Skip to playerSkip to main content
Shan e Auliya mein dekhiye ek khas ilmi aur ruhani nashist jismein Auliya-e-Kiram ki taleemat, Tasawwuf, Islah-e-Nafs aur Ishq-e-Rasool ﷺ ke mukhtalif pehluon par guftagu ki gayi.

Host: Safdar Ali Mohsin

Guests:
Pir Irfan Elahi Qadri
Mufti Ramzan Sialvi
Mufti Karim Khan
Dr Ghulam Mohiuddin Naqshbandi

Sana Khuwan:
Sarwar Hussain Naqshbandi

#ShanEAuliya #ARYQtv #AuliyaAllah #Tasawwuf #IslamicTalkShow #Sufism #IslamicProgram

👉Hazrat Umar Farooq RA | ARY Qtv Special Transmission 2026
https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XieyQNhAaYolDta406cM9PUo

👉 Like, Share & Subscribe for more Islamic programs, Eid special transmissions, and spiritual content from ARY Qtv.

👉 Islamic Short Clips 2026:
https://youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8Xie2u7z3IRNMFwrgw_B1L7M2&si=GKxU1ofBnyLaf7iG

👉 Qasas ul Quran | Ramzan Special | 2026:
https://youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XicgtcCM2J1-35YysaTJPb0v&si=-MVzB2jNKNAS753b

👉 Islamic History Unfolded:
https://youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XidF-zYO69M8DSTkdnLRfCst&si=r66nx-gXmN3rkGnD

👉 The Rise Of Islam:
https://youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XieworVshBiZcEFtnsAwu5ve&si=lPCGQVXM3EOLwlbR

Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Transcript
00:00یا فرد و دین بابا یا فرد و دین
00:05بسم اللہ الرحمن الرحیم وصل اللہ تعالی على نبینا الكریم وعلى علیہ الداخرین وصحبہ اجمعین
00:12ناظرین مکرم السلام علیکم
00:14اللہ محمد چار یار حاجی خاجہ قطب فرید حق فرید یا فرید حق فرید یا فرید
00:22مکرم ناظرین پروگرام شان اولیاء کے ساتھ داتا کی نگری لاہور سے آپ کا میزبان
00:28صفدر علی محسن اے آر وائکو ٹی وی پر حاضر خدمت ہے
00:34ناظرین کیا ہم نے کبھی اس بات پر غور کیا ہے کہ زندہ قوم ہے
00:38اپنے ہیروز اور محسنین کو کیوں یاد رکھتی ہیں
00:42ان کی قیمتی یادوں کا زخیرہ سنبھال کر کیوں رکھتی ہیں
00:45ان کے کردار کی تابناک روشنی کو محفوظ کیوں رکھتی ہیں
00:49ان کے کانٹریبیوشنز اور کریڈٹس کو ہمیشہ تسلسل سے نشر کیوں کرتی ہیں
00:55ان کی خدمات کا بار بار اعتراف کیوں کرتی ہیں
00:58ان سے محبت اور عقیدت کے جذبوں کا اظہار کیوں کرتی ہیں
01:02اور ان کے تذکرے کو ہر دور کی یاداش کا حصہ بنانے کا خاص طور پر احتمام کیوں کرتی ہیں
01:10ان سارے اور ان سے ملتے جلتے سارے سوالات کا مختصر جواب یہ ہے
01:15کہ قومیں اپنے ہیروز اور محسنین کو اس لیے یاد رکھتے ہیں
01:20کہ وہ ان کے ماضی کی عظمت حال کی رہنمائی اور مستقبل کی امید کا سرچشمہ ہوتے ہیں
01:27زہد الانبیاء شیخ الاسلامی والمسلمین حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر
01:34ملت اسلامیہ اور بالخصوص برے صغیر پاک و ہند کے اہل ایمان کے ایسے ہیرو اور محسن ہیں
01:41جن کے پاکیزہ کردار اور خوبصورت سیرت کی روشنی ہمیں اچھی زندگی گزارنے میں مدد فراہم کرتی ہے
01:49ان کا تذکرہ ہماری اگلی نسل کی رہنمائی کا سبب بنتا ہے
01:53ہماری شناخت اور ثقافت کو محفوظ کرتا ہے
01:57اتحاد اور یکجہتی کی دولت نصیب کرتا ہے
02:01ہماری اقدار اور روایات کو تحفظ فراہم کرتا ہے
02:04اور شکر گزاری کے جذبے پروان جڑھاتا ہے
02:08ہم اس لیے اپنے ہیروز کو اپنے محسنین کو یاد کرتے ہیں
02:12ہماری آج کی نشست کے ممدو موضوع سخن
02:16حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمت اللہ تعالی علیہ ہیں
02:20ان کے خدمت میں ہدایہ نیاز پیش کرنے کا سلسلہ ہے
02:24جو اے آر وائکو ٹی وی سے پہلے پروگرام کے بعد
02:26آج کی نشست میں تسلسل سے آپ ملاحظہ کر رہے ہیں
02:30اے آر وائکو ٹی وی کی ہمیشہ سے یہ پاکیزہ روایت رہی ہے
02:33کہ وہ اہل اللہ اور اسفیاء اتکیہ کی مبارک بارگاہوں
02:38اور ان کی چوکٹ سے جڑنے میں ہمیشہ آپ کا معاون رہتا ہے
02:41اور اللہ والوں کے تذکار کو آپ کی سماعتوں تک پہنچانے کا وسیلہ قرار پاتا ہے
02:46آج کی اس پروگرام میں آئیے بڑھتے ہیں
02:49اپنے معزز اور مکرم مہمانوں کے خیر مقدم کی جانے پر
02:52پہلی شخصیت کسی تعرف کی محتاج نہیں
02:55ان کا سب سے بڑا تعرف یہ ہے
02:57کہ انہیں ہمیشہ اور تسلسل سے خیرات اس ہستی کی بارگاہ سے ملی ہے
03:02جنہیں دنیا فیض عالم کہتی ہیں
03:04سیدہ حجویر کہتی ہیں
03:06اس خطے کے اہل اسلام کے سب سے بڑے محسن انہیں قرار دیا جاتا ہے
03:12یعنی سیدہ علی بن عثمان حجویری
03:15داچہ گنج بخش رحمت اللہ علیہ کی مبارک بارگاہ
03:18سترہ سال مسلسل وہاں ان کی جامع مسجد میں
03:22خطابت کی دولت سے صرف راز ہوئے
03:24ان کی آواز ازان من کر پوری دنیا میں گونشتی رہی
03:27حضور سیدہ حجویر کی بارگاہ سے خصوصی فیض کے حامل
03:31مقرم و محتشم
03:32جناب ڈاکٹر مفتی پیر محمد رمضان سیالوی صاحب
03:35سلام علیکم
03:36محمد رحمت اللہ
03:37محمد صاحب کی بلا خوش آمدید
03:39عباوہ صاحب کی محفل میں آپ کا خیرم
03:41بسم اللہ
03:41ہماری سعادت ہے جناب
03:42بے شک اس میں کوئی شعبہ نہیں ہے
03:44اور دوسری شخصیت
03:45آپ شعبہ علوم اسلامیہ کے سربراہ
03:48عرض وطن کے مقتدر
03:49اساتیزہ میں آپ کا نام شامل ہے
03:51بہترین سکولر
03:53تاریخ پر
03:54مطالعے پر بڑی گہری نظر
03:55اور بڑی قیمتی موضوعات کا احاطہ کرتے ہوئے
03:58انہوں نے پچھلی نشست میں بھی
03:59ہمیں نہائیت قیمتی باتوں سے مستنیر کیا
04:02آج کی نشست میں ایک دفعہ پھر
04:03ہمیں شرفیاب کرنے کے لیے تشریف لائے
04:05امپیل یونیورسٹی لاہور کے شعبہ
04:09علوم اسلامیہ کے استاز اور سربراہ
04:11جناب مفتی ڈاکٹر محمد کریم خان صاحب
04:14السلام علیکم
04:15اور ایک دفعہ پھر آپ تشریف لائے
04:18ہمیں فیضی آپ کیا
04:19بڑی نوازش
04:21اگلی شخصیت بھی کسی تعرف کی محتاج نہیں ہے
04:24سجادہ نشین ہے
04:25آستان آلیہ ساہو چک شریف
04:28سیالکوٹ کے
04:29ایئر وائیکو ٹی وی کے
04:30ایک مقبول پروگرام
04:32روشن راستے کے
04:33آپ سکولر اور ان کے پروگرام کی روشنی بھی
04:36ان کے افکار آلیہ کے ساتھ
04:37پوری دنیا میں نشر ہوتی ہے
04:38میری مراد ہے
04:39ہمارے مقدوم و مربی
04:41جناب علامہ پیر عرفان الہی قادری صاحب سے
04:44سلام علیکم
04:45پیر صاحب خوش آمدید
04:47تشریف آوری کا شکریہ
04:48حرون آباد کی سرزمین سے
04:51اہل سنت کی عظیم سکولر
04:53بڑے دیمے اور متوازے لہجے میں
04:55اپنا پیغام بڑی خوبصورتی سے
04:57ہمیشہ ہمارے ناظرین کی سماعتوں کے حوالے کیا ہے
05:00میری مراد ہے
05:01محترم جناب ڈاکٹر غلام مہیدین نقشبندی صاحب سے
05:05سلام علیکم
05:06خوش آمدید قبلہ
05:11اس مبارک نشست میں سنہ خانی کا منقبت خانی کا
05:13حدیعہ پیش کرنے کے لیے
05:15داتا کی نگری لاہور سے عالمی شہرت کے حامل
05:18سنہ خان
05:19سنہ گو نات کی خدمت پر مامور
05:22نات یا عدب کے خدمت پر مامور
05:24شعب علوم اسلامیہ کے بھی استاز ہیں
05:27اردو عدب کے بھی استاز ہیں
05:28ڈائریکٹر ہیں حسان بن صابت نات
05:30ریسرٹ سینٹر منہج یونیورسٹی لاہور کے
05:32جناب ڈاکٹر سرور حسین نقشبندی
05:35سلام علیکم
05:37جو بابا صاحب خوش آمدید
05:38بابا صاحب کی بز میں آپ کا خیر مقدم
05:40آئیے آج کی اس مبارک مجلس
05:42کا آغاز ہی اللہ کے پاک کلام سے
05:44کرتے ہیں نغمہ توحید سے کرتے ہیں
05:46جو بابا صاحب خود اپنی زندگی میں
05:48اپنے ساری موریدین اور محبین کو
05:50سکھاتے رہے
05:51غبوں و علم میں کرم کی ردائیں دیتا ہے
06:25ہر ایک بیمار کو وہی شفائیں دیتا ہے
06:42ہر ایک بیمار کو وہی شفائیں دیتا ہے
07:00یہ اس لیے
07:04کہ پہچانے
07:12ذات
07:14ہو جائے
07:20یہ اس لیے
07:23کہ پہچانے
07:30ذات
07:33ہو جائے
07:39وہ حسن والوں کو
07:42کیا کیا
07:46ادائیں دیتا ہے
07:53وہ حسن والوں کو
07:57کیا کیا
08:04ادائیں دیتا ہے
08:09اور بلا کے اپنے حرم میں
08:17گناہ
08:19گاروں
08:21کو
08:26زمین پہ
08:28خلد بری کی
08:31ہم آئیں دیتا ہے
08:39زمین پہ
08:42زمین پہ
08:42خلد بری کی
08:46ہم آئیں دیتا ہے
08:54کسی بھی
08:59کسی بھی
09:00طلب ہے
09:02تو مانگ لو
09:08مجھ سے
09:12وہ
09:14روز
09:16پہلے فلک
09:18پر
09:20صدایں
09:22دیتا ہے
09:25وہ
09:27روز
09:28پہلے
09:31فلک
09:32پر
09:35صدایں
09:37دیتا ہے
09:40دعا
09:41کرو
09:42کہ
09:44ہمیشہ
09:47وہ
09:48ذکر میں
09:53رکھے
09:57وہ
09:58اپنی
09:59یاد
10:00بھلا کر
10:04سزائیں
10:06دیتا ہے
10:08وہ
10:11اپنی
10:13یاد
10:14بھلا کر
10:19سزائیں
10:22دیتا ہے
10:24اسے
10:27کرم نہ کہوں
10:29تو
10:31میں
10:33کیا کہوں
10:36سرور
10:40ہر ایک
10:42شخص
10:43جو
10:43مجھ کو
10:46دعایں
10:49دیتا ہے
10:55ہر ایک شخص
10:58جو
10:59مجھ کو
11:04دعایں دیتا ہے
11:11وہ
11:11روز
11:13پہلے
11:14فلک پر
11:19صدایں
11:22دیتا ہے
11:25سرور صاحب
11:26سبحان اللہ
11:26جناب
11:27جس خوبصورتی سے آپ نے نگمہ
11:29توحید نشر کیا ہے
11:30حمد باری تعالی بیان کیا ہے
11:32تو ذاتِ خداوندِ قدوس
11:34اپنی شان کے مطابق آپ کو حجر نشر کریں
11:36بہت نوازش
11:37بہت ایمان افروز کلام ہے
11:39اور بڑے خوبصورت انداز میں آپ نے پیش کیا
11:42کیونکہ حمد سے آج کا کاروانِ رنگ و بو آغاز اور تسلسل چاہتا ہے
11:47تو حمد کا ہی ایک شیر پیش کرتے ہوئے
11:49میں جنابِ ڈاکٹر مفتی پیر محمد رمضان سیالوی صاحب سے گفتگو کا آغاز کروں گا
11:55توحید تو یہ ہے کہ خدا حشر میں کہہ دے
11:59توحید تو یہ ہے کہ خدا حشر میں کہہ دے
12:02یہ بندہ دو عالم سے خفا میرے لئے ہے
12:11آئیے گفتگو کا آغاز کرتے ہیں
12:13اور ناظرین آپ جانتے ہیں کہ ہمارا ہر پروگرام مزین ہوتا ہے
12:17ایک specific topics ہے
12:19شانِ اولیاء کے تحت ہم مختلف topics کا احاطہ کرتے کرتے ہیں
12:23انشاءاللہ پانچ میں نشست تک اپنا سفر جاری رکھیں گے
12:26آج کا ہمارا موضوع ہے سیرتِ اولیاء
12:29ان کی سیرت سے ہمیں اقتصابِ فیض کیسے کرنا ہے
12:32اور ان کی نورانی اور تابناک زندگی سے
12:35ہمیں اپنے لئے کیا چننا ہے یہی ہمارا آج موضوعِ سخون ہے
12:39سیالوی صاحب قبلہ سے گفتگو کا آغاز کرتے ہیں
12:42قبلہ قرآن و حدیث کی روشنی میں
12:45اہلاللہ کے فضائل اور مناقب اللہ نے
12:48اور اس کے قریم محبوب صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بیان فرمائے ہیں
12:51ان کی زبانی ان کا اس کو نشر کیجئے تاکہ اسی سے ہم آغاز کریں
12:55بہت شکریہ میری اور ہم سب کی خوشبختی ہے
12:58کہ آج ہم سہد الانبیاء حضرت سیدنا بابا فرید الدین
13:05مسعود گنج شکر رحمت اللہ علیہ کے ذکر سے بے حمد حاضر ہیں
13:10اور ہماری قلبی میری ذاتی طور پر اس لیے
13:14بابستگی اور وہ روحانی کیفیت بڑھ جاتی ہے
13:17کہ سلسلہ چشتیہ نظامیہ کے جو اصل الاصول مشائخ
13:21جو سلسلہ تو زہب ہے
13:25جو آستانہ علیہ سیال شریف اور سلسلہ چشتیہ کا مرکز
13:30ٹھہرتا ہے تو اس کے اس سلسلہ تو زہب کی بنیادی کڑی
13:34حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمت اللہ علیہ وسلم
13:39صحیح
13:40قرآن مجید فرقان حمید کی آیات پر اگر ہم غور کریں
13:44تو سب سے پہلی بات تو یہ سمجھنی چاہیے
13:48کہ یہ جو طبقہ اولیاء صوفیاء اور سلحاء ہے
13:54پہلی تو یہ آج بھی اور ہماری نئی نسل کو سمجھنے کی چیز ہے
13:58کہ قرآن مجید فرقان حمید ان کو اپنے خاص اور محبوب بندوں کی فہرست میں
14:05الگ سے ایک طبقے کے طور پر کنسیڈر کرتا ہے
14:08درست
14:09یہ بڑی فکری سی بات ہے
14:11اور آج کے دور میں اس کو سمجھنا ضروری ہے
14:14کہ قرآن مجید فرقان حمید نے
14:18مختلف مقامات پر
14:20جہاں اپنے انعام یافتہ طبقات کا ذکر کیا ہے
14:24اور ان طبقات میں موجود
14:25افراد و اشخاص کا ذکر کیا ہے
14:28اس میں طبقہ سلحاء اور اولیاء کو الگ ذکر کیا ہے
14:33یعنی اس کو الگ سے کیٹیگرائز کیا ہے
14:35یہ ٹیکنیکل بات ہے اور بڑا ریشنل اور بڑی اعلی بات ہے
14:40اس کی وجہ کہ جب تک ہم ان ہستیوں کو قرآن و سنت کی روشنی میں الگ سے
14:48ریکنائز نہیں کریں گے
14:50ہم شاید ان کی خدمات اور ان کی شخصیت کو اس لیول پر شاید سمجھ بھی نہ پائیں
14:57اور جب سمجھیں گے نہیں تو شاید ہم اس کا ادراک کر کے ان کو خراج تحسین بھی شاید ہم
15:03نہ کریں
15:04ہم علچتے رہیں گے کہ یار یہ کیا چیز ہے
15:07ادھر حضرت داتا گنج بکشلی حجویری رحمت اللہ علیہ
15:13حضرت خواجہ غریب نماز رحمت اللہ علیہ
15:16حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر
15:19سلسلہ قادریہ نقشبندیہ سوہروردیہ چشتیہ کے اقابر سے
15:23یہ خطہ برے صغیر ہر بیس پچیس کلومیٹر کے بعد بقع نور ہے
15:27تو یہ کون لوگ ہیں
15:31یہ قرآن و سنت ان کو کس درجے میں رکے گنائز کرتا ہے
15:34تو پہلی بات تو یہ ہے
15:35اب اس انگل سے دیکھئے
15:37تو قرآن مجید فرقان حمید میں اللہ رب العزت نے
15:39اپنے انعام یافتہ جن طبقات کا ذکر کیا
15:43کیونکہ طبقہ پھر افراد کو مشتمع ہے
15:44یہ درست ہے متفق
15:45ان میں ان کے چار طبقات اور ان کو چار درجوں میں
15:51چار قسموں میں کیٹیگرائز کیا
16:04اگر امت کو قرآن و سنت پڑھنے والے ہر مسلمان برد و عورت کو
16:09اگر یہ پہچان ہے کہ طبقہ انبیاء کیا ہے
16:13اور اس کے افراد کون ہیں
16:15یقیناً پتا ہے
16:16آدم علیہ السلام سے لے کر نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم
16:19اور اگر صدیقین کی بات کریں گے
16:22تمام انبیاء سرابہ صداقت ہیں
16:24لیکن قرآن پاک اگر ان کو الگ ذکر کر رہا ہے
16:27تو پھر یہ ایک الگ طبقہ ہے
16:29اللہ کے انعام یافتہ لوگوں کا
16:30یہ گروہ الگ ہے
16:32اور جب تیسرے کا ذکر کریں
16:35وشہدہ
16:36تو یہ ایک انعام یافتگی اور
16:38اللہ کی بارگاہ سے انعام پانے والے
16:40اشخاص اور افراد کی ایک جماعت
16:42الگ ہے اور ان میں چوتھا درجہ
16:45وصالحین ہے
16:45اور جب صالحین کی تشریح میں جائیں گے
16:48تو بھئی عمومی معنی میں
16:50ہر نبی صالح ہے
16:51ہر صدیق صالح ہے
16:53ہر شہید صالح ہے
16:54تو پھر یہ صالحین کیا ہوئے
16:56یہ صالحین کیا ہوئے
16:58وہ صالحین سے مراد
17:00امت مسلمہ میں
17:02بلکہ ہر نبی کی امت میں
17:04میں اس کو اور وسط کرتا ہوں
17:05سپیشلی حضور علیہ السلام کی امت میں
17:07صالحین سے مراد وہ ہیں
17:09کہ جن کی شہرت
17:10جن کی پاپولرٹی امت میں بطور ولی ہے
17:14بطور شیخ ہے
17:15جنہیں عرف میں ہم ولی کہتے ہیں
17:17حضرت خاجہ حسن بسری ہوں
17:19حضرت حضرت بغدادی ہوں
17:20حضرت رابعہ بسریہ ہوں
17:22حضور سید ناغو سے پاک ہوں
17:24حضور داتا گنبک شریعہ جویری
17:25ان سے لے کر
17:26آج ہم جس ہستی کے ذکر کے لیے ہیں
17:28حضرت بابا فرید الدین مسود
17:30گنج شکر
17:30ایک تو یہ بات ہوگی
17:32ان کا ذکر
17:33اب انہی ہستیوں کو
17:35جیسے اللہ رب العزت
17:36انبیاء اور رسل کے لیے
17:39مختلف دیگر نام ذکر کرتا ہے
17:41قرآن مزید میں
17:42تو انہی طبقہ سلحہ کے لیے
17:46اللہ رب العزت نے
17:47ایک خاص ٹائٹل جو رکھا ہے
17:49وہ اولیاء کا رکھا ہے
17:50بلکل ٹھیک
17:51اور پھر میں وہی کہوں گا
17:52میں پھر وہی کہوں گا
17:53جب ان کی بات کرتا ہے
17:55تو اللہ رب العزت نے
17:56ان کی جو شان بیان ہے
18:13یہ ساری صفات
18:15کہ قرآن مزید
18:16حدیث کی طرف جائیں
18:18تو میں عرض کروں گا
18:20کہ وہ فضائل و مناقب
18:22ایک ایسا میں کہوں گا
18:24کہ آیات اور حدیث کا ایسا
18:26سلسلہ تو زہب ہے
18:27کہ جو اس طبقہ اولیاء
18:29صوفیاء کو
18:30الگ سے امت کے سامنے
18:31رکھتے ہوئے بتاتا ہے
18:32کہ انبیاء
18:34اپنی جگہ
18:35ان کی شان سبحان اللہ
18:37لیکن ان کی اتباع میں
18:38ان کے نقش قدم پر
18:40چلنے والے لوگ میں
18:41فضائل کے اعتبار سے
18:42جب تم ترتیب دوگے
18:43تو پھر صدیقین ہیں
18:45پھر شہدہ ہیں
18:45پھر اولیاء پھر صالحین
18:47بہت اچھا آغاز فراہم کر دی
18:48آپ نے قبلہ
18:49اللہ کریم آپ کو عجر سے نوازے
18:50ایک مختصر سا وقفہ ہے
18:52واپس آتے ہیں
18:53تو جناب ڈاکٹر محمد کریم خان صاحب سے
18:55سلسلہ گفتگو کو آکے بڑھاتے ہیں
18:57خوش آمدید ناظرین
18:58حضور زہد الانبیاء
19:00شیخ الاسلام والمسلمین
19:01حضرت بابا فرید الدین
19:02مسعود گنج شکر
19:03رحمت اللہ علیہ کی بارگاہ میں
19:05ان کے خدمت میں
19:06ان کے مجلس میں
19:07پوری دنیا کے ناظرین کا
19:08ایر وائی کیو ٹی وی دیکھنے والوں
19:10کا خیر مقدم ہے
19:11آج کا پروگرام شان اولیہ
19:12سیرت اولیہ کے انوان سے
19:15مزین ہے
19:15جنابی ڈاکٹر محمد کریم خان صاحب سے
19:17ہم رجوع کریں گے
19:19ڈاکٹر سابقبلہ
19:19اولیہ اللہ کا جو تعلق بلہ ہے
19:22اور ان کا جو ذوہ کے عبادت ہے
19:24اس کی کچھ جھلکیاں
19:25اور اس کی کچھ کرنے
19:26انعائد فرمائے
19:28بسم اللہ الرحمن الرحیم
19:30بہت شکریہ
19:31ایک تو حضرت
19:32بابا فرید الدین گنج شکر
19:34رحمت اللہ علیہ کا
19:35آپ کا لکبی زہد الانبیاء ہے
19:37اس طرح عبادت
19:39جس طرح نبیوں نے عبادت کی
19:41حضور داتا کا
19:43بابا فرید الدین گنج شکر
19:45یا حضور داتا گنج پک سو جویریوں
19:47جتنے بھی ہوں
19:47امام عزائر رحمت اللہ علیہ لکھتے ہیں
19:50عبادت نوافل کے ساتھ
19:52قرآن سے تعلق سب سے زیادہ ہوتا ہے
19:54امام عزائر رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں
19:56کہ میں نے صحابہ اکرام
19:58رتوان اللہ علیہ مجمعین
19:59تابعین اور تبا تابعین
20:01تقریباً چار لاکھ
20:04جو لوگ ہیں
20:04ان کی زندگیوں کا مطالعہ کیا ہے
20:06تو ان میں سب سے زیادہ
20:09میں نے جو تمسک پایا ہے
20:10وہ فرض سنت نوافل کے بعد
20:14وہ قرآن کی تلاوہ سب سے زیادہ کرتے تھے
20:16قرآن مجید فرقان حمید کے ساتھ
20:18تعلق جو آج ہماری کمزوری بنا ہے
20:20وہ ہم
20:22جو طبقہ علماء ہو
20:24یا صلحاقہ ہو
20:25یا عوام الناس کا ہو
20:26تعلق بالقرآن پیدا کرنا ضروری ہے
20:29قرآن مجید فرقان حمید
20:31یہ واحد کتاب ہے
20:32جو صرف سننے سے اور دیکھنے سے بھی
20:35اپنا فیضہ تا فرماتا ہے
20:37اور یہ تذکیہ نفس خود قرآن کرتا ہے
20:40ایک تو اس طرف توجہ دینے کی بہت زیادہ ضرورت ہے
20:43ہم اولیاء صلحہ کی جب بھی زندگیوں کا مطالعہ کرتے ہیں
20:46قرآن کی تلاوت بھی
20:48قرآن پر عمل بھی
20:50اور اسی کے مطابق آگے
20:52خدمت خلق
20:53اور اپنے مریدین اور ان تمام کی جو تربیت ہے
20:57وہ چلتی ہے
20:58جب ہم اسی صورت میں
21:01کہ قرآن کے ساتھ تعلق
21:03اللہ تبارک و تعالیٰ کے ساتھ تعلق
21:06نبی کریم روح فرحیم صلی اللہ علیہ وسلم
21:07اللہ تعالیٰ کے ساتھ
21:09تعلق کا جو عملی ثبوت ہمیں ملے گا
21:11وہ دیکھے گا بندہ قرآن سے کتنا تعلق رکھتا ہے
21:13رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ
21:16اگر کوئی محبت کا دعویٰ کرتا ہے
21:18پھر دیکھا جائے گا
21:19اس کا سنن سے اور حدیث سے کتنا تعلق ہے
21:21بڑی قیمتی بات
21:22اگر اس کا قرآن حدیث سے اور سنن سے تعلق
21:25ہمیں نظر نہیں آرہا
21:26تو اس کا مطلب ہے
21:27وہ اپنے قول میں سچا نہیں ہے
21:29یہ جو خطہ بڑے سگیر ہے
21:32یہ تمام کا تمام خطہ جو ہے
21:35یہ اولیاء اور ان کی تعلیمات
21:39اور ان کی شخصیات سے متاثر ہو کر
21:41اسلام انہوں نے قبول کیا
21:43یہاں کی جو جنگوں کی صورتحال ہے
21:45وہاں پر بھی اولیاء اکرام
21:48بزاتے خود شریک رہے
21:49وگرنا شہاب الدین غوری رحمت اللہ علیہ
21:52حملہ کر کے شکست کا کے واپس جا چکے تھے
21:55تو خاجہ موین الدین چستی اج میری رحمت اللہ علیہ
21:58انہیں خواب میں حکم دیا تھا
21:59کہ دوبارہ آؤ
22:00اللہ تبارک و تعالیٰ ہوئے
22:02آپ کو فتح عطا فرمائے گا
22:04محمود غزنوی ہوں
22:05یا جتنے بھی ہوں
22:06یہاں تک کہ
22:07یہ ہمارے جتنے بادشاہ ہیں
22:11یہ خاص طور پر یہ ہمارے
22:13یہاں کے آخری بادشاہ
22:16جو مغل حکمران ہیں
22:17یہ بادر شاہ زفر سے لے کر
22:19اوپر تک چلے جائیں
22:20یہ سارے کے سارے جو ہیں
22:22یہ کسی نہ کسی سلسلہ میں بیعت ہیں
22:25جلال الدین اکبر کا بھی
22:27آپ اگر معاملات اٹھا کر دیکھیں گے
22:29وہ تو اولاد سے ہی محروم تھا
22:31اور وہ خاجہ سلیم چستی
22:32رحمت اللہ علیہ کے مذہب حاضر ہوا
22:35پھر وہ ننگے پوہ حاضری دی
22:36پھر اللہ تبارک و تعالی نے یہ بیٹا
22:38عطا فرمایا تھا
22:39اور انگزیب عالمگیر جو ہے
22:41اس کے حالات کو آپ پڑھ لیں
22:43کہ وہ جب خاجہ مہینوں دیں
22:44چستی اج میری رحمت اللہ علیہ کے
22:46مذہب پر حاضری دینے کے لیے جاتے ہیں
22:47اور وہاں پر دیکھیں
22:49چھ سات سو نبینا بیٹھے ہوئے ہیں
22:51اور مانگ رہے ہیں
22:51اور انگزیب عالمگیر
22:53ظاہر عالم دین تھا
22:54فتاوہ عالمگیری ہے
22:55یہ دنیا کی تاریخ ہے
22:57کہ ایک بادشاہ نے اتنا بڑا فتاوہ
22:58فقہ حنفی جو اب نافذ رکھی یہاں پر
23:00وہ جب پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں
23:03انہوں نے کہا جی مانگنے کے لیے بیٹھے ہوئے ہیں
23:05ہماری حال ہے تو ان فقیروں جیسی ہے اس وقت
23:07انہوں نے کہا جی کیا مانگ رہے ہیں
23:09انہوں نے کہا جی بھائی روٹی مانگ لیتے ہیں
23:10کھا لیتے ہیں گزارہ کرتے ہیں
23:12انہوں نے سب کو کٹھا کیا
23:14تعداد ان کی موریخین نے
23:15سیرت انگارہوں نے
23:16پانچ سو سے چھ سو لکھی ہے
23:18اورنگ زیب عالمگیر نے کہا
23:19کہ میں فاتح پڑھنے جا رہا ہوں
23:21خاجہ مہینو دین
23:21میری رحمت اللہ کی
23:23قبر انور پر
23:23میرے واپس آنے تک
23:25اگر تمہاری آنکھیں نہ ہوئیں
23:27تو جس جس کی آنکھ نہیں ہوگی
23:29اس کو قتل کروا دوں گا
23:30اللہ اکبر
23:31اورنگ زیب عالمگیر جب واپس آتا ہے
23:33تو دیکھتا ہے وہ سات سو کے سات سو لوگ
23:36اللہ تعالی نے ان کو آنکھیں عطا فرما دی تھی
23:38وہ سارے بھی نہ ہو چکے تھے
23:40تو اورنگ زیب عالمگیر سے پوچھا
23:41آپ کو کیسے پتا تھا
23:43کہ ان کو آنکھیں مل جائیں گے
23:44کہا تھا مجھے یہ نہیں پتا
23:45مجھے یہ پتا تھا
23:46یہ مانگی صرف خاجہ سے
23:47دو ٹائم کی روٹی رہے ہیں
23:49جب آنکھیں مانگی ہیں
23:51انہوں نے رو کے
23:52اب جان کے خطرے سے
23:53تو خاجہ کے صدقے سے
23:54اللہ تعالی نے ان کو آنکھیں بھی عطا فرما دی
23:58پیر صاحب کی بلا
23:59آپ کی طرف بڑھتے ہیں
24:00اکثر ہم یہ کال پڑھتے ہیں
24:02کہ کتابوں میں سنتیں ہمیں لکھی ہوئی ملتی ہیں
24:06جبکہ اولیاء کرام
24:08ان کی صیرت میں
24:09عمل میں سنتیں ہمیں خود سے دکھائی دیتی ہیں
24:13یعنی وہ اتباع رسول کا
24:15اطاعت رسول کا
24:16چلتا پھرتا
24:17مجسم حسن نظر آتے ہیں
24:19آپ کیا فرماتے ہیں اس بارے میں
24:20بسم اللہ الرحمن الرحیم
24:22مولای صلی اللہ وسلم
24:23دائمًا عبادًا
24:27بہت شکریہ
24:28ہماری بڑی سعادت ہے
24:29کہ ہم زہد الانبیاء
24:31حضرت بابا فرید الدین
24:32گنج شکر
24:33مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ
24:35کے ارسے پاک
24:36اس خاص نشستوں میں حاضر ہیں
24:38صفدر صاحب دیکھیں
24:39جو اولیاء اللہ ہیں
24:41انہوں نے اپنے
24:42قلب کو سمارا ہے
24:44ٹھیک
24:44دو چیزیں ہیں
24:46ایک کالب ہے
24:47ایک کلب ہے
24:48دنیا دار کالب سمارنے میں
24:50وقت لگاتا ہے
24:52اولیاء اللہ نے
24:53قلب کو سمارا
24:54اور جب یہ
24:56لا الہ الا اللہ کی
24:57صدا کا
24:58اعلان کرتے ہیں
24:59اقرار کرتے ہیں
25:00تو نفی اس بات
25:01کے اس ذکر میں
25:02سب سے بڑی بات کیا ہے
25:04یہ توحید ہے
25:04اللہ کا ولی
25:06توحید سے ایسا جڑتا ہے
25:07کہ ماں سواللہ سے
25:09فارغ ہو جاتے ہیں
25:10صرف اللہ کے ذکر
25:11اللہ کی محبت
25:12اللہ کی اطاعت
25:13اللہ کے حکم میں
25:14اپنے زندگی گزارتا ہے
25:16اور اللہ کا ولی
25:17دیکھیں
25:17حدیث مبارکہ رحمت
25:18قونین صلی اللہ علیہ وسلم
25:19نے فرمایا
25:20وہ ہے اللہ کا ولی
25:21جیسے دیکھ کر
25:21خدا یاد آجائے
25:22اب خدا کسے دیکھ کر
25:24یاد آئے گا
25:24جو اتباع رسول میں
25:26ہوگا
25:26جو عبادت میں ہوگا
25:28یا جو جوے کے
25:30اڈے پہ بیٹھا ہوگا
25:31جو شراب نوشی کر رہا ہوگا
25:32یقیناً
25:33اسے دیکھ کر
25:34خدا یاد آئے گا
25:35جو عبادت میں
25:36مصروف ہوگا
25:37صحیح بار
25:38جو اللہ کے ذکر میں
25:39مصروف ہوگا
25:40جو رحمت
25:41قونین صلی اللہ علیہ وسلم
25:42کی اتباع
25:43اطاعت میں
25:43مصروف ہوگا
25:44تو اس شخص کے پاس
25:46جب ہم بیٹھیں گے
25:47تو پھر ہوگا کیا
25:48کہ اس کے پاس
25:49بیٹھنا
25:49یک زمانہ
25:50صحبت
25:51با اولیاء
25:52بہتراز
25:53صدسال
25:53تاعت بیریا
25:54اس کے پاس
25:56بیٹھنے سے
25:56ہمیں کیا ملے گا
25:57وہ سنت کا نور ملے گا
25:59وہ رحمت
25:59قونین صلی اللہ علیہ وسلم
26:00کی محبت ملے گی
26:01اور اللہ کے ولی
26:03جو ہیں حضور علیہ السلام
26:04کی
26:05اطاعت کے مطابق
26:06لوگوں کی خدمت
26:08میں ہمہ وقت
26:08مصروف رہتے ہیں
26:09اور اس بات
26:10کو وہ
26:11عبادت سمجھ کے کرتے ہیں
26:12اور جو
26:13اللہ کا ولی ہے
26:14وہ اپنی زندگی کو
26:17عبادت کے سانچے میں
26:18ڈالتا ہے
26:20اور خود
26:21اس کا کامل
26:22نمونہ بن جاتا ہے
26:23بہترین
26:24اس کا ظاہر و باطن
26:25اللہ کی عبادت
26:27رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
26:28کے عشق و محبت میں
26:29ایسا
26:30سرشار ہو جاتا ہے
26:31کہ اس کا ہر لمحہ
26:33اس کو
26:33ظاہر کی عبادت میں
26:34ملتا ہے
26:34اس کو
26:35ظاہر کی سنت میں
26:36ملتا ہے
26:37وہ
26:37اصحاب رسول کا
26:39مکمل
26:39کامل
26:40مطی ہوتا ہے
26:42مولا کائنات
26:43شیر خدا
26:43علی المرتضاء
26:45کرم اللہ
26:45وجل کریم
26:46سے جو نور
26:47اس نے لیا ہوتا ہے
26:48وہ کس کیا ہوتا ہے
26:49وہ زہد کا نور ہوتا ہے
26:51سبحان اللہ سبحان
26:51مولا کائنات
26:52بیٹھے ہوں
26:53تو وہ سوکھے ٹکڑے
26:54تناول فرماتے ہوئے
26:56پشانی مبارک پر
26:57پسینہ آ جائے
26:58تو جب پوچھا جائے
26:59کہ وہاں تو
27:00اتنی بڑی دعوت ہے
27:01آنوا اقسام کی
27:02تو جواب یہی ملتا ہے
27:04کہ وہ
27:04علی کے درسے ہی
27:05خیرات پا رہے ہیں
27:06لیکن اپنی
27:07کیفیت یہ ہے
27:08آپ نے فرمایا
27:09کہ جو خیبر میں تھی
27:10وہ میری جسمانی طاقت تھی
27:12اور یہ میری
27:13نہ جو خیبر میں تھی
27:14وہ میری
27:14روحانی طاقت تھی
27:15اور یہ میری
27:16جسمانی طاقت ہے
27:18یعنی دیکھنے میں
27:19تو جسم لاغر ہے
27:20لیکن اس کی عبادت میں
27:22حال یہ ہے
27:22کہ رنگ زردو
27:23احسردو
27:24چشم تر
27:25عاما وقت
27:26اس کی محبت میں
27:27وہ سرشار رہتے ہیں
27:29اور اللہ کے ولی کا
27:30جو ماتو ہے
27:31جو مشن ہے
27:32وہ فقط یہی ہے
27:33کہ رحمتِ کونین
27:35صلی اللہ علیہ وسلم
27:35کی سنت کے مطابق
27:36اپنی زندگی کو گزار
27:37بہت خوبصورت
27:38وہ کسی سے سلام کرے
27:39کسی سے کلام کرے
27:41کسی سے محبت کرے
27:42اداوت بھی
27:43رکھتا ہے
27:44کسی سے
27:45مخالفت بھی
27:46رکھتا ہے
27:46تو وہ دین
27:47کیلئے رکھتا ہے
27:48اور اس کے علاوہ
27:49اس کا کوئی
27:50اپنا مشن
27:50نہیں ہوتا
27:52ولی وہ ہے
27:52جو اللہ رسول کی
27:53اطاعت کو لے کے چلتا ہے
27:55بہت شکریہ
27:55پیٹ صاحب کی بلا
27:56ڈاکٹر علام
27:57یودین صاحب
27:58جب ہم سیرت کا
27:59ذکر کرتے ہیں
28:00اور
28:01اس میں ایک
28:02سب سے
28:03ڈومیننٹ
28:03جو پہلو ہے
28:04وہ اخلاق ہے
28:05بہت اچھ
28:12اخلاق سے بندہ
28:13پہچانا جاتا ہے
28:14جانا جاتا ہے
28:15لوگوں کے دلوں میں
28:16گھر ہی
28:17اس صفت کے ساتھ
28:18ہوتا ہے
28:18اولیاء اللہ
28:19اس صفت کا
28:20کیسے مذر ہوتے ہیں
28:21اس کے حوالے سے
28:22میں ذرا آغاز کیجئے
28:23بہت امدہ سوال ہے
28:24اصل میں
28:26انبیاء اکرام کی
28:27بیست کا مقصد
28:28بھی تو یہی ہے
28:29بلکل ٹھیک
28:30آپ علیہ السلام
28:31کا فرمان ہے
28:35بلکل ٹھیک
28:36میری بیست کا
28:37تو مقصد ہی
28:38مقارم اخلاق کی
28:42سراپہ اخلاق ہیں
28:43اور ان کا مقصد
28:44بھی یہی ہوتا ہے
28:45کہ ہم
28:46لوگوں سے
28:47اخلاق رزیلہ
28:48و قصیفہ نکال کے
28:49ان کی جگہ پہ
28:50اخلاق حسنا
28:52یہ
28:53اس پہ انہیں
28:54کھڑا کر دیں
28:55جتنے اولیاء ہیں
28:56یہ ان کا
28:57مشن ہوتا ہے
28:57اس میں کوئی ایسا نہیں ہے
28:59کہ وہ کوئی
28:59نیا کام کر رہے ہیں
29:00یہ ان کی ذمہ داری ہے
29:01بلکل ٹھیک
29:02اور یہ انبیاء اکرام
29:03کی طرف سے انہیں
29:04حکم ہے
29:05نبیوی منحج ہے یہ
29:06اور قرآنی منحج ہے
29:08اللہ تعالی بھی
29:09یہی فرماتا ہے
29:10حضور بھی
29:11یہی فرماتے ہیں
29:12کہ
29:13الخلق و ایال اللہ
29:14اس میں بھی
29:15مخلوق خدا
29:16یہ
29:17اللہ تعالی کا کمبہ ہے
29:18اور جو
29:19اللہ کی مخلوق کے ساتھ
29:20جس قدر زیادہ
29:21اچھا سلوک کرتا ہے
29:22اللہ تعالی کے ہم
29:22اتنے ہی محبوب ہوتا ہے
29:24نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
29:26حضور کی ذات ورکات
29:27صحابہ اکرام
29:28اہلِ بیتِ اتھار
29:28اولیاء اکبار
29:29ان سب کی
29:30پوری زندگی ہم دیکھ لیں
29:32تو اخلاق حسنہ کے ساتھ
29:33ہی تعبیر ہے
29:34حضور فرماتے ہیں
29:35مَا مِن شَئِنْ أَسْقَلُ فِي مِيزَانِ الْمُومِنِ
29:37يَوْمَ الْقِيَامَةِ
29:38مِنْ خُلُقِنْ حَسَنِنُوْ قَمَا قَال
29:40قیامت والے دن
29:41بندہ مومن کے نامہ عمال میں
29:42جو سب سے وزنی عمل ہوگا
29:44وہ اس کے اچھے اخلاق ہیں
29:45تو اولیاء اللہ نے
29:47اس کو
29:48اس خوبصورت اور
29:49آسن انداز میں بیان کیا
29:51کہ ڈاکٹر فلیپ ہیٹی جیسا بندہ
29:53یہ لکھنے پر مجبور ہو گیا
29:54وہ اس نے کہا
29:56کہ جس طرز کے
29:58مسلمانوں کے
29:58صالحین اولیاء
30:00نے اخلاق پیش کیے
30:01اس طرح کی مثالیں
30:03دنیا میں ممکن ہی نہیں
30:04اللہ اکبر
30:05اتنے امدہ اخلاق
30:07ان لوگوں نے
30:07ان ہستیوں نے پیش کیے
30:09مثال کے طور پر
30:10حضور بابا فرید الدین
30:13حضور زہد الانبیاء
30:14آپ کو ایک شخص نے
30:15زہر دے دیا
30:16ایک شخص تھا
30:18جادوگر شہاب
30:19اس کا بیٹا تھا
30:20وہ شہاب
30:20وہ بدبخت بھی
30:22دنیا سے چلا گیا
30:23اس کے بیٹے نے
30:24وہ فن جان لیا تھا
30:26اس نے آپ کو
30:28جادو کیا
30:30آپ اتنے بیمار ہو گئے
30:31کہ جو بھی دوا لیتے ہیں
30:32علاج کرتے ہیں
30:33کچھ اثر نہیں ہوتا
30:34حتیٰ کہ کوئی چیز
30:35کھانا پینا
30:36وہ بھی
30:37دشوار ہو گیا
30:38آپ نے اپنے
30:39جتنے خلافات تھے
30:40ان سے کہا
30:41کہ کوئی دعا کریں
30:42سارے مل کے
30:43سب نے دعا کی
30:44تو حضرت خاجہ
30:45بدر الدین
30:46اسحاق رائم اللہ
30:47ان کو
30:48بوقت تحجت
30:49ان کے کان میں
30:49یہ بات آئی
30:50کہ یہ
30:53شہاب کے بیٹے نے
30:55جادو کیا ہے
30:56اس کی قبر پہ جا کے
30:58مخصوص کالیمات
30:59تھے
30:59یا یہ پڑے جائیں
31:01حضور بابا صاحب نے
31:02سنا تو آپ
31:02بڑے خوش ہوئے
31:03اور آپ نے فرمایا
31:04بھی تم ہی جاؤ
31:04اور جا کے وہاں
31:06جا کے یہ ورد وظیفہ
31:07پڑو
31:07وہ اس کی قبر پہ
31:09گئے جب پڑا
31:10تو
31:10مٹی سائیڈ پہ کی
31:11تو وہاں سے
31:12ایک پتلا نکلا
31:13جس میں سونیاں
31:13وغیرہ تھی
31:14تو وہ سب
31:15نکالے گئیں
31:16آپ کی طبیعت
31:17بالکل حشاش بحشاش
31:19ہوگی
31:19اب جب حاکمے
31:20وقت کو پتا چلا
31:21کہ اس نوجوان
31:22نے یہ کام کی ہے
31:23اس کی یہ بدبختی ہے
31:25کہ اس نے
31:25حضور بابا صاحب
31:26ان کے اوپر
31:27جادو کی ہے
31:27تو اس نے فوری طور
31:29فکر گرفتار کیا
31:30اور سزائے موت
31:31کا حکم دیا
31:32بھی اس کی گردن
31:33اتار دی جائے
31:34اور وہ
31:34اعلان بھی ہو گیا
31:35کہ اس دن
31:36گردن اتاری جائے گی
31:37اور این اس مقام پہ
31:38حضور بابا صاحب
31:39خود تشریف لے گئے
31:40آپ نے فرمایا
31:42میں اسے
31:42اللہ تعالیٰ کی
31:43رضا کے لئے
31:43ماف کرتا
31:44اللہ اکبر کبیرہ
31:45آپ نے ماف کیا
31:46وہ قدموں میں گرا
31:48کلمہ طیبہ پڑھا
31:50مسلمان ہوا
31:51اور پھر آپ نے
31:52اسے اپنے مریدوں میں
31:53بھی شامل کر لیا
31:54اور پھر اس کو
31:55مکان بھی بنوا کے دیا
31:58اچھا یہ صرف ایک نہیں
31:59اس طرح جتنے
32:00اولیاء اکرام ہیں
32:01ہمارے حضور بابا جی
32:02کرما والے سرکار
32:03حضور سیدنا
32:04محمد علی شاہ صاحب
32:05البخاری
32:05نور اللہ
32:06مرقضہ
32:06آپ کو کسی نے
32:08زیر دیا
32:08اور جیسے ہی
32:09اس نے زیر آپ کو دیا
32:10آپ کو اسی وقت
32:11پتا چل گیا
32:12آپ نے اس کو پکڑ لیا
32:13آپ نے فرمایا
32:13تو نے مجھے زیر دے دیا
32:16وہ نہ
32:18بھاگنے کی کوشش کرے
32:19آپ نے اس کو چھوڑا نہیں
32:20باقی مریدین آگئے
32:21انہوں نے کہا
32:21ہم تو اس کو قتل کریں گے
32:23آپ نے فرمایا
32:24نہیں اس کو مارنا نہیں
32:24اس کو پکڑ کے نہ
32:25آپ بھاگنے لگے
32:26دوڑنے لگے
32:27بھی نکل نکل
32:28تو جو مین روڈ ہے
32:29یہی جیٹی روڈ
32:30اس پہ لاکھ ہے
32:31کہ بابا جی نے
32:33اس کو بس پہ چڑھا دیا
32:34ابھی نکل جا
32:36ورنہ یہ لوگ
32:37تجھے مار دیں گے
32:38اور جو مارنے والے
32:38تو ان کو کہا
32:39اگر کسی نے اس کو
32:40ہاتھ لگایا
32:41تو ساری زندگی
32:42کرما والا شریف نہ آئے
32:44اچھا وہ
32:45نکل گیا
32:46کئی سالوں کے بعد آیا
32:47اچھا کئی سال
32:48آپ کے آساب جو تھے
32:49وہ کھچے رہے
32:50وہ زیر کی وجہ سے
32:51تکلیف میں رہے
32:52کئی سال کے بعد
32:53وہ آیا
32:53آکے اس نے
32:54معافی مانگی
32:55اور کہا
32:56حضور میں بہت شرمندہ ہوں
32:57میں نے کسی دشمن کے
32:58کہنے پہ
32:59یہ کام کیا تھا
32:59مجھے معاف کر دیں
33:00آپ نے کہا
33:01میں تجھے معاف بھی کیا
33:02اور ساتھ
33:03اپنے صاحب زادے
33:04حضرت قبلہ پیر
33:05غزم فر علی شاہ صاحب
33:06ان کو فرمانے لگے
33:07پیرہ
33:07ہونے معافی منگن آگیا ہے
33:09ہونے انہوں پھر
33:10حاج نہ کرا دیئے
33:12تو گھر سے پیسے
33:13لا کے دیئے
33:14اور اس کو
33:14حاج بھی کروایا
33:15جس نے زیر دیا تھا
33:17شکریہ گی
33:17یہ اخلاق ہے
33:18ان بزرگوں
33:18اللہ اکبر قبلہ
33:19ڈاکٹر کریم خان صاحب کی بلا
33:22اولی اللہ کی
33:23ہم جب ہم
33:23بائیو گرافیز پڑھتے ہیں
33:24تو کسرت سے
33:26ان کے اسفار کا
33:27سفر کرنے کا
33:28ٹریبلنگ کا
33:29بڑا تذکرہ ملتا ہے
33:30دنیا کے بے شمار
33:32شہروں کا
33:33بہت سارے خطوں کا
33:34وہ
33:35مطالعہ کرتے ہیں
33:36وہاں جاتے ہیں
33:37فیزیکلی
33:37اور اللہ کی
33:38قدرت کے مشاہدے بھی دیکھتے ہیں
33:40تو اس کی کوئی خاص ریزن ہے
33:42یہ جو
33:43بہت زیادہ
33:43ٹریبل کرتے ہیں
33:44اللہ کے ولی
33:45اللہ کے نیک بندے
33:46اور
33:46یہ سارا سلسلہ
33:48کچھ سمجھائیے ہمیں
33:49اس بارے میں
33:49یہ تو رب تعالیٰ کا حکم ہے
33:51قل سیرو فی الارض
33:53صحیح
33:53انظرو قیفہ کانا
33:55آقیبت المقذبی
33:56صحیح
33:57اس میں دونوں جہتے ہوتی ہیں
33:59حضور داتا گنج بخ
34:00سجویری رحمت اللہ علیہ
34:01کے بھی
34:02تقریباً پچیس
34:03ممالک کے
34:04اسفار ہیں
34:04صحیح
34:05حضور
34:06بابا فرید الدین
34:07گنج شکر
34:07رحمت اللہ علیہ
34:08تو ایسے لگتا ہے
34:09پوری دنیا کے سفر کی ہیں
34:10آپ نے
34:11کیونکہ آپ کے بھی
34:12ہر جگہ پر
34:13نشانیاں موجود ہیں
34:14بیت المقدس میں موجود ہیں
34:15دوسری
34:16یمن میں جاتے ہیں
34:17وہاں پر موجود ہیں
34:18تو
34:19ظاہر ہے
34:20اس سے بہت ساری چیزیں
34:21حاصل ہوتی ہیں
34:21ایک تو
34:23سب سے پہلے
34:24ظاہر ہے
34:24آپ نے اسلام کی خدمت کرنی ہے
34:26پہلے
34:27ان لوگوں کے حالات
34:28واقعات
34:29ان کی معاشرت کو
34:31جاننا ضروری ہوتا ہے
34:32دوسرا یہ ہوتا ہے
34:34کہ
34:34ان کے خیالات
34:35اور ان چیزوں کو
34:36جہاں ہم پڑھتے ہیں
34:37تو بہت ساری وہ چیزیں
34:39جو ہماری زندگی میں
34:40روز مرہ
34:41پیش آ رہی ہوتی ہیں
34:42وہ ان کے مقابلے میں
34:43بہت چھوٹی ہوتی ہیں
34:44اسی طرح وہ جو
34:46بڑے لوگ گزرے ہیں
34:47بندہ ان کی زندگی سے
34:48گزرتا ہے
34:49ان کی
34:50جو افکار ہیں
34:51ان سے گزرتا ہے
34:52ان کے خیالات کو پڑھتا ہے
34:54تو وہ جو
34:55پھول ہوتے ہیں
34:56پوری
34:56خوشبوئیں ہوتی ہیں
34:57پوری دنیا کی
34:58وہ کٹھی کی جاتی ہیں
34:59اور کانٹوں کی پہچان کی جاتی ہے
35:01تو اس سے ظاہر ہے
35:03دل بھی وسیع ہوتا ہے
35:05ذہن بھی وسیع ہوتا ہے
35:06خیالات وسیع ہوتے ہیں
35:07نظریات وسیع ہوتے ہیں
35:08تو ظاہر ہے
35:09یہ ایک بنیادی چیز ہے
35:11جو بندہ
35:12باقی دنیا کے اصفار
35:13جس نے نہیں کیے ہوں گے
35:14اس کو چیزیں
35:16اس لیبل پر سمجھ نہیں آتی
35:18اور اسلام
35:19قرآن حدیث جو ہے
35:20آپ یہ دیکھیں
35:21قرآن مجید فرقان حمید جو ہے
35:23یہ رب تعالیٰ کا کلام ہے
35:24رب تعالیٰ
35:25سب سے بڑی ذات ہے
35:27اسی لیے
35:28بارمی صدی حجری تک
35:30لوگ اس پر متفق تھے
35:32کہ بھائی میرے
35:34قرآن مجید فرقان حمید کا
35:36کسی زمان میں ترجمہ نہ کیا جائے
35:37نہ حدیث کا ترجمہ کیا جائے
35:40ابھی آپ
35:41ہمارے ڈاٹس سب موجود ہیں
35:43ان سے پوچھیں
35:44آپ بھی ظاہر ہے
35:45اردو شائری کے اور پنجابی شائری کی ہیں
35:49بہت سارا کلام جو غالب کا ہے
35:51اور علامہ اقبال کا ہے
35:53وہ مجید اور مفتی صاحب کو سمجھ نہیں آئے گا
35:55ان لوگوں کو سمجھ نہیں آئے گا
35:57تو ظاہر ہے
35:57اس میں تلمیحات ہوتی ہیں
35:59تمثیلات ہوتی ہیں
36:00تشبیحات ہوتی ہیں
36:02اب جو اسلام کا مبلغ ہے
36:04اس کے لیے عالمی ذہن کا
36:06لیول ہونا ضروری ہوتا ہے
36:08وہ مقامی صدا کی باتیں نہ کرے
36:10اسی لیے اولیاء جو ہیں
36:12یہ سارے جو ہیں
36:13سیریں کرتے رہے
36:15تاکہ ان کو پتا چلے
36:16ہم خلیفہ تلہ ہیں
36:18اللہ تعالیٰ کے خلیفہ ہیں
36:19تو ہم نے بعد
36:20اس کی نیابت کے طور پر
36:22پوری مخلوق کی کرنی ہے
36:23ایکسپوزر بہت بڑا ہے
36:24ہاں ایکسپوزر بہت زیادہ
36:26ظاہر اب رب تعالیٰ کے کلام کو
36:28سمجھنے کے لیے بھی
36:29بہت علا
36:30انبیاء
36:31رسول
36:32اولیاء کا ذہن ہونا ضروری ہوتا ہے
36:34اسی طرح نبی کریم
36:36روفی صلی اللہ علیہ وسلم
36:37کی حدیث کو سمجھنے کے لیے بھی
36:38اسی لیول کا
36:40بادشاہوں کا
36:40اس لیول کا ذہن
36:42جو بادشاہوں کا
36:43بادشاہ ہے
36:43تو کامزگم
36:44اس کی باتوں کو
36:45اس کے حکامات کو
36:46سمجھنے کے لیے
36:47کامزگم بندے کو
36:49اپنے میدان کا بادشاہ
36:50ہونا تو ضروری ہے
36:50میں شرف ایک دو بات
36:52سیرت سے
36:53اخلاق کے حسنا کے حوالے سے
36:54بیان کرتا ہوں
36:56حضور نبی کریم
36:57روفی الرحیم صلی اللہ علیہ وسلم
36:58کے پاس
36:58امام بخاری رحمت اللہ علیہ کے روایت ہے
37:00ایک بڑیہ عورت آتی ہے
37:02باتیں کرتی رہتی ہے
37:03کرتی رہتی ہے
37:04وہ گوندہ ہات کی
37:05کبھی بکریوں کی باتیں
37:06کر لیتی ہے
37:07کبھی خجوروں کی باتیں
37:08شروع کر دیتی ہے
37:09کبھی کوئی
37:09کبھی کوئی
37:10آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم
37:11سنتے رہے
37:12گھنٹہ دو گھنٹے
37:13بعض دفعہ چار چار پانچ پانچ گھنٹے
37:15اور آب علیہ السلام کا یہ فرمان ہے
37:17کہ علم کی خیرات یہ ہے
37:19کہ جاہل کی بات سنیں جائے
37:21اور برداشت کی جائے
37:23ہم تو ہماری طبیعت موافق
37:25کوئی بات نہ کریں
37:26تو ہم کہتے ہیں
37:27نئی نہیں ہے
37:27تیری بات ہی نہیں سنتا
37:28نہیں
37:30علم کی خیرات یہ ہے
37:32علم کا صدقہ یہ ہے
37:33کہ جاہل کی بات
37:35سکون سے سنیں جائیں
37:36اس کو برداشت کیا جائیں
37:38یہ علم کی توازو ہے
37:39یہ عالم کی توازو ہے
37:41اور اولیاء اللہ کا
37:42چونکہ
37:43منصب ان سے بھی بڑا ہے
37:45ظاہری باطنی ان سب کے اوپر
37:48تو جب وہ اس لیول پر کلام کرتے ہیں
37:50تو پھر ان کو ذہن سازی
37:53ان کی تربیت اسی لیول پر ہونی چاہیے
37:55حضور دادا گانج بخش جویری رحمت اللہ علیہ
37:57جب لاہور میں آئے ہیں
37:58تو پہلے چھ مینے خموش رہے
38:01پورے ہر محلے میں جاتے تھے
38:03دیکھتے تھے ان کے رسم و رواج کیا
38:05ہر چیز پر پہلے ہی نجازہ
38:07انہیں کا حکم نہیں لگانا
38:08اس کو اسلامائز کرنا ہے
38:11اس میں جو جو چیزیں بچت کی ہو سکتی ہیں
38:13ان کو بچانا ہے ان کی تصحیح کرنی ہے
38:16بہت شکریہ
38:17بڑی خوبصورت یہ سیکمنٹ رہا ہے
38:19بڑا انٹرسٹنگ بھی ہے
38:21معلومات افضاء بھی ہے
38:23اور بہت ساری نئی چیزیں
38:24طالب علم مزاج کے جتنے لوگ ہیں
38:26ان تک پہنچتی ہیں
38:28اور یہ نور کا سفر ہے
38:29ایک مختصر سا وقفہ واپس آتے ہیں انشاءاللہ
38:31تو ڈاکٹر سرورس اور نقشبندی کے کلام سے
38:34حلاوتیں لیتے ہوئے
38:35سلسلہ کلام کو آگے بڑھائیں گے
38:37ویلکم بیک ناظرین آپ کا ایک دفعہ پھر خیر مقدم ہے
38:39پروگرام میں شان اولیاء
38:41اور اس عنوان کہتا ہے
38:43آج سیرت جو ہے اولیاء کی
38:45وہ ہم پیش کرنے کی سعادت پا رہے ہیں
38:47اور یہاں وقت ہے
38:48جناب ڈاکٹر سرورس نقشبندی صاحب کے
38:50کلام پیش کرنے کا
38:51نات رسول مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے
38:55اپنے قلب و روح کے لیے
38:56روشنی ایمان
38:58چین اور سکون کی دولتیں حاصل کرتے ہیں
39:05خود نمائی کے سبی شوق
39:20تھکانے لگ جائیں
39:44اشک میرے بھی اگر
39:50نات سنانے لگ جائیں
40:00اشک میرے بھی اگر
40:07نات سنانے لگ جائیں
40:22خود نمائی کے سبی شوق
40:37تھکانے لگ جائیں
40:42جائیں
40:44جائیں
40:49اشک میرے
40:52بھی اگر
40:55نات سنانے
41:01لگ جائیں
41:05اور تذکرہ
41:08حسن مکمل
41:12کا بیان
41:15کیسے ہو
41:22تذکرہ
41:23اشک میرے بھی اگر
41:26حسن مکمل
41:27کا بیان
41:30کیسے ہو
41:35ایک ہی بس
41:38جو لکھیں
41:41تو زمانے
41:46لگ جائیں
41:49لگ جائیں
41:50ایک ہی وصف
41:54جو لکھیں
41:57تو زمانے
42:00لگ جائیں
42:08او بہو ایسا ہے
42:14مدہت کا
42:16عطا ہو جانا
42:24او بہو ایسا ہے
42:31مدہت کا
42:35عطا ہو
42:39جانا
42:43ہاتھ جیسے
42:45کسی مفلس
42:48کے
42:49خزانے
42:53لگ جائیں
42:57ہاتھ جیسے
43:00کسی
43:02مفلس
43:03کے
43:06خزانے
43:09لگ
43:10جائیں
43:12اور آپ
43:14کی
43:16سیرت
43:17غر کو
43:20جو اپنا
43:21آتا
43:23ہے
43:26آ
43:43سنگ
43:45خود
43:45اس کے
43:47لئے
43:48راہ
43:50بنانے
43:53لگ
43:55جائیں
43:56سنگ
43:58اور
44:01نات
44:02کا
44:04فیض
44:05ہے
44:05سرور
44:07کے
44:08زمانے
44:10والے
44:16نات
44:16کا
44:17فیض
44:19ہے
44:20سرور
44:22کے
44:24زمانے
44:27والے
44:30میرے
44:32جیسے
44:34کو بھی مسند
44:36پہ
44:38بٹھانے
44:42لگ جائیں
44:45جائیں
44:47میرے
44:48جیسے
44:50کو بھی
44:52مسند
44:54پہ
44:56بٹھانے
44:59لگ جائیں
45:02خود
45:04نمالی
45:05کے
45:07سبھی
45:08شوق
45:10ٹھکانے
45:14لگ
45:16جائیں
45:18اشک
45:19میرے
45:21بھی
45:22اگر نات
45:27سنانے
45:30لگ جائیں
45:33سبحان اللہ
45:38سبحان اللہ
45:40کی اعلاد کی کیا فراوانی ہے
45:42حسن کیا تذکرہ ہے
45:44نات رسول کریم صلی اللہ
45:45کے پیکر میں
45:46اللہ کریم آپ کے کلم میں
45:48اور رانائی اور دلکشیت
45:50مکرم ناظرین
45:52سیرت اولیاء
45:53ہمارے آج کے پروگرام
45:54کا ٹائٹل ہے
45:55ٹوپک ہے
45:56اور اسی کے زیل میں
45:57ہم ساری گفتگو پیش کرنے کی
45:59سہادت پا رہے ہیں
46:00آئیے گفتگو کا سلسلہ آگے بڑھاتے ہیں
46:02قبلہ سیالوی صاحب سے
46:03سیالوی صاحب قبلہ جو
46:05پہلا سوال میں نے ارز کیا تھا
46:07ایک حصہ تو
46:08ہمیں حدود اکیوت کے اندر
46:09اس کا جواب انعیت ہو گیا
46:10کہ اہلاللہ کے مناقب
46:12اور جو فضائل ہیں
46:12وہ اللہ نے خود خلاق کائنات
46:14نے کیسے بیان فرمائے
46:15اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
46:17نے ان کے جو مناقب
46:19اور جو ان کے مراتب
46:20خود بیان فرمائے
46:21آبِ وحی سے دھلی ہوئی زبانِ مصطفی
46:24علیہ تہیت بسنہ سے
46:25کچھ ان کا تذکرہ بھی ہو جائے
46:27سبحان اللہ میں نے جیسے ارز کیا تھا
46:29کہ احادیث مبارکہ میں
46:31بہت سارے واقعات
46:33نبی کریم علیہ السلام نے
46:35جن میں پہلی امتوں کے
46:37اولیاء کی کرامات کا ذکر ہے
46:39صحیح
46:40اس کا ایک بہت
46:42وقی اس کا ذخیرہ
46:44احادیث میں موجود ہے
46:45لیکن کیونکہ فضائل کی اوپر ہے
46:47اور قلت وقت ہے
46:48تو میں صرف دو احادیث
46:49بخاری شریف سے ہی ارشاد
46:50وہ میں ارز ہوں
46:51پہلی بات تو
46:52جو بخاری شریف کی صحیح
46:54اور مسلم شریف میں بھی ہے
46:55یہ حدیث پاک صحیح حدیث ہے
46:56کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
46:58ارشاد فرماتے ہیں
46:59کہ اللہ رب العزت
47:00جب کسی بندے سے محبت کرتا ہے
47:03تو جبریل امین کو بلا کر فرماتا ہے
47:05کہ میں فلاں سے محبت کرتا ہوں
47:06کیا کہنا ہے
47:07سبحان اللہ
47:08تم بھی اس سے محبت کرو
47:10سبحان اللہ
47:11حضرت جبریل امین جب اس سے محبت کرتے ہیں
47:13تو پھر انہیں حکم ہوتا ہے
47:14کہ فرشتوں میں چلے جاؤ
47:16اور جا کر تمام فرشتوں کو بتا دو
47:18کہ اللہ کریم زمین پر
47:20موجود فلاں بندے سے محبت کرتا ہے
47:22فَاحِبُّوهُ
47:23تم سارے اس سے محبت کرو
47:24صحیح
47:25ہویا کہ وہ محبوب الملائکہ بنتا ہے
47:28محبوبِ الٰہی محبوبِ خدا بننے کے بعد
47:31وہ محبوبِ ملائکہ بنتا ہے
47:34اور اسی حدیث میں ہے
47:35کہ پھر جبریل امین کو حکم ہوتا ہے
47:38کہ تم ان کی محبت کو زمین میں اُڑیل دو
47:43اللہ اکبر
47:48بخاری شریف کے الفاظ ہیں
47:49اب پتہ کیسے چلتا ہے
47:51کہ یہ اللہ کا محبوب ہے
47:53کہ جو صالح طبیعتیں ہیں
47:55جو زمین کے لوگ ہیں
47:56ان کے دل ان کی طرف کھچنے لگتے ہیں
47:59یہ نشانی بن جاتی ہے
48:02دیکھیں صفدر صاحب
48:03حضور فیض عالم داتاگ البخشل الرحمہ
48:06کو دنیا سے تشریف لے جائے ہوئے
48:07تقریبا ہزار سال گزر گئے
48:09نو سو تراسیمہ عرص مبارک
48:12آپ کا قریب ہے
48:13حضور داتاگنبخ شریف اجویری کے بعد
48:16حضور خاجہ اجمیری حضور سید ناغو سے پاک
48:19اور حضرت زہد الانبیاء
48:21بابا فرید الدین وسود گنجہ شکر
48:23آٹھٹ صدیوں ہوگئے
48:24اب ہمارا ان کے ساتھ کوئی لسانی
48:27کوئی خاندانی
48:29کوئی نسبی کوئی مالی
48:30کوئی زمینی کوئی تعلق نہیں ہے
48:32رب تو بنتا بھی نہیں ہے
48:33سوائے ایمان اور اسلام کے
48:37اور پھر ایمان اور اسلام بھی
48:39اللہ نے ہمیں وہ عطا کیا ہے
48:41بڑی نفیس بات مجھے یاد پڑتا ہے
48:43کچھ سال پہلے میں نے
48:44محرم الحرام میں جو جمعہ المبارک کے موقع پہ
48:48یہاں حضور بابا فرید کی بارگاہ میں
48:51جو کونفرنس ہوئی تھی
48:52اس میں میں نے بڑی تفصیل سے
48:53سلانہ کونفرنس ہوئی تھی
48:54سلانہ کونفرنس میں میں نے ارز کیا تھا
48:56کہ اب جس کے دل میں
48:59اولیاء اللہ کی محبت ہے
49:02جس کے دل میں
49:03جس مومن کے دل میں
49:04اولیاء اللہ کی محبت ہے
49:06اسے یقین رکھنا چاہیے
49:08کہ اسے اس محبوب الملائکہ
49:12اور فرشتوں کی جانب سے
49:14اللہ کی جانب سے
49:15جو محبت انڈیلی گئی ہے
49:16اسے اس سے حصہ ہے
49:18اور حض ملا ہوا ہے
49:20کیسی قیمتی بات ہے
49:21یہ ان خوش نصیبوں میں ہے
49:23ان خوش نصیبوں میں ہے
49:25ان کی ہے
49:26ان کا ربط وہاں ہے
49:27ان کا ربط وہاں ہے
49:28کہ وہ محبت جو انڈیلی گئی
49:30اسے اس سے حض اور حصہ ملا ہوا ہے
49:33تو کوئی محروم ہے
49:34تو قصور ہمارا نہیں ہے
49:35بہت اچھا ہے
49:38بلکہ وہ حدیث خدسی ہے
49:40بخاری شریف کے حدیث نمبر
49:4265002
49:43602 حدیث نمبر ہے
49:45بخاری شریف میں
49:46اس میں یہ ہے
49:47تفصیلی حدیث ہے
49:48جس میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم
49:50اشارت فرماتے ہیں
49:51کہ میرا بندہ
49:52ایک تو تربیت کی بات ہے
49:54کہ میرے نزدیک
49:55جن چیزوں کی وجہ سے ہو سکتا ہے
49:57وہ فرائض و واجبات ہیں
49:58میرا بندہ میرے قریب آئے گا
50:01ان چیزوں کو اپنانے سے
50:02جو میں نے بندوں پر فرض کی ہیں
50:04لیکن اس کے بعد
50:05لا يزال عبدی تقرب علیہ بن نوافل
50:08بندہ عبادت کر کے
50:09ذکر کر کے
50:09مخلوق خدا کی خدمت
50:11نوافل میں سارے آگئے نا
50:12ان کو بجال آنے کے ساتھ ساتھ
50:15میرے قریب ہوتا چلا جاتا ہے
50:17اس کے اور میرے درمیان
50:19بڑھتا چلا جاتا ہے
50:21ایک سٹیج اور ایک مقام یہ آتا ہے
50:24کہ
50:24اللہ کریم فرماتا ہے
50:26نبی پاک علیہ السلام کی زبان اکدس سے
50:27کہ اتنا وہ میرے قریب آجاتا ہے
50:31کہ
50:31میں اس کے کان بن جاتا ہوں
50:36اس سے وہ سنتا ہے
50:37کیا مطلب
50:38وہ عقیدہ حلول نہیں اس میں
50:40مطلب کیا ہے
50:41کہ کان بندے کا ہے
50:42جسم بندے کا ہے
50:44لیکن اب وہ میری قدرت کا مظہر ہے
50:46اب سننا اس کا نہیں
50:47اب میری خاص قدرت سے میرا سننا ہے
50:50بولنا اس کا نہیں
50:51اب میری خاص کرم میری خاص انعیت سے
50:54چامل ہوگی اس کا ہے
50:55چلنا اس کا نہیں
50:56پکڑنا اس کا نہیں
50:57میری خاص رحمت
50:58میری خاص رحمت اور میری قدرت
51:01کے جلوے اس بندے کے
51:03شامل حال ہو جاتے ہیں
51:04یہی وجہ ہے کہ
51:07پھر وہ سرابہ کرامت بنتا ہے
51:08جب وہ بولتا ہے جو اس کی زبان سے
51:11بہت شکریہ اللہ
51:11اس کا سمر یہ نکلتا ہے کہ وہ کسی کے حق میں
51:15جب دعا کر دیتا ہے کسی کے لئے
51:16ہاتھ اٹھا دیتا ہے کسی کے لئے رب کی بارگاہ
51:19میں التجا کر دیتا ہے وہ محبوب
51:21خدا ہے وہ محبوب الہی ہے
51:23وہ اللہ کا محبوب ہے
51:24وہ اللہ کے ساتھ اس کا وہ خاص قرب ہے
51:27کہ اللہ رب العزت اس کی التجاہ
51:29کو رد نہیں کرتا ہے اور پھر وہ
51:31وہ اللہ کی عطا سے
51:33وہ مشکل کشاہ بنتا ہے
51:34اللہ کی عطا سے وہ حاجت روہ بنتا ہے
51:37سبحان اللہ سبحان اللہ سبحان اللہ
51:38بہت شکریہ قبلہ موتی صاحب
51:40پیر صاحب قبلہ
51:42حقیقی طور پر اگر ہم دیکھیں تو جسے
51:44سفیر اتحاد کہہ سکتے ہیں
51:46دائی محبت کہہ سکتے ہیں
51:48وہ تو یہ اللہ والے ہی ہیں
51:50آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں
51:52اولیاء اللہ رحمت کنین صلی اللہ علیہ وسلم
51:54کسی پیغام کو لے کر آئے
51:56کہ فرمایا گیا نا
52:00تمام جہانوں کے لیے حضور رحمت ہے
52:03ہم کہتے ہیں سرور کائنات
52:05صحیح
52:06سرور کائنات کیا ہے
52:09تو لیڈر جو ہوتا ہے
52:10اس کے نزدیک یہ نہیں ہوتا
52:12کہ ایک قوم کی بات کرے
52:14ایک برادری کی بات کرے
52:15ایک حسب و نصب کی بات کرے
52:17لیڈر کے اندر وہ صفات پائی جاتی ہیں
52:20کہ اعلان نبوت سے قبل جو چالی سال تھے
52:22وہ لوگ بیٹھنا
52:24تو ابو جہل اور ابو لہب کے ساتھ پسند کرتے تھے
52:28لیکن
52:29ٹرسٹ کس پر کرتے تھے
52:30محمد رسول اللہ کی ساتھ
52:32صلی اللہ علیہ وسلم
52:33امانتے لے کر آتے تھے
52:34تو نبی کریم علیہ السلام کی بارگہ میں آتے تھے
52:37اولیاء اللہ چونکہ رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم کی
52:41جو کرم فرمائی ہے
52:43اس کے مظہر بنتے ہیں
52:45اسی صفت کا صدقہ پاتے ہیں
52:46اور انہی صفات کو ان میں شامل کیا جاتا ہے
52:49جس طرح قبلہ مفتی صاحب ارشاد فرما رہے تھے
52:51کہ میں اس کے کان بن جاتا ہوں
52:53میں اس کی آنکھ بن جاتا ہوں
52:54یعنی وہ بندہ سراپہ کرم ہو جاتا ہے
52:57اللہ کی کرم نوازشات
52:59اس پر برستی ہیں
53:00اور اسی لیے فرمایا گیا
53:01اِنَّا رَحْمَتَ اللَّهِ قَرِيبُ مِنَ الْمُخْسِنِينَ
53:04لیکن اللہ کی رحمت ان کے پاس ہے
53:06ان پر برستی ہے
53:07اور جب ان پر رحمت برستی ہے
53:10تو پھر ان کا جو معاملات زندگی ہوتے ہیں
53:13ان کے جو حالات ہوتے ہیں
53:15ان کا جو کلام ہوتا ہے
53:17ان کی جو صفات ہوتی ہیں
53:18وہ اللہ رب العزت کے کرم میں ایسے رنگے جاتے ہیں
53:21کہ ان کے ظاہر و باطن سے قرآن چھلکتا ہے
53:24اور ان کی زندگیوں سے حدیث کا نور ملتا ہے
53:27اور ان کی صفات اتحاد
53:32وہ بین المذاہب اور بین المسالق ایسے ہو جاتے ہیں
53:36کہ ان کی بارگاہ میں ہندو آئیں
53:39شکھانے کسی عمر کے لوگ آئیں
53:41وہ اللہ کے بندے سمجھتے ہوئے
53:43ان کے ساتھ محبت کرتے ہیں
53:45اور یہی وجہ تھی
53:46خاجہ غریب نواز سراپے رحمت بن کر آئے تھے
53:50بابا فرید و دین گنجے شکر سراپے رحمت بن کر آئے ہیں
53:53اور جو سراپے رحمت بن کر آتا ہے
53:55اس کا کام ہر حال میں رحمت کرنا ہی ہوتا ہے
53:58ہر حال میں مہربانی فرمانا ہی ہوتا ہے
54:03یہ لوگ اولیاء اللہ مہربان بن کر آتے ہیں
54:06یہ سراپے کرم بن کر آتے ہیں
54:08And we'll repeat this prayer
54:11Good morning, God.
54:11We will do all the way.
54:12I have a request to get the way now.
54:14So, I will ask a question.
54:23But we will go to the organisation.
54:24We will do all the way through this prayer.
54:25But the energy of Allah' story,
54:27which is traveling,
54:28and the force of the Arz,
54:30I am going to meet with us.
54:32So that our audience could also get out of this aspect.
54:35I will see you soon.
54:35Let's see.
54:35I will see you soon.
54:40Bye.
54:40Bye.
Comments

Recommended