دو عاشقوں کی کہانی کتابوں میں لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں جب آقا مدینے ﷺ کے فضائل وکمالات سنے ، اُس دَورمیں ایک بندہ تھا، اُس کا عشق تھا، وہ صحابی تھا حضرت عیسی علیہ السلام کا، اُس نے حضرت عیسی علیہ السلام سے عرض کیا کہ میرا جی چاہتا ہے کہ ان آنکھوں سے حضورپاک ﷺ کا دیدار کروں ، آپ میری درازی عمر کی دعامانگیں۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ کاامرہے کہ تمہاری دُعا قبول ہوگی، مگرتمہیں سانپ بن کررہنا ہوگا انسان بن کرنہیں ۔ اس نے کہا مجھے یہ قبول ہے ۔ اور تو آقا ﷺ کا دیدارکرے گا اورضرور کرے گا۔ جب حضورﷺ غارتشریف لے جانے لگے تو صدیق اکبرؓ نے ساری کی ساری چادرپھاڑکرسوراخ بندکیے صرف ایک سوراخ باقی رہ گیا۔ اُس سوراخ سے اُس نے جھانکا اور جب آقاﷺ اندرتشریف لائے توصدیق اکبرؓ وہاں بیٹھیں اوراپنا زانو دیا اورعرض کی یارسول اللہ ﷺ آپ اپنا سرمبارک اس زانوپررکھ کرآرام فرمائیں آپ تھکے ہوئے ہیں ۔ تھکا توصدیقؓ تھا، حضورﷺ تونہیں تھکے تھے۔ لیکن عشق کہتا ہے کہ پھول کہیں کملا نہ جائے۔ کندھوں پراُٹھایاتھا۔ عشق کی داستان بھی عجیب ہے ۔ آپ ﷺ سرمبارک یہاں رکھیں اور آرام فرمائیں اور اس سوراخ کو دیکھا جو باقی رہ گیا تھا ، چادرختم ہوگئی تھی صرف تہبند باقی تھا اُوپراوڑھنے والی چادر توختم ہوگئی تھی۔ اُدھروہ دیدارکررہا صدیوں سے بیٹھاسانپ کی شکل میں دیدارکررہا ۔ انتظارکررہا اور دیدار کر رہا اور اس دیدارکے عالم میں آقاﷺ کا سرمبارک اپنے زانوں پر رکھا۔اورایڑی دے دی اُس سوراخ پر اور وہ جو دیدارکامزہ لے رہا تھا ، اوردیدارکے نشے سے چورتھا اوراس نے یوں ڈسا کہ ہٹا ایڑی اوردیدارکرنے دے۔ اس دیدارکو صدیوں سے ترس رہا تھا۔ یہ ایڑی نہیں ہٹا رہا، پتاچل گیا تھا کہ سانپ نے ڈس لیا ہے ۔ عجیب اورانوکھی بات بتاؤں ، صدیق اکبرؓ ڈرکرنہیں رُوئے ، گھبراکرنہیں روئے، اچانک ذہن میں بات آئی، سانپ سے مرجاتا ہے بندہ، میں مرگیا تو یارتنہا رہ جائے گا۔ عشق ختم ہوگیا۔ میرے مدینے والے ﷺ تنہا رہ جائیں گے، ان کو کون سنبھالے گا ان کاساتھی کون بنے گا۔ ہرشخص نے ہاتھوں میں سنگ، پتھر، تیراوربھالے اورجاسوس چھوڑ رکھے ہیں ۔ یہ درد تھا جس نے صدیق اکبرؓ کورُولایاتھا ۔ سانپ کے ڈسنے نے نہیں رُولایاتھا۔ اُدھروہ (سانپ) کہتا ہے کہ میں صدیوں سے منتظرہوں ابھی جی نہیں بھرکیوں جب عشق پیاسا ہو تو بارباردیکھنے سے بھی جی نہیں بھرتا۔ اُدھرکہتا ہے کہ دیدار کے لیے چورہوں ، جب عشق زیادہ ہوتو جی نہیں بھرتا، اپنا پاؤں ہٹا ڈنگ پرڈنگ ماررہا ۔ وہ سانپ نہیں تھا دو عاشقوں کی لڑائی تھی ہاں لیکن عیسی علیہ السلام کا عاشق ہارگیا، مدینے والے کا عاشق جیت گیا۔کملی والے کا عاشق اس لیے جیتا کہ اس نے قیامت تک کیلئے پیغام دیناتھا، ہارجاتا تو قیامت تک کیلئے پیغام ہارجاتا ۔ یہ دیکھو خیال کرنا کہ اگرمدینے والے ﷺ کاعشق کا طوق گلے میں ڈالا ہے تو طعنوں سے کبھی ڈسے جاؤں گے کبھی رواجوں سے ڈسے جاؤں گے، کبھی زندگی کی مشکلوں سے ڈسے جاؤں گے ، کبھی لوگوں کی آہوں سے ڈسے جاؤں گے ۔ کبھی نفس کی جنگ سے ، کبھی شیطان کی جنگ سے ڈسے جاؤں گے۔ کبھی حالات آئیں گے تم پہ، خیال کرنا، عاشق بن کررہنا۔