Skip to playerSkip to main content
  • 7 years ago
آئے ہو تو مرضی سے تم جا سکتے ہو
اور چاہو تو مڑ کر واپس آ سکتے ہو

دور اداسی کرنی ہو تو شوق سے تم
کمرے میں میری تصویر لگا سکتے ہو

یہ اندھوں کا کھیل ہے پیارے تم اس میں
با آسانی ہر کردار نبھا سکتے ہو

آڑھی ترچھی چند لکیریں کھینچ کے تم
کاغذ پر کوئی شہکار بنا سکتے ہو

میں نے جو کچھ کہنا تھا سب کہہ ڈالا
یعنی اب تم اپنی بات سنا سکتے ہو

صفیہ چوہدری
Comments

Recommended