00:00ابن نفیس
00:03سن بارہ سو اٹھاون میں منگولوں نے عالم اسلام کے دار الحکومت بغداد پر حملہ کیا
00:11یہ حملہ صرف انسانی جانوں کا ہی نقصان نہ تھا
00:14بلکہ منگولوں نے مرکز خلافت میں موجود تمام کتابوں کو بھی دریائے دجلہ میں بہا دیا
00:20مورخین لکھتے ہیں کہ پہلے دریائے دجلہ کا پانی خون سے سرخ ہوا
00:24اور پھر جب اس میں کتابیں ڈالی گئیں تو کتابوں کی انگ سے وہ سرخ دریا کالا ہو گیا
00:30یعنی مسلمانوں کا علم و فن سب ہی تباہ کر دیا گیا تھا
00:34مگر اسلام چونکہ اللہ کا آخری پیغام ہے
00:37اسی لیے عالم اسلام کی حفاظت بھی اللہ نے اپنے ذمہ لی ہے
00:42اور پھر دربار میں مبارک مبارک کی آوازیں آنے لگیں
00:47یہ تھے عالم اسلام کے ایک عظیم طبیب و سائنسدان
00:51جنہیں ہم ان کے مختصر نام ابن نفیس کے نام سے جانتے ہیں
00:55ابن نفیس جو سن بارہ سو دس کو دمشق کے نواہی علاقے میں پیدا ہوئے
01:00یہ وہ دور تھا جب عالم اسلام میں سائنسی علوم اپنے اروج پر تھے
01:05اسی لیے ابن نفیس نے قرآن حفظ کرنے کے بعد سائنسی علوم پر توجہ دی
01:11اور سب سے پہلے طبیعات کا علم حاصل کیا
01:14اس کے بعد ان کی دلچسپی علم کیمیا میں بڑھی
01:17اور علم کیمیا کے ذریعے ہی وہ علم طب کی طرف راغب ہوئے
01:21اور جب ان کی دلچسپی علم طب کی طرف بڑھی
01:24تو انہوں نے دمشق میں ابن دخوار کے مکتب میں داخلہ لے لیا