Skip to playerSkip to main content
Gaon ki do aurton ki yeh hairat angez kahani ek aise ajeeb o ghareeb waqia par mabni hai jis ne poore gaon ko hairan kar diya. Is dilchasp dehati qisse mein raaz, sabaq aur zindagi ki haqeeqatein posheeda hain. Agar aap ko gaon ki kahaniyan, dehati waqiat aur sabaq aamoz qisse pasand hain to yeh video aakhir tak zaroor 📝 Descriptiondekhein.
Yeh kahani gaon ki do aurton ke gird ghoomti hai jahan ek ajeeb o ghareeb waqia poore ilaqay mein mashhoor ho gaya. Is dilchasp aur sabaq aamoz qisse ko aakhir tak dekhein aur jaaniye ke asal mein kya hua tha.
🔥 Viral Title Options 😲

1- Do Bewafa Dehati Aurton Ka Aisa Anjaam Ke Gaon Walay Hairan Reh Gaye!
2- Gaon Ki Do Aurton Ne Kiya Aisa Kaam, Sach Jaan Kar Hosh Ur Jayenge!
3 - Do Dehati Aurton Ka Hairat Angez Qissa | Aakhir Kya Hua?
4 - Is Gaon Mein Do Aurton Ke Sath Jo Hua, Kisi Ne Socha Bhi Na Tha!
5 - Ek Ajeeb O Ghareeb Waqia Ne Do Aurton Ki Zindagi Badal Di!

Like 👍 | Share 🔄 | Subscribe 🔔
Video pasand aaye to Like, Share aur Channel ko Subscribe karna na bhoolein.
Shukriya!
#️⃣ Hashtags

#DoBewafaDehatiAurtonKaQissa
#DehatiKahani
#GaonKiKahani
#UrduKahani
#SabaqAamozKahani
#VillageStory
#PakistaniStory
#MoralStory
#EmotionalStory
#AjeebOGhareebWaqia

Category

😹
Fun
Transcript
00:00This is a story of two women's stories.
00:03Let's start with our story.
00:07There were two women who lived there.
00:10They were very good friends.
00:14They were one who lived there.
00:17They were one who lived there.
00:18They were one who lived there.
00:21They were one who lived there.
00:22They loved to live there.
00:31They were one who lived there.
00:34They were so loved to see each other.
00:42See their few people lived there.
00:43that they had their own family and their other family
00:48and their friends were so happy
00:52It feels like these friends are not their friends
00:56all the time they meet each other, all the time they meet each other
01:00and all the time they meet each other
01:05and all the time they meet each other
01:05they are very effective at all
01:08and
01:09they have
01:10to
01:10and
01:22have
01:24to
01:37do
01:38two friends, they had talked about their problems
01:44that they had talked about their problems
01:49who wanted to own, another one would get
01:53they would have talked about their problems
01:54one of them had talked about their problems
01:55they don't know if they had a problem
02:00which could have been talked about their problems
02:08ुس کی بات مار رہی تھی
02:10। ایسے کرتے کرتے رات ہو گئی
02:12। دونوں اپنے اپنے گھروں میں
02:14। واپس چلے گئی
02:15। ساری رات دونوں سوچتی رہی
02:18। کہ ایسا کیا ماجرہ تھا
02:20। کہ ہم اتنی پرانی دوستیں
02:22। آپس میں لڑائی کر بیٹھیں
02:24। ایسے ہی سوچتے سوچتے
02:27। وہ سو گئی
02:28। جیسے ہی صبح ہوئی
02:30। صبح ہوتے اپنے گھر کے
02:32। کام کاج کیے
02:33। اور دونوں نراز ہو کر
02:36। بیٹھ گئی
02:37। ایک دوست کہنے لگی
02:39। کہ میں آج اسے ملنے نہیں
02:40। دوسری دوست اپنے دل دل میں
02:43। خیال کر رہی تھی
02:45। کہ میں بھی اسے ملنے نہیں
02:47। وہ مجھے بلانے کے لئے
02:49। ضرور آئے گی
02:50। تو ہم پھر دوستیں بان جائیں گی
02:53। لیکن ایسا ممکن
02:55। نہ ہوا
02:56। دونوں اپنے اپنے گھروں میں
02:58। موڑ بنا کر بیٹھ گئی
03:00। اور ایک دوسرے کو
03:02। نہ اس نے بلایا
03:03। نہ اس نے بلایا
03:04। ایسے ہی انتظار کرتے ہوئے
03:08। سارا دن گزر گیا
03:10। دونوں جب بھی دروازے پر
03:12کوئی آتا
03:13। ہلکی سی آہٹ ہوتی
03:15। تو فوراں جلدی سے
03:17। دروازے پر جا کر دیکھتی
03:18। ان دونوں کو ایسا لگ رہا تھا
03:21। کہ شاید میری دوست
03:23مجھے بلانے کے لئے آگئی ہے
03:28। پہن میرے پاس آگئی ہے
03:30। چلو ہم نرازگی ختم کر لیتے ہیں
03:32। لیکن ایسا نہ ہوا
03:34। ان دونوں کی نرازگی
03:36। ایسے ہی رات بر
03:38پوری ہوتی رہی
03:39। اور ایسے ہی کرتے ہوئے
03:42کچھ دن گزر گئے
03:43। نہ اس نے اسے بلایا
03:45। اور نہ اس نے اسے بلایا
03:47। دونوں اپنے اپنے گسے میں
03:49بیٹھی رہی
03:50। پھر ایک دن
03:52। اس نے اپنی
03:53ہمسائی جو بزرگ عورت تھی
03:56اس کے ہاتھ پیغام بیجا
03:58کہ میری دوست کو بولو
04:00کہ میری طبیعت خراب ہے
04:02میرے پاس میرے گھر چلی آئے
04:05میرا دل بہت اداس ہو چکا ہے
04:08میں بہت پریشان ہوں
04:09اسے کہو کہ مجھے آ کر مل جائے
04:12تو وہ بزرگ عورت نے
04:14دوسری دوست کو
04:15سہیلی کو
04:16اس کی دوست کا پیغام دے دیا
04:19تو جب اس نے یہ سنا
04:21کہ وہ بیمار ہے
04:23تو وہ فوراں سارا غصہ
04:25ساری نرازگی چھوڑ کر
04:27فوراں باگی چلی آئی
04:29اور آ کر اسے گلے لگایا
04:31اور کہنے لگی
04:32کتنے دن سے تم بیمار ہو
04:34تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں
04:36تو وہ ہس پڑی
04:37اور کہنے لگی
04:39میں نے تو تمہارے ساتھ مزاق کیا ہے
04:41میں بیمار تو کوئی نہیں ہوں
04:44میں نے تو تمہیں اپنے گھر بلانا تھا
04:46سو میں نے بلا لیا
04:47تو کیسا ہوا
04:49میرا مزاق تمہیں کیسا پسند آیا
04:52وہ دونوں پھر موڑ بنا کر بیٹھ گئی
04:55وہ بزرگ خالہ
04:57بیٹھے بیٹھے پہنچ گئی
04:59اس نے آ کر کہا
05:00کہ تم دونوں پھر
05:02نراز ہو کر بیٹھ گئی ہو
05:04کیا ماجرہ ہے
05:05کیا قصہ ہے
05:07انہوں نے کہا
05:08ہم آپ کو نہیں بتا سکتی
05:10تو خالہ نے ان کو مشورہ دیا
05:12کہ جو گاؤں کا
05:14بڑا وزیر ہے
05:16یا مولم ہے
05:18تم اس کے پاس جا کر
05:20اپنا واقعہ
05:22اپنا قصہ بیان کرو
05:24وہ آپ کا مسئلہ حل کر دے گا
05:26تو وہ دونوں بے بکوف عورتیں
05:29اپنے گھر کا مسئلہ لے کر
05:31اس عالم کے پاس پہنچ گئی
05:34اپنی باری کا انتظار کرنے لگی
05:37وہاں پر مسئلہ مسائل کے
05:39اور بھی کافی سارے لوگ بیٹھے ہوئے تھے
05:42تو جب ان کی باری آئی
05:44عالم صاحب کے پاس پہنچی
05:46تو انہوں نے پوچھا
05:48بتائیں
05:49کیا مسئلہ ہے
05:50بی بیو آپ یہاں
05:52دونوں کس لیے آئی ہیں
05:55عالم ان کو کہتا رہا
05:57وہ دونوں خاموش کھڑی رہی
06:00ان کو سمجھی نہیں آ رہی تھی
06:02کہ کونسی بات کریں
06:04تو عالم ذرا غصے سے بولا
06:07کہ بی بی بولو
06:09تم دونوں میں سے پہلے
06:10کس نے بات شروع کرنی ہے
06:13میرے پاس اتنا زیادہ وقت نہیں ہے
06:16میں نے اور لوگوں کے بھی مسئلے سننے ہیں
06:19یہ دونوں سہیلیوں کی عمر میں
06:22تھوڑا سا فرق تھا
06:23ایک تھوڑی سی بڑی عمر کی تھی
06:25اور ایک چھوٹی عمر کی تھی
06:27جب عالم صاحب غصے سے بولا
06:30تو بڑی عمر والی دوست کہنے لگی
06:33عالم صاحب میں آپ سے بات کرتی ہوں
06:36میں آپ کو بتاتی ہوں
06:38تو چھوٹی دوست بولی نہیں
06:40ابھی آپ رہنے دو
06:42پہلے میں ہی عالم صاحب سے بات کروں گی
06:45تو عالم صاحب بولے
06:47پہلیاں بجانا چھوڑ دو
06:50مجھے تم دونوں ہی کوئی اکل مند عورتیں نہیں لگ رہی
06:53میرا ٹائمز آیا کر رہی ہو
06:55چلو شروع کرو کیا بات ہے
06:58تو چھوٹی بولی عالم صاحب
07:00یہ رشتے میں میری پھوپو لگتی ہے
07:03میں اس کو کبھی کبار امی بھی کہہ لیتی ہوں
07:08کیونکہ میری والدہ کے انتقال کے بعد
07:13میری پھوپو نے ہی میری پرورش کی ہے
07:16تو میں کبھی کبار ان کو امی بھی کہہ لیتی ہوں
07:22یہاں تاکہ میں جوان ہو گئی
07:26تو کازی صاحب بولے
07:28اس کے بعد پھر اور کیا بات ہے
07:31پھر میرے چچا کی بیٹے نے
07:34منگنی کا پیغام بیجا
07:36تو انہوں نے میری شادی کر دی
07:40کازی صاحب میری شادی کو کئی سال گزر گئے ہیں
07:45کازی صاحب میں اپنی زندگی میں بہت خوش تھی
07:49میرا میاں میرے ساتھ بہت محبت کرتا
07:53اور ہم دونوں کا بہت سلوک اور اتفاق تھا
07:56ہماری زندگی بہت اچھی گزر رہی تھی
07:59تو کازی صاحب بولے بتاؤ پھر کیا ہوا
08:03اب مسئلہ کیا ہے تمہیں
08:06تو کازی صاحب ہم دونوں دوستیں ہم دونوں سہلیاں
08:11اتنی پکی تھی کہ ہم میں لڑائی ہو گئی
08:14تو کازی صاحب بولے میں نے تم سے یہ نہیں پوچھا
08:18میں پوچھ رہا ہوں تو پھر کیا ہوا
08:20لڑائی کی وجہ کیا بنی
08:22تو چھوٹی دوست کہنے لگی
08:25یہ پوپو جسے میں امی کہتی تھی
08:29کبھی دوست کہتی تھی
08:30یہ ایک دن میرے گار آئی
08:33اور مجھے کہنے لگی
08:35کہ میں تو تمہارا بہت احساس اور خیال کرتی ہوں
08:39اور تمہارے شہر کا بھی بہت خیال کرتی ہوں
08:43ایسے ہی مجھے باتیں سنانے لگی
08:46اور تھوڑی سی باتیں کر کے
08:49مجھے پسلا کر واپس چلی گئی
08:52کازی صاحب ایک دو دن بعد
08:54یہ میری دوست میری پوپی لگتی ہے
08:57جو دبارہ میرے گار آئی
08:59اس نے مجھے آ کر بلایا ہی نہ
09:02میرے ساتھ کوئی بات ہی نہ کی
09:05میں ان کے موں کی طرف دیکھتی رہ گئی
09:08اور سیدھی میرے کمرے میں چلی گئی
09:11اور جا کر میرے شہر کے پاس بیٹھ گئی
09:15میں حران ہو اور پریشان ہو گئی
09:18کہ میری سہلی میری پوپی کو کیا ہوا ہے
09:21یہ آج مجھے کیوں نہیں بلا رہی
09:24اس نے میرے شہر سے کیا بات کرنی ہے
09:28تو میں دروازے میں کھڑی ہو گئی
09:31اس پوپی کی ایک جوان بیٹھی تھی
09:34جو بہت حسین اور بہت خوبصورت تھی
09:38تو وہ میرے شہر کو پھسلانے لگی
09:41اور کہنے لگی
09:43کہ تم میرے بیٹے ہو
09:46تم میری بیٹی سے دوسری شادی کر لو
09:49جب میں نے یہ بات سنی
09:51تو میرے کانوں کو یقین نہ آیا
09:54کہ یہ میری پوپی میرے شہر سے کیا کہہ رہی ہے
09:58اور میرے شہر سے ساتھ میں یہ شرط بھی رکھ لی
10:03کہ جو تمہاری پہلی بیوی ہے
10:05اس کا سارا معاملہ
10:07تم مجھے سونپ دو
10:09میں اس کی پوپی ہوں
10:11میں دیکھ لوں گی
10:12کہ تمہاری پہلی بیوی کا کیا کرنا ہے
10:16تو میرے شہر نے کیا کیا
10:18میری پوپی کے ساتھ مل کر
10:21کواری لڑکی کے چکر میں
10:23حسین اور جمین لڑکی کے چکر میں
10:26میری پوپی کی یہ شرط مان لی
10:29کاری صاحب بھلا یہ کوئی بات ہوئی
10:32تو کازی صاحب میری پوپی نے
10:35چلاکی سے دوکھے سے
10:37اپنی بیٹی کی شادی
10:39میرے شہر کے ساتھ کروا دی
10:42اور میرا سارا معاملہ
10:44میرا سارا قصہ
10:46اپنے سورت کر لیا
10:47بھلا میں کوئی پوپی کے ساتھ پیا ہی تھی
10:51میری شادی تو میرے شہر کے ساتھ ہوئی تھی
10:54یہ چلاک عورت نے جو میری دوست بن بیٹھی تھی
10:58اس نے اپنی بیٹی کی شادی میرے شہر سے کروا کر
11:02مجھے میرے شہر سے لیدہ کر دیا
11:04اور جس دن شادی کا پہلا دن تھا
11:09تو پوپی میرے پاس ہائی
11:11میں بیٹھی رو رہی تھی
11:13تو مجھے آ کر کہنے لگی
11:15کہ اے لڑکی اے میری سہیلی
11:18تیرا معاملہ تو تیرے شہر نے میرے ہاتھ میں دے دیا ہے
11:22یعنی اب تمہیں میرے سپرد کر دیا ہے
11:26تو میں تمہارے شہر کی طرف سے
11:30وقالت کرتے ہوئے
11:32میں تمہیں طلاق دیتی ہوں
11:35تو وہ چلاک میری پوپی نے
11:38میرے شہر کو پہلے ہی
11:40پسا لیا تھا
11:42کہ تم طلاق دے دو
11:44تو اس نے تو مجھے پہلے ہی طلاق دے دی
11:47تو میری پوپی کے سپرد تھی میں
11:49تو اس نے جب مجھے کہا
11:51کہ میں تمہیں طلاق دیتی ہوں
11:54تو میں نے کہا
11:56بلاکاری صاحب
11:57کوئی عورت بھی طلاق دے سکتی ہے
12:00میری شادی تو میرے شہر سے ہوئی
12:02کازی صاحب ہسنے لگا
12:04اور کہنے لگا
12:06تم دونوں عورتیں بے واکوف لگتی ہو
12:09تم میرا وقت ضائع کر رہی ہو
12:12جاؤ جا کر اپنے گھر
12:14کام کرو
12:15تو چھوٹی کے آنکھوں سے آنسو جاری ہوگے
12:18دوست کے
12:19وہ کہنے لگی کاری صاحب
12:21نہیں
12:21آپ سارا قصہ
12:23سارا ماجرہ سنے تو سہی
12:25آگے کیا ہوا
12:26تو کاری صاحب نے کہا
12:28چلو
12:29تم گزارش کر رہی ہو
12:31تو میں تمہارا معاملہ سن لیتا ہوں
12:34تو
12:34جب مجھے پوپی نے طلاق دی
12:37تو میں حیران رہ گئی
12:39تو تھوڑی دیر بعد
12:40میری پوپی نے مجھے کہا
12:42کہ میں نے طلاق نہیں دی
12:44میں بھلا کون ہوتی ہوں
12:46تمہیں طلاق دینے والی
12:47تمہیں طلاق تو
12:49تمہارے شہر نے ہی دے دی ہے
12:50دو دن پہلے
12:52میں نے
12:53سوچتے سوچتے دو دن لے لیے
12:55کہ میں یہ بات
12:57تمہیں کیسے بتاؤں
12:58جاؤ
12:59اب تم اس گھر سے چلی جاؤ
13:01تمہاری طلاق ہو چکی ہے
13:03اب یہ گھر میری بیٹی کا ہے
13:05تو کاری صاحب
13:07بھلا بتائیں
13:08اس نے میرے ساتھ
13:09کتنا بڑا دھوکھا کیا
13:11اپنی بیٹی کی شادی کروا کر
13:13مجھے طلاق دے دی
13:14تو آگے بھلا کیا ہوا
13:16کاری صاحب
13:18آپ سنیں گے
13:19تو آپ حیرار رہ جائیں گے
13:21تو کاری صاحب
13:22کو بھی ذرا
13:23کہانی میں
13:24اور ان کی ساری
13:26کسے میں دلچسپی ہونے لگی
13:28تو کاری صاحب
13:29بولے بتاؤ پھر کیا ہوا
13:31کاری صاحب
13:33طلاق تو میری ہو گئی
13:35چلاک پوپی نے
13:36اپنی بیٹی کی شادی
13:38میرے شہر سے کر دی
13:40وہ دونوں
13:41ہسی خوشی زندگی
13:42گزارنے لگے
13:43میں پریشان
13:45ایک دن
13:45میرے دل میں خیال آیا
13:47کہ میں بھی
13:48اپنی زندگی کے بارے میں
13:50کچھ سوچتی ہوں
13:51تو میں نے
13:52کیا کیا
13:53میری پھپی کا شہر
13:55جو
13:56دوسرے
13:57تیز گیا ہوا تھا
13:59کام کرنے کے لیے
14:01وہ بہت بڑا تجارت کرتا ہے
14:03بہت بڑے کاروبار کا مالک ہے
14:06تو وہ تجارت کر کے
14:08کچھ مہینوں بعد
14:10اپنے گھر واپس آیا
14:11جب وہ گھر پہنچا
14:13تو میری پھپی
14:15اپنی بیٹی کے گھر گئی ہوئی تھی
14:17میں نے
14:18کسی نہ کسی طریقے سے
14:20گھر کا تعلق لوایا
14:22اور بند سور کر
14:24پھپی کے گھر میں بیٹھ گئی
14:27میک اپ کر کے
14:28میں جب وہاں بیٹھی ہوئی تھی
14:31تو اس وقت میری پھپی کا
14:34شہر وہاں پر پہنچ گیا
14:36تو میں نے
14:37اسے کہا
14:39کیا تم مجھے جانتے ہو
14:41وہ بولا
14:42ہاں جانتا ہوں
14:44تو وہ حیران ہوا
14:45کہ تم اتنی ساتھ سور کر
14:47یہاں پر کیوں بیٹھی ہو
14:49تو وہ بولی
14:50کہ مجھے طلاق ہو چکی ہے
14:53تو کیا تم مجھ سے شادی کروگے
14:55میں تمہاری بیوی سے
14:57تو کافی جوان ہوں
14:58تو جب اس نے یہ بات سنی
15:00تو وہ
15:01ہیران ہو گیا
15:03تو اس کی خوشی کا
15:04کوئی ٹھکانہ نہ رہا
15:06تو اس نے بھی
15:07اس کے شاد شادی کرنے کے لیے
15:10ہاں کہہ دی
15:11اب انہوں نے
15:13شادی کے لیے ہاں کی
15:15تو میں نے بھی
15:16موقع کا فائدہ اٹھایا
15:17اور ان کے سامنے
15:19ایک شرط رکھ لی
15:21میں نے
15:23وہی شرط
15:24جو میری پھپی نے
15:25میرے شہر کے ساتھ
15:27رکھی تھی میں نے رکھ لی
15:29میں نے کہا
15:30کہ میرے سے شادی کرنے سے پہلے
15:33آپ مجھ سے وعدہ کریں
15:35کہ آپ کی جو بیوی ہے
15:37میری پھپی ہے
15:39اس کا سارا معاملہ
15:41آپ میرے سپرد کر دیں گے
15:43تو میں پھر آپ سے شادی کروں گی
15:46آپ کا کوئی بھی معاملہ
15:48اس کے ساتھ نہیں ہوگا
15:50تو پھپی کا جو شوہر تھا
15:53وہ میرے حسن و جمال پر
15:55فیدہ ہو گیا
15:56تو اس نے بھی فوراں
15:58میری شرط مال لی
16:00اور پھپی کو میرے سپرد کر دیا
16:02ایسے ہی کچھ دن بعد
16:05ہم نے دونوں نے شادی کر لی
16:08وہی سارا ماجرہ
16:10پھپی کے ساتھ ہوا
16:11میں نے
16:12اس کے شہر کی وقالت کرتے ہوئے
16:16جو میرا شہر بن گیا تھا
16:18میں نے بھی پھپی کو کہا
16:20کہ تمہیں میں طلاق دیتی ہوں
16:23تمہیں میں طلاق دیتی ہوں
16:25تو پھپی بولی
16:26بھلا تم مجھے کیسے طلاق دے سکتی ہو
16:30تم تو ایک عورت ہو
16:32تو قاضی صاحب بولا
16:35تو پھر
16:36تو کہنے لگی
16:37کہنے قاضی صاحب
16:39ابھی کہانی ختم نہیں ہوئی
16:41ابھی کہانی پاکی ہے
16:43پورا قصہ جان کر ہی آپ جائیے گا
16:46تو پھپی میری حرار رہ گئی
16:49میں نے کہا
16:50کہ جیسے
16:51میرے
16:52شہر نے تمہیں سپورت کیا تھا
16:54ویسے ہی تیرے شہر نے
16:57تمہیں مجھے سپورت کر دیا ہے
17:00میں نے طلاق نہیں دی
17:02شادی سے پہلے ہی
17:04تمہارا طلاق ناما
17:06میں نے
17:07اپنے شہر سے سائن کروا لیا
17:09یہ لو
17:10تمہیں طلاق ہو گئی ہے
17:13ایسے ہی کچھ عرصہ گزر گیا
17:15قاضی صاحب
17:16تو میرے نئے شہر کی
17:19جو میری پھپی کا شہر تھا
17:23اس کی وفات ہو گئی
17:25وہ انتقال کر گیا
17:27تو میری پھپی انتقال کے فوراں بعد
17:31وراست میں سے حصہ لینے کے لیے
17:33میرے پاس پہنچ گئی
17:36کاری صاحب یہ تو میری بہت اچھی دوست تھی
17:40اسے میں ماں کہتی تھی
17:42لیکن اس نے میری زندگی کو تیتر بیتر کر دیا
17:45اب وراست کے حصے کہاں سے
17:47کاری صاحب میرے سے شادی کرنے سے پہلے ہی
17:52میرے شہر نے اسے طلاق دے دی تھی
17:54تو یہ کونسی وراست کی بات کر رہی ہے
17:58تو پھپی بولی
18:00وراست تو میری بنتی ہے
18:02تو اس طرح دونوں میں ہاتھا پائی ہو گئی
18:05دونوں آپس میں پھپی بدیچی لڑنے لگی
18:09تو کاری صاحب نے کہا
18:11پھر آگے کیا ہوا
18:12اپنی لڑائی ختم کرو
18:15اور مجھے کہانی سناو
18:16تو کافی عرصہ گزر گیا
18:19میری عدد بھی پوری ہو گئی کاری صاحب
18:22تو میری جو پھپی تھی
18:25وہ تو وراست کی حق دار نہ رہی تھی
18:28لیکن جو اس کی بیٹی تھی
18:31وہ تو میرے شہر میں سے تھی
18:33اس کی وراست تو بنتی تھی
18:36تو میری پھپی نے چلاکی کی
18:38مکاری کی
18:39اور اپنی بیٹی کو
18:42اور میرے صاحب کا شہر کو لے کر
18:44میرے گھر پہنچ گئے
18:46جب میرے صاحب کا شہر نے
18:49مجھے دیکھا
18:50تو اس کی پہلی محبت جاگ گئی
18:53وہ دل ہی دل میں سوچنے لگا
18:56کہ یہ تو میری بیوی بہت اچھی تھی
18:59میری محبت نے پھر انگڑائی لی
19:02تو وہ میری طرف اس طرح دیکھ رہا تھا
19:06کہ جیسے وہ مجھ سے بے انتہا محبت کرتا ہو
19:10میرا شہر تو انتقال کر گیا تھا
19:13یہ میرا صاحب کا شہر تھا
19:16تو وہ ماں بیٹی ہم دونوں کے موں کی طرف دیکھ رہی تھی
19:20وہ بھی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے مجھے دیکھ رہا تھا
19:23اور میں بھی ہلکی ہلکی نظریں اٹھا کر
19:26اس کی طرف دیکھ رہی تھی
19:28میں سوچ رہی تھی
19:30کہ اسے اب کیا ہو گیا ہے
19:33اس نے تو جمال لڑکی کے حسن میں مجھے چھوڑا تھا
19:36اب یہ میری طرف کیوں دیکھ رہا ہے
19:39کیا بات ہے
19:41تو میں نے بھی چلاکی میں
19:43اسے سوال کر دیا
19:45کاری صاحب
19:46میں بولی کہ کیا دوبارہ تم مجھ سے شادی کرنا چاہتے ہو
19:50تو اس نے سوچے بینا
19:53سمجھے بینا
19:55مجھے فوراں ہاں کر دی
19:57کاری صاحب
19:58میرے ہاتھ میں پھر ایک موقع آ گیا
20:02کاری صاحب بولے
20:04بیٹا وہ کیا
20:05میں نے کہا اپنے ساپ کا شہر کو
20:08کہ اگر تم نے مجھ سے شادی کرنی ہے
20:11تو تمہاری جو دوسری بیوی تھی
20:15جو پھپھی کی بیٹی تھی
20:17اس کا معاملہ تمہیں
20:19میرے سپرد کرنا ہوگا
20:21اگر تم اس کے سارے معاملات
20:23میرے سپرد کرتے ہو
20:25تو میں تم سے شادی کرنے کے لیے تیار ہوں
20:29اور دیکھو شادی کر کے
20:32اپران پھپھی کے شوہر سے
20:34مجھے بہت ساری دولت
20:37اور بہت ساری وراست ملی ہے
20:39بہت سارا حصہ ملا ہے
20:41اور میں دوکھا اور فریب نہیں کروں گی
20:44جو اس کی بیٹی کا حصہ بنتا ہے
20:47وہ میں لازمی دوں گی
20:49اس کا سارا معاملہ
20:51تم میرے سپرد کر دو
20:53تو میرے ساپ کا شوہر نے
20:55کچھ نہ سوچا
20:57کچھ نہ سمجھا
20:59کاری صاحب
21:00اور فوراں شادی کے لیے ہاں کر دی
21:03اور اپنی بیوی کا
21:04سارا معاملہ میرے سپرد کر دیا
21:07تو ہم دونوں کی پھر دبارہ سے شادی ہو گئی
21:11میری پھپھی دری کی دری رہ گئی
21:14آنکھیں کھولی کی کھولی رہ گئی
21:17کہ یہ میرے ساتھ کیا ہوا
21:19نہ میں ادھر کی رہی
21:21نہ میں ادھر کی رہی
21:23اور میری بیٹی کے ساتھ بھی
21:25ایسا ہی ہو گیا
21:26تو جو نئی بیوی تھی
21:31اس نے پھپھی کی بیٹی کو
21:34اپنی مراست میں لیتے ہوئے
21:37اپنے اختیار میں لیتے ہوئے
21:39طلاق دے دی
21:40تو وہ کہنے ہی لے گی
21:42بھلا تم مورت ہو
21:44کہ مجھے طلاق کیسے دے سکتی ہو
21:46تو وہ بولی
21:47میں نے طلاق نہیں دی
21:49میں نے تو تمہارا اختیار لیا تھا
21:52طلاق تو تمہیں
21:53تیرے شہر نے میرے سے شادی کرنے سے
21:56پہلے ہی دے دی تھی
21:58یہ لو تمہارا وراست کا حصہ
22:01اور یہ طلاق کے کاغذات
22:03جاؤ ماں بیٹی
22:04تم دونوں عیش کرو
22:06تم دونوں جہاں کی تھی
22:08وہاں کی ہو کر رہ گئی
22:11تو کاری صاحب بولے
22:13اب تو سارے مسئلے حل ہو گئے ہیں
22:16اب تم دونوں میرے پاس
22:18کس لیے آئی ہو
22:19پھر فپھی بولی
22:21کہ کاری صاحب
22:22بھلا یہ بھی کوئی بات ہوئی
22:25یہ لڑکی
22:26اتنی چلاک اور اتنی مکار ہے
22:28کہ میری بیٹی کی
22:29اور میری دونوں کی طلاق کروا چکی ہے
22:33یہ تو میرا شہر بھی
22:35اور میری بیٹی کا شہر بھی
22:37لے اڑی ہے
22:38بھلا ایسے بھی کوئی ہوتا ہے
22:40اور
22:42کچھ نہیں
22:43میرے پہلے شہر کی ساری دولت
22:46اس نے اپنے نام کروا لی ہے
22:48تو کاری صاحب اونچی اونچی ہسنے لگے اور پھپھی کو جواب دیا
22:54کہ مجھے تو یہ سارے معاملے میں کہیں بھی کچھ حرام نظر نہیں آیا
23:00بیبی صاحبہ یہاں پر طلاق بھی جائز تھی اور نکا بھی جائز تھا
23:07مجھے تو دونوں معاملوں میں کہیں بھی کوئی چیز حرام نظر نہیں آئی
23:13ایک طلاق کے بعد بیوی دوسری شادی کر کے پھر اس سے بھی طلاق لے کر اپنے صاحب کا شہر
23:21کے ساتھ نکا کر سکتی ہے
23:23اس میں کوئی بھی حرام نہیں ہے
23:26اس میں کوئی بھی سلام میں پبندی نہیں ہے
23:30عورت اور شہر دونوں مل کر زندگی گزار سکتے ہیں
23:35کاری صاحب نے پھپھی کو جواب دیتے ہوئے کہا
23:38تو کاری صاحب کہنے لگا کہ تم دونوں عورتیں بے واکوف تھی
23:44لیکن چھوٹے والی تمہیں زیادہ بے واکوف بنا گئی
23:49اور اکل مندی سے تمہارا شہر بھی اور تمہاری بیٹی کا شہر بھی اس نے حاصل کر لیا
23:56تم نے اپنی چلاکی اور مکاری میں بے کوفی میں دونوں اپنی بیٹی کا بھی اور اپنا شہر بھی گوا
24:04لیا
24:05تم نے پہلے اس کا شہر اسے چھینہ تھا
24:08تو نتیجہ تمہارے سامنے ہے
24:11جاؤ دونوں بیبیاں جا کر اپنا کام کرو
24:14اگر آپ نے صلاح نہیں کرنی تو یہ آپ کی مرضی ہے
24:18اپنے اپنے گھروں میں اپنے اپنے کام کرو
24:22اور اپنی مشکلیں آسان کرو
24:24ایک دوسرے سے لڑائی جگڑا نہ کرو
24:26لڑائی کرنا بری بات ہوتی ہے
24:29اس کہانی سے کیا سبق ملتا ہے
24:32کہ دو بیواکف عورتوں کی وجہ سے
24:35کتنے گھر اجڑے اور کتنے گھر جھڑے
Comments

Recommended