00:00حضرت علی کی شہادت کے بعد حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی 6 مہینے تقریباً خلافت رہی ہے
00:07حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے امت میں جوڑ پیدا کرنے کے لیے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے سلو کر لی
00:18اور خلافت سے دسبردار ہو کر حضرت معاویہ کے ہاتھ پر بیعت ہو گئے
00:25لوگوں نے حضرت حسن سے یہ کہا کہ یہ تو آر اور ذلت کی بات ہے
00:31کہ آپ کے والد نے جس کے خلاف دو جنگے لڑیوں
00:34تو آپ اپنے والد کی جس سے دشمنی رہی ہو بیٹا اس سے بیعت ہو رہا ہے
00:40حضرت حسن اہل بیعت میں سے ہے
00:42حضرت حسن بیعت ہو گئے کس کے ہاتھ پر
00:46حضرت معاویہ
00:48لوگوں نے کہا یہ آر اور ذلت کی بات ہے
00:51تو حضرت حسن کے وہ تاریخی الفاظ ہیں
00:54کہ میں دنیا کی ذلت کو جہنم کی آگ پر ترجیح دیتا ہوں
00:59کیا مطلب
01:02میں مسلمانوں کو آپس میں لڑتا ہوا نہیں دیکھ سکتا
01:06میں نہیں لڑتا ہوا دیکھ سکتا
01:09اب کوئی اس بیس پر حضرت علی پہ الزام لگائے
01:12کہ اس کا مطلب وہ لڑتا ہوا دیکھ سکتے تھے
01:14بھئی ان کا جو موقف تھا جو ان کی سمجھ میں آیا وہ انہوں نے کیا
01:18حضرت حسن کا موقف اپنے والد کے موقف سے
01:20مختلف تھا یہ اختلاف رائے ہو سکتا ہے
01:24ان کا موقف یہ تھا
01:26کہ بھئی حضرت معاویہ حکومت کے اہل ہو یا نہ ہو
01:29یہ ایک الگ بحث ہے
01:30اگر میں ان کے مقابلے میں متوازی حکومت قائم کروں گا
01:34تو پھر مطالبہ ہوگا حضرت عثمان کے قاتل سے قصاص
01:37جو کہ ممکن نہیں ہے
01:39اور پھر یہ لڑائی آگے چلے گی
01:41بہتر ہے کہ دسبردار ہو جاؤ
01:43کہ حضرت آپ ہمارے خلیفہ ہیں
01:44آپ ہمارے امیر ہیں
01:46کہ حسن نے سلح کی تھی
01:48لہٰذا
01:50شیعوں کو بھی چاہیے
01:52کہ اس بندے کے ساتھ نرم رویہ رکھیں
01:55اس لیے کہ حسن نے سلح کی تھی
01:57لفظ سلح بتاتا ہے
01:59کہ کبھی جنگ تھی
02:01کبھی دوستی پہ تو سلح نہیں ہوئی
02:08سلح ہمیشہ دشمنی پہ ہوتی ہے
02:11سلح ہم بعد میں دیکھیں گے
02:14پہلے تو اتنا تو ماندھر دشمنی تھی
02:16تو اسی وجہ سے سلح ہوئی
02:20اور جس کے دل میں لمحے کے لیے
02:21بھی ان کی دشمنی آئی ہو
02:23اس نے مولا امام حسن علیہ السلام سے
02:29امام حسن نے سلح کی نہیں
02:31امام حسین
02:33امام حسن سے سلح کی گئی
02:35جیسے حسین جنگ کی نہیں
02:37امام حسین سے جنگ کی گئی
02:42مولا امام حسن علیہ السلام کو
02:44خود حاکم نے کاغذ اور کلم بھیجا
02:46کہ شرطِ طولک مانہم لیتے ہیں
02:50جب کاغذ کلم حسن کے پاس آئی
02:53حسن تو پہلی جنگ جیت گئی
02:55جو جاگ رہا ہے اس کا تو میں زامن نہیں ہو
03:00جو ہی کاغذ کلم حسن کے ہاتھ پہ آیا
03:03حسن نے کاغذ کلم لے کے نانا کی قبر کے طرف دیکھا
03:05دیکھ نانا تیرا بیٹا جنگ جیت گیا ہے
03:08یہ وہی نہیں جن سے تُو نے مانگا تھا
03:10اور ارکار ہوا تھا
03:11تُو نے کہا تھا
03:16اور آج دیکھا آگذ کلم
03:19میرے دروازے پہ آگیا
03:21امام حسن علیہ السلام نے
03:23تو سلح کی پہلی شرط لکھی
03:25لاہور میں میں پہلی شرط پڑھنے لگا
03:27یہ شرط نہیں تھی
03:30یہ حسن کے لڑنے کا طریقہ تھا
03:32امام حسن نے تلوار نہیں اٹھائی
03:37کلم کے ساتھ جنگ کی
03:39اتنا گہرا زخم دیا
03:42ملوکیت کو
03:43کہ آج تک ملوکیت
03:46حسن کا دیا ہوا زخم
03:48بھر نہیں رہی
03:49کہ آج زخم دیا
03:51امام حسن نے پہلی شرط کا لکھی
03:53جو نوجوان بچے بیٹھے
03:55امام حسن کا پہلی شرط
03:57آج کے بعد حاق میں شنت
04:00قرآن اور سنت پہ عمل کرے گا
04:02آج کے بعد یہ لکھ ہے
04:10یہ قرآن اور سنت پہ عمل کرے گا
04:12اگر یہ پہلے کرتا تھا
04:14تو اس نے شرط کیوں مانی
04:16یہ کہہ دیتا
04:20کہ حسن میں تو پہلے بھی
04:21قرآن اور سنت پہ عمل کرتا
04:23امام حسن نے کہا لکھ
04:24تو قرآن اور سنت پہ عمل کرے گا
04:27قریب بیٹھا ہوا تھا
04:29اس کا مشیر
04:29اور مشیر بھی اس کے ایسے ہی ہوتے تھے
04:33کہ جنگ سفین میں
04:34اس نے اپنے خیمے میں بیٹھ کے
04:36عمر بن آس سے شرط لگا لی تھی
04:38یزید کے باپ نے کہا
04:41کہ زیادہ میں ذہین ہوں
04:42عمر بن آس نے کہا زیادہ ذہین میں ہوں
04:45اس نے کہا تیرا مشورہ نہ بھی ہو
04:47تو میں حکومت چلا سکتا
04:48اس نے کہا تُو میرے مشورے کے بغیر
04:50حکومت نہیں چلا سکتا
04:51تاریخ کہتی ہے کہ دونوں میں شرط ہو گئے
04:54کہ ذہین زیادہ کون ہے
04:56عمر بن آس نے کہا
04:57چل میں تجھے ایک بات بتاتا
04:59وہ کان میرے قریب کا
05:00اس نے کان قریب کیا
05:01اس نے کہا تُو جیسا بے فکوف کون ہوگا
05:03خیمے میں تیرے میرے سوا ہے
05:05کوئی نہیں
05:05جہاں اکل کے فیصلے ایسے ہوتے ہوں
05:13وہاں حجت کا مقابلہ کیسے ہو سکتا
05:16آج کے بعد تُو قرآن اور سنت پر عمل کرے گا
05:21قریب بیٹھا ہوا تھا اس کا مشہیر
05:24اس نے یزید کے باپ سے کہا
05:26اس نے رکھ میں نام نہیں نوں گا
05:29میں صرف یزید کا باپ بھی کہوں گا
05:31سائیکل چور کو بھی پولیس والے پکڑ لیں
05:38تو کان سے پڑے پہلا سوال کرتے ہیں
05:40کس کا بیٹا ہے
05:41میرا خیال ہے کہ ان کے لئے سب سے بڑی موت ہی یہ ہے
05:50جب قیامت والدین فریش نے کان سے پڑے پھوچھیں گے
05:53بتا کس کا بیٹا ہے
05:54آج کے بعد
05:59تُو قرآن اور سنت پر عمل کرے گا
06:02عمر نے کہا ایک شرط تُو بھی لکھوا دے
06:05میں ہسٹری آپ کے زامنے پڑھ رہا ہوں
06:08اسے کہا ایک شرط حسن تُو نے لکھی
06:11ایک ہم لکھوائیں
06:12امام حسن مسکرہ کا لکھوائیں
06:15اسے کہا لکھ شرط
06:17کہ صرف قرآن اور سنت پر عمل نہیں ہوگا
06:20سیرت شیخین پر بھی عمل ہوگا
06:21سیرت شیخین جو پہلی خلافتوں کا دور گزرا تھا
06:26ان پر بھی عمل ہوگا
06:28یہ شرط کہیں نہیں تھی
06:30امام حسن کے چہرے پر مسکرہ ہٹائیں
06:32اس نے کہا حسن ہم نے تیری شرط مانی
06:35تو ہماری شرط کیوں نہیں مان رہا
06:36امام حسن نے کہا لکھ دو
06:38کتنا بریک جملہ آنے لگا ہے
06:45میں ابھی سماعتوں کا امتحان لوں گا
06:47کون بند ہے جو سہنی طور پر مائلنس میں بیٹھا ہے
06:50مغدوم ناصر جدی
06:50امام حسن نے کہا لکھ دو شرط
06:52اسے کہا لکھ میں لکھوا رہا ہوں
06:55کہ ان کی سیرت پر بھی عمل ہوگا
06:57امام حسن نے کہا دیکھ لے میں لکھنے لگا ہوں
07:00یہ شرط تو نے لکھوا ہی ہے
07:02مجھے کہا ہاں میں نے لکھوا ہی ہے
07:03امام حسن نے کہا لکھ دے کر یہ کہتے ہیں
07:06یہ تظریف کر گئے ہیں
07:07سیرت شہر پر عمل ہوگا
07:09جب میں نے قرآن اور سنت والی شرط لکھ دی تھی
07:12تو دوسری سیرت لکھوانے کی ضرورت ہی نہیں تھی
07:15انہوں نے خود تظریف کر لیا
07:16کہ وہ بھی قرآن اور سنت پر عمل نہیں کرتے تھے
07:20بولو جو حسن کے لکھر بھی
07:24اگر ان کی سیرت
07:28اگر ان کی سیرت
07:34قرآن اور سنت کے مطابق تھی
07:37تو الہیدہ شرط لکھوانے کی ضرورت ہی نہیں
07:40حاکم کے چہرے پہ موت کا پسیمہ آیا
07:44امام حسن نے کہا میری بار ہی ہے
07:47اگر ان شرط میں لکھوانگا
07:48حسن نے کہا پھر اس شرط کے بعد میں
07:50کوئی شرط نہیں لکھوانگا
07:52حاکم نے کہا لکھوانا آخری شرط کونشی لکھوانا چاہتا ہے
07:55امام حسن کے چہرے پہ علی والا جلال آیا
07:57پھر میں تیسری شرط لکھنگا
07:59تغطات چاہیئے نہ
08:00اٹھاؤ تغطات
08:01آج کے بعد کوئی کتہ
08:03منپر میں میرے باپ علی کو نہیں بھاکے گا
08:06اٹھاؤ
08:10لے جاؤ اپنی حکومت
08:13آج کے بعد کوئی نہیں
08:17میرے باپ علی کو نہیں بھونکے
08:21اس نے ایک دور جناب حسن کو اپنے دربار میں بلایا
08:26دربار میں بلا کے اس نے
08:27سارے اپنے ہواریوں سے کہا
08:29آج بلاؤں گا میں حسن کو دعوت پہ
08:31دعوت ہوگی کھانے کے
08:32تم نے کرنی ہے ہمارے اباؤ اجداد کی تعریف
08:36سات مندے بٹھائے اس نے دستر خان پہ
08:39نام مجھے یاد ہیں
08:42لے اس لیے نہیں رہا کہ
08:49ولدیت کا فرم نہیں
08:50نام تاریخ میں لکھے
08:58سات مندے دستر خان پہ بلا کے دناب حسن کو بلا لی
09:04میرا کریم شہنشاہ دربار میں آیا
09:07اس سے پہلے قسم دلوائی لوگوں سے
09:11ایک بھی بندہ جناب حسن کی عزت کے لیے اٹھے گا نہیں
09:14صرف میرے اباؤ اجداد کی تعریف کرو گے
09:18جتنا ہو سکے علی کی توہین کرنی ہے
09:21جتنا ہو سکے اہلِ بیعت کی توہین کرنی ہے
09:24امام حسن کا پہلا قدم دربار میں آیا ہے
09:27ایک لمحے کے لیے اپنے آپ کو جگانا میں تمہیں حسن سنوں
09:32ادھر امام حسن کا پہلا قدم دربار میں آیا ہے
09:35حالت کیا ہے
09:35سر پہ رسول والا امامہ
09:37کاندھے پہ حاشم والی دستار
09:43صلف کارِ حیدری کو نیام میں لیے ہوئے
09:47عبد المطلب کی عبا پہنے ہوئے
09:53انگوشتری سلیمان کو ہاتھوں پہ لیے ہوئے
09:56حسن کا پہلا قدم دربار میں آیا
09:59ابھی یہ بندے ساتھ نہیں اٹھے
10:02یا حاک میں شام اٹھ کے کھڑا ہو گیا
10:04حاک میں شام کا اٹھ کے کھڑا ہونا تھا
10:06ساتھ بندوں نے کہا
10:07ہم سے تُو نے قسمیں لی تھی
10:09کہ تُو نے کھڑے نہیں ہونا
10:10اور تُو حسن کے احترام میں کھڑا ہو گیا
10:13اسے کا قسم ہے اس خدا کی
10:15جو ہی حسن نے پہلا قدم دربار میں رکھا
10:17حسن کے پیچے میں نے دیوں کو آتے ہوئے دیکھا
10:20جس کے ہاتھ میں آگ کا تازی آنا تھا
10:23اس نے میرا کار بڑا اٹھ
10:25حسن کے احترام ہے
10:36جس کے لئے دیکھا
10:37جس کے لئے دیکھا
10:39جس کے لئے دیکھا
Comments