Interest Free Loan In Islam Pakistan In (Urdu-Hindi) 2020 HD.'اے ایمان والو! اﷲ سے ڈرو اور جو سود باقی ہے اسے چھوڑ دو اگر تم مومن ہو۔ پس اگر تم ایسا نہ کرو گے تو اﷲ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلانِ جنگ ہے، اور اگر تم توبہ کرلو تو اصل رقم لینے کا تمہیں حق ہے، نہ تم ظلم کرو نہ تم پر ظلم کیا جائے گا۔' '''اﷲ تعالیٰ نے سود کھانے والے ،سود کھلانے والے ، سود کا گواہ بننے والے اور سود کا کھاتہ لکھنے والے کاتب سب پر لعنت فرمائی ہے۔'' (احمد ، ابودائود، ترمذی نسائی) یہ جو ہمارا ملک ہے جسے اسلامی جمہوریہ پاکستان کہتے ہیں اس ملک میں جو بھی حکمران برسراقتدار آئے ہیں۔ انہوں نے اس ملک کو جس طریقےسے بھی چلانا چاہا ہے چلایا ہے۔ ملک کو عالمی مالیاتی اداروں کے پاس گروی رکھ دیا ہے دنیا میں اس ملک کی کوئی عزت نہیں ہے۔ ہم ان اداروں سے سود پر ڈالر لیتے ہیں۔ اور پھر ان سے لڑنے کی باتیں بھی کرتے ہیں ہیں یہ کیا طریقہ ہے ملک کو نسل در نسل غلامی کی زنجیروں میں جکڑ رکھا ہے۔ آج کل کے جو تازہ ترین اعدادوشمار ہیں۔ ان میں موجودہ حکومت کے بعض وزیر یہ فرما رہے ہوتے ہیں کہ 1947 سے لے کر 2008 تک ملکِ پا کستان پر جو قرضہ تھا۔ وہ 36 ارب ڈالر تھا اب یہ 2008سے لے کر 2018 تک ک 96 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ یہ سارا قرضہ بغیر وجہ کہ ہماری سابقہ حکومتوں نے عالمی مالیاتی اداروں سے ویسے ہی حاصل نہیں کیا یا اس کو قرض حسنہ نہیں کہتے۔ یہ قرضہ سود پر حاصل کیا گیا ہے۔سود پر قرضہ لے کر کر ہمارے ملک میں جو بھی ترقیاتی کام ہوتے ہیں۔ یہ جو جو بڑے بڑے ڈیم موٹروے ،سڑکیں،فیکٹریاں ،کارخانے یہ جو ہر جگہ ترقی نظر آرہی ہے یہ سب اسی سود پر لیے گئے قرضے سےنظر آرہی ہے ۔ لیکن میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں ہوں کہ ایسے ترقی نہیں آئے گی گی یہ جو حکومتیں برسراقتدار آتی ہیں اور عوام سے سے وعدے کرتی ہیں۔کہ جب ہم حکومت میں آئیں گے تو دودھ اور شہد کی نہریں بہا دیں گے۔ یہ سب جھوٹے دعوے ہیں جو بھی حکومت میں آتا ہے وہ عوام سے ایسے ہی جھوٹے وعدے کرتا ہے۔ کہ اقتدار میں آکر سب اچھا کردیں گے غربت دور کر دیں گے وغیرہ وغیرہ لیکن یہ سب جھوٹ ہے یہ سب لوگ عوام کولوٹنا شروع کر دیتے ہیں۔ جو یہ قرضہ عالمی مالیاتی اداروں سے لیتے ہیں۔ سود پر ڈالروں کی شکل میں میں ہر حکومت سابقہ حکومت کو ساری خرابیوں کی ذمہ دار سمجھتی ہے۔ وہ کہتےہیں کہ پچھلی حکومت نے یہ کیا سابقہ حکومت کرپشن کرتی رہی ملکی کرنسی کو ڈون کیا یا اس کی قدرمیں کمی کی اور اس کے بعد ملک میں ایک نہ رکنے والا مہنگائی کا طوفان آگیا۔ آج 72 سال سےایسے ہی چل رہا ہے۔ عوام ہر دفعہ بےوقوف بن جاتے ہیں۔الیکشن کے نام پر ہر دفعہ ڈرامہ ہوتا ہے۔جو ان طریقوں پر پر چل رہے ہیں۔ ایسے کبھی بھی حالات اچھے نہیں ہوں گے۔ حالات اچھے کرنے کا کا فارمولا لا ایک ہی ہے ۔اس کا نام ہے" اسلام "اسلام کو بطور سسٹم یا نظام کے طور پر لاگو کیا جائے توحالات میں بہتری کے آثار نظرآسکتے ہیں ۔حکومت ہو یا کوئی پارٹی ہو سب ایک ہی طریقے کو فالو کرتے ہیں۔ اور وہ طریقہ ہے "دین جمہوریت" جمہوریت کے ذریعے یہ لوگوں کے مسئلے حل کرنا چاہتے ہیں ۔ لیکن اس جمہوریت کے ذریعے ایسا کبھی نہیں ہوگا ہماری اسلام پسند جماعتیں بھی یہ جو اپنی اپنی جماعتوں میں یااپنے اپنے فرقوں پارٹیوں میں مگن ہیں۔علماء کرام کا بہت بڑا فریضہ ہے۔ سب سے پہلے اپنے معاشرے کی اصلاح کی جائے لوگوں کو حلال حرام کے بارے میں بتایا جائے۔لوگوں کو اپنے آپ سے کم تر نہ سمجھا جائے۔نظامِ معیشت کو ٹھیک کرنے کے لئے قرضے حسنّہ کا آغاز کیا جائے۔صدقہ ؛ زکوۃ اور بلا سو
Be the first to comment