معروف صحافی آصف محمود نے اپنی کتاب ”پسِ قانون: پاکستانی قانون پر باطانوی نوآبادیاتی اثرات “میں ٹھوس دلائل اور تاریخی شواہد کی روشنی میں یہ مقدمہ قائم کیا ہےکہ پاکستان کا عدالتی، انتظامی اور تعلیمی ڈھانچہ برطانوی نوآبادیاتی دورکا تسلسل ہے۔ چونکہ یہ نظام انگریزنے یہاں کے لوگوں کو غلام رکھنے کے لئے بنایا تھا، اِس لئے یہ نظام ایک آزاد اور باوقار معاشرے کو پیدا کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتا ۔ اِس نظام نے ہمیں اپنی مسلم تاریخ سے متنفر کر کے احساس ِکمتری اور ذہنی پستی کا شکار بنا دیا ہے۔ ایک منصفانہ اور ترقی پسند معاشرے کی تشکیل کے لئے ہمیں سب سے پہلے مرعوبیت اور جہالت سے نکل کر اپنی تاریخ کا از سر نو جائزہ لینا ہوگا تاکہ ہم کھرے کو کھوٹے سے الگ کرسکیں۔ شعوری بیداری کا یہ عمل ہمیں اپنے قانونی،انتطامی اور تعلیمی نظام میں بنیادی نوعیت کی انسان دوست تبدیلیاں کرنے کےقابل بنا سکے گا۔
ویڈیو میں کتاب کے اہم نکات قارئین کے سامنے پیش کئے گئے ہیں۔
Comments