صحیح بخاری کی پہلی حدیث مبارکہ عربی متن اور اردو ترجمہ کے ساتھ۔ اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے نیت کی اہمیت بیان فرمائی ہے۔ اعمال کی قبولیت کا دارومدار نیت پر ہے۔
✅ عربی متن
✅ اردو ترجمہ
عَنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ أَبِي حَفْصٍ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضي الله عنه قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ:
«إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ لِدُنْيَا يُصِيبُهَا أَوِ امْرَأَةٍ يَنْكِحُهَا فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ»
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:
"اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔ پس جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لیے ہو تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول ﷺ ہی کے لیے ہے، اور جس کی ہجرت دنیا حاصل کرنے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لیے ہو تو اس کی ہجرت اسی چیز کے لیے شمار ہوگی جس کی طرف اس نے ہجرت کی۔"
Comments