- 2 days ago
- #dastoor
#Dastoor ep 45 Pakistani drama
Category
🎈
FunTranscript
00:00جانے کیوں ہوا یہ
00:05درد بھی نیا ہے
00:35مجھے تو رشکار ہے تم دونوں کی دوستی کے قصے سنگئے
00:38مجھے امید ہے جب تمہاری شادی ہو جائے گی نا
00:42تو تم اپنے شوہر کے ساتھ بھی اسی طرح آیا کرو گی
00:46تب بھی مجھے تمہارے بچپن کے قصے سنگر بہت اچھا لگے گا
00:50کیا چاہتی کیا ہو تم
00:53مجھ سے مل سکتے ہو
00:57کبھی بھی نہیں
00:58تو ٹھیک ہے
00:59میں دوبارہ تمہارے گھر آ جاؤں گی
01:08شیزا
01:10تم مصطفہ کو نہیں لے کے آئیں
01:12وہ بھی ساتھ آ جاتا
01:14وہ ضرور آ جاتے لیکن
01:15ان کی بہت ضروری میٹنگ تھے اس لئے
01:17وہ آ نہیں سکے
01:20تم کچھ علجی بھی لگ رہی ہو بیٹی
01:22کیا بات ہے
01:24نہیں ہمیں بس ایسے
01:26موٹ سوئنگز ہو رہے ہیں
01:28کچھ میں نہیں
01:30یہ عورت کیلئے بہت مشکل وقت ہوتا ہے
01:34بہت سمحل کے رہنا
01:35احتیاط سے رہنا
01:36نہ خیال رکھنا
01:38اور اگر کچھ کھانے کا دل چاہے تو مجھے بتانا میں بھی جوا دوں گی
01:43یا تم خود آ جانا
01:47زیبونہ سر بیگم ٹھیک ہے آپ تمہارے سر اور شبانہ
01:54شبانہ آنٹی تو ایسے متنافر ہوئی ہے
02:00جسے پتہ میں کیا بات ہو گئی ہے
02:03شروع شروع میں میرے ساتھ وہ بہت اچھی تھی
02:05مجھے بیٹیوں کی تنا رکھتی تھی امی
02:09مگر
02:10اب وہ
02:14ہاں
02:14دادو وہ اب ٹھیک ہے میرے ساتھ
02:21بس تم ایک بات یاد رکھنا بیٹی
02:23میرا تو یہی مشورہ ہے
02:26کہ تم اپنا گھر بسا کے رکھنا
02:28بس
02:30امی
02:33بیٹیوں کو یہی بات کمزور کرتی تھی ہے
02:36گھر بسانے کا مطلب یہ تھوڑی ہوتا ہے
02:38کہ آپ ہر نجائز بات کو صحیح مان لیں
02:42آپ نے تو ہمیشہ میں لڑنا سکھایا
02:44تو پھر آپ نے اسے کیسے بات کرتی
02:48بیٹی
02:50اپنوں سے لڑائی نہیں کی جاتی
02:52ان سے تو پیار محبت سے شکایت کی جاتی ہے
02:57اور کوئی عذر ہو تو مان لیا جاتا ہے
03:02آپ کی یہی باتیں میں بہت مسکرکتے ہیں بتاؤ
03:04آہ میرے بچی
03:06میں یہی ہو
03:27نانو
03:29آپ کیوں خود سے یہ سب چیزیں سیٹ کر رہی ہیں
03:31کسی ملازمہ سے کہہ دیتی
03:33ارے بیٹا
03:34عورت کا زیور تو
03:36اس کے لیے براست جتنا قیمتی ہوتا ہے
03:39اور اس پہ صرف اس کا حق ہوتا ہے
03:41یا اس کے وارثوں کا
03:43تو یہ آپ نے کس کے لیے سنبھال کے رکھا ہے نانو
03:48ارے تمہارے لیے اور کس کے لیے
03:51مجھے تو اب ان چیزوں کا شوق ہی نہیں رہا نانو
03:53ارے کیوں نہیں رہا
03:55بھئی میں کروں گی تمہاری شادی اور اتنی دھوم دھام سے کروں گی
03:59کہ سارا شہر دیکھے گا
04:02میں اگر تمہاری نانی کی جگہ ہوتا نا
04:05وہ دنیا کی ساری خوشیاں تمہارے قدموں میں ڈیر کر دیتا
04:08میرا بس چلے تو میں
04:10علیان کی شادی بھی تلوا دوں
04:16کیا بات ہے علینا کیا سوچنے لگیں
04:20آپ میری خوشیوں کے خاطر کس حد تک جا سکتے ہیں نانو
04:23ہمیں نانو کا امتحان لوگی اب
04:26میں تمہارے لیے ساری حدیں پار کر سکتی ہوں
04:32تو ٹھیک ہے
04:34علیان اور امارہ کو جو رشتہ ہے
04:36اسے توڑ دیں
04:43میں علیان سے شادی کرنا چاہتی ہوں
04:45تم جانتی ہونا میں تمہاری شادی کے لیے پہلے بھی راضی ہو گئی تھی
04:51لیکن اب تو امارہ اس کے زندگی میں آ چکی ہے
04:57یہ اب ممکن نہیں ہے
04:59آپ نے ابھی تو کہا نانو
05:01آپ میرے لیے ساری حدیں پار کر سکتی ہیں
05:10تو پھر ٹھیک ہے
05:12میری بھی ایک شرط ہے
05:14کیسی شرط
05:15اگر علیان نے اس دفعہ انکار کیا
05:22تو میں تمہاری شادی
05:25مصطفیٰ سے کروا دوں گی
05:36موسیقی
05:37موسیقی
05:39موسیقی
05:51موسیقی
05:56مجھے جو بیماری ہے نا کچھ پتہ نہیں کس وقت اس دنیا سے چلا جاؤں
06:01موسیقی
06:03موسیقی
06:03موسیقی
06:07موسیقی
06:15موسیقی
06:16موسیقی
06:17موسیقی
06:21موسیقی
06:24موسیقی
06:26ٹھیک کہہ رہے ہیں آپ انکل
06:28کیا آپ
06:29علینا جانتی ہے
06:32اس بارے میں سب کچھ
06:33وہ اتنا ہی جانتی ہے جتنا میں نے بتایا ہے
06:36اور اب
06:37صرف آدھا سچ بتایا ہے
06:39اور جزن
06:41سارا سچ بتا دیا نا
06:43اس دن علینا کو ہی نہیں
06:45اس گھر میں رہنے والے
06:48ہر فرد کو
06:49زیبن نسا سے نفرت ہو جائے گی
06:56کیا کروں
06:59علینا کو بتا دوں کہ میں
07:02صرف اکار انکر سے
07:04ملنے کے لئے گئی تھی
07:09نہیں
07:12کسی کو پتا چلیا تو کوئی پروپلم نہ ہو
07:17کیا کر رہی ہے
07:19کچھ بھی نہیں
07:20بس ایسے
07:22کھڑی وی تھی
07:23سوچ رہی تھے کچھ
07:25اسے مجھے لگتا تھا
07:26کہ تم اپنی باتیں صرف مجھ سے شیئر کرتی
07:31اچھا
07:33تم سے کرتی ہو
07:34اور کس سے شیئر کروں گی
07:35خود سے
07:38ہاں کبھی کبھی انسان کو
07:40خود سے باتیں کرنی چاہیے
07:42تم بھی کر کے دیکھنے
07:45مجھے کوئی شوق نہیں
07:46مجھے خود سے زیادہ
07:47تم سے باتیں شیئر کرنا اچھا لگتا
07:49مجھے خود سے باتیں شیئر کرنی چاہیے
08:19مجھے خود سے باتیں شیئر کرنی چاہیے
08:46کبھی انسان کو دیکھتター
08:49آج کل بہت مصروف ہو کچھ اہم کاموں میں
08:52اور کچھ پرانے راز بھی جاننا چاہ رہی ہو
08:55میں نے سوچا میں ہی بلا کے بات کرلوں
09:01میں کچھ سمجھی نہیں دھا دو
09:04ذلفقار سے ملاقات کیسی رہی
09:15کیا ہو با شیزہ بیگم
09:19حیران مت ہو کہ مجھے کیسے پتا چلا
09:22یہ سوچو کہ میں نے ابھی تک مصطفیٰ کو نہیں بتائی یہ بات
09:34اور تم یہ بات اچھی طرح جانتی ہو
09:36کہ مصطفیٰ ہر چیز بردارشت کر لے گا
09:40لیکن جھوٹ کبھی نہیں بردارشت کرے گا
09:45اور خاص طور سے وہ جھوٹ جو اس کی پسند کے شخص نے بولا ہو
09:56دادو دیکھیں آپ غلط کر رہی ہیں
10:01ذلفقار انکل کے ساتھ بھی اور علینہ کے ساتھ بھی
10:06آپ اپنی اپنی انا میں باپ بیٹی کو
10:11الگ مت رکھیں پلیز یہ نا انصافی ہے
10:16کیونکہ ذلفقار انکل اپنی بیٹی سے بہت پیار کرتے ہیں
10:20انکل
10:24واہ
10:24رشتے جوڑنے میں تو تم ماہر ہو
10:29خیر
10:30ایسے بھی میرے پاس یہ فضول باتیں سننے کا وقت نہیں ہے
10:35میرے پاس تمہارے لیے ایک دیل ہے
10:41دیل
10:44کیسی دیل
10:45بہت سمپل سی دیل ہے
10:47تم نے اپنی بہن کی خوشی کی خاطر
10:49اس کی شادی آلیان سے کروا دی
10:54اب اپنی خوشیوں کی خاطر
10:59تمہیں ان دونوں کی طلاق کروا ہوگی
11:11اور اگر میں ایسا نہ کروں تو
11:13تو میں مصطفیٰ کو تمہاری اور ذلفقار کی ملاقات کا بتا دوں گی
11:22پھر وہ خود تمہیں اس گھر سے تو کیا
11:25اپنی زندگی سے بھی نکال دے گا
11:31اور میں
11:33مصطفیٰ کی علینا سے شادی کروا دوں گی
11:40آپ ایسا سوچ بھی کیسے سکتی ہیں
11:42میں یہ سوچ چکی ہوں
11:45اور جو میں سوچ لیتی ہوں وہ کر کے دکھاتی ہیں
11:48میں ایسا کبھی نہیں ہونے دوں گی
11:49تو پھر ٹھیک ہے
11:53اپنا گھر بجالو
11:54یا اپنی بہن کا
11:59فیصلہ تمہارا ہے شزا
12:01آپ یہ بات کر بھی کیسے سکتی ہیں
12:04آپ مجھے دھمکی دے رہی ہیں
12:05یہ دھمکی نہیں ہے شزا
12:10میں تمہیں پہلے ہی بتا چکی ہوں
12:13یہ ڈیل ہے
12:18اور اگر یہ ڈیل تمہیں منظور نہیں ہے
12:21تو پھر شاید
12:23آپ کو کیا لگتا ہے
12:26کہ میری اور مصطفیٰ کی محبت اتنی کمزور ہے
12:29کہ اس بار سے وہ مجھے گھر سے نکھال دے گا
12:31جانتی ہو
12:32جب شک کا بیچ وہ دیا جائے
12:34تو محبت کمزور پڑ جاتی ہے
12:38مجھے افسوس ہے
12:41آپ یہ کوشش کر رہی ہیں
12:45مگر یقین مانی
12:47آپ بہت مایوس ہوں گی
12:49ہرے شزا ویگم
12:50زیب النسا کو کبھی مایوسی نہیں ہوتی
12:56بس سامنے والے کو یہ بات
12:58ذرا دیر میں سمجھ میں آتی ہے
13:04خیر اب تمہیں اپنے اور مصطفیٰ کی رشتے سے زیادہ
13:07اپنی بہن کا رشتہ عزیز ہے
13:09تو میں کیا کر سکتی ہوں
13:12بہن کا رشتہ بہت عزیز ہوتے
13:17آپ کی کوئی بہن نہیں ہے
13:23اس لئے آپ کو کیسے انتاظر ہوگا اس بات کا
13:40دیکھتے ہیں تم کیا فیصلہ کرتی ہو
13:43خود کو بچاؤگی تو خود غرص کہلاؤگی
13:48اور بہن کو بچاؤگی تو مصطفیٰ کو ہمیشہ کے لیے کھو دوگی
14:04اچھا یہ بتاؤ کہا ملنے
14:14موسیقی
14:16موسیقی
14:16موسیقی
14:19موسیقی
14:30موسیقی
14:37ہلو
14:38میں نے سوچا وعدہ یاد کرا دوں
14:40آج ہمیںڈینر پہ من لے
14:41علینا میں آج بلکل فری رہی ہوں
14:46کسی اور دن ملیں گے
14:47لیکن تم نے تو کل آنے کا وعدہ کیا تھا
14:50میں نے وعدہ نہیں کیا تھا
14:54صرف بات کی تھی تم سے
14:56تو چلو اپنی بات ہی رکھ لو
14:58اور آجو مننے
15:02اگر میں تم سے مننے تمہارے آفیس آگئی
15:04تو شاید تمہاری بیوی کو برا لگ جائے گا
15:08تو اس لیے آجو
15:09جا ٹھیک ہے
15:14آجاؤں گا میں لیکن
15:17سادہ دیر نہیں رکھوں گا میں
15:19یہ ہوئی نا بات
15:20چلو پھر ملتے
15:22سی یو
15:46میں مصطفیٰ کو تمہاری اور ذل فقار کی ملاقات کا بتا دوں گی؟
15:54پھر وہ خود تمہیں اس گھر سے تو کیا
15:56اپنی زندگی سے بھی نکال دے گا
15:59اور میں
16:01مصطفیٰ کی علینا سے شادی کروا دوں گی
16:06اپنا گھر بچا لو
16:08یا اپنی بہن کا
16:10فیصلہ تمہارا ہے شیزا
16:12خانوش لگتی ہے جن کی دھڑکن بھی
16:17ٹکڑوں میں خود کو
16:19اب میں گنتی ہوں
16:23اس مرکو سان سے چکتی ہے ہر لما
16:29ہلو
16:30آشیزا میں آگیا ہوں گر
16:34چھپ کیوں ہو
16:35کیا ہوئے
16:36مصطفیٰ وہ مجھے تم سے بہت ضروری بات کرنی ہے
16:40کیا بات ہے
16:41سب خیریت تو ہے نا
16:42نہیں
16:43فیلال تو کچھ ہوا
16:46لیکن
16:47لیکن پھر بھی مجھے تم سے بات کرنی ہے مجھے
16:51آجھا تم ہو گا
16:53میں تو کمرے میں ہوں
16:54چلو ٹھیک ہے میں آپ
16:57ساپ جی آپ کو بڑی بیگم صاحبہ بلا رہے ہیں
17:00آہ
17:00ٹھیک ہے میں آ رہا
17:12جی دادو بلوائے تھا آپ نے
17:14کچھ باتیں ایسی ہیں مصطفیٰ جن کا تمہیں دوسروں سے نہیں
17:17مجھ سے پتا چلنا چاہیے
17:20کیوں دادو کیا ہوئے سب ٹھیک ہے نا
17:23جانتے ہو
17:24شزا دوبارہ ملی ہے ذلفقار سے
17:33کب کب دادو
17:34صرف ملی نہیں ہے
17:35اس گھر میں سوال اٹھا رہی ہے اور اس کی وقالت کر رہی ہے
17:41دادو وہ ہو سکتا ہے آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہو
17:44اچھا اگر پوری بات سنے بغیر تم دادو سے یہ کہہ رہے ہو کہ آپ کو غلط فہمی ہوئی پھر
17:49تو تم سے بات کرنے ہی بیکار ہے
17:52جا سکتے ہو تم مصطفیٰ
17:55نہیں نہیں دادو میرا وہ مطلب نہیں تھا
17:59میں نے شزا کو منع کیا تھا اور اس نے اگری کیا تھا کہ وہ ان سے دور رہی گئی
18:05مصطفیٰ ہمیں دکھ اس بات کا نہیں ہے کہ اس نے ہم سے جھوڑ بولا
18:10تو کس بات کا ہے کہ وہ اپنے شوہر سے جھوڑ بولنا سیکھ گئی ہے
18:21اور جو عورت اپنے شوہر سے جھوڑ بولنا سیکھ لینا
18:27ایسے ہم سفر بیچ راستے میں چھوڑ کر چلے جاتے ہیں
18:33میں بات کرتا ہوں ماموس
18:35کیا بات کروگے بات تو تم پہلی بھی کر چکی ہو
18:40اور اس کا ریزر تمہارے سامنے بیٹا
18:46دیکھو مصطفیٰ ہم لوگ شزا کے خلاف نہیں ہیں
18:52لیکن گھر کی کچھ حقیقتیں ایسی ہوتی ہیں جو باہر کا آنے والا نہیں سمجھ سکتا
19:00تم جانتے ہو نا ظلف قیر کو
19:02اگر وہ اتنا اچھا انسان ہوتا تو میں علینا کو کیوں دور رکھتی اس سے
19:09وہ تو چاہتا ہے کہ اس گھر میں ہر کوئی ایک دوسرے کا دشمن بن جائے
19:18مصطفیٰ اگر وہ صرف تمہاری بیوی ہوتی تو شاید میں خاموش ہو جاتی
19:25لیکن اس کی ان حرکتوں کا ہم سب پر اثر پڑھ رہا ہے
19:33تم سمجھ رہے ہو کہ نہیں میں کیا کہہ رہی ہوں
19:37جیز آدم
19:42سب سمجھ رہا ہوں
19:45اور ام سوری کہ
19:47کہ آپ کو یہ سب کچھ دیکھنا پڑھ رہا ہے سہنا پڑھ رہا ہے
19:54میں شہزہ سے پوچھتا ہوں کہ
19:56کہ ایسی کیا وجہ دی کہ اس نے
19:59اس نے میرا مان نہیں رکھا
20:03ہاں ضرور پوچھو اس سے
20:04لیکن
20:08محبت کو ایک طرف رکھے اپنے عقل کا استعمال کرنا
20:10مانی میں کنو آکھوں
20:18درد وچھوڑتا حال نہیں
20:28مانی میں کنو آکھوں
20:36ماں
20:38آپ کو لگتا ہے کہ شہزہ اس کی بات مان لے گی
20:41بات ماننا ضروری نہیں ہے شبانہ
20:44کبھی کبھی ایک سوال ہی کافی ہوتا ہے
20:46یقین کو کمزور کرنے کے لیے
20:48کاش
20:50شہزہ کی ماں کے ارادے ٹھیک ہوتے نا
20:53تو ماں میں شہزہ کو اپنی بیٹی بنا کر رکھتی
20:58لیکن کسی نے سچ ہی کہہ
21:01ماں ہی اپنے بچوں کو بگاڑتی یا سوارتی ہیں
21:11ٹھیک ہے تم جاؤ شبانہ
21:24اتنی لیٹ کیوں ہو گئے تھے؟ تمہارا انتظار کر رہی تھی میں
21:27کہاں رہ گئے تھے تم؟
21:29اور میں یہ سوچ رہا تھا کہ جو بات مجھے تم سے معلوم ہونی چاہیے تھی
21:33وہ مجھے دادوں نے کیوں بتائی
21:37کونسی بات؟
21:38جو فکار انگل سے ملی تھی نا
21:41انٹریشنلی
21:43مصطفیٰ میری بات نہ تہاں مجھے یہ بتاؤں
21:46ان سے ملی ہو یا نہیں
21:48ہاں یا نا
21:56ہاں ملی تھی
21:59میرے منہ کرنے کے باوجود
22:03میں تمہیں بتانا چاہتی تھی مصطفیٰ لیکن
22:07جو چیزیں مجھے معلوم ہوئی
22:10اس کے بعد میں چاہتی تھی کہ پہلے
22:15میں اس کے بارے میں مزید جانکائی لوں پھر میں تم سے اس بار میں بات کروں
22:19وہ سب ارلیونٹ ہے چیزا
22:23میں نے تمہیں اس معاملے سے دور رہنے کو کہا تھا
22:26دیکھو مصطفیٰ میں کسی کا گھر توڑنے نہیں گئی تھی
22:29اور نہ ہی کسی کے خلاف سب بھوڑنے گئی تھی
22:31میں تو صرف سچائی جاننے دی تھی یا
22:33تو سچائی کے لیے تم مجھ سے جھوٹ بولو گی
22:36جھو
22:37میں نے تم سے کوئی جھوٹ نہیں بولا مجھے بس وقت چاہیے تھا
22:40کس چیز کے لیے وقت چاہیے تھا
22:42حقیقت جاننے کے لیے
22:43یا یہ ڈیسائیڈ کرنے کے لیے کہ مجھے کتنا سچ بتانا ہے
22:46دیکھو مصطفیٰ تم غلط سوچ رہے ہو
22:48اور تم بہت آور ریاک کر رہے ہو
22:52میں جانتی تھی کہ تم پریشان ہو جاؤ گے اب دیکھو
22:57میری کوئی بات سننے کو تیار ہی نہیں ہو
23:01ابھی بھی تم یہی کر رہے ہو نا
23:03اچھا
23:03تو یعنی تم نے خود ہی ریسائٹ کر لیا تھا
23:05کہ میں بات سمجھوں گا ہی نہیں
23:08ایسا نہیں ہے بہن
23:11اس طرح ایسی بات نہیں ہے دیکھو
23:13اس گھر میں یہ ہی تو ہوتا ہے
23:14کوئی بات ہی نہیں سنتا ہے پوری
23:19تم نے یہ جاننے کی کوشش کیوں نہیں کی کہ میں
23:21وہاں گئی یوزف فکار صاحب سے ملنے کیلئے لیکن
23:24وہاں جا کے مجھے معلوم کیا ہوئے تم یہ کیوں نہیں جاننا چاہ رہے ہو مجھے
23:27شیزا
23:28میں میں میں میں میں میں میں میں میں میں سے ملنے سے منا کیا تھا
23:36تو ان سے کیوں ملی تو کیوں
23:39تم دیکھو میری بات مکمل سنلو تحمل سے پھر ہم بات کرتے ہیں اس بارے میں
23:43میری بات مکمل نہیں ہوئی
23:44میری بات مکمل ہو چکی ہے
23:46جانے کیوں ہوا یہ
23:51درد بھی نیا ہے
23:57میری جانوں کا
24:02کیوں یہ ویسلا ہے
24:11تو کہنا ہے
24:22اگر میں تم سے ملنے تمہارے آفس آگئی
24:24تو شاید تمہاری بیوی کو برا لگ جائے گا
24:26تو اس لیے آجو
24:32کیا ہو آلیان؟
24:35کن سو چک میں گو ہوں؟
24:38دوستوں کا ڈینر کے پلان بنا تھا
24:42میں نے منع کر دیا
24:47اچھا؟
24:48اس میں تنے گھبرانے والی کونسی بات ہے؟
24:52میں گھبرا کہا رہا ہوں؟
24:55تو میں بتا رہا ہوں کہ اگر میں چلا جاتا اور تم خوافہ ہو جاتے تو اچھا نہیں لگتا
25:01ان بیویوں میں سے نہیں ہوں بھر
25:03تم ضرور جاؤ انچوائے کرو
25:08تینکس
25:10تینکس کی کیا بات ہے؟
25:12کبھی کبھی اس طرح سے دوستوں کے ساتھ جانا اچھا ہوتا ہے
25:16اس خیالت نہ ہونا
25:21چیک ہے
25:35جانے کیوں ہوا یہ
25:37نے تم سے کوئی چھوٹ نہیں بولا مجھے بس وقت چاہیے تھا
25:41کس چیز کے لئے وقت چاہیے تھا؟
25:43کس چیز کے لئے وقت چاہیے تھا؟
25:43یا یہ ڈیسائید کرنے کے لئے کہ مجھے کتنا سچ مٹھانا ہے
25:46میری چاہتوں
25:48میری کوئی بات سننے کو تیاری نہیں
25:50ابھی بھی تم ہی کر رہے ہو نا؟
25:52تو یعنی تم نے خود ہی بھی سائٹ کر لیا تھا
25:54کہ میں بات سمجھوں گا ہی نے
25:58اس گھر میں یہ ہی تو ہوتا ہے
26:00کوئی بات ہی نہیں ستا ہے پھول
26:02شیزاں
26:08مجھے صرف اتنا بتاؤ کہ میں نے جب تمہیں ان سے ملنے سے منا کیا تھا
26:11تو ان سے کیوں ملی تو
26:13کیوں؟
26:31تم یہاں پہلے ہی آگئے؟
26:33ہاں میں تھوڑا جلدے ہی آگئے تھی
26:36سوچا تم سے ملنے سے پہلے تنہائی میں تھوڑا اپنے آپ سے بھی مل لو
26:44کیا خیال ہے کچھ آرڈر کریں
26:47میں یہاں تمہارے ساتھ ڈنر کرنے نہیں آیا ہوں
26:50اور میں نے ویسے بھی تمہیں پہلے ہی بتا دیا تھا کہ میرے پاس زیادہ ٹائم نہیں ہے
26:54ایسی بھی کیا جلدی آلیا کہ تم تھوئی دیر بیٹھ کے سکون سے میری بات نہیں سن سکتے
27:01یا تمہاری بیوی نے ملنے سے روکا ہے
27:08ایسی بات نہیں ہے
27:10اور میں تمہیں ایک بات کلیر کرنا چاہتا ہوں
27:14ہمم بولو میں سن رہی ہوں
27:17ہمارے درمیان صرف دوستی کا رشتہ تھا
27:21اور تم نے ہماری دوستی کو اس موڑ پر لاکے کھڑا کر دیا کہ وہاں سے واپسی لی کوئی گنجائش
27:26نہیں ہے
27:29دیکھو علینا
27:31میری امارہ سے شادی ہو چکی ہے
27:36اور تم بار بار میری گھر پر آکے مجھے ملنے پر مجبور کر کے میری زندگی اور موچکل بنا رہی
27:40ہو
27:41تو کیا ہوگی آلیاں
27:42میں ایک دوست کے حیثیت سے بھی نہیں مل سکتی تم سے
27:47تمہارا کیا بھروسہ
27:52میں تو پہلے بھی تمہیں دوست سمجھتا تھا
27:56لیکن تم تو اس رشتے کو کوئی اور ہی نام دینا چاہتی تھی
27:59وہ میری غلطی تھی آلیاں
28:03لیکن
28:03پہلے کی باتوں کو چھوڑو نا
28:05آج کی بات کرتے ہیں
28:09کیا ہم پہلے کی طرح دوست نہیں بن سکتے
28:14تمہیں یاد تو ہوگا
28:15کہ جب میں پریشان ہوتی تھی
28:17سب سے پہلے تمہارے پاس آتی تھی
28:19اور سب بتا دیتی تھی
28:22اور جب تم پریشان ہوتے تھے
28:24تم بھی بنا سوچے سمجھے
28:26مجھے سب بتا دیا کرتے تھے
28:30مگر میری غلطی کی وجہ سے
28:31میرا ایک اچھا دوست خو گیا مجھ سے
28:37دیکھو آلیاں
28:38میں بہت اکیلی ہو گئی ہوں
28:42جب سے مصطفیٰ کی شادی ہوئی ہے
28:44وہ بھی اپنی لائف میں مصروف ہو گیا ہے
28:49میرا پاس اور کوئی دوست بھی نہیں ہے
28:54تو کیا تم سچ میں قبول کرتی ہو
28:56کہ تم غلط تھی
28:58ہاں
28:58بس مجھے اپنا دوست واپس چاہیے
29:04آگے تمہارا جو بھی فیصلہ ہوگا
29:06مجھے منظور ہوگا
29:08ٹھیک ہے
29:10پھر میں ایک دوست کے حد تک
29:12تمہارے ساتھ ہوں
29:16لیکن ایک بات کان کھول کر سن دو
29:18کہ اس بار غلطی کی کوئی پنجائش نہیں ہوگی
29:22done
29:24friends again
29:33let's order something then
29:35excuse me
29:50کیا بات ہے
29:51اتنی پریشان کیوں
29:52بات ہے ہی پریشانی کی
29:56شیزہ پھر زلفکار سے ملنے گئی تھی
29:59اور مصطفی کو پتہ تک نہیں چلا
30:01زلفکار سے
30:05دوبارہ کیوں
30:08یہ تو کوئی نہیں جانتا
30:11اور طور شیزہ ماں کے سامنے
30:13زلفکار کی صفائیاں دے رہی تھی
30:15شیزہ اور زلفکار کو کسی نے ملتے وے دیکھا ہے
30:21یہ صرف یہ سنی سنائی بات ہے
30:24شیریہ
30:25اب آپ بھی اس کی طرف داری کر رہے ہیں
30:28میں طرف داری نہیں کر رہا ہوں
30:32میں صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ
30:34بغیر اس سے جواب لیے اسے الزام مت دو
30:37اس نے یہ بات مصطفی سے چھپائی
30:39کہ یہ کافی نہیں ہے
30:41میں غلطی ہو جاتی ہے
30:45لیکن ہر غلطی سازش نہیں ہوتی
30:48آپ سمجھ ہی نہیں رہے
30:51پہلے آلیان اور امارہ کی شادی
30:54اب یہ زلفکار
30:56جب سے یہ شیزہ اس گھر میں آئی ہے نا
30:59کوئی نہ کوئی مسئلہ دروازے پہ دستک دے ہی رہا ہے
31:02شاید شیزہ ہم سے وہ سوال پوچھتی ہے
31:08جسے ہم برسوں سے سننا ہی نہیں چاہتے ہیں
31:10کیا مطلب ہے آپ کی اس بات سے
31:14کیا آپ کو زلفکار پہ بھروسہ ہے
31:17شبانہ
31:18مجھے زلفکار کی نہیں
31:21اپنے بیٹے کی گھر کی فکر ہے
31:25مصطفیٰ اور شیزہ کے درمیان جو بات ہے
31:29اسے انہیں خود حل کرنے دو
31:33اگر ہم ان کے مسئلے میں بار بار آئیں گے
31:36تو وہ مسئلہ کم نہیں ہوگا
31:37پڑھ جائے گا
31:38اور اگر شیزہ نے اس گھر کے خلاف
31:41کوئی قدم اٹھا لیا تو
31:43مجھے یقین ہے
31:44شیزہ ایسا نہیں کر سکتی
31:50لیکن خدا نہ خواستہ اگر ایسا ہو بھی کیا
31:54تو مصطفیٰ اس سے جواب مانگے گا
31:59لیکن شبانہ
32:02جواب سنے بغیر فیصلہ کرنا
32:05انصاف نہیں ہوتا
32:08مجھے ڈر اس بات کا ہے
32:09ہر دفعہ کی طرح مصطفیٰ پھر
32:11شیزہ کی باتوں میں نہ آ جائے
32:17شرکوئی تو ہے
32:20جو اپنے دل کی بات سنتا ہے
33:01کیسا رہا دن ہے
33:04اچھا تھا
33:06اچھا تھا یا کچھ خاص اچھا تھا
33:09فرق کیا ہے
33:11فرق تو تمہاری مسکراہت بتا رہی ہے
33:16ایسے
33:17کن دوستوں کے ساتھ تھا یہ جنر
33:20دوست
33:26اممارہ میں تم سے مزید جھوٹ نہیں بول سکتا
33:30میں کسی دوست کے ساتھ نہیں تھا
33:32میں
33:36علینا کے ساتھ تھا
33:40علینا
33:41ہاں علینا کے ساتھ
33:45وہ مجھ سے مل کر
33:46کچھ باتیں کلیر کرنا چاہتی تھی
33:50تو اس بات کے لیے
33:52تمہیں مجھ سے جھوٹ بولنے کی کیوں ضرورت پڑی
33:55جھوٹ کے لیے
33:58مجھے لگا کہ میرا اس سے ملنا تمہیں برا لگے گا
34:02سارا راستہ یہی سوچتا آیا کہ
34:05میں تم سے اب جھوٹ نہیں بولوں گا
34:06تمہیں سب کچھ بتا دوں گا
34:08تو پھر پورا سچ بتا
34:13علینا چاہتی ہے کہ ہم پھر سے دوست بن جائیں
34:19ساری گلتیاں بھلا کر
34:22میرے علاوہ اس کا اور کوئی دوست نہیں ہے ہمارا
34:26وہ ماضی پر اپنی گلتیوں پر شرمندہ بھی ہے
34:33کیا ہوا
34:36تمہیں برا لگا
34:40برا نہیں
34:41اس عجیب لگا
34:42اسی لیے تو تمہیں بتا رہا ہوں
34:46ہمارا میں نہیں چاہتا کہ ہمارے درمیان کسی بھی طرح سے کوئی بھی غلط فہمی رہے
34:57میرے مطلب ہے کہ
35:00میں بھی بات نہیں بڑھانا چاہتی
35:04اور میں بات چھپانا نہیں چاہتا
35:10موسیقی
35:13موسیقی
35:15میری بات سننے کے لیے اور
35:19پوزیٹیو ری اپٹ کرنے کے لیے
35:27موسیقی
35:37موسیقی
35:49موسیقی
35:51موسیقی
35:51موسیقی
35:53موسیقی
35:56موسیقی
35:56موسیقی
35:57موسیقی
35:57موسیقی
35:59موسیقی
36:01موسیقی
36:02موسیقی
36:03موسیقی
36:04موسیقی
36:09موسیقی