00:00بسم اللہ الرحمن الرحیم عن حزیفة رضی اللہ تعالی عنہ قال
00:05قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم في الحديث
00:09وَلَا تَشْرَبُوا فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَلَا تَأْكُلُوا فِي صِحَافِهَا فَإِنَّهَا لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَلَنَا فِي الْآخِرَةِ
00:19رواح البخاری
00:21نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
00:25سونے اور چاندی کے برطنوں میں مت پیو اور نہ ان کی پلیٹوں میں کچھ کھاؤ
00:31کیونکہ یہ چیزیں ان کفار کے لیے دنیا میں ہیں اور ہمارے لیے آخرت میں ہیں
00:36سیدہ ام سلامہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان فرماتی ہیں
00:41نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
00:44الَّذِي يَشْرَبُوا فِي اِنَا الْفِضَّةِ
00:48وہ شخص جو چاندی کے برطنوں میں پیتا ہے
00:51اِنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَعْرَ جَهَنَّمْ
00:55یہ شخص اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ کو بھڑکا رہا ہے
00:59دوستو
01:01پینے کے آداب کو بیان کیا جا رہا ہے
01:05ان میں سے ایک اہم عدب یہ ہے
01:07کہ کسی بھی چیز کو کھانا یا پینا
01:10سونے اور چاندی کے برطنوں میں جائز نہیں ہے
01:13حرام ہے
01:14چونکہ یہ تکبر کی علامت ہے
01:17اور تکبر سے شریعتِ متحرہ نے منع کیا ہے
01:20اور خاص طور پر کھانے کے پینے کے معاملات میں
01:24آجزی اور انکساری کا حکم دیا گیا ہے
01:26اس لئے حکم دیا گیا ہے
01:28بیٹھا بھی آجزی کے ساتھ جائے
01:30تو اگر کوئی آدمی سونے اور چاندی کے برطنوں میں کھا رہا ہے
01:33تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ تکبر کر رہا ہے
01:36اور تکبر سے شریعت نے منع کیا ہے
01:38اور دوسری وجہ یہ بھی ہے
01:41کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
01:43کہ یہ سونے اور چاندی کی چیزوں کا استعمال
01:46یہ کفار کے لیے دنیا میں ہے
01:48ہمارے لیے تو اللہ نے ان چیزوں کا استعمال آخرت میں رکھا ہے
01:52اس لئے تکبر سے ہمیں بچنا چاہیے
01:55آجزی اور انکساری اختیار کرنی چاہیے
01:59السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
Comments