ایک ہزار سال پہلے جب پورا یورپ اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا، تب مسلم اندلس کا شہر قرطبہ روشنیوں سے جگمگا رہا تھا۔ دسویں صدی عیسوی میں قرطبہ دنیا کے جدید ترین اور خوبصورت ترین شہروں میں شمار ہوتا تھا جہاں عوام کی سہولت کا خاص خیال رکھا جاتا تھا۔
اس دور میں قرطبہ کی گلیوں اور سڑکوں کو رات کے وقت روشن کرنے کے لیے باقاعدہ چراغ لگائے گئے تھے۔ رات ہوتے ہی پورا شہر چراغوں کی روشنی سے منور ہو جاتا تھا اور لوگ رات کو بھی محفوظ طریقے سے سفر کر سکتے تھے۔ اس کے برعکس لندن اور پیرس جیسے شہروں میں صدیوں بعد بھی سڑکوں پر روشنی کا کوئی نظام نہیں تھا۔
قرطبہ میں نہ صرف سڑکیں روشن تھیں بلکہ وہاں پکے راستے اور صاف پانی کا بہترین نظام بھی موجود تھا۔ اس شہر کی عظیم مسجد اور وسیع کتب خانے مسلمانوں کی علم دوست اور ترقی یافتہ تہذیب کا واضح ثبوت تھے۔
اسلامی اندلس کی یہ شاندار تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ مسلمانوں نے سائنس اور شہری ترقی میں دنیا کی قیادت کی ہے۔
#IslamicHistory #Cordoba #Andalusia #MuslimHeritage #GoldenAgeOfIslam #تاریخی_حقائق
تنبیہ: یہ ویڈیو صرف معلومات اور تفریح کے لیے ہے۔ تمام معلومات عام ذرائع سے لی گئی ہیں اور تصاویر صرف مفہوم کو سمجھانے کے لیے ہیں۔