Skip to playerSkip to main content
  • 10 hours ago
दिल्ली दंगों के दौरान आईबी अफसर अंकित शर्मा की हत्या के दोषी ताहिर हुसैन को दिल्ली की अदालत ने उम्रकैद की सजा सुनाई है. कोर्ट ने ताहिर हुसैन के अलावा चार और दोषियों को भी उम्रकैद की सजा सुनाई है. हालांकि ताहिर हुसैन के वकील ने ऊपरी अदालत में इस फैसले को चुनौती देने की बात कही है. इससे पहले कोर्ट ने 13 जुलाई, 2026 को ताहिर हुसैन, नजीम , कासिम, अनस और जावेद को दोषी करार दिया था. पुलिस ने इस मामले को 'रेयरेस्ट ऑफ रेयर' मामला बताया था और दोषियों को फांसी की सजा देने की मांग की थी, लेकिन कोर्ट ने दिल्ली पुलिस की उस दलील को खारिज कर दिया और कहा कि दोषियों में सुधार की गुंजाइश है.कोर्ट ने 13 जुलाई को पाचों को दोषी करार देते हुए इस मामले के छह आरोपियों को बरी करने का आदेश दिया था. इस मामले में दिल्ली पुलिस की क्राइम ब्रांच ने 3 जून, 2020 को चार्जशीट दाखिल किया था. चार्जशीट में कहा गया कि 24 और 25 फरवरी 2020 को ताहिर हुसैन ने अपने घर और चांद बाग पुलिया के पास मस्जिद से भीड़ का नेतृत्व किया और उसे सांप्रदायिक रूप दिया.  ताहिर हुसैन आम आदमी पार्टी के पूर्व पार्षद रह चुके हैं. दंगे के मामले में नाम सामने आने के बाद आम आदमी पार्टी ने उन्हें निलंबित कर दिया था. वह AIMIM के टिकट पर भी चुनाव लड़ चुके हैं.

Category

🗞
News
Transcript
00:00ڈلی دنگو کے دوران آئی بی افسر انکت شرما کی ہتیا کے دوشی تاہیر حسین کو دلی کی عدالت نے
00:07عمر قیاد کی سزا سنائی ہے
00:09کوٹ نے تاہیر حسین کے علاوہ چار اور دوشیوں کو بھی عمر قیاد کی سزا سنائی ہے
00:14حالانکہ تاہیر حسین کے وقیل نے اوپری عدالت میں اس فیصلے کو چنوٹی دینے کی بات کہی ہے
00:21پانچ لوگوں کو سزا ملی ہے اس بنیاد پہ that they were present around there
00:26and that their presence has been proven by the prosecution
00:29ہمارا ماننا ہے ان کی presence نہیں proof ہوئی اور اسی بنیاد پہ ہم اپیل فائل کریں گے
00:33جس کی ماننیہ ہائی کورٹ میں سنوائی جلد ہی جلد ہوگی
00:37آپ لوگ کے اس فیصلے کو چیلنج کریں گے
00:38بلکل چیلنج کریں گے ہمارے کلائنٹ بے قصور ہیں
00:41اس سے پہلے کورٹ نے 13 جولائی 2026 کو تاہیر حسین، نسیم، کاسیم، انس اور جاوید کو دوشی قرار دیا
00:49تھا
00:49پولیس نے اس معاملے کو rarest of rare معاملہ بتایا تھا
00:53اور دوشیوں کو فانسی کی سزا دینے کی مانگ کی تھی
00:56لیکن کورٹ نے دلی پولیس کے اس دلیل کو خارج کر دیا
01:00اور کہا کہ دوشیوں میں صدہار کی گنجائش ہے
01:04beyond reformation ہے
01:05سارے کے سارے convicts کسی بھی violent crime میں
01:08نہ پہلے نہ بعد میں involved تھے
01:10یہ ایک بہت ضروری بات ہے جو کورٹ کے سامنے رکھی گئی ہے
01:13ان کا conduct بھی ٹھیک رہا ہے جیل میں جو لوگ بیل پہ تھے
01:16تو یہ بات کو اور اس بات کو مانتے
01:19نظر میں رکھتے ہوئے کہ
01:20vicarious liability کا case ہے
01:22کوئی direct act کی allegation ہے ہی نہیں
01:25اور کوئی direct act prove بھی نہیں ہوا
01:27اس وجہ سے کورٹ نے اس کو سزا موت کا case نہیں ماننے
01:30عمرے کہتی ہے
01:33حالانکہ کورٹ نے سزا کا اعلان کرنے سے پہلے
01:36ماملے کو بہت ہی گمبھیر بتایا اور کہا
01:38کہ انکت شرما کی بری طرح سے ہتیا کی گئی
01:41ان کی باڈی جانور کی طرح چھوڑ دی گئی تھی
01:44جو سماج کو جھگ جھوڑنے والی تھی
01:47کورٹ نے یہ بھی کہا
01:48کہ اپراد کو انجام دینے کا طریقہ
01:51اتینت کروڑ تھا
01:53اس کیس میں جس طریقے سے مرڈر کیا گیا ہے
01:56جس طریقے سے بہت ہی
01:59کروال طریقے سے مارا ہے
02:00جس میں 51 انجری جو اس کے باڈی پر تھی
02:03جس میں سے سات انجری
02:04اس میں سے سات انجری ایسی ہیں
02:07جو کوئی بھی ایک انجری سے
02:09اس کی موت ہو سکتی تھی
02:11اس کے علاوہ سب سے زیادہ
02:13اس میں ایک چوکا دینے والی بات یہ ہے
02:15کہ اس میں ایک بھاری کاٹنے والے
02:19ہتھیار کا استعمال ہوا ایک انجری میں
02:23کورٹ نے 13 جولائی کو
02:24پانچوں کو دوشی قرار دیتے ہوئے
02:26اس ماملے کے چھے آروپیوں کو
02:28بری کرنے کا آدیش دیا تھا
02:30اس ماملے میں دلی پولیس کی
02:31کرائیم برانچ نے
02:323 جون 2020 کو چارچیٹ داخل کیا تھا
02:36چارچیٹ میں کہا گیا
02:37کہ 24 اور 25 فروری 2020 کو
02:40تاہیر حسین نے اپنے گھر
02:42اور چانباغ پولیا کے پاس
02:44مججد سے بھیڑ کا نترتو کیا
02:46اور اسے سامپردائق روپ دیا
02:48چارچیٹ میں کہا گیا تھا
02:50کہ انکت شرما ہتھیا کے لیے
02:52سادش رچی گئی تھی
02:53انکت شرما کو تاہیر حسین کے
02:55نترتو میں بھیڑ نے خاص روپ سے
02:57ٹارگیٹ کیا
02:58خجوری خاص علاقے میں
02:59تاہیر حسین کے گھر کے باہر
03:01باردات ہوئی
03:02شرما کی ہتھیا کے بعد
03:03بھیڑ نے ایک نالے میں
03:05لاش فیک دی
03:06انکت شرما کے پوسٹ موٹم
03:08ریپورٹ میں ڈاکٹروں نے پایا تھا
03:09کہ تیز دھار والے ہتھیار سے
03:11ایک یاون وار کے نشان ہے
03:13تاہیر حسین نے ہی
03:14چاندبہ کے علاقے میں
03:15بھیڑ کو اکسایا
03:16چارچیٹ میں تاہیر حسین
03:18کو ماسٹر مائنڈ بتایا گیا تھا
03:20تاہیر حسین
03:21آم آدمی پارٹی کے
03:22پورو پارشد رہ چکے ہیں
03:23دنگے کے ماملے میں
03:25نام سامنے آنے کے بعد
03:26آم آدمی پارٹی نے
03:27انہیں نلمبت کر دیا تھا
03:29وہ AIMIM کے
03:31ٹکٹ پر بھی چناؤ لڑ چکے ہیں
03:33بیرو ریپورٹ
03:34ETV بھارت
03:36PYM JBZ
Comments

Recommended