00:00बिहार में लोग आक्सिटॉक्सीन युक्त दूद पीने को मजबूर हैं या यह हम कहें कि दूद में जहर है तो
00:07अकिस युक्ति नहीं होगी इस जहर से कैसे बचा जाए इसके साइड इफेक्ट्स क्या हैं हमारे साथ विसेसग विनोज सिंग
00:16है जिन्होंने गिर गाय रखी व
00:21हैं विनोजी किस तरीके से इस कूपरभाओं से लोग बचें बहुत आसान सा उपाय है कि लोग कोसिस करें कि
00:30उनको जहां से भी संभव हो सके वहां से देसी गाय का दूद लेकर के अपने घर आएं देसी गाय
00:36का दूद का मतलब यह हुआ कि जिस गाय के उपर हामप है शंकर
00:49हैं उसको वापिस हम लोग उसी समय ला सकते हैं जब उसका यूज़ करना शुरू थे एंसIt का मतलब यह
00:55है कि जरसी गाय के दूद के बजाए देसी गाय का दूद जो है उसका से बनkę मतलब यह है
01:03Garsi gaiya dao dhudh
01:05hankaraki haanikaraki haanikarak
01:07dhaisi gaayaka dao dhudh
01:08priyogh karayun
01:09usse priyogh se kya khuga
01:10ki hum bachenge
01:11hanikarak dao dhudh ke
01:12dustprabahusse
01:13plus gaayi ke gover
01:15se humari dharti bacheayi
01:16dharti parishan
01:17behaal ho gahi hai
01:19yuriya khakha karke
01:20gover chahiye
01:21to humara ghar ka dhudh
01:23gaiya ko
01:24dhaisi gaayi ko bachayega
01:25and dhaisi gaayi ka gover
01:27dharti ko bachayega
01:28iptik naya trend chala hai
01:30is that if the blood is first to be the oxytoccin
01:33injection of the oxytoccin, they are highly cancerous
01:38or un-bimorized caused by these diseases.
01:40How do we see the disease from that?
01:43No, no.
01:45Which way does it happen in the world,
01:48the oxytoccin is the maximum of the oxytoccin
01:50that is the injection of oxytoccin.
01:53People use the damage from 99% in this disease.
01:57use road
01:58for him
01:59is that
02:00to
02:01make
02:01with
02:03here
02:05go
02:08go
02:09go
02:11go
02:11goOn
02:16boom
02:17not
02:21goes
02:22goodident
02:22go
02:26to
02:26ڈالیں گے تو وہ بہت ہانے کارک ہے بہت ہانے کارک ہے اس لئے یہ
02:31انشور ہم لوگوں کرنا ہوگا کھڑے قانون منانے ہوں گے کہ ہمارے دیش
02:35میں اوکسی ٹاکسن بیجتے ہیں لوگ اس کو خریدتے ہیں درد پکڑ
02:39کی جائے جو لوگ گائے رکھے ہوئے ہیں وہاں پہ مونیٹر ہو کہ وہ
02:43اوکسی ٹاکسن کے یوز کر رہا ہے کہ نہیں کر رہا ہے یہ تو کلپنا
02:47کرنا بیوانی ہے کہ جس گائے کو ہم گواماتہ سمجھتے ہیں اس کے
02:51ساتھ اتنا بڑا اتیچار گائے اس سوئی کو دیکھ کر کے ڈر جاتی ہے
02:56اوکسی ٹاکسن کے اتنا پینفل ہوتا ہے اور اس کا دسپرپاؤ جو
03:00ہے ہمارے اوپر تو کافی پڑتا ہے آپ نے گیر گائے رکھا ہوا ہے
03:04گیر گائے میں کیا خاص ہے لوگ بہت پسند بھی کر رہے ہیں اور
03:09ترینڈ بھی کہیں کی چلا ہوا ہے ہمارے ہاں تین سو چھوٹی بڑی گیر
03:14گاؤنس ہے جس میں سو بچڑے ہیں بوڑی گائے ہیں گائے ہم نے اس لئے
03:20گیر گائے رکھا ہوا ہے کہ دیسی گائے ساری اچھی ساری اچھی گیر
03:24تھوڑا سا اور بڑیاں اس کے دودھ کے کالیٹی تھوڑا سا بہتر ہوتا
03:26بڑ دیسی گائے کا پالن ہونا چاہیے لیکن گیر گائے کی جو دودھ
03:33ہے وہ ایک سو تیس ایک سو چالیس روپے لیٹر ہے عام لوگوں کے پہنچ
03:37سے باہر ہے ایک ڈاکٹر ہیں گمبائی میں آنپلوجسٹ ہیں وہ کہتے ہیں
03:42کہ there is no need to have one glass of milk ایک گلاس پیرنے کی ضرورت
03:47نہیں ہے should have one cup of milk جیسے medicine چھوڑا سا tablet ہم
03:51کھاتے ہیں اس طرح سے تھوڑا سا دودھ پیجے دیسی گائے کا پیجے آپ
03:55جہر ایک گلاس پییں گے اس کا فائدہ نہیں بات اس کا نہیں ہے کہ
03:59ایک سو تیس روپے ایک سو چالیس یا دو سو روپے لیٹر دودھ ہے بات
04:02اس کا ہے کہ ہمارے گھر میں دیسی گائے کا دودھ آئے ہاں الگ الگ
04:07کارنوں سے دودھ دیسی گائے کا مہنگا ہو گیا ہے تو اس کا مطلب
04:11نہیں ہے کہ دودھ کے نام پہ ہم جہر پی لیں جو سستا ہے اور سستا
04:14دودھ کیوں ہے اس کے بہت بڑے کارن ہیں سرکار جو دودھ اپنے
04:19مادہم سے بچوا رہے ہیں یا پھر لوگ جو بیچ رہے ہیں اس میں
04:22کمپلیٹلی کسان کا ایکسپلوٹیشن ہوتا ہے کسان کس طرح سے بحالی
04:27میں آپ کو تیس پینتیس سالیس روپے لیٹر دودھ دیتا ہے یہ سمجھنا
04:31ہو تو اس کی ایکانومکس کو سمجھیں پریشان کسان باقی سب لوگ
04:35اپنا انڈرسٹری لگاتے ہیں فلفلتے ہیں کسان بیشارہ گائے پالن کرتا
04:39ہے اور آپ کے دودھ کو مجبوری میں بیست ہے کیونکہ آپ کہتے ہیں
04:42کہ نہیں ہم تیس سالیس پچاس روپے لیٹر لیں گے آپ اس کو روڈ
04:46ریٹ دیجئے سو روپے لیٹر تو سایدو دیسی گائے کا پالن کرے گا
04:50اور جو دودھ سے ٹاکسن نہیں لگائے گا جو دودھ خریدنے والے لوگ ہیں
04:55لوگ ان کے پاس ایسا کیا پیسے کا کمی ہے کہ بھئی جو
04:58اور اس لیے آپ کسان سے سستہ دور لینا چاہتے ہیں وہ کمپرمائز
05:01کرتا ہے کمپرمائز کرتا ہے ایک تو دیسی گائے کا پالن نہیں
05:05کرتا ہے دوسرا وہ انجیکشن لگاتا ہے تیسرا جو سب سے بڑا
05:08کمپرمائز وہ بچڑے کو نہیں پالتا ہے چوتھا اور بھی بڑا
05:11کمپرمائز وہ بڑی گائے کو نہیں پالتا ہے اس لیے نہیں پالتا
05:15ہے کہ لوگ پیسے نہیں دیتے ہیں اس کی کونکس وہ ہمیں
05:18سمجھنا پڑے گا کہ سرکار کیوں ایکسپلائٹ کر رہی
05:28سٹڈی کرے کہ جو کسان دو چار گائے رکھے ہوئے کیوں نہیں
05:33اس کو بڑھا پاتا ہے اتنا سب چیز مہنگا ہو گیا اور دوس ایک
05:39روپے دودھ بڑھتا ہے دو روپے بڑھتا ہے تو ہنگامہ ہو جاتا ہے
05:42دودھ کی قیمت بڑھ گئی ارے باقی چیزوں کی قیمت بڑھ رہی اس کے
05:46اوپر کیوں نہیں ہنگامہ ہے پانی آپ کیوں بیشتے ہیں بیس روپے
05:48ڈیٹر اور دودھ آپ خرید رہے ہیں تیس سالیس روپے
05:52دیکھئے یہ تھے وینوت سنگھ جو دیسی گائے یا پھر گیر
05:57گائے کو پرموٹ کرنے کا ابھیان چلا رہا ہے ان کا صاف
06:00کہنا ہے کہ اگر کسانوں کو دودھ کے اوچت قیمت ملیں گے
06:06سرکار اچھے در پر ان سے دودھ کھرے دے گی تو ویسے اس
06:10ٹھٹی میں وہ بھی اکسی ٹاکسین کا انجیکشن نہیں لگائیں گے
06:13اور لوگوں کو سدھ دودھ مل پائے گا
06:16اسوک کے ساتھ رنجیت ای ٹی وی بھارت
06:19ٹھٹی میں بھارت