00:00پرانے زمانے کی بات ہے، عرب کے دور دراز ریگستانوں کے بیچ ایک ایسا شہر آباد تھا جو جنت سے
00:08کم نہ تھا۔
00:10اونچی سفید دیواروں کے اندر ایک خوشحال ریاست تھی جس کی شہرت شہرت پورے عرب میں پھیلی ہوئی تھی۔
00:19کہیں یمن کا قیمتی اطر مہکتا تھا، کہیں دمشق کا ریشم اور کہیں ہندوستان کے مسالوں کی خوشبو ہوا میں
00:28گھلی رہتی تھی۔
00:30اس عظیم ریاست پر سلطان حسن حکومت کرتے تھے۔ وہ نیک، رحمدل، اقل مند اور انصاف پسند حکمران تھے۔
00:39ان کی عدالت میں امیر اور غریب، طاقتور اور کمزور سب کے لیے ایک ہی قانون تھا۔
00:49وہ مانتے تھے کہ ریایہ کی خدمت ہی سب سے بڑی عبادت ہے۔
00:55اسی لیے ان کی ریاست میں کوئی بھوکا نہ سوتا تھا۔
01:00مگر وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا۔
01:03سال گزرتے گئے اور سلطان کی طاقت کم ہونے لگی۔
01:11دنیا کے بڑے حکیموں نے علاج کیا، مگر بڑھاپے اور موت کا کوئی علاج نہ تھا۔
01:20سلطان کو اپنی موت کی فکر نہ تھی، فکر تھی تو اس ریاست اور اس کی معصوم ریایہ کے مستقبل
01:28کی۔
01:30سلطان کے تین بیٹے تھے، مگر تینوں کی سوچ، طبیعت اور راستے ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھے۔
01:39سب سے بڑا بیٹا تارک تھا، بہادر، طاقتور اور تلوار چلانے میں بے مثال۔
01:51طاقت ہو تو دنیا میں کچھ بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔
01:59دوسرا بیٹا زید تھا، تیز دماغ، ماہر تاجر، مگر دولت کا ایسا شہدائی کہ خزانہ ہی اسے دنیا کی اصل
02:08طاقت لگتا تھا۔
02:13جس کے پاس دولت ہو، دنیا اسی کی سنتی ہے۔
02:19اور سب سے چھوٹا عمر تھا۔
02:23نرم دل، خاموش مزاج اور اللہ پر کامل بھروسہ رکھنے والا۔
02:30وہ اپنی عبادت کے ساتھ چپکے چپکے غریبوں کی مدد کرتا تھا۔
02:39سلطان جانتے تھے صرف نرمی کافی نہیں۔
02:43بادشاہ کو دنیا، خطرے اور مشکل فیصلوں کا تجربہ بھی چاہیے۔
02:49وزیر، میرے بعد اس سلطنت کو کس کے حوالے کروں؟
02:54حضور، محل کا سکون کسی انسان کی اصل پہچان نہیں بتاتا۔
02:59اصل امتحان تو وہاں ہوگا، جہاں آرام نہیں، صرف سفر، خطرہ اور آزمائش ہو۔
03:11میرے بیٹو تم تینوں کو ایک سال کا سفر کرنا ہوگا۔
03:14تینوں شہزادوں کو ابھی معلوم نہ تھا کہ یہ سفوری زندگی بدلنے والا تھا۔
03:20ایک سال بعد تم تینوں اسی دربار میں واپس آوگے۔
03:24پھر فیصلہ ہوگا کہ تخت کا اصل حقدار کون ہے۔
03:31صرف دولت یا طاقت نہیں، مجھے تم میں اصل انسان دیکھنا ہے۔
03:39ابا حضور، میں آپ کا حکم مانتا ہوں۔
03:42میں بھی تیار ہوں۔ میں بھی تیار ہوں حضور۔
03:45جو حکم آپ دیں وہی میرے لیے کافی ہے۔
03:50اگلی صبح سے محل میں سفر کی تیاریاں شروع ہو گئیں۔
03:54مگر تینوں شہزادوں کے سفر کا انداز ایک دوسرے سے بلکل مختلف تھا۔
04:04ایسے گھوڑے چاہیے جو راستے میں کسی کے آگے نہ رکیں۔
04:09تارک نے اپنے سارک نے اپنے ساتھ طاقتور سپاہیوں، گھوڑوں اور بے شمار ہتھیاروں کا بڑا لشکر تیار کیا۔
04:21میں اپنی قسمت خود لکھوں گا تلوار کے زور پر۔
04:30غرور اور فتح کے خواب لیے تارک شمال کی طرف نکل پڑا۔
04:35جہاں دور پہاڑی علاقے اور بڑی ریاستیں آباد تھیں۔
04:39اس کے بعد زید کی باری آئی۔
04:42اس نے سفر کے لیے اونٹوں کا ایک طویل قافلہ تیار کیا۔
04:50جہاں دولت ہوگی،
04:55وہاں میرے لیے راستہ خود بن جائے گا۔
04:59زید اپنے خزانے اور تجرباکار تاجروں کے ساتھ جنوب کی طرف روانہ ہوا۔
05:05جہاں بڑے بازار اور سمندری بندرگاہیں تھیں۔
05:09آخر میں عمر آیا۔
05:11نہ اس کے پاس فوج تھی، نہ خزانہ۔
05:14صرف پانی کی ایک مشک، چند کھجوریں اور قرآن پاک تھا۔
05:20عمر، تمہیں سفر کا خوف نہیں؟
05:23اببہ حضور، حضور، جس کے ساتھ اللہ ہو، اسے کس بات کا خوف؟
05:31یا اللہ، مجھے وہ راستہ دکھا جو تیرے بندوں کے کام آئے۔
05:40عمر کو معلوم نہ تھا کہ اس کی منزل کہاں ہے۔
05:43وہ صرف اللہ پر توقل کرتے ہوئے نامعلوم ریگستان کی طرف چل پڑا۔
05:50تینوں بھائی اپنی اپنی سوچ کے مطابق الگ راستوں پر جا چکے تھے۔
05:55اور اب ان کی قسمت بھی الگ راستے اختیار کرنے والی تھی۔
06:01محل کی بلند چھت سے سلطان اپنے بیٹوں کو دور جاتے دیکھتے رہے
06:06اور خاموشی سے ان کے لیے دعا کرتے رہے۔
06:10کسی کے سامنے جنگ تھی، کسی کے سامنے دولت کی دنیا،
06:15اور عمر کے سامنے صرف بے رحم ریگستان۔
06:20مگر عمر کو ابھی خبر نہ تھی کہ اس ویرانے میں اس کا پہلا امتحان اس کے تصور سے بھی
06:28قریب تھا۔
06:30تینوں شہزادے اپنی منزل کی طرف بڑھ رہے تھے۔
06:34مگر اصل آزمائش اب شروع ہونے والی تھی۔
06:40اگر آپ کو اپنے چیزیں دیکھیں،
06:41پھر آپ کو اپنے کی قسمت کے لیے دینے میں اپنے کی ویڈیو اور پھر آپ کی ویڈیوی کو اپنے
06:44کی ویڈیو کیا ہے۔
06:44پھر آپ کو اپنے کی ویڈیو کیا ہے۔
06:47پھر آپ کو اپنے کی ویڈیو کیا ہے۔
Comments