00:00دورے افق پر ریت کا ایک خوفناک توفان اٹھ رہا تھا
00:04اور عمر کے سامنے اب واپسی کا کوئی راستہ نہیں تھا
00:14پریشان نہ ہو اللہ ہمارے ساتھ ہے
00:20چند لمحوں میں آسمان اور زمین کا فرق مٹ گیا
00:25ہر طرف صرف ریت ہی ریت تھی
00:31اے میرے رب
00:33اے میرے رب
00:34اب میرا سہارا بھی ختم ہو گیا
00:39پانی ختم ہو چکا تھا
00:44کھجوریں بھی باقی نہ تھی
00:46مگر عمر کا یقین ابھی زندہ تھا
00:51اب عمر کے پاس نہ دولت تھی
00:53نہ فوج اور نہ ہی پانی کا ایک قطرہ
01:03یا اللہ
01:05مجھے اپنی رحمت سے مایوس ایوس نہ کرنا
01:10جب دنیا کا ہر سہارا چھوٹ جائے
01:14تب بندہ اپنے رب کے سب سے قریب ہوتا ہے
01:21توفان رک گیا
01:23مگر عمر کی سانسیں اب بھی خطرے میں تھی
01:31وہاں
01:33وہاں شاید کوئی آبادی ہے
01:40وہ ایک بدوی قبیلہ تھا
01:43مگر وہاں زندگی بھی پیاس سے لڑ رہی تھی
01:52مسافر
01:53ہمارے پاس تمہیں دینے کے لیے پانی بھی نہیں
02:01مایوس نہ ہوں
02:03اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے
02:12عمر کے پاس دولت نہیں تھی
02:14مگر اس نے امید کا راستہ تلاش کرنا شروع کر دیا
02:23اگر پانی کہیں ہے
02:24تو ہم اسے ڈھونڈ نکالیں گے
02:31عمر کی محنت دیکھ کر
02:32قبیلے کے نوجوان بھی اٹھ کھڑے ہوئے
02:35اب یہ صرف عمر کی نہیں
02:37سب کی کوشش تھی
02:42ہمت مت ہارو
02:44کوشش کرنے والوں کے لیے
02:45راستے ضرور کھلتے ہیں
02:51بیٹا
02:53شاید پانی یہاں ہے ہی نہیں
02:55نہیں سردار
02:56ابھی ہمت نہیں ہارنی
02:59پھر اچانک
03:00زمین کے سینے سے
03:02ٹھنڈا میٹھا پانی پھوٹ نکلا
03:06اللہ اکبر
03:09یہ سونا قبول کر لو
03:11تم نے ہماری جانیں بچائی ہیں
03:12مجھے سونے کی ضرورت نہیں
03:14میں نے یہ کام اللہ کی رضا کے لیے کیا ہے
03:16مگر اس دن اسے ایسی کمائی ملی
03:18جو کسی خزانے میں نہیں ملتی تھی
03:22اللہ کی طرف سے ایک نشانی سمجھ کر رکھ لو
03:27اللہ آپ کو ہمیشہ خوش رکھے
03:30عمر کے لیے یہ قبیلہ صرف ایک منزل نہیں تھا
03:35یہاں اس نے خدمت کا اصل مطلب سیکھا تھا
03:40اللہ تمہیں وہاں پہنچائے جہاں تمہاری نیکی کی سب سے زیادہ ضرورت ہو
03:51دن گزرتے گئے اور عمر اپنی منزل سے آہستہ آہستہ قریب ہوتا گیا
04:01ادھر سلطنت میں کئی مہینے گزر چکے تھے
04:06مگر تینوں شہزادوں کی کوئی خبر نہ آئی
04:11وقت بہت تیزی سے گزر رہا ہے
04:14پتہ نہیں میرے بیٹے کس حال میں ہوں گے
04:19ہر زبان پر ایک ایک ہی سوال تھا
04:22اگلا سلطان کون بنے گا
04:30اس دن تارک کو پہلی بار سمجھ آیا
04:34تلوار زمین جیت سکتی ہے
04:37دل نہیں
04:39اور زید کی وہ دولت جس پر اسے ناز تھا
04:44ایک دھوکے باز تاجر کے ساتھ سمندر پار جا چکی تھی
04:51سونا تو چلا گیا
04:52مگر شاید میں نے اس سے بھی قیمتی چیز کھو دی تھی
04:59عمر کے پاس نہ خزانہ تھا
05:01نہ فتح کا تاج کا تاج
05:05مگر اس کے دل میں ایک عجیب سا اتمنان تھا
05:09دلت ایک سال کی مدت اپنے اختتام کو پہنچ چکی تھی
05:14اب فیصلہ ہونے والا تھا
05:21آج پورا شہر
05:23اپنے آنے والے سلطان کا انتظار کر رہا تھا
05:29تینوں واپس آ گئے
05:32مگر وہ تینوں وہ شہزادے نہیں رہے تھے
05:35جو ایک سال پہلے روانہ ہوئے تھے
05:41ابباجان
05:43صرف طاقت انسان کو بڑا نہیں بناتی
05:51میں دولت کے پیچھے بھاگتا رہا
05:53آخر میں دولت ہی نے مجھے تنہا کر دیا
05:59ابباجان
06:01میرے پاس کوئی سلطنت نہیں
06:03کوئی خزانہ نہیں
06:05بس کچھ سبق ہیں
06:07جو راستے نے مجھے سکھائے
06:10تو بتاؤ
06:11تم تینوں اپنے سفر سے میرے لیے کیا لے کر آئے ہو
06:15دربار خاموش تھا
06:17کیونکہ اصل امتحان کا فیصلہ ابھی باقی تھا
06:19ابباجان
06:21میرے سفر کی اصل نشانی ابھی آپ کے سامنے آنی باقی ہے
06:24مگر عمر کے ہاتھ میں چھپی وہ نشانی
06:26پورے دربار کی تقدیر بدلنے والی تھی
Comments