00:00صلی علی نبینا صلی علی محمدنا
00:30جو آمنہ کا لال ہے
00:34ہمارا پروگرام خسائل نبی کے عنوان سے آپ دیکھ رہے ہیں
00:39اور آج ہم خسائل نبی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفتِ افو و درگزر پر بات کریں
00:48گے
00:49افو و درگزر کیا ہے؟ کیوں ضروری ہے؟
00:53اس کے کیا فائدے ہیں؟ کیا آفادیت ہے؟
00:57اور اس سے اسلام کو اور مسلمانوں کو کتنی تقویت ملی
01:02اس کا اندازہ آپ ہمارے اس پروگرام سے کر سکیں گے
01:08نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں افو و درگزر کی جو صفت موجود ہے
01:15اس حدیثِ مبارکہ سے آپ اس بات کا اعلان کر سکتے ہیں
01:20اندازہ کر سکتے ہیں
01:23کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرتِ ماز ابن جبل رضی اللہ عنہ سے فرمایا
01:30ماز اب لوگوں میں ایران کر دو
01:34کہ جو شخص بھی میری طرز پر
01:38میرے انداز پر
01:40لوگوں کو معاف کرے گا
01:43اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے
01:44کہ میں نے اپنے اوپر یہ لازم کر لیا ہے
01:47کہ اس کی معافی میرے ذمہ لازم ہو گئی
01:52آج ہم لوگ
01:53ہمارے معاشرے میں
01:54ہم صلح کرتے ہیں
01:56معاف نہیں کرتے
01:59حالانکہ
02:00معافی مانگنے کا حکم ہے
02:02اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ
02:04کوئی دوسرا ہم سے معافی مانگے
02:07آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو تعلیمات ہیں
02:10فرمایا تم معافی مانگو
02:12اور ہماری طلب کیا ہے
02:14تمنا کیا ہے
02:15ہم کہتے ہیں فلان ہم سے معافی مانگے
02:18معافی مانگنے کا حکم ہے
02:20معافی منگوانے کا حکم نہیں
02:23اور جو معاف کر دیتا ہے
02:24اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
02:27اگر تم محسوس کرو
02:29کہ تمہاری عزت نفس مجروح ہو رہی ہے
02:33تمہارے مقام میں
02:34تمہارے پروٹوکول میں
02:35تمہاری عزت میں کوئی کمی آ رہی ہے
02:37تو تم کل قیامت کے دن آ کر
02:40وہ عزت مجھ سے لے لینا
02:42یعنی اتنی گرنٹی
02:43پتہ یہ چلا
02:44کہ معاف کرنے والے
02:46افو و در گزر کرنے والے
02:48یا معافی دینے والے
02:50یا معافی مانگنے والے کی
02:51اس دنیا میں عزت کی کوئی کمی
02:54نہیں آ سکتی
02:55اس بات کی گرنٹی
02:57آپ صلی اللہ علیہ وسلم دے رہے ہیں
02:59اور معافی کے فضائل
03:01حدیث مبارکہ میں
03:03پورے پورے ابواب موجود ہیں
03:04ایک موقع پر حضرت عبادہ بن سامت
03:07رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں
03:09میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو
03:14یہ بات ایک مرتبہ نہیں
03:17یارہ مرتبہ فرماتے ہوئے سنا
03:20کیا بات
03:21فرما تم کسی ایسے شخص کو معاف کر دو
03:24جو تمہارے ہاں
03:27معافی کے قابل نہیں ہے
03:28تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
03:31میں تمہیں وہاں معاف کروں گا
03:34جہاں تم معافی کے قابل نہیں ہوگے
03:37اس حدیث مبارکہ سے اندازہ کیجئے
03:40کہ کیا ہم اللہ تعالیٰ کے ہاں معافی کے قابل ہیں
03:45اگر ہم اللہ تعالیٰ کے ہاں معافی کے قابل نہیں ہیں
03:48تو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے حبیب
03:50دکھی دلوں کے طبیب جنابی رسالت امام صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے
03:55اس معاملے کو کتنا آسان فرما دیا
03:58کہ آپ بندوں کو معاف کریں
04:01آپ لوگوں کو معاف کریں
04:02ہمارے ہاں عمومی طور پر
04:04کبھی کبھی ہم صلح کر بھی لیتے ہیں
04:06جہاں ہمارا دل چاہتا ہے
04:07منشہ ہوتی ہے
04:08اور ہمارے دل کی تمہ ہوتی ہے
04:10ہمارا کچھ لالچ ہوتا ہے
04:12تو وہاں ہم کہتے ہیں
04:13چلو جی ہم معاف کر بھی دیتے ہیں
04:14معافی لے بھی لیتے ہیں
04:15لیکن ہمارے خاندان میں
04:17برادری میں
04:18عزیز و اقارب میں
04:19عشیرہ میں
04:20قوم میں
04:21کبیلے میں
04:21کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں
04:23ان کی طرف سے زیادتی ایسی ہوتی ہیں
04:25ہم کہتے ہیں جناب یہ شخص تو معافی کے قابل نہیں ہے
04:28تو اسے معاف کیوں کیے جائے
04:30تو ان تمام لوگوں کے لیے
04:32میرا یہ میسج ہے
04:34یہ پیغام ہے
04:35وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث پر غور کریں
04:38حضرت عبادہ بن سامد کہتے ہیں
04:40حضور نے فرمایا
04:41تم کسی ایسے شخص کو معاف کرو
04:45جو تمہارے ہاں
04:46معافی کے قابل نہیں ہے
04:48اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
04:50میں تمہیں وہاں معاف کروں گا
04:52جہاں تم معافی کے قابل نہیں ہوگے
04:54اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف
04:56یہ لیکچر نہیں دیا
04:58یہ بیان نہیں دیا
04:59یہ حدیث بیان نہیں فرمائی
05:01حضور نے عملاً اپنی زندگی میں
05:03ایسا کر کے دکھایا ہے
05:05حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں
05:08ایک درخت کے نیچے
05:09آپ صلی اللہ علیہ وسلم
05:10آرام فرما رہے ہیں
05:12اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی
05:14اپنی تلوار آپ کے پاس رکھی ہوئی ہے
05:17ایک یہودی آتا ہے
05:19اور آ کر حضور کی تلوار آرام سے اٹھا لیتا ہے
05:22اور تلوار اٹھا کر
05:23اس کی اپنی تلوار
05:24اس کے اپنے ہاتھ میں موجود ہے
05:26اس نے تلوار نیام سے نکالی
05:29تو نیام سے نکلتے ہوئے تلوار کی
05:32جو آواز پیدا ہوئی
05:33آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بیدار ہوئے
05:35Now you must have been in the UN with the test
05:39in the eye of our eyes
05:41and you should have taken foot
05:44on the side of the Lord
05:45the Lord's power of the Lord
05:46is told that now, who's to say,
05:47who will be?
05:49this law says,
05:50this is what you see in the eye of the other
05:51He says that.
05:52He said that.
05:54He then admitted that.
05:55He said that He said,
05:57He said that He had to leave
06:02that the Lord's power of Allah
06:05ڈالوار گئی جیسے ہی تلوار گری تو حضور نے تلوار اٹھا لی اب اسے اس کی جگہ پر حضور کی
06:13جگہ پر کوئی اور ہوتا تو یقیناً اس یہودی کی خیر نہ ہوتی اب یہ یہودی کپ کپانے لگا حضور
06:20نے تلوار اٹھائی اور اسے فرمایا کیا ہوا اب ڈر کیوں رہے تو فرمایا یقیناً پہلے میں آپ سے انتقام
06:28لے رہا تھا اپنے حسد کا بغض کا اور اب اب تلوار آپ کے ہاتھ میں ہیں تو آپ کا
06:33حق بنتا ہے
06:35لیکن میں نے سنا ہے کہ آپ بہت کریم ہیں آپ معاف کرنے والے ہیں آپ درگزر کرنے والے ہیں
06:41حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تلوار اٹھائی اور اس کے ہاتھ میں اسے دی اور فرمایا جاؤ معاف کیا
06:47یہ عمل دیکھنے کے بعد وہ شخص وہیں کہتا ہے یا رسول اللہ یہ تلوار آپ کو ہدیہ ہے یہ
06:53میری تلوار آپ اپنے پاس رکھیے فرمایا کیا کہنا چاہتے ہو فرمایا یا رسول اللہ یہ نشانی میں نے آپ
06:58کی اپنے راہبین سے اپنے علماء سے سنی تھی
07:02کہ آپ موقع پر موجود دشمن کو بھی معاف فرما دیتے ہیں وہ نشانی میں نے آج اپنی آنکھوں سے
07:09دیکھ لی ہے
07:09یہ تلوار آپ ہدیہ رکھیے اور مجھے آپ معاف فرما دیجئے اور کلمہ پڑھائیے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ
07:17وسلم نے اسے کلمہ پڑھایا
07:19افود ارگزر کی سب سے بڑی اگزمپل دامن اسلام کے اندر فتح مکہ ہے
07:25مکہ سے آپ کو آپ کے اہل بیعت کو آپ کے اصحاب کو مہاجرین کو نکالا گیا
07:32بڑی سختیوں کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ تل مکرمہ چھوڑا آپ نے مدینہ کی جانب حجرت
07:39فرمائی
07:40اور جس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس پلٹ کر مدینہ منورہ سے مکہ جا رہے ہیں
07:47تو انداز کیا ہے کہ چودہ ہزار صحابہ اکرام کا لشکر ہے
07:50ہاتھوں میں تلوارے ہیں اور گزرتے ہوئے کہیں سے آواز آئی
07:55کہ آج بدلے کا دن ہے آج بدلہ لیا جائے گا آج بوٹیاں اتاری جائیں گی
08:02ان لوگوں کی جنہوں نے ہمیں نکالا ان لوگوں کی جنہوں نے ہمیں عذیتیں دی
08:06ان لوگوں کی جنہوں نے ہمیں ہمارے گھروں پر قبضہ کیا
08:09ان لوگوں کو جنہوں نے تبتی ریت پر ہمیں گسیٹا
08:13جنہوں نے ہمارا خون نکالا جنہوں نے ہمیں ہجرت پر مجبور کیا
08:17یہ آواز جیسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کان میں پڑی
08:21تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پورے کافلے کو روک دیا
08:24اور پورے کافلے کو روکنے کے بعد آپ کا ایک ہاتھ حضرت عباس پہ ہے
08:29اور دوسرا ہاتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ پر ہے
08:31اور آپ نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے
08:35کندے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اشارہ کر کے فرمایا
08:39ایوہ الناس اے میرے لوگو اے میرے صحابہ اے میرے اہل بیت
08:43آج آپ لوگ محمد مصطفیٰ کے ساتھ آئے ہیں
08:47آج بدلے کا دن نہیں ہے آج معافی کا دن ہے
08:51آج درگزر کا دن ہے آج انتقام کا دن نہیں ہے
08:55آج تو بہترین بدلے کا دن ہے اور بہترین بدلہ
08:59معاف کرنا ہے یہی وجہ ہے کہ آپ نے فتح مکہ کے
09:03موقع پر چند لوگوں کے علاوہ عام معافی کے
09:06اعلان کیا فرمایا جو خانہ کعبہ میں داخل ہوا
09:09اسے بھی امان ہے جو ابو سفیان کے گھر میں داخل ہوا
09:13اسے بھی امان ہے آج تمام لوگوں کو معاف کر دیا
09:17تو دنیا کے اندر افو درگزر کا جو معاملہ ہے یہ
09:21اتنا اہم ہے کہ شاید ہزاروں لاکھوں تلوارے اتنا
09:26کام نہیں کرتی جتنا معافی کام کرتی ہے جتنا
09:29صلح کام کرتی ہے تو میری آپ حضرات سے درخواست ہے
09:33کہ آپ اپنے بچوں کو اس پرسپیکٹس کو پڑھائیے
09:37نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ عمال جن میں آپ
09:41نے افو درگزر فرمایا اور کتنا فرمایا حضرت انس
09:45بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے حضور کی
09:48خدمت میں دس سال تک رہنے کا موقع ملا دس سال تک
09:54حضور کا مسواق حضور کے وضوع کا برطن حضور کے
09:58ضروریات زندگی کا سمان اکثر حضور کے نالین اور یہ
10:02چیزیں حضور کی میرے پاس ہوتی ہیں دس سال کے عرصے میں
10:06حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم
10:10صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک لفظ کبھی بھی نہیں کہا
10:15جسے ہم روز مرہ کی زندگی میں ایک گھنٹے میں کئی مرتبہ
10:18استعمال کرتے ہیں وہ لفظیں کیوں یہ کام تم نے کیوں کیا اور کیوں
10:23نہیں کیا اس لفظ کا استعمال حضرت انس فرماتے ہیں میں نے دس سال
10:28کی زندگی میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک زبان سے
10:34اپنے لیے ایک مرتبہ بھی نہیں سنا آپ زیادہ سے زیادہ ناراض
10:39ہوتے تو آپ کا چہرہ سرخ ہو جاتا زرد پڑتا مگر آپ اپنی زبان
10:44سے ایک لفظ بھی استعمال نہ فرماتے آپ نے بڑے بڑے لوگوں کو معاف فرمایا
10:48وحشی بن حرب جو پہلے مسلمان نہیں تھے آپ نے حضرت حمزہ کو شہید
10:53کیا مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آگئے جب پاس آگئے تو حضور
10:58نے فرمایا صرف میرے سامنے نہ آیا کرو بقی آپ کو آمان مل گئی اور
11:02فرمایا وحشی بن حرب کو کوئی تانہ نہ دے اسی وحشی بن حرب کے ذریعے
11:08اللہ تعالیٰ دنیا کے اندر ایک عظیم پہنچے ہوئے کافر کو اللہ تعالیٰ
11:14دنیا سے ختم فرمائیں گے اور وہ مسلمہ کا ضابطہ اسے اللہ تعالیٰ
11:18نے حضرت وحشی بن حرب رضی اللہ تعالیٰ کے ذریعے قتل کروایا آپ کے
11:23افو و درگزر کی جو تعریف ہے جو شان ہے کائنات میں اس کی مثال
11:29کہیں بھی نہیں ملتی ہزاروں لوگ صرف آپ کی معافی کے صلح ریمی کے اس
11:35معاملے کو دیکھ کر آپ کی طرف آگے بڑے ہیں اور یہ صلح ریمی کا جو
11:39عمل ہے یہ صرف آپ میں اعلان نبوت کے بعد نہیں اعلان نبوت سے پہلے
11:44کا بھی ہے کہ آپ کے ساتھ کسی نے زیادتی کی تو آپ اسی وقت معاف فرما
11:48دیتے آپ ایسے معاف فرما دیتے حضرت علامہ قرطبی رحمت اللہ علیہ
11:54نے لکھا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے معاف کرنے کا جو انداز
11:58تھا وہ اس طرح کا تھا کہ اگلے بندے کو اپنے بہیوئر سے اپنی وزاکتہ سے
12:04اپنے انداز تکلم سے یوں باور کرواتے کہ شاید ہمارے درمیان تو
12:10کبھی کوئی مسئلہ ہوا ہی نہیں ہے جب ہم کسی سے صلح کرتے ہیں تو
12:14وقتی طور پر ہم صلح تو کر لیتے لیکن بعد میں ٹونٹ بھی کرتے ہیں
12:18تنز بھی کرتے ہیں مختلف انداز سے اپنے بہیوئر سے اس سے باور
12:23کرواتے ہیں کہ تم ہمارے ملازم ہو تم ہمارے غلام ہو تم ہمارے نوکر
12:28ہو تم ہمارے بات جوب کرتے ہو تم نے یہ غلطی کی تھی لیکن دیکھو میں نے
12:31تو ہمیں معاف کر دیا ہم اپنے آپ کو دکھا رہے ہوتے ہیں کسی نے
12:35کسی پیمانے پر مگر آقا دوجہان صلی اللہ علیہ وسلم اس انداز سے
12:39معاف کرتے کہ جیسے کبھی کچھ ہوا ہی نہیں ہے ایک صحابی کہے کہ
12:44اپنا واقعہ خود بتاتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضور نے فرمایا اگر میری
12:47طرف سے کسی کے ساتھ کوئی زیادتی ہو تو اسے چاہیے کہ وہ مجھ سے
12:52دنیا میں بدلہ لے لے تو ایک صحابی نے کہا یہ تو بڑا اچھا موقع ہے وہ
12:56کھڑے وروں نے کہا یا رسول اللہ فلاں موقع پر جنگ کے موقع پر آپ کو
13:00کام کرتے ہوئے ایک چھڑی آپ کے ہاتھ میں تھی اور وہ بڑی زور سے میری
13:04کمر میں لے گی میں اس کا بدلہ لینا چاہتا ہوں تو آپ صلی اللہ
13:08علیہ وسلم نے بھرے مجمع میں صحابہ اکرام کے سامنے سے بلایا
13:12فرمایا جلدی میرے قریب آئیے وہ قریب آئے آپ نے اپنی کمیز
13:16اٹھا لی فرمایا تم نے بدلہ لینے ایک چھڑی لیا ہو بدلہ لیو اس صحابی
13:20نے آگے بڑھ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر نبوت پر بوسا لیا اور
13:25آنکھوں میں آنسو آگئے فرمایا یہ رسول اللہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ
13:29اگر کوئی ایسا واقعہ ہوا ہی نہیں اگر ہوتا بھی تو ہم آپ پر اپنی
13:33جانے قربان کرنے والے لوگ ہیں ایسا کبھی نہیں ہو سکتا آج ہمارے
13:37معاشرے میں اسی بنیاد پر افو و درگزر والی صفت جو ہمارے نبی میں
13:43بدرجہ اتم موجود تھی آقا میں موجود تھی آقا کی برکت سے صحابہ
13:50نہ ہونے کی وجہ سے ہمارے ہاں کتنے مسائل ہیں آپ دیکھ لیجئے طلاق
13:54کا ریشو کہاں تک پہنچ چکا ہے چھوٹی چھوٹی باتوں کی وجہ سے ہمارے
13:58گجنوالا ڈویجن میں اس مرتبہ جو طلاق کا ریشو ہے وہ لڑائی اور جھگڑے
14:04اور چھوٹی چھوٹی باتوں کی وجہ سے تقریباً چون سٹھ ہزار پلس کیس ایسے
14:10دائر ہوئے ہیں جہاں بچیوں نے خلا کے کیس دائر کی ہیں اسلام آباد کی
14:14رپورٹ آپ دیکھ لیں کتنی تعداد میں ہے کراچی ایک بڑا شہر ہے وہ اس سے بھی
14:18بڑا ہے اور میں آپ تمام حضرات سے درخواست کرتا ہوں کہ اپنے بچوں کو
14:24بچپن ہی سے عملی طور پر صلح افو درگزر کی عملی پریکٹس کروائیں
14:29تاکہ جب وہ بڑے ہوں تو ان کی زندگی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ
14:33علیہ وسلم کی یہ مبارک زفت بدرجہ اتم موجود ہو اللہ تعالی ہمیں اپنے
14:38معاشرے میں اپنے حلقہ حباب میں اپنے لوگوں میں اپنی عوام میں اپنے
14:44مختدیوں میں اپنے مریدوں میں اپنے نمازیوں میں اپنے ادھارے میں اپنے
14:49میکمے میں وہ رویہ اختیار کرنے کی توفیق نصیب فرمائے جو رویہ اللہ
14:54کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عطا فرمایا یقین کیجئے یہ بات میں
14:59بڑے دعوے سے آخری جملہ کہہ رہا ہوں آج کے اس پروگرام میں کہ
15:03ہولیے کا حساب نہیں ہونا رویوں کا حساب ہونا ہے اور رویہ میں جو
15:08کردار سازی افو و درگزر کا پیلو اختیار کرتا ہے آپ کو بناتا ہے
15:12سوارتا ہے شاید کائنات میں کوئی عمل ایسا نہیں ہے جو انسان کی
15:18زندگی میں اتنی خوشبو اتنی جو ہے وہ اتر اور اتنا موتر کرے اس کی
15:23زندگی کو جو افو و درگزر کا پیلو اختیار کرنے پر انسان کو نعمت
15:28ملتی ہے آپ اپنے لیے اور اپنے بچوں کے لیے اس پیلو کو لازمی
15:33اختیار کریں افو و درگزر کے پیلو کو اپنی زندگی کا لازمی جز
15:38بنا لیں زندگی بھی آسان ہو جائے گی موت بھی اور آخرت بھی اپنا
15:42بہت خیال لکھیں السلام علیکم ورحمت اللہ
15:44سلی علی نبینا سلی علی محمد
Comments