Skip to playerSkip to main content
Aap Ke Phone Ka Wo Raaz Jo Koi Nahi Batata _ Mobile Spying Exposed - Noor TV

Aap ke hath mein jo smartphone hai, wo sirf ek communication device nahi balkay iske peeche aik pori kahani chupi hui hai. Is video mein hum us haqeeqat ko expose karte hain ke duniya ki bari tech companies ke Research & Development centers kahan located hain, aur kyun ye baat Ummat-e-Muslima ke liye samajhna zaroori hai. Hum baat karenge Pegasus jese famous mobile hacking software ke baray mein, jo journalists, human rights activists aur political opponents ki surveillance ke liye use hua. Sath hi ye bhi janenge ke kaise bari tech companies apne users ko apne system mein trap kar deti hain (subscription traps, cloud storage dependency), aur Muslim countries kaise technology mein self-reliance (khud inhisari) hasil kar sakte hain. Ye video sirf criticism nahi balkay ek roadmap deti hai: education, research, local tech companies, aur digital literacy ke zariye kaise hum aik mehfooz aur khud-mukhtar future ki taraf barh sakte hain. Agar aap technology, privacy, aur Muslim ummah ke future se related facts janna chahte hain to ye video end tak zaroor dekhen.

#NoorTV
#PegasusSpyware #MobileHacking #SmartphoneSecurity #DataPrivacy
#TechIndependence #BoycottIsrael #UmmahAwareness #DigitalPrivacy
#PakistanTech #IndiaTech #UrduVlog

Category

📚
Learning
Transcript
00:01Do you think this is a smartphone?
00:30technology company's research and development
00:32that's the biggest focus
00:34America's talk about
00:35where is it?
00:37If you want to know that you have a little bit of a question
00:40which is how you can do it
00:44and how you can do it
00:45and why you have a technology
00:47to be prepared for it
00:49is the best way to do it
00:51is the video to be able to do it
00:54Assalamualaikum
00:55and Barakatuhu
00:57Nاظرین آج ہمیں ایک ایسے موضوع پر بات کریں گے
00:59جو ہماری روز مرہ زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے
01:02مگر جس کے حقیقت سے
01:04اکثر لوگ بے خبر ہیں
01:05کچھ عرصہ پہلے ایک انتہائی حیران کن بیان سامنے آیا
01:09جس میں ایک عالی احتدار نے
01:10کھلے عام یہ اعتراف کیا
01:12کہ اگر آپ کے ہاتھ میں سمارٹ فون موجود ہے
01:15تو اس کا مطلب ہے
01:16کہ آپ اسی سرزمین کا بنا ہوا
01:18ایک ٹکڑا استعمال کر رہے ہیں
01:19یہ بیان محض ایک اتفاقیہ جملہ نہیں تھا
01:23بلکہ یہ اس حقیقت کی طرف اشارہ تھا
01:25کہ جدید ٹکنالوجی کی سنت میں
01:27اس خطے کا کردار کس قدر گہرا ہو چکا ہے
01:30کوئی بھی سربراہ مملکت
01:32بلا وجہ ایسا بیان نہیں دیتا
01:33اور اس بیان کے پیچھے وہ حقیقت ہے
01:35جسے سمجھنا ہر سمارٹ فون استعمال کرنے والے
01:38کیلئے ضروری ہے
01:39یہ خطہ اس وقت ٹکنالوجی اور سائبر سیکیورٹی
01:42کے میدان میں چین اور تائیوان کے بعد
01:44دنیا کی صفحہ اول میں شمار ہوتا ہے
01:46یہاں کی کامپنیاں دفاع نظاموں کے ساتھ
01:48سائبر ہتیار بھی تیار کرتی ہیں
01:50اور یہی وہ صلاحیت ہے
01:52جس کے ذریعے مختلف انٹیلیجنس ادارے
01:54اپنے مخالفین کو نشانہ بناتے ہیں
01:56اس سلسلے میں سب سے مشہور مثال
01:58وہ موبائل ہیکنگ سارفیئر ہے
01:59جسے پیگاسس کے نام سے جانا جاتا ہے
02:02یہ سارفیئر دنیا بھر کی حکومتوں کو
02:04فروخت کیا گیا
02:05تاکہ وہ اپنے شہریوں
02:06صحابیوں
02:07سیاسی مخالفین اور کارکونوں کے
02:08نگرانی کر سکیں
02:09اس سالفیئر کی خاصیت یہ تھی
02:11کہ کسی بھی سمارٹ فون میں داخل ہو کر
02:13اس کے کیمرے
02:14مایکرو فون
02:15لوکیشن
02:16اور ذاتی ڈیٹا تک
02:17مکمل رسائی حاصل کر لیتا تھا
02:19اور موبائل استعمال کرنے والے کو
02:20اس کا ذرہ برابر اندازہ بھی نہیں ہوتا تھا
02:23یہ بات آج بھی بہت سے لوگوں کے علمیں نہیں
02:25کہ ان کے ہاتھ میں موجود سمارٹ فون
02:27محض ایک مواصلاتی آلہ نہیں
02:29بلکہ جاسوسی کا ایک مکمل نظام ہے
02:31یہی وجہ ہے کہ دنیا کے بڑے بڑے لوگ
02:33خاص طور پر ٹیکنالوجی کمپنیوں کے مالکان
02:35سربراہان مملکت
02:37اور دیگر اہم شخصیات
02:38اپنے دفاتر میں محفوظ رابطے کے لیے
02:41اب بھی لینڈ لائن فون استعمال کرتے ہیں
02:43اور اپنے موبائل فون کے کیمروں کو
02:45ڈھانپ کر رکھتے ہیں
02:46اس کی وجہ یہ
02:47کہ یہ حقیقت ہے
02:48کہ آپ کے موبائل فون کے ذریعے
02:49آپ کے کیمرے کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے
02:51آپ کے لوکیشن معلوم کی جا سکتی ہے
02:54اور آپ کی آواز بھی سنی جا سکتی ہے
02:56آسان الفاظ میں
02:57ہیکنگ کے ذریعے
02:58وہ سب کچھ ممکن ہیں
02:59جو آپ اپنے فون کے ساتھ خود کرتے ہیں
03:01جیسے کیمرہ استعمال کرنا
03:02آڈیو ریکارڈ کرنا
03:04یا جی پی ایس کے ذریعے
03:05لوکیشن معلوم کرنا
03:06اگر آپ کو یہ بات
03:07مبالغہ آ رہی لگ رہی ہو
03:09تو ایک مشہور ٹیکنالوجی چینل کی
03:10ایک ریپورٹ
03:11اس کی عملی مثال پیش کرتی ہے
03:13جس میں ایک ماہر نے یہ عملی طور پر دکھائے
03:15کہ کسی بھی شخص کا سمارٹ فون
03:16ہیک کرنا
03:17کس قدر آسان ہے
03:18اس مظاہرے میں دکھایا گیا
03:20کہ کس طرح ایک ہیکر
03:21اپنے سامنے بیٹھے
03:21شخص کے فون سے
03:23اسی وقت تصویر لے کر
03:24اپنے کمپیوٹر پر دکھاتا ہے
03:26اور اس شخص کو
03:27جس کا فون ہیک کیا گیا
03:28اس بات کا ذرہ برابر اندازہ نہیں ہوتا
03:31ہیکر یہ بھی بتاتا ہے
03:32کہ وہ ایک خاص سوفیر اسٹال کر کے
03:34دکھ کر سکتا ہے
03:35کہ فون ہر سیکنڈ کے بعد
03:36ایک تازہ تصویر بھیجتا رہے
03:38جیسے کوئی لائی ویڈیو چل رہی ہو
03:40اور ساتھ ہی یہ معلوم بھی ہو جائے
03:42کہ وہ شخص کہاں ہے
03:43کہاں سوتا ہے
03:44کہاں رہتا ہے
03:44کس سے ملتا ہے
03:46اور کہاں سفر کرتا ہے
03:47اس کے بعد وہ
03:48اس شخص کی نجے گفتگو کی آواز
03:50بھی ریکارڈ کر کے سنا دیتا ہے
03:51جس پر سامنے بیٹھا شخص
03:52بلکل حیران ہو جاتا ہے
03:54یہ ہے کر یہ بھی بتاتا ہے
03:55کہ یہ سب کچھ کرنے کیلئے
03:56صرف ایک سوفٹ ویر انسٹال کرنا کافی ہے
03:58ہاں فون کو ہاتھ میں پکڑ کر ہو
04:00یا محض ایک لنک بھیج کر
04:01یہ سب باتیں سن کر
04:03وہ بیان مزید مانے رکھنے لگتا ہے
04:04کہ آپ کے ہاتھ میں موجود
04:06آلا اسی خطے کا تیار کردہ ہے
04:08اور یہ صرف ایک بیان نہیں
04:09بلکہ اس کی مزید تصدیق
04:11اس وقت ہوئی
04:12جب ایک مشہور نیوز ایجنسی نے
04:13یہ خبر شائع کی
04:15کہ ایک بڑی ٹیکنالوجی کمپنی
04:16اپنے نئے آئی فون موڈل کی
04:18تیاری میں مصروف ہے
04:19اور اس کی چپ جو ہر لیپ ٹاپ
04:20موبائل فون
04:21اور دیگر آلات کا دماغ ہوتی ہے
04:23کہاں تیار ہو رہی ہے
04:24یہ خبر خود اسی خطے کے
04:26نیوز آوٹلیٹ نے شائع کی
04:28تاکہ اپنی ٹیکنالوجی کی
04:29برطری پر فخر کیا جا سکے
04:31اس خبر کے بعد
04:32ایک عالمی نیوز چینل نے
04:33تحقیقات کی کوشش کی
04:34اور کمپنی کے سربراہ سے
04:36وضاحت طلب کی
04:37مگر انہوں نے جواب دینے سے
04:38انکار کر دیا
04:39جو ظاہر کرتا ہے
04:40کہ وہ اس بات کی تصدیق کرنے سے
04:42کیوں گرے زہیں
04:42ایک سابق ملازم نے یہ بتایا
04:44کہ امریکہ کے بعد
04:45اس کمپنی کا سب سے بڑا
04:46ریسرچ اینڈ ڈیولیپمنٹ سینٹر
04:48اسی خطے کے ایک شہر میں باقع ہے
04:50وہ بتاتے ہیں کہ
04:51یہ کمپنی نہ صرف
04:52ریسرچ اینڈ ڈیولیپمنٹ کے نام پر
04:54اربو ڈالر خرچ کرتی ہے
04:55بلکہ مقامی ٹیکنالوجی کمپنیوں سے
04:57وہ ٹیکنالوجی بھی خریدتی ہے
04:59جو اپنے آلات میں استعمال کرتی ہے
05:01اس وقت اس کمپنی کی چپس
05:03کیمرے اور ہارڈ ویر کا
05:04بڑا حصہ وہیں ڈیزائن ہوتا ہے
05:06اور اس مرکز میں
05:07تقریباً دو ہزار انجنئرز کام کر رہے ہیں
05:09جبکہ کمپنی کی ویب سائٹ پر
05:11اب بھی مزید انجنئرز کی بھرتی
05:13کے اشتہارات موجود ہیں
05:14اس بات کا واضح مطلب یہ ہے
05:16کہ کسی بھی بڑی ٹیکنالوجی کمپنی کا
05:18سب سے زیادہ سرمایہ جو
05:20ریسرچ اینڈ ڈیولیپمنٹ پر خرچ ہوتا ہے
05:22اس کا ایک بڑا حصہ اسی خطے میں جا رہا ہے
05:25اس کے علاوہ کمپنی
05:26وہاں کارپریٹ ٹیکس بھی
05:27الگ سے ادا کرتی ہے
05:29البتہ اس کی مسنوعات کی تیاری
05:31تائیوان کی ایک بڑی کمپنی کرتی ہے
05:33جبکہ فون کی اسمبلنگ چین
05:35بھارت اور ویتنام جیسے ممالک میں ہوتی ہے
05:37جہاں مزدوری سستی ہے
05:39اسی طرح حالیہ برسوں میں جو کچھ
05:41فلسطین میں پیش آیا
05:42اس کے بعد پاکستان بھارت اور دنیا بھر کے مسلمانوں میں
05:45اس خطے سے تعلق اکنے والی
05:47اور اس کی حمایت کرنے والی کمپنیوں کے بائیکارٹ
05:49کی ایک لہر دیکھنے میں آئی
05:50ہمارے علماء اکرام اور مشہور شخصیات
05:52فاس فون اور روز مرہ استعمال کی
05:54مسنوعات کے بائیکارٹ کی تو بات کرتے ہیں
05:56مگر یہ دیکھنا باقی ہے کہ وہ
05:58ٹیکنالوجی کمپنیوں کے بائیکارٹ کے لیے
06:00کب آواز اٹھاتے ہیں
06:01اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو اس کا مطلب یہ ہے
06:04کہ ان کے قول افیل میں تضاد پایا جاتا ہے
06:06یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ
06:08کمپنیاں برسوں سے مختلف طریقوں سے
06:10سارفین سے زیادہ منافع کمانے کی
06:12حکمتیں عملی اپناتی رہی ہیں
06:14مثال کے طور پر انہوں نے
06:16میموری کارٹ کا تصوری ختم کر کے
06:17فون کی اندرونی سٹوریج کا نظام رائش کیا
06:20اور ہر اضافی سٹوریج کے لیے
06:22ہزاروں روپے وصول کرتے ہیں
06:24اس کے علاوہ فون میں محفوظ ڈیٹا کو
06:26کسی اور جگہ منتقل کرنا آسان نہیں ہوتا
06:28جیسا کہ میموری کارٹ کے ساتھ ممکن تھا
06:31اب آپ کو زیادہ سٹوریج کی ضرورت ہو
06:33تو آپ کو کمپنی کے کنٹرول والے
06:34ٹراؤڈ سسٹم پر پیسے دے کر
06:36اپنا ڈیٹا رکھنا پڑتا ہے
06:38جو کسی بھی وقت ہیک ہو سکتا ہے
06:39اسی طرح ہیڈ فون جیک کو ختم کر کے
06:42مہنگے بارلیس ائر برڈز
06:44متعارف کروائے گئے جن کی مرمت بھی ممکن نہیں
06:46ڈی وی ڈیز کا رواج ختم کر کے
06:48سٹریمنگ سرویسز شروع کی گئیں
06:50جس کے لیے ہر مہینے ادائیگی کرنی پڑتی ہے
06:53اور آپ اس نظام میں
06:54ہمیشہ کے لیے قید ہو جاتے ہیں
06:56پہلے ایک ڈی وی ڈی خریدنے کے بعد
06:57وہ آپ کی ملکیت ہوتی تھی
06:59آپ اسے دس سال بعد استعمال کریں
07:01اگر آپ ایک ماہ کی ادائیگی نہ کریں
07:03تو سب کچھ ختم ہو جاتا ہے
07:04خاص طور پر بڑی ٹکنالوجی کمپنیاں
07:07اپنے فائدے کے لیے
07:08اپنے سارفین کو
07:09اپنے مخصوص نظام میں قید کر دیتی ہیں
07:11جہاں سے دوسرے نظام میں
07:13ڈیٹا منتقل کرنا
07:14انتہائی مشکل بنا دیا جاتا ہے
07:16تاکہ سارف ہمیشہ
07:17انہی کو ادائیگیاں کرتا رہے
07:19یہ صرف ایک کمپنی کی بات نہیں
07:21بلکہ دنیا کی دیگر بڑی ٹکنالوجی کمپنیاں بھی
07:23اس خطے کے ساتھ
07:25گہرے مالی روابط رکھتی ہیں
07:26ایک بڑی کمپنی نے
07:27ایک منصوبے میں
07:28اربو ڈالر کی سرمایہ کاری کی
07:30جس کے تحت یہ رقم
07:31ایسی ٹکنالوجی تیار کرنے پر خرچ ہوئی
07:34جو نگرانی اور نشانہ بندی کے لیے استعمال ہو سکے
07:36ایک اور بڑی کمپنی نے
07:38اپنے کلارڈ سرویسز کے ذریعے
07:39ڈیٹا سوریش کی سہولت فراہم کی
07:41جب یہ بات سامنے آئی
07:43تو ان کمپنیوں کے
07:43کئی ملازمین نے
07:44اپنے زمین کے آواز پر لب بے کہتے ہوئے
07:46استیفے دیئے اور احتجاج کیا
07:49ان کا موقف تھا کہ
07:50یہ ٹکنالوجی اور ڈیٹا بیس
07:51صرف نگرانی اور شناخت کے لیے استعمال ہو رہے ہیں
07:53اس کے باوجود
07:54ان کمپنیوں نے
07:55اپنے مہایدے ختم نہیں کیے
07:57اور بعض مقامات پر تو
07:58احتجاج کرنے والے ملازمین کو
08:00زبردستی دفاتر سے نکالا گیا
08:02اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے
08:04کہ آخر ہم اس نظام سے
08:05کیسے نکل سکتے ہیں
08:06اس کا مقابلہ کرنا
08:08کیسے ممکن ہے
08:09صاف اور سیدھی بات یہ ہے
08:10کہ اگر ہمیں اس صورتحال سے نکلنا ہے
08:12تو سب سے پہلے
08:13ٹکنالوجی اور تحقیق کے میدان میں
08:15خود انحصاری حاصل کرنی ہوگی
08:17اس وقت امت مسلمہ
08:18تاریخ کے کیسے موڑ پر کھڑی ہے
08:20جہاں جذبات
08:21ناروں اور وقتی احتجاج سے
08:22آگے بڑھ کر
08:23اقلی حکمت عملی
08:25اور طویل مدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے
08:27جب تک ہم دوسروں کی بنائی ہوئی چپس
08:29آلات
08:29سرچ انجن
08:30اور ڈیجیٹل نظاموں پر انحصار کرتے رہیں گے
08:32ہم انہی کے شاعروں پر چلتے رہیں گے
08:34خواہ ہمیں یہ منظور ہو یا نہ ہو
08:36ہمیں اپنی ریسرچ انڈ ڈیولیپمنٹ کے مراکز
08:38اپنے چپس
08:39اور اپنے آلات
08:40خود بنانے ہوں گے
08:41یہ بات بھی اہم ہے
08:42کہ بنو لقوامی سیاست میں صرف
08:44وہی آواز سنی جاتی ہے
08:45جس کے پیچھے
08:46مضبوط معاشی طاقت کھڑی ہو
08:48خاص طور پر
08:49عرب اور مسلم ممالک کو
08:50امریکہ یا کسی اور بڑی طاقت کی پناہ
08:53تلاش کرنے کے بجائے
08:54آپس میں ایک مضبوط بلوک بنانا چاہیے
08:56تاکہ مختلف قومیتوں
08:57اور خطوں کی تقسیم سے نکل کر
08:59ایک امت کی حیثیت سے متحد ہو سکیں
09:02ہمیں اپنے نوجوانوں کو
09:03محض روز مدرہ کی جد و جہود سے نکال کر
09:06انہیں ایسا ماحول فرام کرنا ہوگا
09:08جس میں وہ سائنس ٹیکنالوجی
09:10اور تحقیق کے میدان میں
09:11مغرب سے آگے نکل سکیں
09:12اس موقع پر پیگاسس سوفٹویر کی
09:14مزید تفصیل جاننا بھی ضروری ہے
09:16کیونکہ یہ ایک ایسی مثال ہے
09:18جو ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے
09:20کہ جدید نگرانی کے ٹیکنالوجی
09:22کس حد تک ترقی کر چکی ہے
09:23یہ سوفٹویر ابتدامی یہ دعویٰ کر کے
09:25فروغ کیا گیا
09:26کہ اسے دہشتگردی اور سنگین جرائم کے خلاف
09:29استعمال کیا جائے گا
09:30مگر تحقیقاتی صحافیوں
09:31اور بینو لقامی انسانی حقوق کی
09:33تنظیموں کی ریپورٹس نے
09:34یہ ظاہر کیا کہ
09:35اسے صحافیوں
09:36انسانی حقوق کے کارکونوں
09:37سیاسی مخالفین
09:39اور عام شہریوں کے نگرانی کے لیے بھی
09:41استعمال کیا گیا
09:42دنیا کے کئی ممالک میں یہ انکشاف ہوا
09:44کہ حکومتی ادارے
09:45اپنے ہی ملک کے صحافیوں
09:46اور اپوزیشن رہنماؤں کے فون
09:48ہے کرنے کے لیے
09:49یہ سوفٹویر استعمال کر رہے تھے
09:51اس انکشاف کے بعد کئی ممالک میں
09:53سیاسی بہران بھی پیدا ہوا
09:55اور بعض حکومتوں کو
09:56اس معاملے پر
09:57وضاحت دینا پڑی
09:58یہ صرف ایک سوفٹویر کی کہانی نہیں
09:59بلکہ یہ اس بات کی علامت ہے
10:01کہ جدید ٹیکنالوجی
10:03کس طرح
10:03ایک دو دھاری تلوار بن چکی ہے
10:05ایک طرف ہی
10:06ہمارے زندگی کو آسان بناتی ہے
10:08معلومات تک رسائے دیتی ہے
10:09اور دنیا کو
10:10ایک دوسرے سے جوڑتی ہے
10:11تو دوسری طرف
10:12یہی ٹیکنالوجی
10:13ہماری نیجی زندگی میں
10:14مداخلت کا
10:15ایک طاقتور ذریعہ بھی بن سکتی ہے
10:17جو ممالک اور ادارے
10:18اس ٹیکنالوجی کو تیار کرتے ہیں
10:20وہ اس کی استعمال کی
10:21سمت کا تعین کرنے کی
10:22طاقت بھی رکھتے ہیں
10:23اور یہی وہ نکتہ ہے
10:25جو ٹیکنالوجی میں
10:26خود انحصاری کی اہمیت کو
10:27مزید بازے کرتا ہے
10:29اگر ہم عالمی سطح پر
10:31ڈیجیٹل حقوق کی تحریکوں پر
10:32نظر ڈالیں
10:32تو معلوم ہوتا ہے
10:33کہ دنیا کے مختلف حصوں میں
10:35سرگرم کارکنان
10:36اور تنظیمیں
10:37ڈیٹا پرائیویسی
10:38اور نگرانی کے خلاف
10:39آواز اٹھا رہی ہیں
10:40یورپی یونین نے
10:41اپنے شہریوں کے ڈیٹا کے
10:42تحفظ کے لیے
10:43سخت قوانین بنائے ہیں
10:45جن کے تحت کمپنیوں کو
10:46سارفین کا ڈیٹا جمع کرنے سے پہلے
10:48واضح اجازت لینا پڑتی ہے
10:50ایک اچھی مثال ہے
10:52کہ کس طرح قانون سازی کے ذریعے
10:54شہریوں کے حقوق کا
10:55تحفظ کیا جا سکتا ہے
10:56مسلم ممالک کو بھی
11:07اگر ہم تاریخ پر نظر ڈالیں
11:09تو یہ بات واضح ہوتی ہے
11:10کہ مسلم دنیا کبھی
11:11سائنس اور علم کے میدان میں
11:13سب سے آگے تھی
11:14بغداد، کرتبہ، دمشق
11:17اور قائرہ جیسے شہر
11:18علم و تحقیق کے مراکز ہوا کرتے تھے
11:20جہاں دنیا بھر سے علماء
11:22اور محققین علم حاصل کرنے آتے تھے
11:24ریاضی، طب، فلکیات، کیمیا
11:26اور دیگر علوم میں
11:28مسلم سائنسدانوں نے
11:29وہ کارنامہ انجام دیے
11:30جن کی بنیاد پر
11:31آج کی جدید سائنس استوار ہے
11:33یہ تاریخی حقیقت
11:34ہمیں یہ یقین دراتی ہے
11:36کہ ہمارے اندر یہ صلاحیت موجود ہے
11:37کہ ہم دوبارہ
11:38علم و تحقیق کے میدان میں
11:40آگے بڑھ سکیں
11:41بشرتی ہے کہ ہم
11:42اپنی توجہ اور وسائل
11:43اس سمف میں مرکوز کریں
11:45ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے
11:46کہ محض بائیکارٹ کے مہمات
11:48وقتی طور پر اثر ڈال سکتی ہیں
11:49مگر مستقل تبدیلی کے لیے
11:51ہمیں متبادل تیار کرنا ہوگا
11:53اگر ہم کسی کمپنی کے
11:54مصنوعات کا بائیکارٹ کرتے ہیں
11:56مگر اس کے متبادل کے طور پر
11:58اپنی کوئی چیز نہیں رکھتے
11:59تو یہ بائیکارٹ زیادہ دیر تک
12:01کارگر نہیں رہ سکتا
12:02اس لیے ہمیں دو محاصو پر
12:03کام کرنا ہوگا
12:04ایک طرف آگاہی پھیلانا
12:06اور اپنے فیصلوں میں
12:07دانشمندی سے کام لینا
12:08اور دوسری طرف
12:09اپنا متبادل نظام تیار کرنا
12:11تاکہ ہم حقیقی معنوں میں
12:12خودمختار ہو سکیں
12:13موجودہ دور میں
12:15کچھ مسلم ممالک نے
12:16اس سمت میں پیشرف شروع کی ہے
12:17بعض ممالک نے
12:18اپنی مقامی ٹیکنالوجی
12:20کمپنیاں قائم کی ہیں
12:21اور تعلیمی داروں میں
12:22سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں
12:23سرمایہ کاری بڑھائی ہے
12:25مگر یہ کوششیں
12:26ابھی تک محدود اور منتشر ہیں
12:28ہمیں ایک مشترکہ حکمت عملی
12:29کی ضرورت ہے
12:30جس میں مختلف مسلم ممالک
12:32اپنے وسائل
12:33اپنی صلاحیتیں
12:34اور اپنا سرمایہ
12:35ایک ساتھ لگا کر
12:36مشترکہ تحقیقی مراکز قائم کریں
12:38اگر ہم انفرادی طور پر
12:40کوشش کرتے رہیں
12:40تو ہمارے وسائل محدود رہیں گے
12:42مگر اگر ہم
12:43اجتماعی طور پر آگے بڑھیں
12:45تو ہم بڑی بڑی ٹیکنالوجی
12:47کمپنیوں کا مقابلہ کرنے کی
12:48صلاحیت حاصل کر سکتے ہیں
12:50اس کے علاوہ ہمیں
12:51اپنے نوجوانوں کی تعلیم پر
12:53خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے
12:55آج بھی ہمارے بہت سے تعلیمی دارے
12:57پرانے نساب اور فرسودہ طریقہ
12:59تعلیم پر انسار کرتے ہیں
13:00جبکہ دنیا مصنوعی ذہانت
13:02روبارٹکس
13:03اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز
13:04کی طرف بڑھ رہی ہیں
13:05ہمیں اپنے تعلیمی نظام کو
13:07جدید تقاضوں کے مطابق بنانا ہوگا
13:09تاکہ ہمارے نوجوان
13:10جدید شعبوں میں
13:11مہارت حاصل کر سکیں
13:13اسی طرح ہمیں
13:14اپنے باسلاحیت نوجوانوں کو
13:15بیرون ملک جانے سے روکنے کے لیے
13:17ملک کے اندر ہی
13:18بہترین مواقع فراہم کرنا ہوں گے
13:20تاکہ ان کی صلاحیتوں کا فائدہ
13:22اپنے ملک اور اپنی امت کو ہو
13:24نہ کہ دوسرے ممالک کو
13:25یہ بھی کام نکتہ ہے
13:27کہ ٹیکنالوجی میں
13:27خصوصی انحصار کا مطلب
13:29صرف مصنوعات بنانا نہیں
13:30بلکہ اپنے ڈیٹا
13:31اپنی نیچ زندگی اور اپنی معلومات پر
13:33مکمل کنٹرول حاصل کرنا ہے
13:35جب تک ہمارے مواصلاتی نظام
13:37ہمارے سرچ انجن
13:39اور ہمارے ڈیٹا سٹوریج کے مراکز
13:41دوسروں کے کنٹرول میں ہیں
13:42ہماری معلومات کبھی بھی
13:43مکمل طور پر محفوظ نہیں ہو سکتی
13:45یہی وجہ ہے کہ کئی ممالک
13:47اب اپنے مقامی متبادل
13:49تیار کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں
13:50تاکہ وہ عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر
13:53انحصار کام کر سکیں
13:54کچھ ممالک نے اپنے مقامی سرچ انجن
13:56اپنی سوشل میڈیا اپلیکیشنز
13:58اور اپنے ڈیٹا سینٹرز قائم کیے ہیں
14:00جو ان کے شہریوں کے ڈیٹا کو
14:02ملک کے اندر ہی محفوظ رکھتے ہیں
14:04یہ ایک اچھی مثال ہے
14:05جس سے دیگر مسلم ممالک بھی
14:07سبق حاصل کر سکتے ہیں
14:08عام سارفین کے سطح پر بھی
14:10کچھ عملی اقدامات ہیں
14:11جو ہم اپنی نیجی زندگی کی حفاظت کے لیے
14:13اپنا سکتے ہیں
14:14اپنے فون کے سوٹویئر کو
14:16ہمیشہ تازہ ترین رکھنا
14:17غیر ضروری اپلیکیشنز کو
14:19اجازتیں نہ دینا
14:20نامعلوم لنکس پر کلک نہ کرنا
14:22اور حساس معلومات کو
14:24غیر محفوظ نیٹورک پر شیئر نہ کرنا
14:26یہ تمام احتیاطی تدابیر
14:28ہمیں ڈیجیٹل خطرات سے بچانے میں
14:29مددگار ثابت ہو سکتی ہیں
14:31اسی طرح
14:32اہم اور حساس گفتگو کے لیے
14:34متبادل اور زیادہ محفوظ
14:35ذرا استعمال کرنا بھی
14:36ایک اچھا قدم ہو سکتا ہے
14:38ہمیں اپنے ہلے خانہ اور دوستوں کو بھی
14:40ان احتیاطی تدابیر سے آگاہ کرنا چاہیے
14:43تاکہ ہمارا معاشرہ مجموعی طور پر
14:44زیادہ باشعور اور محفوظ بن سکے
14:46اس موضوع پر مزید غور کرتے ہوئے
14:48یہ بھی سمجھنا ضروری ہے
14:49کہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کا
14:51آثر و رسوخ صرف ٹیکنالوجی کی سنت تک محدود نہیں
14:54بلکہ سیاست
14:55معیشت اور عالمی امور پر بھی
14:57گہرہ اثر رکھتا ہے
14:58یہ کمپنی اپنے مالی وسائل کے ذریعے
15:01حکومتی پالیسیوں پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہیں
15:03اور ان کے پاس موجود ڈیٹا
15:05انہیں ایک ایسی طاقت بنا دیتا ہے
15:07جو روایتی معنوں میں کسی بھی حکومت سے کم نہیں
15:10یہی وجہ ہے کہ آج کی دنیا میں
15:12ڈیٹا کو نئے دور کا تیل کہا جاتا ہے
15:14جو قوم اپنے ڈیٹا پر کنٹرول کھو دیتی ہے
15:17وہ اپنی خود مختاری کا ایک اہم حصہ بھی کھو دیتی ہے
15:20پیارے ناظرین
15:21یہ صورتحال ہمیں یہ سوچنے کی دعوت دیتی ہے
15:23کہ ہماری روز مرہ زندگی میں
15:25ٹیکنالوجی کا استعمال کس قدر
15:27بے دھڑک ہو چکا ہے
15:28اور ہم نے کبھی اس پر وارڈ نہیں کیا
15:30کہ اس کے پیچھے کیا حقائق پوشیدہ ہیں
15:32ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی ڈیجیٹل زندگی کے بارے میں
15:35زیادہ باشعور ہوں
15:36اپنی نیجی معلومات کی حفاظت کو اہمیت دیں
15:39اور اپنے بچوں کو بھی اس بارے میں آگاہی دیں
15:41صرف ٹیکنالوجی کا استعمال کرنا کافی نہیں
15:43بلکہ یہ سمجھنا بھی ضروری ہے
15:45کہ یہ ٹیکنالوجی کہاں سے آتی ہے
15:47اور اس کا استعمال کس مقصد کے لیے ہو سکتا ہے
15:50آخر میں یہ کہنا چاہوں گا
15:51کہ یہ موضوع محض ایک ٹیکنالوجی کی بحث نہیں
15:54بلکہ امت مسلمہ کے مستقبل سے جڑا
15:57ایک اہم مسئلہ ہے
15:58اگر ہم چاہتے ہیں کہ آنے والی نسلیں خودمختار
16:00اور بائزہ زندگی گزاریں
16:02تو ہم ابھی سے سائنس اور ٹیکنالوجی کی میدان میں
16:04سرمایہ کاری شروع کرنی ہوگی
16:06یہ ایک طویل سفر ہے
16:07مگر اس کا آغاز ابھی سے کرنا ہوگا
16:09ورنہ ہم ہمیشہ دوسروں کے بنائے ہوئے نظاموں کے
16:12محتاج رہیں گے
16:13ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہیے
16:15کہ صرف حکومتوں اور بڑی کمپنیوں پر
16:17ذمہ داری ڈال دینا کافی نہیں
16:18بلکہ ہر فرد کی سطح پر بھی
16:20شعور بیدار کرنا ضروری ہے
16:22والدین کو اپنے بچوں کو یہ سکھانا چاہیے
16:24کہ ٹیکنالوجی ایک آلہ ہے
16:25جسے دانشمندی سے استعمال کرنا ضروری ہے
16:28اسکولوں اور کالیجوں میں
16:29ڈیجیٹل خاندگی کو نساب کا حصہ بنانا چاہیے
16:32تاکہ نوجوانوں کو
16:33ابتداہی سے یہ سمجھا جائے
16:35کہ ٹیکنالوجی کے فوائد کے ساتھ
16:37اس کی خطرات بھی موجود ہیں
16:38یہ آگاہی ہی وہ بنیاد ہیں
16:40جس پر مستقبل میں
16:42ایک باشعور اور محتاط معاشرہ
16:44تعمیر ہو سکتا ہے
16:45اسی طرح کاروباری اور سنتی شعبے میں بھی
16:48مقامی ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے
16:49مراد دی جانی چاہیے
16:51تاکہ نوجوان کاروباری افراد
16:52اپنے ملک میں ہی
16:53جدید حل تیار کرنے کی ترغیب حاصل کر سکیں
16:56حکومتوں کو چاہیے
16:57کہ وہ ٹیکنالوجی سٹارٹ اپس کے لیے
16:59فنڈنگ کے مواقع فرام کریں
17:01ٹیکس میں ریایتیں دیں
17:02اور بین الاقمامی میار کی
17:04تحقیقاتی مراکز قائم کریں
17:06صرف اس طرح ہم آہستہ آہستہ
17:07اس انحصار سے نکل سکتے ہیں
17:09جو دہائیوں سے ہماری معیشتوں
17:11اور ہمارے ڈیجیٹل نظاموں پر حاوی ہے
17:13یاد رہے یہ سفر آسان نہیں ہوگا
17:15اور اس میں وقت لگے گا
17:17مگر جو قوم مستقل مزاجی اور واضح
17:19سمت کے ساتھ آگے بڑھتی ہے
17:21وہ بالاخر اپنی منزل تک پہنچ جاتی ہے
17:24ہمیں چاہیے کہ ہم اس سفر کا آغاز
17:25اپنی ذات سے کریں
17:27اپنے ارد گرد لوگوں کو آگاہی دیں
17:29اور اپنی حکومت سے یہ مطالبہ کریں
17:30کہ وہ سائنس اور ٹیکنالوجی کو
17:32قومی ترجیحات میں شامل کریں
17:34اسی طرح میڈیا اور صحافت کا کردار
17:36بھی اس سلسلے میں انتہائی اہم ہے
17:38ہمیں چاہیے کہ ہمارے صحافی اور تحقیقاتی ادارے
17:40ٹیکنالوجی کے میدان میں ہونے والی
17:42پیش رفتوں پر گہری نظر رکھیں
17:44اور عوام کو بروقت اور درست
17:46معلومات فراہم کریں
17:47اکثر اوقات عام صارفین کو یہ معلوم ہی نہیں ہوتا
17:50کہ ان کی روز مرہ استعمال کی جانے والی
17:52اپلیکشنز اور آلات کس طرح کام کرتے ہیں
17:55اور یہی معلومات کی کمی
17:56انہیں خطرات کا شکار بنا دیتی ہے
17:58ایک باشعور معاشرہ ہی ایسے فیصلے کر سکتا ہے
18:01جو اس کے مستقبل کے لیے فائدے مند ہوں
18:03ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہیے
18:05کہ صرف ایک ملک یا ایک قوم کا مسئلہ نہیں
18:07بلکہ پوری امت مسلمہ کا
18:09مشتر کا چائلنج ہے
18:11جب تک ہم انفرادی طور پر سوچتے رہیں گے
18:13ہمارا اثر محدود رہے گا
18:15مگر اگر ہم اجتماعی طور پر
18:17اس مسئلے کو سمجھیں اور اس پر کام کریں
18:20تو ہم بہت بڑی تبدیل لاسکتے ہیں
18:22یہی وہ پیغام ہے
18:23جو ہمیں اس پوری بحث سے حاصل کرنا چاہیے
18:26اور یہی وہ سمت ہے
18:27جس کی طرف ہمیں اپنی توانائیاں
18:29مرکوز کرنی چاہیے
18:30تاکہ آنے والی نسلیں
18:32ٹیکنالوجی کے دنیا میں
18:33خوف کے بجائے اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ سکیں
18:36اگر آپ کو یہ ویڈیو مفید لگی ہو
18:38تو اسے دوسروں تک ضرور پہنچائیں
18:40تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ
18:42اس اہم موضوع سے آگاہ ہو سکیں
18:44اپنی رائے کا اظہار کمنٹ سیکشن میں ضرور کریں
18:47اور بتائیں کہ آپ اس موضوع پر
18:48مزید کیا جاننا چاہتے ہیں
18:50اگر آپ کے پاس اس سلسلے میں
18:51کوئی تجربہ یا معلومات ہے
18:53جو دوسروں کے لئے مفید ہو سکتی ہیں
18:55تو انہیں بھی کمنٹس میں ضرور شیئر کریں
18:57تاکہ ہم سم مل کر
18:58ایک زیادہ باشعور اور محفوظ
19:01آن لائن کمیونٹی بنا سکیں
19:02اللہ تعالی ہمیں سمجھنے
19:04صحیح فیصلے کرنے
19:05اور نیک عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے
19:07اور امت مسلمہ کو
19:09علم تحقیق اور خودی نساری کے راہ پر
19:11گامزن فرمائے
19:12اللہ حافظ
Comments

Recommended