Skip to playerSkip to main content
The Three Princes The Test of Destiny A Powerful Historical Story of Faith Greed Betrayal urdu kahani urdu story
In a magnificent Arabian kingdom, Sultan Al Hasan knows that his time is coming to an end. But before choosing his successor, he must discover which of his three sons is truly worthy of the throne.

Prince Tariq believes strength and the sword can conquer everything.
Prince Zayd believes wealth can buy power and success.
But Prince Umar chooses a different path — faith, patience, kindness and service to others.

The Sultan sends all three princes on a dangerous one-year journey across the Arabian lands. What they find along the way will change their lives forever.

This is a story of faith, greed, pride, betrayal, brotherhood, sacrifice and true leadership — and a powerful reminder that true greatness is not measured by the sword or by gold, but by the goodness of the heart.

Watch the complete story until the end to discover who becomes the rightful ruler of the kingdom.

If you enjoyed this historical story, Like, Share and Subscribe for more cinematic historical and emotional
#HistoricalStory #EpicStory #ArabianStory #EmotionalStory #TheTestOfDestiny #HistoricalDrama #MoralStory #Sultan #Prince #Faith #Brotherhood

Category

📚
Learning
Transcript
00:00پرانے زمانے کی بات ہے، عرب کے دور دراز ریگستانوں کے بیچ ایک ایسا شہر آباد تھا جو جنت سے
00:08کم نہ تھا۔
00:10اونچی سفید دیواروں کے اندر ایک خوشحال ریاست تھی جس کی شہرت شہرت پورے عرب میں پھیلی ہوئی تھی۔
00:19کہیں یمن کا قیمتی اطر مہکتا تھا، کہیں دمشق کا ریشم اور کہیں ہندوستان کے مسالوں کی خوشبو ہوا میں
00:28گھلی رہتی تھی۔
00:30اس عظیم ریاست پر سلطان حسن حکومت کرتے تھے۔ وہ نیک، رحمدل، اقل مند اور انصاف پسند حکمران تھے۔
00:39ان کی عدالت میں امیر اور غریب، طاقتور اور کمزور سب کے لیے ایک ہی قانون تھا۔
00:49وہ مانتے تھے کہ ریایہ کی خدمت ہی سب سے بڑی عبادت ہے۔
00:55اسی لیے ان کی ریاست میں کوئی بھوکا نہ سوتا تھا۔
01:00مگر وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا۔
01:03سال گزرتے گئے اور سلطان کی طاقت کم ہونے لگی۔
01:11دنیا کے بڑے حکیموں نے علاج کیا، مگر بڑھاپے اور موت کا کوئی علاج نہ تھا۔
01:20سلطان کو اپنی موت کی فکر نہ تھی، فکر تھی تو اس ریاست اور اس کی معصوم ریایہ کے مستقبل
01:28کی۔
01:30سلطان کے تین بیٹے تھے، مگر تینوں کی سوچ، طبیعت اور راستے ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھے۔
01:39سب سے بڑا بیٹا تارک تھا، بہادر، طاقتور اور تلوار چلانے میں بے مثال۔
01:51طاقت ہو تو دنیا میں کچھ بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔
01:59دوسرا بیٹا زید تھا، تیز دماغ، ماہر تاجر، مگر دولت کا ایسا شہدائی کہ خزانہ ہی اسے دنیا کی اصل
02:08طاقت لگتا تھا۔
02:13جس کے پاس دولت ہو، دنیا اسی کی سنتی ہے۔
02:19اور سب سے چھوٹا عمر تھا۔
02:23نرم دل، خاموش مزاج اور اللہ پر کامل بھروسہ رکھنے والا۔
02:30وہ اپنی عبادت کے ساتھ چپکے چپکے غریبوں کی مدد کرتا تھا۔
02:39سلطان جانتے تھے صرف نرمی کافی نہیں۔
02:43بادشاہ کو دنیا، خطرے اور مشکل فیصلوں کا تجربہ بھی چاہیے۔
02:49وزیر، میرے بعد اس سلطنت کو کس کے حوالے کروں؟
02:54حضور، محل کا سکون کسی انسان کی اصل پہچان نہیں بتاتا۔
02:59اصل امتحان تو وہاں ہوگا، جہاں آرام نہیں، صرف سفر، خطرہ اور آزمائش ہو۔
03:11میرے بیٹو تم تینوں کو ایک سال کا سفر کرنا ہوگا۔
03:14تینوں شہزادوں کو ابھی معلوم نہ تھا کہ یہ سفوری زندگی بدلنے والا تھا۔
03:20ایک سال بعد تم تینوں اسی دربار میں واپس آوگے۔
03:24پھر فیصلہ ہوگا کہ تخت کا اصل حقدار کون ہے۔
03:31صرف دولت یا طاقت نہیں، مجھے تم میں اصل انسان دیکھنا ہے۔
03:39ابا حضور، میں آپ کا حکم مانتا ہوں۔
03:42میں بھی تیار ہوں۔ میں بھی تیار ہوں حضور۔
03:45جو حکم آپ دیں وہی میرے لیے کافی ہے۔
03:50اگلی صبح سے محل میں سفر کی تیاریاں شروع ہو گئیں۔
03:54مگر تینوں شہزادوں کے سفر کا انداز ایک دوسرے سے بلکل مختلف تھا۔
04:04ایسے گھوڑے چاہیے جو راستے میں کسی کے آگے نہ رکیں۔
04:09تارک نے اپنے سارک نے اپنے ساتھ طاقتور سپاہیوں، گھوڑوں اور بے شمار ہتھیاروں کا بڑا لشکر تیار کیا۔
04:21میں اپنی قسمت خود لکھوں گا تلوار کے زور پر۔
04:30غرور اور فتح کے خواب لیے تارک شمال کی طرف نکل پڑا۔
04:35جہاں دور پہاڑی علاقے اور بڑی ریاستیں آباد تھیں۔
04:39اس کے بعد زید کی باری آئی۔
04:42اس نے سفر کے لیے اونٹوں کا ایک طویل قافلہ تیار کیا۔
04:50جہاں دولت ہوگی،
04:55وہاں میرے لیے راستہ خود بن جائے گا۔
04:59زید اپنے خزانے اور تجرباکار تاجروں کے ساتھ جنوب کی طرف روانہ ہوا۔
05:05جہاں بڑے بازار اور سمندری بندرگاہیں تھیں۔
05:09آخر میں عمر آیا۔
05:11نہ اس کے پاس فوج تھی، نہ خزانہ۔
05:14صرف پانی کی ایک مشک، چند کھجوریں اور قرآن پاک تھا۔
05:20عمر، تمہیں سفر کا خوف نہیں؟
05:23اببہ حضور، حضور، جس کے ساتھ اللہ ہو، اسے کس بات کا خوف؟
05:31یا اللہ، مجھے وہ راستہ دکھا جو تیرے بندوں کے کام آئے۔
05:40عمر کو معلوم نہ تھا کہ اس کی منزل کہاں ہے۔
05:43وہ صرف اللہ پر توقل کرتے ہوئے نامعلوم ریگستان کی طرف چل پڑا۔
05:50تینوں بھائی اپنی اپنی سوچ کے مطابق الگ راستوں پر جا چکے تھے۔
05:55اور اب ان کی قسمت بھی الگ راستے اختیار کرنے والی تھی۔
06:01محل کی بلند چھت سے سلطان اپنے بیٹوں کو دور جاتے دیکھتے رہے
06:06اور خاموشی سے ان کے لیے دعا کرتے رہے۔
06:10کسی کے سامنے جنگ تھی، کسی کے سامنے دولت کی دنیا،
06:15اور عمر کے سامنے صرف بے رحم ریگستان۔
06:20مگر عمر کو ابھی خبر نہ تھی کہ اس ویرانے میں اس کا پہلا امتحان اس کے تصور سے بھی
06:28قریب تھا۔
06:30تینوں شہزادے اپنی منزل کی طرف بڑھ رہے تھے۔
06:34مگر اصل آزمائش اب شروع ہونے والی تھی۔
06:40اگر آپ کو اپنے چیزیں دیکھیں،
06:41پھر آپ کو اپنے کی قسمت کے لیے دینے میں اپنے کی ویڈیو اور پھر آپ کی ویڈیوی کو اپنے
06:44کی ویڈیو کیا ہے۔
06:44پھر آپ کو اپنے کی ویڈیو کیا ہے۔
06:47پھر آپ کو اپنے کی ویڈیو کیا ہے۔
Comments

Recommended