Skip to playerSkip to main content
  • 2 days ago
Ye Monster Kisi Ko Zinda Nahi Chhodta parts
Transcript
00:00Rath کے گہرے اندھیرے میں خوفصدہ لوگ جان بچانے کے لیے ایک سیف ہاؤس کا دروازہ پوری طاقت سے پیٹ
00:06رہے تھے
00:06اندر والوں نے علام تو بجا دیا لیکن باہر والوں کی دردناک چیخ پکار کے باوجود کسی نے کوار نہیں
00:12کھولا
00:12کیونکہ باہر وہ خونخوار درندے پہنچ چکے تھے جن کے کالے سائے اب پوری امارت کو چاروں طرف سے گھیر
00:18چکے تھے
00:19اندر والوں کو ایک تلخ فیصلہ کرنا تھا
00:21اگر وہ ترس کھا کر ایک سیکنڈ کے لیے بھی کواڑ کھول دیتے تو وہ وحشی درندے فوراں اندر کھوساتے
00:26اور پناہ لیے ہوئے تمام لوگ بھی بے دردی سے مارے جاتے
00:29یہ اندر بیٹھے لوگوں کی کوئی بزدلی نہیں تھی بلکہ ایک انتہائی کرپناک بے بسی تھی
00:34وہ اپنی جانے بچانے کی خاطر کانوں پر ہاتھ رکھے دروازے کے پار کھڑے لوگوں کو مرنے کے لیے مجبور
00:39تھے
00:40کیونکہ جب موت سر پر کھڑی ہو تو جنگل کی اس قانون میں بقا کا راستہ ہمدردی سے نہیں
00:44بلکہ اپنے دل کو پتھر کر لینے اور اس دروازے کو ہمیشہ کے لیے بند رکھنے سے ہی نکلتا ہے

Recommended