Skip to playerSkip to main content
  • 9 months ago
Surah al qariah ] Surat No. 101 Ayat NO. 0
سورة القارعہ نام : پہلے لفظ القارعۃ کو اس کا نام قرار دیا گیا ہے ۔ یہ صرف نام ہی نہیں ہے بلکہ اس کے مضمون کا عنوان بھی ہے ، کیونکہ اس میں سارا ذکر قیامت ہی کا ہے ۔ زمانۂ نزول : اس کے مکی ہونے میں کوئی اختلاف نہیں ہے ۔ بلکہ اس کے مضمون سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بھی مکۂ معظمہ کے ابتدائی دور کی نازل شدہ سورتوں میں سے ہے ۔ موضوع اور مضمون : اس کا موضوع ہے قیامت اور آخرت ۔ سب سے پہلے لوگوں کو یہ کہہ کر چونکایا گیا ہے کہ عظیم حادثہ ! کیا ہے وہ عظیم حادثہ ؟ تم کیا جانو کہ وہ عظیم حادثہ کیا ہے ؟ اس طرح سامعین کو کسی ہولناک واقعہ کے پیش آنے کی خبر سننے کے لیے تیار کرنے کے بعد دو فقروں میں ان کے سامنے قیامت کا نقشہ پیش کر دیا گیا ہے کہ اس روز لوگ گھبراہٹ کے عالم میں اس طرح ہر طرف بھاگے بھاگے پھریں گے جیسے روشنی پر آنے والے پروانے بکھرے ہوئے ہوتے ہیں ، اور پہاڑوں کا حال یہ ہو گا کہ وہ اپنی جگہ سے اکھڑ جائیں گے ، ان کی بندش ختم ہو جائے گی اور وہ دھنکے ہوئے اون کی طرح ہو کر رہ جائیں گے ۔ پھر بتایا گیا ہے کہ آخرت میں جب لوگوں کا حساب کرنے کے لیے اللہ تعالٰی کی عدالت قائم ہو گی تو اس میں فیصلہ اس بنیاد پر ہو گا کہ کس شخص کے نیک اعمال برے اعمال سے زیادہ وزنی ہیں ، اور کس کے نیک اعمال کا وزن اس کے برے اعمال کی بہ نسبت ہلکا ہے ۔ پہلی قسم کے لوگوں کو وہ عیش نصیب ہو گا جس سے وہ خوش ہو جائیں گے ، اور دوسری قسم کے لوگوں کو اس گہری کھائی میں پھینک دیا جائے گا جو آگ سے بھری ہوئی ہو گی ۔

Category

📚
Learning
Transcript
00:00شروع اللہ کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
00:06کھڑ کھڑانے والی کھڑ کھڑانے والی کیا ہے
00:09اور تم کیا جانو کہ کھڑ کھڑانے والی کیا ہے
00:12وہ قیامت ہے جس دن لوگ ایسے ہوں گے جیسے بکھرے ہوئے پروانے
00:17اور پہاڑ ایسے ہو جائیں گے جیسے دھنکی ہوئی رنگ برنگی اون
00:22اب جس کے عامال کے وزن بھاری نکلیں گے
00:26وہ دل پسند عیش میں ہوگا
00:28اور جس کے وزن ہلکے نکلیں گے
00:30اس کا ٹھکانہ حاویہ ہے
00:32اور تم کیا سمجھے کہ حاویہ کیا چیز ہے
Comments