Skip to playerSkip to main content
  • 1 day ago

Category

🏖
Travel
Transcript
00:00Assalamualaikum, we are here to work, so how much time do we have been doing this?
00:075 years ago
00:085 years ago
00:09This is the Chai Ka Baag, which is the National Tea and High Value Crops Research Institute
00:22Shankyari Zilamand Sehra KPK in the case of the KPK in the case of the KPK.
00:26This is the Pakistan Agricultural Research Council of the KPK.
00:35If this is the KPK, this KPK in the case of the KPK.
00:42This KPK in the case of the KPK, this KPK in the case of the KPK.
00:42This KPK, which is the total of KPK, which is the total of KPK.
00:48The KTK Foundation of the KPK – and local cells in population – and localni machen khiated by KPK.
01:01اس نے اس ادارے کی اہمیت بہت زیادہ بڑھا دی
01:06اور اسی کے نتیجے میں 1996 میں
01:10اس ادارے کو ایک ریسرچ انسٹیٹیوٹ کا درجہ دیا گیا
01:15اور اس کا جو دائرہ کار تھا
01:18اس کو بھی بڑھا دیا گیا
01:21اور مزید تحقیق کے لیے
01:23بہت سی جدید سہولیات دی گئیں
01:27دوستوں جب یہ ادارہ بنائے گیا
01:30اس وقت اس کا نام
01:32نیشنل ٹی ریسرچ اسٹیشن تھا
01:36پھر دو ہزار تیرہ میں
01:39اس ادارے کا نام
01:40نیشنل ٹی اینڈ ہائی ویلیو کروپس
01:45ریسرچ انسٹیٹیوٹ کر دیا گیا
01:48اور اس کے بعد چائے کے ساتھ ساتھ
01:52یہاں پر دیگر ہائی ویلیو کروپس
01:57جیسا کہ کیوی، زیتون، سیب، اکھروٹ، بلیو بیری، سٹرو بیری
02:05اور مقصود پہاڑی پھلوں کی تحقیق بھی
02:09اس کے دائرہ کار میں شامل کی گئی
02:12اس ادارے کا جو سب سے بڑا مقصد ہے
02:15وہ ہے پاکستان میں چائے کی لوکل پیداوار کو بڑھاوا دینا
02:22اور جو چائے ہم درامت کرتے ہیں مختلف ملکوں سے
02:26اس میں کمی لانا
02:29پاکستان میں چائے کی کاشت کا تصور کوئی نیا نہیں ہے
02:34قیام پاکستان کے بعد بہت سی جنگاؤں پر چائے کی تجرباتی کاشت کی گئی
02:41لیکن موسمی حالات اور دوسرے وسائل کی کمی کی وجہ سے منصوبے کامیاب نہ ہو سکے
02:481980 کا جو اشرہ تھا اس میں حکومت پاکستان نے
02:54زراد کے شعبے کو مضبوط بنانے اور چائے کی درامداد پر
02:59انحسار کم کرنے کے لیے ایک مرتبہ پھر چائے کی کھیتی کی طرف توجہ دی
03:05اور اسی دوران سوات، آزاد کشمیر، ہریپور اور مان سہرہ میں
03:11چائے کے پودے لگا کر تجربات کیے گئے
03:14دوستوں ان تمام تجرباتی مراکز میں جو یہ شنکیاری کا مرکز تھا
03:22یہ زیادہ مضبوط ثابت ہوا
03:24کیونکہ یہاں کا جو ویدر ہے جو مٹی ہے وہ چائے کی کاشت کے لیے مناسب ہے
03:30شنکیاری سطح سمندر سے تقریباً ایک ہزار سے لے کر
03:36بارہ سو میٹر کی بلندی پر واقع ہے
03:40جو کہ چائے کی کاشت کے لیے بلکل مناسب ہے
03:44کیونکہ جو یہاں کا موسم ہے وہ موتدل رہتا ہے
03:49سال بھر میں مناسب بارش ہوتی ہے
03:53نمی بھی موجود ہے
03:54دوستو چائے کے پودے ایسے موسم میں پرورش پاتے ہیں
04:00جہاں سورج کی روشنی نرم ہو
04:03بارش بلکل مناسب ہو
04:07اور ٹیمپریچر جو ہے حد سے زیادہ نہ بڑے
04:11نہ تو زیادہ گرمی ہو اور نہ ہی حد سے زیادہ سردی پڑتی ہو
04:16دوستو شنکیاری میں جو چائے کے باغات لگائے گئے تھے
04:21اس کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو روزگار ملا ہے
04:26اس علاقے میں خاشتکار، مزدور، فیکٹری ورکر، ٹریننگ سٹاف، مقامی ٹرانسپورٹر اور جو ٹریول اور ٹوریزم کا کاروبار کرتے ہیں
04:39ان سب کو فائدہ ہو رہا ہے
04:42ان باغات کی وجہ سے جو لوکل معیشت ہے وہ مضبوط ہو رہی ہے
04:50دوستو اس ریسرچ سینٹر میں نئی اقسام کی چائے پر تحقیق
04:56بیماریوں سے بچاؤ کے طریقے
04:59جدید کاشکاری کے طریقے
05:02چائے کی پیداوار بڑھانے کے طریقے
05:05اور کسانوں کو تربیت دی جاتی ہے
05:08دوستو ادھر ایک بچہ پھر رہا ہے
05:13یہ کی چیز کہا ہے
05:18یہ والا یہ جو آگے لگ رہا ہے
05:21یہ والا یہ درخت
05:25اچھا
05:26اچھا
05:26وہ نہیں ہوتا زیتون
05:29کھا لیتے ہیں اس کو کھاتے ہیں
05:32کھاتے ہیں
05:33کھاتے ہیں
05:33کھاتے ہیں
05:34اب بھی در کام کرتے ہیں
05:36نہیں ویسے ہی سیار کرنے ہیں
05:39ہاں
05:40نہیں
Comments