Skip to playerSkip to main content
What if I told you that 75% of Earth is still unexplored… and what lies beneath the ocean is beyond imagination?

From the mysterious disappearance of Malaysia Airlines Flight MH370 disappearance to the discovery of hidden ecosystems beneath the seafloor, this video uncovers the dark truth about our oceans.

Scientists have discovered:

A 65,000 km long underwater mountain range (Mid-Ocean Ridge)
Deep-sea “jungles” thriving without sunlight
Creatures like the giant squid that remained unseen for centuries
A completely sealed ecosystem beneath another ecosystem (2023 discovery)
And in 2024… something unbelievable: “Dark Oxygen” oxygen being produced without sunlight

We know more about Mars than our own oceans.
So the real question is… what are we missing?

This is not just science.
This is a reality that challenges everything we thought we knew.

⏱️ Chapters

0:00 MH370 Mystery
1:10 Why Oceans Are Still Unknown
2:30 World’s Longest Mountain Range Underwater
4:00 Deep Sea Zones Explained
6:30 Hidden Ecosystems Discovery
8:00 Dark Oxygen Explained
10:00 Final Reality

#oceanmystery #deepsea #sciencefacts #oceansecrets #spacevsocean #mindblowing #documentary #unsolvedmysteries #imtinanahmad #foryou #pakistan #india #bangladesh

Category

🗞
News
Transcript
00:00آٹھ مارچ سن دوہزار چودہ
00:01ملیشین ائرلائنز فلائٹ ایم ایچ تھری سیونٹی
00:04جس میں دو سو انتالیس لوگ سوار تھے
00:07کولا لنپور سے بیجنگ کے لیے پرواز لیتی ہیں
00:10جہاز اڑتا ہے اور پھر وہ جہاز
00:13ہمیشہ کے لیے غائب ہو جاتا ہے
00:15دنیا نے ڈھونڈا چھیالیس موالک
00:18اس سرچ آپریشنز میں شامل ہوتے ہیں
00:20دو سو ملین ڈالر سے زیادہ کا سرچ آپریشنز کا خرچہ آتا ہے
00:25سیٹلائٹس استعمال ہوتی ہیں
00:26شپس سبمرینز یوز ہوتی ہیں
00:28سال کے سال لگتے ہیں
00:30پر وہ پلین کبھی نہیں ملتا
00:32لیکن آج میں آپ کو اس جہاز کی کہانی نہیں سنا رہا
00:36میں آپ کو یہ بتا رہا ہوں
00:38کہ وہ جہاز آخر ملا کیوں نہیں
00:41کیونکہ وہ جہاز جس جگہ گرا تھا
00:44وہ انڈین اوشن کا حصہ ہے
00:46یہ وہ وقت تھا کہ ناسا کے پاس اتنا میپ تھا
00:50کہ مارس کا کوئی رینڈم کارنر بھی ہیڈن نہیں تھا
00:54لیٹرلی
00:55یعنی اگر یہ پلین مارس پر کریش ہوا ہوتا
00:58تو شاید مل جاتا
01:00بکز مارس is better mapped
01:02as compared to our own sea
01:04تو سوال یہ ہے
01:06کہ سمندر کے نیچے آخر کیا ہے
01:08اور کیوں انسان آج تک وہاں نہیں پہنچا
01:12اس ٹاپک پر بات کرنے والی
01:14زیادہ تر ویڈیوز میں ایک غلطی ہوتی ہے
01:17وہ کہتے ہیں کہ سمندر کے نیچے کچھ نہیں ہے
01:19ایک پاکنگ لوٹ کی طرح خالی جگہ ہے
01:22جہاں پر پریشر ہے
01:24جہاں پر اندھیرہ ہے
01:25جہاں پر سن لائٹ نہیں پہنچتی
01:27اور یہ بات غلط ہے
01:29بلکل غلط
01:30سمندر کے نیچے دنیا کا سب سے لمبا ماؤنٹن رینج موجود ہے
01:35پینسٹ ہزار کلومیٹر لمبا
01:37یعنی ہمالیاز
01:39ایندیز
01:40راکیز
01:40ان سب کو ملا لیں
01:42تو بھی اس سے چھوٹے پڑتے ہیں
01:44دنیا کے سب سے بڑے والکینوز یہاں پر ہیں
01:47غار یہاں پر ہیں
01:48یہاں تک کے جنگل موجود ہیں
01:50حیرانگی کی بات ہے
01:52کہ سمندر کے نیچے جنگل موجود ہیں
01:54لیکن وہ جنگل موجود ہیں
01:56جہاں پر کریچرز رہتے ہیں
01:58سن لائٹ کے بغیر
02:00زندگی آباد ہے
02:02زندگی چلتی ہے
02:03اور وہ اپنی اینرڈی
02:05زمین کے نیچے سے حاصل کرتے ہیں
02:08اور دوہزار تئیس میں پتا چلا
02:10کہ ایک ایکو سسٹم کے نیچے
02:12ایک اور پورا سیلڈ
02:14ایکو سسٹم موجود ہے
02:15جس کو کسی نے کبھی نہیں دیکھا
02:18تو سوال یہ نہیں
02:19کہ سمندر کے نیچے
02:21کچھ اور ہے
02:22یا نہیں ہے
02:23سوال یہ ہے
02:24کہ یہ کب سے تھا
02:25اور صرف دوہزار تئیس تک ہی
02:28انسان کو
02:29کیوں پتا چلا
02:30کہانی کیا ہے
02:31آئیے سمجھتے ہیں
02:40اب ذرا ایک منٹ کے لیے
02:42imagine کریں
02:42کہ آپ ایک سبمرسبل پر بیٹھے ہیں
02:45اور سرفیس پہ ہیں
02:46اور ابھی آپ پانی کے نیچے
02:48سمندر کے نیچے
02:49جانے لگے ہیں
02:49تو کیا ہوگا
02:50آپ جائیں گے پہلے
02:52دو سو میٹر تک
02:53اور دو سو میٹر تک
02:54یہاں تک سن لائٹ ہے
02:56یہاں تک
02:57بات سب جانتے ہیں
02:58کورل ریف ہے
02:59مچھلیاں ہیں
03:00وہ سب جو آپ
03:01نیشنل جیوگرافک پر دیکھتے ہیں
03:02یہ فیملیر ہے
03:04اور یہاں تک آپ
03:05کمفٹیبل ہیں
03:06لیکن جیسے ہی
03:07آپ اس سے نیچے جانے کی
03:08کوشش کریں گے
03:08ایک ہزار میٹر تک
03:10تب آپ کہاں پہنچیں گے
03:12جس جگہ آپ پہنچیں گے
03:13اسے ٹوائلائٹ زون
03:14کہا جاتا ہے
03:15یعنی سن لائٹ
03:16پلکل ختم
03:17اندھیرہ شروع
03:19پریشر بڑھنا شروع ہو جاتا ہے
03:21لیکن لائف
03:22ابھی بھی موجود ہے
03:23جائنٹ سکوڈ
03:24یہاں رہتے ہیں
03:25وہ جائنٹ سکوڈ
03:30انسان نے اس دنیا میں دیکھا
03:32وہ دو ہزار چار میں دیکھا
03:34پہلے انسان نے کبھی بھی
03:36جائنٹ سکوڈز نہیں دیکھے
03:38یہ جو جائنٹ سکوڈز ہیں
03:39یہ دنیا کا دوسرا
03:41بڑا انورٹی بریٹ ہے
03:42چودہ میٹر لمبا
03:44آنکھیں فوٹبال کے سائز کی طرح
03:46اور دو ہزار چار سے پہلے
03:48اس کی کوئی پکچر
03:49کوئی فوٹج آپ کو دیکھنے کو نہیں ملتی
03:52چند جائنٹ سکوڈ
03:53جو ڈیٹ باوڈیز کے طور پر
03:55ساحل تک آ گئے
03:56دنیا نے صرف ان کو دیکھا
03:58اور دنیا نے اسے سی مانسٹر مان لیا
04:00یعنی یہ آرگومنٹ کیا جا سکتا ہے
04:03کہ یہ سی مانسٹر ہیں
04:04لیکن شاید ہم انہیں غلط
04:06کیٹگری میں رکھ رہے تھے
04:08پھر آپ جیسے ہی ایک ہزار میٹر سے
04:10مزید نیچے جاتے ہیں
04:12چار ہزار میٹر تک
04:13آپ پہنچتے ہیں
04:14ابیسل پلینز میں
04:16یعنی دنیا کی سب سے بڑی زمین
04:18یہاں سے نیچے
04:20ماریانا ٹرنچ
04:21یعنی چیلنجر ڈیپ
04:22اور اس کی ڈیپٹ
04:23دس ہزار نو سو چوراسی میٹر ہے
04:26یعنی ماؤنٹ ایوریس کی ہائٹ
04:28آٹھ ہزار آٹھ سو اڑتالیس میٹر ہے
04:31تو اگر ماؤنٹ ایوریس کو
04:33الٹا کر کے چیلنجر ڈیپ میں
04:35رکھنے کی کوشش کریں
04:36تو بھی سرفس تک نہیں آئے گا
04:38یعنی ٹرنچ اس سے
04:39دو کلومیٹر اور زیادہ ہوگا
04:43اب یہاں پر آپ کو ایک بات سمجھنے ہیں
04:45وہ یہ کہ یہاں پر ہوتا کیا ہے
04:47یہاں پر پریشر ہے
04:48سی لیول سے ایک ہزار اکھتر گنا زیادہ
04:52اور ٹیمپریچر ایک سے چار سیلسیس تک پہنچتا ہے
04:55سن لائٹ زیرو ہے
04:56ہمیشہ کے لیے ایک گھپ اندھیرہ ہے
04:59اور یہاں پر بھی زندگی موجود ہے
05:02دوہزار چوبیس میں ایک چائنیز سبمرسیبل
05:05فینڈوزے نے تائیس ڈائیوز کی ہیں
05:08ماریانا ٹرنچ میں
05:09یعنی اکتیس ہزار فٹ ڈیپٹ پر
05:12یعنی چیلنجر ڈیپ کے بلکل پاس
05:15اور انہوں نے ایکسپلور کیا ہے
05:17ٹیوب وارم اور مولسکس کی کالنیز موجود ہیں
05:20جو آدمی ایکسپلور کرنے کے لیے یہاں تک گیا
05:23تاریخ میں کبھی کوئی انسان
05:26اتنی گہرائی تک نہیں گیا
05:28اور انٹرسنگ بات یہ ہے
05:29کہ ہم اس انسان کا نام تک نہیں جانتے
05:33سن انیس سو ستتر میں
05:34گیلپ ایگوز کے پاس
05:36آلون سبمرسیبل میچے گیا
05:38سائنٹسٹ اندر گئے
05:40اندھیرہ تھا، پریشر تھا
05:41اور کمپلیٹ سائلنس تھا
05:43پھر انہوں نے دیکھا کہ ایک پہاڑ ہے
05:46لیکن وہ پہاڑ چمنی کی طرح تھا
05:49یعنی سوپر ہیٹیڈ پانی اوگل رہا تھا
05:51چار سو دگری سیلسیس پر
05:54منرال، سلفر، فائر
05:56اسینچلی ایوریتھنگ انڈر وارٹر
05:58اور اس فائر کے اردگرد ایک جنگل تھا
06:01can you really imagine
06:03فائر کے اردگرد پانی کے نیچے
06:06ایک جنگل
06:07آپ کو یاد ہوگا کہ سکول میں پڑھا تھا
06:09کہ زندگی کے لیے
06:10فوٹو سینثیس چاہیے
06:11سن لائٹ چاہیے
06:13پلانٹس چاہیے
06:14فوڈ چین چاہیے
06:15یہ سب رولز
06:16آپ کو اچھے سے یاد ہوں گے
06:18پر یہاں زندگی نے تو رولز ہی پلٹ کر رکھ دیئے
06:22وہاں پر بیکٹیریا ہے
06:23کہ جو کیمیکل اینرڈی یوز کرتے ہیں
06:26یعنی سلفر، منرلز
06:28اور اس سے اپنا کھانا پیدا کرتے ہیں
06:31یعنی کیمو سینثیس
06:33کوئی سورج نہیں
06:34اور پھر اس بیکٹیریا پر
06:36چھے فوٹ لمبے ٹیوب وارمز موجود ہیں
06:39آئی لیس شرمز ہیں
06:41جن کی آنکھیں
06:42پریشر کی وجہ سے کبھی
06:43ڈیولپ ہی نہیں ہوئی
06:45جائنٹ ٹرابز ہیں
06:46ہیک فش ہیں
06:47ایک پورا فوڈ چین
06:48سورج کے بغیر
06:50زمین کے نیچے سے نکلنے والی
06:52ہیٹ سے چل رہا ہے
06:541977 میں سائنس کی
06:56اوفیشل پوزیشن یہ تھی
06:57کہ دیپ اوشن
06:59ایک بارن ویسٹ لیند ہے
07:01کچھ نہیں ہے وہاں پر
07:02اور یہ بات ایک پروفیسر نے نہیں کئی
07:05یہ بات ایک کنسنسس تھا
07:06ٹیکس بکس میں پڑھایا جاتا تھا
07:08ایکزیم میں یہ سوال پوچھا جاتا تھا
07:10پھر 1977 میں
07:12ایک سبمرسبل نیچے گیا
07:14اور پورا کنسنسس
07:15ہمیشہ کے لیے
07:16بدل کر رہ گیا
07:18اس ایک ڈائیو نے
07:19سائنس کے فارمولے کو
07:21غلط ثابت کر دیا
07:22اور سائنٹس نے خود کہا
07:24that we were wrong
07:26وہ مومنٹ
07:27شاید سائنس کی ہسٹری میں
07:28سب سے ایمپورٹن مومنٹس میں سے ایک ہے
07:31اور کسی نے اسے
07:33نوٹس نہیں کیا
07:34آپ کو یاد ہوگا
07:35کہ اس ویڈیو کے شروع میں
07:37میں نے آپ سے ذکر کیا تھا
07:38کہ
07:38ابسل پلینز میں
07:40میٹیلک راکس ہیں
07:41یعنی پولی میٹیلک نوڈیولز
07:43اور ایک اور فنومنن
07:44کہ 2024 میں
07:46سائنس کی ٹیکس بکس ہی بدل گئیں
07:48کیوں اور کیسے
07:49اب ذرا اس فنومنن کو سمجھتے
07:522024 میں
07:53پیسفک اوشن کے فلور پر
07:55چار ہزار میٹر ڈیپتھ میں
07:57سائنٹس نے
07:58آکسجن ڈیٹیکٹ کی ہے
08:00اندھیرے کے اندر
08:02گھپ اندھیرے کے اندر
08:04زیرو سن لائٹ
08:05زیرو فوٹو سنثیس
08:07لیکن پھر بھی
08:08آکسجن موجود ہے
08:10وہ نوڈیولز
08:11وہ میٹیلک راکس
08:13جو وہاں پڑی ہوئی ہیں
08:14صدیوں سے
08:15ہزاروں سالوں سے
08:16الیکٹرو کیمیکل ریاکشن
08:18create کر رہی ہیں
08:19اور وہ ریاکشن
08:20آکسجن پریڈیوز کر رہا ہے
08:22صرف راک سے
08:23صرف کیمیسپری سے
08:24بغیر کسی چیز کی
08:26مدد کے
08:27سائنٹس نے
08:28اور ریسرچز نے
08:29اس چیز کا نام
08:30ڈاک آکسجن رکھا ہے
08:32سن اٹھارہ سو پچاس میں
08:34سائنٹس نے
08:35ٹیکس بکس میں لکھا
08:36کہ آکسجن
08:37صرف فوٹو سینثیس سے آتی ہے
08:39پلانٹ سے آتی ہے
08:40سن لائٹ سے آتی ہے
08:41اور یہ رول نمبر ون بنا
08:43ہر سکول میں پڑھایا گیا
08:45ہر اگزائم میں
08:46پچھلے ایک سو چوہتر سالوں سے
08:48یہی کانسپٹ
08:49دنیا کو بیچا گیا
08:51لیکن دوہزار چوبیس میں
08:52سمندر کے بیڈ نے
08:54سمندر کے فلور نے
08:55سائنٹس کے اس رول کو
08:57ہمیشہ کے لیے
08:58بدل کر رکھ دیا
09:00وہ راک
09:01ایک سو چوہتر سال سے بھی
09:03پہلے سے
09:04یہ کام کر رہی تھی
09:05تب تو کسی نے نہیں پوچھا
09:07کسی نے نوٹس نہیں کیا
09:09اور زندگی
09:10سائنس دانوں کے کہے
09:12بغیر بھی چل رہی تھی
09:13اب یہاں پر آپ کو
09:15جو بات سمجھنی ہے
09:15وہ یہ
09:16کہ ہم سائنس کی مدد سے
09:18آج غلطی کیا کرتے ہیں
09:20ہم اللہ سبحانہ و تعالی کی
09:22عادت کو نوٹ کرنے کی بات کرتے ہیں
09:24اللہ کی کوئی چیز
09:26عادت ہو سکتی ہے
09:27وہ اس کی ضرورت
09:29یا اس کی مجبوری نہیں ہے
09:31اب یہاں پر جو بات
09:32آپ کے سمجھنے کے لیے
09:34ضروری ہے
09:34کہ پانی کے نیچے
09:36بغیر کسی چیز کے
09:37بغیر فوٹو سینٹسز کے
09:39اگر آکسیجن بن رہی ہے
09:41تو ہم کیا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں
09:43ہم کیا جاننے کی کوشش کر رہے ہیں
09:45اور یہی پر آ کر
09:46سائنس فیل ہو جاتی ہے
09:48اور جس سائنٹیزم کی
09:50آج دنیا عبادت کرتی ہے
09:52وہ آپ کو یہی غلط کونسپ
09:54بیچنے کی کوشش کرتا ہے
09:55سائنس عملن کرنا کیا چاہتی ہے
09:57وہ اللہ سبحانہ و تعالی کی
09:59عادت کو نوٹ کرنے کی کوشش کرتی ہے
10:01کہ اگر نل کھولیں گے
10:03تو کیا پانی آئے گا
10:04اور اگر نل کھولنے سے پانی آتا ہے
10:07تو وہ رول بنا دیتے ہیں
10:08کہ نل کھولنے سے پانی آتا ہے
10:10وہ یہ بھول جاتے ہیں
10:12کہ نل کھولنے سے پانی
10:14اس لیے آتا ہے
10:15کہ اللہ سبحانہ و تعالی چاہتا ہے
10:17کہ نل کھولو تو پانی آئے
10:20تو جس دن نل کھولنے سے پانی نہیں آئے گا
10:23جس دن میں ماچس جلاؤں گا
10:24اور آگ نہیں لگے گی
10:26اس دن اللہ سبحانہ و تعالی نہیں چاہتا
10:31ہو جائے گا اور یہاں پر امام غزالی
10:34مجھے یاد آتے ہیں جنہوں نے کتنی
10:35خوبصورت بات کی کہ اللہ
10:37سبحانہ وتعالی کی کوئی چیز عادت
10:39ہو سکتی ہے لیکن اللہ
10:41سبحانہ وتعالی کی عادت
10:43اللہ سبحانہ وتعالی کی مجبوری
10:45یا اس کی ضرورت نہیں ہے
10:47اس کی مرضی
10:49کہ وہ پانی کے نیچے
10:51اتنے گھپ اندھیرے میں
10:52بغیر فوٹو سنتسز کے
10:54بغیر سن لائٹ کے بھی
10:56آکسجن پیدا کر دے
10:58اور یہ چیز ایمان کا
11:00تقاضہ ہے
11:02اب ایک آخری بات جو زیادہ تر لوگ
11:04مس کر جاتے ہیں
11:05سی بیڈ ٹونٹی تھرٹی
11:08ایک انٹرنیشنل پروجیکٹ جس کا گول ہے
11:10کہ سمندر کے نیچے پورے
11:12اوشن کے فلور کو میپ کرنا ہے
11:14سن دوہزار تیس تک
11:16اور آج کی ڈیٹ میں
11:17ٹونی فائی پرسنٹ کمپلیٹ ہو چکا ہے
11:20اور یہ ٹارگٹ ہنڈر پرسنٹ
11:22سن دوہزار تیس تک ہوگا
11:23یعنی ہماری لائف ٹائم میں
11:25ہم سمندر کے پورے فلور کو پہلی بار
11:28میپ ہوا ور دیکھیں گے
11:30اور ہر بار جب میپنگ کی ڈائیو ہوتی ہے
11:32نئی چیزیں سامنے آتی ہیں
11:34سن دوہزار تیس کے اندر
11:36ایک میپنگ ڈائیو کے اندر
11:38کیلیفورنیا کی کوسٹ کے پاس
11:40ایک سی ماؤنٹ ملا ہے
11:41جس کو پہلے کبھی کسی نے میپ نہیں کیا تھا
11:44یعنی ایک پورا پہاڑ
11:46جو اوشن میں تھا
11:47ان نون بس وہ وہاں پر تھا
11:50پر یہ بات کوئی نہیں جانتا تھا
11:53اور اب وہ سوال
11:54جو اس پوری ویڈیو کا کرکس ہے
11:56کہ ہم دوہزار چھبیس میں ہیں
11:58اور جیمز ویب کی ٹیلیسکوپ
12:00آج تیرہ بلین لائٹیئرز دور دیکھ سکتی ہے
12:03مارس کے اوپر رووز موجود ہیں
12:06اے آئے موجود ہیں
12:07جو آپ کو شائری تک کر کے دیکھتا ہے
12:09اور ہماری اپنی زمین پر
12:11پانی کے نیچے پچھتر فیصد کیا ہو رہا ہے
12:14بلینک ہے نہیں ہے
12:16ہم نہیں جانتے
12:17کیوں؟
12:20اوشن میں اندھیرہ ہے
12:22سپیس ایکسائٹنگ لگتا ہے
12:24اوشن بورنگ لگتا ہے
12:26لیکن یہ چوائس ہے
12:27یہ ایک پریورٹی کا مسئلہ ہے
12:29سن 1977 میں پہلا کنسنسس یہ تھا
12:32کہ دیپ اوشن کے اندر کچھ نہیں ہے
12:35پھر 1977 میں پہلی ڈائیو ہوتی ہے
12:37اور پتا چلتا ہے
12:38کہ تین سو نئی سپیشیز ڈسکور ہوئی ہیں
12:41ایک ڈائیو کے اندر
12:43تو سوچیں کہ 75 فیصد بلینک کے اندر
12:46جس کے بارے میں ہم کچھ نہیں جانتے
12:50کیونکہ ہر بار جب بھی انسان نیچے گیا ہے
12:53پانی کے اندر گیا ہے
12:55ریالیٹی نے ہماری ایمیجنیشن کو
12:58ہمیشہ پیچھے چھوڑ دیا ہے
13:01اور اب ایک ایمپورٹن بات
13:02کہ وہ ڈاک آکسیجن جو ڈسکور ہوئی ہے
13:05اگر زمین پر پانی کے نیچے
13:08اندھیرے کے اندر
13:09صرف کیمیسٹری سے آکسیجن بن سکتی ہے
13:12تو یہ صرف ایک سائنٹیفک فیکٹ نہیں ہے
13:15یہ ایک ہنٹ بھی ہے
13:17کہ یونیورس میں لائف کے رولز
13:20ہم اپنی زمین کے رولز سے سیکھتے ہیں
13:23اور ہم ان رولز کو
13:24اپنی زندگی پر ایمپلیمنٹ کرتے ہیں
13:26پر وہ تمام کے تمام رولز
13:29جن کو ہم سائنٹس میں
13:31جن کے آگے سجدہ ریز ہوتے ہیں
13:33وہ سب کے سب رولز انکمپلیٹ ہیں
13:36جو بھی لائف کے رولز کے بارے میں
13:39کانفیڈنٹ ہیں
13:40وہ ابھی چیلنجر دیپ تک پہنچے نہیں ہیں
13:43اللہ سبحانو تعالیٰ نے ارشاد فرمایا
13:46کہ تمہیں علم میں سے تھوڑا دیا گیا ہے
13:49ہم اپنی اس دنیا کے بارے میں
13:51پچھتر فیصد زمین کے بارے میں
13:53کچھ نہیں جانتے
13:54اور پھر بھی ہم اپنے خالق کی تقلیق پر
13:57سوال اٹھاتے ہیں
13:58اتنا کچھ جان کر بھی
14:00اگر کوئی یہ کہتا ہے
14:02اور یہ سوچتا ہے کہ یہ زمین
14:04یہ کائنات یہ دنیا
14:05صرف ایک حادثے سے ممکن ہوئی
14:08تو ان کی اقلوں پر شک ہوتا ہے
14:10یہ کائنات ابھی
14:12نا تمام ہے شاید
14:14یہ کائنات ابھی نا تمام ہے شاید
14:17کہ آ رہی ہے دم آدم
14:19صدائے کن فیہ کون
14:21موسیقی
14:23موسیقی

Recommended