Skip to playerSkip to main contentSkip to footer
  • 6/12/2025

Category

People
Transcript
00:00حضرت عبوظر غفاری رضی اللہ تعالیٰ
00:30اس لیے کہ تیرے سارے معاملات کا حسن ہے
00:49تمام زندگی کا جمال یہی ہے کہ تُو اللہ سے ڈرا کرے
00:53یہ حضور نے مجھے فرمایا
00:55کل تو زدنی
00:56میں نے عرض کی حضور یہ عمل ہوگا
00:59کوئی اور وسیعت فرمائی ہے
01:01تو حضور علیہ السلام نے اشار فرمایا
01:04فرما ایک تو قرآن مجید کی تلاوت کیا کرو
01:15دوسرا ذکر اللہ کیا کرو
01:18آسمان پر اس سے تمہارا ذکر ہوگا
01:20اور زمین میں تمہارے لیے باعث نور ہے
01:22تمہیں مند میں چراغہ نصیب ہوگا
01:25اور تمہارے لیے روشنی ہوگی
01:26ان دو کاموں کے کرنے سے
01:28کل تو زدنی
01:30میں نے عرض کی حضور اس پہ بھی عمل ہوگا
01:32کوئی اور اشارت فرمائی
01:34اللہ اکبر
01:35حضور علیہ السلام نے اشارت فرمایا
01:38علیکہ بے طول سمت
01:40تمہارے اوپر زیادہ خموشی اختیار کرنا ہے
01:44زیادہ باتیں نہ کیا کرو
01:45لمبی خموشی رکھا کرو
01:47اس سے دو فائدے ہوں گے ایک تو شیطان بھاگ جائے گا
01:56دوسرا عمر دین میں تجھے تقویت ملے گی
02:00زیادہ باتیں کرنے والے کی زبان پھسلتی ہے
02:03غیبت چغلی جھوٹ بہتان یہ سارے امراض یہ ساری آفتیں جو ہیں وہ زبان کی ہیں
02:11اس لیے کہا کہ زبان کی حفاظت کرنا
02:14تو زیادہ لمبی خموشی اور زیادہ لمبا سکوت اختیار کر دینا
02:20اس لیے تجھے دنیا میں بھی فائدہ ہوگا
02:23شیطان بھی بھاگ جائے گا
02:24اور تیرے دین میں بھی تجھے مضبوطی ملے گی
02:27کل تو زد نہیں
02:28کہتے ہیں رحمت کا بارہ بٹ رہا تھا
02:31حضور علیہ السلام کے
02:33جو ہے وہ
02:34مو سے نور نکل رہا تھا
02:36میں نے جھولی پھیلائی ہوئی تھی
02:38میں نے ارز کی حضور اس پہ بھی عمل ہوگا
02:40کچھ اور ارشاد فرمائی
02:42تو آقا کریم علیہ السلام نے ارشاد فرمایا
02:45میں تجھے نصیحت کرتا ہوں
02:55کہ تم
02:57زیادہ ہسا نہ کرو
02:58زیادہ ہسنے سے گریز کرو
03:01اس لیے کہ زیادہ ہسنے سے
03:03ایک تو دل مردہ ہو جاتا ہے
03:06اور دوسرا
03:07چہرے کا جمال ختم ہو جاتا ہے
03:09چہرے کی روشنی چلی جاتا ہے
03:11آج آپ کے سامنے
03:13تین احادیث رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
03:16مقتصر تشریح کے ساتھ
03:19رکھنا چاہوں گا
03:20اور مجھے امید ہے کہ
03:22ان احادیث میں
03:23جو روشنی نور
03:25برکت اور اجالے ہیں
03:27وہ ہماری زندگی میں
03:28بہت ساری تبدیلیوں کا سبب
03:31اور بہت ساری پریشانیوں کو
03:33مٹانے کا ذریعہ
03:34اور سرور باطن
03:35کا ایک بہت بڑا سبب
03:38بزریعہ ہوگا
03:39حضرت عبیداللہ بن محسن
03:42الانساری رضی اللہ تعالیٰ انہو
03:44فرماتے ہیں کہ
03:45اللہ کے محبوب علیہ السلام
03:46نے اشارت فرمایا
03:47من اصبح منکم آمنان فیسر بہی
03:50جس نے
03:51صبح اس حال میں کی
03:53کہ وہ
03:55بالکل امن میں تھا
03:57اس کے ماحول میں
03:59اس کے قبیلے میں
04:00اس کے گھر کے اندر
04:01چین اور قرار تھا
04:03کوئی
04:04ناگہانی آفت نہیں تھی
04:06کوئی ایسی چیز نہیں تھی
04:09کہ جو
04:10اٹھتے ہی اس کو
04:11بے چینی
04:12پریشانی
04:13اور
04:14دکھ اور تکلیف دیتی
04:16بد امنی نہیں تھی
04:18وہ آرام کے ساتھ اٹھا
04:20سکون اور تمانیت کے ساتھ
04:22اس نے سب کا آغاز کیا
04:24معافن فی جیسا دے ہی
04:26اور اس کے
04:28جسم کو کوئی بیماری نہیں تھی
04:30اللہ نے اس کو
04:32آفیت سے رکھا
04:33وہ صحت کے ساتھ
04:36اور امن کے ساتھ
04:38بیدار ہوتا ہے
04:39اندہو کو تو یومی ہی
04:42اور اس دن کی
04:44ضرورت کا کھانا
04:45اس کے گھر میں موجود تھا
04:48یہ تیسری چیز
04:49اللہ کے محبوب
04:50علیہ السلام نے اشارت فرمائی
04:51فَقَأَنَّمَا
04:53خیزت لَهُ الدُّنِيَا بِهَذَا فِي رِحَا
04:55تو فرمایا کہ
04:57دنیا تمام تر پہلوں کے ساتھ
05:01اپنی تمام تر خوبیوں کے ساتھ
05:04اس کے ہان جمع ہے
05:06یعنی اس کو پھر کوئی
05:08کمی نہیں ہے
05:09اگر اس کو یہ تین چیزیں
05:11مویسر آگئیں
05:12سب سے پہلی چیز
05:13کہ صبح اٹھا تو
05:15اس کے گھر میں امن تھا
05:16انسان کی
05:17بنیادی ضرورتوں میں سے
05:19ایک ضرورت امن ہے
05:21بد امنی
05:23بے چینی
05:25اور
05:26معاشرے کے اندر
05:27پھیلا ہوا انتشار
05:29یہ بہت عذیتناک ہوتا ہے
05:32اور اگر انسان کو
05:35اپنی جان کا بھی خطرہ ہو
05:36تو
05:37اب مجھے آپ بتائیے کہ
05:40باقی چیزیں
05:41تمام کی تمام میسر بھی ہوں
05:44تو
05:45ان سے تلزست و حاصل نہیں کیا جا سکتا
05:48تو انسان کی بنیادی ضرورت
05:50امن ہے
05:51اور پھر
05:53اگر صحت نہیں ہے
05:55تو
05:56ڈھیر ہوں دولت کے
05:58تو وہ کس کام کے
05:59اور تیسری بات
06:02کہ انسان کے پاس صحت بھی ہے
06:05اور امن و امان میں بھی ہے
06:07لیکن کھانے کو
06:09ایک دن کی روزی بھی نہیں ہے
06:11تو ظاہرہ پیٹ تو تقاضہ کرتا ہے
06:14بھوک جب ستاتی ہے
06:16تو انسان
06:16اس کے لئے بیچین ہو جاتا ہے
06:18اب کوئی شخص
06:20صبح جب بیدار ہوا
06:22تو تینوں چیزیں
06:23اسے میسر تھی
06:24ایک تو
06:25امن و امان کی صورتحال تھی
06:27دوسری چیز
06:29ارشاد فرمائی کہ
06:30وہ
06:31اپنے جسم میں
06:33کوئی بیماری نہیں پاتا تھا
06:35خیریت کے ساتھ اٹھا
06:37آفیت کے ساتھ
06:38بیدار ہوا
06:38اور تیسری بات
06:41ارشاد فرمائی
06:42کہ اس کے پاس
06:43ایک دن کا کھانا موجود تھا
06:45تو فرمایا کہ
06:47اس کو دنیا کی کوئی کمی نہیں ہے
06:50وہ شکوا نہ کرے
06:51کہ میرے پاس کچھ ہے نہیں
06:52یہ تینوں چیزیں
06:54مل گئیں
06:55تو اللہ نے اس کی جھولیاں بھر دی ہیں
06:56آج کا
06:59انتظام اس نے
07:00تمہارے لئے کر دیا ہے
07:01نا تو کل کا بھی ہو جائے
07:02آج اگر صحت ہے
07:04تو اللہ کل بھی عطا کر دے گا
07:06آج اللہ جللہ شانہو نے
07:08امن اس کے لئے میسر فرمایا ہے
07:12تو کل کا دن بھی
07:13اس سے توقع رکھنی چاہیے
07:15کہ ایسے ہی گجرے
07:16تو یہ تین چیزیں اگر میسر ہیں
07:18اور پھر بھی انسان شکوے کی زبان کھولے
07:21تو وہ اس کو
07:21ناشکرہ کہا جائے گا
07:23اور اگر کوئی ان چیزوں کے
07:25میسر آنے پر
07:26اللہ کا شکر گزار ہو
07:28اور اس کا سر
07:29اللہ کے حضور شکرانے میں جھک جائے
07:33تو اللہ اس کو اور زیادہ
07:36رحمتوں سے نوازنے والا ہے
07:39تو یہ ایک تو
07:41اس حدیث میں ہمیں
07:42توقع سکھایا گیا
07:43اللہ تعالیٰ جللہ شانہو پر
07:46راضی رہنے کا سبق دیا گیا
07:48خامخواہ
07:50ہمیں واویلہ کرنے سے
07:52منع کیا گیا
07:53آپ اپنی سہولت
07:55اپنی
07:57طاقت کے مطابق
07:58رزق کمانے کے اندر
08:00مشکول رہ سکتے ہیں
08:01لیکن اپنے آپ کو اتنا تھکا لینا
08:03اس کے لیے
08:04کہ
08:05زندگی ہی تلخ ہو جائے
08:08یہ کوئی دانشمندی نہیں ہے
08:10آج کی تاریخ میں
08:12جو ہمارے ساتھ جڑی ہوئی ضرورتیں ہیں
08:15ان میں سے بہت ساری ضرورتیں ایسی ہیں
08:19کہ جو خود ساختہ ہیں
08:21وہ ہماری ذاتی طور پر
08:24خود ساختہ جڑی ہوئی چیزیں ہیں
08:26یا معاشرت نے خود ساختہ چیزوں کا
08:29اتنا بوجھ ہمارے اوپر لاد دیا ہے
08:31کہ وہ ہمیں کرنا پڑ رہا ہے
08:33اگر معاشرہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق
08:39سادگی اختیار کرتا ہے
08:41اور میانہ روی کے ساتھ وہ زندگی بسر کرتا ہے
08:46تو ان حالات کے اندر بھی زندگی تلخ نہیں ہے
08:49لیکن چونکہ
08:51ہم دیکھتے ہیں دوسروں کو
08:54اور ان کی دولت ان کا مال ان کو مجسر نعمتوں کے ساتھ اپنا موازنہ کرتے ہیں
09:01اور پھر اپنے آپ کو خامخواہ تھکانے لگ جاتے ہیں
09:05اور ایک عذیت میں مبتلا ہو جاتے ہیں
09:07تو وہ فرمایا کہ جس کو
09:09اس حال میں صبح ملی
09:12کہ وہ امن و امان میں تھا
09:14اس کے جسم کو کوئی بیماری نہیں تھی
09:17اور اس کے پاس
09:19اس دن کا کھانا
09:21موجود تھا
09:23تو اللہ تعالی نے گویا
09:24اس کو دنیا کی ساری نعمتیں اتا کرنی ہیں
09:26یہ نصیب ہو گیا تو
09:27وہ اللہ کا شکر بجائے گا
09:29حضرت عبداللہ بن عمر بن آس رضی اللہ تعالی نحو سے
09:34مروی ایک روایت
09:36جو امام مسلم نے اپنی سنت کے ساتھ
09:39روایت فرمائی ہے
09:40کہ انہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قال
09:44اللہ کے محبوب علیہ السلام نے ارشاد فرمایا
09:48قد افلہ من اسلاما
09:50فلاہ اس نے پائی
09:52جس کو اسلام کا نور نصیب ہو گیا
09:55سب سے بڑی دولت
09:56جو ہمیں اس دنیا کی اوپر عطا کی گئی ہے
09:59وہ ایمان کی دولت ہے
10:00اور سب سے بڑی دولت
10:02جو ہمیں آخرت میں عطا کی جائے گی
10:04وہ دیدارِ الٰہی ہے
10:05جو اس دنیا میں
10:07اسلام سے ایمان سے محروم رہا
10:09تو وہ حقیقی محروم ہے
10:10ہوا میں اڑے چرخ پہ جھولے
10:13دنیا کی ساری
10:14مال و دولت کا مالک بن جائے
10:16اور
10:18عالی منصبوں کے اوپر
10:20فائض المرام رہے
10:22دنیا اس کو سلوٹ کرے
10:24عزت وقار کی مسند پہ بیٹھا ہو
10:26دنیا بھی اعتبار سے وہ
10:28وہ ہواوں میں اڑتا بھی رہے
10:29لیکن اگر اس کا سینہ ایمان کے نور سے خالی ہے
10:33کوڑی ملنے اس کا
10:34تو سب سے بڑی دولت
10:36اس دنیا کی اوپر جو حضرت انسان کو دی گئی ہے
10:38وہ اسلام ہے
10:39ایمان کی دولت ہے
10:41تو اللہ کے محبوب میں افمایا
10:42قد افلاح من اسلاما
10:44فلاح اس نے پائی
10:46جس کو اسلام مل گیا
10:47اللہ اکبر
10:49یہاں لفظ جو استعمال کیا گیا ہے
10:51وہ افلاح ہے
10:52یعنی وہ
10:53کامیاب ہوا
10:55فلاح کا لفظ جو ہے
10:56یہ بہت جامع لفظ ہے
10:58اور ہم سب لوگ اس لفظ سے
11:00اچھی طرح
11:01آگاہ ہیں
11:03شناسہ ہیں
11:04ہر روز
11:05ہمیں ہر نماز کے لیے
11:07پکاری گئی اذان میں
11:08دو مرتبہ
11:09دعوت فلاح دی جاتی ہے
11:11ہی آلال فلاح
11:13تو ہمیں
11:15کامیابی کی طرف
11:17بولایا جاتا ہے
11:18اور فلاح
11:19دنیا اور آخرت
11:20دونوں جہانوں کی
11:22کامیابی کے لیے
11:22بولا جاتا ہے
11:23تو دنیا میں بھی
11:25وہ سرخروع اور کامیاب ہو گیا
11:26اور آخرت میں بھی
11:27سرخروع اور کامیاب ہو گیا
11:29کون
11:29جس کو اسلام کا نور دیا گیا
11:31اور اس کے مقابلے میں
11:34کافر نقصان میں ہے
11:35اس نے فلاح نہیں پائی
11:36چاہے اس نے دولت کے
11:37جتنے مرضی
11:38ڈھیر جمع کر لیے
11:40تو وہ خسران میں ہے
11:42فلاح میں نہیں ہے
11:43وَقَانَ رِزْكُهُ قَفَافًا
11:45ایک
11:46تو اس کو اسلام ملا
11:48اور دوسرا
11:49اس کے پاس
11:50گزارے کا
11:51رزق
11:52میسر تھا
11:54اس کی ضرورت
11:55اس سے پوری ہو رہی تھی
11:56وہ فاقوں سے مر نہیں رہا تھا
11:58اس کی ضرورتیں پوری ہو رہی تھی
12:00اس کا بدن
12:00برہنا نہیں تھا
12:02بدن ڈھاپنے کے لیے
12:04کپڑے میسر تھے
12:05پرانے سے ہی
12:06بہت مہنگے نہیں
12:08واجبی سے ہی سے ہی
12:10اس کو
12:11جو ضروریات زندگی ہے
12:13وہ میسر ہیں
12:15اور
12:16گزارے کا رزق
12:18اللہ تعالیٰ نے اس کو
12:19عطا کر دیا ہے
12:21یہ دو چیزیں
12:23اسلام کی دولت
12:24اور گزارے کا
12:26رزق
12:26اب تیسری بات کیا فرمائی
12:29وَقَنْ آهُ اللَّهُ بِمَا آتَاهُ
12:32اللہ جللہ شانہو نے
12:34اس کو یہ جو عطا کیا ہے
12:35اس پر وہ مطمئن ہے
12:38اور اس پر وہ کنات کرتا ہے
12:40اس پر وہ راضی ہے
12:42کہ مالک
12:42تُو نے مجھے جس حال میں رکھا ہے
12:44میں وابا خوش ہوں اس پر
12:45اللہ حکم
12:47تو ایسا شخص
12:49کامیاب ہو گیا
12:50یعنی ایمان کا نور نصیب ہے
12:52اسلام کی دولت
12:53میسر ہے
12:54اور ضرورت
12:56کی روزی اس کو
12:57نصیب ہو جاتی ہے
12:58اور
13:00اس پر وہ راضی بھی ہے
13:02اس پر وہ کانے بھی ہے
13:03خوش ہے کہ مالک میں
13:04تیری تقسیم پر راضی ہے
13:06اللہ سے
13:07زیادہ کی اگر وہ طلب کرے
13:10اور کوشش اور سائی کرے
13:12تو شریعت اس سے بھی نہیں روکتی
13:13لیکن جتنا اس نے عطا کر رکھا
13:16اس پر بھی تو راضی رہے گا
13:17اس پر بھی تو خوش رہے
13:20اگر نہیں خوش رہے گا
13:22تو کیا کرے گا
13:23اللہ نے تو جو مقصوم
13:26اس کے لیے کیا ہے
13:27جو لکھا ہے
13:28وہ ہی ملے گا اس کو
13:29تو اب وہ الٹی چلانگیں بھی لگائے
13:30تو کچھ نہیں کر سکتا
13:32تو وہ کوشش کرے
13:34اللہ سے دعا مانگے
13:35اس کی ضرورتیں
13:37بڑھ رہی ہیں
13:38تو وہ کہے
13:39مالک میری ضرورتیں بڑھ رہی ہیں
13:40تو مجھے اس کے لیے
13:42اپنی جناب سے
13:43رزق بھی وسیعہ تا کر دے
13:45تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے
13:47اس کے لیے
13:47اپنے کام کو
13:48کاروبار کو
13:49پھیلانے کی قسائی کرے
13:50کوشش کرے
13:51لیکن
13:53اپنے اوپر
13:53مسلط نہ کرو لے
13:55یہ اس کے ذہن
13:57دل
13:57دماغ میں ہونا چاہیے
13:59کہ
13:59مالک جہاں
14:02تو مجھے رکھے گا
14:02میں رہوں گا
14:03وہاں راضی
14:04لیکن
14:05تو کرم کر کے
14:06مجھے اور زیادہ
14:06عطا کر دے
14:07تو پھر وہ
14:09جس حالت میں ہے
14:10اس حالت میں بھی
14:11خوشی کے ساتھ
14:12زندگی بسر کر رہا ہوگا
14:14اور اللہ
14:15اس کی حالت
14:15اگر بہتر فرما دے
14:17تو اس میں بھی
14:18اس کو
14:18خوشی اور شکر کی
14:20جیفیت نصیق ہوگا
14:21اور اگر
14:22وہ کنات
14:23کا نور نہیں پائے گا
14:25تو وہ جس حالت میں ہے
14:26اس حالت کے اندر بھی
14:28وہ دکھی
14:29پریشان
14:30ہر وقت
14:31ٹینشن میں ہوگا
14:32اور اگر
14:33اس کو
14:34زیادہ بھی
14:35عطا کر دیا گیا
14:36تو یہ جو
14:36بیماری اس کو
14:37لگ گئی
14:38ناشکری کی
14:39ہر وقت
14:40ادم اتمینان کی
14:42وہ آگے چلا گیا
14:44میں بہت پیچھے رہ گیا
14:45ہوں تو آگے تو
14:46بہت سارے لوگ ہیں
14:47تو وہ
14:47کبھی بھی
14:48اس مرض سے
14:49چھٹکارہ نہیں
14:50پاس رکے گا
14:50وہ
14:51کروڑ پتی بھی ہو جائے گا
14:53عرب پتی بھی ہو جائے گا
14:54لیکن اس کے نفس کی
14:55کمینگی ختم نہیں ہوگی
14:56تو نفس کی
14:58کمینگی
14:59یہ انسان کو
15:00توڑ کے رکھ رہتی ہے
15:01حضرت فضالہ بن
15:02عبید
15:02الانساری
15:03رضی اللہ تعالیٰ
15:04انہو
15:04سمیع رسول اللہ
15:06صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
15:07یہ قول
15:08میں نے حضور
15:08علیہ السلام کو
15:10فرماتے ہوئے
15:11سنا تھا
15:12توبہ لمن
15:13ہو دیہ
15:13الالاسلام
15:14جس کو
15:14ہدایت اسلام
15:16نصیب ہوئی
15:16اس کو مبارک ہو
15:18ایک تو
15:19توبہ سے حضور
15:20نے مبارک دی
15:21اور شارہی نے لکھا ہے
15:23کہ توبہ
15:24جنت کا درخت بھی ہے
15:25تو حضور نے فرمایا
15:27اس کو
15:28جنت کا وہ درخت
15:29نصیب ہوگا
15:30اور جنت کا درخت
15:32کوئی ان درختوں
15:33کی طرح تھوڑا ہے
15:34کہ ایک جگہ پہ
15:35ہو اور تھوڑا سا سایہ ہو
15:36جنت کے درختوں
15:39کے اتنے لمبے
15:40اور گھنے سائے ہیں
15:42کہ سواری کی اوپر
15:44بیٹھ کے
15:44کوئی چلے
15:45پانچ سو سال
15:46تک چلتا رہے
15:47تو سایہ ختم نہ ہو
15:48تو جس کو
15:50جنت میں
15:51ایک درخت بھی
15:52مل گیا
15:53تو اس کو
15:54جاگیریں مل گئیں
15:56اللہ اکبر
15:58اور جس کو پھر
15:59باغات ملیں گے
16:00تو وہ اس کی پھر
16:02کیا نعمتیں ہیں
16:02تو حضور نے فرمایا
16:03توبہ
16:04یعنی ایک تو اس کو
16:06جنت کا درخت
16:07توبہ نصیب ہو
16:08یا پھر
16:10اس کو مبارک ہو
16:12لمن
16:12حدیہ علیہ الاسلام
16:14جس کو
16:14ہدایت اسلام دی گئی
16:16وکانا
16:17ایشہو کفافن
16:18اور اس کی زندگی
16:21کفائت کی تھی
16:22جو ضرورت تھی
16:24اس کی
16:24وہ ہی پوری ہو رہی تھی
16:26بس
16:28گزارہ ہو رہا تھا
16:29محتاج نہیں ہوا تھا
16:31کسی کے آگے
16:31ہاتھ پھیلانے کی
16:32نوبت نہیں آئی تھی
16:34لیکن
16:36بہت زیادہ بھی نہیں تھا
16:38بس
16:38گزر اوقات ہو رہی تھی
16:41وکنعہ
16:43اور اس پہ
16:44وہ مطمئن بھی تھا
16:46یہ مطمئن ہونا
16:47اکہ ہے
16:48چونکہ
16:49جس حالت میں
16:50وہ رکھی
16:51اس حالت میں
16:51تو رہنا پڑے گئی
16:52وہ کیا
16:53کرے گا
16:54لیکن
16:55اس حالت میں
16:55رہ کے
16:56اس پر
16:56مطمئن ہونا
16:58اصل یہ وہ چیز ہے
16:59کہ بندہ
17:00کہ مالک میں
17:01تیرے اوپر
17:02راضی ہوں
17:02اور اگر
17:04کوئی بندہ
17:04اللہ کی
17:06اس تقسیم پہ
17:07اس کے دیئے گئے
17:08پہ راضی ہو جاتا ہے
17:09تو
17:10اللہ کے محبوب
17:11کا ایک اور فرمان ہے
17:12جو سیدنالی المرتضی
17:13رضی اللہ تعالیٰ
17:14نحو سے مر بھی ہے
17:15کہ جو
17:16اللہ کے دیئے گئے
17:18تھوڑے رزق پہ
17:19راضی ہو گیا
17:19اللہ کے محبوب
17:21فرماتے ہیں
17:21اللہ
17:22اس کے تھوڑے
17:23عملوں پہ
17:23راضی ہو جائے گا
17:24کہ بندے
17:26تجھے ضرورت بھی تھی
17:27اور پھر بھی
17:28تو میرے
17:28دیئے پہ
17:29راضی ہو گیا
17:29تھوڑے پہ
17:30راضی ہو گیا
17:31دیکھو
17:32اللہ کے ہاں
17:32کیا کمی ہے
17:33تھوڑا دے دے
17:33یا زیادہ دے دے
17:34لیکن اگر
17:36وہ تھوڑا دیتا
17:37تو وہی جانتا
17:37کیوں دیتا ہے
17:38اور اگر وہ
17:40زیادہ دیتا ہے
17:40تو وہی جانتا
17:41کیوں دیتا ہے
17:42بعض کات
17:43ایسے لوگوں کو
17:44اتنا
17:44فراوہ مال دیا ہوتا ہے
17:46کہ بندہ
17:47کہتے ہیں
17:47کہ یار
17:48اس کو اتنا مال
17:49اس کو پتا بھی نہیں ہوتا
17:50نہ اس کے پاس
17:51کوئی فہم ہوتا ہے
17:52نہ اس نے کوئی
17:53منظوبہ بندی ہوتی ہے
17:54تو وہ جس طرح
17:55چھت پھاڑ کے دینے والا
17:56معاملہ ہوتا ہے
17:57اور بڑے بڑے
17:59ملازمین
17:59اس کے آگے پیچھے
18:00ہو رہے ہوتے ہیں
18:01وہ کسی کام
18:02کا آدمی نہیں ہوتا
18:02میاں صاحب نے کہا تھا
18:03بے وکوف آدھے
18:04نوکر وے کے
18:05دانش مند سے آنے
18:06تو بڑی دولت
18:08دے دیتا ہے
18:09اور بعض
18:09بہت پڑے لکھے
18:11سمجھدار
18:12معاملہ فہم
18:13لیکن
18:14بیچارے
18:14وہ مشکل
18:15اپنا گھر چلا رہے ہوتے ہیں
18:17اب یہ اس کی تقسیم ہے
18:19ہاں
18:19اگر کنات مل گئی
18:21شکر گزاری کا جذبہ مل گیا
18:23وہ جس کو زیادہ دیا
18:24اس کو بھی
18:25اور جس کو کم ملا
18:26اس کو بھی
18:27تو پھر
18:28اللہ کی طرف سے کامیابی ہے
18:29وہ پھر فالے ہے
18:31چونکہ
18:32اگر وہ یہ جذبہ دے دے
18:34تو پھر
18:35گزارے کے
18:36رزق پر بھی
18:37کنات
18:38اللہ پہ راضی رہنے کا جذبہ
18:40اور توفیق
18:41بہت بڑی سعادت ہے
18:43اور اگر یہ
18:44نور نصیب نہ ہو
18:46کنات کا
18:47اور
18:48اللہ پہ راضی رہنے کا
18:50تو پھر
18:51کروڑوں عربوں کے
18:52باوجود بھی
18:53انسان ناشکرہ ہی
18:55رہتا ہے
18:55وہ کہتا ہے
18:57نہیں بس چلی نہیں رہا
18:58جی آج کل
18:59ہیں ہی بہت
18:59مشکلات
19:00میں
19:01ایک دفعہ
19:02ایک سفر پہ تھا
19:03تو
19:03ایک شخص
19:05مجھے ملا
19:05کوئی تقریب تھی
19:07اس کے بعد
19:08مسافہ کرتے ہوئے
19:10تو
19:10جس طرح
19:10ایک روٹین کے ساتھ
19:12کیا حال ہے
19:13کیسے ہیں
19:14تو اس کے
19:15کپڑے
19:16کچھ پھٹے ہوئے تھے
19:17لوگ مل رہے تھے
19:18تو میں
19:18ہر ایک سے پوچھ رہا تھا
19:20کیسے ہیں جناب
19:20کیسی طبیعت ہے
19:22تو میں نے جب اس سے پوچھا
19:23تو اس نے کہا
19:24اللہ کا بڑا کرم
19:25جب ہاتھ اٹھایا
19:28تو یہاں سے
19:28اس کی کمیز پٹی تھی
19:29لٹک رہی تھی
19:30تو
19:30اس کے
19:32اس انداز سے
19:33میں رک گیا
19:35اور میں
19:35اس کو کہا
19:37کہ آپ
19:37مجھے دوبارہ ملیے گا
19:38جب لوگوں سے
19:39ملاقات ہوگی
19:40تو پھر میں نے کہا
19:41اور سنائیں
19:42کیسے ہیں
19:43تو کیا کر رہے ہیں
19:44تو وہ کہنے لگا
19:46کہ میرے پاس
19:46چھے کنال زمین ہے
19:48اس میں تھوڑی سی کاشت
19:49کر لیتا ہوں
19:50اور
19:51اس
19:52زمین سے
19:53میں نے دس مرلے جگہ
19:54مسجد کے لیے
19:56وقف کی ہے
19:56اور میں خود
19:57مسجد بنا رہا ہوں
19:58بس آپ دعا کریں
19:59کہ اللہ کا گھر بن جائے
20:00وہ تھوڑا تھوڑا
20:03کماتا ہوں
20:04کچھ بچوں کو دیتا ہوں
20:05اور کوئی بچتا ہے
20:07اور کوئی اور بھی
20:07اگر تعاون کرتے
20:08تو اس کی میربانی
20:09ورنہ میرا عزم ہے
20:10کہ اس کو بنانا ہے
20:12تو وہ کوئی
20:13عالی شان
20:14دنیوی اعتبار سے
20:15تو نہیں بنے گی
20:16لیکن جیسے بھی
20:17تو میری بس حاضر ہے
20:18کہ میں زندگی میں
20:19مسجد کو
20:20مکمل ہوتا دیکھ لوں
20:21بس
20:22اب اس نے
20:24ہاتھ کڑا کیا
20:24تو یہاں سے
20:25پھٹی ہوئی
20:26کمیس
20:26لٹک رہی تھی
20:27لیکن
20:29ایسے ہاتھ اس کا
20:30اللہ کا شکر ہے
20:31میں کہتا ہوں
20:33یہ شہنشاہوں
20:33کو بھی نصیب نہیں ہے
20:34جو چین کی نیند
20:36اسے آتی ہوگی
20:36کسی اور کو آ سکتی
20:37تو اللہ پہ
20:39اگر آپ
20:40راضی رہنا سیکھ جائیں
20:41تو پھر جس حالت میں
20:43ہوں گے
20:43تو اللہ آپ سے
20:44راضی ہو جائے گا
20:45اور اگر نہیں سیکھیں گے
20:47تو عربوں
20:47خرموں کے بعد بھی
20:49وہ بعض
20:50کروڑ پتی
20:51عرب پتی
20:51ان سے
20:52رواجہ نہیں پوچھتے ہیں
20:53جناب کیسے آل ہے
20:54وہ کہتے ہیں
20:55چلی رہا ہے
20:55اور وہ کہتے ہیں
20:56اللہ کا فضل ہے
20:57تو اس کے چہرے کی
20:59اوپر پھیلی ہوئی خوشی
21:01اس کی جو بارڈی لینگویج ہے
21:02وہ بتا رہی ہے
21:03کہ یہ شخص
21:04کتنا خوش ہے
21:05اپنے رب پہ
21:06اور دوسرے کی
21:07بارڈی لینگویج
21:08بتا رہی ہے
21:09کہ یہ کروڑوں
21:09عربوں
21:10کمانے کے باوجود
21:11حالانکہ
21:12جب مہنگائی ہوتی ہے
21:13حالات تلخ ہوتے ہیں
21:14تو ان لوگوں کی
21:15اور چاندی ہو جاتی ہے
21:16لیکن وہ کہتے ہیں
21:18بس چلی رہا ہے
21:19یعنی اس کی آواز
21:20ہی نکلی
21:20چلی رہا ہے
21:21تو اس لئے
21:23اللہ پہ
21:23راضی رہنے کا
21:24ہم میزاج پیدا کریں
21:26اس نے یہ تھوڑا کیا
21:28کہ ہمیں زندگی دے دی
21:29اس کا یہ تھوڑا کرم ہے
21:31کہ اس نے
21:31ہمیں صحت عطا فرمائی
21:33اس کا یہ کتنا کرم ہے
21:35کہ
21:35اس نے ہمیں
21:36اسلام کا نور
21:37اور جمال عطا کیا
21:38باقی
21:40ہماری ضرورتیں
21:41تو پوری ہو رہی ہیں
21:42ہمارے اوپر
21:43تو اس کا کرم
21:44می کی طرح برس رہا ہے
21:45یہ تو ہمارے
21:46مطالبے زیادہ ہیں
21:48ہماری خواہشیں
21:49بڑھ گئی ہیں
21:50اس لئے
21:51ہم پریشان ہو جاتے ہیں
21:53ہم دائیں بائیں دیکھتے ہیں
21:54دیکھئے
21:56جو جانور ہیں
21:57ان کو
21:58جتنا دانا چاہیے ہوتا ہے
22:01جتنا چارا چاہیے ہوتا ہے
22:03یا گوشت خور جانور
22:04ان کو جتنا چاہیے ہوتا ہے
22:05روز اتنا لیتے ہیں
22:07اور مطمئن
22:07اور اپنی کچھار میں
22:09اپنے گھونسلے میں
22:10اپنے گھر میں
22:12چلے جاتے ہیں
22:12بعد ختم
22:13انسان کے لئے
22:15مسئلہ یہ ہے
22:15کہ یہ جمع کرنے کے چکر
22:17کے اندر پریشان ہو گیا ہے
22:18دنیا کے اوپر صرف دو مخلوقیں
22:20ایسی ہیں جو رزق جمع کرتی ہیں
22:21ایک انسان دوسری چیوٹی
22:23اس کے علاوہ
22:25جتنی بھی مخلوقیں ہیں
22:27چاہے وہ پانی کی ہیں
22:28وہ مخلوقیں
22:30خوشکی کی ہیں
22:31ہواوں میں اڑنے والی ہیں
22:32کوئی اپنا رزق جمع نہیں کرتا
22:34ہم کتنا کھاتے ہوں گے
22:36لیکن یہ ہاتھی کتنا روز کھاتا ہے
22:39بڑی مچھلیاں
22:41وحیل مچھلیاں ہیں
22:42یہ اتنا کھاتے ہیں
22:43ٹھنوں کے حساب سے
22:44اور اللہ اس پانی میں ان کے لیے
22:47وہ میسر فرما رہا ہوتا ہے
22:49یہ ہنس پرندہ جو ہے
22:51یہ خالص سچے موتی کھاتا ہے
22:53اور دنیا کے اندر
22:54لاکھوں کروڑوں ہنس پائے جاتے ہیں
22:57اور اللہ روزانہ پیٹ بھرنے کے لیے
23:00ہر ایک کو سچے موتی فراہم فرماتا ہے
23:03تو ہم تو خامخواہ پریشان ہو گئے
23:06ہاں ہمیں سائی کرنے کا کہا گیا ہے
23:08محنت کرنے
23:09وہ پرندہ بھی اڑ کے جاتا ہے
23:11شیر بھی اپنی کچھا سے نکل کے شکار کرتا ہے
23:14سائی وہ بھی کرتا ہے
23:15تو
23:16اللہ جللہ شانہو ہمیں
23:18کناہت کا نور عطا فرمائے
23:20اور اس نے ہمیں جس حالت میں رکھا ہے
23:22اس میں کامل مکمل
23:24اتمینان عطا کرے
23:26ہماری ضرورتوں کو
23:28اپنے فضل سے پورا فرمائے
23:30اور
23:31اس معاشرے کے اندر
23:34جس طرح معاشرتی نظم بن گیا ہے
23:37تو ہماری کچھ مجبوریاں ہیں
23:39کسی نے بیٹیوں کی شادیاں کرنی ہیں
23:41تو ظاہر ہے کہ وہ
23:42چاہے بھی کہ میں
23:44بالکل سادگی سے کروں
23:46لیکن
23:47ادھر سے مطالبے اور
23:49بہت کچھ ہیں
23:51ہم اچھی طرح اس کو سمجھتے ہیں
23:53تو اللہ اپنے کرم سے
23:55ہمارے لئے آسانیاں پیدا کرتا ہے
23:57لیکن جو بات
23:58کہنے کی ہے وہ یہ ہے
24:00کہ
24:01اگر یہ ساری ضرورتیں
24:02ہمارے ساتھ جڑی بھی ہیں
24:04اس معاشرت میں رہنے کی وجہ سے
24:06تو وہ پورا کرنے کی کوشش ضرور کریں
24:08لیکن اس دل کو کنات سے خالی نہ ہونے دیں
24:10اللہ سے جو اتمینان ہے
24:13اس کو کبھی ضائع نہ ہونے دیں
24:16باقی یہ اگر ضرورتیں بڑھ گئی ہیں
24:19تو یہ معاشرے نے بڑھائی ہیں
24:20ہماری ضرورتیں وہ پوری کر رہا ہے
24:22اور ہم جو کہتے ہیں
24:24ہم پیچھے رہے گئے
24:25تو ہم کچھ لوگوں کو آگے دیکھ کے کہہ رہے ہیں
24:26کہ ہم پیچھے رہے گئے
24:28ورنہ ہماری ضرورتیں وہ پوری کر رہا ہے
24:29اور اس پر اللہ کے محبوب علیہ السلام نے
24:32بڑی خوبصورت ایک بات رشاد فرمائی
24:34فرمائے اپنے نیچے دیکھو
24:39نیچے دیکھنا شروع کر رہا
24:41کہ تم سکون میں آ جاؤ
24:42اور جب آپ اوپر دیکھو گے
24:44تو آپ جہاں بھی چلے جاؤ گے
24:46تو کوئی اور اوپر ہوگا
24:48تو اس کو دیکھو گے تو آپ کہو گے کہ میں پیچھے رہ گیا ہوں
24:51حتیٰ کہ وہ جو دنیا کے
24:53ٹاپ ٹین لوگ ہوتے ہیں
24:54دنیا کے دس امیر ترین لوگ
24:57تو وہ بھی
24:58جو آگے والا ہوتا ہے
25:00اس کو دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ میں
25:02ٹین میں بھی جو ہے وہ ٹاپ پہ آ جاؤں
25:04اور جو آخری والا ہوتا ہے
25:06جو سب سے دنیا کا امیر ترین کہلاتا ہے
25:08تو وہ بھی کوشش میں لگا ہوتا ہے
25:11کہ اگلے سال جب یہ فرست بنے
25:13تو میں کہیں پچھلے نمبر پہ نہ آ جاؤں
25:14تو یہ دھوڑ اس لئے لگی ہوئی ہے
25:16اور پیسے اتنے ہیں کہ شمار بھی نہیں ہے
25:19دولت اتنی ہے
25:20کہ پتہ بھی نہیں ہے کہاں کہاں پڑی ہوئی ہے
25:22تو اتمنان دولت میں نہیں ہے
25:24اللہ پر راضی ہو جانے میں
25:27اللہ تعالیٰ جللہ شانہ دارین کی ساتھیں عطا کرتا ہے
25:30بارگاہ حیزدی میں دعا ہے
25:32کہ اس ماہ منور کی برکتیں
25:36اللہ ہماری زندگیوں میں اتار دے

Recommended