00:00آج کے اس تجزیے میں ہم ایک ایسی شخصیت کی کہانی پر بات کرنے جا رہے ہیں جو جتنی پیچیدہ
00:05ہے اتنی ہی حیران کن بھی
00:07کرکٹ کے میدانوں سے لے کر وزیر آزم کے ایوانوں اور پھر حالیہ قانونی کشمکش تک یہ عمران خان کا
00:14طویل اور تہل کا خیز سفر ہے
00:16ہم یہاں محض حقائق کی بنیاد پر بلکل غیر جانبدارانہ انداز میں اس سفر کی کڑیاں ملانے کی کوشش کریں
00:23گے تاکہ اس پوری کہانی کو واضح طور پر سمجھا جا سکے
00:26تو چلیے اس باتچیت کو ہم ان چھ اہم ادوار میں تقسیم کرتے ہیں
00:32ابتدائی زندگی، کرکٹ کا اروج، فلاہی کام، سیاست میں قدم، اقتدار تک کا سفر اور آخر میں یہ حالیہ قانونی
00:41لڑائیاں
00:42اور اس سفر کی شروعات 1992 کے ورلڈ کپ کے اس مشہور زمانہ جملے سے بہتر کیا ہو سکتی ہے
00:48میں نے لڑکوں سے کہا کہ انہیں کارنر ٹائگرز کی طرح کھیلنا ہوگا، بس میدان میں اترے اور لڑیں
00:54یہ محض چند الفاظ نہیں تھے، یہ دراصل ایک کارنر ٹائگر یعنی دیوار سے لگے ہے شیر کی ذہنیت تھی
01:02ایک ایسی زد اور کبھی ہار نہ ماننے والا جذبہ جو اس شخصیت کی پوری زندگی پر ہاوی نظر آتا
01:09ہے
01:09ذرا سوچئے یہ کتنی عجیب اور افثانوی سی بات لگتی ہے کہ ایک عالمی سپورٹس آئیکون
01:15جسے پوری دنیا ایک چیمپئن کے طور پر مانتی تھی
01:18پہلے تو ملک کے سب سے بڑے سیاسی عہدے تک پہنچتا ہے
01:22اور پھر وہی شخص قیدی نمبر 804 بن جاتا ہے
01:26یہ وہ بنیادی سوال ہے جو آج کے اس سیشن میں ہمارے ذہنوں پر چھایا رہے گا
01:32تو شروعات کرتے ہیں پہلے باپ سے
01:34ابتدائی زندگی اور ایک مختصر جائزہ
01:391952 میں لاہور میں پیدا ہونے والے عمران خان نے
01:421971 میں اپنے پہلے انٹرنیشنل ٹیسٹ کرکٹ میٹ سے قبل
01:46معروف آکسفورڈ یونیورسٹی سے عالی تعلیم حاصل کی
01:49یعنی ایک طرف ایک بہترین اور مضبوط تعلیمی پسی منظر تھا
01:53اور دوسری طرف کرکٹ کا جنون
01:55جس نے آگے چل کر ان کی زندگی کا مکمل راستہ ہی تیہ کر دیا
01:59اب بڑھتے ہیں دوسرے باپ کی جانب
02:03کرکٹ کا لیجنڈ
02:04یہاں ذرا ان عداد و شمار کو دیکھئے
02:07یہ واقعی کمال کے ہیں
02:0988 ٹیسٹ میچوں میں
02:123807 رنز
02:13اور ساتھ ہی 362 وکٹیں
02:16یہ صرف نمبرز نہیں ہیں
02:17یہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ ایک آل راونڈر کے طور پر
02:20انہوں نے کس طرح کرکٹ کی دنیا پر راج کیا
02:22اور یہی وہ شاندار کارگردگی تھی
02:25جس کی بدولت پاکستان نے
02:261992 کا ورلڈ کپ جیتا
02:28جو کی یقیناً ملک کی تاریخ کا
02:30ایک بہت بڑا اور یادکار لمحہ تھا
02:33لیکن بات صرف بلے اور گین تک
02:35محدود نہیں تھی
02:36حیران کن بات یہ ہے کہ آج کرکٹ میں
02:39جس نیوٹرل ایمپائرنگ کو ہم ایک لازمی حصہ سمجھتے ہیں
02:42اس کی شروعات بھی دراصل انہوں نے ہی کی تھی
02:441986 میں
02:46جب مقامی ایمپائرز کے فیصلوں پر
02:48انگلیاں اٹنا شروع ہوئیں
02:49تو انہوں نے پہلی بار بینل اقوامی کرکٹ میں
02:51آزاد اور غیر جانبدار ایمپائرز
02:53کو متعرف کروایا
02:54کھیل میں شفافیت لانے کے لیے یہ واقعی
02:57ایک ماسٹر سٹروک تھا
02:58یہاں سے زندگی کا رخ مڑتا ہے
03:01تیسرے حصرے کی طرف
03:03فکھول فلا سے فلا ہی کاموں تک
03:05یہ تقابل دیکھئے کتنا دلچسپ ہے
03:07ایک طرف وہ ورلڈ کپ چیمپئن
03:10جسے بلا تفریق پوری دنیا میں
03:12بے پناہ محبت ملی
03:13اور دوسری طرف ایک ایسی سیاسی شخصیت
03:16جس پر عوام کی رائے انتہائی منقسم ہے
03:18لیکن ان دونوں
03:19بلکل مختلف ادوار کے درمیان
03:22ایک اور بہت اہم پل تھا
03:24جو اکثر نظر انداز ہو جاتا ہے
03:26اور وہ تھا ان کا فلاہی کاموں کا دور
03:28ان فلاہی کاموں کا سکیل
03:30دراصل بہت بڑا تھا
03:31یونیسیف کے خصوصی نمائندے کی طور پر
03:33کام کرنے کے ساتھ ساتھ
03:35انہوں نے شوکت خانم کینسر ہسپتال قائم کیا
03:38ایک ایسا ادارہ جہاں آج بھی
03:40ستر فیصد مریضوں کا بلکل
03:41مفت علاج کیا جاتا ہے
03:43اور پھر دوہزار آٹھ میں نمل کالج کی
03:45بنیاد رکھی
03:46یہ وہ ایک داما تھے جنہوں نے عوامی سطح پر
03:49ان کے ایک ہمدرد اور مسیحہ ہونے
03:52کا تاثر بہت مضبوط کیا
03:53اور اس سب کے بعد چوتھا باب
03:56باقاعدہ سیاسی میدان میں قدم
03:58سیاست کا ذکر آئے
04:00تو یہ تاریخی حقیقت
04:01واقعی حیران کر دیتی ہے
04:03کیا ہمیں معلوم تھا کہ باقاعدہ
04:06سیاست میں آنے سے بہت پہلے
04:08یعنی انیس سو ستاسی میں ہی
04:09اس وقت کے صدر جنرل زیاو الحق
04:12نے انہیں ایک اہم سیاسی
04:14عہدے کی پیشکش کی تھی
04:15اور انہوں نے اس پیشکش کو صاف
04:17مسترد کر دیا تھا
04:18یعنی وہ کسی کی چھتری تلے نہیں
04:20بلکہ اپنی شرائط پر سیاسی میدان میں
04:23اترنا چاہتے تھے
04:24اس ٹائم لائن کو اخور سے دیکھئے
04:26یہ کسی رولر کوسٹر سے کم نہیں ہے
04:28انیس سو چینوے میں پاکستان تحریک انصاف بنائی
04:31کئی سالوں کی جدوجہد کے بعد
04:33دو ہزار دو میں صرف ایک نشست پر کامیابی ملی
04:36دو ہزار سات میں انہیں نظر بند تک کیا گیا
04:39لیکن پھر دو ہزار گیارہ آتا ہے
04:41اور اچانن بڑے بڑے جلسوں میں
04:43ایک ایک لاکھ سے زیاد افراد کی شرکت نظر آتی ہے
04:47ایک نشست سے لے کر ان وشال جلسوں تک کا یہ سفر
04:50بے پناہ سبر اور استقامت کی کہانی ہے
04:53اب ہم بڑھتے ہیں پانچوے باپ کی جانب وزارت اعظمہ کا سفر
04:57یہاں ہمارے سامنے محض ایک ہندسہ ہے
05:00ایک سو چھبیس
05:01یہ کوئی عام نمبر نہیں ہے
05:03سیاسی میدان میں یہ انتھک لگن
05:06اور ایک بےمثال دباؤ کی علامت بن چکا ہے
05:09دراصل یہ ایک سو چھبیس دن
05:11اس طویل دھرنے کے ہیں
05:13جو دو ہزار چودہ کے مظاہروں کے دوران دیا گیا تھا
05:16اس دھرنے نے ایک ایسا سیاسی مومنٹم پیدا کیا
05:19جس نے پورے ملک کی توجہ حاصل کر لی
05:22وہی کارڈنر ڈائگر والا جذبہ
05:24جو ہم نے کرکٹ کے میدان میں دیکھا تھا
05:27اب اس سیاسی حکمت عملی میں
05:29پوری طاقت سے نظر آ رہا تھا
05:31اور اس مسلسل جدو جہد اور سیاسی دباؤ کا
05:35ختمی نتیجہ دوہزار اٹھارہ میں سامنے آیا
05:37انہوں نے بیک وقت پانچ مختلف حلقوں سے انتخاب لڑا
05:41اور ملکی تاریش کے پہلے فرد بن گئے
05:44جس نے ان تمام پانچ حلقوں میں شاندار کامیابی سمیٹھی
05:47اور یوں بالا آخر وہ پاتستان کے وزیراعظم منتخب ہو گئے
05:52لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی
05:55آئیے دیکھتے ہیں آخری اور چٹھا باب
05:57برطرفی اور قانونی لڑائیاں
06:00اپریل دوہزار بائیس میں ملکی سیاست میں ایک بھوچال آ گیا
06:03خارجہ پولیسی کے بعض تنازات
06:06اور اندرونی سیاسی کشیدگی کے باعث
06:08ان کے خلاف ادم احتماد کی تحریک پیش کی گئی
06:11اور وہ تاریخ کے پہلے پاکستانی وزیراعظم بن گئے
06:14جنہیں اس آئینی طریقے کے ذریعے عودے سے ہٹایا گیا
06:17ان کی جانب سے اسے ایک سازش قرار دیا گیا
06:20جبکہ مخالفین نے اسے جمہوری عمل کا نام دیا
06:23اقتدار سے ہٹنے کے بعد کے حالات اور بھی زیادہ کشیدہ ہو گئے
06:27دوہزار بائیس میں ہی ایک مارچ کے دوران ان پر قاتلانہ حملہ ہوا
06:31اور اس کے بعد مختلف مقدمات میں گرفتاریوں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوا
06:36یہاں ہمارا مقصد ان حقائق کو غیر جانبدارانہ طور پر سامنے رکھنا ہے
06:40کہ کس طرح اقتدار کے فوراں بعد شدید ترین قانونی لڑائیوں کا آغاز ہوا
06:45ان حالیہ قانونی کاروائیوں کی شدت کو سمجھنے کے لیے
06:49ذرا ان دو عادات پر غور کریں
06:51چودہ اور سترہ
06:52یہ دراصل ان سزاؤں کی مدت ہے جو حالیہ عدالتی فیصلوں کے نتیجے میں سامنے آئی
06:58القادر ٹرسٹ کیس میں چودہ سال
07:00چپکہ توشہ خانہ ٹو کیس میں انہیں سترہ سال قید کی سزا سنائی گئی
07:04ایک چانب یہ بیانیاں موجود ہیں
07:06کہ یہ تمام مقدمات سیاسی انتقام کی بنیاد پر بنائے گئے ہیں
07:10چپکہ حکام کا اسرار ہے
07:11کہ یہ محض قانونی احتساب کا شفاف عمل ہے
07:15تو اس سب کو دیکھتے ہوئے
07:17اب سب سے بڑا سوال یہی پیدا ہوتا ہے
07:19کہ تاریخ بالآخر
07:20اس کانر ٹائگر کے
07:22اس کا سیر الجہتی اور انتہائی متنازہ سفر کا فیصلہ کیسے کرے گی
07:26کرکٹ کا وہ بیت آج بادشاہ
07:28فلاہی کاموں کا مسیحہ
07:30اور سیاست کا وہ طاقتور لیکن متنازہ رہنما
07:33جو آج قید میں ہے
07:34آنے والا وقت ان تمام ادوار کو کس طرازوں میں تولے گا
07:38یہ ایک ایسا گہرا سوال ہے
07:40جو یقیناً دیر تک سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے
07:43آج کے اس معلوماتی سیشن میں ساتھ رہنے کا بہت شکریہ
07:47امید ہے اس تجزیے سے ان تمام واقعات اور حقائق کو
07:50واضح طور پر سمجھنے میں مدد ملی ہوگی
Comments