Skip to playerSkip to main content
Waqia Karbala | Hazrat Imam e Hussain رضی اللہ تعالٰی عنہ Ki Shahadat | By Peer Ajmal Raza Qadri
Voice : Peer Ajmal Raza Qadri


Keywords
Imam Hussain Ki Shadat Ka Waqia | Karbala Ka Waqia | Waqia Karbala | Karbala Ka Bayan | Ajmal Raza
Waqia Karbala
Hazrat Imam e Hussain رضی اللہ تعالٰی عنہ Ki Shahadat
Hazrat Imam e Hussain رضی اللہ تعالٰی عنہ Ki Shahadat | By Peer Ajmal Raza Qadri
By Peer Ajmal Raza Qadri
Waqia Karbala | By Peer Ajmal Raza Qadri
Hazrat Imam e Hussain رضی اللہ تعالٰی عنہ Ki Shahadat | Emotional sound
Waqia Karbala | With Background Music
Peer Ajmal Raza Qadri Bayan | Background Music no Copyright

Hashtags
#peerajmalrazaqadribayanaat
#peerajmalrazaqadrivideostatus
#peerajmalrazaqadrivideo
#peerajmalrazaqadrinewbayan
#peerajmalrazaqadriwhatsappstatus
#newbayan #sunnieproduction #dawateislami
#madanichannel
#waqiakarbla
#imamehussain
#hazratimamehussainkishahadat
#sunniproduction
#viralvideo
#newbayanpeerajmalrazaqadri
#withbackgroundsound
#islamicbackgroundmusic
Transcript
00:00حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے حوالہ سے جی اجتماع ہے
00:07امت مسلمہ کچھ آزمائشوں کا شکار ہے کچھ ہمارے ذہن اس طرح کے ہو گئے
00:13عام آدمی سے لے کر بڑے آدمی تک کہ کوئی بات بڑی جلدی ہمارا ذہن قبول ہی نہیں کرتا
00:20کسی دوسرے کی طرف جانا یا کوئی اور بات کرنا یہ تو بڑی لمبی بات ہے
00:25عام جو سادی باتیں ہیں وہ بھی ہمارے ذہن مشکل سے قبول کرتے ہیں
00:30چونکہ شکوک اتنے ڈال دیئے گئے ہیں شک کتنا پیدا کر دیا گیا ہے
00:35تفریق اتنی ہے بدگمانی اتنی ہے بری سوچ اتنی زیادہ ہے
00:40بڑی مشکل ہے لوگوں کا کچھ چیزوں کو قبول کرنا
00:44ہم لوگ جو ڈیوٹی کرتے رہتے ہیں تھوڑی تھوڑی تو ہم اصل میں آزان دیتے ہیں
00:49صرف آزان دیتے ہیں
00:51کہ چلو بتا دے لوگوں کو کہ نماز کا وقت ہو گیا ہے
00:55باقی اس سے زیادہ ہم اپنی حیثیت نہیں سمجھتے آزان دینا ذمہ داری ہے
01:01تو اللہ تعالی جب تک موقع دے گا آزان ہوتی رہے گی
01:05کچھ لوگ صحابہ کے بارے میں کمزور جملے بولتے ہیں
01:08غلط باتیں کرتے ہیں کچھ اہلِ بیعتِ نبوت کے بارے میں غلط باتیں کرتے ہیں
01:13یہ صرف سنی ہے
01:15جو حق چار یار کا نعرہ بھی کھول کے لگاتا ہے
01:18اور یہ نعرہ حیدری یا علی بھی کھول کے لگاتا ہے
01:23یہ اللہ نے صرف ہمیں مقام
01:25وہ الگ بات ہے کہ ہم لوگ سننے کو تیار نہیں
01:27سمجھنے کو تیار نہیں
01:28کہ اللہ نے ہمیں مرتبہ کتنا عطا فرمایا ہے
01:31یہ صرف ہماری
01:32امام حسین کی شہادت کا کچھ تھوڑا سا پاس منظر
01:37شہادت ہمارے ہاں بیان ہوتی ہے
01:40اس انداز میں کہ لگتا ہے
01:42کہ کسی مظلوم بندے کو کسی نے پکڑا ہوا تھا
01:44تو وہ سارے اسے مار رہے تھے
01:45اور وہ منتے کر رہا تھا کہ مجھے نہ مارو
01:48اتنی ہائے ہائے کی جاتی ہے
01:50کہ ماسوس ہوتا ہے
01:52کہ امام علی مقام بڑے پریشان تھے
01:54کہ کسی طریقے سے
01:55اور ان کا خاندان بڑا تکلیف میں تھا
01:57کہ جلدی کہیں کربلا سے نکل جائے
01:59حالانکہ
02:00اس دھرتی پہ اس کائنات پہ
02:03صبر شجاعت استقامت
02:06اور حوصلہ
02:07جس سے کائنات سیکھے گی
02:09وہ صرف امام حسینی ہے
02:12اتنے بڑے صحابر آدمی کے بارے میں
02:14اس طرح کا رویہ اختیار کرنا
02:16کہ وہ تو گویا اس طرح کر رہے تھے
02:17کہ بس کسی طریقے سے میری ماظر
02:19تو یہ امام حسین کی
02:22مظلومیت سنا کے لوگوں کو
02:24اس طرح کا کر دیا جاتا ہے
02:26یہ انداز بتایا جاتا ہے
02:28کہ شاید واقع کربلا رونت ہونے کا نام ہے
02:30حالانکہ بات یہ نہیں ہے
02:32یزید کی لشکر
02:34جو امام حسین کے مقابلے میں آیا
02:36امام حسین کے لشکر کی تعداد بہتر تھی
02:39تو یزید نے بائیس ہزار
02:43بائیس ہزار آگئے
02:44مجھے بتا یہ بہتر کا بائیس ہزار سے
02:46ایک مقابلہ ہوتا ہے
02:48بولئے
02:49عمر بن سعید نے پھر عبید علی بن زیاد کو لکھا
02:52کہ بائیس ہزار بندے تھوڑے ہیں
02:53کچھ بندے زیادہ بھیج
02:56عمر بن سعید کو عبید علی بن زیاد
02:58کہنے لگے کہ تو پاگل تو نہیں ہو گیا
03:00بہتر کے لشکر کا بائیس ہزار بھیجا
03:03اور کتنا بھیجوں تو
03:04اس نے کہا تمہیں یہ نہیں پتا یہ لوگ کون ہیں
03:07یہ مولا علی شیر خدا کی اولاد ہیں
03:10ان میں ایک ایک شخص ایسا ہے
03:12جو ایک ایک ہزار کے مقابلے میں لڑنا جانتا ہے
03:15تو یہاں کمزوری دکھائی جاتی ہے
03:17ہمارے بچے سمجھنے لگے ہیں
03:18کہ یہ شاید کوئی ایسی داستان ہے
03:20اور اس طرح کا محول
03:22ٹی وی بھی میں دیکھ رہا تھا ہے
03:23اس طرح کا محول بنایا جاتا ہے
03:25جیسے کوئی خوف ہے
03:26یعنی واقعہ کربلا کوئی ایسا واقعہ
03:29جسے دیکھے خوف تاری ہو جائے
03:30بچے راتوں کو ڈرے
03:31وہ اکیلے درخت دکھائے جا رہے ہیں
03:34اور تیر دکھائے جا رہے ہیں
03:36اوہ یار کیا قوم کی تربیت کر رہے ہیں
03:39واقعہ کربلا حوصلے کا نام ہے
03:41دلیری کا نام ہے
03:42سنیں بات اصل میں کیا تھی
03:44بڑے ٹھلڈے دماغ سے میری بات کو سمجھئے گا
03:46حضرت مولا علی شیر خدا کے بعد
03:49مسلمانوں کے متفقہ امیر بنے تھے
03:51حضرت امیر معاویہ
03:52انہیں امیر کس نے بنایا تھا
03:54امام حسن نے
03:56حضرت علی کے بڑے سائفزادی
03:59حضرت امام حسن نے ان سے صلاح کی
04:01انہیں خلافت دی
04:02اور صحیح بخاری میں نبی پاک نے فرمایا تھا
04:05میرا بیٹا حسن سردار ہے
04:07جب مسلمانوں کی جماعتوں میں لہو بید آئے گا
04:10تو حسن ان کی صلاح کرا دے گا
04:12وہ صلاح امام حسن نے کرائی
04:13جناب امیر معاویہ امیر بن گئے
04:15حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ انہوں
04:18بڑا پیار کرتے تھے نبی پاک سے
04:20بڑا احترام کرتے تھے حضور کے خاندان کا
04:23ان کی جو اجتحادی خطائیں ہیں
04:25وہ اپنی جگہ پہ موجود ہیں
04:26چونکہ امام حسن نے ان سے صلاح کر لی
04:29لہذا ہم بھی ان کے بارے میں کوئی جملہ کہنے
04:31کہ مجاز ہماری مجبوری امام حسن ہے
04:34اس لیے کہ جسے امام حسن صحیح کہیں
04:37پھر امام حسن کے ماننے والے کو اسے
04:39غلط نہیں کہنے تھے
04:40حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ انہوں
04:43کا جب وصال ہوا تو حضرت امام حسن
04:45پہلے ہی ان سے وصال کر گئے
04:47آپ کو زہر دے دیا کہ آپ شہید ہو گئے
04:50امام حسین موجود تھے
04:51تو یزید کے بارے میں لوگوں نے
04:53کہا جناب امیر معاویہ سے
04:55کہ یہ ٹھیک ہے مناسب ہے
04:58اور بھادر ہے دلیر ہے
05:00وہ جو ہوتے ہیں خوشاندی ٹولا
05:01ہمارے ملک میں جو اچھی خشامت کرے
05:04اسے اچھی وزارت ملتی ہے
05:06اچھی وزارت اسے دیتے ہیں
05:08جو ذرا صحیح بتمیز بھی ہو
05:09اور صحیح وقالت کرنے والا
05:11اسے وزارت صحیح دیتے ہیں
05:13تو حضرت امیر معاویہ کے گرد
05:15بھی کچھ ایسے لوگ تھے انہوں نے آپ سے کہا
05:17کہ یزید کو نامزد کر دیں
05:19تو آپ نے یزید کو بلایا
05:20حوالہ مجھ سے دیکھ لی دیئے گا
05:22بلا کے فرمایا کہ تین بندوں کے سامنے
05:24اپنی خلافت پیش کرنا
05:26اگر وہ تجھے مان جائے
05:27تو امیر بن جانا
05:28نہ مانے تو چپ کر کے گھر بیٹھ جانا
05:30وہ تین بندے کون ہیں
05:32جناب عبداللہ ابن عباس
05:33حضرت عبداللہ بن زبین
05:36اور امام حسین رضی اللہ تعالی
05:38یہ وسیعت فرمائی جناب عمیر امام
05:41ہوا یہ کہ یزید جب امیر بنانا
05:45دو تین چیزیں ہوتی ہیں
05:47جب کسی بندے کو کابو کرنا ہوتا ہے
05:48دو تین چار پانچ چیزیں ایسے ہوتی ہیں
05:51جس سے بندہ کابو آتا ہے
05:52تو اس نے بھی فوری طور پر
05:53یزید نے دیکھا میرے لئے
05:54مسئلہ کیا بارن سکتا ہے
05:57ولید بن عطبہ اس وقت
05:58مدینہ کا گورنر تھا
06:00یزید نے اس کو خط لکھا
06:03کہ امیر عرب کا رواج آج بھی ہے
06:05کہ جب تک نئے خلیفہ کی بیعت نہیں ہو جاتی
06:07پرانے کے انتقال کی خبر ہی نہیں دیتے
06:10اس کو رکھے رکھتے ہیں
06:11یہ ان کا طریقہ ہے
06:12وہ کہتے ہیں کہ
06:13ولی اہد اچھی طرح قبضہ کر لے
06:15پھر بتائیں
06:17حضرت امیر معاویہ
06:18کبھی سال ہو گیا بتایا نہیں
06:20یزید نے کیا کیا
06:21کیونکہ بڑا چلاک آدمی تھا
06:22بڑا شاتر تھا
06:23بڑا تیز تھا
06:25بڑا عجیب اس کا مزاج تھا
06:28یہ چلاک لوگ
06:29زندگی میں میشہ دھوکہ کھاتے ہیں
06:32چلاکیاں انسان کو گراتی ہیں
06:34اور اتنا مو چھیل جاتا ہے
06:36کہ مو پہ جانا ہی نہیں جاتا
06:38بندہ اپنے آپ کو
06:39رب رسول کے حوالے کر دے
06:41تو اللہ بڑی بہترین جلائے عطا کرتا ہے
06:43یہ لوگ تیزی دکھاتے ہیں باز
06:45تو یزید بھی تیزی دکھانے والا تھا
06:47اس نے
06:47ولید کو خط لکھا
06:49خط لکھا
06:50کہنے لگا
06:51کہ فوری طور پہ
06:52عبداللہ ابن عباس کو بلاو
06:53اسے کوئی میری بیعت کریں
06:54یہ جو بیعت ہوتی تھی
06:56یہ بھی سننے کیا ہوتی تھی
06:58یہ بیعت حلف ہوتا تھا
07:00حلف
07:01کہ میں
07:02اللہ رسول کے نام پہ
07:04حلف دیتا ہوں
07:05میں یزید کی اطاعت کروں گا
07:06میں اس کے خلاف
07:07کوئی بغاوت نہیں کروں گا
07:09یہ بیعت
07:10لوگ سمجھتے ہیں
07:11کہ بس ہاتھ پکڑنے کا نام بیعت تھا
07:14اس بیعت کا متبادل
07:16جمہوری ملکوں کے اندر بوٹ آیا ہے
07:18اس کا متبادل لفظ
07:21تو کہا بیعت کریں
07:22حضرت عبداللہ ابن عباس کو بھی بلاو
07:24عبداللہ بن زبیر کو بھی بلاو
07:25امام حسین کو بھی بلاو
07:27امام حسین آدھی رات کے وقت بیٹھے تھے
07:29مسجد نبی میں
07:30چونکہ پانچوں نمازوں کیا آپ امامت کرتے تھے
07:32ان اللہ خیر کرے
07:33جیڑا نواز پڑھائے ہو مولوی
07:35جیڑا ٹال پائے ہو پیر
07:36جیڑا نینہ نہ نہ نہ ہے
07:38چھوٹا پیر
07:39جیڑا چھے مینہ نہ نہ ہے ہو بڑا پیر
07:41کہتے بابا پہنچے ہیں
07:43کڑے سڑے جو پہن لیے
07:44بھئی ماں حسین تو نمازیں پڑھاتے تھے
07:47مولا علی تو نمازیں پڑھاتے تھے
07:49مسجد کے خطیب تھے
07:50اب اس کو تو مولوی کہہ دیا جاتا ہے بیچارے کو
07:52تو ملانگ کون ہوتا ہے جی
07:54کہ اندھر یہڑا کپڑے کاٹ پائیں
07:55کیا تماشا ہے
07:57قوم جدر دل کرتا ہے نکل جاتی ہے
08:00امام حسین نماز پڑھا کے
08:02شاہ کے بیٹھے تھے
08:03جناب عبداللہ بن زبیر
08:04عبداللہ بن زبیر کون تھے
08:05یہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم
08:07پتی کے پوتے تھے
08:08اور جناب صدیق اکبر کے نواز سے تھے
08:11حضرت عبداللہ بن زبیر
08:12اور جناب زبیر بن عوام
08:13عشرہ مبشرہ سے
08:14ابھی ہیں ان کے بیٹے تھے
08:16بہت زیرہ کارمی تھے
08:18یہ بھی امام حسین کے پاس بیٹھے تھے
08:19عبداللہ بن عباس بھی تھے
08:21جو حضور کے چچا کے بیٹے ہیں
08:22اس امت کے پہلے مفسر ہے
08:24قرآن پاک
08:25یہ لوگ بیٹھے تھے
08:28تو ولید نے ایک بندہ بھیجا
08:30اس نے آکے کہا
08:31جناب آپ کو گورنر صاحب نے بھلایا ہے
08:34تو عبداللہ بن زبیر کہنے لگے
08:35حسین اس وقت بھلانے کی بات
08:37سمجھ میں نہیں آئی
08:38تو امام حسین بڑے بصیرت والے تھے
08:39اللہ نے بصیرت دی تھی
08:40کہنے لگے عبداللہ آپ کو سمجھ نہیں گئی
08:43مجھے سمجھا گئی
08:43یہ امیر معاویہ بھی سال کر گئے
08:46اور یہ ہمیں جو بلایا گیا ہے نا
08:48یہ یزید کی بیعت کے لئے بلایا گیا
08:50تو کہا پھر آپ آدھی رات کو نہ جائیں
08:52آپ کے لئے خطرہ ہوگا
08:53تو امام حسین فرمانے لگے
08:56خطرہ حسین کو نہیں ہوتا
08:58حسین کو خطرہ
08:59نے کہا پھر بھی آپ میربانی کریں
09:02ذرا احتیاط سے جائیں
09:03تو جناب عبداللہ ابن زبیر نے
09:05عبداللہ ابن عباس نے
09:06چودہ بندے
09:08نیزے دے کے
09:09تلوارے دے کے
09:09امام حسین کے ساتھ دیجئے
09:11اور کہا کہ
09:12امام حسین اگر اس نے کوئی غلط ملت بات کی
09:14نہ زبردستی بیعت کرنے کا
09:16کہا تو آپ بس کوئی ایک بات
09:17اونچی آواز میں کر دینا
09:19یہ سبائی پیچھے آ جائیں گے
09:20امام حسین ان چودہ بندوں کو لے کے
09:23گورنر آس پہنچ گئے
09:24جب آپ وہاں پہنچیں
09:26اس نے بتایا
09:27اس نے کہا جی
09:28حضرت امیر معاویہ انتقال کر گئے
09:30اور آپ نے یزید کی بیعت کرنی ہے
09:31تو امام حسین فرمانے لگے
09:33میں چھوکے بیعت نہیں کروں گا
09:36مجمع لگاؤ
09:37جمعہ والدین اعلان کرو
09:39جو طریقہ ہے
09:40حضرت عبو بکر صدیق کا
09:42جو طریقہ ہے
09:43حضرت عمر فاروق کا
09:44جو انداز حضرت عثمان گنی کا ہے
09:46جو مولا علی کا ہے
09:47سرے عام اعلان کرو
09:49اگر ساری دنیا
09:50یزید کی بیعت کرے گی
09:51تو میں بھی تیار
09:52تم مجھ سے بیعت لے کے
09:54پھر لوگوں کو بتانا چاہتے ہو
09:55کہ حسین بیعت ہو کر رہے ہیں
09:56تو تم کیوں نہیں کر رہے
09:58میں عام آدمی نہیں ہوں لے
09:59نہ چھپ کے بیگ نہیں کرتا
10:01جب یہ بات کی نا
10:03تو ولید بڑا نرم دلتا
10:04اور امام حسین کی شان کو جانتا تھا
10:07وہ جانتا تھا
10:08یہ نبی پاک کا خاندان ہے
10:09اس نے کہا جی
10:10مجھے تو حکم تھا
10:11باقی آپ حضور کے نواز ہیں
10:12میں کر کچھ
10:13وہاں ایک بڑا بدبخت شخص بیعتا تھا
10:15عبد الملک بیر مروان
10:17وہ ولید سے کہنے لگا
10:18کہ اگر حسین آج تمہارے آج سے نکل گئے
10:20تو تمہارے لئے بہت بڑا مسئلہ کھڑا ہو گئے
10:22انہیں جانے نہ دینا
10:23یا بیعت کراؤ
10:24یا ان سے کوئی جانگ کے لئے تیار ہو
10:27تو امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے
10:29کانوں میں آواز کہی
10:30تو فنوانے لگی ہو
10:31ابن مر جانا
10:32اگر تیرے اندر جرت ہے
10:34تو آ سامنے حسین کے
10:36اس کے کانوں میں باتیں نہ کر
10:38کانہ پوسی نہ کر
10:39باہر آمیدان میں
10:40شرارت نہ کر
10:41باہر آ
10:42میں تمہیں ابھی بتاتا ہوں
10:43کہ حسین سے مقابلہ کرنے کا انجام کیا ہے
10:45یہ کہہ کہ امام حسین باہر نکلے
10:48اپنے بھائی محمد بن انفیہ کو بلایا
10:50عبداللہ بن زبیر
10:52عبداللہ بن عباس
10:53دھیر سارے لوگ کٹھے ہو گئے
10:55فرمایا یہ معاملہ ہے
10:56اب کیا کرنا ہے
10:57یاد رکھیں
10:58ووٹ برادری کا نہیں ہوتا
11:01ووٹ برادری کا نہیں
11:03ووٹ دین کا ہوتا ہے
11:04جو بندہ دین کے
11:06ملت کے مذہب کے میار پر
11:07پورا نہ ہوتے
11:08اسے حکمت کے تحت بھی
11:09ووٹ دینا جائز ہے
11:11ہاں ہاں
11:12یہ بات سچی ہے تو بھارہ
11:14سچی ہے
11:15یہ یاد رکھ لیں
11:16ہمارے ووٹ سے
11:17کوئی امن ای ایم پی
11:18یا جتنے ظلم کرے گا
11:19ووٹ دینے والا
11:20اس کے ظلم میں شریک ہوگا
11:22بلکل سو فیز ہے
11:24لیکھ لیں بعد
11:25ہم بڑی
11:26اس وقت بڑی جلدی
11:27پتہ نہیں ہمیں کیا
11:28مسئلہ ہو جاتا ہے
11:29اتنا جدو
11:30اتنی مصیبت
11:31انہیں نہیں بڑی ہوتی
11:32یہاں بڑی ہوتی
11:33خدا کا خوف کریں
11:35امام علی مقام
11:36ووٹ ہی مانگ رہا تھا نا
11:37یزید
11:38اور پھر اس نے
11:39بڑے بڑے لالچ دیئے
11:40اس نے کہا کہ آپ
11:41پانچ چار صوبے ہیں
11:43جس کی گورنری مرضی رکھ لیں
11:44دولت آپ کی مرضی کی
11:46تو پھر آج
11:47ہمیں بھی لوگ مشورہ دیتے ہیں
11:49کہتے ہیں
11:49مسجد میں سیاست نہیں ہونے چاہیے
11:51میں نے کہا کیا کریں
11:52یہ امام حسین
11:53ہمیں مجبور کر گئے
11:54کوئی نہ کوئی بات کرنی
11:56پڑھی جاتی ہے
11:57امام علی مقام نے فرمایا
11:59چھپ کے ووٹ کی بات
12:01بیعت کی بات
12:02نہیں ہو سکتی
12:04آپ نے جا کے لوگوں سے
12:05مشورہ کیا
12:06تو وہ کہنے لگے
12:07حضور
12:07وقت ابھی مناسب نہیں ہے
12:09آپ اس طرح کریں
12:10یہاں روکے
12:10ہم مکہ سے
12:11عراق سے
12:12کوفے سے لوگوں کو بلاتے ہیں
12:14یہاں ایک بڑی مجلس
12:15مشاورت قائم کرتے ہیں
12:16امام حسین فرمانے لگے
12:18اگر تو مشاورت قائم کرو گے
12:19تو ولید
12:20اور عبدالملک بن مروان
12:22وہ تو جنگ کرنے کو تیار ہیں
12:23اور نبی پاک نے فرمایا
12:25ایک مینڈہ ہوگا
12:26جس کی وجہ سے
12:26مدینہ کی گلیوں میں
12:28لہو بہے گا
12:29فرمانے لگے
12:30میں وہ بکرہ
12:30وہ مینڈہ نہیں بننا چاہتا
12:32کہا پھر آپ کیا کریں گے
12:33تو امام حسین رو پڑے
12:35فرمانے لگے
12:36میں مدینہ چھوڑ جاؤں گا
12:38لیکن مدینہ کی حرمت
12:39پامال نہیں ہونے دوں گا
12:41امام علی مقامہ دی رات
12:43کے وقت نکلے
12:43سیدہ فاطمہ کا دروازہ
12:45ایک اس دن
12:46جس دن
12:47حضرت مولا علی
12:48کوفے چلے گئے
12:49اور دوبارہ
12:50آج طالع لگا
12:51جب امام حسین نکلے
12:53آپ جنت البقی کے پیچھے
12:55کھڑے ہو کے
12:56حضور کا روزہ دیکھنے لگے
12:57اس وقت
12:58گمبت نہیں ہوتا تھا
13:00روزہ دیکھنے لگے
13:01نانا تیرے کرم کے
13:02خزینے کی خیر ہو
13:04میں جا رہا ہوں
13:05تیرے مدینہ کی خیر ہو
13:07سارا خاندان لے گئے
13:09مکہ تشریف لے گئے
13:10حج کے ایام
13:12قریب آنے والے تھے
13:13امام حسین نے
13:14وہاں لوگوں سے باتیں کی
13:15جب امام حسین
13:16وہاں سے پہنچے
13:18تو کوفے سے خط آنے لگے
13:20کوفہ حضرت علی کا
13:21دار الخلافہ تھا
13:23وہاں آپ کے محبین
13:24پیار کرنے والے
13:28اور ہمارے اوپر
13:29یزید مسلط ہو گیا ہے
13:32آپ اگر میدان میں
13:33نہیں نکلیں گے
13:34آپ نہیں آئیں گے
13:35تو ہم اللہ کی بارگاہ
13:35میں شکوا کریں گے
13:36کہ کوئی ہماری
13:37کمان کرنے کو
13:38تیاری نہیں ہوا
13:40اور وہ خات ایک دو
13:41تین نہیں آئے
13:42وہ خات اتنے تھے
13:43کہ تین بوریوں میں
13:44بھرے تھے امام حسین
13:46تین بوریوں میں
13:47اب مجبوری ہو جاتی ہے
13:48حق کے لیے
13:49کئی دفعہ بات کرنا
13:51مجبوری ہوتی ہے
13:52اگر نہیں کرے گا
13:53تو پھر اس کو بھی
13:54قبر میں جواب دینا پڑے گا
13:55امام علی مقام
13:57رضی اللہ تعالی عنہ
13:58نے مکہ میں
13:59اب لوگوں کو
13:59جمع کیا
14:00مشورے کے لیے
14:01ہر بندے نے کہا
14:02حضور وہ بھلا تو رہے ہیں
14:03پر اپنے وعدوں کے پکے
14:06وعدوں کے پکے
14:07بڑے کم لوگ ہوتے ہیں
14:09بڑے کم لوگ
14:10جیسے زندگی ہو پیاری
14:12وہ یہی سے لوٹ جائے
14:13میرے کافلے میں
14:14شامین کوئی کم ظرف نہیں ہے
14:16بڑے کم لوگ ہوتے ہیں
14:18جو ہی راتوں کے
14:18وعدوں کے ہمیشہ
14:19ساتھ چلنے کے پکے ہوتے ہیں
14:21ورنہ بڑے لوگوں کو
14:22گرمی لگنے لگتی ہے
14:23بڑے لوگوں کی
14:25مشکلات آتی ہیں
14:26بڑے لوگ ایسے ہوتے ہیں
14:27جن کی مجبوریہ بن جاتی ہے
14:29کہا حضور کو پکے نہیں
14:31آپ نہ جائے
14:32ہر بندے نے کہا
14:33ہر بندے نے کہا
14:35حالات ٹھیک نہیں
14:36حالات
14:39گراؤنڈ ریالیٹی صحیح نہیں
14:40یہی مشورات بھی
14:42ہر بندہ دیتا ہے
14:43ابھی حالات نہیں
14:48لیکن فرمایا
14:49میں دین کے خلاف
14:51غلط حکمران کو
14:53مسلط ہونے کی اجازت
14:55غلط حکمران کو
14:56مسلط ہونے کی اجازت
14:58مضاحمت کروں گا
14:59مخالفت کروں گا
15:00امام کہنے لگے
15:01کوئی بات نہیں
15:02وہ میرے ساتھ چلیں
15:03نہ چلیں
15:04لیکن میں کوفے جاؤں گا
15:06وہ لوگ میرے ساتھ
15:07کھڑا
15:07انہیں کو تیار ہیں
15:08تو وہ جھوٹ ہے
15:09یا ساتھ چہے پر
15:10میں چلوں گا
15:11جب امام علی مقاب
15:13اسرار فرمایا
15:14تو جو آپ کے قریبی
15:15صحابہ اکرام کی
15:16اولادیں تھی ساری
15:18یہ بھی اب بیماری ہے
15:19کچھ لوگ کہتے ہیں
15:20جی صحابہ نہیں
15:20صاحب چلے
15:21تو میں کہتا ہوں
15:22اہلِ بیعتِ نبوت
15:23کہ تو کل افراد
15:24اکیس تھے
15:25تو بہتر میں
15:26باقی اولادیں کسی تھی
15:27وہ ساری صحابہ کی
15:28اولادیں تھی
15:29وہ سارے ہیں
15:30پتہ نہیں کیوں
15:32اس طرح کا فلسفہ
15:33بیان کیا جاتا ہے
15:34جس میں حالات خراب ہو
15:35حضرت اسے کی دنہ
15:36امامِ علی مقام
15:38کو جب بہت زیادہ
15:39کہا گیا نا
15:39تو امامِ حسین
15:41رضی اللہ تعالی
15:42انہوں نے فرمایا
15:42چلو میں ایک کام کرتا ہوں
15:44مسلم بن اکیل
15:45کو بھیجتا ہوں
15:46حضرتِ
15:48علی کے بھتیجے ہیں
15:51امامِ حسین
15:52رضی اللہ تعالی
15:53انہوں کے چچا کے بیٹے ہیں
15:54حضرتِ اکیل کے
15:55صاحبزادے
15:56مسلم بن اکیل
15:57پڑے سمجھدار آدمی تھے
15:59معاملہ فہم تھے
16:00بڑے جروی تھے
16:01اتنا زبردست
16:03مشور اکام لوگ دیتے ہیں
16:04جتنا حضرت مسلم بن اکیل
16:06دیتے تھے
16:06ان کو بھیجا گیا
16:08کوفے
16:09اب اس میں بڑی تفصیل ہے
16:11وہ اپنے دو بچے بھی لے گئے
16:12جب وہ کوفے پہنچے
16:13تو کوفے پر
16:15جنابِ نومان بن بشیر
16:16کی حکومت تھی
16:17آپ گورنر تھے
16:18اور اہلِ بیٹ سے
16:19بڑی عقیدت رکھنے والے
16:20نرم رویہ
16:22عبداللہ
16:22عبداللہ ابن زیاد
16:23کوفے کا گورنر نہیں تھا
16:24یہ کسی اور علاقے کا
16:27جب آپ وہاں پہنچے ہیں
16:28تو نومان بن بشیر
16:29نے دیکھا کہ
16:30حضرت مسلم بن اکیل آئے ہیں
16:31تو لوگ دوڑے
16:32ان کی بیعت کرنے ہیں
16:34بھاگے
16:36اتنے لوگ جمع ہوئے
16:37کہ ایک دن میں
16:38سترہ ہزار آدمی
16:39نے بیعت کرنے ہیں
16:41تو تنبتہ
16:41جیڑا الیکشن لڑتا ہوں
16:42دہر آتی جیتکی سوندھا ہے
16:44وہ فاتح ہوتا ہے
16:45ہر لوگ جیتتا ہے
16:46پتہ اسی دن چلتا ہے
16:47جس دن الیکشن کا
16:49ریزلٹ
16:49اناؤنس ہوتا ہے
16:50سترہ ہزار آدمی
16:52ایک دن ہے
16:52اب وہ جو
16:53امام مسلم بن اکیل کے
16:55وہاں نعرے لگانے والے تھے
16:56کہنے لگے
16:56ضرور یہ پہلے دن کی
16:57کار کرتے گی ہے
16:58دو چار دن میں
17:00دیکھئے کیا ہوتا ہے
17:01دو چار دن میں
17:01کیا ہوا
17:02چالیس ہزار آدمی
17:03نے بیعت کرنے ہیں
17:05اب وہ
17:05چالیس ہزار بندہ
17:07تیار ہو گیا
17:09ادھر سے جو
17:09یزید کے وفادار تھے
17:11انہوں نے خط لکھا
17:12یزید کو
17:12کہ تُو نے
17:13بڑا نرم آدمی
17:15گورنر بنایا ہے
17:15اور چالیس ہزار بندہ
17:17چلا گیا
17:17حسین کی طرف
17:18اگر ایک دن
17:19مسلم بن اکیل
17:20اور رہے
17:21تو جو تورہ
17:21گورنر بیٹھے ہیں
17:22جناب نومان بن مشیر
17:24ان کو گورنر
17:25اس نے نکال کے
17:26مسلم بن اکیل
17:26قبضہ کر لیں گے
17:27تو چپ کر کے بیٹھا ہے
17:29یزید بڑا تیج تھا
17:30اس نے ایک آدمی
17:31گوڑے پہ دڑایا
17:32عبیداللہ ابن زیاد
17:33ایک اور علاقے کا
17:34گورنر تھا
17:35پر بڑا ظالم
17:35سا بدماش تھا
17:38بڑا سخت گیر آدمی
17:39تو
17:39اس کو کہا
17:41کہ تُو پہلے
17:41ایک صوبے کا
17:42گورنر ہے
17:42جا تجھے دوسرا
17:43صوبہ بھی دیا
17:45اس طرح کار
17:45فوری طور پر
17:46کوفے پہنچ
17:48اور جا کے
17:49مسلم بن اکیل
17:50کو گرفتار کر
17:51جو آدمی
17:51ان کا ساتھ
17:52پھر بھی دے
17:52اسے قتل کر دے
17:54اس نے کیا کیا
17:55وادی رات کو آیا
17:56مو چھپایا
17:56جبا پہنا
17:58لوگ سمجھے
17:59امام حسین آگئے
18:01بہت سارے لوگوں
18:02نے اس کے نعرے بھی لگائیں
18:03وہ چپکے سے داخل
18:04ہوا اندر
18:05اور چپکے سے داخل
18:07ہو کہ
18:07اس نے سب سے پہلا
18:08کام یہ کیا
18:09کہ نوان بن بشیر
18:10رضی اللہ عنہ کو
18:10معذول کیا
18:11کوفے کے گورنر
18:12آہ اس پہ قبضہ کیا
18:13پھر اس نے
18:15اسی وقت
18:15سوئے ہوئے
18:16سرکردہ لوگ
18:18جس طرح
18:19ایک گاؤں کا چودری
18:20دوسرے کا ملے میں
18:21قبیلوں کے جو لوگ تھے
18:22چودریوں کو بلایا
18:24کچھ کو سزائیں دیں
18:27کچھ کو سخت کہا
18:29کچھ کو ان کے عیم گنوائے
18:31کہ وہ تمہارا فلانا مسئلہ
18:33پھر خراب کر دوں گا
18:34بلیک میل کیا
18:36صبح ہونے تک
18:38حالات اگر تم نے
18:39میرے کابو میں نہ کیا
18:40تو یاد رکھنا
18:42بڑا مشکل ہوتا ہے
18:43حق پہ کھڑا
18:44بڑی چیزیں لوگوں کو
18:45یاد آتی
18:46اللہ جانتے
18:48پہلے کچھ ہوتا ہے
18:49بعد میں معاملہ
18:50کچھ ہوتا ہے
18:52حضرت مسلم بن نقیل کے ساتھ
18:54جس دن عبیداللہ ابن زیاد آیا
18:56چالیس ہزار کلش کرتا
18:58اگلے دن صبح ہوئی
19:00اگلے دن
19:02تو یہ حال ہو گیا
19:03کہ آپ جب کوفے کی جامعہ مسجد میں
19:05زور کی نماز کے لیے گئے
19:06تو پانچ سات ہزار آدمی نماز پڑھنے آیا
19:10اور جب مغرب کا وقت آیا
19:11تو لوگوں نے
19:12چند ہزار لوگ رہے گئے
19:14نماز کی نیت باندھی
19:15ایک مسئلہ بھی سمجھ میں آئے گا
19:16لوگوں نے نماز کی نیت باندھی
19:18تو یہ حضرت مسلم بن نقیل
19:20امامت کر رہے ہیں
19:20ہاتھ باندھے ہوئے
19:21تو بہت سارے لوگوں نے
19:23پیچھے ہاتھ چھوڑ دیئے
19:25ایک بندے نے دوسرے سے پوچھا
19:27وہ ہاتھ کیوں نہیں باندھتے
19:28کہنے لگے
19:28اگر عبیداللہ ابن زیاد کے
19:30کسی بندے نے دیکھ لیا نہ
19:32تو ہم اسے کہیں گے
19:33ہم تو نماز پاڑھ ہی نہیں رہتے
19:34اب ایسے ہی کھڑے تھے
19:36حاج ہی نہیں باندھے سیرے سے
19:37جب نماز کی محمد باندھی
19:39تو دس گیارہ صفحے تھی
19:41جب ہم مسلم بن نقیل
19:42رضی اللہ تعالیٰ
19:43انہیں سلام پیرا
19:44تو پیچھے بندے ہی نہیں تھا
19:45حضرت مسلم بن نقیل
19:47کو گرفتار کیا گیا
19:48عرب کا رواج تھا
19:50دشمن کو سخت سزا دیں
19:51تاکہ باعث عبرت بنیں
19:53بہت انچا
19:55منار تھا
19:56کوفے کا
19:57گورنر راوز کا
19:58اوپر لے جا کے
19:59جناب مسلم بن نقیل
20:00کو زنین پہ گرایا گیا
20:02اور جب وہ شہید ہو گئے
20:04تو شہید ہونے سے
20:05ایک رات پہلے
20:06وہ خط لکھ چکے تھے
20:07امام حسین
20:08کو کہ آپ آ جائیں
20:09حالات بڑے اچھے
20:10خط ملا
20:11تو امام حسین
20:12مکہ سے
20:13کوفے کی جانب
20:14چل پڑے
20:15امام علی مقام
20:16رضی اللہ تعالیٰ
20:17انہوں جب چل پڑے
20:18تشریف لا رہے تھے
20:19تو رستے میں
20:20فرزق شاعر ملا
20:22بڑا محبیہ
20:24رستے میں ملاقات ہوئی
20:26حضرت مسلم بن نقیل
20:27جب گرایا شہید ہو گئے
20:29تو پھر اس نے اس طرح کیا
20:30کہ آپ کی لاش کو
20:31لٹکا دیا چونک میں
20:32لوگ دیکھتے تھے
20:33تو عورتیں
20:34بچوں کہتی تھی
20:34تُو نے بار نہیں نکلنا
20:35ہم نے نہیں
20:36امام حسین کے ساتھ چلنا
20:37بس بس بڑا خوف ہے
20:39کوئی بندہ نہ بار نکل
20:40کوئی نہیں ضرورت
20:41میں علاج بہتر ہوگی
20:42تو دیکھی جائیں
20:43آج کتنے لوگ ہیں
20:45کتنی دیگیں پکی
20:46کتنی نیازیں بٹی
20:47کیا کچھ ہوا
20:49آپ نراض نہ ہونا
20:50میں آپ میں سے ہوں
20:51آپ مجھ سے ہیں
20:52یہ بات آپ کی نہیں
20:53میری ہی سب کی ہے
20:55آج بھی اگر
20:56امام حسین کے نام پہ
20:57جان دینے کی باری آئے گی
20:58تو دیکھ گئی رہ جائیں گی
21:00نراض تو نہیں ہوگئے آپ لوگ
21:02فٹا فٹ مائے کہیں گی
21:04بار دی جانا
21:04بلکل پتر سانوں کی لگے
21:06سارا دین کو ہمارے لیے
21:09پیر صاحب تو
21:09کرتے رہتے ہیں باتیں
21:10ان کا تو کام ہے
21:11خبردار ہم نے نہیں جانا
21:13دیکھیں دینے کو سارے تیار ہیں
21:15جانے دینے کو تیار ہونا
21:18نراض ہوگئے ہیں آپ لوگ
21:19چلو کوئی نہیں ہو جاؤ خیر صلی اللہ
21:21بات تو ٹھیک کر رہا ہوں نا
21:22حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی
21:25انہوں نے
21:26فرضک شاہ رستے میں ملا
21:28تو امام حسین کو کہنے لگا
21:29کہاں جا رہے ہیں
21:30فرمایا میں کوفے جا رہا ہوں
21:31کہنے لگا حضور نہ جائیے گا
21:34لوگوں کے دل آپ کے ساتھ ہیں
21:35تلواریں آپ کے ساتھ نہیں
21:38ہر بندہ نہیں کہتا
21:39اسی ویسے ہمید فرادیاں دی کرنڈے ہیں
21:43تو پھر چھڑ دے کیوں نہیں
21:44ہین انجے توکھے بازی
21:46انہ کرایا ہوں نکاکھ نہیں
21:47تو پھر چھوڑ دو جان
21:48تم ہی چھوڑ دو
21:49یہ بندہ بات صحیح کر رہا ہے
21:52بندہ ویسے یہ بات صحیح کر رہا ہے
21:54پر علیہ الہاد نے ٹھیکے دیا لی
21:56بندے ٹھیک نے پر
21:57کیا تماشا ہے
21:58کب تک ایسا رہے گا
22:00کہ کب تک یہ بات چلے
22:01سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ
22:04انہوں کو آکے کہا
22:04حضور وہ سارے
22:05کوفے والے مانتے ہیں
22:07کہ بات حسین کی ٹھیک ہے
22:08لیکن آپ کی سپورٹ نہیں کریں گے
22:10اور اگلی بات فرزک نے یہ کی
22:11کہ حضور
22:12میں حضرت مسلم بن اکیل کی لاش
22:15کو لٹکی ہوئی دیکھ کے آیا
22:16ہم کوفے کے چونکڑے
22:17بڑے خورصورت فکرہ ہے
22:18امام حسین کا
22:19فرمانے لگے
22:21میرا بھائی لٹکا ہوا تھا
22:22کہیں کسی کے آگے
22:23جھکا تو نہیں تھا
22:25لٹکا ہی تھا
22:26کہیں جھکا تو نہیں
22:27کسی کے آگے
22:28کہ حضور نہیں
22:29تو آپ فرمانے لگے
22:30کہ مسلم بن اکیل لٹک گیا
22:32تو حسین بھی لٹک جائے گا
22:34لیکن جھکے گا
22:35حضرت امام حسین تشریف لائے
22:38بچوں سمیت آئے
22:39ہور بن یزید
22:40ایک شخص تھا
22:41ہور بن یزید
22:43ہور بن یزید
22:44نام یاد رکھنا
22:45ہور بن یزید
22:47ایک مختصر سا لشکر لے
22:49کہ اس نے امام حسین
22:50کو ایک جگہ پہ روکا
22:51پھر دوسری جگہ پہ روکا
22:52بل آخر تیسری جگہ پہ روکا
22:54تو امام حسین نے فرمایا
22:55جگہ کون سی ہے
22:56کا حضور کرب و بلا
22:58فرمایا
22:59بس یہی خیمے لگا دی
23:01یہی
23:02حضرت سیدہ زینب نے پوچھا
23:04امام حسین سے
23:05کہ سارے زمانے نے روکا ہے
23:08ٹھیک ہے آپ حق پہ ہیں
23:10یہ بھی سب نے کہا ہے
23:11آپ حق پہ ہیں
23:11پر روکا بھی سب نے
23:12آپ روکے کیوں نہیں
23:15تو ابن کسیر اور ابن اسیر
23:16لکھتے ہیں
23:17کہ امام حسین رو پڑے
23:19کہنے لگے بہن میں روک جاتا
23:20پر میں نے رات کو
23:22نانا مصطفیٰ کو
23:23خواب میں دیکھا ہے
23:24تو حضور نے فرمایا
23:25حسین اگر آج یہ رواج
23:27پڑ گیا نا
23:28یزید جیسے لوگوں کا
23:29تو قیامت تک پڑا رہے گا
23:31پھر لوگ کہیں گے
23:33کوئی نکلا نہیں تھا
23:34تو ہمیں بھی نکلنا
23:35پھر لوگ ظالموں کے سامنے
23:37گردنے جھکانے کے عادی ہو جائے
23:39میں کہتا رہتا ہوں
23:41کہہ رہا ہوں
23:41کربلا کی جنگ
23:42کفر اسلام کی جنگ نہیں
23:45کفر اسلام کی جنگ نہیں
23:46کربلا کی
23:48کیونکہ یزید تو
23:49بڑا پکا نمازی تھا
23:50خطبہ دیتا تھا وہ تو
23:52جب امام حسین رضی اللہ تعالیٰ
23:54انہوں نے کربلا کے میدان میں
23:56جمعہ کا دن تھا
23:57تو یزید کے سامنے
23:58کو بات کرنی شروع کی
23:59عمر بن سعید کے سامنے
24:00تو عمر بن سعید کہانے لگا
24:02حسین
24:02زیادہ باتیں نہ
24:03کارا مارا جمعہ لیٹ ہو رہا ہے
24:05جنگ کے لئے تیار ہو
24:07فڑا فڑا
24:08اہلِ بیتِ نبوت کو
24:10قتل کریں گے
24:11اور قتل کے بعد پھر
24:12نماز پڑھیں گے
24:12اور پھر کہیں گے
24:13اللہم صلی اللہ محمد وعلا
24:16عالم
24:16اسی نماز میں پھر درود بھی پڑھیں گے
24:18یہ کیسا مرتبہ ہے
24:20کیسا انداز ہے
24:21دوستی قاتل سے بھی
24:23مقتول سے یارانہ ہو
24:24حر بن یزید
24:26امام حسین سے کہنے لگا
24:27مجھے حکم ہے آپ کو روکنے کا
24:29آپ آگے نہیں جا سکتے
24:31امام صاحب نے فرمایا
24:32وجہ
24:32زمین اللہ کی ہے
24:34اس نے کہا
24:35آپ بیعت نہیں کر رہے
24:36یزید کی حالات
24:37آپ کے حق میں درست نہیں ہیں
24:38آپ نہیں جائیں گے
24:39امام روک گئے
24:42زہر کی نماز کا وقت ہوا
24:43تو حضرت علی اکبر
24:44امام حسین کے بڑے صاحبزادے
24:47انہوں نے ازان زہر پڑھی
24:48تو غور بن یزید کے لشکر
24:50نے امام حسین کے پیچھے
24:51نماز ادا کی
24:53کہا بھئی تم مقابلے میں آئے ہو
24:55نماز پیچھے پڑھتے ہو
24:56کہا حضور
24:57مقابلہ تو تلواروں سے کر رہے ہیں
24:59برمارہ دل تو مانتا ہے نا
25:01کہ مصطفیٰ کا نوازہ
25:02بڑی شان بالا ہے
25:03غور بن یزید نے
25:05تین نمازیں لشکر سمیت
25:07امام حسین کے پیچھے پڑھی ہیں
25:08تین نمازیں
25:10زہر اثر اور مغرب
25:12پھر امام حسین کے سامنے
25:14شرائط پیش کی
25:15کہ آپ کو یہاں گیر لیا گیا ہے
25:16یہاں آپ بیعت کریں گے
25:18یہاں آپ جنگ کریں گے
25:19دو ہی باتیں
25:19امام حسین نے فرمایا
25:21نہیں بھئی بیعت تو میں نہیں کرتا
25:22اس کے علاوہ تم جو کہتے ہو
25:24میں کرنے کو تیار ہوں
25:25اس نے خط لکھا
25:28عبیداللہ ابن زہاد
25:29پہ ایک بندہ دھڑایا
25:30پیچھے کوفے
25:31چند میل پہ کوفہ تھا
25:32کاب وہ نہیں مان رہے
25:33کیا کرنا ہے
25:35تو حسین ابن علی ہے
25:36میں زیادہ دیر
25:37انہیں روک بھی نہیں سکتا
25:39انہوں نے پیغام دیا
25:40حر بن یزید کو
25:41کہ کرنا کچھ بھی نہیں
25:42ان کا پانی بند کر دو
25:44بلیک میل کر دو
25:45کھانا پانی نہیں ملے گا
25:46چھوٹے چھوٹے بچے ہیں
25:47خود ہی مان جائیں
25:49حضرت
25:51امام علی مقام کے بارے میں
25:52حر کے بعد جب یہ پیغام آیا
25:54تو حر کیا نہیں لگا
25:55میری طبیعت نہیں مانتی
25:56حسین پر پانی بند کرو
25:59دل نہیں مانتا
26:00جب یہ لفظ کہے نا دوبارہ
26:01تو پھر
26:03عبیداللہ ابن زیاد نے
26:05عمر بن سعید کو
26:06دس ہزار آدمی دے کے بھیجا
26:08کہہور بن یزی لچک دکھا رہا ہے
26:10حسین کے آن کو
26:11ایک رے کا علاقہ تھا
26:13بڑی وہاں فصل ہوتی تھی
26:15لوگ
26:15کوشش کرتے تھے
26:17وہاں کا
26:17گورنر بننے کی
26:19کوشش کرتے تھے
26:20تو عبیداللہ ابن زیاد
26:21کہنے لگا
26:22تمہیں رے کی گورنری ملے گی
26:25سب سے سر سب کے شاداب علاقہ
26:27تمہیں وہاں کا گورنر
26:28بنایا جائے گا
26:28اگر حسین کے خلاف لڑو گے
26:30یہ اتنی زبردست ہوتی ہے
26:32گورنریوں
26:32کہ گورنریوں کے لئے
26:34لوگ نسل رسول کے خلاف بھی نکل آتے
26:37یہ اتنی تگڑی ہوتی ہیں
26:39اتنی جلدی وفاداریاں بدلتی ہیں
26:41امام حسین کو روک لیا گیا
26:42عمر بن سعج نے روک لیا
26:45یکم محرم کو امام آئے
26:46سات محرمتہ روکا گیا
26:48سات محرم کو پانی بند کر دیا
26:50جانور پانی پیتے تھے
26:52گھوڑے پیتے تھے
26:54لیکن مصطفیٰ کے گھرانے کو پانی پینے کی اجازت
26:58تین دن تک پانی بند رہا
27:00نو محرم کو
27:01عمر بن سعج نے اور لوگ بلائے
27:04شمر ایک بڑا سخت آدمی تھا
27:07سنگ دل بدبخت
27:08جس نے حضرت علیہ السگر کے گلے پر
27:11تیر مارا تھا
27:13وہ اور لشکر لے کے آیا
27:15رات کو کہنے لگا
27:17امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے
27:19کہ بس بڑا ہو گیا
27:20یہ نو دس محرم کی درمیانی رات
27:22یا آپ جنگ کریں گے
27:23یا آپ بیعت کریں گے
27:25دو ہی باتیں
27:26امام حسین اندر گئے
27:28سیدہ زینب سے مشہورہ کیا
27:29باہر آئے
27:30فرمایا بات وہی ہے جو پہلے دن والی ہے
27:33بھائی بچے ساتھ ہو
27:34سہرا کا علاقہ ہو
27:36تبتی ہوئی ریت ہو
27:37اتنے کٹھن اور سخت حلات
27:40چاروں جانب موت ہی موت
27:42دور دور تک
27:44اپنوں کا نام و نشان کوئی نہیں
27:46اور اکیلے فیصلہ کرنے والے امام حسین
27:49باقی سارے بچے ہیں یا عورتیں
27:51سارے بڑے اکیلے
27:53امام حسین رضی اللہ تعالیٰ
27:55انہوں نے فرمایا بھائی بیعت تو میں نہیں کرتا
27:57باقی جو تمہارا پروگرام ہے
27:58شمر اور ابن ساتھ
28:01کہنے لگے پھر جنگ کے لیے تیار ہو جائیں
28:03کیا انداز ہے امام حسین کا
28:05فرمانے لگے کل جنگ کروں گا
28:08مجھے پتا تو ہے جنگ کا نتیجہ کیا نکلنا ہے
28:11ایک رات مجھے دے دو
28:13تاکہ میں کھل کے اپنے رب کی عبادت تو کروں
28:16سہین نے جانا ہے
28:18مجھے پتا ہے کل ریزرٹ بہتر
28:19اور بائی صدار کا کیا ایک رات مجھے دو
28:22میں مالک سے راز نیاز تو کروں
28:24میں گویا اس سے پوچھوں تو صحیح
28:27کہ مالک
28:28میرے والک بھی شہید ہیں
28:30بھائی بھی شہید ہیں
28:31نانا کو بھی دکھوں میں دیکھا
28:32تو اب میری باری ہے تو مالک میں حضر ہوں
28:35مجھے موقع تو دو
28:36اس لیے کہ میرے نانا نے
28:38بدر میں بھی ساری رات عبادت کیتی
28:40صبح مجھے موقع دو
28:41اور دنیا کا اصول ہے
28:43جب کوئی موقع مانگتا ہے تو دھیا جاتا ہے
28:45یہ دو لوگ کہنے لگے کوئی موقع نہیں
28:48حرب بن یزید پیچھے سے بولا
28:50کہنے لگا نہیں
28:52بتمیزی نہ کرو
28:53حسین کو موقع دو
28:54تمہیں دینا پڑے گا
28:55موقع دیا
28:56حرب بن یزید نے پھر منت کی
28:58کہا حضور آپ مہربانی کرے مان جائیں
29:00فرمایا ماننے والا کھاتا کوئی نہیں
29:02فرمایا ماننے والا کھاتا
29:04بولیے
29:06ماننے والا کھاتا
29:07یہ بڑا مشکل کام ہے بھائی
29:09ضمیر کا سعودہ
29:10اب تو عام ہو گیا
29:11بزار لگتے ہیں
29:13ریڈ لگتے ہیں
29:13اپنی اپنی چاہتوں پہ
29:15لوگوں نے اپنے اپنے انتاثر سجائے گئے ہیں
29:17کوئی آدمی بس
29:19اچھے طریقے سے نام لے لے
29:20تو پس ہم اس کے پیشے چل جاتے ہیں
29:22اب تو عام ہو گیا یہ معاملہ
29:25امام حسین نے فرمایا
29:26ہوئی نہیں سکتا
29:27ممکن ہی نہیں ہے
29:29ساری رات عبادت میں گزری
29:31ریاضت میں گزری
29:32تحجت کا وقت ہوا
29:33تو گھر والوں کو بلایا
29:35فرمایا دیکھنا
29:36تمہاری سی کی آواز نہ باہر آئے
29:38خبر دار
29:39سی کی آواز نہ
29:41اور امام زین اللہ عبدین سے فرمایا
29:44تو بیمار ہے
29:44تو جہاد نہیں کرے گا
29:45لیکن خیال رکھنا پیچھے
29:47اور بڑی قیمتی بات بتا رہا ہوں
29:49ہماری بیمیاں کسی کے گھر میت ہو جائے
29:52تو چار دن بخار نہیں اترتا
29:53امام علی مقام نے سیدہ زینب سے فرمایا
29:57تو بڑی ہے میری بہن ہے
29:58پیچھے سارے بچے ہیں
30:00جوان ہیں
30:01ان کے حوصلے تیری ذمہ داری ہیں
30:03صبح
30:04جنگ کا طبل بجنے لگا
30:06فجر کی نماز پڑی
30:08سورت چڑھا
30:10دس محرم کا دن
30:11جمعہ کا
30:12وقت
30:14جناب سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ
30:16انہوں نے ریت پر سجدے کیے
30:18لمبے سجدے
30:20لمبی نماز
30:21سورت الشمس کی آیات دوسری رکت میں پڑی
30:24تو سارا کربلا گوجھنے لگا
30:26کیا انداز تکلم تھا
30:28امام علی مقام کا
30:30نماز مکمل عوی تحور بن یزید
30:33عمر بن سعد اور شیمر سے کہنے لگے
30:35واقعی حسین سے لڑو گے
30:38پتہ نہیں کون ہے
30:40قُلَّا سَعَلُكُمْ عَلَيْهِ عَجْرًا
30:42تم نے نہیں پڑھا
30:43إِلَّا الْمَوَدَّتَ فِي الْقُرْبَى
30:45تمہاری آنکھیں باندھیں
30:46الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ
30:48حُسَيْنُ
30:48شُبَابِ
30:49اَحْلِ جَنَّة
30:49تمہیں نہیں پڑھا
30:51پہنے لگا چھپ کر
30:52حکومت نظر آ لی ہے
30:53اور بن یزید کا حضر لگا
30:55پھر میرا بھی فیصلہ سنو
30:56مجھے حکومت نہیں چاہیے
30:58مجھے جنت چاہیے
31:00حکومت نہیں چاہیے
31:01امام حسین کی پہلی فتح دیکھیں
31:04اور بن یزید ایڑی لگا کے نہ
31:06یزید کے لشکر سے نکل کے
31:08امام حسین کے لشکر میں شامل ہوگی
31:10اور پہلا شخص
31:11جس نے امام حسین کو روکا
31:13امام حسین کے نام پر
31:15پہلا فر بھی اسی شخص نے کٹایا
31:18لیکن یزید کی قبر پر
31:19لانت بھی کوئی نہیں برساتا
31:21اس کا محل تھا بہت بڑا
31:23لیکن جب لوگ کربلا میں
31:25امام حسین کو سلام کرنے جاتے ہیں
31:27تو قدموں میں
31:28ہور بن یزید کا مظاہر بھی بنا ہوئے
31:29اس کو بھی سلامی دی جاتی ہے
31:32اور اب ہم اکیلا ہور بن یزید نہیں کہتے
31:34ہم کہتے ہیں ہور بن یزید
31:36رضی اللہ تعالی
31:37اب ہم اتنی تعظیم کرتے ہیں
31:40اس ہور کی
31:40جنابے
31:42امام حسین کو میدان میں کھڑا کیا گیا
31:46جہاد کا تبل بجا
31:47پہلے خدام آئے
31:48اور سن لو
31:50آج وہ
31:51پتہ نہیں بزاری سے لوگ چڑھ گئے ہیں
31:53اسٹیجوں پہ
31:54بزاری سے
31:55نہ چیرے پہ داڑی ہے
31:56نہ سر پہ کپڑا ہے
31:58بزاری لوگ ہیں
31:59پھاگ رہے ہیں
32:00بادو چڑھائے ہوئے ہیں
32:01بٹن کھولے ہوئے ہیں
32:02تماشا بنا دی ہیں
32:03سننے والوں کا بھی
32:04اللہ یافظ ہے
32:05وہ سٹیج پہ
32:06اہلِ بیعت کی شان بیان کرتا ہے
32:08بھاگ کے ادھر جاتا ہے
32:09یہ کوئی طریقہ ہے
32:10سننے والوں کا بھی
32:12عجیب انداز ہے
32:13ہر بندے کو سننے بیٹھ جاتے ہیں
32:15دین محذب ہے
32:17تحذیب والا ہے
32:18دلائل رکھتا ہے
32:19دین وقار رکھتا ہے
32:21ایسے لوگ آپ دین بیان کریں گے
32:24حضرت اس سے کیونکہ
32:25امام حسین رضی اللہ تعالیٰ
32:27انہوں صبح جب جہاد کا وقت آیا
32:28پتہ کون کون تھے کربلا میں
32:31امام حسین کے ساتھ
32:32امام حسین کے چار بھائی تھے کربلا میں
32:35کتنے
32:36بول کے بتائیں
32:38حضرت علی کے چار بیٹے
32:40عباس بن علی
32:41جن کو حضرت عباس کہا جاتا ہے نا
32:44علمدار
32:45یہ حضرت علی کی دوسری زوجہ میں سے
32:47عباس بن علی بھی تھے
32:49اور ابو بکر بن علی بھی تھے
32:51عمر بن علی بھی تھے
32:53عثمان بن
32:54یہ حضرت علی کے بچوں کے نام ہیں
32:57یہ آپ کے شہزادہ امام حسین کے ساتھ شہید ہوئے
33:00ان کا نام صرف اس لیے نہیں لیا جاتا
33:02کہ ان کا نام خلافہ سلاسہ کے نام پہ
33:04حضرت علی نے اپنے یاروں کے نام پہ رکھا ہے
33:07تو تم نے کربلا کے میدان سے خارج کر دیا
33:10یہ تینوں شہزادے
33:11حضرت جناب سیدنا
33:14امام حسین کے ساتھ تھے
33:16یہ بھی شہید ہوئے
33:18حضرت جناب زینب
33:19امام حسین کی سبھی بہن ہے
33:23ان کے دو بچے تھے
33:25عون و محمد
33:26جب امام حسین میدان میں جانے لگے
33:28تو جناب زینب بچوں سے کہنے لگے
33:30نا پہلے بھائی نہیں جائے گا
33:32پہلے بانجے جائے گا
33:34دو بچے شہید ہوئے
33:35حضرت قاسم بن حسن
33:37امام حسن کے بیٹے تھے
33:39وہ جب میدان میں جانے لگے
33:41تو امام حسین نے کا نہیں
33:42بھلٹوری جائے گا
33:43تو میرے بھائی کی نشانی ہے
33:45میں جاؤں گا
33:46تو حضرت قاسم بن حسن
33:48نے ایک تعویز کھول کے دیا
33:49کہا اببا جی میرے والد نے کہا تھا
33:51جب بڑی مشکل آ جائے
33:52تو تعویز کھول کے دیکھنا
33:53تو آج بڑی مشکل آئی ہے
33:55تو میں نے تعویز کھول آیا
33:56تو یہ دیکھیں کیا لکھا ہے
33:58یہ تو رکا ہے
33:59تعویز ہے ہی نہیں
34:00جب کھول کے دیکھا
34:01تو اس پہ لکھا تھا
34:03قاسم
34:04اگر حسین پہ کوئی کڑا وقت آ جائے
34:06تو بیٹے کے آگے آگے رہنا
34:09اگر کڑا وقت میرے بھائی پہ کبھی آ جائے نہ
34:12دیکھنا
34:13اس کے آگے آگے چلنا
34:15اسے حسن کی کم ہی نہ محسوس ہو
34:18پانیاں جیا ساکھ نہیں کوئی
34:19جے بیچ خار نہ ہوئے
34:21سیدنا
34:23امام حسین پہلی دفعہ کربلا میں
34:25اس وقت روئے جب یہ رکا
34:26آپ نے دیکھا
34:27تو فرما ٹھیک ہے
34:29اگر حسن کی یہ وسیعت ہے
34:31تو میں نے زندگی میں اگر ان کی ہر بات مانی ہے
34:33اب بھی مانوں گا
34:35تمہیں اجازت ہے
34:36جناب قاسم بن حسن
34:37سولہ سال کا جوان
34:39جب میدان میں نکلے
34:41تو ہائے ہائے پتہ نہیں کہاں سے آگئی ہے
34:43امام قاسم بن حسن جب میدان میں نکلے
34:46تو تبری سے لے کر
34:47علامہ ابو لسنات صاحب کو پڑھ کے تو دیکھو
34:50تین دن کی پیاس ہے
34:54شدید آزمائش ہے
34:55دو کھیں تکلیفیں ہیں
34:56پھر بھی پہلی دفعہ جب میدان میں گئے ہیں
34:59واپس آئے ہیں
35:00انیس لوگوں کو قتل کر کے واپس آئے ہیں
35:04انیس لوگوں کو
35:05ایک بار میں کھل رہے تھے
35:06ایسی تماشاں بنا دیئے ہیں
35:08مظلوم تھے وہ تو رو رہے تھے
35:10ہر مقرر یہ کہہ رہا ہے
35:11کہ وہ تو بار بار کہا ہے
35:12پانی مل جائے
35:13پانی آ جائے
35:14ترس گئے
35:15خدا کا خوف کرو
35:16یہ دلیر لوگ تھے
35:18ان کی باتیں آج بھی پڑھ کے
35:19دلیری پیدا ہوتی ہے
35:21دلیری پیدا ہوتی ہے
35:22دلیری
35:23سناو کس خیبر کو
35:25تمامی اپنے بچوں کو
35:27علی کی داستہ سن کے
35:29دلوں سے ڈر نکلتا ہے
35:30علی کی داستہ سن کے
35:33دلوں سے
35:33یہ جو بچے
35:35در رہے ہیں نا
35:35وہوہو
35:36چمگادر آگئی
35:38کاکروچ آگیا
35:39یہ خوف نکل جائے گا
35:40اگر حضرت قاسم بن حسن کی بات سنیں گے
35:42درجنوں لوگ آپ نے قتل کیے
35:44ایک دفعہ ہے
35:45کہا چاچا
35:47یزید کا لشکر تو بڑا بزدل ہے
35:49اگر چند کترے پانی میرے حلق سے گزرے
35:52تو میں سارے کارٹ کے لے آوں گا
35:54چند کترے
35:55لیکن تھوڑی دیر گزری
35:57عمر بن سعید کہنے لگا
35:59اکیلے اکیلے جاؤ گے
36:00تو علی کب ہوتا ہے
36:02یہ سب کو مار دے گا
36:04کٹھے جاؤ
36:05چاروں جانب سے تیر برسے
36:07ایک تیر لگا آگے
36:08گردن کے پیچھے
36:10بس جناب سیدنا
36:12قاسم بن حسن گھوڑے سے
36:14نیچے گیرے
36:15جناب زینب
36:16حوصلہ کر کے
36:17آنسو سمیٹ کے کہنے لگی
36:19میں دیکھ رہی ہوں
36:20پردے کے پیچھے سے
36:21حسین
36:22میرے بھائی کا بیٹا گر گیا ہے
36:24جا اسے اٹھا کے لائے
36:27حضرت امام حسین
36:28ان کو اٹھا کے لائے
36:30تو امام حسین نے
36:31سینے سے لگایا ہوا تھا
36:32تو ان کے پیر
36:33ان کا قد لگتا تھا
36:34امام حسین سے زیادہ ہے
36:35اٹھا کے لائے
36:36لٹا دیا گیا
36:37امام حسین کے
36:39اپنے بڑے بیٹے میدان میں
36:40نکلنے کو
36:41علی اکبر نام ہے
36:42جب جن لوگوں نے
36:43حضور کو نہیں دیکھا تھا
36:45وہ جب
36:46کہتے ہیں نا
36:46ہم نے نبی پاک کا
36:47دیدار نہیں کیا
36:48تو بتاؤ
36:49کس طرح کے تھے
36:50تو بتایا جاتا تھا
36:51کہ جناب علی اکبر کا
36:52دیدار کرو
36:53ہم شبیح مصطفیہ
36:55اور جب وہ
36:56گلیوں میں نکلتے تھے
36:57تو عورتیں چھتوں پہ چڑ جاتی تھے
36:59جناب علی اکبر
37:00رضی اللہ تعالیٰ
37:01انہوں تلوار لے کے
37:02میدان میں نکلے
37:03جوان بیٹے دینے
37:05بڑے مشکل
37:06او یارو رٹا کیا ہے
37:07یہ تو بتاؤ
37:08کہ ظالم آدمی
37:09حکمران ہے
37:11یارو یہ رٹا ہے
37:12ایک ظالم
37:13کا رستہ روکنا ہے
37:14اس رٹے کے لئے
37:16ہم شبیح مصطفیہ
37:19جناب سیدنا
37:20امام علی اکبر
37:21میدان میں نکلے
37:22بڑے لوگ مارے
37:23بڑے
37:24پھر ایک تیر
37:26ان کے بھی گلے میں لگا
37:27اور جب وہ گرے نہ
37:28زمین پہ
37:30تو حضرت امام حسین
37:32دوڑ کے آئے
37:33دوڑ کے
37:34اور جب تشریف لائے
37:35تو ان کے گلے سے تیر
37:37کھینچا
37:37تو ایک جملہ لکھا ہے
37:39صاحب تبری نے
37:40اس نے حد کر دی
37:41کہنے لگے
37:42تیر کھینچا
37:43تو امام حسین کی آنکھوں میں
37:44آنسو آئے
37:45کہنے لگے
37:46کاش جناب ابراہیم آج
37:47میرے سامنے ہوتے
37:48تو میں انہیں کہتا
37:50کہ آپ نے تو بیٹا
37:51زیبا کرتے وقت
37:52آنکھوں پہ پٹی باندھی تھی
37:54دیکھو میں کھلی آنکھوں سے
37:55بچے زیبا کرنا
37:56کھلی آنکھ
37:57کاش جناب ابراہیم خلیل ہوتے
37:59تو انہیں کہتا
38:00جناب علی اکبر بھی شہید ہوئے
38:03حضرت علی اصبر کو
38:05تو اچانک اٹھایا تھا
38:06امام حسین
38:06باہر نکلے
38:07گردن پہ تیر لگا
38:09تو چھے مہینے کا بچہ
38:10وہ بھی شہید ہوا
38:11خون اچھانا
38:12اسمان کی طرف
38:13تو کا مولا دیکھ لے
38:14میں نے چھے مہینے والا
38:16بھی نہیں بچایا
38:17وہ بھی دے دیا ہے
38:19پھر حضرت عباس کو
38:21بیٹیوں نے کہا
38:23کہ اب نہ
38:23کچھ کہتے ہیں
38:24پہلے شہید ہوئے
38:25کچھ نے لکھا بعد میں
38:26کہ اب ہم سے
38:28پانی کے بغیر
38:29نہیں رہا جاتا
38:30تو جناب عباس
38:31پانی کا مشکیزہ لے
38:33کے نکلے باہر
38:33نکلے
38:35ایک ہاتھ کٹا
38:37دوسرے پہ مشکیزہ
38:39وہ بھی کٹا
38:39دیکھ لو
38:40میں پس منظر پہ ہوں
38:41ابھی تک
38:42میں بتا رہا ہوں
38:43کہ جہاد کس کے خلاف تھا
38:45ظالمہ
38:46حکمران کے خلاف
38:48ظالمہ
38:48کافر کے خلاف نہیں
38:50مشرک کے خلاف نہیں
38:51حضرت امام حسین
38:52رضی اللہ تعالیٰ
38:53انہوں نے
38:54ہر جگہے کی بات کی
38:55کہ یزید شرابی ہے
38:58تو بچے کٹوا دوں گا
38:59شرابی کو ووٹ
39:00یہ ایک نہیں
39:02ہر کتاب میں یہ لکھا
39:03ہر کتاب
39:04اور ہر مسلک کی کتاب
39:06یزید
39:07کیونکہ مجرے دیکھتا ہے
39:08رنڈیوں کا ناچ دیکھتا ہے
39:09بچے کٹوا دوں گا
39:10اس کے ہاتھ میں ہاتھ
39:13امام حسین نے فرمایا
39:14کیونکہ
39:14اللہ کی حدوں کو توڑتا ہے
39:16حقوق اللہ پامال کرتا ہے
39:17حدود اللہ
39:18بچے کٹوا دوں گا
39:20لیکن اس کے ہاتھ میں ہاتھ ہے
39:21سارا دل خود مجرہ دیکھنا
39:23اور دس محرم کو دو دے گئے
39:24بکا کے حسینی بن جانا
39:27سارا سال خود گاند مند کرنا
39:30شرابیوں کے ساتھ رہنا
39:31اور دس محرم کو دو آنسو بہا
39:33کے یاد رکھنا
39:35میں ہمیشہ کہتا ہوں
39:36پھر کہہ رہا ہوں
39:37اس کے موبائل میں گھندے گانے ہیں
39:39گاند دیکھتا ہے
39:40شرابی کبابی کا
39:41سپوٹر ہے
39:42گوٹر ہے
39:43یا مجرے
39:44دیکھتا ہے
39:45آتا جاتا ہے
39:46وہ یاد رکھے
39:47قیامت میں
39:47امام حسین کا ہاتھ ہوگا
39:49اس کا گریبان ہوگا
39:50ہم سے نہ لکم ہوں گے
39:52کسیدی یزید کے
39:53ہم لوگ تو
39:54حسین کے صیرت نگا
39:55حضرت عباس
39:57عبازو کٹا
39:58پھر پانی تو بھر لیا تھا
40:00لا نہ سکے
40:01پھر گردن کٹی
40:02تو شہید ہوئے
40:03بچوں کی بھی شادت ہوئی
40:05پر جب ان کا لاشہ اٹھایا
40:06تو امام حسین کا لئے لگے
40:07مولا
40:08اب نہ حسین کی کمر
40:10کمزور ہو گئی ہے
40:11اب کمزور
40:12اوہ بھائی
40:13ایک میت ہو جائے
40:15تو چار پاندن
40:16تو پوری آنکھیں نہیں کھلتی
40:17کیسا جری خاندان ہے
40:19تھوڑی دیر گزری
40:20تو امام علی مقام
40:21نے پٹکا باندھا
40:22سر پہ دستار باتی
40:24مولا علی کی تلوار پکڑی
40:26نبی پاک کا امامہ باندھا
40:28اور گھوڑے پہ سوار ہوئے
40:30تو کہنے لگے
40:31زینب گھر تیرے حوالے
40:32اور میں اللہ کے حوالے
40:34گھر تیرے حوالے
40:35اور میں
40:36اور پھر امام حسین نکلے
40:38امام علی مقام نکلے
40:40راوی کہتے ہیں
40:41کہ یہ جلوہ پہلے بھی
40:43بڑے سونے تھے
40:43پر آج جو رنگ دیکھا
40:44وہ کبھی نہیں دیکھا
40:45کیا انداز تھا
40:47جدھر جاتے
40:48نارہ لگاتے
40:49تو ہاتھ دو جاتے
40:49اتنے لوگ
40:51امام حسین نے کٹے
40:52اتنے کٹے
40:53پھر واپس پلٹ کے آئے
40:56اور کہنے لگے
40:57زینب ذرا پڑھ دے
40:58کہ پیشے سے دیکھ تو
40:59صحیح میری بہن
41:00ان بزدلوں کو
41:01جرت ہی نہیں ہو رہی
41:02حسین کے مقابلے میں آنے
41:03ایک دوسرے کو
41:05دھکا دیتے
41:05تو جا
41:06تو جا
41:07پھر اکٹھے وار ہوئے
41:08یہ کون ہے
41:10کٹا ہوا
41:11لباس ہے
41:12پھٹا ہوا
41:13یہ بل یقین حسین ہے
41:15نبی کا نور این ہے
41:18پھر چاروں جانب سے
41:19تیر پرسے
41:20تو امام علی مقام
41:22چونکہ نماز کا وقت ہو گیا تھا
41:24اترے گھوڑے سے
41:26خون بہر آتا
41:27کرم ترین ریج سے
41:29تیمن کیا
41:30سر سجدے میں رکھا
41:32اور جب
41:33شیمر آپ کی گردن
41:34کاٹنے لگا
41:35تو کہنے لگے
41:35ٹھہر جائے
41:36ذرا رب اسے ایک بات
41:37کر لینے دیں
41:38اور پھر بولے
41:39امام حسین
41:40کہنے لگے
41:40مالک
41:41تو اب بتا
41:41کہ حسین سے
41:42راضی آئے
41:43کہ نہ راض
41:43تو بتا
41:45پھر ایک آواز آئی
41:46یا ایتہ النفس
41:49مطمئنہ
41:49ارجعی
41:50الہ رب کی رادیت
41:52مردی
41:53فرمایا
41:54نفس مطمئنہ
41:55واپس آجا
41:56تو اللہ سے راضی ہے
41:57اللہ تجھ سے راضی
41:58امام حسین
41:59وہاں شہید ہو گئے
42:00اب یہ کافلہ
42:01امام حسین کا سر کاٹ
42:03جارہ دیکھنا
42:04غور کرنا
42:04سر کاٹ کے
42:05نیدے پہ رکھا ہے
42:06جسم کربلا میں پڑا
42:09عورتوں کو
42:09گھوڑوں پہ
42:10بٹھا کے لے جایا گیا
42:11یزید کے دربار میں
42:12یزید پہلے
42:14عبید اللہ
42:14ابن زیاد
42:15نے بدمیزی کی
42:16پھر یزید نے کی
42:17سعودی عرب کا
42:18ایک مولوی بول رہا تھا
42:19سعودی عرب کا
42:20ان سے بھی بڑا عشق ہے
42:21جس نے تقریر سننی ہو
42:23میرے پاس ہے
42:24ہمیں لوگ مشورے دیتے
42:26کہ جو یزید کو
42:27اچھا کہے
42:27اور حسین کو
42:28باغی کہے
42:29اس کو ہم امام مال لیں
42:31اس بے شرم
42:32بے حیاء کو
42:33جو نبی پاک کے
42:34گھرانے کے بارے میں
42:35بھکے اسے امام
42:36سعودی عرب میں
42:37مسجد نبی میں
42:38درست دینے والا
42:39جس نے تقریر سننی ہو
42:40میرے پاس ہے
42:40وہ کہتا
42:42یزید تو
42:42بڑا اچھا آدمی تھا
42:43اس نے تو
42:44بڑی خدمت کی
42:45تو میں نے اسے
42:45کہا رشتے داری کرلا
42:46یزید کے ساتھ
42:47قریب ہو جاؤ
42:48شرم نہیں آتی
42:49آج بھی
42:50نبی پاک کا
42:51دل دکھاتے ہو
42:52حیاء نہیں آتی
42:52خیال نہیں آتا
42:54اور لوگ
42:55گھر میں بیٹھ کے
42:56باتیں کرتے ہیں
42:57کہتے ہیں
42:58جو بیت اللہ میں
42:59وہ بھی برا ہو سکتا ہے
43:00بیت اللہ میں
43:01تو تین سو ساٹھ
43:02بہت بھی تھی
43:02وہ اچھے تھے
43:05مدینے میں
43:05تو تین سو ساٹھ
43:06منافق بھی رہے
43:07پوری سورہ
43:08منافقون نازل ہوئی
43:09وہ اچھے تھے
43:10عجیب تماشہ
43:11بنا دیا
43:12لوگوں نے
43:12مذہب کا
43:13کہتا ہے
43:14یزید نے تو
43:14بڑی خیمت
43:15عبیت اللہ ابن زیاد
43:16نے قتل کیا
43:17بے شرمو
43:18اگر عبیت اللہ ابن زیاد
43:19نے بھی قتل کیا تھا
43:20تو حکومت کس کی تھی
43:21تو پھر یزید نے
43:23عبیت اللہ ابن زیاد
43:35امام حسین کے لبوں پہ
43:36تو نوان بن بشیر سے
43:37عبیت بول پڑے
43:38کہنے لگے ہو
43:39یزید بدبخت
43:40ہاتھ پیچھے اٹھا
43:41مجھے اللہ کی عزت کی قسم
43:43میں نے سینکڑوں بار
43:44نبی پاک کو
43:45ان ہونٹوں کو
43:45چونتے دیکھا ہے
43:47حضرت جناب زینب
43:49عورتوں کے مجمع میں
43:50پیچھے ہو کے بیٹھیں ہیں
43:51یزید کے پاس
43:52جب پہنچا
43:53لشکر
43:54یزید کہنے لگا
43:55دیکھو اللہ نے
43:56مجھے عزت دی
43:56اور میرے مخالفوں
43:57کا کیا حال ہوا
43:58تو بی بی زینب
44:00بول پڑیو
44:01اتنے صدمے سہے
44:02پر آواز توانہ ہے
44:03جاندار ہے
44:04جاندار
44:06ہمارا کسی بندے سے
44:07جائداد کا رٹا نہیں
44:08ہم تو چاہتے ہیں
44:09احمد کٹھی ہو جائے
44:10لیکن جو بندہ
44:11نبی پاک کی
44:12ماں کو دوزگی کہے
44:13حضور کے باپ کو
44:15جہنمی کہے
44:15یزید کو
44:17امیر المومنین کہے
44:18اس کے ساتھ
44:19اتفاقے رائے کر لیا جائے
44:20یہ مذہب
44:27یا تو میرے بھائی
44:29جو ہمارے
44:29اپا کا مخالف
44:30اس سے اتحاد نہیں ہوتا
44:31جو نبی پاک کے
44:32والد کو دوزگی کہے
44:33اس سے اتحاد ہو جائے
44:34کہتے ہیں جی
44:35وہ جی
44:36اتنی فرقہ والیت ہو گئی
44:37ہم کس مسجد میں جاؤں
44:38ساتھ پارٹیاں
44:39پاکستان میں
44:40ریجسٹرڈ ہیں
44:41جو الیکشن لڑتی ہیں
44:43کبھی کسی بندے
44:43کو ٹینشن نہیں ہوئی
44:44کہ کس کے پاس جائیں
44:45کس کے پاس نہ جائیں
44:46کبھی نہیں کو بولا
44:47کہ اب وہ بھی کھڑا ہو گیا
44:48وہ بھی
44:49کوئی ٹینشن نہیں
44:49مذہب کی باری
44:50ٹینشن ہو جاتی ہے
44:51اتنا بڑا مذہب ہوتا ہے
44:53بھائی غلط بندے بھی
44:54آئی جاتے ہیں بیچ میں
44:55تھوڑا پہچان کے
44:56چلنا پڑتا ہے
44:56صحیح کون ہے
44:57اور غلط ہے
44:58اور یہی تو
44:59ہمیں امام حسین نے
45:00بتایا ہے
45:00کہ مذہب کے اندر
45:02ہی تم نے شناست کرنی ہے
45:03کہ بندہ ٹھیک کون ہے
45:04اور بندہ غلط ہے
45:06یہی تو کربلا ہے
45:07یہی تو امام حسین نے
45:08بتایا ہے
45:09کفر اسلام نہیں
45:09حق اور باطل
45:10سمجھئے گا
45:12حضرت سیدہ زینب نے
45:13جب سنا نا
45:14کہ یہ کہہ رہا ہے
45:15کہ مجھے اللہ نے عزت دی
45:16تو جناب زینب بولی
45:18نومان بن بشیر
45:19کہتے ہیں بی بی بول
45:20اتنے صدمے ہیں
45:21پر جناب زینب بولی
45:23اللہ اکبر
45:24اس انداز میں بولی
45:26کہ پہلے قرآن مجید کی آیت پڑھی
45:28کہنے لگی
45:28وَتُوِزُّ مَنْتَشَا
45:31وَتُوزِلُّ مَنْتَشَا
45:32بِيَدِكَ الْخَيْرِ
45:33اِنَّكَ عَلَىٰ
45:34قُلِّ شَئِنْ قَدِيرٌ
45:35اور پھر کہنے لگی
45:36یزید تُو بکتا ہے
45:37کہتا ہے
45:38کہ تُو عزت والا ہو گیا
45:39یہ تیری حکومت ہے
45:41چار دن گزرنے دے
45:42تجھ پہ کوئی لعنت بھی نہیں برسائے گا
45:45اور میرے بھائی کا قیامت تک
45:47ممبروں میں
45:47اور خطبوں میں ذکر ہوا کرے گا
45:49وقت گزرنے دے
45:50جب جنابِ بی بی زینب بول رہی تھی
45:53تو حضور کے ایک نبینا سے
45:54ابھی پاس بیٹھے دے
45:55جنابِ نوان بی مشیر کا ہاتھ ہلایا
45:57علاقے کہانے لگے
45:58کیا علی آگئے
46:00تو علی کی آواز لگتی ہے
46:02جبریلِ امی بول رہے ہوں جیسے
46:05حکمت کے گھر رول رہے ہوں جیسے
46:08دربارِ دمشق میں
46:10بی بی زینب کا خطاب
46:11ممبر پہ علی رول رہے ہوں جیسے
46:14میرے بھائی
46:15بس کربلا والا
46:17کافلہ تو مدینہ پہنچ گیا
46:19تین سال یزید نے حکومت کی
46:21شرابِ عام ہو گئی
46:23مکہ پہ حملہ ہوا
46:24خانہ کعبہ کا غلاف جلا
46:27مدینہ پہ اس نے حملہ کیا
46:29تین دن مسجدِ نبی میں
46:31اس نے کھوڑے باندے
46:32مسجدِ نبی میں
46:33شعبہ کو نکال کے
46:35اپنا اس نے امام مقرر کیا
46:37لیکن پھر امت نے اسے قبول
46:39نہ کیا
46:41پھر وہ رسوہ ہوا
46:42اور آج تک وہ رسوہ ہے
46:44لیکن امامِ حسین کا نام
46:46کل بھی زندہ تھا
46:47اور آج بھی
46:48درس یہ ہے
46:49درس یہ ہے
46:50پیغام یہ ہے
46:51پیغام یہ ہے
46:52یاد رکھو
46:54موت تیزی سے آ رہی ہے
46:57ہمارے ساتھ والے
46:58دائیں بائیں والے
46:59سب چلے گئے
47:01اسی طرح نمبر لگے گا
47:03ایک دن اعلان ہوگا
47:04ضمیر کے قیدی بل کے
47:06زندگی نہ گزارو
47:07بلکل نہ گزارو
47:09یہ تھوڑی سی زندگی
47:10یا دنیا سیجن المومن
47:11حق بات کرو
47:13حق پہ ڈٹنا سیکھو
47:14دین سمجھو
47:16خبردار
47:17رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم
47:19کے دین میں
47:19ظالم جابر
47:20فاسق فاجر کی
47:21کوئی گنجائش ہے
47:23کتر نہیں ہے
47:24اپنے آپ کو سمیٹھو
47:25اپنے آپ کو سنبھالو
47:27دین میں اپنا کردار
47:28ادا کرنے کی کوشش کرو
47:30دین طلب کرتا ہے ہم سے
47:32کہ ہم نے دین کو کیا دیا ہے
47:33امام حسین نے
47:35سارا گھرانہ دین کے لیے دے دیا
47:37ہمارا جو بچہ
47:38کسی کام کا نہیں رہتا
47:39اسے مدرس سے داخل کراتے ہیں
47:44نہ کریں
47:45عالم اگر شور نہ کریں
47:47زور نہ کریں
47:48گھوٹن والا محول ہو گیا
47:50مذہب کی پوزیشن
47:51کمزور کر دی
47:52اب جہاں تک
47:53اس بات کا تعلق ہے
47:54جی فرقے ہو گئے
47:55تو میرے بھائی
47:56یہ کوئی اتنی
47:57خطرناک بات ہے
47:58یہ کوئی اتنا مشکل
48:00معاملہ نہیں ہے
48:00یہ تو امام حسین نے
48:01بتا دیا تھا
48:02کہ یزید کے طور پر
48:03ایک غلط فرقہ کھڑا ہو گیا ہے
48:04لہذا اس کا مقابلہ کرنا ہے
48:06اس میں کوئی بری بات ہے
48:07لیکن ایک سبق ہے بزرگوں کا
48:09کہ اگر سچی بات بھی نہیں کرنی
48:11تو پھر اس ممبر کا حق ادا
48:13نہیں ہوتا
48:14جو سچ بولے وہ حسینی ہے
48:17جو ظالم کے سامنے
48:18کھڑا ہو جائے وہ
48:20حسینی ہے
48:21جو مسلحت کوش ہو
48:22جو کہے ٹائم نہیں
48:23گراؤنڈ ریالیٹی نہیں
48:24حالات نہیں
48:25طبیعت نہیں
48:25موقع نہیں
48:26تو ابھی امام حسین کے پیغام کو
48:29نہیں سمجھا
48:30میں بہت سارے بزرگوں کا نام
48:32اس لیے نہیں لیتا
48:33کہ لوگ ایسے نہ کہیں
48:37سارے مناقب پڑے ہیں
48:39میں
48:40میری لائبریری میں کتابیں ہیں
48:42میں پڑھتا رہتا ہوں
48:43میں صور میں بھی ساتھ رکھتا ہوں
48:44لیکن حضرت شیخ عبدالصور بیگ
48:47منشور ہزاروی کا شیر
48:49امام علی مقام کے مقابلے میں
48:51اس طرح کا ہے
48:52کہ مجھے سارے شائروں سے زیادہ
48:54وزنی محسوس ہوتا ہے
48:56انہوں نے کہا تھا
48:57اس شاہ مشرقین کی
48:58اس نور این کی
49:01مطلوب ہے جہاں کو
49:03قیادت حسین کی
49:05دیکھئے ذرا حسن
49:06اور ہر سو یزیدیوں کا
49:08زمانے میں زور ہے
49:10ایک دو جگہ پہ نہیں
49:12ہر سو یزیدیوں کا
49:14زمانے میں
49:15زور ہے
49:16منشور
49:17آج پھر ہے ضرورت حسین
49:19آج پھر ہے
49:21ضرورت ہے
49:22آج لوگ حسینی بنے
49:23امام حسین کے نقش قدم پر
49:25وہ کہتے ہیں
49:26زور ہو گیا یزیدیوں کا
49:27یہ ہمارے بزرگ ہمیں بتا گئے
49:30مسجد کی طرف توجہ کرو
49:31اپنے بچوں کی نگبانی کرو
49:34دنیا کی زندگی
49:35اتنی مختصر ہے
49:36کہ ایک خواب لگے گا
49:37جب ہم جائیں گے دنگے
49:38ایک خواب لگے گا
49:39خواب تھا جو کچھ کے دیکھا
49:41جو سنا افسانہ تھا
49:43اہلِ بیعتِ نبوت کا
49:45عصوہ عبادت ہے
49:46ریاضت ہے
49:46پردہ ہے
49:47پریزگاری ہے
49:48اس پر توجہ کریں
49:49جن کی بچنیاں سر نہیں
49:51ڈھامتیں
49:52وہ دس مہدم کو
49:53بے شک دیکھ نہ پکایا کریں
49:54جو لوگ
49:55قرآن شریف پڑھنے کے عادی نہیں
49:57وہ بلا بے شک
49:58امامِ عالی مقام کا ذکر نہ کریں
49:59اس لیے کہ
50:00امام حسین نے
50:01سر سجدے میں کٹایا ہے
50:03اور تلاوت
50:03نیزے کی نوک پہ بھی جاری رکھی ہے
50:05دین کے ساتھ
50:07اپنے آپ کو جوڑو
50:08دیندار بنو
50:09رسول اللہ کی غلامی اختیار کرو
50:11ورنہ یہ زندگی
50:12کچھ ایسا وقت بلاتی ہے
50:14کہ جب زندگی پوجھ بن جاتی ہے
Comments

Recommended