Skip to playerSkip to main content
(زمین کی طہارت کا قانون): "کیا آپ جانتے ہیں کہ دھوپ اور ہوا سے مٹی کیسے پاک ہو جاتی ہے؟ دیکھیے اس حدیث مبارکہ کی فقہی وضاحت
نبی کریم ﷺ کے دورِ مبارک میں مسجدِ نبوی کی ساخت کیسی تھی اور زمین کی طہارت کا کیا اصول تھا؟

صحیح بخاری، حدیث 174 میں حمزہ بن عبداللہ اپنے والد (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں کتے (مسجد کے کھلے صحن میں) آتے جاتے تھے (اور کبھی پیشاب بھی کر دیتے تھے)، لیکن صحابہ اس پر پانی نہیں چھڑکتے تھے۔

شرعی و فقہی وضاحت (علماء کی تحقیق):

مسجد کی ابتدائی حالت: اس دور میں مسجدِ نبوی کا صحن بغیر چار دیواری کے بالکل کھلا، کچا اور ریت و کنکریوں پر مشتمل تھا۔

خشک ہونے سے طہارت (الجفاف طہور): فقہاء کرام (امام ابو حنیفہؒ اور دیگر) فرماتے ہیں کہ جب کچی زمین پر نجاست پڑے اور وہ دھوپ اور ہوا کی وجہ سے بالکل خشک ہو جائے، اور اس کا اثر و بو ختم ہو جائے تو وہ زمین خود بخود پاک ہو جاتی ہے۔

بعد کا اہتمام: جب مسجدِ نبوی کی عمارت مکمل ہوئی، دیواریں بنیں اور چٹائیاں بچھائی گئیں تو مساجد کو ہر قسم کے جانوروں سے پاک رکھنے کا سخت حکم نافذ عمل ہوا۔

حوالہ:

صحیح بخاری 174

کتاب الوضوء (کتاب نمبر 4، حدیث نمبر 40)

#Shorts #HadithInUrdu #SahihBukhari #ProphetMuhammad #Sunnah #MasjidNabawi #FiqhInUrdu #Bukhari174 #UrduShorts #SadiOnlineAcademy #IslamicKnowledge #DailyHadith

Category

📚
Learning
Transcript
00:00Ahmed bin Shabib نے کہا کہ ہم سے میرے والد نے یونس کے واسطے سے بیان کیا
00:04وہ ابن شہاب سے نقل کرتے ہیں
00:05انہوں نے کہا مجھ سے حمزہ بن عبداللہ نے اپنے باہ
00:08یعنی حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے واسطے سے بیان کیا
00:13وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کتے مسجد میں آتے جاتے تھے
00:19لیکن لوگ ان جگہوں پر پانی نہیں چھڑکتے تھے

Recommended