MAJLIS ASR E AASHOOR | 10th Muharram Ul Haram | ARY Digital
Zakir : Moulana Zaheer Ul Hassan | Asr e Ashoor | Majlis | #muharramulharam
#muharram #muharram2025 #arydigital #rozeashoor #shabeashoor #10thmuharram #shanehussain
Zakir : Moulana Zaheer Ul Hassan | Asr e Ashoor | Majlis | #muharramulharam
#muharram #muharram2025 #arydigital #rozeashoor #shabeashoor #10thmuharram #shanehussain
Category
🎥
Short filmTranscript
00:00I do Christian in the name of Allah and the toysm Allah Hiru rahman ir raheem
00:08Alhamdulilah alladhi loli la yablighı midhatu lqailoun velha yuhопасi n'amãahu l'adun�vala
00:19yueddi haqqahul mujtahidun ladhi la yudriquhu bu'udul rahman fla yan aluhu guusul fiten
00:27Alladhi Laysal Sifatihi Hadun Mahdood
00:32Wala Naatun Mujood
00:34Wala Waktun Mahdood
00:36Wala Ajlan Mamdood
00:38Fatara Al-Khala'ika Bi-Qudratihi
00:42Wanaşr Al-Riyaha Bi-Rahmatihi
00:45Wawattada Bi-Sukhuri Mayadana Ardih
00:49As-Salaatu wa As-Salaamu Ala
00:52As-Saraf Al-Anbiyai Wal-Mur-Saleen
00:56Habibina wa Habib-e Ilahil Al-Alamin
01:00Sayyidina Al-Mumajjad Bashirina Al-Musaddad
01:04Al-Mustafa Al-Amjad Abil Qasim-e-Muhammad
01:15Waala Al-Baitih At-Tayyibin At-Tahirin
01:20Al-Masumin Al-Mazlumin
01:22La-Siyama Ba-Qiyatillahi Fi Al-Aradin
01:27Imam-e-Zaman-e-Nahad-Hujjit Ibn-e-L-Hasan
01:31Ruhi Wa Ar-Rawahul Al-Alamina
01:35Le-Turab-e-Mقدam-e-Hil-Fida
01:38Wa Jعلana Min Khayr-e-Aawan-e-Hi Wa An-Sar-e-H
01:43Ar-Rab-e-Shraha-Li-Sadri
01:46Wa Yassir-Li-Amri
01:48Wa Ahlul Uqda-Tum Min Lisani Yafka-Hu Qawli
01:54Faqad Kaal Allah Subhanahu Wa Ta-Ala
01:57Fi Kitab-e-Hil-Majid
01:59Wa Al-Furqan-e-Hil-Hamid
02:01Wa Qawli-Hul Haqq
02:04Wa Hua Asdaqul Ka-Ailin
02:07A'udhu Billahi Min A-Shi-Tan Ar-Rajim
02:11Bismillah Ar-Rajman Ar-Rajim
02:14Wa Qul N-Qus-U-Ali-Ka Min Anbaa-e-Rusul
02:19Salawat Bar-Muhammad Wa Al-Muhammad
02:27سب سے پہلے تو دعا ہے
02:30پروردگار ہماری عبادات کو
02:34عزاداری کو
02:35تعاعت کو
02:37دعاوں کو
02:38کاوشوں کو
02:40قبول و منظور فرمائے
02:44پروردگار ہم سب کو
02:47دینِ حقیقیِ اسلام کی
02:50تعلیمات کو سمجھنے کی
02:52ان پر عمل کرنے کی
02:54اور مبلغی طور پر
02:57عملی طور پر
02:59انسانیت اور بشریت کے لیے
03:02مبلغ بننے کی
03:04توفیق نصیب فرمائے
03:06پروردگار ہمارے مرحومین کی
03:08مغفرت فرمائے
03:09ان کے درجات کو بلند فرمائے
03:12پروردگار
03:13ہمیں دینِ اسلام کو
03:15سمجھنے کی
03:16اس پر عمل کرنے کی
03:17توفیق نصیب فرمائے
03:18ہماری نوجوہ نسلوں کو
03:20دینِ اسلام کو سمجھنے کی
03:22اور اس پر عمل کرنے کی
03:23توفیق نصیب فرمائے
03:53پروردگار
03:55فضیلت
03:56کہاں سے
03:58یہ آئیڈیا حاصل کیا ہے
04:01فلسفہ کیا ہے
04:03دو تین غزارشات پیش کروں گا
04:06ہم
04:07کوشش کرتے ہیں
04:10سعی کرتے ہیں
04:11کہ جو بھی عمل ہوں
04:14وہ اللہ رب العزت کے
04:17احقامات کے مطابق
04:19سنتِ الہیہ کے مطابق ہو
04:22عزاداری سید الشہدان
04:26جو مجالس
04:28جلوسِ عضا
04:29سبیلِ حسین علیہ السلام
04:32جتنے بھی مراسم ہیں
04:35اس کے اندر بھی
04:37فلسفہ
04:38ہم نے قرآن سے حاصل کیا ہے
04:41ہم
04:42ہر سال
04:44بار بار
04:45پوری دنیا میں
04:47ہر زبان میں
04:49ہر جگہ پر
04:50عزاداری سید و شہدہ کا
04:52احتمام کرتے ہیں
04:53یہ
04:54کہاں سے
04:55یہ سنتِ الہیہ کیسے ہے
04:58اب سنیے
04:59اللہ رب العزت نے
05:02سورہِ حود کے اندر
05:03جو کہ
05:05گیارنی سورہ ہے
05:06قرآن کی
05:07اور ٹوٹل
05:08اس کی آیات ہیں
05:09ایک سو تئیس
05:11اس کی
05:12ایک سو بیسوی آیت ہے
05:14وَكُلْ نَقُصُ عَلَيْكَ مِنْ أَنْبَاعِ الرُّسُلِ
05:20اے میرے حبیب
05:22ہم نے
05:24آپ پر
05:26ماں قبل انبیاء کے قصوں کو بیان کیا ہے
05:31اب یہاں پر
05:34آپ جانتے ہیں
05:36قرآن کو پڑھنے کی کتنی تاقید ہے
05:39بار بار پڑھنے کی تاقید ہے
05:42قرآن کو پڑھنے کا ثواب ہے
05:45اَفَلَا يَتَدَبِّرُونَ الْقُرْعَانَ
05:48اَمْ عَلَىٰ قُلُوبِ الْاقْفَالُهَا
05:51قرآن میں تدبر کرنے کا
05:53بار بار تاقید ہے
05:56اور یہاں پر ثواب ہے
05:58بلکہ کہا گیا
05:59تم قرآن میں تدبر کیوں نہیں کرتے
06:01غور و فکر کیوں نہیں کرتے
06:03کیا تمہارے دلوں کو تالے لگ چکے ہیں
06:06تو قرآن کو بار بار پڑھنے کا ثواب ہے
06:09ماہ مبارک رمضان میں ختم قرآن کا ثواب ہے
06:13بلکہ خطبہ شہبانیہ میں
06:15رسول خدا نے ارشاد فرمایا
06:16کہ جس کسی نے ایک آیت کی تلاوت کی
06:20گویا کہ ختم قرآن کیا
06:22تو ہم بار بار قرآن پڑھتے ہیں
06:24ختم قرآن کرتے ہیں
06:26ہمیشہ ہمیں یہ یقین ہوتا ہے
06:28کہ جتنی مرتبہ قرآن پڑھیں گے
06:30اس کا ثواب ملے گا
06:31قیامت تک پڑھتے رہیں گے
06:33صبح و شام پڑھتے رہیں گے
06:34اب یہاں پر جب قرآن پڑھیں گے
06:37تو جو اللہ رب العزت نے
06:39انبیاء کے قصے بیان کیے ہیں
06:41ان کو بار بار پڑھیں گے نا
06:43تکرار کریں گے نا
06:45تو عزیزہ نے محترم
06:46سب سے پہلی بات
06:48کہ یہاں پر جیسے قرآن کو
06:51بار بار پڑھنے کی تاقید ہے
06:53اور قرآن میں
06:55قصہ ہائی انبیاء کو
06:57بیان کیا گیا ہے
06:58انہیں بار بار پڑھنے کی تاقید ہے
07:02آگے چل کے پروردگار نے خود ارشاد فرما دیا
07:05کہ وجہ کیا ہے
07:06کہ ہم نے ماں قبل انبیاء کے قصوں کو بیان کیا ہے
07:10فعلا تو فقط ہی عرض کر رہا ہوں
07:13کہ جس طرح سے
07:14انبیاء ماں قبل کے قصوں کو
07:17بار بار پڑھنے کی تاقید ہے
07:21ویسے ہی ازاداری کیا ہے
07:24قصہ کربلا کو بیان کرنا
07:28بار بار بیان کرنا
07:30ہر سال بیان کرنا
07:32سوا دو مہینے بیان کرنا
07:35ہر زبان میں بیان کرنا
07:36ہر جگہ پر بیان کرنا
07:39جیسے اللہ رب العزت نے
07:41انبیاء کے قصوں کو
07:43بار بار قرآن میں بیان کیا
07:45اور قرآن کو بار بار پڑھنے کی تاقید ہے
07:48ویسے ہی قصہ کربلا کو
07:51زندہ رکھنے کے لیے
07:53بار بار پڑھنے کی تاقید ہے
07:56سلوات بر محمد و آل محمد
08:02ہم قصہ کربلا کو
08:04بار بار بیان کرتے ہیں
08:07اور یہ سنت الہیہ ہے
08:10یہ پروردیگار نے سکھایا ہے
08:13اللہ رب العزت نے
08:15حتی انبیاء کے قصوں کو
08:17قرآن میں بار بار بیان کیا ہے
08:19حضرت آدم علیہ السلام کے قصے کو
08:22اٹھا کر دیکھ لیجئے
08:23حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قصے کو
08:25اٹھا کر دیکھ لیجئے
08:26قربانی ابراہیم و اسماعیل کو
08:28اٹھا کر دیکھ لیجئے
08:29حضرت نو علیہ السلام کے قصے کو
08:32اٹھا کر دیکھ لیجئے
08:33حضرت یونس علیہ السلام کے قصے کو
08:36اٹھا کر دیکھ لیجئے
08:37تو ہمیں یہاں پر پتا چلتا ہے
08:38کہ پروردیگار نے
08:40ماں قبل انبیاء کے قصوں
08:42کو بیان کیا ہے
08:43اور اب اللہ رب العزت
08:46نے جو وجوہات بیان کی ہیں
08:48کیوں ان قصوں کو بیان
08:50کیا ہے پروردگار نے
08:51میں اپنی طرف سے نہیں
08:53کسی مفسر کی
08:56تفسیر نہیں
08:57بلکہ دریکٹ ترجمہ ہے
08:59قرآن کی سورہ حود کی
09:01120 نمبر آیت
09:04جس میں اللہ رب العزت نے
09:05وَقُلُّ نَقُطُوا عَلَيْكَ مِنْ عَمْبَاءِ رُسُولَ
09:08ہم نے اے حبیب
09:10آپ پر ماں قبل
09:12انبیاء کے قصوں کو بیان کیا ہے
09:14وجوہات کیا ہیں
09:16جو وجوہات
09:20قصہ
09:20انبیاء کو بیان کرنے کی
09:24قصہ انبیاء کو بار بار
09:26پڑھنے کی
09:27اور قصہ انبیاء کو بار بار
09:30دہرانے کی ہے
09:31وہی اہمیت اور وہی وجوہات
09:34وہی ریزنز
09:35ازاداری سید شہدہ
09:37علیہ السلام کے لیے
09:39قصہ کربلا کو بیان کرنے کی ہے
09:42توجہ ہے
09:44وجہ
09:45چار وجوہات پروردیگار
09:47نے بیان فرمائی ہے
09:50مَا نُسَبْتُ بِهِ فَوَادِقُ
09:54اے میرے حبیب
09:56ہم نے
09:58انبیاء کے قصوں کو
09:59بار بار بیان کیا ہے
10:01ترجمہ یہ ہے کہ ہم نے
10:03انبیاء ماں قبل کے قصوں کو بیان کیا
10:06آپ پر
10:08وجہ نمبر ون
10:10مَا نُسَبْتُ بِهِ فَوَادِقُ
10:13تاکہ آپ کا دل قوی ہو جائے
10:16یہاں پر رکنا چاہوں گا
10:19اللہ رب العزت
10:20کسے ارشاد فرما رہا ہے
10:23کہ آپ کا دل قبی ہو
10:25مَا نُسَبْتُ بِهِ فَوَادِقُ
10:29اے میرے حبیب آپ کا دل قوی ہو جائے
10:32عزیزین محترم
10:33غور کرنے کی بات ہے
10:35قلب پیمبر کتنا مضبوط ہے
10:40آل ریڈی کتنا مضبوط ہے
10:42جانتے ہیں نا
10:43پروردگار نے
10:45قرآن کو نازل کیا
10:47بسم اللہ الرحمن الرحیم
10:49اِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ
10:54وَمَا عَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ
10:57لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ عَلْفِ شَهَرٍ
11:01ہم نے لیلتُ الْقَدْر میں
11:04قرآن کو نازل کیا
11:05اور تمہیں کیا معلوم
11:08کہ لیلتُ الْقَدْر کیا ہے
11:09لیلتُ الْقَدْر
11:11حزار مہینوں سے بہتر رات ہے
11:14لیلتُ الْقَدْر
11:16پاور نائٹ ہے
11:17حزیزین محترم
11:18سب سے پہلا question
11:19اللہ رب العزت نے
11:22جس رات میں
11:24قرآن کو نازل کیا
11:27وہ رات عام
11:29راتوں جیسی رات نہیں
11:30وہ رات
11:33حزار مہینوں سے بہتر رات ہے
11:35اس رات کے
11:37مطلق پروردگار کا ارشاد یہ ہے
11:39وَمَا عَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ
11:42اور تمہیں کیا
11:43معلوم کہ لیلتُ الْقَدْر
11:45کیا ہے
11:46اور اس میں اگر ماں ماں نافیہ لیا جائے
11:49تو اس کا ترجمہ یہ ہوگا
11:51کہ تمہیں معلوم ہو ہی نہیں سکتا
11:53کہ لیلتُ الْقَدْر کیا ہے
11:55مگر یہ
11:56کہ جو کچھ پروردگار نے خود بتا دیا
11:58اس کی پہلی اہمیت یہ بیان کی
12:00کہ یہ وہ لیلتُ الْقَدْر ہے
12:02کہ جو حزار مہینوں سے بہتر رات ہے
12:05اب یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے
12:07کہ لیلتُ الْقَدْر کی فضیلت کیا ہے
12:11لیلتُ الْقَدْر کی اہمیت کیا ہے
12:13یہ عام راتوں جیسی عام رات نہیں
12:15اس میں کی گئی عبادت عام عبادتوں جیسی عبادت نہیں
12:19اس رات میں مانگی گئی دعائیں عام
12:22دعاؤں جیسی دعائیں نہیں
12:23اس رات میں تلاوت کیے گئے قرآن کی آیات عام دنوں
12:28اور راتوں جیسے نہیں
12:29یہ رات بڑی خصوصی رات ہے نا
12:31تو اب یہاں پر سوال پہلا یہ پیدا ہوتا ہے
12:34سوال یہ پیدا ہوتا ہے
12:36کہ قرآن کے نزول کی وجہ سے
12:39لیلتُ الْقَدْر بن گئی
12:42ایسی ہے
12:43چونکہ قرآن کو نازل کیا گیا
12:46سوال یہ پیدا ہوتا ہے
12:48کیا لیلتُ الْقَدْر پر نازل کیا گیا
12:55قرآن لیلتُ الْقَدْر
12:57یعنی اس رات پر نازل کیا گیا نہیں
13:00اِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْر
13:04ہم نے لیلتُ الْقَدْر میں نازل کیا
13:09جس رات میں قرآن نازل ہو
13:13وہ عام راتوں جیسی رات نہیں
13:16اب تصور کیجئے وہ قلبِ پیمبر
13:19جس پر قرآن نازل ہوا
13:29وَنَزَّلُ الْفُرْقَانُ عَلَى قَلْبِكَ
13:32اے حبیب
13:33ہم نے قرآن کو
13:35آپ کے قلب پر نازل کیا
13:38جس قلب پر قرآن نازل ہو
13:42اس کی اہمیت کیا ہوگی
13:44اس کی فضیلت کیا ہوگی
13:46اس کی مضبوطی کیا ہوگی
13:48اب یہاں پر اللہ رب العزت نے ارشاد کیا فرمایا
13:51سورہ حود
13:52ایک سو بیس نمبر آئے
13:54وَقُلْنَ نَقْصُ عَلَيْكَ مِنْ عَنْبَاءِ رُسُلْ
13:57مَا نُخُبِّتُ بِهِ فَوَادِقِ
14:01پروردگار
14:02آل ریڈی
14:03رسول اللہ کا قلب
14:05اتنا مضبوط قلب ہے
14:06اس کے باوجود خدا ارشاد فرما رہا ہے
14:09کہ ہم نے ماں قبل
14:11انبیاء کے قصوں کو بیان کیا
14:12تاکہ اے میرے حبیب
14:15آپ کا دل مضبوط ہو جائے
14:16اب بتاؤں کہ مضبوطی
14:18یہ قلب پیمبر کیا ہے
14:22کس قدر مضبوط ہے
14:24نبی خدا کا یہ قلب
14:26جس پر قرآن کو نازل کیا گیا ہے
14:29پروردگار نے
14:30قرآن ہی میں ارشاد فرمایا
14:41اگر ہم اس قرآن کو
14:43پہاڑوں پر نازل کرتے
14:46پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جاتے
14:50اس قرآن کا وضن
14:52پہاڑ نہیں اٹھا سکتے
14:55عجبل الراسخ مثال دی جاتی ہے
14:58کہ چٹان کی طرح
15:00پہاڑ کی طرح مضبوط
15:01کہا جاتا ہے المومن
15:03کل جبل الراسخ
15:05ایک مومن جو ہے
15:06وہ ایک مضبوط پہاڑ کی طرح ہوتا ہے
15:10ایک استعارہ ہے
15:11کہ پہاڑ کی طرح مضبوط
15:13لیکن وہ پہاڑ بھی
15:15اگر قرآن پہاڑوں پر نازل کیا جاتا
15:18تو ریزہ ریزہ ہو جاتے
15:20خداون نے متعلق اشاد فرما رہا ہے
15:22قرآن کا وضن کیا ہے
15:24کتنا وضنی ہے یہ قرآن
15:26اب کیا قرآن کا وضن
15:28کہیں پر جا کر تولا جا سکتا ہے
15:30معلوم کیا جا سکتا ہے
15:32ہاں وضن کے متعلق
15:34حدیث رسول خدا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
15:54رسول خدا نے ارشاد فرمایا
15:56میں دو گران بہاں چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں
16:00ایک قرآن اور ایک میری اہلِ بیت
16:04جب تک تم ان سے متمسق رہو گے کبھی گمرا نہیں ہوگے میرے بعد
16:09اور یہ آپس میں جدا نہیں ہوں گی
16:12مگر یہ کہ حوزِ کوثر پر آ کر مجھ سے ملاقات کریں
16:14تو یہاں پر پتا چلا کہ
16:16رسول خدا کا ارشاد یہ ہے
16:18کہ میں دو ہم وضن
16:21گران بہا فقلین
16:23دو دو چھوڑ کر جا رہا ہوں
16:26ایک قرآن اور ایک اہلِ بیت
16:28یہاں پر ایک چھوٹا سا سوال پیدا ہو سکتا ہے
16:31یا رسول اللہ
16:34آپ نے یہ جو ارشاد فرمایا ہے
16:35کہ میں فقط دو چیزیں چھوڑ کے جا رہا ہوں
16:42کتاب اللہ ہے وہ اتراتی
16:45ایک اللہ کی کتاب اور ایک میری اہلِ بیت
16:49اچھا اب میں سوال کرتا ہوں
16:51آپ جانتے ہیں
16:52نعلین مبارک رسول خدا
16:55کیا رسول خدا دنیا میں چھوڑ کر نہیں گئے
16:59عبائے مبارک رسول خدا
17:01کیا دنیا میں چھوڑ کر نہیں گئے
17:03ممبر جس پر بیٹھ کر خطبہ دیا کرتے تھے رسول خدا
17:07کیا وہ اس دنیا میں چھوڑ کر نہیں گئے
17:10محراب مسجد نبوی کا
17:12جس میں نماز پڑھایا کرتے تھے
17:15کیا وہ محراب چھوڑ کر نہیں گئے
17:17Did you see that?
17:47. . .
18:17کہ میں چھوڑے جا رہا ہوں
18:18ہاں اگر میں اپنا امامہ چھوڑ دوں
18:20تو کہہ سکتا ہوں
18:21میں اپنا امامہ جو ساتھ لے کر آیا تھا
18:24چھوڑے جا رہا ہوں
18:25تو عزیزانِ محترم
18:26یہاں پر رسولِ خدا نے ارشاد فرمایا
18:28اِنِنِ تَارِكُمْ فِيكُمْ اَثَقِلَنِ
18:30کِتَابَ اللَّهِ وَا اِتْرَا تِي
18:31میں دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں
18:34تو یہاں پر پتا چلا
18:36کہ چھوڑی وہ جاتی ہیں
18:37جو ساتھ لائی جائیں
18:39تو اسی لیے تو پروردگار نے بتانے کے لیے
18:42سمجھانے کے لیے
18:44ایک ماہِ مبارکِ رموان میں
18:47اللہ نے قرآن نازل کیا
18:49اور تیرہ رجب کو خانہِ کعبہ سے علی کو دیا
18:55یہ ہیں جن کو پروردگار نے کہا
18:58کہہ میرے حبیب کہہ دیجئے
19:00چکے وَمَا يَنْتِكُنِ الْحَوَا
19:02اِنْهُوَا اِلَّا وَحِيُنْ يُوحَا
19:04میرا حبیب خلام نہیں کرتا
19:06جب تک کہ وہ یہ پروردگار نہ ہو
19:07اب رسولِ خدا نے اشہاد فرمایا
19:09کہ میں دو گراب ہاں چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں
19:12ایک میری کتاب ہے
19:14اللہ کا قرآن ہے
19:15اور دوسری میری اہلِ بیعت ہے
19:17اور ان کا وزن جو ہے
19:19سقالین ہم وزن ہیں
19:20ایک ہی وزن ہے
19:21اب یہاں پر اگر یہ دیکھنا ہو
19:25کہ قرآن کا وزن کتنا ہے
19:28لَوْ نَظُلَّ هَذُ الْقُرْعَانِ
19:30اَلَا جَبْلٍ لَرَائِتَهُ
19:34مِنْ خَشْيَتِ اللَّهِ
19:36اگر یہاں پر قرآن کو پہاڑوں پر نازل کیا جاتا
19:40تو وہ اللہ کی خشیت سے رضا رضا ہو جاتے
19:44تو میرے بھائی سمپل سی بات جو ہے نا وہ یہ ہے
19:47تیرہ رجب کو خانہِ کعبہ کی دیوار سے پوچھو
19:55اگر ناطقِ قرآن کا وزن یہ ہے
19:58تو سامتِ قرآن بھی اگر پہاڑوں پر نازل ہوتا
20:02تو پہاڑ رضا رضا ہو جاتے
20:04جس کا وزن پہاڑ نہ سہار سکیں
20:07اس کو قلبِ پیمبر پر اتارا گیا
20:10اب اتنا مضبوط قلب ہے
20:13دل ہے
20:15اس کے باوجود عزیزانِ محترم
20:18اللہ رب عزیزت کا ارشاد ہے
20:21وَقُلْنُ نَقَثُ عَلَيْكَ مِنْ عَنْبَاءِ رُسُلْ
20:24مَا نُصَبِّتُ بِهِ فَوَادِكَ
20:27تاکہ آپ کا دل مضبوط ہو جائے
20:29تو پتا چلا
20:30کہ دل کی مضبوطی کے لیے
20:33قصہ ہی انبیاء کو بیان کیا جاتا ہے
20:37بار بار بیان کیا جاتا ہے
20:39تاکہ دل مضبوط ہو
20:41تو ہم بھی قصہِ کربلا کو بار بار بیان کرتے ہیں
20:47عزاداری پر کمپرومائز نہیں کرتے
20:50ہر قسم کی قربانی دیتے ہیں
20:53پوری دنیا میں
20:55جہاں جہاں محبانِ اہلِ بیت موجود ہیں
20:58ان کی کوشش ہوتی ہے
21:00کہ وہ جتنا ہو سکے
21:02جہاں تک ہو سکے
21:04اپنی استطاعت کے مطابق فرشی اعزاء کو بچھائیں
21:07اور فرشی اعزاء کو بچھا کر ہوتا کیا ہے
21:10قصہِ کربلا کو بیان کیا جاتا ہے
21:15کربلا میں کیا ہوا تھا بیان کیا جاتا ہے
21:17کربلا کے درس کیا ہے بیان کیا جاتا ہے
21:20کربلا سے لینا کیا ہے بیان کیا جاتا ہے
21:23اور عزیزین محترم
21:24اس میں کوئی شک نہیں ہے
21:25کہ یہ قصہِ کربلا
21:27ہمارے دلوں کو مضبوط کرتا ہے
21:30حوصلہ دیتا ہے
21:32لڑنے کا جذبہ دیتا ہے
21:34قربانی کے لیے آمادہ و تیار کرتا ہے
21:37تو عزادار یہ سید و شہدہ
21:39یہ مجالسِ عزاء
21:41یہ جلوسِ عزاء
21:43یہ سارے کا سعادہ سلسلہ
21:45اگر ہم قرآن سے روشِ خدا کو دیکھیں
21:48تو قصہ گوئی پروردیگار نے
21:51قرآن میں انبیاء کے قصوں کو بیان کر کے شروع کیے
21:54سلوات پر محمد و آلِ محمد
22:02اب آگے چلتے ہیں دوسری وجہ کیا ہے
22:04جو اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا ہے
22:07وَكُلُّ النُقْثُ عَلَيْكَمْ مِنْ عَنْبَاءِ الرُّسُلِ
22:11مَانُوا صَبَّتُ بِهِ فَوَادِكَ
22:13تاکہ میرے حبیب آپ کا دل قوی ہو جائے
22:16مضبوط ہو جائے
22:17اور ہم قصہِ کربلا کو بیان کرتے ہیں
22:19تاکہ ہمارا دل مضبوط ہو جائے
22:21تاکہ دل قوی ہو جائے
22:23ہماری آئندہ نسلیں
22:24ہمارے جوان اور پوری دنیا حال میں اسلام
22:26سمجھ لے
22:27کہ کس طرح سے قلیل تعداد بھی
22:30کسیر کے اوپر غالب آسکتی ہے
22:32کس طرح سے جنگ کی اجازت نامی ملے
22:36تب بھی فتح و نصرت حاصل کی جا سکتی ہے
22:39دوسری وجہ
22:42وَجَاءَكَ فِي حَاضِ الْحَقَ
22:45اے میرے حبیب
22:47ہم نے ان قصہیے ماں قبل انبیاء کو بیان کیا ہے
22:53نمبر ایک
22:54تاکہ آپ کا دل مضبوط ہو جائے
22:56نمبر دو
22:57اس میں حق و باطل کو بیان کیا گیا ہے
23:03وَجَاءَكَ فِي حَاضِ الْحَقَ
23:05اس میں حق بیان کیا گیا
23:07حضرت آدم کا قصہ بیان کیا
23:09اور ساتھ میں بتا بھی دیا
23:11کہ حق آدم ہے اور باطل شیطان ہے
23:15جب قصہ بیان کریں گے
23:17تو جہاں پر حق بیان ہوگا باطل کی پہچان ہو جائے گی
23:20حضرت ابراہیم علیہ السلام کا قصہ بیان کیا
23:24حق واضح کر دیا
23:26ابراہیم بتشکن حق ہے
23:28ان کے مقابلے میں آنے والا نمرود باطل ہے
23:32حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قصے کو بیان کیا
23:35کہ حضرت موسیٰ نمائندہ الہی حق ہے
23:38اور اس کے مقابلے میں فرعون باطل ہے
23:41حضرت نوح علیہ السلام کے قصے کو بیان کیا
23:45کہ دیکھو حضرت نوح علیہ السلام حق ہے
23:48اور ان کی بات نہ ماننے والے غرق ہو جانے والے باطل ہیں
23:52حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قصے کو بیان کیا
23:57کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام حق ہے
24:00اور ان کے مقابلے میں نمرود باطل ہے
24:03یہاں پر ایک ایک کر کے قصہ ہے
24:05قرآنی کے اندر انبیاء کے قصوں کو بیان کیا
24:08عزیزان محترم حق کی پہچان کے لیے
24:11انبیاء کے قصوں کو پڑھئے
24:14اللہ رب العزت نے ماقب الانبیاء کے قصے بیان کیا تھا
24:18کہ حق باطل حق باطل کی پہچان ہو جائے
24:21تو سنیے نا
24:22ہم بھی قصہ کربلا کو بیان کرتے ہیں
24:25کہ یہاں پر علی کا بیٹا حسین ابن علی حق ہے
24:29اس کے مقابلے میں یزید باطل ہے
24:45حق باطل کی پہچان کے لیے
24:47حق کو پہچان نہ ہو
24:49قصہ کربلا حق کی پہچان کا استعارہ ہے
24:52حق کی پہچان کے لیے ہے
24:54تاکہ دنیا کو پتا چلے حق کیا اور باطل کیا ہے
24:57حسین کون ہے اور یزید کون ہے
25:00حسین
25:00علی ابن عبی طالب کا بیٹا
25:03جس کے متلک جن کے متلک
25:05رسول خدا کا فرمان ہے
25:07الحق ما علی و علی و ما الحق
25:09حق علی کے ساتھ ہے
25:11علی حق کے ساتھ ہے
25:12بلکہ دعا کی تھی پروردگار
25:14حق کو ادھر ادھر موڑ دینا
25:16جدھر جدھر کو علی موڑ جائے
25:19اور یہاں پر
25:20علی کا بیٹا حسین ابن علی حق ہے
25:23اور حسین مطرم یہاں پر دو نظریہ ہیں
25:28آئیڈیالوجیز ہیں
25:28فکر ہیں
25:29اب امام حسین جانتے ہیں
25:32ان الحسین مصباح الودا
25:34وہ شراغ ہدایت ہیں
25:35قیامت تک کے لیے
25:36انہوں نے قیامت تک کی انسانیت اور بشریت کی ہدایت کرنی ہے
25:40رہنمائی کرنی ہے
25:41وہ جانتے ہیں
25:42کہ وہ کشتی نجات ہیں
25:44اور یہ کشتی نجات
25:47کاروان عشق کے طور پر جب چلی ہے
25:49تو حسین ابن علی پکارتے ہو چلے آئیں
25:52جو اس کشتی نجات کا سوار بڑھنا چاہتا ہے
25:54آؤ یہ کشتی نجات چل پڑی ہے
25:56اور حسین مطرم یہ بات ذہن میں رکھیے گا
25:59رسول اللہ کا فرمان ہی ہے
26:01مَثَلُ أَحْلِ بَيْتِكَ مَثَلِ سَفِينَةِ النُّوْ
26:04مَنْ رَكَبَهَا نَجَا
26:06مَنْ تَخَلَّفَا عَنْهَا غَرَقَا
26:08میرے اہلِ بَيْت کی مثل
26:10کشتی نو کسی ہے
26:12جو اس پہ سوار ہوگا وہ نجات پائے گا
26:14جو روح گردانی کرے گا وہ غرق ہو جائے گا
26:17بھئی میں تھوڑی سی اس کی تشریح کر کے آگے بڑھتا ہوں
26:19تھوڑی سی
26:20تاکہ بات سمجھ آ جائے
26:21بات پہنچ جائے
26:24رسول اللہ کا فرمان ہے
26:28مَثَلُ أَحْلِ بَيْتِكَ مَثَلِ
26:30سَفِينَةِ النُّوْ
26:33مَنْ رَكَبَهَا نَجَا
26:34مَنْ تَخَلَّ فَأَنْهَا غَرَقَ
26:38میرے اہلِ بَيْت کی مثل
26:39کشتی نو کسی ہے
26:42جو اس پر سوار ہوگا وہ نجات پائے گا
26:44جو اس سے روح گردانی کرے گا وہ غرق ہو جائے گا
26:47سب سے پہلی بات
26:48یہ فرمان کس کا ہے
26:51رسول اللہ کا
26:53رسولِ خدا کون ہیں
26:55کہ جن کی زبانِ صادق پر
26:58پورے دین کی بنیاد اور اسائز قائم ہے
27:02رسولِ خدا کون ہیں
27:04کہ جن کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ
27:08اٹل حقیقت ہیں
27:10کہاں تک
27:11یہ زبانِ صادق سے نکلے ہوئے الفاظ
27:14کہاں تک اٹل حقیقت ہیں
27:16سنیے
27:18شبِ حجرت
27:19وَمِنَ النَّاسِ مَيَّفْشِرِ نَفْسُ اِبْتَغَامَ
27:22رَضَاتِ اللَّهُ وَاللَّهُ رَعُفُمْ بِلِبَاد
27:24شبِ حجرت
27:24رسولِ خدا آئے
27:26یا ایلی آج کی رات
27:27میرے بستر پر سو جائیے
27:29کل مقہ والوں کی امانتیں واپس کرنے کر کے
27:32مدینے آئیے گا
27:33میں آپ کا انتظار کروں گا
27:36یا ایلی آج کی رات
27:37میرے بستر پر سو جائیے
27:39چونکہ خطرہ ہے نا
27:41تو ظاہرہ کوئی ایکسپیرینس کی ہو
27:43سوئے گا
27:43تو یہاں پر میں
27:45عظمتِ حضرتِ ابو طالب کو سلام کرلوں
27:47کہ جنہوں نے
27:48علی کو بچپن میں ٹرین کر دیا تھا
27:51بستر رسول پر سونا کیسے ہے
27:54شہبِ ابی طالب میں
27:56سو سو کے
27:56علی ابنِ ابی طالب
27:57آلریڈی ٹریننگ لے چکے ہوئے تھے نا
27:59اب یہاں پر
28:00مولا کائنات نے فقط ایک سوال کیا تھا
28:03یا رسول اللہ
28:03میں آج کی رات
28:04آپ کے بستر پر سو جاتا ہوں
28:06کیا آپ کی جان بچ جائے گی
28:08ہاں یا علی
28:10میں مدینے چلا جاؤں گا
28:12آپ نے مدینے آنا ہے
28:13میں انتظار کروں گا
28:14مولا کائنات
28:15علی ابنِ ابی طالب سو گئے
28:17تلواروں کی جھنکاروں میں سو گئے
28:20وہ مولا کائنات
28:22جن کے متعلق نحج الابلاغہ میں
28:25خود مولا کا ارشاد ہے
28:26خود مولا ارشاد فرماتے ہیں
28:28اے صبح صادق گواہ رہنا
28:30تو نے کبھی علی کو
28:32بستر پر سوئے ہوئے نہیں پایا
28:35وہ مولا کائنات
28:36جو ساری ساری رات جاگتے تھے
28:38وہ مولا کائنات
28:39جو ساری ساری عبادت کرتے تھے
28:41ایسے ہی ہے
28:42وہ شبِ حجرت سو گئے
28:44بعد میں کسی نے پوچھا تھا
28:46کہ یا علی شبِ حجرت آپ کو نیند کیسے آگئی
28:48تو مولا نے فرمایا
28:50کہ جیسی نیند اس رات آئی ہے
28:52نہ اس سے پہلے کبھی آئی
28:53نہ اس کے بعد کبھی آئی
28:56سنیں گے
28:57یا علی نیند کیسے آگئی
28:59ڈر نہیں لگا
29:00تلواروں کی جھنکاروں میں
29:01ڈر نہیں لگا
29:02تو مولا کائنات نے
29:04ایک تاریخی جملہ ارشاد فرمایا ہے
29:05عزیزانہ مہترم
29:06بس اسی سے آگے
29:08جو ہے وہ
29:08اپنی دلیل پیش کروں گا
29:10کہا
29:10میں کیسے ڈر جاتا
29:12مجھے کیسے خوف آتا
29:13میں کیسے نہ سو جاتا
29:15جبکہ نبی صادق کی زبان سے یہ نکلا تھا
29:19کہ یا علی مکہ والوں کی امانتیں واپس کر کے
29:23مدینہ آنا
29:24میں آپ کا انتظار کروں گا
29:26تو مولا فرماتے ہیں
29:27مجھے یقین تھا
29:28چونکہ رسولِ خدا کی زبان سے یہ الفاظ نکلے ہیں
29:31اب کائنات کی کوئی طاقت ہے
29:34جب تک میں مدینہ پہنچنا جاؤں
29:36مجھے موت نہیں دے سکتی
29:41اللہ اکبر
29:44یا رسول
29:49اللہ
29:50اللہ
29:51صلی اللہ
29:52محمد
29:53تو یہاں سے پتا چلا
29:56کہ ہم وہ ہیں جن کا یقین یہ ہے
29:58کہ رسولِ خدا
29:59محمدِ مصطفیٰ صلی اللہ
30:02علیہ وآلہ وسلم
30:06کی زبان سے زبانِ مبارک سے نکلے ہوئے الفاظ
30:11اٹل حقیقت ہوتے ہیں
30:13تو اب یہاں پر رسولِ خدا کا فرمان کیا ہے
30:16کہ میرے اہلِ بیت کی مثل کشتی نو کیسی ہے
30:21جو اس پر سوار ہوگا وہ نجات پائے گا
30:24جو رو گردانی کرے گا وہ غرق ہو جائے گا
30:27تو یہاں سے یہ پتا چلا
30:29کہ رسول اللہ کی زبانِ مبارک سے
30:31دعا بھی نکلی ہے
30:32بددعا بھی نکلی ہے
30:34یعنی جو کشتی کا سوار ہوگا
30:37وہ نجات پائے گا دعا ہے
30:39جو رو گردانی کرے گا
30:40ہنڈر پرسنٹ غرق ہو جائے گا
30:43یہ بددعا ہے
30:55لیکن عزیدہ محترم یہ بات ارس کرتا چلو
30:59تمام طرح عالمِ اسلام کے لیے
31:01نوجوانوں کے لیے
31:02اپنوں کے لیے دوسروں کے لیے
31:03جو جو سن رہے ہیں جو جو دیکھ رہے ہیں
31:05سب کے لیے
31:06پیغام دیتا جاؤں
31:07مومنین کے لیے
31:08عزاداروں کے لیے
31:09محبان کے لیے
31:10عاشقانِ حسین ابن علی کے لیے
31:12کہ اس حدیث پر
31:14اس بیان پر ذرا غور کیا کریں
31:17من رقبہ نجا
31:21جو کشتی کا سوار ہوگا
31:24نجات پائے گا
31:26دیکھیں چھوٹی سی مثال دے کے آگے بڑھتا ہوں
31:28بس سٹینڈ کے اوپر
31:30پرانے زمانوں کی بات کرتا ہوں
31:32آج تو
31:32ڈیجیٹل دور ہے
31:33زمانہ بدل گیا ہے
31:35آج کے دور میں وہ
31:36سسٹم ہی ختم ہو گیا
31:38لیکن پرانے زمانوں میں
31:39ہو سکتا اب بھی کہیں پر ہو
31:40لیکن ہوا کرتا تھا جو ہمیں یاد ہے
31:42وہ کیا ہوتا تھا
31:44ہم نے ان کو ہاکر کہا کرتے تھے
31:46بلانے والے ہاکر
31:47ہوکا لگانے والے
31:48کون
31:50جو کھڑے ہو کر
31:51لوگوں کو بلاتے تھے
31:52کہ بس تیار ہیں
31:53سواریوں کو آؤ
31:54اور سوار ہو کے
31:55اپنی منزل کی طرف چلے جاؤ
31:57بس وسیلہ ہے
31:59منزل تک پہنچنے کا
32:00ایسے ہی ہے
32:01تو وہاں پر
32:02کچھ ایجنٹ کھڑے ہوتے تھے
32:03کمپنیوں کے
32:04جو آواز بلند کر کے
32:05کہتے تھے
32:06بس تیار ہے آجاؤ
32:07بس تیار ہے آجاؤ
32:08اب مسافر کیا کرتا تھا
32:10وہ جا کر ٹکٹ لیتا تھا
32:12بس میں سوار ہو جاتا تھا
32:13تو یہاں پر
32:14میں سوال یہ کروں گا
32:15یہ جو کھڑا
32:16بس ٹینڈ پر
32:17آوازیں لگا رہا ہے
32:18کہ آؤ بس تیار ہے
32:19آؤ بس تیار ہے
32:20بس ٹائم پر جائے گی
32:22بس ائر کنڈیشن ہے
32:23بس بڑی اچھی ہے
32:24بس بڑی آرام دے ہے
32:26اس کا قرائے بڑا سستہ ہے
32:28وہ جو تعریفیں کر رہا ہے
32:30وہ جو مسافروں کو
32:32بلا رہا ہے
32:32جب مسافر ٹکٹ لے کے
32:35اس کے کہنے پر
32:36بس پہ سوار ہو گیا
32:38تو اب یہاں پر
32:39سوار کون ہے
32:40سواری
32:40یا یہ بلانے والا
32:43سواری یا بلانے والا
32:45سوار وہ ہیں
32:46جو ٹکٹ لے کے
32:48سوار ہو گیا
32:49عزیزہ نمہ اترم
32:50جس نے بلایا ہے
32:52کہ بس تیار ہے
32:53وہ سوار نہیں کہلائے گا
32:55بلکہ وہ
32:56کمیشی جنیجنڈ کہلائے گا
32:57اس کو کمپنی بعد میں
32:59اس کی عجرت دے دے گی
33:01کہ آج کتنے مسافر آئے
33:03پچاس
33:03آج کتنے مسافر آئے
33:05سو
33:05یہ لو قیمت
33:06اس نے قیمت لی گھر چلا گیا
33:08کیا یہ سوار کہلائے گا
33:10نہیں
33:10سوار وہ ہے
33:12جو ٹکٹ لے کے
33:12سوار ہو گیا
33:13بس میں بیٹھ گیا
33:15کشتی میں بیٹھ گیا
33:16جہاز میں بیٹھ گیا
33:18عزیزہ نمہ اترم
33:19غور کیجئے
33:20رسول خدا نے رشاد کیا فرمایا ہے
33:22مثل اہل بیتی
33:24کمثل سفینت نو
33:25من رقبہا نجا
33:28جو سوار ہوگا
33:30وہ نجات پائے گا
33:32جو پلانے والا ہوگا
33:34وہ اجنت لے کے چلا جائے گا
33:36اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے
33:38کہ سوار کی تعریف کیا ہے
33:39کہ سوار کی تعریف یہ ہے
33:41کہ جو اپنی حرقات و سکنات کو
33:45اس کشتی
33:46اس جہاز
33:47اس بس میں محدود کر لے
33:49یعنی یہ اس بس کے اندر موجود ہے
33:53باہر نہیں ہے
33:54تو جس کی حرقات و سکنات
33:56اس محدودے میں محدود ہو وہ سوار ہوگا
33:59تو پتا چلا
34:00کہ کشتی اہل بیت کا سوار وہ ہوگا
34:04جس کی گفتار
34:06جس کی رفتار
34:07جس کا اٹھنا
34:08جس کا بیٹھنا
34:10جس کا سونا
34:11جس کا چلنا
34:12جس کا پھرنا
34:13جس کی دوستی
34:14جس کی دشمنی
34:15ہر چیز
34:16اہل بیت کے کردار کے محدودے میں ہوگی
34:23جو اپنی حرقات و سکنات کو
34:26کھانے سے پہلے دیکھیں
34:27اہل بیت کی تعلیمات کیا ہیں
34:29دشمنی ہو تو اہل بیت کیلئے
34:31اسی لئے تو ہم کہتے ہیں
34:36اے میرے مولا
34:37ہماری کسی سے سلو نہیں ہے
34:39مگر جس سے آپ کی سلو ہو
34:42ہماری کسی سے جنگ نہیں ہے
34:43مگر جس سے آپ کی جنگ ہو
34:45یعنی ہماری جنگ بھی
34:46محمد و آل محمد کے لیے
34:48ہماری دوستی بھی
34:50محمد و آل محمد کے لیے
34:52ہمارا کردار
34:53محمد و آل محمد کے محدودے میں محمود
34:56اسی لئے تو پھر نجات کی امید ہے
34:58سلوات پر محمد و آل محمد
35:00اللہ محمد و آل محمد و آل محمد
35:09کشتی نجات
35:10اب سنیے
35:11اہلِ بیت کشتی نجات ہیں
35:14منرکہ بہانہ جا
35:16اہلِ بیت
35:18لیکن
35:41اِنَّ الْحُسَيْنَ مِسْبَاحُ الْحُدَى
35:48وہ بہت
35:50وسیع ہے اور بہت تیز چلتی ہے
35:53فرق ہے
35:54اب
35:55حسین ابن علی
35:55کشتی نجات
35:56کشتی نجات کو لے کر چلے
35:58تو قیامت تک تیلیے
36:00اب
36:01حدایت کا چراغ حسین ابن علی
36:04کشتی نجات حسین ابن علی
36:07حق کے وارث
36:09حسین ابن علی
36:10اور انہی
36:10قصہ آئیے
36:11کرولہ کو بیان کر کے
36:13حق کو پہچاننا ہے نا
36:14باطل کو پہچاننا ہے
36:16اب میرے مولا حسین نے ہم پر احسان کیا کیا
36:18انسانیت اور بشریت پر احسان کیا کیا
36:20لطف کیا کیا ہے میرے مولا حسین
36:24یزید نے
36:24تقادہ بیعت کیا
36:27مولا حسین سے
36:29بیعت چاہیے
36:30اب میرے مولا حسین علیہ السلام نے کیا کیا
36:32قیامت تک کے لیے
36:33اب یہ ذہن میں رکھیے گا
36:35مولا حسین کا ارشاد کیا
36:36میں نے
36:37یہ ارز کرتا چلو
36:38کہ ہم اپنی طرف سے نہیں
36:40اس لیے کہ دوست ہو سکتا ہے
36:41بڑا چڑھا کر بیان کرے
36:42دشمن ہو سکتا ہے
36:43گھٹا کر بیان کرے
36:44دشمن کو بھی چھوڑو
36:45دوست کو بھی چھوڑو
36:46خود امام حسین کی زبانی
36:48امام حسین نے کیا ارشاد فرمایا
36:51مثلی لا یبایو مثلہ
36:54سنو
36:55مجھ جیسا
36:56اس جیسے کی بیعت نہیں کرتا
37:01مولا یہ کیوں نہیں فرما دیتے
37:02حسین ابن علی
37:05یزید کی بیعت نہیں کرتا
37:06سمپل سی بات ہے
37:09کہا نہیں
37:10یہاں پر ایک کردار کی بات نہیں ہے
37:13قیامت تک کے لیے نظریہ کی بات ہے
37:17مجھ جیسا اس جیسے کی بیعت نہیں کرتا
37:20مطلب کیا ہے
37:22مطلب یہ ہے
37:23کہ جو حسین ابن علی کے راستے پر
37:27کسی بھی زمانے میں چلنا چاہے
37:29تو وہ کردار حسینی کو
37:31اپنے کردار میں ڈھال لے
37:35تو وہ زمانے میں حسینی بن جائے گا
37:38کہا مجھ جیسا اس جیسے کی بیعت نہیں کرے گا
37:40جس کا مطلب ہے
37:42کسی بھی زمانے میں کوئی بھی حسینی
37:44کسی بھی یزیدی کی بیعت نہیں کرے گا
37:47عزیزان محترم
37:48اب یہ جو کردار حسینی کیا ہے
37:51اور کردار یزیدی کیا ہے
37:52دو تین صفات تو خود امام حسین نے پیان کر دی تھی
37:55باقی تاریخ بری پڑھی
37:57جا کر اٹھا کر دیکھ لیجئے
37:58اور پڑھئے ضرور پڑھئے
38:00اس لیے کہ جب ہم نعرہ لگاتے ہیں
38:02حسینیت زندہ بات
38:03یزیدیت مردہ بات
38:05اس کا مطلب کیا ہوتا ہے
38:06نظریہ حسین زندہ بات
38:08فکر حسین زندہ بات
38:10کردار حسین زندہ بات
38:12عمل حسین زندہ بات
38:13جس کا مطلب کیا ہوتا ہے
38:15نماز زندہ بات
38:17قرآن زندہ بات
38:18روزہ زندہ بات
38:19سچ زندہ بات
38:21یہی ہے نا
38:22یہاں پر جتنی نیکی ہیں وہ زندہ بات
38:24قربِ الٰہی وہ زندہ بات
38:26اور اس کے مقابلے میں
38:27یزید مردہ بات کا
38:28مطلب کیا ہوتا ہے
38:30جھوٹ مردہ بات
38:31ظلم مردہ بات
38:32زنا مردہ بات
38:33شراب خوری مردہ بات
38:35ہر قسم کے
38:36گناہ مردہ بات
38:37تو یہاں پر حسین ابن علی نے
38:39دنیا کو ایک نظریہ دے دیا
38:41مثل اللہ یبائیو مثلہ
38:43مجھ جیسا ہی جیسے کی باعت نہیں کر سکتا
38:45کردار حسین کو دیکھو کیا ہے
38:48کردار یزید کو دیکھو کیا ہے
38:50اور پھر دیکھو
38:51تم اگر لبے کا یا حسین کہنا چاہتے ہو
38:54تو کردار حسینی پر لبے کا ہو
39:01یہ ہے ان الحسین ام اسباہ الودا
39:04وصفینہ تجھ نجا
39:05نظریہ دیا
39:06فکر دی قیامت تک کے لئے
39:08کردار حسین ابن علی
39:10عشق قرآن
39:11کردار حسین ابن علی
39:13عشق نماز
39:15کردار حسین ابن علی
39:17عطاعت محض پروردگار
39:19عطاعت محض رسول اللہ
39:22حسین ابن علی
39:24نیکیاں
39:25منبہ یہ نیکی
39:26صلح رحمی
39:29یہاں پر جو ہے نا وہ
39:30امام حسین کے کردار کو دیکھے
39:32چونکہ یہ ہیں
39:34کشتی نجات
39:35یہ ہیں
39:36جنہوں نے قیامت تک کے لئے
39:38رہنمائی کرنی ہے
39:39کربلا در حقیقت
39:40حق کی پہچان ہے
39:42اور محدود نہیں ہے
39:44جیسے جو
39:46قصہ یہ انبیاء ہیں
39:47کیا فقط رسول خدا کے لئے محدود تھے
39:49بس ختم
39:51آج پڑھنے کی ضرورت کیا ہے
39:53آج پڑھنے کی ضرورت یہ ہے
39:55کہ آج بھی ہم
39:57اگر
39:57دیکھیں سیچوئیشن ایسی ہے
39:59تو ابراہیم
40:00بدشکن کی طرح
40:01اپنا کردار ادا کریں
40:03اور اس کے مقابلے میں
40:06اگر ہم دیکھیں
40:07کہ وہ
40:08دشمنان جو
40:09ان جیسے دشمنوں کا کردار ادا کر رہے ہیں
40:12ان کے سامنے سیزے پلائی
40:13دیوار کیسے بننا ہے
40:16حسین ابن علی
40:17جنہوں نے
40:19ہر طرح کی قربانی دے کے
40:21دین اسلام حقیقی کی کشتی کو
40:24سیدھے راستے پر رکھا ہے
40:29ازاداری
40:30قصہ کربلا کو بیان کرنے کا نام ہے
40:33ازاداری
40:34حق کی پہچان
40:36دنیا تک پہنچانے کا نام ہے
40:38ازاداری
40:39در حقیقت
40:41یزیدیت کے چہرے سے
40:42نکاب اتارنے کا نام ہے
40:46ازاداری کے ذریعے
40:47اس فکر حسینی کو زندہ رکھنا ہے
40:49تاج کے
40:51آج کے زمانے کے حسینی
40:53آج کے زمانے کے یزیدی کے مقابلے میں
40:55سیسا پلائی
40:57دیوار بن سکیں
40:58اسلام کی حفاظت کے لئے
40:59عزیر محترم
41:03مولا حسین علیہ الصلاة والسلام
41:07جنہوں نے
41:08ہر طرح کی قربانی دی ہے
41:13دین اسلام کو بچانے کے لئے
41:18عصرِ آشور
41:20حسین ابن علی علیہ الصلاة والسلام
41:23ایک لمحہ ایسا بھی آیا تھا
41:25جب تک و تنہا میدانِ کربلا میں کھڑے تھے
41:30دو تین
41:32باتیں آپ کی خدمت میں ارز کرنا چاہتا ہوں
41:34ایک چھوٹا سا واقعہ
41:36اور اس کے بعد پھر دو تین
41:38مصیبتیں
41:40ایک شخص ہے جس کا نام عبداللہ ہے
41:42کوفہ کا رہنے والا ہے
41:45سفر میں گیا ہوا تھا
41:48کچھ عرصے بعد
41:49واپس لوڑتا ہے
41:51دس محرم تھی
41:55آ کر دیکھا کہ
41:57کوفہ خالی ہے
41:58اپنی بیٹی سے پوچھتا ہے
42:00کہ بیٹی کیا بات ہے
42:01کوفہ خالی ہے
42:02کہ بابا
42:03کسی نے
42:05بغاوت کی ہیں
42:06اور ساری فوجیں
42:08اس باغی کے خلاف
42:10لڑنے کے لیے
42:11کربلا گئی ہوئی ہیں
42:12تو بھی جلدی کر چلا جا
42:15وائلہ عمر ابن سعید کا
42:17اعلان ہے
42:17کہ جو بھی
42:18کوفہ میں مرد ہو
42:19وہ کربلا میں جا کر لڑے
42:22اس نے بھی تلوار
42:23حائل کی
42:25نکلنے لگا
42:26تو بیٹی نے کہا
42:27بابا
42:27جب جنگ ہوتی ہے
42:29تو مالِ غنیمت میں ملتا ہے
42:31کہا ہاں
42:33کہا بابا میری خواہش ہے
42:34کہ میں
42:34یمنی عقیق کا
42:36ایک گلوبند بناوں
42:37اگر ہو سکے
42:38تو مالِ غنیمت میں
42:39میرے لیے
42:40یمنی عقیق لے آئیے گا
42:42باب نے وعدہ کیا
42:44کربلا آیا
42:45کہا جب میں کربلا پہنچا
42:46تو اسرِ آشور تھی
42:47کہا میں نے عجیب منظر دیکھا
42:50ایک زخمی کھوڑے کی
42:52زین پر بیٹھا ہوا تھا
42:54اور چاروں طرف
42:56فوجیوں نے
42:57اسے کھیرا ہوا تھا
42:59لیکن عجیب یہ تھا
43:01کہ کوئی اس زخمی کے
43:03قریب نہیں جا رہا تھا
43:05در رہے تھے
43:06کہا میں نے ایک مرتبہ
43:07جا کر ان سے پوچھا
43:09کہ ماجرہ کیا ہے
43:10کہا کہ یہ آخری بچا ہے
43:12اگر اس کو مار دیا
43:14تو کربلا کی جنگ ختم ہو جائے گی
43:16ہم فاتح ہو جائیں گے
43:17کہا کہ یہ ایک آخری بچا ہے
43:20کہا میں نے پوچھا
43:21کہ تم ایک اس سے ڈرتے کیوں ہوں
43:23ایک زخمی ہے
43:24اسے جا کر مار کیوں نہیں دیتے
43:26کہا تم جانتے نہیں ہو
43:28یہ کون ہے
43:28اس کا عباس جیزا بھائی
43:30ہم نے مار دیا
43:31اس کا اکبر جیزا بیٹا
43:33ہم نے مار دیا
43:34یہ کوئی عام انسان نہیں ہے
43:35اس کو مارنا اتنا آسان نہیں ہے
43:37کہا ایک مرتبہ میں نے تلوار
43:39ہاتھ میں لی
43:40اور گھوڑے کو ایڑی لگائی
43:42اور پڑا اس زخمی کی طرف
43:43کہا جب میں قریب گیا نا
43:45تو عجیب یہ ہوا
43:46کہ ایک مرتبہ انہوں نے مجھے
43:48کہا عبداللہ میرے قریب آؤ
43:50کہا میں حیران ہوا
43:51کہ یہ میرا نام کیسے جانتے ہیں
43:53میں نے جا کر کہا آپ کون ہیں
43:55اور میرا نام کیسے جانتے ہیں
43:57کہا میرے قریب آؤ
43:58کہا میں جب قریب گیا
43:59تو انہوں نے ایک مرتبہ جیب سے
44:01کہ یمنی حقیق نکالا
44:03کہا عبداللہ یہ جا کر
44:04اپنی بیٹی کو دے دینا
44:06کہا میں حیران ہوا
44:07کہ آپ کو کیسے پتا
44:09کہ میری بیٹی نے
44:10یمنی حقیق مانگا تھا
44:11کہا میں تیرے رسول کا نواسہ
44:13حسین ابن علی ہوں
44:15میں رسول کی بیٹی
44:17فاطمہ کا بیٹا
44:19حسین ابن علی ہوں
44:20میں علی کا بیٹا
44:22حسین ابن علی ہوں
44:24کہا یہ حقیق لو
44:26اور واپس چلے جاؤ
44:27کہا اب تو میں نے آپ کو پہچان لیا ہے
44:30اب میں کیسے چلا جاؤں
44:32کہا نہیں
44:32مجھے تم سے دو کام ہیں
44:34سنو گو درد حسین ابن علی
44:37کہا مجھے تم سے دو کام ہیں
44:39کہا مولا حکم فرمائیے
44:41کہا پہلی بات تو یہ ہے
44:42کہ ابھی میرا استغاثہ بلند ہوگا
44:45حل من ناصرن ینصرنا
44:47جو میدان کربلا میں ہوگا
44:49اس پر میری نصرت کرنا واجب ہو جائے گی
44:52میں نہیں چاہتا
44:53تم کربلا میں رکو چلے جاؤ
44:56کہا حکم کیا ہے
44:57کہا پہلی بات تو یہ ہے
44:59کہ جا کر کوفہ میں انتظار کرنا
45:01دو تین دن کے بعد
45:03ایک کافل آئے گا
45:04اس میں میری بہن زینب ہوگی
45:06وہ بے پردہ ہوگی
45:08وہ چادر کا سوال کرے گی
45:10عبداللہ ہو سکے
45:11تو میری طرف سے میری بہن کو
45:13چادر دے دینا
45:16عجرکم اللہ
45:18عجرکم اللہ
45:20میرے حسین
45:21میرے مولا کو
45:22اپنی بہن زینب کی
45:23چادر کی کتنی فکر دی
45:24کہ عبداللہ میری طرف سے
45:26اگر ہو سکے
45:26تو میری بہن زینب کو
45:28چادر دے دینا
45:28ایک مرتبہ کہا
45:29مولا دوسرا حکم کیا ہے
45:31کہا عبداللہ
45:32عبداللہ
45:33جب تو گھر واپس جانا نہ
45:34درد ہے مولا حسین کو
45:36کہا عبداللہ
45:37جب تو گھر واپس جانا نہ
45:38تو جا کر اپنی بیٹی سے کہنا
45:40میں باغی نہیں ہوں
45:46عجرکم اللہ
45:47کہا جا کر کہنا
45:49میں باغی نہیں ہوں
45:50عزادارو یہ حسین ابن علی
45:52عصرِ عشور
45:53آئے تھے خیمے میں
45:55اور آ کر جب کہا تھا نا
45:57یا زینب یا ام قلصوم
45:59یا سکینہ
46:00علیکن نمینی السلام
46:02میرا آخری سلام ہو
46:04اس سے پہلے میرے مولا حسین نے کیا کیا
46:06کہا
46:08اممہ فضا
46:09جا کر
46:11میرا پرانا کرتا لا دیجئے
46:13جو میری ماں زہرہ
46:14نے اپنے ہاتھوں سے
46:15بنایا تھا
46:16ایک مرتبہ
46:17بی بی
46:18جو ہے نا وہ گئی
46:19اور جا کر
46:20پرانا کرتا اٹھایا
46:22اور پرانا کرتا اٹھا
46:24کہ اممہ فضا
46:25جب جانے لگی نا حسین کے خیمے میں
46:27شہزادی زینب نے دیکھا
46:29کہا اممہ فضا
46:30یہ کیا لے کے جا رہی ہو
46:32اممہ فضا چپ کر گئی
46:34خاموش ہو گئی نہیں بولا
46:35ایک مرتبہ شہزادی زینب کرتی
46:37اممہ بتانا یہ کیا ہے تمہارے پاس
46:39کہا بی بی کیا بتاؤں
46:41تیرے بھائی حسین نے پرانا لباس
46:44مگوایا ہے
46:45وہ لے کر جا رہی ہوں
46:47شہزادی زینب بے چین ہو کر
46:49ایک مرتبہ خیمے میں آئی
46:51کہا میں سمجھ گئی
46:53اب میرے بھائی سے
46:54ودا کا وقت آ گیا
46:56شہزادی زینب آئی خیمے میں
46:58کہا بھائی میں سمجھ گئی
47:02اب یہ آپ کا آخری ودا ہے
47:04بھائی میں نے
47:06اون و محمد کی قربانی دی
47:08میرا بھائی بچ جائے
47:10میں نے اکبر کی قربانی دی
47:12میرا بھائی بچ جائے
47:14قاسم کی شہادت ہوئی
47:15میرا بھائی بچ جائے
47:17بھائی اب آپ بھی جا رہے ہو
47:19ایک مرتبہ
47:20میرا مولا حسین نے
47:22زینب کو سینے سے لگایا
47:23زینب کے سر پہ ہاتھ رکھا
47:25زینب کو تسلی دی
47:27زینب میری بہن
47:28مشیعت خدا کا تقادہ یہی ہے
47:31شہزادی سے کہا
47:32زینب
47:33زینب یہ میرا آخری ودا ہے
47:35اب میں جانے لگا ہوں
47:37واپس نہیں آؤں گا
47:38ایک مرتبہ
47:39اپنے ہاتھوں کو آگے کرو
47:41شہزادی زینب نے کہا
47:42بھائی کیا بات ہے
47:43سنو گے
47:44مولا فرماتے ہیں
47:45شہزادی سے
47:46بہن زینب
47:47آپ کو یاد ہے
47:49بابا علی نے
47:50میرے کان میں
47:52وسیعت کی تھی
47:54آخری لمحے
47:55اور آپ نے
47:56ساری زندگی
47:56مجھ سے پوچھا
47:57کہ بھائی بابا
47:58نے کیا کہا تھا
47:59میں نے نہیں بتایا
48:00بھائی بابا
48:01نے کیا کہا تھا
48:01میں نے نہیں بتایا
48:02کہا بھائی
48:03میں تو ہمیشہ آپ سے پوچھتی رہی
48:05بھائی بابا
48:06نے کیا کہا تھا
48:07آپ کے کانوں میں
48:08کچھ کہا تھا
48:09فقط آپ نے سنا تھا
48:10آپ نے نہیں بتایا
48:10کہا بہن زینب سنو
48:12بابا علی نے کہا تھا
48:14خسین
48:15جب تم آخری
48:17ودا کرنے کے لئے آنا
48:18تو شہزادی میری بیٹی
48:21زینب کے ہاتھوں کو
48:22علی بن کے بوسا دینا
48:24چونکہ آج کے بعد
48:26زینب کے ہاتھوں میں
48:28رسیاں باندھی جائیں گی
48:30وَشَامِيَا بَسَنْدَبَادُ
48:33زَيْلَ بَقَزْمِ
48:37عَجْرُكُمْ الْلَلَّهِ
48:38عَجْرُكُمْ الْلَلَّهِ
48:40سوائے غمِ شبیر
48:41کے کوئی غم نہ دے
48:42کہا زینب
48:43اپنے ہاتھ آگے کرو
48:44شہزادی نے ہاتھ آگے کیے
48:46کہا بھائیہ
48:47اب مجھے یقین ہو گئے
48:49آپ کا آخری ودا ہے
48:50بھائیہ
48:51ایک لمحے کے لئے بیٹھ جائیے
48:53میرے مولا حسین
48:54زمین پر بیٹھے
49:00کہا بہن کیا وسیعت کی تھی
49:03کہا ماں نے کہا تھا
49:04بیٹی زینب
49:06جب دیکھنا کہ حسین
49:08پرانا لباس پہن کے جا رہا ہے
49:11تو پھر تم بھی
49:13فاطمہ بن کے
49:15میرے حسین کی کردر
49:18کا بوسا لے لے
49:19عجْرُكُمْ
49:22عجْرُكُمْ الْلَّهِ
49:23بَسَزَادَارُو
49:25عَسْرِ عَشْهُور
49:26مَیْدَانِ کَرْبَلَا
49:28میرے مولا حسین
49:31خیمے سے نکلے
49:33آخری ودا کر کے نکلے
49:35زخموں میں چور
49:36سیدہ سجاد سے ودا کیا
49:39اور سیدہ سجاد نے پوچھا تھا نا
49:41بابا عین عین
49:43عمی العباس
49:44میرے چچا پاس کہاں ہیں
49:46میرے بھائی علی اکبر کہاں ہیں
49:48تو مولا حسین نے فرما
49:50قد قتل مارے گئے
49:52جب قاسم کا پوچھا نا
49:54تو میرے مولا حسین نے کہا
49:55سجاد
49:56بس تو اتنا جان لے
49:58مردوں میں سے
49:59یا تو بچا ہے
50:00یا میں بچا ہوں
50:01میرے مولا حسین گئے
50:03اور جا کر
50:04استغاثہ بلند کیا
50:05حَلْ مِنْ نَوْسِرْنْ يَنْسُرْنَا
50:09ایک مرتبہ ناظرہ شمالاً وَجْنُوباً
50:11اَيْنَا اَيْنَا
50:13اَخِي العباس
50:14دائیں دیکھا
50:15بھائی عباس کہاں ہو
50:17بھائی بیٹا علی اکبر کہاں ہو
50:20جب کوئی نظر نہیں آیا نا
50:21تو کہا
50:22اَخَلْ مِنْ نَوْسِرْنْ يَنْسُرْنَا
50:25کوئی ہے مجھ حسینِ غریب کی
50:27مدد کرنے والا
50:29ازادار و آخری استغاثہ بلند کیا
50:31اور ایک مرتبہ
50:33دشمن پر حملہ آور ہوئے
50:35محسرہ والے محمنہ کی طرح
50:37بھاگ رہے تھے
50:38محمنہ والے محسرہ کی طرح
50:40بھاگ رہے تھے
50:41ایک مرتبہ میرے مولا حسین
50:43حملہ کرتے تھے
50:44نہر فرات کا رکھ کر کے
50:45کہتے تھے
50:46بھائی حسین
50:48بھوڑے بھائی کی جنگ دیکھو
50:50پیاسے حسین کی جنگ دیکھو
50:53بیٹا علی اکبر
50:55اپنے بابا کی جنگ دیکھو
50:58ازادارو
50:59میرے مولا نے جب جنگ کی ہے نا
51:01تو کوئی میرے مولا کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا
51:03تین دن کا پیاسا حسین
51:05علی کا بیٹا حسین
51:07صاحب زلفکار حسین
51:09لیکن ہاں
51:11یہاں پر جب آواز آئی ہے
51:12یا آئیہ تو نفس المطمئن
51:15ارجعی الارب کا راضیتا
51:17مر دیا
51:18اے نفس مطمئن
51:21بس میرے مولا حسین نے
51:23تلوار نیام میں رکھی ہے
51:25اور ادھر سے عمر ابن سعید نے کہا
51:27حسین کو ایسے نہیں مار سکتے
51:30چاروں طرف سے حملہ کر دو
51:32گھیر کے مارو حسین کو
51:34ازادارو ایک مرتبہ چاروں طرف سے
51:37آزا آدہ لعینوں نے حملہ کیا
51:40کسی نے تلوار سے حملہ کیا
51:43کسی نے نیزے سے حملہ کیا
51:45کسی نے تیر مارا
51:47کسی نے پتھر مارا
51:49اب میرے مولا حسین گوڑے کی
51:51زین پر سمل نہیں رہے
51:53زین سے زمین کی طرف آ رہے ہیں
51:55لیکن سناؤں
51:57سننے کی حمد ہے
51:58دس محرام
52:00اثرِ اشور ایک مرتبہ
52:03شہزادی زینب
52:04تلہِ زینبیہ پر آئی
52:07ایک اونچے ٹیلے پر آئی
52:10اور آ کر کھڑے ہو کر دیکھ رہی ہے
52:12میرا ماں جویا حسین کہا ہے
52:15حسین نظر نہیں آ رہا
52:17میرے مولا کو نظر نہیں آ رہا
52:19میرے مولا نظر نہیں آئے
52:20سنو گے
52:21ازادارو
52:22عرب خواتین کے کچھ دستور ہیں
52:25عرب کیا خواتین کرتی ہیں
52:27کبھی دوڑتی نہیں ہیں
52:28جب تک مجبوری نہ ہو
52:30بی بی حاجرہ نے ہرولہ کیا تھا نا
52:32چونکہ اسماعیل پیاس سے مر رہا تھا
52:35یہاں پر بی بی دوڑتی نہیں ہیں
52:37اور جب دوڑنا پڑ دے مجبوری میں
52:39تو سر پہ ہاتھ نہیں رکھتی
52:41لیکن اللہ جانِ زینب کی مجبوری کیا تھی
52:44تلہِ زینبیہ پر
52:46سر پہ ہاتھ ہے
52:47کبھی دائیں دوڑتی ہیں
52:49کبھی پائیں دوڑتی ہیں
52:50آئے میرا حسین میرا ماجایا
52:53میرا امام
52:56عجرہ کمیلاللہ
52:57بس ازادارو
52:58آخری منزل کی طرح بڑھ رہا ہوں
53:00ازادارو سنوں گے
53:01شہزادی ظالم نے دیکھا
53:03حسین نہ گھڑے کی زین پر تھے
53:05نہ زمین پر تھے
53:06وہ تو بعد میں زیارتِ نہیہ میں
53:08امامِ زمانہ نے فرمایا
53:10میرا سلام ہو اس شہید پر
53:13کہ جس نے زین کو چھوڑا
53:15تو تھوڑی دیر کے لیے
53:16نہ زین پر تھا
53:17نہ زمین پر تھا
53:19کیوں
53:19اس لیے کہ اتنے تیر لگے تھے
53:21تیروں پر معلق تھے
53:23میرے مولا حسین
53:25عجرہ کمیلاللہ
53:27عجرہ کمیلاللہ
53:28عجرہ کمیلاللہ
53:30عجرہ کمیلاللہ
53:31تیروں پر معلق میرے مولا حسین
53:34زمین پر آئے ہیں
53:35شہزادی ظالم نے عجیم منظر دیکھا
53:37کیا منظر دیکھا
53:39منظر یہ دیکھا
53:40وَشِمْرَ جَالِسُنْ عَلَى صَدْرِهِ
53:43اور شمر العین حسین کے سینے پر زوار ہے
53:47اور اس نے ہاتھ
53:49مولا حسین کے سر میں ڈالے ہوئے ہیں
53:52اور خنجر نکالا ہوا ہے
53:54شہزادی ظالم نے دیکھا
53:56برابر میں عمرِ سعید کھڑا تھا
53:58شہزادی ظینب کہتی ہے
54:00اوہ عمرِ سعید
54:02تو جانتا ہے
54:03یہ نواسہِ رسول ہے
54:05اس گردن کے پو سے
54:07رسولِ خدا لیتے تھے
54:09اس سینے کو رسولِ خدا چومتے تھے
54:12اس لئے ان نے چہرہ دوسری طرف کر لیا
54:14اور عزادارو
54:15ستر قدم پہ کھڑی ظینب دیکھ رہی تھی
54:18ایک مرتبہ ضربے چلنا شروع ہوئی ہے
54:21پہلی ضرب چلی ہے
54:23دوسری ضرب چلی ہے
54:25ادر شہزادی ظینب
54:27دوڑ کر خیمے میں گئی ہے
54:29سید سجاد اٹھو
54:31سید سجاد اٹھو
54:33میرا بھائی حسین
54:36عزادارو ایک مرتبہ
54:37امامِ سجاد نے آنکھ کھولی
54:39کہا پوپی امام کیا ہوا
54:41کہا میرا بھائی حسین
54:43کہا پوپی امام جرہ خیمے کا پردہ ہٹائیے
54:46عزادارو سنوں گے
54:47ایک مرتبہ پردہ ہٹا
54:49مہرے مولا امامِ سجاد نے دائیں دیکھا
54:52بائیں دیکھا
54:53سامنے دیکھا کچھ نظر نہیں آیا
54:55ایک مرتبہ آسمان کی طرف دیکھا
54:57اور کہا
54:58السلام علیکہ یا آبا عبداللہ
55:02شہزادی ظالم نے کہا
55:04بیٹا سجاد
55:05تو آسمان کی طرف دیکھے
55:08میرا بھائی پر سلام کیوں پڑھ رہا ہے
55:11کہا پوپی امام
55:12وہ دیکھئے
55:13نوک نیزہ پہ میرے بابا کا سر
55:19عجرکملاللہ
55:20عجرکملاللہ
55:21سوائے غم شبیر کے کوئی غم نہ دے
55:23بس سجدہ محترم آخری جملہ
55:26آخری منزل
55:27عزادارو نوک نیزہ پہ حسین
55:30باہر نکلی ہیں
55:31آئی ہیں حسین ابن علی کی لاش پر
55:35اور آ کر کیا کہا
55:36آنتا خی کیا تو میرا بھائی حسین ہے
55:40وینہ راسوک
55:42بیہا تمہارا سر کہاں گیا
55:46عزادارو بستاریقا ایک جملہ بیان کرنا چاہتا ہوں
55:49شہزادی زینب نے بیٹھ کر
55:51بھائی حسین کی لاش پر
55:54پین کرنا شروع کیے
55:57کہ ادھر سے ایک ننی سی آواز آئی
55:59اور کس کی آواز تھی
56:01وہ حسین کے سینے پہ سونے والی سکینہ کی
56:04کیا کہہ رہی تھی
56:06بابا اٹھ جاؤ
56:08بابا کہا ہو
56:10بابا جواب دو
56:12بابا بابا پکا رہی تھی
56:15آخری آواز سننا
56:16جانتے ہو کیا تھی
56:17کہا بابا
56:19جلدی سے اٹھو نا
56:20پھوپی زینب کو دشمن تازیہ نے مار رہے
56:25میں جب
56:32سلام پڑھتا ہوں
56:38شاہ کے
56:43جناب میں
Comments