00:00سربلند فوراں زرگا بلاتا ہے اور اسی وقت سہراب لالا کو سب کے سامنے پیش کیا جاتا ہے
00:04زرگا میں شیر دل لالا اور شیربانوں کی موت سے جڑے تمام ثبوت رکھ دیے جاتے ہیں
00:08اور سہراب لالا کی ساری حقیقت سب کے سامنے آ جاتی ہے
00:11یہ دیکھ کر زرگے کے تمام لوگوں کے ہوش اڑ جاتے ہیں
00:14اور سہراب لالا کو اس کے جرم کی سخت سزا سنا دی جاتی ہے
00:18اسی وقت زارون کو بھی اس کا ساتھ دینے کے جرم میں گرفتار کر لیا جاتا ہے
00:21دوسری طرف شیرین کو جب پتا چلتا ہے کہ سہراب لالا نے اس کے ساتھ بھی وفاداری نہیں کی
00:25اور اپنے ہی گھر کو تباہ کر دیا تو وہ بلکل ٹوٹ جاتی ہے
00:28لیکن اسی وقت وہ فیصلہ کرتی ہے کہ اب وہ اپنی زندگی کو دوبارہ سنبھالے گی
00:32اور اپنے بچے کے لیے ایک نئی شروعات کرے گی
00:34ادھر سربلند شیر دل اور شیربانوں کی یادوں کی وجہ سے بہت اداس ہوتا ہے
00:38رابیہ اس کے پاس آ کر کہتی ہے میں سمجھ سکتی ہوں آپ کس درد سے گزر رہے ہیں
00:42لیکن اب آپ کو اپنے پڑیوار کے لیے مضبوط رہنا ہوگا
00:45یہ سن کر سربلند رابیہ کا شکریہ آدھا کرتا ہے
00:47تب ہی سربلند کو خبر ملتی ہے کہ جعفران خان بھی اپنے جرم کے انجام تک پہنچ چکا ہے
00:51سربلند جیسے ہی وہاں سے نکلتا ہے پیچھے سے ترسم اس کے سامنے آ جاتا ہے
00:55اور سربلند کو گلے لگا کر کہتا ہے بھائی مجھے ماف کر دو
00:58میں اپنے ماما کے بہکاوے میں آ کر تمہارے خلاف کھڑا رہا
01:00لیکن اب مجھے ساری حقیقت پتا چل گئی ہے
01:02میں نے اپنے باپ کی موت کا بدلہ لے لیا ہے
01:04یہ سن کر سربلند کے ہوش اڑ جاتے ہیں اور وہ ترسم کو ماف کر دیتا ہے
01:08پھر اسے اپنے ساتھ حویلی لے آتا ہے
01:09بی بی جان ترسم کو دیکھتے ہی ایموشنل ہو جاتی ہیں
01:12اور کہتی ہیں تم نے جو کیا وہ غلط تھا
01:13لیکن تم پھر بھی میرے بیٹے ہو
01:15یہ سن کر ترسم بھی بی بی جان سے مافی مانگتا ہے
01:17تب ہی ترسم کی نظر رابیہ پر پڑتی ہے
01:19اس کے دل میں پرانی محبت دوبارہ جاگتی ہے
01:21لیکن جب اسے پتا چلتا ہے
01:22کہ سربلند اور رابیہ ایک دوسرے کے ساتھ زندگی شروع کر چکے ہیں
01:26تو ترسم اپنے بھائی کی خوشی کے لیے
01:28اپنی محبت کو قربان کرنے کا فیصلہ کرتا ہے
01:30اسی وقت بی بی جان سربلند سے کہتی ہیں
01:32ہمارے گھر نے بہت دکھ دیکھے ہیں
01:33اب میں چاہتی ہوں کہ اس حویلی میں دوبارہ خوشی آئیں
01:36یہ کہہ کر وہ سربلند اور رابیہ کے ولیمے کی تیاری کا فیصلہ کرتی ہیں
01:39رابیہ فوراں اپنے مامو اور بھائی تیب کو بھی بلاتی ہے
01:42اور کچھ ہی وقت بعد پوری حویلی مہمانوں سے بھر جاتی ہے
01:45ولیمے کے بعد ترسم گل مہر کے پاس جا کر کہتا ہے
01:47میں نے اپنی زندگی میں بہت ولتیاں کی ہیں
01:49لیکن اب میں سب کچھ بدلنا چاہتا ہوں
01:51گل مہر بھی اس کا ساتھ دینے کے لیے راضی ہو جاتی ہے
01:53اگلے دن مولوی صاحب کو بلائی جاتا ہے
01:55اور ترسم اور گل مہر کا نکاح ہو جاتا ہے
01:57دوسری طرف بی بی جان سربلند سے کہتی ہیں
01:59بیٹا اب میری ایک اور خواہش ہے
02:00میں تم دونوں کا بچہ اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتی ہوں
02:02یہ سن کر سربلند اور رابیہ ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرہ دیتے ہیں
02:05اس کے بعد سربلند رابیہ کو ہنیمون کے لیے کشمیر لے جاتا ہے
02:08دونوں کچھ وقت ایک ساتھ سکون سے گزارتے ہیں
02:11اور پھر خوشی خوشی حویلی واپس آ جاتے ہیں
02:13اگلے دن سربلند رابیہ کو ناشتہ کرنے کے لیے اٹھاتا ہے
02:15لیکن رابیہ کی آنکھیں نہیں کھلتی
02:17یہ دیکھ کر سربلند کے ہوش اڑ جاتے ہیں
02:19اور وہ فوراں ڈاکٹر کو بلاتا ہے
02:20ڈاکٹر چیک اپ کے بعد سربلند کو بتاتی ہے
02:22مبارک ہو رابیہ ماں بننے والی ہے
02:24یہ خبر بی بی جان کو ملتی ہے
02:25تو ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہتا
02:27وہ رابیہ کا خوب خیال رکھتی ہیں
02:29اور پوری حویلی میں نئے مہمان کے آنے کی تیاری شروع ہو جاتی ہے
02:32کچھ وقت بعد رابیہ کی طبیعت دوبارہ خراب ہوتی ہے
02:34اور سربلند اسے فوراں ہاسپٹل لے کر جاتا ہے
02:37ڈاکٹر باہر آ کر کہتی ہے
02:38مبارک ہو رابیہ کے گھر بیٹا پیدا ہوا ہے
02:40یہ سن کر سربلند کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو آ جاتے ہیں
02:42اور وہ رابیہ کو گلے لگا لیتا ہے
02:44تو دوستوں آپ کو کیا لگتا ہے
02:45کیا اسی طرح سربلند اور رابیہ کی ہیپی اینڈنگ ہوگی
02:48اگر آپ بھی ان کا بیوی دیکھنا چاہتے ہیں
02:49تو کومنٹ سیکشن میں ہیپی اینڈنگ ضرور لکھیں
Comments