Skip to playerSkip to main content
What is Sophistry? Where did it come from—and why do modern thinkers and politicians still use it? سوفسطائیت کیا ہے؟ اس کی ابتداء کیسے ہوئی؟

In this eye-opening documentary, we dive deep into the history of Sophistry, explore the role of Greek Sophists like Protagoras and Gorgias, and understand why philosophers like Socrates, Plato, and Aristotle strongly opposed them. Learn how sophistry evolved from rhetorical showmanship to a modern-day tool for manipulation, propaganda, and political spin.

🔍 In this video:

Origins of Sophistry in Ancient Greece

Famous Sophists and their teachings

Socratic opposition to Sophistry

Difference between real wisdom and rhetorical trickery

Modern-day examples of sophistry in politics, media, and advertising

If you're a fan of philosophy, critical thinking, or just curious about how language can deceive, this video is for you.
سوفسطائیت# #Sophistry #GreekPhilosophy #Socrates #Plato #CriticalThinking #Fallacies #ModernPolitics #Rhetoric #PhilosophyExplained #LogicVsDeception #HistoryDocumentary

📌 Don’t forget to LIKE, COMMENT, and SUBSCRIBE #HISTORICALS1 for more deep dives into history, philosophy, and human behaviour.

Category

📚
Learning
Transcript
00:00جب سچائی سوال بن جائے جب دلیل انصاف سے بڑھ کر ہو جائے اور جب الفاظ حقیقت کو قید کر لیں
00:09تب جنم لیتا ہے ایک ایسا فلسفہ جسے تاریخ صوفستائیت کے نام سے جانتی ہے
00:17پانچمیں صدی قبل مسیح یونان کا سنہری دور جہاں الفاظ تلوار سے زیادہ خطرناک تھے
00:27اور فلسفیوں کا جنگ کا میدان تھا دلائل کی محفلیں
00:31یہ وہ دور تھا جب علم کا سلطہ ہونے لگا جب سچ قیمت پر بکتا جب قائل کرنا حق سے اہم سمجھا جانے لگا
00:41لیکن پھر اٹھا ایک مرد حق سکرات جس نے جھوٹ کو للکارا اور اپنے جان دے کر دنیا کو بتایا
00:49کہ سچائی صرف جیتنے کا ہنر نہیں بلکہ کھونے کا حوصلہ بھی مانگتی ہے
00:56یہ کہانے ہے علم اور چالہ کی ہی حق اور دلیل کی
01:01سوفستائیت اور اس کی مخالفت کی آج کی دنیا پر اس کے اثرات کی
01:08تیار ہو جائیے ہم لے کر آ رہے ہیں وہ فکری جنگ جس نے انسان کے سوچنے کے انداز کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا
01:17سوفستائیت سچائی کا سودہ یا فکری آزادی ایک فیصلہ جو آپ کو خود کرنا ہے
01:24پانچوی صدق ابن مسیح کا یونان خاص طور پریتھن ایک زبردست سیاسی اور تہذیبی انقلاب سے گزر رہا تھا
01:52بہشہت اور شرافیہ کے پرانے نظام کمزور ہو چکے تھے اور ان کی جگہ جمہوری نظام نے لے لی تھی
02:00جہاں عوامی خطابت مناظرے اور عدالتوں میں دلیل سے بات منوانے کی اہمیت بڑھ گئی تھی
02:08اب حکومت کا حصہ بننے کے لیے تلوار نہیں بلکہ زبان اقل اور دلیل کی ضرورت تھی
02:16اس لیے ایسے اساتذہ کی ضرورت محسوس ہوئی جو نوجوانوں کو قائل کرنے مناظرہ کرنے اور بحث جیتنے کے فن میں مہر بنا سکیں
02:25یہی وہ موقع تھا جب صوفستائی استاد میدان میں آئے
02:30صوفستائیت ایک قدیم یونانی فکری مکتبہ فکر ہے جو خاص طور پر پانچویں صدی قبل مسیح میں ایتھنز کے شہری ریاستی نظام میں ابرا
02:44اس فلسفے کی بنیاد ایسے اساتذہ اور مفکرین رکھی جو خود کو صوفستائی یعنی دانشور یا حکمت کے استاد کہلواتے تھے
02:55صوفستائی در اصل تعلیم یافتہ اور فساحت و بلغت میں مہر افراد تھے
03:02جو عوامی مجالس عدالتوں اور جمہوری موائسوں میں قائل کرنے کی فنکاری سکھتے تھے
03:08وہ پیسے کی عوض تعلیم دیتے اور اپنے شاگردوں کو دلائل کے ذریعے
03:13دوسروں پر برتری حاصل کرنے کے گرد سکھاتے
03:16ان کا مقصد سچائی کی تلاش نہیں بلکہ قائل کرنا جیتنا اور سماجی کامیابی حاصل کرنا تھا
03:30صوفستائی کی اسطلاح سب سے پہلے جس شخص نے اپنے آپ کو صوفستائی کہہ لیا
03:38اور وہ قوم کے سامنے معلم فضیلت کی حیثیت سے آیا
03:42افلاتون کے نزدیک پروٹا گورس تھا جو چار سو اسی میں ابڈیا میں پیدا ہوا
03:48صوفستائی فلسفہ کا اصل میور یہی تھا کہ علم سچائی اور خلاقیات مطلق نہیں
03:58بلکہ انسانی تجربے اور حالات کے تابعے ہیں
04:01یعنی ہر انسان سچائی کا پیمانہ خود ہے
04:04یہ نظریہ پروٹا گورس جیسے مشہور صوفستائی فلسفی کے اس قول سے ظاہر ہوتا ہے
04:11کہ انسان ہر چیز کا پیمانہ ہے
04:15اس قول کا مطلب یہ ہے کہ کوئی چیز اچھی ہے یا بری سچی ہے یا جھوٹی
04:20اس کا انحصار انسان کی رائے حص اور سیاک و سباک پر ہوتا ہے
04:26اس نظریہ نے یونانی معاشرے میں ایک نئی فکری لہر پیدا کی
04:30کیونکہ اس سے یہ سوال پیدا ہوا
04:33کہ اگر سچائی متغیر ہے
04:35تو پھر انصاف، مذہب، قانون اور اخلاقیات کی بنیادیں کیا ہیں
04:40اسی فلسفے کو آگے بڑھاتے ہوئے
04:43گور گیاس نے یہ دعویٰ کیا کہ کچھ بھی وجود نہیں رکھتا
04:47اگر کچھ ہے بھی تو وہ نقابل فہم ہے
04:49اور اگر قابل فہم ہے تو وہ نقابل ابلاغ ہے
04:53اس قسم کی سوچ نے علم اور حقیقت کے معروضی میارات کو چیلنج کیا
04:58اور فکری بد اعتمادی یا سکیپٹس ازم کو فروغ دیا
05:03صوفستائیت کا ظہور ایک ایسے دور میں ہوا
05:10جب یونان میں جمہوری نظام مضبوط ہو رہا تھا
05:14اور عوام خطابت و مناظروں کی اہمیت بڑھ گئی تھی
05:17صوفستائیت نوجوانوں کو قائل کرنے کے فن میں تربیت دیتے تھے
05:22تاکہ وہ سیاسی میدان میں کامیاب ہوں
05:24تاہم ان کے نظریات کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا
05:28خاص طور پر افلاتون اور سکرات جیسے مفکرین کے جانب سے
05:33سکرات کا معنی تھا کہ سچائی اور اخلاقیات کے مطلق اصول موجود ہیں
05:43اور انسان کی ذمہ داری ہے کہ وہ غور و فکر اور مقالمے کے ذریعے ان کا ادراک کرے
05:49سکرات نے صوفستائیوں پر الزام لگایا
05:52کہ وہ علم کی جگہ محس چالاکی لفظی گیمز اور دھوکہ دئی کو فروغ دے رہے ہیں
05:58وہ یہ سمجھتے تھے کہ سچائی کو کسی بھی وقت کے حالات
06:02یا انسان کی رائے پر منحصر نہیں ہونا چاہیے
06:05بلکہ اس کی تلاش انسان کا اصل مقصد ہونا چاہیے
06:09افلاتون نے اپنی تحریروں میں صوفستائیوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا
06:15اور ان کے طرز فکر کو فکری احنیتات قرار دیا
06:18اس کے مشہور مقالمے جیسے گورگیاس اور پروٹا گورس میں
06:23افلاتون نے صوفستائیوں کو سکرات کے مقابل کھڑا کیا
06:27اور ان کے دلائل کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کی
06:30افلاتون کے مطابق صوفستائی سچائی کے دشمن ہیں
06:34کیونکہ وہ بحث کو ایک کھیل کا یا طاقت کا مظاہرہ سمجھتے ہیں
06:38نہ کہ حق کی تلاش کا ذریعہ
06:40ارستو نے بھی صوفستائیوں پر تنقید کی
06:43اور منطق استدلال اور معروضی علم کی بنیاد رکھی
06:47جو بعد میں مغربی فلسفے کی بنیاد بنا
06:50صوفستائیت کا اثر صرف یونان تک محدود نہیں رہا
06:54بلکہ اس کی اصرات پورے مغربی فکری ورسے پر پڑے
06:58ایک طرف اس نے انسان کو مرکزیت دی
07:02اور فکری ازاد روی کو جنم دیا
07:04اور دوسری طرف اس نے نسبیت شک اور لفظی چالاکی کو فروغ دے کر
07:10فکری انتشار بھی پیدا کیا
07:13یورپو میں نشات سانیاں اور بعد ازاں روشن خیالی کی دور میں
07:22صوفستائی طرز فکر کی بازگشت سنائی دی
07:25جہاں فرد کو علم و فہم کا پیمانہ کرا دیا گیا
07:29اسی طرح آج کی دنیا میں میڈیا، سیاست اور قانونی نظام میں
07:34صوفستائی طریقہ کار یعنی دلائل کے ذریعے قائل کرنا
07:37الفاظ کا استعمال اور سچائی کو مخصوص زاویے سے دکھانا عام نظر آتا ہے
07:47ماباد جدیدیت میں بھی صوفستائی فلسفے کی جلک ملتی ہے
07:52جہاں یہ مانا جاتا ہے کہ سچائی مطلق نہیں
07:55بلکہ ہر فرد یا معاشرے کی تعمیر کرتا ہے
07:58البتہ اس کے ساتھ یہ سوال بھی زندہ رہتا ہے
08:02کہ اگر ہر چیز نسبتی ہے تو پھر انصاف، قانون اور انسانی وقار کی بنیادیں
08:08کیسے قائم کی جائیں؟
08:10یہ وہ سوال ہے جو آج بھی فلسفے، اخلاقیات اور سماجی علوم میں زندہ ہے
08:14اس طرح صوفستائیت نہ صرف قدیم یونان کا ایک فکری رجحان تھی
08:20بلکہ اس نے انسانی فکر کی بنیادوں کو چیلنج کر کے
08:25ایک ایسا باب کھولا جو آج تک بند نہیں ہوا
08:29سکرات، افلاتون اور ارستو کی مخالفت کے باوجود
08:33صوفستائیت نے دنیا کو یہ سکھایا
08:36کہ سوال کرنا، شک کرنا اور دلیل دینا فکری آزادی کی علامت ہے
08:42اگرچہ اسے آزادی کو کس حد تک استعمال کیا جائے
08:46یہ سوال آج بھی قائم ہے
08:48صوفستائیت کے سرات، عدب، سیاست، صحافت اور قانون میں واضح نظر آتے ہیں
08:54جہاں سچائی اکثر قائل کرنے والے کی مہارت پر منحصر ہو جاتی ہے
08:59نہ کہ اس کے حقیقی وجود پر
09:02اس مکتبہ فکر کی یہی اہمیت ہے
09:06کہ اس نے علم، سچائی اور خلاقیات کے وہ بنیادی سوالات اٹھائے
09:11جن کا جواب دینا آج بھی انسان کے لیے ایک مسلسل فکری سفر ہے
09:16موسیقی
Be the first to comment
Add your comment

Recommended