Skip to playerSkip to main content
Discover the profound virtue of forgiveness through the teachings of Prophet Muhammad (peace be upon him) in this insightful episode of "Khasail-e-Nabvi." Explore the true meaning of pardon and its immense benefits for individuals and the Islamic community.

Learn why forgiveness is not just a command but a path to elevated status, guaranteed by the Prophet himself. Understand the divine promise associated with forgiving those who may not seem deserving, and how this act brings us closer to Allah's mercy.

Witness the Prophet's (PBUH) own life as a testament to his compassionate nature. An incredible historical account vividly illustrates his extraordinary capacity for forgiveness, even in the face of a direct threat. This story inspires us to embrace forgiveness in our own lives, fostering peace and strengthening our faith.

#KhasailENabvi #ForgivenessInIslam #ProphetMuhammad
Transcript
00:00صلی علی نبینا صلی علی محمدنا
00:30جو آمنہ کا لال ہے
00:34ہمارا پروگرام خسائل نبی کے عنوان سے آپ دیکھ رہے ہیں
00:39اور آج ہم خسائل نبی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفتِ افو و درگزر پر بات کریں
00:48گے
00:49افو و درگزر کیا ہے؟ کیوں ضروری ہے؟
00:53اس کے کیا فائدے ہیں؟ کیا آفادیت ہے؟
00:57اور اس سے اسلام کو اور مسلمانوں کو کتنی تقویت ملی
01:02اس کا اندازہ آپ ہمارے اس پروگرام سے کر سکیں گے
01:08نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں افو و درگزر کی جو صفت موجود ہے
01:15اس حدیثِ مبارکہ سے آپ اس بات کا اعلان کر سکتے ہیں
01:20اندازہ کر سکتے ہیں
01:23کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرتِ ماز ابن جبل رضی اللہ عنہ سے فرمایا
01:30ماز اب لوگوں میں ایران کر دو
01:34کہ جو شخص بھی میری طرز پر
01:38میرے انداز پر
01:40لوگوں کو معاف کرے گا
01:43اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے
01:44کہ میں نے اپنے اوپر یہ لازم کر لیا ہے
01:47کہ اس کی معافی میرے ذمہ لازم ہو گئی
01:52آج ہم لوگ
01:53ہمارے معاشرے میں
01:54ہم صلح کرتے ہیں
01:56معاف نہیں کرتے
01:59حالانکہ
02:00معافی مانگنے کا حکم ہے
02:02اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ
02:04کوئی دوسرا ہم سے معافی مانگے
02:07آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو تعلیمات ہیں
02:10فرمایا تم معافی مانگو
02:12اور ہماری طلب کیا ہے
02:14تمنا کیا ہے
02:15ہم کہتے ہیں فلان ہم سے معافی مانگے
02:18معافی مانگنے کا حکم ہے
02:20معافی منگوانے کا حکم نہیں
02:23اور جو معاف کر دیتا ہے
02:24اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
02:27اگر تم محسوس کرو
02:29کہ تمہاری عزت نفس مجروح ہو رہی ہے
02:33تمہارے مقام میں
02:34تمہارے پروٹوکول میں
02:35تمہاری عزت میں کوئی کمی آ رہی ہے
02:37تو تم کل قیامت کے دن آ کر
02:40وہ عزت مجھ سے لے لینا
02:42یعنی اتنی گرنٹی
02:43پتہ یہ چلا
02:44کہ معاف کرنے والے
02:46افو و در گزر کرنے والے
02:48یا معافی دینے والے
02:50یا معافی مانگنے والے کی
02:51اس دنیا میں عزت کی کوئی کمی
02:54نہیں آ سکتی
02:55اس بات کی گرنٹی
02:57آپ صلی اللہ علیہ وسلم دے رہے ہیں
02:59اور معافی کے فضائل
03:01حدیث مبارکہ میں
03:03پورے پورے ابواب موجود ہیں
03:04ایک موقع پر حضرت عبادہ بن سامت
03:07رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں
03:09میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو
03:14یہ بات ایک مرتبہ نہیں
03:17یارہ مرتبہ فرماتے ہوئے سنا
03:20کیا بات
03:21فرما تم کسی ایسے شخص کو معاف کر دو
03:24جو تمہارے ہاں
03:27معافی کے قابل نہیں ہے
03:28تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
03:31میں تمہیں وہاں معاف کروں گا
03:34جہاں تم معافی کے قابل نہیں ہوگے
03:37اس حدیث مبارکہ سے اندازہ کیجئے
03:40کہ کیا ہم اللہ تعالیٰ کے ہاں معافی کے قابل ہیں
03:45اگر ہم اللہ تعالیٰ کے ہاں معافی کے قابل نہیں ہیں
03:48تو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے حبیب
03:50دکھی دلوں کے طبیب جنابی رسالت امام صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے
03:55اس معاملے کو کتنا آسان فرما دیا
03:58کہ آپ بندوں کو معاف کریں
04:01آپ لوگوں کو معاف کریں
04:02ہمارے ہاں عمومی طور پر
04:04کبھی کبھی ہم صلح کر بھی لیتے ہیں
04:06جہاں ہمارا دل چاہتا ہے
04:07منشہ ہوتی ہے
04:08اور ہمارے دل کی تمہ ہوتی ہے
04:10ہمارا کچھ لالچ ہوتا ہے
04:12تو وہاں ہم کہتے ہیں
04:13چلو جی ہم معاف کر بھی دیتے ہیں
04:14معافی لے بھی لیتے ہیں
04:15لیکن ہمارے خاندان میں
04:17برادری میں
04:18عزیز و اقارب میں
04:19عشیرہ میں
04:20قوم میں
04:21کبیلے میں
04:21کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں
04:23ان کی طرف سے زیادتی ایسی ہوتی ہیں
04:25ہم کہتے ہیں جناب یہ شخص تو معافی کے قابل نہیں ہے
04:28تو اسے معاف کیوں کیے جائے
04:30تو ان تمام لوگوں کے لیے
04:32میرا یہ میسج ہے
04:34یہ پیغام ہے
04:35وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث پر غور کریں
04:38حضرت عبادہ بن سامد کہتے ہیں
04:40حضور نے فرمایا
04:41تم کسی ایسے شخص کو معاف کرو
04:45جو تمہارے ہاں
04:46معافی کے قابل نہیں ہے
04:48اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
04:50میں تمہیں وہاں معاف کروں گا
04:52جہاں تم معافی کے قابل نہیں ہوگے
04:54اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف
04:56یہ لیکچر نہیں دیا
04:58یہ بیان نہیں دیا
04:59یہ حدیث بیان نہیں فرمائی
05:01حضور نے عملاً اپنی زندگی میں
05:03ایسا کر کے دکھایا ہے
05:05حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں
05:08ایک درخت کے نیچے
05:09آپ صلی اللہ علیہ وسلم
05:10آرام فرما رہے ہیں
05:12اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی
05:14اپنی تلوار آپ کے پاس رکھی ہوئی ہے
05:17ایک یہودی آتا ہے
05:19اور آ کر حضور کی تلوار آرام سے اٹھا لیتا ہے
05:22اور تلوار اٹھا کر
05:23اس کی اپنی تلوار
05:24اس کے اپنے ہاتھ میں موجود ہے
05:26اس نے تلوار نیام سے نکالی
05:29تو نیام سے نکلتے ہوئے تلوار کی
05:32جو آواز پیدا ہوئی
05:33آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بیدار ہوئے
05:35Now you must have been in the UN with the test
05:39in the eye of our eyes
05:41and you should have taken foot
05:44on the side of the Lord
05:45the Lord's power of the Lord
05:46is told that now, who's to say,
05:47who will be?
05:49this law says,
05:50this is what you see in the eye of the other
05:51He says that.
05:52He said that.
05:54He then admitted that.
05:55He said that He said,
05:57He said that He had to leave
06:02that the Lord's power of Allah
06:05ڈالوار گئی جیسے ہی تلوار گری تو حضور نے تلوار اٹھا لی اب اسے اس کی جگہ پر حضور کی
06:13جگہ پر کوئی اور ہوتا تو یقیناً اس یہودی کی خیر نہ ہوتی اب یہ یہودی کپ کپانے لگا حضور
06:20نے تلوار اٹھائی اور اسے فرمایا کیا ہوا اب ڈر کیوں رہے تو فرمایا یقیناً پہلے میں آپ سے انتقام
06:28لے رہا تھا اپنے حسد کا بغض کا اور اب اب تلوار آپ کے ہاتھ میں ہیں تو آپ کا
06:33حق بنتا ہے
06:35لیکن میں نے سنا ہے کہ آپ بہت کریم ہیں آپ معاف کرنے والے ہیں آپ درگزر کرنے والے ہیں
06:41حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تلوار اٹھائی اور اس کے ہاتھ میں اسے دی اور فرمایا جاؤ معاف کیا
06:47یہ عمل دیکھنے کے بعد وہ شخص وہیں کہتا ہے یا رسول اللہ یہ تلوار آپ کو ہدیہ ہے یہ
06:53میری تلوار آپ اپنے پاس رکھیے فرمایا کیا کہنا چاہتے ہو فرمایا یا رسول اللہ یہ نشانی میں نے آپ
06:58کی اپنے راہبین سے اپنے علماء سے سنی تھی
07:02کہ آپ موقع پر موجود دشمن کو بھی معاف فرما دیتے ہیں وہ نشانی میں نے آج اپنی آنکھوں سے
07:09دیکھ لی ہے
07:09یہ تلوار آپ ہدیہ رکھیے اور مجھے آپ معاف فرما دیجئے اور کلمہ پڑھائیے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ
07:17وسلم نے اسے کلمہ پڑھایا
07:19افود ارگزر کی سب سے بڑی اگزمپل دامن اسلام کے اندر فتح مکہ ہے
07:25مکہ سے آپ کو آپ کے اہل بیعت کو آپ کے اصحاب کو مہاجرین کو نکالا گیا
07:32بڑی سختیوں کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ تل مکرمہ چھوڑا آپ نے مدینہ کی جانب حجرت
07:39فرمائی
07:40اور جس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس پلٹ کر مدینہ منورہ سے مکہ جا رہے ہیں
07:47تو انداز کیا ہے کہ چودہ ہزار صحابہ اکرام کا لشکر ہے
07:50ہاتھوں میں تلوارے ہیں اور گزرتے ہوئے کہیں سے آواز آئی
07:55کہ آج بدلے کا دن ہے آج بدلہ لیا جائے گا آج بوٹیاں اتاری جائیں گی
08:02ان لوگوں کی جنہوں نے ہمیں نکالا ان لوگوں کی جنہوں نے ہمیں عذیتیں دی
08:06ان لوگوں کی جنہوں نے ہمیں ہمارے گھروں پر قبضہ کیا
08:09ان لوگوں کو جنہوں نے تبتی ریت پر ہمیں گسیٹا
08:13جنہوں نے ہمارا خون نکالا جنہوں نے ہمیں ہجرت پر مجبور کیا
08:17یہ آواز جیسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کان میں پڑی
08:21تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پورے کافلے کو روک دیا
08:24اور پورے کافلے کو روکنے کے بعد آپ کا ایک ہاتھ حضرت عباس پہ ہے
08:29اور دوسرا ہاتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ پر ہے
08:31اور آپ نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے
08:35کندے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اشارہ کر کے فرمایا
08:39ایوہ الناس اے میرے لوگو اے میرے صحابہ اے میرے اہل بیت
08:43آج آپ لوگ محمد مصطفیٰ کے ساتھ آئے ہیں
08:47آج بدلے کا دن نہیں ہے آج معافی کا دن ہے
08:51آج درگزر کا دن ہے آج انتقام کا دن نہیں ہے
08:55آج تو بہترین بدلے کا دن ہے اور بہترین بدلہ
08:59معاف کرنا ہے یہی وجہ ہے کہ آپ نے فتح مکہ کے
09:03موقع پر چند لوگوں کے علاوہ عام معافی کے
09:06اعلان کیا فرمایا جو خانہ کعبہ میں داخل ہوا
09:09اسے بھی امان ہے جو ابو سفیان کے گھر میں داخل ہوا
09:13اسے بھی امان ہے آج تمام لوگوں کو معاف کر دیا
09:17تو دنیا کے اندر افو درگزر کا جو معاملہ ہے یہ
09:21اتنا اہم ہے کہ شاید ہزاروں لاکھوں تلوارے اتنا
09:26کام نہیں کرتی جتنا معافی کام کرتی ہے جتنا
09:29صلح کام کرتی ہے تو میری آپ حضرات سے درخواست ہے
09:33کہ آپ اپنے بچوں کو اس پرسپیکٹس کو پڑھائیے
09:37نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ عمال جن میں آپ
09:41نے افو درگزر فرمایا اور کتنا فرمایا حضرت انس
09:45بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے حضور کی
09:48خدمت میں دس سال تک رہنے کا موقع ملا دس سال تک
09:54حضور کا مسواق حضور کے وضوع کا برطن حضور کے
09:58ضروریات زندگی کا سمان اکثر حضور کے نالین اور یہ
10:02چیزیں حضور کی میرے پاس ہوتی ہیں دس سال کے عرصے میں
10:06حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم
10:10صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک لفظ کبھی بھی نہیں کہا
10:15جسے ہم روز مرہ کی زندگی میں ایک گھنٹے میں کئی مرتبہ
10:18استعمال کرتے ہیں وہ لفظیں کیوں یہ کام تم نے کیوں کیا اور کیوں
10:23نہیں کیا اس لفظ کا استعمال حضرت انس فرماتے ہیں میں نے دس سال
10:28کی زندگی میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک زبان سے
10:34اپنے لیے ایک مرتبہ بھی نہیں سنا آپ زیادہ سے زیادہ ناراض
10:39ہوتے تو آپ کا چہرہ سرخ ہو جاتا زرد پڑتا مگر آپ اپنی زبان
10:44سے ایک لفظ بھی استعمال نہ فرماتے آپ نے بڑے بڑے لوگوں کو معاف فرمایا
10:48وحشی بن حرب جو پہلے مسلمان نہیں تھے آپ نے حضرت حمزہ کو شہید
10:53کیا مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آگئے جب پاس آگئے تو حضور
10:58نے فرمایا صرف میرے سامنے نہ آیا کرو بقی آپ کو آمان مل گئی اور
11:02فرمایا وحشی بن حرب کو کوئی تانہ نہ دے اسی وحشی بن حرب کے ذریعے
11:08اللہ تعالیٰ دنیا کے اندر ایک عظیم پہنچے ہوئے کافر کو اللہ تعالیٰ
11:14دنیا سے ختم فرمائیں گے اور وہ مسلمہ کا ضابطہ اسے اللہ تعالیٰ
11:18نے حضرت وحشی بن حرب رضی اللہ تعالیٰ کے ذریعے قتل کروایا آپ کے
11:23افو و درگزر کی جو تعریف ہے جو شان ہے کائنات میں اس کی مثال
11:29کہیں بھی نہیں ملتی ہزاروں لوگ صرف آپ کی معافی کے صلح ریمی کے اس
11:35معاملے کو دیکھ کر آپ کی طرف آگے بڑے ہیں اور یہ صلح ریمی کا جو
11:39عمل ہے یہ صرف آپ میں اعلان نبوت کے بعد نہیں اعلان نبوت سے پہلے
11:44کا بھی ہے کہ آپ کے ساتھ کسی نے زیادتی کی تو آپ اسی وقت معاف فرما
11:48دیتے آپ ایسے معاف فرما دیتے حضرت علامہ قرطبی رحمت اللہ علیہ
11:54نے لکھا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے معاف کرنے کا جو انداز
11:58تھا وہ اس طرح کا تھا کہ اگلے بندے کو اپنے بہیوئر سے اپنی وزاکتہ سے
12:04اپنے انداز تکلم سے یوں باور کرواتے کہ شاید ہمارے درمیان تو
12:10کبھی کوئی مسئلہ ہوا ہی نہیں ہے جب ہم کسی سے صلح کرتے ہیں تو
12:14وقتی طور پر ہم صلح تو کر لیتے لیکن بعد میں ٹونٹ بھی کرتے ہیں
12:18تنز بھی کرتے ہیں مختلف انداز سے اپنے بہیوئر سے اس سے باور
12:23کرواتے ہیں کہ تم ہمارے ملازم ہو تم ہمارے غلام ہو تم ہمارے نوکر
12:28ہو تم ہمارے بات جوب کرتے ہو تم نے یہ غلطی کی تھی لیکن دیکھو میں نے
12:31تو ہمیں معاف کر دیا ہم اپنے آپ کو دکھا رہے ہوتے ہیں کسی نے
12:35کسی پیمانے پر مگر آقا دوجہان صلی اللہ علیہ وسلم اس انداز سے
12:39معاف کرتے کہ جیسے کبھی کچھ ہوا ہی نہیں ہے ایک صحابی کہے کہ
12:44اپنا واقعہ خود بتاتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضور نے فرمایا اگر میری
12:47طرف سے کسی کے ساتھ کوئی زیادتی ہو تو اسے چاہیے کہ وہ مجھ سے
12:52دنیا میں بدلہ لے لے تو ایک صحابی نے کہا یہ تو بڑا اچھا موقع ہے وہ
12:56کھڑے وروں نے کہا یا رسول اللہ فلاں موقع پر جنگ کے موقع پر آپ کو
13:00کام کرتے ہوئے ایک چھڑی آپ کے ہاتھ میں تھی اور وہ بڑی زور سے میری
13:04کمر میں لے گی میں اس کا بدلہ لینا چاہتا ہوں تو آپ صلی اللہ
13:08علیہ وسلم نے بھرے مجمع میں صحابہ اکرام کے سامنے سے بلایا
13:12فرمایا جلدی میرے قریب آئیے وہ قریب آئے آپ نے اپنی کمیز
13:16اٹھا لی فرمایا تم نے بدلہ لینے ایک چھڑی لیا ہو بدلہ لیو اس صحابی
13:20نے آگے بڑھ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر نبوت پر بوسا لیا اور
13:25آنکھوں میں آنسو آگئے فرمایا یہ رسول اللہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ
13:29اگر کوئی ایسا واقعہ ہوا ہی نہیں اگر ہوتا بھی تو ہم آپ پر اپنی
13:33جانے قربان کرنے والے لوگ ہیں ایسا کبھی نہیں ہو سکتا آج ہمارے
13:37معاشرے میں اسی بنیاد پر افو و درگزر والی صفت جو ہمارے نبی میں
13:43بدرجہ اتم موجود تھی آقا میں موجود تھی آقا کی برکت سے صحابہ
13:50نہ ہونے کی وجہ سے ہمارے ہاں کتنے مسائل ہیں آپ دیکھ لیجئے طلاق
13:54کا ریشو کہاں تک پہنچ چکا ہے چھوٹی چھوٹی باتوں کی وجہ سے ہمارے
13:58گجنوالا ڈویجن میں اس مرتبہ جو طلاق کا ریشو ہے وہ لڑائی اور جھگڑے
14:04اور چھوٹی چھوٹی باتوں کی وجہ سے تقریباً چون سٹھ ہزار پلس کیس ایسے
14:10دائر ہوئے ہیں جہاں بچیوں نے خلا کے کیس دائر کی ہیں اسلام آباد کی
14:14رپورٹ آپ دیکھ لیں کتنی تعداد میں ہے کراچی ایک بڑا شہر ہے وہ اس سے بھی
14:18بڑا ہے اور میں آپ تمام حضرات سے درخواست کرتا ہوں کہ اپنے بچوں کو
14:24بچپن ہی سے عملی طور پر صلح افو درگزر کی عملی پریکٹس کروائیں
14:29تاکہ جب وہ بڑے ہوں تو ان کی زندگی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ
14:33علیہ وسلم کی یہ مبارک زفت بدرجہ اتم موجود ہو اللہ تعالی ہمیں اپنے
14:38معاشرے میں اپنے حلقہ حباب میں اپنے لوگوں میں اپنی عوام میں اپنے
14:44مختدیوں میں اپنے مریدوں میں اپنے نمازیوں میں اپنے ادھارے میں اپنے
14:49میکمے میں وہ رویہ اختیار کرنے کی توفیق نصیب فرمائے جو رویہ اللہ
14:54کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عطا فرمایا یقین کیجئے یہ بات میں
14:59بڑے دعوے سے آخری جملہ کہہ رہا ہوں آج کے اس پروگرام میں کہ
15:03ہولیے کا حساب نہیں ہونا رویوں کا حساب ہونا ہے اور رویہ میں جو
15:08کردار سازی افو و درگزر کا پیلو اختیار کرتا ہے آپ کو بناتا ہے
15:12سوارتا ہے شاید کائنات میں کوئی عمل ایسا نہیں ہے جو انسان کی
15:18زندگی میں اتنی خوشبو اتنی جو ہے وہ اتر اور اتنا موتر کرے اس کی
15:23زندگی کو جو افو و درگزر کا پیلو اختیار کرنے پر انسان کو نعمت
15:28ملتی ہے آپ اپنے لیے اور اپنے بچوں کے لیے اس پیلو کو لازمی
15:33اختیار کریں افو و درگزر کے پیلو کو اپنی زندگی کا لازمی جز
15:38بنا لیں زندگی بھی آسان ہو جائے گی موت بھی اور آخرت بھی اپنا
15:42بہت خیال لکھیں السلام علیکم ورحمت اللہ
15:44سلی علی نبینا سلی علی محمد
Comments

Recommended