00:00جب سچائی سوال بن جائے جب دلیل انصاف سے بڑھ کر ہو جائے اور جب الفاظ حقیقت کو قید کر لیں
00:09تب جنم لیتا ہے ایک ایسا فلسفہ جسے تاریخ صوفستائیت کے نام سے جانتی ہے
00:17پانچمیں صدی قبل مسیح یونان کا سنہری دور جہاں الفاظ تلوار سے زیادہ خطرناک تھے
00:27اور فلسفیوں کا جنگ کا میدان تھا دلائل کی محفلیں
00:31یہ وہ دور تھا جب علم کا سلطہ ہونے لگا جب سچ قیمت پر بکتا جب قائل کرنا حق سے اہم سمجھا جانے لگا
00:41لیکن پھر اٹھا ایک مرد حق سکرات جس نے جھوٹ کو للکارا اور اپنے جان دے کر دنیا کو بتایا
00:49کہ سچائی صرف جیتنے کا ہنر نہیں بلکہ کھونے کا حوصلہ بھی مانگتی ہے
00:56یہ کہانے ہے علم اور چالہ کی ہی حق اور دلیل کی
01:01سوفستائیت اور اس کی مخالفت کی آج کی دنیا پر اس کے اثرات کی
01:08تیار ہو جائیے ہم لے کر آ رہے ہیں وہ فکری جنگ جس نے انسان کے سوچنے کے انداز کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا
01:17سوفستائیت سچائی کا سودہ یا فکری آزادی ایک فیصلہ جو آپ کو خود کرنا ہے
01:24پانچوی صدق ابن مسیح کا یونان خاص طور پریتھن ایک زبردست سیاسی اور تہذیبی انقلاب سے گزر رہا تھا
01:52بہشہت اور شرافیہ کے پرانے نظام کمزور ہو چکے تھے اور ان کی جگہ جمہوری نظام نے لے لی تھی
02:00جہاں عوامی خطابت مناظرے اور عدالتوں میں دلیل سے بات منوانے کی اہمیت بڑھ گئی تھی
02:08اب حکومت کا حصہ بننے کے لیے تلوار نہیں بلکہ زبان اقل اور دلیل کی ضرورت تھی
02:16اس لیے ایسے اساتذہ کی ضرورت محسوس ہوئی جو نوجوانوں کو قائل کرنے مناظرہ کرنے اور بحث جیتنے کے فن میں مہر بنا سکیں
02:25یہی وہ موقع تھا جب صوفستائی استاد میدان میں آئے
02:30صوفستائیت ایک قدیم یونانی فکری مکتبہ فکر ہے جو خاص طور پر پانچویں صدی قبل مسیح میں ایتھنز کے شہری ریاستی نظام میں ابرا
02:44اس فلسفے کی بنیاد ایسے اساتذہ اور مفکرین رکھی جو خود کو صوفستائی یعنی دانشور یا حکمت کے استاد کہلواتے تھے
02:55صوفستائی در اصل تعلیم یافتہ اور فساحت و بلغت میں مہر افراد تھے
03:02جو عوامی مجالس عدالتوں اور جمہوری موائسوں میں قائل کرنے کی فنکاری سکھتے تھے
03:08وہ پیسے کی عوض تعلیم دیتے اور اپنے شاگردوں کو دلائل کے ذریعے
03:13دوسروں پر برتری حاصل کرنے کے گرد سکھاتے
03:16ان کا مقصد سچائی کی تلاش نہیں بلکہ قائل کرنا جیتنا اور سماجی کامیابی حاصل کرنا تھا
03:30صوفستائی کی اسطلاح سب سے پہلے جس شخص نے اپنے آپ کو صوفستائی کہہ لیا
03:38اور وہ قوم کے سامنے معلم فضیلت کی حیثیت سے آیا
03:42افلاتون کے نزدیک پروٹا گورس تھا جو چار سو اسی میں ابڈیا میں پیدا ہوا
03:48صوفستائی فلسفہ کا اصل میور یہی تھا کہ علم سچائی اور خلاقیات مطلق نہیں
03:58بلکہ انسانی تجربے اور حالات کے تابعے ہیں
04:01یعنی ہر انسان سچائی کا پیمانہ خود ہے
04:04یہ نظریہ پروٹا گورس جیسے مشہور صوفستائی فلسفی کے اس قول سے ظاہر ہوتا ہے
04:11کہ انسان ہر چیز کا پیمانہ ہے
04:15اس قول کا مطلب یہ ہے کہ کوئی چیز اچھی ہے یا بری سچی ہے یا جھوٹی
04:20اس کا انحصار انسان کی رائے حص اور سیاک و سباک پر ہوتا ہے
04:26اس نظریہ نے یونانی معاشرے میں ایک نئی فکری لہر پیدا کی
04:30کیونکہ اس سے یہ سوال پیدا ہوا
04:33کہ اگر سچائی متغیر ہے
04:35تو پھر انصاف، مذہب، قانون اور اخلاقیات کی بنیادیں کیا ہیں
04:40اسی فلسفے کو آگے بڑھاتے ہوئے
04:43گور گیاس نے یہ دعویٰ کیا کہ کچھ بھی وجود نہیں رکھتا
04:47اگر کچھ ہے بھی تو وہ نقابل فہم ہے
04:49اور اگر قابل فہم ہے تو وہ نقابل ابلاغ ہے
04:53اس قسم کی سوچ نے علم اور حقیقت کے معروضی میارات کو چیلنج کیا
04:58اور فکری بد اعتمادی یا سکیپٹس ازم کو فروغ دیا
05:03صوفستائیت کا ظہور ایک ایسے دور میں ہوا
05:10جب یونان میں جمہوری نظام مضبوط ہو رہا تھا
05:14اور عوام خطابت و مناظروں کی اہمیت بڑھ گئی تھی
05:17صوفستائیت نوجوانوں کو قائل کرنے کے فن میں تربیت دیتے تھے
05:22تاکہ وہ سیاسی میدان میں کامیاب ہوں
05:24تاہم ان کے نظریات کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا
05:28خاص طور پر افلاتون اور سکرات جیسے مفکرین کے جانب سے
05:33سکرات کا معنی تھا کہ سچائی اور اخلاقیات کے مطلق اصول موجود ہیں
05:43اور انسان کی ذمہ داری ہے کہ وہ غور و فکر اور مقالمے کے ذریعے ان کا ادراک کرے
05:49سکرات نے صوفستائیوں پر الزام لگایا
05:52کہ وہ علم کی جگہ محس چالاکی لفظی گیمز اور دھوکہ دئی کو فروغ دے رہے ہیں
05:58وہ یہ سمجھتے تھے کہ سچائی کو کسی بھی وقت کے حالات
06:02یا انسان کی رائے پر منحصر نہیں ہونا چاہیے
06:05بلکہ اس کی تلاش انسان کا اصل مقصد ہونا چاہیے
06:09افلاتون نے اپنی تحریروں میں صوفستائیوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا
06:15اور ان کے طرز فکر کو فکری احنیتات قرار دیا
06:18اس کے مشہور مقالمے جیسے گورگیاس اور پروٹا گورس میں
06:23افلاتون نے صوفستائیوں کو سکرات کے مقابل کھڑا کیا
06:27اور ان کے دلائل کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کی
06:30افلاتون کے مطابق صوفستائی سچائی کے دشمن ہیں
06:34کیونکہ وہ بحث کو ایک کھیل کا یا طاقت کا مظاہرہ سمجھتے ہیں
06:38نہ کہ حق کی تلاش کا ذریعہ
06:40ارستو نے بھی صوفستائیوں پر تنقید کی
06:43اور منطق استدلال اور معروضی علم کی بنیاد رکھی
06:47جو بعد میں مغربی فلسفے کی بنیاد بنا
06:50صوفستائیت کا اثر صرف یونان تک محدود نہیں رہا
06:54بلکہ اس کی اصرات پورے مغربی فکری ورسے پر پڑے
06:58ایک طرف اس نے انسان کو مرکزیت دی
07:02اور فکری ازاد روی کو جنم دیا
07:04اور دوسری طرف اس نے نسبیت شک اور لفظی چالاکی کو فروغ دے کر
07:10فکری انتشار بھی پیدا کیا
07:13یورپو میں نشات سانیاں اور بعد ازاں روشن خیالی کی دور میں
07:22صوفستائی طرز فکر کی بازگشت سنائی دی
07:25جہاں فرد کو علم و فہم کا پیمانہ کرا دیا گیا
07:29اسی طرح آج کی دنیا میں میڈیا، سیاست اور قانونی نظام میں
07:34صوفستائی طریقہ کار یعنی دلائل کے ذریعے قائل کرنا
07:37الفاظ کا استعمال اور سچائی کو مخصوص زاویے سے دکھانا عام نظر آتا ہے
07:47ماباد جدیدیت میں بھی صوفستائی فلسفے کی جلک ملتی ہے
07:52جہاں یہ مانا جاتا ہے کہ سچائی مطلق نہیں
07:55بلکہ ہر فرد یا معاشرے کی تعمیر کرتا ہے
07:58البتہ اس کے ساتھ یہ سوال بھی زندہ رہتا ہے
08:02کہ اگر ہر چیز نسبتی ہے تو پھر انصاف، قانون اور انسانی وقار کی بنیادیں
08:08کیسے قائم کی جائیں؟
08:10یہ وہ سوال ہے جو آج بھی فلسفے، اخلاقیات اور سماجی علوم میں زندہ ہے
08:14اس طرح صوفستائیت نہ صرف قدیم یونان کا ایک فکری رجحان تھی
08:20بلکہ اس نے انسانی فکر کی بنیادوں کو چیلنج کر کے
08:25ایک ایسا باب کھولا جو آج تک بند نہیں ہوا
08:29سکرات، افلاتون اور ارستو کی مخالفت کے باوجود
08:33صوفستائیت نے دنیا کو یہ سکھایا
08:36کہ سوال کرنا، شک کرنا اور دلیل دینا فکری آزادی کی علامت ہے
08:42اگرچہ اسے آزادی کو کس حد تک استعمال کیا جائے
08:46یہ سوال آج بھی قائم ہے
08:48صوفستائیت کے سرات، عدب، سیاست، صحافت اور قانون میں واضح نظر آتے ہیں
08:54جہاں سچائی اکثر قائل کرنے والے کی مہارت پر منحصر ہو جاتی ہے
08:59نہ کہ اس کے حقیقی وجود پر
09:02اس مکتبہ فکر کی یہی اہمیت ہے
09:06کہ اس نے علم، سچائی اور خلاقیات کے وہ بنیادی سوالات اٹھائے
09:11جن کا جواب دینا آج بھی انسان کے لیے ایک مسلسل فکری سفر ہے
09:16موسیقی
Comments