00:02ابباسی خلافت کا خلیفہ المتوکل جسے اپنے مستقبل پر شدید تشویش تھی
00:07ایک دن بغداد کی مرکزی رست کا آیا
00:10اور اس نے وہاں کے نگرہ کو بلوا کر اپنے مستقبل کے بارے میں پوچھا
00:14اببالعباس نے خلیفہ سے انتہائی عدب کے ساتھ کہا
00:17یا امیر المومنین ہم ستاروں کو بطور علم دیکھتے ہیں
00:22اور فلک پر موجود سیارے جو اللہ کی نشانیاں ہیں اس پر تحقیق کرتے ہیں
00:28نہ کہ ان ستاروں کی وجہ سے کسی کا مستقبل بتائیں
00:31اور ویسے بھی آپ ہاش میں گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں
00:34تو آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وہ حدیث بھی ضرور یاد ہوگی
00:39جس میں مستقبل کے بارے میں بتانے والے سے دور رہنے کی تلقین شامل ہے
00:44خلیفہ یہ سن کر لا جواب ہو گیا
00:46پھر خلیفہ نے نجومیوں کو بلوایا
00:48اور قاہرہ سے سامرہ تک ایک نہری نظام کے منصوبے کے بارے میں پوچھا
00:52نجومیوں نے خلیفہ کو مشورہ دیا
00:58اپنے نام سے منصوب کر دیں
00:59خلیفہ نے ابول عباس کو دربار میں بلوا کر اپنا منصوبہ بتایا
01:03تو اس نے کہا
01:04دجلہ اور نیل کو ملانا ایک مشکل کام ہے
01:07جس کے لیے ماہر انجینئرز کی ضرورت ہوگی
01:10اسی لیے میرا مشورہ ہے
01:12کہ ابھی اس کام میں ہاتھ نہ ڈالیں
01:14اب خلیفہ نے ایک بار پھر اپنے مزاج کے خلاف بات سنی
01:17تو اس کی ناراضگی اور بڑھ گئی
01:20یہ شہر اس وقت تک چھوٹا سا قصبہ تھا
01:22لیکن اسی قصبے میں
01:23الفرغانی نے اپنی ابتدائی تعلیم حاصل کی
01:26اور وہ اپنے اہل و آیال کے ساتھ
01:28بغداد منتقل ہو گئے
01:30جہاں الفرغانی کو اچھی تعلیم مجسر آگئے
01:33انہوں نے قرآن شریف حفظ کرنے کے بعد
01:35عقلی علوم حاصل کیے
01:37اور پھر وہ خلیفہ مامون کے قائم کردائی دارے
01:40بیت الحکمت سے وابستہ ہو گئے