی کمپنی میں اسے جواب دلائی ہے
09:30اور اس کی کمپنی میں جواب تو تھے ہی نہیں
09:34اور وہ سن لیتی ہے
09:36شریعہ کے موں سے
09:38اور کہتی ہے
09:38کہ آپ کی کمپنی میں تو جواب تھی نہیں
09:41اور آپ نے مجھے جواب کیوں دلائی
09:42آپ کیا چاہتے ہیں مجھ سے
09:44تو اس شہریعہ بہت زیادہ شرمیدہ ہو جاتا ہے
09:48تبین کے سامنے
09:49اور اسے سمجھ نہیں آرہی
09:50وہ تبین کو کیا جواب دے
09:51اور وہ بس یہی کہتا ہے
09:53کہ بس آپ کو جواب چاہیے تھی
09:56اسی وجہ سے میں نے دلا دی
09:58اور کچھ بھی نہیں ہے
09:59تبین غلص ہوتی ہے
10:00کہ شاید وہ اسے پسند کرتا ہے
10:02شادی کرنا چاہتا ہے
10:03اور تبین کہتے ہیں
10:06تبین کہتی ہے
10:09کہ اب میں اس آفیس میں کام نہیں کروں گی
10:11میں یہاں سے جا رہی ہوں
10:12اور تبین
10:14وہاں سے جانے لگتی ہے
10:16لیکن شہریعہ اسے روک لیتا ہے
10:17اور کہتا ہے
10:18کہ تم ابھی نہیں
10:19اس جواب کو چھوڑ کر جا سکتی
10:21تم نے بڑی محنت سے
10:22تم نے یہ جواب حاصل کی ہے
10:24اور
10:25عریبہ کی ماہ جب جاتی ہے
10:28عریبہ کو باتیں سنا کے
10:29تو عریبہ جان بوجھ کر
10:31آ جاتی ہے کمرے میں
10:33اور بہت زیادہ انچا انچا رونے لگ جاتی ہے
10:35عریبہ جب عریبہ کو منانے کیلئے آتا ہے
10:38اور آ کر اسے کہتا ہے
10:40کہ تم ٹینشن کیوں لے رہی ہو
10:42تو عریبہ اس کا ہاتھ پکڑ لیتی ہے
10:44اور کہتی ہے
10:45کہ تم میرا ساتھ دو گے
10:47تو وہ ہاتھ پیچھے کر لیتا ہے
10:49تو اسے بہت ہی غصہ آتا ہے عریبہ کو
10:52کہ شاید وہ میرا ہاتھ چھوڑ رہا ہے
10:54لیکن عریبہ اس کا ساتھ ہی کہہ دیتا ہے
10:57کہ تم ٹینشن نہ لو
10:59تم اسی گھر میں رہ سکتی ہو
11:00جب تمہارا دل کرے
11:01تم یہاں سے جا بھی سکتی ہو
11:03عریبہ کا پہلا پلان تو کامیاب ہو جاتا ہے
11:06رود ہو کے
11:07اور وہ جب ایان وہاں سے جانے لگتا ہے
11:10تو عریبہ کہتی ہے
11:11کہ تھینکیو آپ نے میرا ساتھ دیا
11:13ایان وہاں سے چلا جاتا ہے
11:15عریبہ اپنے پلان کے لیے
11:17بہت زیادہ خوش ہوتی ہے
11:19کہ اس کا پلان کامیاب ہو گیا
11:21کہ وہ اپنے آپ سے بات کرتی ہے
11:23کہ اسے معلوم تھا
11:24کہ اس کی ماں آئے گی
11:25اور اس نے پہلے ہی پلان بنا کر رکھا تھا
11:27کہ ان کو کیا جواب دینا ہے
11:29اور اس نے ایسا ہی کیا
11:31دوسری طرف آپ دیکھیں گے
11:32کہ عریبہ کے ماں بہت زیادہ پریشان ہے
11:35کہ عریبہ نے ان کے ساتھ بہت برا کیا ہے
11:38اور اب اس کی ماں کے ساتھ بھی بہت برا کیا
11:40نہ ہی ان کے ساتھ گئی
11:41اور نہ ہی تبین کی شادی
11:44یعین سے ہونے دے رہی ہے
11:45ان دونوں کے درمیان میں
11:47بہت بڑی درار ڈالی ہوئی ہے
11:49عریبہ کی وجہ سے
11:50اور پھر آپ دیکھیں گے
11:53کہ تبین کو معلوم ہو جاتا ہے
11:55کہ شہریار نے اپنی ہی کمپنی میں اسے جوب دلائی ہے
11:58اور اس کی کمپنی میں جوب تو تھے ہی نہیں
12:01اور وہ سن لیتی ہے
12:03شہریار کے موں سے
12:05اور کہتی ہے کہ آپ کی کمپنی میں تو جوب تھی نہیں
12:08اور آپ نے مجھے جوب کیوں دلائی
12:09آپ کیا چاہتے ہیں مجھ سے
12:11تو اس شہریار بہت زیادہ شرمیدہ ہو جاتا ہے
12:15تبین کے سامنے
12:16اور اسے سمجھ نہیں آرہی
12:17وہ تبین کو کیا جواب دے
12:19اور وہ بس یہی کہتا ہے
12:21کہ بس آپ کو جوب چاہیے تھی
12:23So I've done it and fulfilled this way.
12:26I don't even know anything.
12:28But to be able to get married, she can help me get married.
12:32So I don't need to give.
12:39I'm not going to go now.
12:40But to be able to get married,
12:43I don't need to get married.
12:47I don't need to leave my job.
12:49I don't need to leave this job.
12:51ki hai or
12:52ariba ki maha
12:54jab jati hai ariba ko bata
12:56suna ke to ariba jahan buch kar
12:58á jati hai kummere mein
13:00irbun zada uncha uncha ronne lak jati hai
13:02yaan jab ariba ko
13:04menane ki liye atata hai
13:05ira karu se kehta hai
13:07ke tum tension kiya leeri ho
13:09to ariba uska hat paakar lyti hai
13:11ir kehti hai
13:12ke tum meera saath dho ge
13:14ke wov haat pichhe kar lyti hai
13:17to usse bhout hi ghusa ata hai ariba ko
13:19کہ شاید وہ میرا ہاتھ چھوڑ رہا ہے
13:21لیکن ایان ہی ساتھ ہی کہہ دیتا ہے
13:25کہ تم ٹینشن نہ لو
13:26تم اسی گھر میں رہ سکتی ہو
13:28جب تمہارا دل کرے تم یہاں سے جا بھی سکتی ہو
13:30عریبہ کا پہلا پلان تو کامیاب ہو جاتا ہے
13:33رود ہو کے
13:34اور وہ جب ایان وہاں سے جانے لگتا ہے
13:37تو عریبہ کہتی ہے کہ
13:38thank you آپ نے میرا ساتھ دیا
13:40ایان وہاں سے چلا جاتا ہے
13:43عریبہ اپنے پلان کے لئے
13:45بہت زیادہ خوش ہوتی ہے
13:47کہ اس کا پلان کامیاب ہو گیا
13:48وہ اپنے آپ سے بات کرتی ہے
13:50کہ اسے معلوم تھا
13:51کہ اس کی ماں آئے گی
13:53اور اس نے پہلے ہی پلان بنا کر رکھا تھا
13:55کہ ان کو کیا جواب دینا ہے
13:56اور اس نے ایسا ہی کیا
13:58دوسری طرف آپ دیکھیں گے
14:00کہ عریبہ کے ماں بہت زیادہ پریشان ہے
14:02کہ عریبہ نے ان کے ساتھ بہت برا کیا ہے
14:05اور اب اس کی ماں کے ساتھ بھی بہت برا کیا
14:07نہ ہی ان کے ساتھ گئی
14:09اور نہ ہی تبین کی شادی
14:11یعنی سے ہونے دے رہی ہے
14:13ان دونوں کے درمیان میں بہت بڑی درار ڈالی ہوئی ہے
14:16عریبہ کی وجہ سے
14:17اور پھر آپ دیکھیں گے
14:20کہ تبین کو معلوم ہو جاتا ہے
14:22کہ شہریار نے اپنی ہی کمپنی میں
14:24اسے جواب دلائی ہے
14:25اور اس کی کمپنی میں جواب تو تھے ہی نہیں
14:29اور وہ سن لیتی ہے
14:31شہریار کے موں سے
14:32اور کہتی ہے کہ آپ کی کمپنی میں
14:34تو جواب تھی نہیں
14:35اور آپ نے مجھے جواب کیوں دلائی
14:37آپ کیا چاہتے ہیں مجھ سے
14:39تو اس شہریار بہت زیادہ شرمیدہ ہو جاتا ہے
14:42تبین کے سامنے
14:43اور اسے سمجھ نہیں آرہی
14:44وہ تبین کو کیا جواب دے
14:46اور وہ بس یہی کہتا ہے
14:48کہ بس آپ کو
14:49جواب چاہیے تھی
14:51اسی وجہ سے میں نے دلائی
14:52اور کچھ بھی نہیں ہے
14:53تبین غلط سویتی ہے
14:55کہ شاید وہ اسے اپسند کرتا ہے
14:57شادی کرنا چاہتا ہے
14:59اور تبین کہتی ہے
15:01تبین کہتی ہے
15:04کہ اب میں اس آفیس میں کام نہیں کروں گی
15:05میں یہاں سے جا رہی ہوں
15:07تبین
15:08وہاں سے جانے لگتی ہے
15:10لیکن شہریار اسے روک لیتا ہے
15:12اور کہتا ہے
15:12کہ تم ابھی نہیں
15:13اس جوپ کو چھوڑ کر جا سکتی
15:16تم نے بڑی محنت سے
15:17تم نے یہ جوپ حاصل کی ہے
15:18اور
15:19عریبہ کی ماں جب جاتی ہے
15:23عریبہ کو باتیں سنا کے
15:24تو عریبہ جان بوجھ کر
15:25آ جاتی ہے کمرے میں
15:27اور بہت زیادہ انچا انچا رونے لگ جاتی ہے
15:30یا جب عریبہ کو منانے کیلئے آتا ہے
15:32اور آ کر اسے کہتا ہے
15:34کہ تم ٹینشن کیوں لے رہی ہو
15:36تو عریبہ اس کا ہاتھ پکڑ لیتی ہے
15:38اور کہتی ہے
15:39کہ تم میرا ساتھ دو گے
15:42تو وہ ہاتھ پیچھے کر لیتا ہے
15:44تو اسے بہت ہی غصہ آتا ہے عریبہ کو
15:46کہ شاید وہ میرا ہاتھ چھوڑ رہا ہے
15:48لیکن عیان ہی ساتھ
15:50اس کا ساتھ ہی کہہ دیتا ہے
15:52کہ تم ٹینشن نہ لو
15:54تم اسی گھر میں رہ سکتی ہو
15:55جب تمہارا دل کرے
15:56تم یہاں سے جا بھی سکتی ہو
15:57عریبہ کا پہلا پلان تو کامیاب ہو جاتا ہے
16:00رود ہو کے
16:01اور وہ جب عیان وہاں سے جانے لگتا ہے
16:04تو عریبہ کہتی ہے
16:05کہ تھینکیو آپ نے میرا ساتھ دیا
16:08عیان وہاں سے چلا جاتا ہے
16:10عریبہ اپنے پلان کے لیے
16:12بہت زیادہ خوش ہوتی ہے
16:14کہ اس کا پلان کامیاب ہو گیا
16:15وہ اپنے آپ سے بات کرتی ہے
16:18کہ اسے معلوم تھا
16:19کہ اس کی ماں آئے گی
16:20اور اس نے پہلے ہی پلان بنا کر رکھا تھا
16:22کہ ان کو کیا جواب دینا ہے
16:23اور اس نے ایسا ہی کیا
16:25دوسری طرف آپ دیکھیں گے
16:27کہ عریبہ کے ماں بہت زیادہ پریشان ہے
16:29کہ عریبہ نے ان کے ساتھ بہت برا کیا ہے
16:32اور اب اس کی ماں کے ساتھ بھی بہت برا کیا
16:34نہ ہی ان کے ساتھ گئی
16:36اور نہ ہی تبین کی شادی یعان سے ہونے دے رہی ہے
16:40ان دونوں کے درمیان میں بہت بڑی دھرار ڈالی ہوئی ہے
16:43عریبہ کی وجہ سے
16:45اور پھر آپ دیکھیں گے
16:47کہ تبین کو معلوم ہو جاتا ہے
16:49کہ شریعہ نے اپنی ہی کمپنی میں
16:51اسے جوب دلائی ہے
16:52اور اس کی کمپنی میں جوب تو تھے ہی نہیں
16:56اور وہ سن لیتی ہے
16:58شریعہ کے موں سے
16:59اور کہتی ہے کہ آپ کی کمپنی میں
17:01تو جوب تھی نہیں
17:02اور آپ نے مجھے جوب کیوں دلائی
17:04آپ کیا چاہتے ہیں مجھ سے
17:06تو اس شریعہ بہت زیادہ شرمیدہ ہو جاتا ہے
17:09تبین کے سامنے
17:10اور اسے سمجھ نہیں آرہی
17:12وہ تبین کو کیا جواب دے
17:13اور وہ بس یہی کہتا ہے
17:15کہ بس آپ کو جوب چاہیے تھی
17:18اسی وجہ سے میں نے دلا دی
17:19اور کچھ بھی نہیں ہے
17:21تبین غلط ہوتی ہے
17:22کہ شاید وہ اسے پسند کرتا ہے
17:24شادی کرنا چاہتا ہے
17:25اور تبین کہتی ہے
17:28کہ اب میں اس آفیس میں کام نہیں کروں گی
17:33میں یہاں سے جا رہی ہوں
17:34اور تبین وہاں سے جانے لگتی ہے
17:37لیکن شریعہ اسے روک لیتا ہے
17:39اور کہتا ہے کہ تم ابھی نہیں
17:41اس جوب کو چھوڑ کر جا سکتی
17:43تم نے بڑی محنت سے
17:44تم نے یہ جوب حاصل کی ہے
17:46اور
17:46عریبہ کی ماں جب جاتی ہے
17:50عریبہ کو باتیں سنا کے
17:51تو عریبہ جان بوجھ کر
17:52آ جاتی ہے
17:54کمرے میں
17:54اور وہ زیادہ انچا انچا رونے لگ جاتی ہے
17:57عیان جب عریبہ کو منانے کیلئے آتا ہے
18:00اور آ کر اسے کہتا ہے
18:02کہ تم ٹینشن کیوں لے رہی ہو
18:03تو عریبہ اس کا ہاتھ پکڑ لیتی ہے
18:06اور کہتی ہے
18:06کہ تم میرا ساتھ دو گے
18:09تو وہ ہاتھ پیچھے کر لیتا ہے
18:11تو اسے بہت ہی غصہ آتا ہے
18:13عریبہ کو
18:14کہ شاید وہ میرا ہاتھ چھوڑ رہا ہے
18:16لیکن عیان ہی ساتھ ہی کہہ دیتا ہے
18:19کہ تم ٹینشن نہ لو
18:21تم اسی گھر میں رہ سکتی ہو
18:22جب تمہارا دل کرے
18:23تم یہاں سے جا بھی سکتی ہو
18:25عریبہ کا پہلا پلان تو کامیاب ہو جاتا ہے
18:28رود ہو کے
18:28اور وہ جب عیان وہاں سے جانے لگتا ہے
18:31تو عریبہ کہتی ہے
18:32کہ تھینکیو
18:33آپ نے میرا ساتھ دیا
18:35عیان وہاں سے چلا جاتا ہے
18:37عریبہ
18:38اپنے پلان کے لیے بہت زیادہ
18:40خوش ہوتی ہے
18:41کہ اس کا پلان کامیاب ہو گیا
18:46کہ اس کی ماں آئے گی
18:47اور اس نے پہلے ہی پلان بنا کر رکھا تھا
18:49کہ ان کو کیا جواب دینا ہے
18:51اور اس نے ایسا ہی کیا
18:53دوسری طرف آپ دیکھیں گے
18:54کہ عریبہ کے ماں بہت زیادہ پریشان ہے
18:56کہ عریبہ نے ان کے ساتھ بہت برا کیا ہے
18:59اور اب اس کی ماں کے ساتھ بھی بہت برا کیا
19:02نہ ہی ان کے ساتھ گئی
19:03اور نہ ہی تبین کی شادی یعین سے ہونے دے رہی ہے
19:07ان دونوں کے درمیان میں بہت بڑی درار ڈالی ہوئی ہے
19:11عریبہ کی وجہ سے
19:12اور پھر آپ دیکھیں گے کہ تبین کو معلوم ہو جاتا ہے
19:17کہ شہریار نے اپنی ہی کمپنی میں اسے جوب دلائی ہے
19:19اور اس کی کمپنی میں جوب تو تھے ہی نہیں
19:23اور وہ سن لیتی ہے
19:25شہریار کے موں سے
19:27اور کہتی ہے کہ آپ کی کمپنی میں تو جوب تھی نہیں
19:30اور آپ نے مجھے جوب کیوں دلائی
19:31آپ کیا چاہتے ہیں مجھ سے
19:33تو اس شہریار بہت زیادہ شرمیدہ ہو جاتا ہے
19:37تبین کے سامنے اور اسے سمجھ نہیں آرہی
19:39وہ تبین کو کیا جواب دے
19:41اور وہ بس یہی کہتا ہے
19:43کہ بس آپ کو جوب چاہیے تھی
19:45اسی وجہ سے میں نے دلا دی
19:47اور کچھ بھی نہیں ہے
19:48تبین غلط ہوئی ہے
19:49کہ شاید وہ اسے پسند کرتا ہے
19:51شادی کرنا چاہتا ہے
19:52اور تبین کہتی ہے
19:55کہ اب میں اس آفیس میں کام نہیں کروں گی
20:00میں یہاں سے جا رہی ہوں
20:01اور تبین
20:03وہاں سے جانے لگتی ہے
20:05لیکن شہریار اسے روک لیتا ہے
20:06اور کہتا ہے کہ تم ابھی نہیں
20:08اس جوب کو چھوڑ کر جا سکتی
20:10تم نے بڑی محنت سے
20:11تم نے یہ جوب حاصل کی ہے
20:13اور
20:14عریبہ کی ماں جب جاتی ہے
20:17عریبہ کو باتیں سنا کے
20:18تو عریبہ جان بوجھ کر
20:20آ جاتی ہے کمرے میں
20:22اور وہ زیادہ انچا انچا رونے لگ جاتی ہے
20:24یا جب عریبہ کو منانے کیلئے آتا ہے
20:27اور آ کر اسے کہتا ہے
20:29کہ تم ٹینشن کیوں لے رہی ہو
20:31تو عریبہ اس کا ہاتھ پکڑ لیتی ہے
20:33اور کہتی ہے
20:34کہ تم میرا ساتھ دو گے
20:36تو وہ ہاتھ پیچھے کر لیتا ہے
20:38تو اسے بہت ہی غصہ آتا ہے عریبہ کو
20:41کہ شاید وہ میرا ہاتھ چھوڑ رہا ہے
20:43لیکن عیان اس کا ساتھ ہی کہہ دیتا ہے
20:46کہ تم ٹینشن نہ لو
20:48تم اسی گھر میں رہ سکتی ہو
20:49جب تمہارا دل کرے
20:50تم یہاں سے جا بھی سکتی ہو
20:52عریبہ کا پہلا پلان تو کامیاب ہو جاتا ہے
20:55رود ہو کے
20:56اور وہ جب عیان وہاں سے جانے لگتا ہے
20:59تو عریبہ کہتی ہے
21:00کہ تھینکیو آپ نے میرا ساتھ دیا
21:02عیان وہاں سے چلا جاتا ہے
21:04عریبہ اپنے پلان کے لیے بہت زیادہ خوش ہوتی ہے
21:08کہ اس کا پلان کامیاب ہو گیا
21:10وہ اپنے آپ سے بات کرتی ہے
21:12کہ اسے معلوم تھا
21:13کہ اس کی ماں آئے گی
21:15اور اس نے پہلے ہی پلان بنا کر رکھا تھا
21:17کہ ان کو کیا جواب دینا ہے
21:18اور اس نے ایسا ہی کیا
21:20دوسری طرف آپ دیکھیں گے
21:21کہ عریبہ کے ماں بہت زیادہ پریشان ہے
21:24کہ عریبہ نے ان کے ساتھ بہت برا کیا ہے
21:27اور اب اس کی ماں کے ساتھ بھی بہت برا کیا
21:29نہ ہی ان کے ساتھ گئی اور نہ ہی تبعین کی شادی یعنی سے ہونے دے رہی ہے
21:34ان دونوں کے درمیان میں بہت بڑی درار ڈالی ہوئی ہے عریبہ کی وجہ سے
21:39اور پھر آپ دیکھیں گے کہ تبعین کو معلم ہو جاتا ہے
21:44کہ شریعہ نے اپنی ہی کمپنی میں اسے جوب دلائی ہے
21:47اور اس کی کمپنی میں جوب تو تھے ہی نہیں
21:50اور وہ سن لیتی ہے شریعہ کے موں سے اور کہتی ہے
21:55کہ آپ کی کمپنی میں تو جوب تھی نہیں اور آپ نے مجھے جوب کیوں دلائی
21:58آپ کیا چاہتے ہیں مجھ سے تو اس شہریعہ بہت زیادہ شرمیدہ ہو جاتا ہے
22:04تبعین کے سامنے اور اسے سمجھ نہیں آرہی
22:06وہ تبعین کو کیا جواب دے اور وہ بس یہی کہتا ہے
22:10کہ بس آپ کو جوب چاہیے تھی اسی وجہ سے میں نے دلائی اور کچھ بھی نہیں ہے
22:15تبعین غلط سوچتی ہے کہ شاید وہ اسے اپسند کرتا ہے شادی کرنا چاہتا ہے
22:20اور تبعین کہتی ہے کہ اب میں اس آفیس میں کام نہیں کروں گی
22:27میں یہاں سے جا رہی ہوں تبعین وہاں سے جانے لگتی ہے
22:32لیکن شہریعہ اسے روک لیتا ہے اور کہتا ہے کہ تم ابھی نہیں
22:35اس جوب کو چھوڑ کر جا سکتی تم نے بڑی محنت سے تم نے یہ جوب حاصل کی ہے
22:40اور عریبہ کی ماں جب جاتی ہے عریبہ کو باتیں سنا کے
22:46تو عریبہ جان بوجھ کر آ جاتی ہے کمرے میں اور بہت زیادہ انچا انچا رونے لگ جاتی ہے
22:51یا جب عریبہ کو منانے کیلئے آتا ہے اور آ کر اسے کہتا ہے
22:56کہ تم ٹینشن کیوں لے رہی ہو تو عریبہ اس کا ہاتھ پکڑ لیتی ہے
23:00اور کہتی ہے کہ تم میرا ساتھ دو گے تو وہ ہاتھ پیچھے کر لیتا ہے
23:06تو اسے بہت ہی غصہ آتا ہے عریبہ کو کہ شاید وہ میرا ہاتھ چھوڑ رہا ہے
23:10لیکن عیان ہی ساتھ ہی کہہ دیتا ہے کہ تم ٹینشن نہ لو
23:15تم اسی گھر میں رہ سکتی ہو جب تمہارا دل کرے تم یہاں سے جا بھی سکتی ہو
23:19عریبہ کا پہلا پلان تو کامیاب ہو جاتا ہے رود ہو کے
23:23اور وہ جب عیان وہاں سے جانے لگتا ہے تو عریبہ کہتی ہے
23:27کہ تھینکیو آپ نے میرا ساتھ دیا
23:29عیان وہاں سے چلا جاتا ہے عریبہ اپنے پلان کے لیے بہت زیادہ
23:34خوش ہوتی ہے کہ اس کا پلان کامیاب ہو گیا
23:37وہ اپنے آپ سے بات کرتی ہے کہ اسے معلوم تھا
23:41کہ اس کی ماں آئے گی اور اس نے پہلے ہی پلان بنا کر رکھا تھا
23:44کہ ان کو کیا جواب دینا ہے اور اس نے ایسا ہی کیا
23:47دوسری طرف آپ دیکھیں گے کہ عریبہ کے ماں بہت زیادہ پریشان ہے
23:51کہ عریبہ نے ان کے ساتھ بہت برا کیا ہے
23:54اور اب اس کی ماں کے ساتھ بھی بہت برا کیا
23:56نہ ہی ان کے ساتھ گئی اور نہ ہی تبین کی شادی یعین سے ہونے دے رہی ہے
24:02ان دونوں کے درمیان میں بہت بڑی دھرار ڈالی ہوئی ہے عریبہ کی وجہ سے
24:07اور پھر آپ دیکھیں گے کہ تبین کو معلوم ہو جاتا ہے
24:11کہ شہریار نے اپنی ہی کمپنی میں اسے جوب دلائی ہے
24:14اور اس کی کمپنی میں جوب تو تھے ہی نہیں اور وہ سن لیتی ہے
24:20شہریار کے موں سے اور کہتی ہے کہ آپ کی کمپنی میں تو جوب تھی نہیں
24:24اور آپ نے مجھے جوب کیوں دلائی آپ کیا چاہتے ہیں مجھ سے
24:28تو اس شہریار بہت زیادہ شرمیدہ ہو جاتا ہے تبین کے سامنے
24:32اور اسے سمجھ نہیں آرہی وہ تبین کو کیا جواب دے
24:35اور وہ بس یہی کہتا ہے کہ بس آپ کو جوب چاہیے تھی
24:40ڈھلا دی اور کچھ بھی نہیں ہے تابین غلط ہوتی ہے کہ شاید وہ
24:45سیفت صند کرتا ہے شادی کرنا چاہتا ہے اور تابین کہتے ہیں
24:50کہتے ہیں کہ اب میں اس آفیس میں کام نہیں کروں گی میں یہاں سے
24:55جا رہی ہوں اور تابین وہاں سے جانے لگتی ہے لیکن شہریار اسے
25:00روک لیتا ہے اور کہتا ہے کہ تم ابھی نہیں اس جوب کو چھوڑ
25:04کر جا سکتی تم نے بڑی محنت سے تم نے یہ جوب حاصل کی ہے اور
25:10ڈیان کی ما جب جاتی ہے
25:12ڈیان کو باتیں سنا کے
25:13ڈیان جان بوجھ کر آ جاتی ہے
25:16کمرے میں اور وہ زیادہ
25:17انچا انچا رونے لگ جاتی ہے
25:19ڈیان جب ڈیان کو منانے کیلئے آتا ہے
25:21اور آ کر اسے کہتا ہے
25:23کہ تم ٹینشن کیوں لے رہی ہو
25:25تو ڈیان اس کا ہاتھ پکڑ لیتی ہے
25:27اور کہتی ہے کہ تم
25:29میرا ساتھ دو گے
25:31تو وہ ہاتھ پیچھے کر لیتا ہے
25:33تو اسے بہت ہی غصہ آتا ہے
25:35عریبہ کو کہ شاید وہ میرا ہاتھ
25:37چھوڑ رہا ہے لیکن ایان
25:38اس کا ساتھ ہی کہہ دیتا ہے
25:41کہ تم ٹینشن نہ لو
25:43تم اسی گھر میں رہ سکتی ہو
25:44جب تمہارا دل کرے تم یہاں سے جا بھی سکتی ہو
25:46عریبہ کا پہلا پلان تو کامیاب
25:49ہو جاتا ہے رود ہو کے
25:50اور وہ جب ایان وہاں سے جانے لگتا ہے
25:53تو عریبہ کہتی ہے کہ
25:54تھینکیو آپ نے میرا ساتھ دیا
25:57عریبہ اپنے پلان کے لیے
26:01بہت زیادہ خوش ہوتی ہے
26:03کہ اس کا پلان کامیاب ہو گیا
26:05وہ اپنے آپ سے بات کرتی ہے
26:07کہ اسے معلوم تھا
26:08کہ اس کی ماں آئے گی
26:09اور اس نے پہلے ہی پلان بنا کر رکھا تھا
26:11کہ ان کو کیا جواب دینا ہے
26:13اور اس نے ایسا ہی کیا
26:14دوسری طرف آپ دیکھیں گے
26:16کہ عریبہ کے ماں بہت زیادہ پریشان ہے
26:18کہ عریبہ نے ان کے ساتھ بہت برا کیا ہے
26:21اور اب اس کی ماں کے ساتھ بھی بہت برا کیا
26:23نہ ہی ان کے ساتھ گئی
26:25اور نہ ہی تبین کی شادی
26:28یعنی سے ہونے دے رہی ہے
26:33باقی وجہ سے
26:34اور پھر آپ دیکھیں گے
26:36کہ تبین کو معلوم ہو جاتا ہے
26:38کہ شہریار نے اپنی ہی کمپنی میں
26:40اسے جوب دلائی ہے
26:41اور اس کی کمپنی میں جوب تو تھے ہی نہیں
26:45اور وہ سن لیتی ہے
26:47شہریار کے موں سے
26:48اور کہتی ہے کہ آپ کی کمپنی میں
26:50تو جوب تھی نہیں
26:51اور آپ نے مجھے جوب کیوں دلائی
26:53آپ کیا چاہتے ہیں مجھ سے
26:55تو اس شہریار بہت زیادہ شرمیدہ ہو جاتا ہے
26:58تبین کے سامنے اور اسے سمجھ نہیں آ رہی
27:01وہ تبین کو کیا جواب دے
27:02اور وہ بس یہی کہتا ہے
27:04کہ بس آپ کو جوب چاہیے
27:07تھی اسی وجہ سے میں نے دلا دی
27:09اور کچھ بھی نہیں ہے
27:10تبین غلط ہوتی ہے
27:11کہ شاید وہ اسے اپسند کرتا ہے
27:13شادی کرنا چاہتا ہے
27:14اور تبین کہتی ہے
27:17تبین کہتی ہے
27:20کہ اب میں اس آفیس میں کام نہیں کروں گی
27:22میں یہاں سے جا رہی ہوں
27:23اور تبین
27:25وہاں سے جانے لگتی ہے
27:26لیکن شہریار اسے روک لیتا ہے
27:28اور کہتا ہے کہ تم ابھی نہیں
27:30اس جوب کو چھوڑ کر جا سکتی
27:32تم نے بڑی محنت سے
27:33تم نے یہ جوب حاصل کی ہے
27:35اور عریبہ کی ماں جب جاتی ہے
27:39عریبہ کو باتیں سنا کے
27:40تو عریبہ جان بوجھ کر آ جاتی ہے
27:43کمرے میں اور بھون زیادہ
27:44انچا انچا رونے لگ جاتی ہے
27:46یا جب عریبہ کو منانے کیلئے آتا ہے
27:49اور آ کر اسے کہتا ہے
27:51کہ تم ٹینشن کیوں لے رہی ہو
27:52تو عریبہ اس کا ہاتھ پکڑ لیتی ہے
27:55اور کہتی ہے
27:55کہ تم میرا ساتھ دو گے
27:58تو وہ ہاتھ پیچھے کر لیتا ہے
28:00تو اسے بہت ہی غصہ آتا ہے عریبہ کو
28:03کہ شاید وہ میرا ہاتھ چھوڑ رہا ہے
28:05لیکن عیان ہی ساتھ ہی کہہ دیتا ہے
28:08کہ تم ٹینشن نہ لو
28:10تم اسی گھر میں رہ سکتی ہو
28:11جب تمہارا دل کرے
28:12تم یہاں سے جا بھی سکتی ہو
28:14عریبہ کا پہلا پلان تو کامیاب ہو جاتا ہے
28:17روڈ ہو کے
28:17اور وہ جب عیان وہاں سے جانے لگتا ہے
28:20تو عریبہ کہتی ہے
28:21کہ تھینکیو آپ نے میرا ساتھ دیا
28:24یہاں مہاں سے چلا جاتا ہے
28:26عریبہ اپنے پلان کے لیے
28:28بہت زیادہ خوش ہوتی ہے
28:30کہ اس کا پلان کامیاب ہو گیا
28:32وہ اپنے آپ سے بات کرتی ہے
28:34کہ اسے معلوم تھا
28:35کہ اس کی ماں آئے گی
28:36اور اس نے پہلے ہی پلان بنا کر رکھا تھا
28:38کہ ان کو کیا جواب دینا ہے
28:40اور اس نے ایسا ہی کیا
28:42دوسری طرف آپ دیکھیں گے
28:43کہ عریبہ کے ماں بہت زیادہ پریشان ہے
28:45کہ عریبہ نے ان کے ساتھ بہت برا کیا ہے
28:48اور اب اس کی ماں کے ساتھ بھی بہت برا کیا
28:51نہ ہی ان کے ساتھ گئی
28:52اور نہ ہی تبین کی شادی یعین سے ہونے دے رہی ہے
28:56ان دونوں کے درمیان میں بہت بڑی دھرار ڈالی ہوئی ہے
29:00عریبہ کی وجہ سے
29:01اور پھر آپ دیکھیں گے
29:04کہ تبین کو معلوم ہو جاتا ہے
29:06کہ شریعہ نے اپنی ہی کمپنی میں اسے جواب دلائی ہے
29:08اور اس کی کمپنی میں جواب تو تھے ہی نہیں
29:12اور وہ سن لیتی ہے
29:14شریعہ کے موں سے
29:16اور کہتی ہے کہ آپ کی کمپنی میں تو جواب تھی نہیں
29:19اور آپ نے مجھے جواب کیوں دلائی
29:20آپ کیا چاہتے ہیں مجھ سے تو
29:22اس شہریار بہت زیادہ شرمیدہ ہو جاتا ہے
29:26تبین کے سامنے اور اسے سمجھ نہیں آرہی
29:28وہ تبین کو کیا جواب دے
29:30اور وہ بس یہی کہتا ہے
29:32کہ بس آپ کو جواب چاہیے تھی
29:34اسی وجہ سے میں نے دلا دی
29:36اور کچھ بھی نہیں ہے
29:37تبین غلط سوچتی ہے
29:38کہ شاید وہ اسے اپسند کرتا ہے
29:40شادی کرنا چاہتا ہے
29:41اور تبین
29:43کہتی ہے کہ اب میں
29:48اس آفیس میں کام نہیں کروں گی
29:49میں یہاں سے جا رہی ہوں
29:50اور تبین وہاں سے جانے لگتی ہے
29:54لیکن شہریار اسے روک لیتا ہے
29:55اور کہتا ہے کہ تم ابھی نہیں
29:57اس جوپ کو چھوڑ کر جا سکتی
29:59تم نے بڑی محنت سے
30:00تم نے یہ جوپ حاصل کی ہے
30:02اور
30:03عریبہ کی ماں جب جاتی ہے
30:06عریبہ کو باتیں سنا کے
30:08تو عریبہ جان بوجھ کر
30:09آ جاتی ہے کمرے میں
30:11اور بہت زیادہ انچا انچا رونے لگ جاتی ہے
30:13عریبہ جب عریبہ کو منانے کیلئے آتا ہے
30:16اور آ کر اسے کہتا ہے
30:18کہ تم ٹینشن کیوں لے رہی ہو
30:20تو عریبہ اس کا ہاتھ پکڑ لیتی ہے
30:22اور کہتی ہے
30:23کہ تم میرا ساتھ دو گے
30:25تو وہ ہاتھ پیچھے کر لیتا ہے
30:28تو اسے بہت ہی غصہ آتا ہے عریبہ کو
30:30کہ شاید وہ میرا ہاتھ چھوڑ رہا ہے
30:32لیکن عریبہ اس کا
30:34ساتھ ہی کہہ دیتا ہے
30:36کہ تم ٹینشن نہ لو
30:37تم اسی گھر میں رہ سکتی ہو
30:38جب تمہارا دل کرے
30:40تم یہاں سے جا بھی سکتی ہو
30:41عریبہ کا پہلا پلان تو کامیاب ہو جاتا ہے
30:44رود ہو کے
30:45اور وہ جب عیان وہاں سے جانے لگتا ہے
30:48تو عریبہ کہتی ہے
30:49کہ تھینکیو آپ نے میرا ساتھ دیا
30:51عیان وہاں سے چلا جاتا ہے
30:53عریبہ اپنے پلان کے لیے
30:56بہت زیادہ خوش ہوتی ہے
30:57کہ اس کا پلان کامیاب ہو گیا
30:59وہ اپنے آپ سے بات کرتی ہے
31:01کہ اسے معلوم تھا
31:02کہ اس کی ماں آئے گی
31:04اور اس نے پہلے ہی پلان بنا کر رکھا تھا
31:06کہ ان کو کیا جواب دینا ہے
31:07اور اس نے ایسا ہی کیا
31:09دوسری طرف آپ دیکھیں گے
31:10کہ عریبہ کے ماں بہت زیادہ پریشان ہے
31:13کہ عریبہ نے ان کے ساتھ بہت برا کیا ہے
31:16اور اب اس کی ماں کے ساتھ بھی بہت برا کیا
31:18نہ ہی ان کے ساتھ گئی
31:20اور نہ ہی تبین کی شادی
31:22یعین سے ہونے دے رہی ہے
31:24ان دونوں کے درمیان میں
31:25بہت بڑی درار ڈالی ہوئی ہے
31:27عریبہ کی وجہ سے
31:28اور پھر آپ دیکھیں گے
31:31کہ تبین کو معلوم ہو جاتا ہے
31:33کہ شہریار نے اپنی ہی کمپنی میں اسے جوب دلائی ہے
31:36اور اس کی کمپنی میں جوب تو تھے ہی نہیں
31:39اور وہ سن لیتی ہے
31:41شہریار کے موں سے
31:43اور کہتی ہے کہ آپ کی کمپنی میں تو جوب تھی نہیں
31:46اور آپ نے مجھے جوب کیوں دلائی
31:47آپ کیا چاہتے ہیں مجھ سے
31:49تو اس شہریار بہت زیادہ شرمیدہ ہو جاتا ہے
31:53تبین کے سامنے
31:54اور اسے سمجھ نہیں آرہی
31:55وہ تبین کو کیا جواب دے
31:57اور وہ بس یہی کہتا ہے
31:59کہ بس آپ کو جوب چاہیے تھی
32:01isi wujja se mahi nei dhila di oor kuch bhi naihi hai
32:04tabin galas hojati hai
32:06shayid wu se apseand karta hai
32:07shadhi karna chaata hai
32:09och tabin
32:11kahti
32:11tabin kahti hai
32:14kye ab mai is office me kama naihi karun gyi
32:16mai yahan se jara hi ho
32:18tabin
32:19waha se jane lagti hai
32:21lakin shahriyar usse rok leta hai
32:23oche ta hai
32:23kye tum abhi naihi
32:24is jop ko chhod ka jasakati
32:27tumne bade ni mehenas se
32:28tumne ye jop hahasil ki hai
32:29اور عریبہ کی ماں جب جاتی ہے عریبہ کو باتیں سنا کے
32:35تو عریبہ جان بوجھ کر آ جاتی ہے کمرے میں
32:38اور بہت زیادہ انچا انچا رونے لگ جاتی ہے
32:41یا جب عریبہ کو منانے کیلئے آتا ہے
32:43اور آ کر اسے کہتا ہے کہ تم ٹینشن کیوں لے رہی ہو
32:47تو عریبہ اس کا ہاتھ پکڑ لیتی ہے
32:49اور کہتی ہے کہ تم میرا ساتھ دو گے
32:53تو وہ ہاتھ پیچھے کر لیتا ہے
32:55تو اسے بہت ہی غصہ آتا ہے عریبہ کو
32:57کہ شاید وہ میرا ہاتھ چھوڑ رہا ہے
32:59لیکن عیان اس کا ساتھ ہی کہہ دیتا ہے
33:03کہ تم ٹینشن نہ لو تم اسی گھر میں رہ سکتی ہو
33:06جب تمہارا دل کرے تم یہاں سے جا بھی سکتی ہو
33:08عریبہ کا پہلا پلان تو کامیاب ہو جاتا ہے
33:11رود ہو کے اور وہ جب عیان وہاں سے جانے لگتا ہے
33:15تو عریبہ کہتی ہے کہ تھینکیو آپ نے میرا ساتھ دیا
33:18عیان وہاں سے چلا جاتا ہے عریبہ
33:22اپنے پلان کے لیے بہت زیادہ خوش ہوتی ہے
33:25کہ اس کا پلان کامیاب ہو گیا
33:26وہ اپنے آپ سے بات کرتی ہے کہ اسے معلوم تھا
33:30کہ اس کی ماں آئے گی اور اس نے پہلے ہی پلان بنا کر رکھا تھا
33:33کہ ان کو کیا جواب دینا ہے
33:34اور اس نے ایسا ہی کیا
33:36دوسری طرف آپ دیکھیں گے کہ عریبہ کے ماں بہت زیادہ پریشان ہے
33:40کہ عریبہ نے ان کے ساتھ بہت برا کیا ہے
33:43اور اب اس کی ماں کے ساتھ بھی بہت برا کیا
33:45نہ ہی ان کے ساتھ گئی
33:47اور نہ ہی تبین کی شادی یعان سے ہونے دے رہی ہے
33:51ان دونوں کے درمیان میں بہت بڑی دھرار ڈالی ہوئی ہے
33:54عریبہ کی وجہ سے
33:56اور پھر آپ دیکھیں گے
33:58کہ تبین کو معلوم ہو جاتا ہے
34:00کہ شہریار نے اپنی ہی کمپنی میں اسے جوب دلائی ہے
34:03اور اس کی کمپنی میں جوب تو تھے ہی نہیں
34:07اور وہ سن لیتی ہے
34:09شہریار کے موں سے
34:10اور کہتی ہے کہ آپ کی کمپنی میں تو جوب تھی نہیں
34:13اور آپ نے مجھے جوب کیوں دلائی
34:15آپ کیا چاہتے ہیں مجھ سے
34:17تو اس شہریار بہت زیادہ شرمیدہ ہو جاتا ہے
34:20تبین کے سامنے اور اسے سمجھ نہیں آرہی
34:23وہ تبین کو کیا جواب دے
34:24اور وہ بس یہی کہتا ہے
34:26کہ بس آپ کو جوب چاہیے تھی
34:29اسی وجہ سے میں نے دلائی اور کچھ بھی نہیں ہے
34:31تبین غلط سویتی ہے
34:33کہ شاید وہ اسے اپسند کرتا ہے
34:35شادی کرنا چاہتا ہے
34:36اور تبین کہتی ہے
34:39تبین کہتی ہے
34:42کہ اب میں اس آفیس میں کام نہیں کروں گی
34:44میں یہاں سے جا رہی ہوں
34:45تبین وہاں سے جانے لگتی ہے
34:48لیکن شہریار اسے روک لیتا ہے
34:50اور کہتا ہے کہ تم ابھی نہیں
34:51اس جوب کو چھوڑ کر جا سکتی
34:54تم نے بڑی مہنس سے
34:55تم نے یہ جوب حاصل کی ہے
34:56اور
34:57عریبہ کی ماں جب جاتی ہے
35:01عریبہ کو باتیں سنا کے
35:02تو عریبہ جان بوجھ کر
35:03آ جاتی ہے کمرے میں
35:05اور بہت زیادہ انچا انچا رونے لگ جاتی ہے
35:08یا جب عریبہ کو منانے کیلئے آتا ہے
35:11اور آ کر اسے کہتا ہے
35:12کہ تم ٹینشن کیوں لے رہی ہو
35:14تو عریبہ اس کا ہاتھ پکڑ لیتی ہے
35:16اور کہتی ہے
35:17کہ تم میرا ساتھ دو گے
35:20تو وہ ہاتھ پیچھے کر لیتا ہے
35:22تو اسے بہت ہی غصہ آتا ہے عریبہ کو
35:24کہ شاید وہ میرا
Comments

Recommended