Skip to playerSkip to main content
اگر شکار پر کوئی دوسرا کتا بھی شامل ہو جائے تو وہ حلال کیوں نہیں رہتا؟ جانیے عدی بن حاتمؓ کی روایت سے
صحیح بخاری، حدیث 175 میں حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے شکاری کتوں کے بارے میں پوچھا۔ آپ ﷺ نے دو بنیادی احکام ارشاد فرمائے:

بسم اللہ اور تربیت: جب تم بسم اللہ پڑھ کر اپنے سکھائے ہوئے کتے کو چھوڑو اور وہ شکار کو مار ڈالے، تو اسے کھاؤ۔ لیکن اگر کتا خود اس میں سے کچھ کھا لے، تو مت کھاؤ، کیونکہ اس نے وہ اپنے لیے روکا تھا، مالکان کے لیے نہیں۔

دوسرے کتے کی شمولیت: اگر تم اپنے کتے کے ساتھ کسی اور (اجنبی) کتے کو پاؤ، تو وہ شکار نہ کھاؤ—کیونکہ تم نے صرف اپنے کتے کو چھوڑتے وقت بسم اللہ پڑھی تھی، دوسرے کتے پر نہیں۔

شرعی و فقہی نکات:

تسمیہ (بسم اللہ) کی فرضیت: شکار کو چھوڑتے وقت اللہ کا نام لینا ذبح کی طرح شرط ہے۔

تربیت یافتہ کتے کی پہچان: سکھایا ہوا کتا شکار اپنے مالک کے لیے سنبھال کر رکھتا ہے، اپنے پیٹ کے لیے نہیں ﴿مُكَلِّبِينَ تُعَلِّمُونَهُنَّ﴾۔

شک سے پرہیز: جہاں حلال اور غیر حلال کا شبہ پیدا ہو جائے، وہاں احتیاط کا حکم ہے۔

حوالہ:

صحیح بخاری 175

کتاب الوضوء (کتاب نمبر 4، حدیث نمبر 41)


#Shorts #HadithInUrdu #SahihBukhari #ProphetMuhammad #Sunnah #HalalShikar #FiqhInUrdu #Bukhari175 #UrduShorts #SadiOnlineAcademy #IslamicKnowledge #DailyHadith

Category

📚
Learning
Transcript
00:00have been
00:16sallallahu alayhi wa sallam نے فرمایا کہ جب تو اپنے صدھائے ہوئے کتے کو چھوڑے اور وہ شکار کر لیتو
00:21تو اس شکار کو کھا اور اگر وہ کتہ اس شکار میں سے خود کچھ کھا لیتو تو اس کو
00:27نہ کھائیو کیونکہ اب اس نے شکار اپنے لیے پکڑا ہے میں نے کہا کہ بعض دفعہ میں شکار کے
00:34لیے اپنے کتے چھوڑتا ہوں پھر اس کے ساتھ دوسرے کتے کو بھی پاتا ہوں
00:39آپ sallallahu alayhi wa sallam نے فرمایا پھر مت کھا کیونکہ تم نے بسم اللہ اپنے کتے پر پڑی تھی
00:46دوسرے کتے پر نہیں پڑی

Recommended