🌙 Welcome to Mufti Hanif Qureshi🌙
This channel is dedicated to Islamic videos, Urdu Bayan, Naat, Manqabat, Islamic reminders, Quran & Hadith teachings, and motivational Islamic content to strengthen Imaan and spread the message of Islam.
📌 On this channel you will find:
• Islamic Bayan
• Quran & Hadith
• Naat & Manqabat
• Islamic Shorts
• Daily Islamic Reminders
• Motivational Islamic Videos
👍 Like the Video
💬 Leave a Comment
🔔 Subscribe to the Channel
📤 Share with Family & Friends
May Allah bless you all. JazakAllah Khair ❤️
#MunazireIslamOfficial #hanifqureshi #muftihanifqureshi #muftimuhammadhanifqureshi #Islam #muftihanifqureshibayan #IslamicVideos #UrduBayan #IslamicReminder
This channel is dedicated to Islamic videos, Urdu Bayan, Naat, Manqabat, Islamic reminders, Quran & Hadith teachings, and motivational Islamic content to strengthen Imaan and spread the message of Islam.
📌 On this channel you will find:
• Islamic Bayan
• Quran & Hadith
• Naat & Manqabat
• Islamic Shorts
• Daily Islamic Reminders
• Motivational Islamic Videos
👍 Like the Video
💬 Leave a Comment
🔔 Subscribe to the Channel
📤 Share with Family & Friends
May Allah bless you all. JazakAllah Khair ❤️
#MunazireIslamOfficial #hanifqureshi #muftihanifqureshi #muftimuhammadhanifqureshi #Islam #muftihanifqureshibayan #IslamicVideos #UrduBayan #IslamicReminder
Category
📚
LearningTranscript
00:00صحیح مسلم شریف حدیث نمبر 2409 ہے
00:02حضرت سال بن سعید کہتے ہیں
00:04کہ مدینہ کے اوپر آل مربان میں سے ایک آدمی حاکم بنایا گیا
00:07تو اس نے
00:09وہ کہتے ہیں کہ اس نے سال بن سعید کو بلایا
00:12اور ان کو حکم دیا کہ
00:13آئیں یشتما علیین
00:14علی کو گالی دو
00:15تو انہوں نے انکار کیا
00:16تو کہنے لگا
00:17کہ چل اگر تو یہ نہیں کرتا
00:19تو پھر یہ کہہ دے
00:20لعناللہ عبد تراب
00:21ابو تراب پر اللہ کی لعنت ہو
00:23تو حضرت سال کہنے لگے
00:24ارے بھائی
00:25علی کو یہ ابو تراب کا نام
00:27تو سب سے زیادہ جناب پیارا تھا
00:29اور یقیناً جب حضرت علی کو
00:31ابو تراب کے اکر پکارا جاتا تھا
00:33تو وہ اس پر خوش ہوتے تھے
00:34اس حدیث کی شرع
00:35اندر اس کے اندر ایک تو پتا چلا
00:37کہ مروانی شخص کوئی تھا
00:38جس نے یہ حرکت کی مولا علی پر
00:40یہ گالیاں دلواتا تھا
00:41تو حدیث کی
00:43اس مسلم شریف کی شرع
00:45شیخ عمین علیہ حرری
00:46شافعی القوقبل وحاج
00:48شرع مسلم
00:49اس میں وہ لکھتے ہیں
00:50کہ وہ حکمران مروان تھا
00:52جس نے حضرت زال بن سعد
00:54کو حضرت علی پر
00:55گالی دینے کے لیے
00:55اس کو حکم دیا
00:56پھر امام احمد بن حنبل کی کتاب
00:59علیلل والمعرفت الرجال
01:01اس میں لکھتے ہیں
01:02کہ کانا مروانا
01:03امیرا علینا ستہ سنین
01:04کہ مروانا پر
01:07چھے سال حکمران رہا
01:09فکانا یسوب و علیان
01:10کل جمعتن
01:12یہ ہر جمعہ مولا علی پر لانت بیٹا تھا
01:14گالی دیتا تھا
01:15پھر اسے معذول کیا گیا
01:16پھر سعید بن العاص کو
01:17دو سال کے لیے
01:17امیر مک بنایا گیا
01:19تو یہ جو انہاں
01:20حضرت علی کو گالی نہیں دیتے تھے
01:22پھر مروان کو جب بنایا گیا
01:23تو پھر یہ نوے حضرت علی کو گالیاں بگتا تھا
01:25تو یہ
01:26علیل والمعرفت الرجال
01:27حدیث نمبر 4881 ہے
01:30تو اب پچھلی روایت
01:32جو مسلم شریف کی ہے
01:33اس روایت کی تشریح کر رہی ہے یہ روایت
01:35اور
01:36حافظ ابن حجر رحمت اللہ تعالی
01:39وہ بھی لکھتے ہیں کہ
01:41مولا علی پاک
01:42کرم اللہ تعالی وجل کریم پر
01:43یہ بندہ جو ہے نا یہ
01:45لانتان کرتا تھا
01:46اور ان کو گالیاں دیتا تھا
01:47تو یہ
01:49حضرت مولا کائنات پر
01:51چونکہ یہ
01:51سبو شتم کرتا تھا
01:53چھ سال تک یہ شخص
01:54ہر جمعے کے جمعے مولا علی پر
01:56سبو شتم اور لانت بہیتا تھا
01:57اس وجہ سے
01:59حضرت امام حسین مجتبہ
02:00جب مسجد تشریف لاتے
02:01تو آپ اس کا خطبہ نہیں سنتے تھے
02:03امام بخاری تاریخ العصد کے اندر
02:05روایت لائے ہیں
02:06کہ جب مروان خطبہ دیرہ ہوتا
02:08تو فکان الحسن و یجی فید خلال حجرہ
02:10فائضہ فراغ من خطبتی خرجہ فس اللہ ماؤ
02:12تو آپ خطبے کے دوران
02:13حضور کے حجرے میں تشریف لے جاتے
02:15کیونکہ اس کی بقواس بازی ایسی ہوتی تھی
02:17کہ امام حسین مجتبہ
02:18اس کا وہ بک بک سننا نہیں چاہتے تھے
02:21اسی طریقے سے
02:23امام ابن عجر
02:24اسکلانی المطالب العالیہ کے اندر
02:26امام بوسیری اتحاف المارہ الخیرہ کے اندر
02:28امام ابن ساکر تاریخ دمشق کے اندر
02:31تاریخ الاسلام کے اندر علامہ زابی
02:32تاریخ الخلفاء کے اندر امام جلال الدین سیوتی
02:35اور تاریخ الصغیر کے اندر
02:36امام بخاری رحمت اللہ تعالی
02:37عمیر بن عساق سے یہ ربایت لے کر آئے ہیں
02:39کہ ہم پر مروان سالہ سال تک
02:41اکمران رہا
02:42وہ ہر جمعہ کو عدرت علی پر
02:44ممبر پر برا بلا ان کو کہتا تھا
02:46پھر مروان کو معذول کر کے
02:47سعید بن عاص کو دو سال تک آکے مقرر کیا گیا
02:49یہ عدرت علی کو برا نہیں کہتے تھے
02:51لیکن پھر انہیں معذول کر کے
02:52دوبارہ مروان کو عقم بنایا گیا
02:54تو وہ دوبارہ مولا علی پر سبوشتم کرنے لگا
02:55چنانچہ امام حسن کو کہا گیا
02:57کہ آپ مروان کی بکواس نہیں سنتے
02:58اسے کوئی جواب تو دیں
02:59امام حسن جمعہ کے دن تشریف لاتے
03:02اور حجرِ نبوی میں چلے جاتے
03:03اور اسی میں رہتے حتیٰ کہ خطبہ ہو جاتا
03:05پھر آپ باہر نکلتے اور نماز پڑھتے
03:07اور اپنے گھر کو لوٹ جاتے
03:08چنانچہ مروان اس بات پر رازی نہ تھا
03:10یہ روایت بڑے گوھر سے سنیں
03:11کہ یہ بدماش کس قدر خبیص تھا
03:14اسے جنہ اس کا دل نہ بھارا
03:16حتیٰ کہ اس نے آپ کے گھر میں
03:18ایک دل خراش تو فاروانہ کیا
03:20حضرت امام حسن مجتبہ
03:21چپکے سے اس کی بکواس بازی کی طرف
03:23تیان نہ کرتے
03:24وہ گھر تشریف لے جاتے
03:25سبر کرتے
03:25تو اس نے ایک دن ایک شخص کو بیجا
03:28تو وہ ان کے دروازے پہ گئے
03:29امام حسن کے دروازے پر
03:30اور مہاں جا کر
03:31اس نے اجازت مانگی
03:32تو بتایا کہ
03:32جی کی فلاں بندہ آپ کے دروازے پر کھڑایا
03:34آپ نے اندر آنے کی اجازت دی
03:36تو اس نے کہا
03:36جی کہ میں مروان کی طرف سے
03:37ایک مقصد لے کر رہا ہوں
03:38آپ نے فرمایا بتاؤ
03:39اس نے کہا مجھے مروان نے
03:40علی اور آپ کے لئے
03:41یوں پیغام دے کر بیجا ہے
03:42اور یہ کہا ہے
03:43کہ میں نے تمہیں خچر کی مثل پایا ہے
03:45کہ جب خچر سے پوچھا جائے
03:47کہ تیرہ باپ کونے
03:48تو وہ بولتا ہے
03:48میری ماں گھوڑی تھی
03:49اب یہ آپ سمجھ سکتے ہیں
03:50کہ اس نے
03:51کس قدر شدید دیدوی اور گستاخی
03:54شدید ترین
03:54اس نے چوٹ ماری
03:56حضرت امام حسن
03:56مشتبہ علیہ السلام پر
03:57امام حسن نے فرمایا
03:59جاؤ اسے جا کر کہو
04:00کہ جو تُو نے کہا ہے
04:01میں اسے ہرگز نہ مٹاؤں گا
04:02کہ میں بھی تجھے جواب میں برا کہوں
04:04البتہ میرا تیرہ معاملہ
04:06اللہ کے سپر دے
04:06پس اگر تُو سچا ہو
04:07تو اللہ تعالی تجھے تیری سچائی
04:09کا عجر دے
04:09اور اگر تُو جھوٹا ہو
04:10تو اللہ تعالی سخت حساب لینے والا ہے
04:12اور میرے جدے گرامی
04:13رسول اللہ کو
04:13اللہ نے بزرگی عطا فرمایے
04:15تو میری مثال خچر
04:16کسی کیسے ہو سکتی ہے
04:33آپ نے فرمایا
04:35کہ تُجھے تیرے باپ
04:36اور تیری قوم کی بدبختی
04:43آپ نے فرمایا
04:45تیرے اور تیرے باپ
04:46اور تیری قوم کے لئے
04:47یوں یوں ہے
04:48اور تیرے اور میرے معاملے کی نشانی یہ
04:50کہ تُو نے رسول اللہ کی لانت
04:51سپنے کندے پکڑ رکھیں
04:52اشارہ کیا
04:53اسی حدیث کی طرح
04:55جس میں اللہ کے رسول نے
04:56اس پر لانت بیجی تھی
04:57اب یہاں پر آپ دیکھیں
04:58کہ اس نے کس قدر بکواس بازی
05:00کہ امام ابن ابی خیسمہ
05:01تاریخ القبیر کے اندر
05:02تاریخ دمشق کے اندر
05:04امام ابن عساکر
05:05وہ روایت کرتے ہیں
05:06کہ حضرت عائشہ بن تیساد
05:08حضرت سعید بن ابی وقاس
05:09جو اشیرم بشیرم اشیرم اشیرم صحابی ہیں
05:10ان کی بیٹی ہیں
05:11آپ فرماتی ہے
05:12کہ ایک مرتبہ مروان
05:13حضرت سعید بن ابی وقاس کی
05:14عیادت کے لئے آیا
05:15تو حضرت سعید نے فرمایا
05:16کہ اسے واپس بھی دو
05:17یعنی آپ اس سے نفرت کرتے تھے
05:18اس کی انہی خواستوں کی وجہ سے
05:19تو حضرت عبور ایرہ
05:20آپ بھی پاس تھے
05:21انہیز کی کہ
05:21آکھے میں شہر حضور
05:22آنے دیں فتنہ ہوگا
05:24بہرحال جب یہ اندر آیا
05:25تو اس نے
05:25حضرت سعید کی بیٹی
05:26حضرت عائشہ کی
05:27چارپائی کو تارنا شروع کیا
05:28یہ ایک بڑی گندی عرکت
05:29اس نے کی
05:30تو حضرت سعید نے فرمایا
05:36تو آپ نے فرمایا
05:38او مروان تیری بدبختی ہو
05:39او تو شامیوں کی اطاعت کر رہے
05:42علی کو گلیاں دے رہا ہے
05:43تو فغد باب مروان فقاما وخرج
05:45مغذبا غصے میں کھڑا ہو گیا
05:46اور وہاں سے دفع ہو گیا
05:47اب یہ دیکھئے
05:49کہ اس روایت کے اندر بھی
05:51یہ مستنت روایت ہے
05:52اس روایت کے اندر بھی موجود ہے
05:54کہ یہ صحابی رسول گواہی دیتے ہیں
05:56کہ حضرت علی کو یہ گلیاں دیتا تھا
05:58امام ابن ابی خیسمہ
06:01تاریخِ قبیر کے اندر
06:02اور امام زابی سیر علام النبلاء کے اندر
06:04روایت فرماتے ہیں
06:05کہ امام زین العبدین فرماتے ہیں
06:06کہ مجھے مروان نے کہا
06:07کہ ہمارے سردار
06:08یعنی عثمان غنین کے دفاع کرنے میں
06:10تو ہمارے سردار
06:11یعنی علی سے بڑھ کر کوئی بھی نہ تھا
06:12یعنی حضرت علی
06:13حضرت عثمان کا بڑا دفاع کرنے والے تھے
06:15تو حضرت سعید انہ
06:17زین العبدین علیہ السلام نے فرمایا
06:19آپ فرماتے ہیں
06:23تو پھر تمہیں کیا ہوگیا ہے
06:24کہ جب انہوں نے حضرت عثمان کا دفاع کیا
06:26تو تم حضرت علی پر لانتے
06:28کیوں بیٹے ہو ممبروں پر
06:29کیوں نے گالیاں دیتے ہو
06:32کہنے لگے جی
06:33کہ ہماری حکومت کا نظامی
06:34علی کو گالیاں دینے سے
06:35اور لانت کرنے سے چلتا ہے
06:36تو اب دیکھیں یہ کس قسم کے
06:38جو نہ وہ لوگ تھے
06:39تو اب اسی طریقے سے
06:43امام کرتبی المفہم
06:45لیماش کلام ان کتاب تلخی سے
06:46مسلم کے اندر لکھتے ہیں
06:47کہ اس مروان نے عید کا خطبہ
06:49اس لیے مقدم کیا
06:50کہ اس میں یہ حضرت علی المرتضاء پر
06:52لانتان کرتا تھا
06:53اور انہیں گالیاں دیتا تھا
06:54اور وہ لکھتے ہیں کہ
06:56وَمَّا مَرْوَانْ وَبْنُوا مَيَّا
06:57وَإِنَّمَا قَدْ نَمُوا عَلِئَنَّمْ قَانُوا فِي خُطَبِهِمْ
07:01يُنَالُونَ مِنْ عَلِيٍّ عَلِيٍّ
07:03قَرَّمَ اللَّهُ تَعْلَوَ جُلْكَرِ
07:04تو یہاں پر یہ واضح طور پر ہے
07:06کہ حضرت علی کی اپنے خطبوں میں مضمت کرتے
07:08برا بلکتے
07:09لوگ ان کے خطبے نہیں سنتے تھے
07:10تو اس وجہ سے جناب انہوں نے عید کے خطبے ہی مقدم کر دیئے
07:13امام اسکلانی
07:14یہ نئے والے سنتے جائیں
07:17اتحاف المار الخیرہ کے اندر
07:18اللامہ بوسیری
07:20امام قاضی ابو یالہ
07:21مسند ابو یالہ کے اندر
07:22الموجم القبیر کے اندر امام تبرانی
07:24امام ابن کسیر
07:25جامل مسانید
07:26تاریخ الاسلام کے اندر
07:29اور دیگر کئی
07:31اثنات سے یہ روایت موجود ہے
07:33جو میں نے افتداء میں بھی ارز کی ہے
07:35کہ راوی کہتے ہیں کہ حسنین کریمین کے پاس میں بیٹھا ہوا تھا
07:38اور بڑی گندی گالی دی
07:39مروان نے حضرت
07:43حسین رضی اللہ تعالیٰ عن
07:44ہما کو
07:45حسنین کریمین رضی اللہ تعالیٰ عن ہما کو
07:47تو یہ کہتا ہے کہ
07:48یہاں تک بکواس کیا کہ
07:49اِنَّكُمْ عَالُ بَيْتٍ مَلُونُونَ
07:51اِعَالِ بَيْتٍ تم لانتی ہو
07:52تو امام حسن اور حسین
07:54دونوں بولے یا ایک بولے
07:56انہیں کہا اللہ کی قسم
07:56اللہ کی قسم
07:57پھر اللہ کی قسم
07:58پھر تجھ پر تو اللہ تعالیٰ نے
07:59رسولِ خدا کی زبان پر
08:01اس وقت لانت بھیجی تھی
08:02کہ جب تو اپنی باپ کی پشن کے اندر تھا
08:04تو مروان یہ سن کر جو ہے نا وہ
08:06چپ ہو گیا
08:07پھر یہ شخص
08:08حسنین کریمین سے
08:08وہ شریعت قسم کا بغض رکھتا تھا
08:10تاریخ دمشق کے اندر
08:11امام ابن عساکر نے لکھا ہے
08:13تحذیب الکمال کے اندر موجود ہے
08:14مجمع زبایت کے اندر
08:15علامہ حسنین نے لکھا ہے
08:17حیات السعابہ یہ دو بندی
08:18عالم علامہ کاندلوی
08:20انہوں نے لکھا ہے
08:21موجم القبیر کے اندر
08:21امام تبرانی لکھتے ہیں
08:22اور یہ جو روایت مرض کر رہا ہوں
08:23اس کے راوی سارے سکھا ہے
08:25اور امام حسنین فرماتے ہیں
08:26رجال و سکھات
08:27اس حدیث کے سارے راوی سکھا ہیں
08:28حضرت سیدنا ابو رہرہ
08:29رضی اللہ تعالیٰ نے بیمار تھے
08:30تو مروان ان کی عیادت کے لیے آیا
08:32اور کہنے لگا
08:33کہ موجد تو علیکہ
08:34فی شیئن منزو استحبنا
08:36استحبنا اللہ فی حبک الحسن والحسین
08:39کہ لگے ابو رہرہ
08:40جب سے آپ کا ہمارے ساتھ تعلق ہوا ہے
08:41ہمیں آپ کی کوئی چیز
08:42اتنی بری نہیں لگی
08:43کوئی خرابی آپ میں نظر نہیں آئی
08:45سوائے اس کے
08:45ایک خرابی آپ کے اندر ہے
08:47کہ آپ حسن والحسین سے پیار کرتے ہیں
08:48حضرت ابو رہرہ بیمار تھے
08:50بس طرح پر لیٹے گئے تھے
08:50تو آپ غصے سے تڑپ کے اٹھ بے تھے
08:53اور پھر آپ نے حدیث سنائی
08:54اور جس میں آپ نے تفصیل سے بتایا
08:56وہ مروان حسن والحسین سے
08:57تو رسول اللہ پیار کرتے تھے
08:59ابو رہرہ ان سے پیار کیوں نہ کرے
09:00تو الغرض
09:01یہ شخص انتہا درجہ کا
09:03حسنین قریبہ ان کا بغزی تھا
09:04یہی بات ہے کہ
09:05امام حسن مشتبہ
09:06آپ کو جب زہر دیا گیا
09:08تو اس زہر خورانی کے دوران
09:10امام حسن مشتبہ کو جب پتا
09:12چل گیا کہ
09:13بھئی یہ میری شہادت ہو رہی ہے
09:14تو آپ نے حضرت حسین اور دیگر لوگوں کو
09:16وسیعت فرمائی کہ
09:17جب میرا انتقال ہو
09:18میری شہادت ہو جائے
09:19تو مجھے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے
09:21حجرِ اتر کے اندر دفن کرنا
09:23اور سید آئش اسدیقہ سے
09:24اجازت لے لی گئی
09:25امام نعیم بن حماد المروزی
09:28متوفا 288 اجری
09:29اسدل غابہ میں امام ابن عصیر جزری
09:31سیر علامن بلام امام شمس الدین زابی
09:33تاریخ الدمشق کے اندر امام ابن عساقر
09:35غفیات العیان کے اندر
09:36ابن حلقان
09:37متوفا 681 اجری
09:39اور علامہ بلازری
09:40انصاب الاشراف کے اندر
09:42یہ لکھتے ہیں
09:43کہ
09:44امام حسن مشتبہ کا
09:46وسال جب ہو گیا
09:47تو آپ نے وسیعت
09:48وسال سے پہلے وسیعت کی تھی
09:49امام حسین سے
09:50کہ
09:51مجھے وہاں دفن کرنا
09:52اور
09:52اگر کوئی لڑائی جگڑے کا
09:54کیونکہ آپ کو اندازہ تو تھا
09:55کہ یہ بن امیہ اور
09:56بالخصوص یہ مروان جیسے
09:57کمینے لوگ
09:58کوئی نہ کوئی گڑڑ کریں گے
09:59تو آپ نے فرمایا
10:00کہ پھر وہاں قتل و غارت نہ کرنا
10:01اگر کوئی گڑڑ ہو جائے
10:03جھگڑا وگڑا ہو جائے
10:04تو خون بانے کی کوشش نہ کرنا
10:05مجھے پھر جنت الوکی میں دفنہ دینا
10:07تو جس وقت
10:08قبر کھو دی جانے لگی
10:10عجرہ رسول کے اندر امام
10:11حسن مشتبہ کی
10:12حضرت سعید آئشہ نے اجازت دے دی
10:13تو جا مروان بن الحکم
10:16فی بنی امیہ
10:16تو یہ مروان بن الحکم
10:19یہ بن امیہ کے اندر گیا
10:20جا کر لوگوں کو اس نے بڑکایا
10:21تو والا بی سو سلاحہ
10:22لوگ اسلحہ لے کے آگے
10:23اور کہنے لگا
10:25کہ اے نبی کا ساتھ میں
10:27حسن کو نہیں دفن ہونے دوں گا
10:28منا تم عثمانہ
10:29فنحنو نامناکم
10:30اس نے الزام لگایا
10:30کہ تم نے
10:31عثمان غنی کو یہاں
10:32دفن نہیں ہونے دیا
10:33تو ہم تمہیں دفن نہیں ہونے دیں گے
10:34حالانکہ یہ سیدھا سیدھے الزام ہے
10:35حضرت عثمان غنی کے حوالے سے
10:37وہ تو اس وقت
10:37جہاں پر مفسد اور باغی لوگ آئے ہوئے تھے
10:39وہ تو ان کی حرکتیں تھیں
10:40وہاں اس وقت تو
10:41بنو عاشم مولا علی
10:42اور ان کے بیٹے تو حضرت عثمان غنی
10:44کے دفاع پر کھڑے تھے
10:45تو اب قریب تھا
10:46کہ دونوں طرف تلواریں نکل آئیں
10:47حضرت عبور ایمام حسین کے پاس
10:49تشریف لے گئے
10:50ان کو سمجھاتے رہے
10:51عرض گزاریاں کرتے رہے
10:52یہاں تک کہ
10:53پھر یہ تنازہ جب بہت زیادہ بڑھ گیا
10:55تو بلا کر ایمام حسین نے
10:57وسیعت کے مطابق
10:57چونکہ ایمام حسین کی وسیعت تھی
10:58کہ بھئی لڑائی یگڑا نہیں کرنا
11:00تو ان کو جنت البقی کے اندر
11:01دفن کر دیا گیا
11:02اب ظلم دیکھیں
11:03بوغز دیکھیں
11:05کہ
11:06روایت کے اندر آتا ہے
11:07کہ ایک بھی بن اومیہ کا بندہ
11:09امام حسین کے جنازے میں نہیں گیا
11:11سوائے خالد بن ولید بن اقبہ کے
11:13اور اس نے بھی بڑی زبردستی
11:15اجازت مانگی
11:15اور امام حسین کے ساتھ
11:16اس نے امام حسین کے جنازے میں
11:17شرکت کی اور کندہ دیا
11:18اور دوسرا بندہ
11:19جو اس وقت کا
11:20وہاں کا حاکم تھا
11:21سعید بن الاس
11:22تو اس نے وہاں شرکت کی
11:25تو یہ دو بندے بن اومیہ کے
11:26یعنی یہ مروان لانتی جو ہے
11:28اور وہاں شریک
11:28نہیں ہوا
11:29نہ اس نے جنازہ پڑا
11:31اسی بات کو
11:32کہ بھئی اس مروان کی
11:33یہ ساری عرقتیں ہیں
11:34انوار الباری میں
11:35اللہمان ورشاہ کشمیری نے لکھا
11:36تہذیب القمال کے اندر
11:37اللہم مزی نے لکھا
11:37اور دیگر جناب
11:39اور بہت ساری تاریخ کی کتابوں میں
11:41کہ یہ اتنا بہوزی تھا
11:42کہ اس نے مہم حسین کو
11:43وہاں دفن نہیں ہونے دیا
11:44اب یہاں پر کئی ناصبی عدرات
11:46یہ کہتے ہیں
11:46کہ نہیں ہوں تو عدر سعیدہ
11:47عائشہ صدیقہ نے
11:48انکار کیا تھا
11:49دفن ہونے سے
11:51انہوں نے انکار کر دیا تھا
11:51کہ یہاں کسی کو دفن نہ کیا جائے
11:52حالانکہ بات یہ نہیں ہے
11:53سعیدہ نے پہلے اجازت دے دی
11:55انصاب الاشراف کے اندر
11:56اللہمہ بلازری لکھتے ہیں
11:57فَلَمْمَا رَاتَ عائشَةُ السَّلَا
11:59وَرْرِجَال
12:00وَخَافَتْنَ يَعْزِمَ الشَّرْء
12:04وَهِنَهُمْ
12:04سعیدہ عائشہ نے جب دیکھا
12:06اسلحہ نکل آئے
12:06بندے کٹھے ہو گئے ہیں
12:07اور ایک شرارت بڑھنے لگی ہے
12:09ابھی یہاں پر خون کی ندیاں بے جائیں گی
12:11تو آپ نے پھر ایسے میں فرمایا
12:13الْبَتُ بَيْتِي
12:14فَلَازِنْ وَيُتْفِنَ
12:15فِيَا خَدْ
12:16تو آپ نے فرمایا
12:16بھئی میرا گار ہے یہ میرا گار ہے
12:18میں یہاں پر
12:18آپ کسی کو اجازت نہیں دوں گی
12:20تو آپ بتائیں
12:21یہاں واضح لکھا ہوا ہے
12:22کہ ان کی شرارت کے بعد
12:23ام المومنین نے
12:25پہلے اجازت دی تھی
12:26اور بعد میں آپ نے فرمایا
12:26کہ یہاں شرارت ہو رہی ہے
12:27اور ویسے بھی حضرت سعیدنا
12:29امام علی مقام امام حسین کو
12:30جو وسیعت ہی
12:31آپ نے اس وسیعت کے مطابق پھر
12:32اس شر کو بڑھایا نہیں
12:34فتنہ انگیزی سے
12:35بچتے ہوئے پھر آپ نے
12:37امام حسین کو دفن کیا
12:39تو کہنے کا یہ مطلب ہے
12:40کہ یہ ہے
12:40وہ جس کو یہ صحابی کہہ رہے ہیں
12:42کہ جو اس قدر
12:42علی بیت کا بوزی اور دشمن ہے
12:44اس قدر یہ شرارت
12:45اور خبیز قسم کا ظالم آدمی ہے
12:47پھر حضرت عثمان غنی کی شہادت
12:49اس بدبخت کی وجہ سے
12:50امام ابن کثیر علی بیدائیون
12:51نے آیا کے اندر
12:52جیسے میں پہلے
12:53اوالہ دہ چکا کہ وہ لکھتے ہیں
12:54کہ وہ مروانوں کا آن
12:55اپر الاسبافی ہے سارے عثمان
12:56کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ
12:58نے کی شہادت کا
12:59سب سے بڑا سبب یہ
13:01مروان لانتی ہے
13:01کیونکہ اس نے
13:02جھوٹ موڑ کا ایک خط لکھ کر
13:04اس نے وہ وفد کو دیا
13:06جس کے اندر ان کو
13:06قتل کرنے کا حکم
13:08جو انہا اپنی طرف سے
13:09اس نے لکھ کر
13:09ایک فتنہ انگیزی کی
13:10جس کی وجہ سے
13:11حضرت عثمان کی شہادت ہوئی
13:12علامہ یوسف بن تغریب بردی
13:15یہ
13:16مولد اللطافہ فی من
13:18ولیہ سلطنتہ والخلافہ
13:20اس کے اندر لکھتے ہیں
13:21کہ
13:21کانہ ہوا من آزم الاسباب فی
13:24زوال دولت عثمان
13:25عثمان غنی کی شہادت
13:26یہ سب سے بڑا سبب تھا
13:27تاریخ الخمیس کے اندر
13:28شہر شیخ جہار بکری
13:29اور انوار البائی کے اندر
13:30اسی طرح علامہ تھانوی صاحب
13:32اور اسی طرح دیگر
13:33بہت سارے دو بندی علماء
13:35نے لکھا ہے
13:35کہ مروان ہی
13:36اصل وہ شخص تھا
13:37وہ بدبخت تھا
13:38جس کی بدبختی کی وجہ سے
13:40عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ
13:42کی شہادت ہوئی
13:43اس کے علاوہ
13:44اس مروان
13:46بدبخت کی بڑی بدبختیاں ہیں
13:49حضرت ابو سعید نلخدری
13:50حضرت ابو زرگفاری
13:51سال بن ساد السادی
13:52ابو یوب بن ساری
13:53اسامہ بن زید
13:54حضرت ابو رہرہ
13:54جیسے صحابہ کی بینستی کرتا تھا
13:56مسند تیالسی
13:57صحیح ابن عبان
13:58تاریخ ابن ابی خیسمہ
13:59انصاب الاشراف
14:00اور دیگر کتب میں موجود ہے
14:01بڑے مقام پر
14:02ایک دن حضرت سعید ابو یوب بن ساری
14:04حضور کے روزے پہ آئے
14:05تو ان کو اس نے
14:06بدتمیزی سے
14:06ان حضور کے روزے پر
14:08وہ پیار کر رہے تھے
14:09تو اس نے جڑک کے جناب
14:10ان کی بیدبی اور بدتمیزی کی
14:11اور ان کے گلے میں
14:12چدر ڈال کے جناب
14:13ان کو گردن سے پیچھے اٹھایا
14:15صحابی رسول حضرت دہاد بن
14:17قیس کرشی فاری
14:18اور حضرت نومان بن بشیر جیسے
14:20صحابہ کو اس بدبخت نے شہید کیا
14:21تہذیب الکمال کے اندر
14:22تاریخ الاسلام کے اندر
14:23رفضہ بھی
14:24اور اللہ صحابہ کے اندر
14:25یہ موجود ہے
14:36قات ابن سعد اور دیگر
14:37تاریخ اور سیرت کی کتابوں میں موجود ہے
14:39کہ واقعہ حرہ کے اندر
14:40مسلم بن اقبہ کی
14:41معاونت اور مخبری کرنے والا
14:43جاسوسی کرنے والا
14:44یہ بدبخت ہے
14:45جس کی وجہ سے وہ واقعہ حرہ
14:46جس میں ہزاروں صحابہ تابین
14:48تبہ تابین
14:48ان کی بیگمات
14:49اور ان کے بچے بچے شہید کیے گئے
14:51مدینہ منورہ کو پامال کیے گیا
14:52وہاں عورتوں سے بدکاریاں کی گئیں
14:54وہ ظلم ہے تاریخ کے اندر یہ
14:55واقعہ حرہ کے علمان والحفیظ
14:57اور اسی طرح یہ اتنا بوزی آدمی تھا
14:59کہ حضرت عثمان بن مزون
15:00رضی اللہ تعالی عنہ
15:01آپ کی قبر منور پر
15:03حضور نے ایک پتھر رکھا تھا
15:04نشانی کے طور پر
15:05کہ یہاں میری آل بیعت میں سے
15:07اگر کوئی بندہ فوت ہوگا
15:08تو وہ حضرت عثمان بن مزون سے
15:09بڑا پیار کرتے تھے وہ
15:10فرمایا میں اس کو یہاں دفن کروں گا
15:12تو اپنی خاندانی تاثب میں
15:14اس بدبخت نے
15:14وہاں وہ حضور کے آتوں کے
15:16رکھے ہوئے پتھر اور نشانی
15:17کو اٹھا کر پھینک دیا
15:18جب اسے کہا گیا
15:19خد بن میا کے لوگوں نے کہا
15:20کہ یہ تو رسول خدا نے ایسا کیا تھا
15:21تو اس کو واپس رکھ پتھر کو
15:23تو یہ کہنے لگا
15:24اللہ کی قسم میں ایک دفعہ
15:25جس پتھر کو کھار دوں میں
15:26واپس نہیں رکھتا
15:27الغرض یہ بہدب رسول بھی تھا یہ
15:30اور یوں ہی اس نے جناب عید کا
15:33جو انا خدبہ مقدم کیا
15:34اور یہ
15:45اور اس کے لئے دیگر حدیث کی کتابوں میں
15:48بلکہ اس پہ تقریباً آل سنت کو اتفاق ہے
15:50کہ اس مروان نے جناب
15:51بدت سیعہ کوئی شروع کی حضور کی سنت کو ترک کیا
15:54اور خطبہ ایدین کو اس نے نا مقدم کیا
15:57اور وہ وجہ
15:58کوئی خاص مجبوری یا وہ نہیں تھا
16:00بلکہ جیسے میں آپ کو پیچھے
16:01شارحین حدیث کے عوالے سے بیان کر چکا
16:03کہ یہ بدبخت
16:05اس نے اس وجہ سے وہ کیا
16:06کہ یہ خطبوں میں
16:07آل بیعت اتار پر لان تان کرتا تھا
16:09اس وجہ سے
16:10اس بدبخت کی
16:11اس بدبختی کی وجہ سے
16:12لوگ خطبہ نہیں سنتے تھے
16:13تو اس نے اس خطبے کو
16:15مقدم کر دیا
Comments